Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 12)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 12)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
چلو عیبا کیفے چلتے ہیں امبرین بیگ کی زیب بند کرے اپنی سیٹ سے کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔
ہاں چلو مجھے بھی بک اسٹور کی سائڈ جانا ہے نوٹس کاپی کروانے ہیں وہ بھی اس کے ہمقدم ہوتے ہوئے بولی۔۔۔
دو دن پہلے عیبا کامرس ڈیپارٹمنٹ کی سائڈ سے گزر رہی تھی کہ وہاں پر کھڑے کچھ اوباش لڑکوں نے اس کا راستہ روک لیا اور اس کو اکیلا دیکھ کر اپنی فطرت سے مطابق تنگ کرنے لگے۔ وہ کافی زیادہ گھبرا چکی تھی کیونکہ اس طرف ان کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔۔۔باقی اسٹوڈنٹس کافی دور تھے۔
وہ عیبا کو زیادہ تنگ نہ کر سکے تھے کیونکہ وہاں امبرین نے آکر ان لڑکوں کی اچھی عزت افزائی کی تھی اور اس کو ان کے چنگل سے بچایا تھا جس پر عیبا اس کی کافی مشکور ہوئی تھی امبرین نے مسکراتے ہوئے دوبارا اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جس کو اس نے بخوشی قبول کر لیا تھا اور دو دن سے وہ دونوں ہر جگہ ساتھ پائی جارہی تھیں ۔۔
لیکن ان کی یہ دوستی کسی دوسرے کو بہت کھٹک رہی تھی۔۔
یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو
ہے وہ اک خوابِ بے تعبیر اس کو
بھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو
حذیفہ کل رات زینب کو اپنے وعدے کے مطابق ایک بیسٹ ڈینر پر لے کر گیا تھا وہاں پر اس نے کافی خوبصورت اہتمام کروایا تھا ۔۔جسے دیکھ کر وہ کافی خوش ہوئی تھی۔
گول ٹیبل پر وائٹ کپڑا چڑھایا تھا اس کے بیچ میں کانچ کے واز میں سرخ گلاب کے پھول رکھے تھے جن کی مہک سے ماحول خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔حذیفہ زینب کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ٹیبل تک لے کر گیا تھا اور کھانا بھی اس کو اپنے ہاتھ سے کھلا رہا تھا ۔۔جس پر زینب بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی کیونکہ اس خوبصورت جوڑے کو دیکھ وہاں کے لوگ رشک بھری نظروں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔۔۔وہ دونوں لگ بھی مکمل رہے تھے قدرت نے اس حسین جوڑے کی نظر اتاری تھی۔
کسی کے بن ،کسی کی یاد کے بن
جیئے جانے کی ہمت ہے؟ نہیں تو
کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ؟ ہاں
تو کچھ دن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو
رحمت کافی دیر سے کیچن میں کھڑی آٹا گوندھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس سے گوندھا ہی نہیں جا رہا تھا اور اب اس کو رونا آنے لگا تھا ۔۔
یہ کیا تم ابھی تک بچوں کی طرح اس سے کھیل رہی ہو؟
ایان اس کو آٹے کے ساتھ کشتی کرتے دیکھ بولا تھا جو کہ اس کو صحیح کرنے کی کوشش کرتی مگر ٹھیک ہونے کے بجائے مزید خراب ہو جاتا ۔۔
م۔۔مجھ س۔۔سے نہیں ہو رہا۔۔۔
وہ رونی صورت بنا کر بولی تھی۔۔
کیوں ۔۔۔۔تم نے صرف غیروں سے یاریاں بنانا سیکھی تھیں۔۔۔؟؟
