Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 5)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 5)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

کیا ہوا؟ کچھ پتہ چلا !!

رحمت نے عیبا سے پوچھا جو کہ کافی دیر سے نیچے سیٹینگ روم کے باہر باتیں سننے کے لئیے کھڑی تھی جہاں گھر کے سب بڑے موجود بات کر رہے تھے۔لیکن بدقسمتی سے وہ کچھ سن نا پائی تھی۔۔

کہاں یار۔۔!!

دروازا انہوں نے بند کیا ہوا ہے ۔

وہ منہ لٹکاتے ہوئے بولی اور بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔

اندر پتہ نہیں وہ سب کیا کھچڑی پکا رہے ہیں۔۔

رحمت منہ میں ناخن ڈالے کمرے میں ادھر سے ادھر پریشانی کے عالم میں چکر کاٹتی بولی۔

تم دونوں کو کیا ہوا ہے۔۔؟؟

زینب نے کمرے میں آتے ہوئے ان دونوں کے الجھن زدہ چہروں کو دیکھتے ہوئےکہا۔۔

کچھ نہیں آپی ..

۔!!اچھا یہ بتائیں نیچے سب کیا باتیں کر رہے ہیں؟ آپ کو کچھ آئیڈیا ہے۔۔؟

نہیں۔۔رحمو یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ میں تو کیچن میں تھی۔۔اور تم دونوں کو نیچے سب بلا رہے ہیں جلدی آو۔

وہ تینوں نیچے ہال میں آئیں جہاں سب گھر والے بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔۔

پاپا آپ نے بلایا۔۔رحمت اور عیبا نے ایک ساتھ کہا اور ان کے ساتھ ہی رکھے ٹو سیٹر صوفے پر بیٹھ گئیں۔

جی گڑیا ہم نے ہی بلایا ہے دراصل ہم سب گھر والوں نے ایک فیصلہ کیا ہے؟

ک۔۔کیسا فیصلہ؟

ہم چاہتے ہیں کہ اس مہینے زینب کی رخصتی کے ساتھ آپ کی بھی رخصتی کر دیں۔۔

کیا۔؟

رخصتی کو لفظ سن کر رحمت کو اپنی سماعتیں مفلوج ہوتی محسوس ہوئیں۔وہ کسی سے بھی بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں آہ گئی ۔سب نے اس کے اس طرح جانے کو شرمانے کا نام دے دیا۔ جبکہ رخصتی کے نام پر زینب کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نمایاں ہوئی تھی اس نے اپنے سامنے بیٹھے حذیفہ کی جانب دیکھا جس نے سب نظریں بچا کر اس کو آنکھ ماری تھی۔۔زینب نے یکدم اپنے آس پاس دیکھا جہاں کسی بھی اپنی طرف متوجہ نہ پا کر اس نے شکر کا سانس لیا تھا اور مصنوعی غصے سے حذیفہ کو گھورا تھا۔

…………

کنگ سارا مال گودام میں رکھو چکا ہوں ۔۔

شاباش میرے شیر۔۔کنگ منہ میں مہنگا سگار جلائے صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ساحل کو داد دیتے ہوئے بولا۔

ساحل میں نے تمہیں ایک کام دیا تھا۔۔؟

جی کنگ میں نے معلوم کروایا تھا مگر صرف یہ پتہ چلا ہے کہ وہ کوئی نوجوان کا شخص تھا جس نے ڈرگس لینے تھے۔اس کے چہرے پر ماسک تھا جس کی وجہ سی چہرا نہیں دیکھ سکے۔اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا سسٹم اس وقت خراب تھا۔اور۔۔۔۔

ٹرن۔۔۔ٹرن۔۔۔۔۔

اس پہلے کے وہ مزید کچھ بولتا فون کی گھنٹی نے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔۔مقابل سے ملنے والی خبر نے ساحل کے ہوش اڑادئیے تھے۔۔

کیا ؟؟؟

کیا ہوا ساحل سب ٹھیک ہے نا؟ کنگ ساحل کی اُڑھی رنگت دیکھتے ہوئے بولا۔۔

کنگ۔۔وہ گودام میں آگ لگ گئی ہے۔۔۔

یہ کیا بکواس ہے گارڈز کہاں تھے کس کی اتنی ہمت ہوئی ہے ؟ کیونکہ گودام میں ایسا کوئی نظام نہیں ہے جس سے خودبخود آگ لگ سکے ضرور یہ کسی کی سازش ہے وہ دھاڑتے ہوئے بولا۔۔

