Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 13)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 13)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

کہاں رہ گئی تھی تم؟ اور یہ تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟؟

عیبا کا ڈرا چہرا دیکھ امبرین بولی تھی جو کہ آتے ساتھ ہی بیگ سے بوتل نکالے پانی پینے لگی تھی۔۔

ک۔۔کچھ۔۔ن۔۔نہیں ۔۔ہوا۔۔

وہ اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے بولی تھی۔۔

۔۔اچھا۔۔وہ ایک نظر عیبا کے چہرے کو دیکھ بولی۔۔

عیبا آج تم میرے ساتھ چلو گی میرے گھر؟

تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد وہ عیبا کو نارمل ہوتے دیکھ بولی ۔۔

۔ن۔۔نہیں امبرین آئیم سوری گھر سے اجازت نہیں ملے گی۔

یار۔میں کون سا تمہیں ہمیشہ کے لئے لے کر جا رہی ہوں۔۔

وہ ناراضگی ظاہر کرتے بولی تھی۔۔

دیکھو ناراض نہ ہو۔۔میں بھائی کے ساتھ آ جاوں گی یا گھر سے کم از کم اجازت تو لے لوں۔۔

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ویسے اب تم بڑی ہو گئی ہو خود اعتماد بنو۔۔

امبرین!!!!!

ہم بے شک جتنے بھی بڑے ہو جائیں والدین کے لئے بچے ہی رہتے ہیں۔

میری یہ بات یاد رکھنا ہمیشہ۔۔۔

ہم زندگی میں کوئی بھی کام ،کوئی بھی فیصلہ کرنے جا رہے ہوں۔اس کا علم ہمارے بڑوں کو لازمی ہونا چاہیے۔۔شادی سے پہلے والدین اور شادی کے بعد شوہر کی اجازت لازمی درکار ہوتی ہے۔۔اور یقیناً وہ جو آپ کے لئے فیصلہ کریں گے اس میں آپ ہی کی بھلائی ہوتی ہے۔۔

وہ سمجھداری کا مظاہرہ کیے امبرین کو لاجواب کر گئی۔۔

@@@@

میر۔۔۔

ہنہہہ۔۔۔میر ہاتھ میں سیگریٹ جلائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ہوئے کسی سوچوں میں گم تھا ایان کے پکارنے پر سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔

کن مراقبوں میں ہے؟؟

کسی میں نہیں یار۔۔۔۔یہ بتا سب تیاریاں مکمل ہیں ؟؟۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔

چلنا کب ہے؟؟؟

جب تم خیالی دنیا سے واپس لوٹو؟؟

وہ اس کے سوچنے پر طنز کرتا بولا۔۔

بہت بڑا والا ہے تو۔۔۔باز نہیں آئے گا نہ؟؟؟

وہ ہنستے ہوئے ایان کی کمر میں دھموکا رسید کرتے بولا وہ دونوں فلیٹ کو لاک کیے جا چکے تھے۔

@@@@

روحان وہ دیکھ وہاں سارا کراؤڈ ہے۔

چل ۔۔۔دیکھ کر آتے ہیں!!آخر معملہ کیا ہے۔۔

چھوڑ یار ہم جا کر کیا کریں گے۔۔گھر چلتے ہیں۔۔

وہ بے زاری ظاہر کیے بولا

ابے آ یار۔۔۔وہ اس کو کھینچے اپنے ساتھ لے گیا وہاں پہنچتے ہی ان دونوں کی آنکھیں باہر ابل آنے کو تیار تھیں جہاں نور ایک لڑکے کو پکڑے بیلٹ سے پیٹ رہی تھی۔

نور اپنی کچھ دوستوں کے ساتھ شاپنگ پر آئی تھی دکان پر کھڑی وہ سب مل کر ڈریس ڈیسائڈ کر رہی تھیں کہ ایک لڑکا دھندھناتا ہوا اس کے پاس سے گزرا ، جاتے جاتے اس کے شولڈر کو جان بوجھ کر اپنے شولڈر سے ٹچ کیا جسے نور نے غلطی سمجھ کر اگنور کر دیا ۔ لیکن کچھ وقفے کے بعد اس نے دیکھا وہی لڑکا سامنے کھڑی لڑکی کو بھی چھیڑ کر گزرا اور یہی عمل اس کا دماغ خراب کرنے کے لئے کافی تھا وہ ہاتھ میں موجود شرٹ کو کاونٹر پر پٹخے اس لڑکے کی جانب بڑی اور گھما کر ایک مکا اس کے منہ پر مارا جس سے اس لڑکے کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔اور مال میں موجود لوگ حیرانی کے عالم میں یہ سب دیکھ رہے تھے ۔۔