وہ اس پر طنز کے نشر چلاتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
کیٹل پکڑو ۔۔
وہ اس کو حکم دیتے ہوئے بولا۔۔
اب اس میں دو کپ پانی ڈالو ۔۔
اب ڈیڑھ چمچ پتی ایڈ کرو۔۔کیچن کی سلیپ کے ساتھ ٹیک لگائے ہاتھوں کو باندھے اس پر نظر رکھتے ہوئے بولا ۔۔
اب اس میں ۲ چمچ چینی ایڈ کرو۔۔۔
اور کوور کر لو بوائل آنے پر اس میں ایک کپ دودھ ڈالنا اوکے ۔۔۔
پھر اچھے سے بوائل آنے پر 2 منٹ کے لئے ہلکی آنچ پر رکھنا پھر سامنے رکھے کپوں میں نکال پر پیش کرنا گوٹ اٹ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔
اب جیسا جیسا میں بولتا جاوں ویسا کرتی جاو ۔۔
ہممممم۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں ایان کی بدولت اس نے ناشتہ بنایا اور دونوں نے مل کر ناشتہ کیا۔۔۔ایان اس کو گھر کے سارے کام سمجھا کر خود جا چکا تھا۔
زینب کی آنکھ صبح پرندوں کے چہچہانے پر کھلی تھی جو کہ باہر بالکنی میں کھڑے صبح ہونے کا سندیشہ دے رہے تھے۔اس نے انگڑائی لے کر کروٹ بدلی تو اس کی نظر حذیفہ پر گئی جو کہ مگن سا کسی معصوم شہزادے کی طرح سونے میں مصروف تھا۔اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ایک خوبصورت سی مسکان اس کے چہرے پر پھیلی تھی۔۔۔
“یا خدایا! آپ لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے میرے نصیب میں اتنا پیار کرنے والا خوبصورت آئیڈیل شوہر دیا ہے”
وہ محبت سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیے بولی۔
اور اٹھ کر جانے لگی کہ اچانک حذیفہ نے اس کا ہاتھ کھینچا وہ اس سیٹیوش کے لئے تیار نہ تھی جس سے وہ سیدھا اس کے سینے پر آ گری
حذیفہ نے اس کے گرد بازو حل کر کے راہ فرار بند کیا ۔۔۔
یا اللہ ! بہت شکر اس حسین صبح کا ۔۔کاش ایسی ہی صبح روز ہو جایا کرے ۔
وہ جان لٹاتی نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھتے بولا۔
آ۔۔آپ اٹھے تھے۔۔۔
وہ شرم و حیا سے دوہری ہوتی بولی۔۔
ہاں جاناں ہم تو تب ہی اٹھ گئے تھے جب ہم آپ ہماری تعریف کرتے ہوئے ہمیں ملانے والے کی مشکور ہو رہی تھیں۔۔
چہرے پر پھیلے ان سایہ فگن کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے بولا ۔۔
ہاں نا ہمیں اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ہمیں اتنے خوبصورت پاک بندھن میں باندھا ہے اور مغرور انداز میں بولی تھی۔۔۔
اچھا چھوڑیں مجھے فریش ہونا ہے۔۔
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔
ایک شرط پہ۔۔۔
وہ کیا !!!!!
کہ آج تم مجھے اپنے ہاتھ کے بنے کوفتے اور مچھلی کی بریانی کھلاو گی۔۔۔
ہم پکا ۔۔اب چھوڑیں ویسے بھی بہت لیٹ ہو گئے ہم سب نیچے کیا سوچ رہے ہونگے۔۔۔
ارے۔۔۔کیا سوچ رہے ہونگے کا کیا مطلب؟؟؟
وہ اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے بولا۔۔
سب جانتے ہیں ہماری شادی ہوئی ہے ۔۔اس لئے تم فکر نہ کرو یہ سوال کوئی نہیں کرے گا۔۔۔
وہ دانتوں کی نمائش کرتے بولا تھا۔۔
حذیفہ۔۔۔
وہ مصنوعی غصے سے اس کا نام لیتے بولی تھی ۔۔
ہاہاہاہا مسز۔۔۔تم بھی نا بہت کیوٹ ہو۔
وہ اس کو گال پر بوسہ لیتے بولا اور اس کو نجات دی ۔۔
کنگ !!