اس کے دھاڑنے پر ایک پل کے لئیے ساحل بھی کانپ کر رہ گیا۔۔

کنگ وہ ہمارے دس لوگ بھی آگ میں جل گئے ہیں۔۔۔

وہ ڈرتے ڈرتے ہوئے بولا۔۔

ڈیم ایٹ۔۔۔یہ جو کوئی بھی ہے جو چھپ کے وار کر رہا ہے ایک بار سامنے آہ جائے کتے کی موت ماروں گا

۔وہ شراب کا گلاس سامنے رکھی ٹیبل پر پٹختے ہوئے بولا۔۔

کنگ کے آدمی مال کو گودام میں رکھ کر گئے تھے جن کی ایک ہفتے بعد اسمگلنگ ہونی تھی ۔۔کنگ کے آدمیوں کے جانے کے بعد ایان اور میر دونوں چھپ کر گودام میں داخل ہوئے ۔۔اور سارے گودام کو آگ کی نظر کر دیا ۔۔تھوڑی دیر پہلے جہاں ایک عمارت کھڑی تھی اچھی وہاں پر اگ شعلے اٹھ رہے تھے۔

___________________________________________

اگلا دن۔۔۔

متہاہ تم کب اپنی مما سے بات کرو گے؟

یہاں سب میری رخصتی کا سوچ رہے ہیں۔اس مہینے آپی کے ساتھ ہی میری رخصتی ہے۔

کیا۔۔۔اتنی جلدی۔۔وہ حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔

تم اس سے شادی کے لئیے مان بھی گئی کیا؟

میں کہاں مانی ہوں ۔۔۔میں تم سے محبت کرتی ہوں۔۔

یہ سب میری مجبوری ہے۔۔وہ مایوس ہوتے ہقئے بولی۔

امی تو ابھی سفر نہیں کر سکتیں ہیں۔۔اس سب کے لئے ایک آئڈیا ہے اگر تم مان لو تو۔۔

کیسا آئیڈیا۔۔؟؟

ابھی نہیں رات کو بتاوں گا۔۔فون پر ۔۔میری کال کا انتظار کرنا۔۔

اب چلتا ہوں بعد میں بات ہو گئی وہ اس کا گال تھپتپاتے ہوئے بولا۔۔

کہاں ۔؟؟ کلاس نہیں لو گے۔ن؟

نہیں۔۔اج مجھے زرا ایک کام سے جانا ہے ۔۔وہ کہتا اپنا موبائیل اٹھائے کینٹین سے چلا گیا۔۔

عیبا جو لائیبریری سے بک لے کر آئی تھی ان کی تمام تر گفتگو سن چکی تھی۔

کیا کہہ رہا تھا وہ چھچھندر۔۔؟؟

عیبا کرسی سیدھی کرتے اس پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔

کچھ نہیں۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔

رحمو تم میری بات غور سے سنو ہم دونوں بہنیں ہیں دوستیں ہیں۔۔ایک دوست ہونے کے ناطے میں تمہیں کہونگی۔۔جو خوشی جو احساس آپ کو محرم کی محبت اور خوشی دے سکتی ہے۔وہ کسی غیر محرم سے حاصل کی گئی محبت سے نہیں ہوتی۔کیونکہ نا محرم کی محبت میں خوشی شیطان کو ہوتی ہے اور محرم کی محبت میں ہمارے خدا کو۔۔

اور یہ بات اب خود انسان پر منحصر کرتی ہے وہ کس کو خوش کرتا ہے۔۔

اللہ !!! کو یا پھر شیطان !!کو۔۔۔۔

اگر وہ تم سے سچ میں محبت کرتا ہے تو اس کو بولے مما بابا سے بات کرے۔۔یوں بے نام رشتے مت بناو۔۔

ویسے تمہیں اپنی بھابھی کے روپ میں تصور کر کے میں بہت زیادہ خوش تھی۔۔مگر اب میں فیصلہ خدا کے سپرد کرتی ہوں۔۔اور اس سے امید لگاتی ہوں وہ جو بھی کرے وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔۔

عیبا کہتے ہی اٹھ کر کلاس میں چلی گئی۔جب کہ پیچھے بیٹھی رحمت کے لئیے کئی سوال چھوڑ گئی تھی اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ اس پر ان باتوں کا اثر ہوا بھی ہے یا نہیں۔۔

