Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 3)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 3)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
رات کے تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا ۔پورے گھر میں خاموشی کا راج تھا ایسے میں ایان کے کمرے کی مدھم روشنی جل رہی تھی۔جس میں وہ بیٹھا کسی گہری سوچوں میں محو تھا اچانک اس کو چائے کی شدید طلب محسوس ہوئی۔۔کافی دیر سوچنے کی وجہ سے اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔وہ رات کے اس پہر اپنے لئیے کیچن میں چائے بنانے لگا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی ایان کو اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی ایک ہیولہ سا اپنی جانب آتا دیکھائی دیا۔
رحمت جو یونی سے لیٹ اوف اور لیکچرز زیادہ ہونے کی بنا پر تھک چکی تھی۔گھر پہنچ کر کسی سی بھی بات کیے بنا اپنے کمرے میں جا کر سو چکی تھی۔تھکاوٹ اور نیند کا زیادہ غلبہ چھائے ہونے کی بنا پر رات کے کھانا پر بھی نا اُٹھ سکی ۔۔جس کی وجہ سے اس پہر اس کی آنکھ شدید بھوک کی وجہ سے کھل چکی تھی۔کچھ کھانے کی نیت سے وہ کیچن کی جانب آئی تھی اور وہاں پر پہلے سے جلتی کیچن کی لائٹ کو دیکھ کر چونکی ۔۔کیونکہ پورا گھر اس وقت نیند کی وادیوں میں کھویا تھا۔
جہاں کوئی چوڑی جسامت والا شخص پہلے سے کیچن میں کام کرتا نظر آیا۔اس لڑکے کو وہ دیکھ نا سکی کیونکہ اس کی جانب اس کی پیٹھ تھی۔
یہ ۔۔کون ہے؟ اور اتنی رات کو ہمارے کیچن میں کیا کر رہا ہے؟
رکو زرہ ابھی مزا چکھاتی ہوں۔۔
وہ خود سے دل میں سوچتی دھیمے دھیمے قدم اٹھاتی اندر کی جانب آئی اور بنا سوچے سمجھے ریلنگ پر رکھا گلاس آہستہ سے بنا آواز کیے اٹھایا اور اس پر وار کیا۔۔
اس سے پہلے کہ وہ گلاس ایان کو لگتا اس نے ایک ہی جست میں گھوم کر گلاس کو تھاما اور رحمت کو گھما کر ایک ہاتھ اس کے گلے میں جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کی طرف پین کیا۔۔یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ رحمت کو کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔
ک۔۔۔کو۔۔کون ہے..؟
وہ کانپتی آواز میں بولی۔کیونکہ چہرا سامنے ہونے کی وجہ سے وہ ایان کو دیکھ نہیں پائی تھی۔
ایان یہ آواز لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔ تین سال بعد یہ آواز سن کر ایان کو یہ آواز کانوں میں رس گھولتی معلوم ہوئی۔ اپنی محبت ،اپنی چاہت کو آج وہ تین سال بعد محسوس کر رہا تھا۔
ڈارلنگ۔۔۔۔
ایک گھمبیر سی آواز رحمت کو اپنے کان کے پردوں سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی۔جسے سن کر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سے دوڑھی۔۔تین سال پہلے ہوا وہ سب واقعہ اس کے زہن کے پردوں پر جھلملایا۔آنسوں ایک دم اس کی آنکھوں سے جھلک پڑے۔۔
ا۔۔ای۔۔ایان۔۔۔۔۔
وہ اٹکتے اٹکتے بولی۔۔
جی۔۔جان۔!!
