Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 4)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 4)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
رات کے اندھیرے میں رحمت لال رنگ کی فراک زیب تن کیے سائڈ پر ڈوپٹہ ٹکائے بالوں کو کیچر لگا کر کھلا چھوڑے ایک ہاتھ میں پرس لئیے گھر سے باہر کی جانب نکلی جہاں پر پہلے سے موجود متہاہ اس کا کب سے انتظار کر رہا تھا۔۔
اس کے ساتھ بائیک پر بیٹھے وہ دونوں گھر سے اپنی مطلوبہ منزل کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔
______________________________________
ٹرن۔۔ٹرن۔۔
مسکان جو ایف بی اکاؤنٹ بند کر کے سونے جارہی تھی۔نوٹیفیکشن شو ہونے پر دوبارا میسینجر اوپن کیا۔جہاں پر کسی رضا نامی لڑکے کا میسج آیا تھا۔
ہائی۔۔
اسلام وعلیکم!
وعلیکم السلام۔۔
آپ کون؟
میں رضا۔۔کراچی سے۔۔۔
یہ ڈی پی پر تصویر آپ کی ہے۔۔؟
۔۔جی میری ہے۔۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہیں آپ!!
شکریہ۔
کوئی کام تھا آپ کو؟
نہیں بس ایسے ہی آپ اونلاین تھیں آپ کی ڈی پی دیکھی اچھی لگیں تو ریکوئسٹ سینڈ کی ۔۔۔
او اچھا۔۔چلیں اب مجھے نیند آہ رہی ہے ۔
انشاللہ بعد میں بات ہو گی۔۔
اوکے اللّٰہ حافظ اپنا خیال رکھیے گا۔۔![]()
_____________________________________________________
پورے ہال کو ریڈ اور وائٹ رنگ کے غباروں اور لائٹوں سے سجایا گیا تھا ہر طرف گلاب کے پھولوں کی مہک چھائی ہوئی تھی۔۔
یہ کیسی پارٹی ہے متہاہ۔۔
رحمت نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔جہاں پر صرف اور صرف یونگ جنریشن تھی۔۔لڑکیوں نے ہاف سلیوز ،گہرے گلے ،بالوں کو کھلے چھوڑے،تیز میک اپ کے ساتھ لڑکوں کو اپنی جانب متوجہ کرنی کی کوشش میں تھیں۔۔کچھ لڑکیاں غیر محرم لڑکوں کے گلوں کا ہار بنی ہوئی تھیں ۔
او ہو۔۔جان آج رات بارہ بجے ویلن ٹائین ڈے شروع ہو گا۔۔جس میں سب ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اپنے اپنے محبوب سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔
پر یہ تو گناہ ہے ۔۔رحمت نے کہا ۔
نہیں جانِ من یہ کوئی گناہ نہیں ہے۔۔یہ دن تو محبت کرنے والوں کے لئیے بنایا گیا ہے۔۔
اور محبت کرنے والے اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں۔۔وہ محبت اس کے گال سہلاتے ہوئے بولا۔۔
آؤ تمہیں اپنے دوستوں سے ملاتا ہوں۔۔
ہے گائیز۔۔۔میٹ مائی لائیف مائی گرل فرینڈ۔۔رحمت ۔۔
اووو۔۔۔۔
ہائی۔۔۔رحمت ہاؤ آر یو۔۔
مائی نیم از سلیم۔۔۔
متہاہ کے دوست رحمت کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے۔۔جسے اس نے جھجھکتے ہوئے تھام لیا تھا۔
نائیس ٹو میٹ یو۔۔وہ اس کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
چلو بیبی آؤ ڈانس کرتے ہیں۔وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے کمر سے تھامتے ہوئے بولا۔۔