___________________________________________

میں آئے کم ان سر؟

ازلان جو کلاس میں لیکچر دے رہا تھا ایک نفسانی آواز پر اس نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں عیبا غصے سے بھرے چہرے کے ساتھ کھڑی سی چھوٹی سی ناک لال سرخ ہورہی تھی۔اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ کسی سے لڑھ کر آئی ہو۔

کم ان۔!!۔ازلان اپنی مخصوص مردانہ وجاہت کے ساتھ اندر آنے کی اجازت دیتا واپس اپنے کام میں مشغول ہوا۔۔

میں نے آپ کو بیٹھنے کی اجازت دی مسں اریبہ؟

وہ اریبہ کو ڈیسک پر بیٹھتے دیکھ بولا۔۔

کلاس میں آنے کی اجازت دی ہے بیٹھنے کی نہیں۔۔

کتنی دیر لیٹ آئیں ہیں آپ؟

وہ ڈائیس سے ہٹتا اپنی وقار مردانہ چال چلتا اس تک آیا ۔۔

پن۔۔پندرہ منٹ۔۔۔

ہم۔۔تو آپ پورے پندرہ منٹ کھڑی رہیں گی۔وہ کہتا واپس اپنی جگہ پر گیا۔۔جبکہ عیبا نے خونخواز نظروں سے اس کی پشت کو گھورا تھا ۔۔

آپ پورے پندرہ منٹ کھڑی ہوں گی۔۔وہ اس کی نقل اتارے اس کی پشت کو دیکھ کر زبان چڑھاتے ہوئے بولی۔۔ایک تو وہ پہلے ہی رحمت کی وجہ سے غصے اور غم میں گھری ہوئی تھی۔۔اوپر سے سر ازلان کی دی گئی پنیش۔۔اسکے موڈ مزید خراب کر گئی۔۔

___________________________________________

بیٹا کھانا کھا لو ؟

مسکان کی دادو مسکان کو آواز لگاتے ہوئے بولیں۔

جی دادو کھاتی ہوں۔بس آہ ہی رہی ہوں۔۔

پتہ نہیں اس لڑکی کی مجھے سمجھ نہیں آتی ۔خدا جانے کیا کیا کرتی رہتی ہے اپنے اس فون میں۔۔ایک تو آج کل کے بچوں کو اس نکمی چیز نے بیگاڑ کر رکھ دیا ہے۔۔وہ خود سے بڑبڑاتے ہوئے بولیں۔۔

مسکان۔۔۔۔

جی جی بس دادو جانی آہ گئی۔۔وہ آتے ہی پیار سے ان کے گلے میں بانہیں ڈالتی ہوئی بولی۔۔اور ان کے ساتھ مل کر کھانا کھانے لگی۔۔

مسکان اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔وہ اس کے مما بابا ایک ہنستی کھیلتی فیملی سے تھی۔ہر ویکینڈ پر وہ اپنی دادی کے پاس جایا کرتی تھی۔وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا جب وہ اپنے ویکنڈ منا کر اپنی دادی کے ساتھ واپس اپنے گھر آ رہی تھی لیکن سامنے اپنے مما بابا کی خون سے لت پت لاش دیکھ کر وہ دس سال کی بچی اپنے ہوش کھونے لگی تھی۔۔اپنے والدین کی موت کا صدمہ وہ ننی سی جان اپنے دماغ پر لے چکی تھی۔جوان بیٹے اور بہو کی موت نے تو مسکان کی دادی کو بھی غم دیا تھا۔۔لیکن انہوں نے خود کو صرف اپنی پوتی کے لئیے سنبھالا تھا۔مسکان کو اس ٹرومے میں سے اس کی دادی نے باہر نکالا تھا۔۔اس کے والدین کی موت کے بعد اس کا خیال اس کی دادی نے رکھا تھا۔وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتی تھیں۔

ٹرن۔۔ٹرن۔۔

ابھی اس نے مشکل سے آدھی پلیٹ ہی چاول کی کھائی تھی کہ اس کے موبائیل کی ٹون بجی جہاں رضا کے کئی میسیجز ایک ساتھ آئے ہوئے تھے۔۔وہ دادی سے ایکسیوز کرتی اندر کمرے میں جا چکی تھی جبکہ دادی تاسف میں سر ہلاتی رہ گئیں۔

