Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 17)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 17)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

نیم اندھیرے کمرے جب رضا کی آنکھ کھلی تو خود کو روڈ سے الٹا لٹکا ہوا پایا جب وہ محفل میں بیٹھا رقص سے لطف اندوز ہو رہا تھا اچانک لائٹ جانے پر کسی نے اس کو بہوش کیا تھا اور اب وہ یہاں ایسے تھا ۔۔۔وہ ذیادہ اپنے ذہن پر زور ڈالتا کہ کوئی دروازہ زور سے کھول کر اندر داخل ہوا ،

اندر داخل ہونے والی شخصیت کو دیکھ اس کی آنکھیں حیرت کی زیاتی سے کھلیں تھیں۔۔۔

ت۔۔۔تم!!!!

ہاں میں۔۔۔تم جیسوں کو ٹریپ کرنے والی ، جو کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہوئے لڑکیوں کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔۔میں آفیسر مسکان نور تا کہ تم جیسوں کو عبرت کا نشان بنا سکوں۔

تمہیں کیا لگا تھا کہ تم مجھے ٹریپ کرو گے۔؟؟؟

نہیں۔۔۔رضا۔۔۔

ٹریپ تم کر نہیں ، بلکہ ہو رہے تھے۔

کیا تم لوگوں میں زرہ سی بھی غیرت نہیں۔۔۔

جو اپنی ہی عزت کو نیلام کرنے کے در پر ہوتے ہو۔

پاکستان کی ہر ماں، ہر بہن ، ہر عورت تمام پاکستانی مردوں کی عزت و غیرت ہے تم لوگوں کو چاہیے ان کی حفاظت کریں نہ کہ ان کی عزتوں کو نیلام۔۔۔

م۔۔مجھے معاف ک۔کر دو۔۔۔!!!!

اب۔۔۔اب ایسا نہ۔۔۔نہیں کروں گا۔۔

نہیں۔۔۔تم جیسوں کو معافی دینا ہر اس لڑکی کے ساتھ نا انصافی ہو گی جن کی عزتوں کو بیچا ہے تم نے۔۔۔

بہرحال ۔۔۔میری نظر میں تمہیں جینے کا کوئی حق نہیں۔۔۔ویسے بھی جی کر تم نے کون سا گل کھلانا ہے اپنے آخری جملے کے ساتھ ہی اس نے بندوق کا نشانہ لیا تھا جو کہ سیدھا اس کے دماغ سے آر پار ہوئی تھی ۔ ساتھ ہی اس نے وہیں رکھی یو ایس بی ڈیوائس اور اس کے موبائل فون کو آگ کی نظر کیے قصہ تمام کیا تھا جبکہ میر اور ایان دونوں اس کو فخریہ نظروں سے دیکھ رہے ۔۔۔

کون کہتا ہے کہ عورت کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔!!!!

بلکہ حقیقت ہے کہ عورت وہ مضبوط چٹان ہے جس سے جو ٹکرائے گا وہ بالآخر پچھتائے گا۔۔

محبت کرنے والوں سے محبت ، وفا کرنے والوں سے وفا اور دھوکہ دینے والوں کے لئے عبرت ہوتی ہے۔۔

ایان جو ابھی کھانے سے فارغ ہوا تھا فون کی چنگھاڑتی آواز سے فون اٹھا کر کان پر لگایا۔

مسٹر ایان ابرار۔۔۔!!!!

کون۔؟؟؟۔کسی انجان لڑکی آواز سے اپنا نام سن کر وہ خاصا شاکڈ ہوا تھا۔

یہ چھوڑیں میں کون ۔۔۔!!!

یہ سوچیں میں نے آپ کو کال کس لئے کیا ہے۔۔۔۔

میرا پاس فضول لوگوں سے بات کرنے کا وقت نہیں۔۔

ارے ارے فون کاٹنے کی غلطی نہ کیجئے گا۔۔اگر اپنی بہن کی زندگی چاہتے ہیں تو جیسا میں کہہ رہی ہوں ویسا کیجئے۔۔۔

وہ ایان کو وارن کرنے کے انداز میں بولی لیکن اس کی بات سن کی غصہ اور حیرت دونوں کیفیت میں ایک ساتھ مبتلا ہوا تھا وہ۔۔۔

یہ کیا فضول بات ہے میری بہن تمہارے پاس کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔

اگر یقین نہ ہو۔۔تو بات کر لیں ایان جی۔۔۔

وہ لڑکی عیبا کے کان سے فون لگائے اس کو بات کرنے کا اشارہ دیے بولی۔۔۔

ہ۔ہیلو۔۔۔ب۔۔بھائی۔۔۔۔۔!!

وہ پسینے سے شرابوز اٹک ابھی بول ہی رہی تھی کہ اس نے فون کھینچ لیا۔۔۔۔

ہی۔۔۔ہیلو۔۔۔گڑیا۔۔۔۔۔!!!!!!