ن۔۔نہیں۔۔متہاہ یہ ڈانس وغیرہ مجھ سے نہیں ہو گا۔۔
پلیز۔۔وہ فلور سے اترتے ہوئے بولی۔۔
اوہو۔۔جان۔۔کم اون۔۔
وہ جیسے ہی مڑنے لگی اس نے اسکا ہاتھ تھامتے اس کو اپنی جانب کھینچا جس سے وہ سیدھا اس کے سینے سے آہ لگی۔۔
مت ۔۔۔متہاہ۔۔۔وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ قائم کرتے ہوئے بولی۔۔
متہاہ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے کندھے پر رکھے اور اس کی کمر کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیا۔۔اور میوزک کے ساتھ آگے پیچھے موو کرنے لگا۔۔
دو آنکھیں غصے اور نفرت سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔۔
رحمت کو یہ سب تھوڑا عجیب سا لگا تھا۔
اس کا دل گھبرا رہا تھا۔۔وہ یہاں آنے پر پچھتا رہی تھی۔۔اور یہ سب وہ متہاہ کو کہہ کر اس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اس نے ڈانس کے دوران ہی رحمت کو مزید اپنے قریب کیا اور اس کے چہرے پر جھکنے لگا۔۔اس کو اپنے چہرے پر جھکتا دیکھ رحمت یکدم پیچھے ہوئی۔۔
ی۔۔یہ۔۔۔کیا۔۔۔کر۔۔رہے تھے۔۔تم۔؟؟
وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے تھوڑے غصے سے بولی۔۔
کیا ہوا بے بی پیار ہی تو کر رہا تھا۔۔ناراض کیوں ہو رہی ہو؟
آج کے دن سب محبت کرنے والے اپنے محبوب سے پیار ہی کرتے ہیں۔۔
کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے؟
خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔۔پر ان سب چیزوں سے ڈر لگتا ہے۔۔یہ سب پسند نہیں ہے مجھے۔۔۔وہ یکدم نرم پڑتے ہوئے بولی۔
اوکے چلو جیسے میری جانم کی مرضی وہ اس کو شانوں سے تھامتے فلور سے نیچے کا چکا تھا۔
یہ لو جوس ہی پی لو۔۔
وہ اس کے سامنے اورنج جوس کرتے ہوئے بولا۔۔
وہ ویٹر کے ہاتھوں سے جوس کے گلاس تھامتے ہوئے بولا۔
یار اس کا ٹیسٹ کچھ عجیب سا نہیں ہے؟
وہ منہ کے زاویے بیگاڑتے ہوئے بولی۔۔
نہیں جان اس کا فلیور ہی ایسا ہوتا ہے۔اگر دل نا کرے تو دوسرا لے لو۔۔
نہیں صحیح ہے۔۔وہ کہتے ہی پورا گلاس جلدی سی پی گئی۔۔
تقریباً تھوڑی دیر بعد اسے اپنا سر گھومتا محسوس ہوا۔
مت۔۔متہاہ۔۔۔تم مجھے گھر چھوڑ آؤ لگتا ہے مجھے بہت نیند آہ رہی ہے۔
اچھا میں تمہیں چھوڑ آؤں گا۔پہلے جاؤ جاکر تھوڑا فریش ہو لو۔۔
وہ پیچھے کی طرف روم ہے آؤ میں تمہیں لے چلتا ہوں۔۔
جاؤ تم فریش ہو جاؤ میں باہر تمہارا ویٹ کر رہا ہوں۔۔وہ کہتا روم سے باہر چلے گیا۔
فریش ہونے بعد جب وہ باہر آئی تو بیڈ پر سلیم کو بیٹھے پایا۔۔جو کہ خود نشے میں تھا۔وہ کافی شیطانیت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اسے یوں خود کو دیکھتا پاکر وہ اگنور کرتی سن ہوتے دماغ کے ساتھ باہر کی طرف جانے لگی اس سے پہلے کہ وہ باہر جاتی وہ جلدی سے اس کی جانب آیا
کدھر چلی جانِ من۔۔۔؟؟
وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔
جنگلی انسان دور رہو مجھ سے۔۔وہ چیخنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔نشہ اس پر تھوڑا تھوڑا حاوی ہونے لگا تھا۔۔
متہاہ۔۔۔۔متہاہ۔۔
کوئی نہیں۔ آئے گا یہاں اسلیئے چپ چاپ اپنا منہ بند رکھو۔۔وہ پیچھے کی جانب جانے لگی کہ سلیم نے اس کے بالوں سے پکڑ کے بیڈ کی جانب پٹکا۔۔اس کے وجود سے ڈوپٹے کو اچھال کر دور پھینکا ۔وہ اپنے بچاؤ کے لئیے اس کے چہرے پر اپنے نوکیلے ناخنوں سے وار کرنے لگی ۔اس کی اس حرکت پر سلیم نے کھینچ کر کہ تھپڑ اس کے چہرے پر دھرا ۔۔
یو بیچ۔۔۔بہت پارسا بنتی ہو۔۔اگر اتنی ہی پاکباز ہوتی ہو تو گھر پر نہیں رہ سکتی ۔رات کے پہر اپنے عاشقوں کے ساتھ پارٹیوں میں جاتی ہیں ،ہمیں خود دعوت دیتی ہیں اور بعد میں معصوم ستی ساوتری ہونے کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔۔۔وہ کیتا اس پر جھکنے لگا۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے شیطانی ارادوں میں کامیاب ہوتا کوئی دھاڑ سے دروازا کھولتا اندر کی جانب آیا۔
ایان اور میر جو کہ پارٹی میں اپنے روپ بدل کے یہاں پارٹی میں آئے تھے کیونکہ انہیں انفورمیشن ملیں تھیں کہ یہاں پر پارٹی کے نام بہت برے قسم کے فعل ہونے والے ہیں۔۔ پر ایان یہاں پر رحمت کے ساتھ کسی غیر لڑکے کو دیکھ کر بھونچکا رہ گیا۔۔غصے سے اس کی تھیں تننے لگیں۔آنکھیں یکدم لال سرخ ہونے لگیں تھیں۔۔وہ ان کو یوں بے حد ایک دوسرے کے قریب دیکھ غصے سے ان کی جانب جانے لگا تھا کہ میر نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔
تھوڑا صبر سے کام لے۔۔یہاں دیکھ سب دیکھ رہے ہیں۔۔سب کو شک ہو جائے گا۔۔
ایان نے میر کی جانب غصے سے دیکھا تھا۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتا متہاہ اور رحمت انہیں کہیں دوسری سمت جاتے نظر آئے ایان میر کو وہیں چھوڑتا ان کی تقلید میں چلتا وہاں تک آیا۔۔
یہاں آکر اسنے غصے سے دروازا کھولا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں سے لہو چھلکنے لگا۔وہ غصے سے بھپرا ہوا اس کی جانب آیا وہ اس پر گھونسوں اور لاتوں سے مارنے لگا۔وہ سلیم کو مارتے ہوئے بالکل جنونی لگ رہا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا وہ اس کی جان لے لیتا۔
اس کا مار مار کے بہوش کر چکا تھا۔مارنے کے دوران اس کی نظر ٹیبل پر رکھے کمرے کی جانب گئی جہاں ہر چیز کی ریکاڈنگ ہو رہی تھی وہ جلدی سے کیمرے کی جانب گیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس میں موجود چیپ اپنی جیب میں رکھی۔اور پھر رحمت کی جانب گیا جو کہ لال سوٹ میں ڈوپٹے سے بے نیاز بستر پر پڑی منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑا رہی تھی۔۔
اس نے جلدی سے اس کا ڈوپٹہ اٹھایا اپنی لیدر کی جیکٹ اس کو پہنائے بانہوں میں اٹھاتے ہوئے پیچھلے دروازے سے باہر کی جانب چل دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی اس کو اس حالت میں دیکھے۔وہ میر کو کال کیے آگے کے پلین کے بارے میں بتاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