وہ بوجھل لہجے میں بولا۔۔
جبکہ وہ اس کی سانسیں اپنی گردن پر محسوس کر سکتی تھی۔۔
ایان ۔۔۔جس۔۔جسٹ لیو م۔۔می۔۔پلیز۔۔
وہ روتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔اس روتے دیکھ ایان نے گرفت اس پر گرفت ڈھیلی کی۔ جبکہ اس کی گرفت ڈھیلی ہونے پر اس کو دھکا دیتی بنا پیچھے مڑے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں جاکر بند ہوگئی۔وہ جو کیچن میں کھانا لینے گئی تھی ایان کو وہاں موجود دیکھ اس کی ساری بھوک بھک سے اُڑھی تھی ۔
جبکہ دوسری طرف ایان اپنی سنڈریلا کو دیکھ کر بہت خوش تھا۔
_______________________
عیبا تمہیں پتہ ہے آج ہمارے نیو سر آئیں گے۔۔سر فرقان کچھ دن کے لئیے چھٹی پر گئے ہیں ان کی جگہ پر کوئی نیو سر آئے ہیں۔
او۔۔پتہ نہیں یار یہ نیو سر کیسے ہوں گے۔۔
دعا کرو سر فرقان جیسے ہوں۔
نہیں بھئی۔۔سر فرقان جیسے بالکل نہ ہوں۔
وہ تو اتنا لمبا لیکچر دیتے تھے۔۔
رحمت کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی۔
عیبا اور رحمت کلاس کی سیکنڈ بینچ پر کھڑکی والی سائڈ پر بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں کہ ان کو کلاس میں پرنسپل کے ساتھ ایک نوجوان شخص کلاس کی اندر داخل ہوتا نظر آیا۔۔پوری کلاس کی نظریں اس نوجوان ہستی پر موجود تھیں۔
جو کہ بلیک کوٹ سوٹ میں موجود ،ہاتھ میں گھڑی پہنے،بالوں کو جیل کی مدد سے سیٹ کیے،آنکھوں پر پروفیشنل گلاسیز لگائے پورے ماحول پر چھایا ہوا تھا۔
یار یہ سر تو کتنے ڈیشنگ ہیں؟
کلاس میں موجود ایک لڑکی نے کہا۔۔
جبکہ عیبا اپنے نیو سر کو دیکھ کر سناٹوں کی زد میں تھی۔
(فلیش بیک)۔۔
اُف یہ رحمت کی بچی نے سب کچھ مجھے پکڑا دیا ہے۔۔خود پتہ نہیں کہاں غائب ہو گئی ہے۔۔
عیبا ہاتھوں میں بیگ اور کتابیں پکڑے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کلاس کی جانب جارہی تھی کہ سامنے سے آتے وجود سے ٹکرائی ۔۔بیگ اور کتابوں کے ساتھ خود نے بھی زمین کو سلامی پیش کی۔۔۔
ہائے اماں!! کمر توڑ دی میری۔۔۔اللہ پوچھے تم سے۔۔نظر نہیں آتا کیا۔۔مجھ بیچاری کو گرا دیا۔
وہ زمین پر بیٹھی دہائیاں دیتی ہوئی بولی ۔
ایم سو سوری مس۔۔
مقابل اس کا سامان اٹھاتے ہوئے بولا۔۔
لائیں ہاتھ دیں۔۔وہ اس کو زمین پر بیٹھے دیکھ ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔۔
جب کہ اس کے بڑے ہوئے ہاتھ کو اریبہ نے نا سمجھی سے دیکھا پھر یہ دم ایک شیطانی مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا رخ کیا۔۔
عیبا نے مقابل کا ہاتھ تھاما اور پوری قوت لگا کر اس کو نیچے کی جانب کھینچا جس سے وہ بری طرح زمین بوس ہوا۔۔
اور عیبا جلدی سے کھڑی ہوئی۔۔
واٹ دا ہیل۔۔؟؟؟
وہ غصے کے عالم میں بولا۔۔