یو بلڈی ۔۔۔۔وائے یو ہٹ می؟؟؟

وہ لڑکا اپنی ناک پر ہاتھ رکھے بولا تھا۔۔۔

نور نے گالی دینے پر ایک اور مکا جڑا تھا جس سے وہ لڑکا کراتا ہوتا نیچے بیٹھا ہے۔۔۔

تم جیسے چھنچھندرو نے لڑکیوں کو اپنے باپ کا مال سمجھا ہے ۔۔۔وہ کمر میں باندھی اپنی بیلٹ کو ہاتھوں میں لپیٹے بولی۔۔۔۔

جس کا دل چاہے چھیڑ کر نکل جائے۔۔۔

بول۔۔۔بہت ذیادہ آگ لگی ہوتی ہے تم چوہوں کو۔۔۔آج تم لوگوں کی یہ آگ بجھاتی ہوں کہ اپنی ماں بہن کے سامنے جانے سے بھی خوف کھاؤ گے۔۔کہتے ہی بیلٹ سے ایک گہری ضرب لگائی تھی اس نے جس سے فضا میں اس لڑکے کی چیخ بلند ہوئی تھی۔۔

آہہہہہ۔۔۔۔۔۔چھو۔۔۔چھوڑ دو۔۔۔

وہ لڑکا ادھمو ہوتے ہوئے بولا تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔اور لے۔۔۔اور لے۔۔۔کہتے ہی در بے در مارتی چلی گئی تھی۔۔

مع۔۔معاف کر دو۔۔۔معا۔۔معاف۔۔۔وہ لڑکا خون سے لت پت ہوتے ہوئے بولا تھا جب کہ نور کی آنکھوں میں جنون دیکھ کسی کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔

آج کے بعد اگر کسی نے لڑکیوں کی ساتھ کوئی غیر اخلاقی حرکت کرنے کی کوشش کی تو اس راسکل کی جگہ وہ اپنے آپ کو تصور لازمی کر لے۔۔۔ہجوم میں کھڑے لوگوں سے مخاطب ہونے کے بعد اس لڑکے کو لات رسید کیے وہاں سے اپنی مغرور چال چلتی روانہ ہوئی۔۔

جب کہ روحان اس لڑکی کی بہادری کا صحیح معنوں میں دیوانہ ہو چکا تھا ۔۔۔

نور یار تو نے لڑکے کا بھرتا ہی بنا ڈالا ۔۔

اس کی دوست اور نور انڈر کنسٹرکشن ایریا میں موجود تھے ۔۔۔

نور جو پانی کی بوتل سے پانی کی چھینٹے اپنے چہرے پر ڈال رہی ایک پل کو رک کر اس کی جانب دیکھا۔۔

تو کیا خیال تھا تمہارا اس کو ایسے ہی جانے دیتی تاکہ وہ ہر آنے جانے والی لڑکی کو بے دھڑک ہو کر چھیڑتا۔۔۔ہم لوگوں کو خود مضبوط ہونا ہو گا ورنہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔۔

رومال سے اپنے ہاتھ پونچھتے وہ نخوت سے بولی تھی۔۔۔

اب گھر چلو نہیں تو ہم لوگوں کی کلاس پکی ،وہ بوتل پر ڈھکن واپس لگاتے ہوئے بولی اور گھر کی جانب روانہ ہوئیں۔

روحان جو نور کا پیچھا کرتے وہاں تک آیا تھا اس کا چہرا دیکھ ساکت ہو گیا کیونکہ جب وہ لڑکے کو دھو رہی تھی تو اس کے چہرے پر سرجیکل ماسک لگا تھا۔۔۔گوری رنگت ،کاجل لگی بھوری آنکھیں جن پر گھنی پلکوں کا سایہ تھا گلابی ہونٹ اور چہرے پر پڑتے پانی کی قطرے اس کو شبنم ہو رہے تھے۔۔