سن لی نا آواز ۔۔۔آ گیا یقین۔۔۔

اب جیسا میں بولوں ویسا کرو۔۔۔

کام زیادہ محنت والا نہیں ہے۔۔بس تم نے اپنی بیوی کو طلاق دینی اور وہیں تمہاری بہن باحفاظت اپنے گھر ہو گی۔۔

یہ کیا بہودگی ہے میں کیوں دینے لگا اپنی بیوی کو طلاق۔۔!!!!

کوئی اور کام بتاو میں یہ ہر گز نہیں کروں گا۔۔۔

مقابل کی بات نے تیش ہی تو دلا دیا تھا اسے۔۔

وہ کیسے رحمت کو اپنی زندگی سے نکال سکتا تھا۔۔

جس کو پانے کے لئے اس نے اتنی دعائیں کیں تھیں۔۔

بس پھر ٹھیک ہے تمہیں اپنی بیوی اور بہن میں سے کسی ایک کو چننا ہے۔۔

ت۔۔تم مجھے کچ۔۔کچھ وقت دو۔۔وہ آخر میں بے بسی سے گویا ہوا۔

ہمم ٹھیک ہے ۔۔پر یاد رکھنا تمہارے پاس صرف دو دن کا وقت ہے۔۔۔

چچچچ۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے تمہارے بھائی کو بہن سے زیادہ بیوی کی فکر ہے۔بہن کی جان دینا منظور ہے مگر بیوی کو طلاق نہیں۔۔۔۔

وہ افسوس زدہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔

طلاق کروانا شیطان کام ہوتا ہے جو کہ اس وقت تم بنی ہوئی۔۔

میں نہیں جانتی ت۔۔تم کون ہو۔۔لیکن یہ یاد رکھنا جو دوسروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں ایک دل وہ منہ کے بل ضرور گرتے ہیں۔۔

ہمم باتیں تو بہت اچھی کرتی ہو۔۔تم ۔۔۔

وہ نخوت سے طنزیہ کہتی جا چکی تھی۔جب کہ اس نے اوپر کی جانب دیکھ اللہ سے مدد مانگی تھی۔

حذیفہ تھکا سا کمرے میں داخل ہوا تھا اس کی نظر نماز پڑھتی زینب پر گئی ۔۔وہ بھی صوفے پر بیٹھ پر اپنے پاوں کو جوتوں سے آزاد کرتا فریش ہونے واشروم چلا گیا۔۔

جب وہ فریش ہو کر آیا تو وہ جائے نماز لپیٹ رہی تھی ۔۔

سنیں۔۔۔پتہ چلا کچھ۔۔۔

وہ امید سے اس کی جانب دیکھتے بولی۔۔۔۔

نہیں۔۔۔اس نے صرف نفی میں سر ہلایا تھا منہ سے کہنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔

پورے 24 گھنٹے ہو چکے تھے عیبا کو لاپتہ ہوئے ۔۔

آپ نا امید نہ ہوں حذیفہ ۔۔میں نے دعا کی ہے ۔۔مجھے پورا یقین ہے وہ جہاں بھی ہو گی خدا اس کی ضرور حفاظت کریں گے۔

آمین ۔۔

اس لڑکی کے جانے کے کچھ دیر بعد کوئی چوری سے اس گھر میں داخل ہوا تھا غور سے وہاں کی ہر ایک چیز کو ذہن میں بیٹھاتا جائزہ لے رہا تھا۔

ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی تھی سامنے والے روم میں روشنی جلتی آدیکھ ۔۔مطلب اسکو اسی روم میں رکھا گیا ہو گا۔۔

وہ بنا آہٹ کے کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں وہ آنکھیں موندے کرسی پر بندھی ہوئی تھی کمرے میں جلتا ہلکا پیلا بلب اس کے چہرے پر پڑ رہا تھا جس سے اس کے چہرے کی مایوسی ، تھکن صاف ظاہر ہو رہی تھی۔۔اسکو سامنے دیکھ کر یکدم ہی اس کو پیار آیا تھا اور کڈنیپرز پر غصہ جنہوں نے اس کی معصوم سی پرنسس کو یہاں رکھا تھا۔۔

اس نے بنا دیر کیے عیبا کے ہاتھوں کی رسی کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔۔

جب عیبا نے اپنے ہاتھ پر کسی کا لمس محسوس کیے آنکھ کھولی اور نقاب پوش کو دیکھ کر اس کا دل ساکت ہوا تھا اور بے ساختہ اس کی چیخ نکلی تھی جسے ہاتھ رکھ کر مقابل روک چکا تھا۔۔۔

وہ پھولی سانسوں کے ساتھ آنکھیں بڑی کیے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

پاگل لڑکی۔۔۔چیخ کیوں رہی ہو۔۔۔۔؟؟

کوئی آ جائے گا۔۔۔۔

وہ غصے میں دبا دبا غرایا تھا۔۔۔عیبا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

م۔۔۔مط۔۔مطلب۔۔۔؟؟؟؟

ت۔۔تم ۔۔نے مجھے کیڈنیپ نہیں ک۔۔کیا؟؟؟

وہ پھولے ہوئے تنفس کے ساتھ بولی۔۔۔

ن۔۔نہیں۔۔۔میں نے کڈنیپ نہیں کیا بلکہ تمہیں لینے آیا ہوں۔۔۔جلدی۔۔۔نکلو۔۔۔اس سے پہلے کوئی آ جائے۔۔