او۔۔۔مسٹر بیٹری عیبا سے پینگا از نوٹ چنگا۔۔
میں کبھی بھی کوئی چیز ادھار نہیں رکھتی۔۔
وہ کہتی اپنا سامان اٹھا کر ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ مقابل کی جانب اچھالتی۔۔اوپر کی جانب چل دی۔۔
بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔۔
تمہیں تو دیکھ لوں گا۔۔آفت کی پڑھیا۔۔وہ کہتا اپنے کپڑے جھاڑتا آفس کی جانب چل دیا۔
آج اس کا یونی میں پہلا دن تھا۔۔اور پہلے دن ہی اس کی تکرار عیبا سے ہو چکی تھی۔اب یہ تکرار عیبا کے لئیے مشکلات لائیں گی۔۔یا نہیں۔۔یہ تو وقت ہی بتائے گا۔۔
(حال)۔۔
اسلام وعلیکم بچو ۔۔۔
کیسے ہیں آپ سب۔۔؟
یہ آپ کے نیو ٹیچر ہیں ۔سر ازلان جو کہ آج سے آپ کو فزکس پڑھائیں گے۔
پرنسپل کہتے ہی واپس جا چکے تھے۔۔۔
جی تو کلاس ہم لیکچر کی طرف آتے ہیں۔۔ آج ہم ایلیکٹرو میگنٹیزم کے بارے میں سیکھیں گے۔۔
وہ ڈائیگرام اور ڈیفینیشن کے زریعے انہیں سمجھا رہا تھا۔۔
ازلان نے ایک طائرانہ نظر پوری کلاس پر گھمائی ایک نظر اس کی نظر ٹھہر سی گئی جہاں وہی آفت کی پڑیا رحمت سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ اپنی پریشانی شئیر کر رہی تھی۔
ایکسکیوز می مس۔۔
یو بوتھ ۔۔۔سیکنڈ بینچرز۔۔
ازلان نے دونوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔۔
کیا سمجھایا ہے میں نے ابھی کیا آپ بتا سکتی ہیں۔۔؟
وہ عیبا کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
ن۔۔ن۔۔نو س۔۔سر۔۔۔
وہ سر جھکائے شرمندگی سے بولی۔
آوٹ۔۔۔
سر۔۔
آئے سیڈ آؤٹ۔وہ غصے کی زیاتی سے چیختے ہوئے بولا۔۔
جبکہ اریبہ سر جھکائے اپنے آنسوں پیتی کلاس سے باہر جا چکی تھی۔۔
سر اس میں اریبہ کی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔رحمت اس کو روتا ہوا جاتا دیکھ بولی ۔۔
مس اگر آپ میں زیادہ ہمدردی جاگ رہی ہے تو آپ بھی جا سکتی ہیں۔۔ہاں اور یاد رکھیے گا دوبارہ کبھی میری کلاس میں مت آئیے گا۔۔
وہ کہتا دوبارا لیکچر کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔جبکہ رحمت خاموشی اختیار کر کے عزت سے بیٹھ چکی تھی۔
_________________________________
ہوش نا خبر ہے ،
یہ کیسا اثر ہے،
تم سے ملنے کے بعد دلبر،
اوو تم سے ملنے کے بعد دلبر،
دلبر۔۔دلبر۔۔ہاں۔۔دلبر ۔۔دلبر۔۔
ویرانے علاقے میں بنا یہ نائٹ کلب جہاں اس وقت امیر والدین کی بگڑی ہوئی اولادیں ہاتھوں میں حرام مشروب لئیے نامحرم شخصیتیں ایک دوسرے میں مگن بانہوں میں بانہیں ڈالے ڈانس فلور میں ڈانس کرنے میں مصروف تھے۔
کتنے کا مال(ڈرگز) ہے؟
کون سا مال؟
مقابل انجان بنتے ہوئے بولا۔۔
انجان مت بنو ۔۔منہ مانگی رقم دوں گا۔۔
بس مجھے خالص مال چاہیے ہے۔۔
وہ اس شخص کے سامنے بلینک چیک رکھتے ہوئے بولا۔۔