ہاں شاید ہوتے ہونگے انجان سی راہوں میں ملنے والے انجان سے لوگ،

اپنو سے بڑھ کر خیال کرنے والے خوبصورت دل کے لوگ،

آپ کے راستے میں آنے والے کانٹوں کو خود سے چُن لینے والے لوگ ،

خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو بھی ملتے ہیں ایسے لوگ 🔥

~مریم عباس

کہاں ہو زینو ؟؟

میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔۔

حذیفہ زینب کو پورے گھر میں ڈھونڈنے کے بعد کیچن میں آیا جہاں زینب اس کو کھیر کھاتے ہوئے نظر آئی۔۔

ہاں تو آپ ہی کی فرمائش کے مطابق کام کر رہی ہوں۔۔۔

وہ کھیر کا نوالہ منہ میں ڈالنے کے ساتھ بولی۔۔

بیگم ویسے بڑی وہ ہو تم۔۔۔!!!

وہ کیا؟؟؟

اس نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا

شوہر سامنے کھڑا ہے اور خود مزے لے لے کر کھیر کھائی جا رہی ہو۔۔

او سوری میں بھول گئی تھی۔۔۔

آپ کھائیں گے۔۔۔۔

وہ شرمندگی مٹانے کے لئے اس کو آفر دیے بولی۔۔

ہاں کیوں نہیں۔۔۔!!!

واپس آ جاو بیگم !!!! کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔کیونکہ میں اسی میں اسی چمچ سے کھاوں گا جس سے میری زینو نے کھایا ہے۔۔۔وہ اس کو کھیر نکالتے دیکھ بولا تھا اور ٹائل پر رکھا باول اٹھا کر کھیر کھانے لگا۔۔۔

واؤ۔۔۔کتنی سوادشت ہے۔۔۔۔

آج تک ایسی کھیر کھانا نصیب نہیں ہوئی۔۔۔

وہ کھیر کا چمچ منہ میں بھرتا بولا ۔۔۔

لو تم بھی کھاؤ نا۔۔۔

وہ چمچ اس کی جانب کیے بولا ۔۔

نہیں۔۔۔آپ کھائیں وہ چکن کے ریشیو کرتے مصروف سے انداز میں بولی۔

ن۔۔نہیں۔نہیں۔اس کے نہیں نہیں کرتے اس کے منہ میں وہ چمچ ڈال چکا تھا۔۔

رکو۔۔

یہ شپ تب تک نہیں چلے گا جب تک ہم اس کی چیکنگ نہ کر لیں۔۔

شپ کے پاس کھڑی آفیسر ٹیم نے کہا تھا۔۔

پر صاحب اس میں کچھ نہیں ہے۔۔

وہاں پاس کھڑے ایک آدمی نے جواب دیا۔۔

ہم نے پوچھا نہیں ہے۔۔

ہم نے حکم دیا ہے اگر واقعی کچھ نہیں ہے تو چیک کیوں نہیں کرنے دیتے۔۔

صاحب رکیں۔۔!!

ہٹو سائڈ پر۔۔۔

وہ آفیسر اس آدمی کو دھکیل کر اندر جانے والا تھا کہ اپنے پیچھے ایک کڑکدارا آواز سن کر رکا۔۔۔

اسٹاپ آفیسر۔۔

جہاز کو جانے دو۔

پر سر۔۔آٹس مائیے اوڈر۔۔

اوکے سر۔۔۔

یو مے گو۔۔

وہ جہاز وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔

ون

ٹو

تھری

۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔

ایٹ

۔۔۔۔۔

۔۔۔

ٹین۔۔

آفیسر نے جیسے ٹین کہا تھا ویسے ہی دور جاتے سمندری جہاز میں دھماکا ہوا تھا

اور ساحل پر موجود ان پوری ٹیم کا قہقہ گونجا تھا۔۔

مشن کمپلیٹڈ !!!!!!!

جہاز کے تباہ ہونے پر جہاں کچھ لوگ خوشی منا رہے تھے وہیں کنگ کا غصے سے برا تھا کیونکہ پھر سے اس کو مات دی گئی تھی یہ اس کا آخری چانس تھا جو کہ پھر سے برباد ہو گیا وہ غصے میں اتنا پاگل ہو گیا تھا کہ اپنے ہی گھر کی چیزوں کو توڑ پھوڑ رہا تھا۔