_____________________________________________________
تم۔۔۔۔۔تم تو۔۔۔۔وو۔وہی۔۔۔کھڑوس ۔ہو نا۔۔۔؟؟
مت۔۔۔متہاہ ۔۔۔متہاہ کہاں ہے ۔؟؟
اس کو گاڑی میں بیٹھا کر ایان جیسے ہی گاڑی ڈرائیو کرنے لگا رحمت نے شور شروع کردیا۔۔
مت۔۔متہاہ بچاؤ بچاؤ ۔
یہ مجھے چوری کر رہا ہے۔۔۔۔
متہاہ کہاں ہو؟ چیکو آگیا ہے۔۔۔ہم ۔۔ہم دونوں کو مارے گا۔۔۔۔یہ پنیش کرے گا۔۔۔وہ چیخ چیخ کر روتے ہوئے بولی۔۔۔
چُپ ایک دم چپ خبردار اگر اب تمہاری آواز آئی تو۔۔۔اور یہ کیا بار بار متہاہ متہاہ لگائے رکھا ہے۔۔۔
خاموش بیٹھنا ایک دم۔۔ورنہ اب سچ میں پنیش کرونگا۔۔
ایان جو خاموشی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا اس کی چیخوں اور بار بار متہاہ نامی بلا کا نام سن سن کر اس کا دماغ گھم گیا تھا۔۔
ہاں۔۔۔چپ۔۔۔میں چپ ۔۔تم۔۔چپ۔۔ہم سب چپ۔۔
وہ منہ پر انگلی رکھتے ہوئے بولی۔۔
ہمم۔گڈ۔۔!!!
کار میں میوزک بجا میوزک بجا ناچوں گی،
کار میں میوزک بجا میوزک بجا ناچوں گی ۔۔
مشکل سے اسے تھوڑی ہی دیر گزری تھی خاموش ہوئے کہ وہ کار میں گانا گنگنانے لگی۔۔
اس کو یوں گانا گنگناتے دیکھ ایان نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔اسے غصہ تو رحمت پر بھی بہت آرہا تھا کہ یہ یوں جھوٹ بول کر گھر سے نکلی تھی۔۔اگر آج وہ وہاں نہ پہنچتا تو کیا کچھ ہو سکتا تھا۔سب سوچوں کو جھٹلائے اس سے بعد میں نمٹنے کا سوچ کر ، اس کو اس کے حال پر چھوڑتا ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہوا۔۔
باہر نکلو۔۔۔پورج میں گاڑی کھڑے کرتے ہی اس نے رحمت سے کہا جو کہ ابھی تک اپنی دنیا میں مست تھی۔۔
ن۔۔نا۔۔۔میں باہر۔۔نہیں آؤں گا۔۔۔مجھے ۔۔اور ۔۔جھولا جھولنا ہے۔۔۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے گاڑی کے دروازے کو پکڑتے ہوئے بولی۔۔
تمہاری تو ایسی کی تیسی کیسے باہر نہیں آؤ گی۔۔اب کیا میں پوری رات تمہاری رکھوالی کے لئیے کھڑا رہوں۔۔؟؟
اس نے کہتے ہی فوراً رحمت کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔
چھوڑو۔۔مجھے کھڑوس انسان۔۔۔
وہ سینے پر مکے برساتے ہوئے بولی۔۔۔
خاموش ۔۔۔۔اگر ایک اور آواز بھی نکلی تو تمہیں یہیں پھینک جاؤں گا۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا ہر کوئی نیند کے مزے لے رہا تھا۔۔
صاف راستے کو دیکھتا ہوا جلدی سے وہ رحمت کو اس اوپر اس کے کمرے میں لے کر آیا اور بیڈ پر آرام سے لٹا کے جانے لگا کہ یکدم رحمت نے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔
کہاں جارہے ہو مسٹر کھڑوس ؟
تم۔ابھی سو جاؤ صبح بات کریں گے۔۔وہ پیار سے اس کا گال سہلاتے ہوئے بولا۔۔
ن۔۔نا۔۔مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔تم بیٹھو یہاں!