چلو میرے ساتھ ۔۔۔وہ بلینک چیک کو للچائی ہوئی نظروں سے۔دیکھتے ہوئے بولا۔۔
اور کلب کے ایک کمرے کی جانب گیا جو کہ حالت سے کوئی اسٹور روم معلوم ہو رہا تھا۔۔اس شخص نے وہاں موجود کارپیٹ کو ہٹایا۔۔جس کے نیچے ایک بٹن تھا۔۔اس بٹن کے دباتے ہی زمین پر لگا ڈھکن دو حصوں میں بٹ گیا۔
وہ اس شخص کی تقلید کرتا ہوا اس کے ساتھ نیچے کی جانب گیا ۔
نیچے ایک بہت ہی عمدہ ترز پر بنایا گیا ہال تھا۔۔جہاں پر ہو طرح کا سامان موجود تھا۔۔
صاحب یہ دیکھیں ۔۔کون سا مال چاہیے ہے۔۔؟
وہ اس کے سامنے کئی طرح کے سیمپل رکھتے ہوئے بولا۔۔
لگتا ہے کافی زیادہ خالص ہیں۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑے سونگھتے ہوئے بولا۔۔
فکر نا کرو صاحب ہم مال گیرینٹی کے ساتھ دیتا ہے۔۔
اچھا ایک کام کرو دوست مجھے یہ اتنا دے دو کہ میرا ایک مہینہ نکل جائے۔۔
جی۔۔جی۔۔صاحب فکر کیوں کرتے ہو۔۔؟؟
ابھی لایا۔۔۔وہ کہتے ہی اندر کی جانب گیا ۔جب کہ اس ہی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایان نے اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی کا بٹن دبایا۔۔
فو لو مائی لوکیشن۔۔اینڈ ایکشن ۔۔۔
پولیس پولیس ۔۔۔بھاگو۔۔۔ریڈ پڑھ گئی۔۔
باہر سے افرا ظفری کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔۔
تھوڑی ہی دیر میں پولیس پورے کلب پر ریڈ ڈال چکی تھی جہاں سے کروڑوں کا مال برآمد ہوا ۔اس غیر قانونی کام میں ملوس کافی لوگ پکڑے جا چکے تھے۔
میڈیا پر ایک چیز کا باریک بینی سے معائینہ کرتے ہوئے مرچ مصالحوں کے ساتھ خبریں پیش کر رہی تھی۔لیکن ابھی بھی یہ جاننے سے سب ہی قاصر تھے کہ ان سب چیزوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔۔؟
سو فائینلی ۔۔فرسٹ میشن ہیو بین کمپلیٹڈ۔۔میر اور ایان ایک دوسرے کے گلے ملتے ہوئے بولے۔اور کلب کے پیچھے رکھی اپنی گرے رنگ کی گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی فلیٹ کی جانب موڑ دی۔
_________________________________
کون ہے یہ؟
کس نے کیا یہ سب۔۔کس میں اتنی ہمت کے وہ مجھ سے دلاور سے پنگا لے۔۔
وہ غصے اور تیش کے عالم میں قیمتی شو پیس کو اپنے غصے کی بنا پر چکنا چور کرتے بولا۔۔
یہ جو کوئی بھی ہے۔اس نے اچھا نہیں کیا۔۔
میرا کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔۔
ساحل۔۔۔ساحل۔۔
وہ اپنے خاص بندے کو آواز دیتا ہوے بولا۔۔
جی۔۔سر۔۔وہ بھاگتے ہوئے بوتل میں جن کی طرح حاضر ہوا۔۔
مجھے کل تک اس انسان کی ساری ڈیٹیل چاہیے ہیں۔۔جس نے دلاور خان سے الجھنے کی غلطی کی ہے۔
دلاور خان دنیا کی نظر میں جانا مانا بزنس مین بزنس مین ۔۔لیکن بزنس کی آڑ میں کافی غیر قانونی کام سر انجام دیتا ہے۔