ان گزرے دنوں میں رضا اور مسکان کی دوستی کافی گہری ہو چکی تھی۔۔ٹیکس سے میسیجز کا سفر بڑتے بڑتے وائس اور پھر کال تک جا پہنچا ۔۔جہاں وہ دونوں کئی کئی گھنٹے ایک دوسرے سے باتوں میں مشغول ہوتے تھے۔۔اور آج بھی دونوں سب سے بے خبر ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔

غیر محرموں کے رشتے میں الگ ہی کشش ہوتی ہوئی۔۔جب دو غیر محرم ہوں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے۔۔جو ان کو ورغلاتا ہے۔۔آج کل شوشل میڈیا کے وجہ سے بہت سے ایسے رشتے وجود میں آئے ہوئے ہیں۔۔

___________________________________________

زینب رات کے وقت بیبی پنک کلر کے سوٹ میں ملبوس ، بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں مقید کیے،جن میں سے کچھ آوارا زلفیں نکل کر اس کے چہرے پر بوسہ لے رہی تھیں ۔۔ وہ اس پہر لان میں لگے جھولے پر بیٹھی جھولا جھولتی کانوں میں ہینڈ فری لگائے ناول پڑھنے میں مصروف تھی کہ کسی نے پیچھے سے آکر جھولے کو روکا ۔۔

وہ جو اپنی ناولوں کی خیالی دنیا میں کھوئی تھی تسلسل ٹوٹنے پر اس نے پیچھے کی جانب دیکھا جہاں حذیفہ بلیک پینٹ اور بلیک ہی شرٹ پہنے بالوں کو سائڈ پف میں سیٹ کیے ،ایک ہاتھ میں ڈاکٹر کوٹ تھامے اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ پیچھے کھڑا زینب ہی کو دیکھ رہا تھا۔وہ اپنی ڈاکٹرز والی شخصیت کے ساتھ کسی بھی لڑکی کا دل دھڑکا سکتا تھا۔

آپ۔۔کب آئے؟

وہ اس کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھ جلدی سے کانوں سے ہینڈ فری نکالتے ہوئے بولی اور جھولے سے کھڑی ہوئی۔

جب آپ اپنے اس موبائیل میں کھوئی ہوئی تھیں۔۔

وہ گھومتا ہوا اس کی جانب آیا اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے ساتھ جھولے پر لے کر بیٹھاتے ہوا بولا۔۔

ویسے کر کیا رہی تھیں اس میں کہ آپ کو اپنے مزاجی خدا کے آنے کی خبر تک نا ہوئی۔۔؟؟

وہ اس کے ہاتھ سے فون لیتے ہوئے بولا۔۔

وہ۔۔میں۔۔ناول پڑھ رہی تھی۔۔!!

کون سا ناول؟؟

“تیرا دل میرے پاس رہنے دو’ ۔۔راحیلہ خانزادی کا ناول ہے بہت ہی زبردست ناول ہے۔۔اس میں تو میرا پسندیدہ کردار احمر اور ایمان ہیں۔۔ہائے اللہ !! احمر کتنا پیار کرتا ہے نا اپنی ایمان زارا سے۔کتنا پریسیو ہے وہ اپنی مولانی کے لئیےکاش ہر کسی کی قسمت میں ویسا ہی شوہر ہو۔۔۔۔وہ ایک دم چہک کر کہتے ہوئے یہ تک بھول چکی تھی کہ وہ کسی اور کے سامنے نہیں بلکہ اپنے محبت کرنے والے شوہر کے سامنے بول رہی ہے جو کہ خود اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔

او تو مطلب تمہارے کہنے کا مطلب ہے میں تم سے محبت نہیں کرتا ۔۔وہ مصنوعی غصے سے کہتا اس کی جانب تھوڑا سا جھکتے ہوئے بولا۔۔

ن۔۔نہیں تو۔۔میں نے ایسا کب کہا۔۔۔

کہنا تو یہی چاہ رہی تھیں نا۔۔ایک آئیرو اُچکاتے ہوئے بولا۔۔

ن۔۔نہیں۔۔۔وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی۔۔

چلیں پھر جلدی سے کھانا لگا دیں ،میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے مما سو چکی ہیں آپ اٹھی ہیں ۔تو۔اب یہ کام آپ کریں ۔۔وہ اس کی آوارا لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا۔۔

جی۔۔وہ کہتی بھاگتے ہوئے اندر کی جانب گئی جبکہ بے خیالی میں اپنا موبائیل بھی اس کے پاس چھوڑ گئی۔۔