وہ اس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے بولی ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تم بہت بڑے والے کھڑوس ہو۔۔ابھی تک چیکو ہو۔۔تمہاری سینڈریلا تم سے ناراض ہے پرنس۔۔
تم نے اپنی سنڈریلا کو ناراض کیا تھا نا۔۔
تم نے اپنی سینڈریلا اپنی دوست کو وائف بنا لیا پرنس اس لئیے اب تم سنڈریلا کو بھول جاؤ ۔۔
وہ نیند میں دھت ہاتھوں کے اشاروں کے ساتھ اسے سمجھاتی ہوئی بولی۔۔
جی نہیں ۔۔سینڈریلا اب بھی پرنس کی ہی ہے۔۔پرنس کی وائف بن کر سنڈریلا اپنے پرنس کے پاس ہمیشہ کے لئیے آہ گئی ہے۔۔اور اب سنڈریلا کبھی بھی دور نہیں جائے گی پرنس سے اور نا ہی اس کا پرنس اسے اپنے آپ سے دور جانے دے گا۔۔
وہ محبت سے چور لہجے میں کہتا اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے بے حد قریب کر گیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر سکتے تھے۔
ایان نے ایک نظر اس کے سراپے پر ڈالی جو کہ بے ترتیب گلے میں ڈوپٹہ اوڑھے مٹے میکاپ اور کھلے بالوں کے ساتھ اس کا امتحان لینے پر تلی تھی ۔
ایان کو اپنے کندھے پر رحمت کی بھاری سانسیں محسوس ہوئی جس کا مطلب تھا کہ وہ سو چکی تھی۔۔
وہ اس کو ترتیب سے لٹاتا اس کو کمفرٹر اوڑائے محبت سے اس کے گالوں پر بوسہ دیتا جا چکا تھا۔۔
ایان کی ٹرینگ پر جانے سے پہلے گھر والوں نے ایان اور رحمت کا نکاح کروادیا۔۔کروانا تو وہ زینب اور حذیفہ کا بھی چاہتے تھے مگر حذیفہ کی خواہش تھی کہ وہ ایک قابل ڈاکٹر بن کر نکاح جیسے رشتے میں آئے گا اور تب تک زینب کی بھی تعلیم مکمل ہو جائے گی۔۔جبکہ ایان نکاح کے لئیے بہت خوش تھا اس کی سنڈریلا اس کی دوست ہمیشہ کے لئیے اس کی ہونے والی تھی۔۔جبکہ رحمت اس سب سے بہت خفا تھی اس نے بہت شور کیا تھا۔۔کہ وہ دونوں دوست ہیں۔۔اور دوست سے شادی نہیں کرتے یہ تھی رحمت کی کچے دماغ کی سوچ۔۔
نکاح سے پہلے اس نے ایان کو دھمکی بھی دی تھی۔۔۔
“دیکھو پرنس ہم تو دوست ہیں نا۔۔پھر یہ نکاح کیوں کر رہے ہو منع کر دو ۔۔اگر یہ نکاح ہو گیا تو ہم دوست نہیں رہیں گے اور ۔سنڈریلا بھی تم سے ناراض ہو جائے گی۔”
نہیں۔۔۔سنڈریلا۔۔۔ہم ہمیشہ دوست رہیں گے بلکہ اس سے ہماری دوستی پکی والی ہو جائے گی اور کبھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔۔۔
ایان اس کے ذہن کے مطابق اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔
رحمت ایان سے ناراض ہو چکی تھی نکاح کے بعد وہ کمرے میں بند ہو گئی تھی یہاں تک کے وہ ایان کو الوداع کہنے بھی نہیں آئی تھی۔پر ایان کو خود پر اتنا یقین تھا کہ وہ اپنی جان اپنی سنڈریلا کو ضرور منا لے گا۔۔