ڈین کا فون آیا تھا وہ بول رہا ہے کہ یا تو مال بھیجو ورنہ رقم واپس کرو۔۔۔
ساحل ناشتہ کرتے کنگ سے مخاطب ہوا۔۔
یہ سالے ان پولیس والوں کی وجہ سے ہمارا سارا کام خراب ہو گیا ۔۔۔
وہ غصے سے کپ ٹیبل پر رکھتے بولا ۔۔۔
میری بات دھیان سے سنو ساحل ۔۔
ڈین والے کام کو ایک طرف رکھ کر جو اپنا دوسرا کام ہے اسے پورا کرو اور اس دفع کوئی کوتاہی نہیں ۔۔۔
سب کام بہت ہوشیاری سے کرنا ہے۔
عیبا اور امبرین دونوں کیفے سے ہوتی اندر کلاس میں جا رہی تھیں کہ عیبا کے موبائل پر کال آنے لگی ۔۔امبرین کو کلاس میں جانے کا کہہ کر خود کال سننے پیچھے کی طرف آئی ابھی کال اٹینڈ بھی نہیں کی تھی کہ کٹ گئی۔۔
اس نے نمبر دیکھا تو کوئی جانا پہچانا سا لگا تھا اس سے پہلے کے وہ مزید ذہن پر زور ڈالتی کسی نے اس کے بازوں سے کھینچ کر دیوار کے ساتھ پین کیا ۔۔
یونی کیا کرنے آتی ہو؟
مقابل بلیک لونگ جیکٹ سر کو ہوڈی سے کوور کیے چہرے پر ماسک لگائے آتشیں آنکھوں سے استفسار کرتے بولا۔۔۔
میں نے پوچھا یونی کیا کرنے آتی ہو؟
اس کو جواب نہ دیتے دیکھ وہ دبا دبا سا غرایا تھا ۔۔مقابل کی آگ برساتی آنکھیں دیکھ عیبا کا ننھا سا دل کانپ سا گیا تھا
پ۔۔پڑ۔۔پڑھنے۔۔۔۔۔وہ اٹک اٹک کر بولی تھی۔۔
تو یہاں پر دوستیاں کیوں بنائی جا رہی ہیں۔۔
؟؟؟
مجھے تم آج کے بعد اس لڑکی کے ساتھ نظر نہ آو۔۔۔
وہ حکم دیتے اٹل لہجے میں بولا ۔۔۔
کیوں تم میرے بھائی ہو؟ بابا ہو یا امی ہو؟؟؟
وہ غصے سے کہتی اس کو خود سے دور کرتے ہوئے بولی تھی مقابل کے حکم دینے والے انداز نے اس کو غصہ ہی تو دلایا تھا۔۔
ماں تمہاری بن نہیں سکتا ، تمہارا بنے کا شوق نہیں اور بھائی تمہارا میں بننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔!!!!!
وہ اس کا منہ دبوچے بولا تھا۔۔۔عیبا کی بات سن کر اس کی آنکھوں میں غصہ ابھرا تھا۔۔
جب کوئی رشتا نہیں تو حق کیوں جتا رہے ہو؟
وہ چہرے میں ہونے والی درد کو نظر انداز کیے مقابل کو لاجواب کر گئی تھی۔۔۔جس سے عیبا پر اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی۔۔۔
لیکن پھر کچھ سوچ مسکراہٹ اس کے چہرے پر چھائی تھی جسے نقاب ہونے کے باعث وہ دیکھ نہ سکی لیکن آنکھوں میں امڈتی چمک وہ بخوبی دیکھ سکتی تھی۔۔۔
حق نام کروانے میں کون سا وقت لگتا ہے؟؟
عیبا کے نقوش پر انگلی پھیرتے وہ گویا ہوا تھا جس سے اس کی دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی
یاد رکھنا اگر اب تم مجھے اس کے ساتھ نظر آئی تو جو میں کروں گا اس کی زمہ دار تم خود ہو گی۔۔بظاہر مسکراتے لیکن آنکھوں میں سنجیدگی لیے اس کے کانپنے پر مجبور کر گیا۔۔