وہ جلدی جلدی اس کے ہاتھوں کی رسی کھولتے بولا۔۔۔

اور اس کا ہاتھ پکڑے باہر لایا تھا جہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے روانہ ہو چکے تھے جبکہ عیبا آنکھوں کو بند کیے من ہی من میں دعا کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ وہ اس کے ساتھ وہاں سے نکل تو چکی تھی لیکن دل اسکا ابھی بھی تیز لہر میں دھڑک رہا تھا۔۔۔

گاڑی جھٹکے سے ایک فلیٹ کے سامنے رکی تھی۔۔۔

چلو ۔۔۔۔

اسکی آواز پر عیبا نے آنکھ کھولی اور خود کو پھر سے کسی انجان جگہ پا کر اس کے اوسان خطا ہوئے تھے۔۔

وہ نفی میں سر ہلاتی اپنی ڈوپٹے کو زور سے بھینجچ گئی تھی۔۔۔

م۔۔میں نے نہیں جاوں گی۔۔یہ میرا گھر نہیں ۔۔۔

م۔۔مجھے گھر جانا ہے۔۔۔

وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ بولی ۔۔۔

آپ نے ج۔۔جھوٹ بولا۔۔۔آ۔۔۔آپ بھی مجھے کیڈنیپ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

اس کی بات سن گہرا۔سانس خارج کیے وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا اور اسکا ہاتھ کھینچے اندر فلیٹ میں لے کر گیا۔۔

جبکہ وہ مسلسل آنسوں بہاتی ہاتھ کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔اس کا ننھا سا دل کانپ رہا تھا۔۔۔

بیٹھو یہاں۔۔۔۔

باہر سب کو نظر انداذ کرتا ،

اس کا ہاتھ کمرے میں آ کر چھوڑا تھا اس نے۔۔۔

میں نے تمہیں پہلے وارن کیا تھا کہ تم اس لڑکی کے ساتھ مجھے نظر نہ آو ۔۔لیکن تم صدا کی ڈھیٹ ہستی۔۔۔

بات کیا کرنا اس کے گھر ہی پہنچ گئیں۔۔۔

تالی بجاتے وہ طنزیہ بولا جبکہ وہ حیرت کے ساتھ اس کا کلام سن رہی تھی۔۔۔۔

آ۔۔۔آپ ۔۔مج۔۔مجھے یہ ۔۔۔۔بات بتانے کے لائیں ہیں

وہ معصومیت سے سوال کیے بولی۔۔۔ تھی جبکہ وہ اس کے اس سوال پر صدقے واری گیا تھا۔۔۔

کہہ دی نا آپ نے۔۔۔۔۔

اب۔۔۔مجھے گھر چھوڑ آئیں۔۔۔

نہیں۔۔۔

پھر۔۔۔۔؟؟؟

وہ پریشانی سے بولی تھی۔۔۔۔۔

پہلے تم میری بیوی بنو گی۔۔

ک۔۔کیا۔۔۔۔؟؟؟؟

اس کی گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔۔کیونکہ لاسٹ ٹائم تمہیں میں نے کہا تھا اگر اب تم نے میری بات نہ مانی تو تمہاری سزا منفرد ہو گی۔۔۔

جو تا حیات تمہارے ذہن میں نقش رہے گی۔۔۔

اسلئے ۔۔۔۔۔بی ریڈی فار بی مائین۔۔۔(میری ہونے کے لئے تیار رہو)

اس کی آنکھوں میں دیکھ سنجیدگی سے بولا تھا وہ جبکہ وہ یکدم تپی تھی۔۔۔

سمجھتے کیا ہیں خود کو آپ ۔۔۔

بہت ماہان ہستی ہیں ۔۔۔۔جن کی بات نہ مانی تو گناہ ہو گا۔۔۔

کس قسم کا حق جتا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔

نہ میں آپ کو جانتی ،،اور نہ آپ مجھے۔۔۔پھر فضول کی رشتے داری بنانے چلیں ہیں۔۔۔

عیبا دونوں ہاتھوں سے اسے دھکا دیے بولی۔۔ مضبوط جسامت ہونے کے باعث وہ انچ بھر نہ ہلا تھا۔۔۔۔۔

وہ ہی تو لینے جا رہا ہوں۔۔۔۔

فار ہول لائف۔۔۔۔(تمام عمر کے لئے ) اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے شکنجے میں لیا تھا اس نے جس سے عیبا کی بولتی بند ہوئی ۔۔۔۔۔

چلو میرے پاس اب وقت نہیں باہر سب موجود ہیں اچھے بچوں کی طرح تین بار قبول ہے بولنا پھر تمہیں گھر چھوڑ آوں گا۔۔۔۔۔۔

اس کے سر پہ ڈوپٹہ سیٹ کیے بولا ۔۔۔۔

میں یہ نکاح نہیں کروں گی۔

نفی میں سر ہلاتی وہ پیچھے کھسکی تھی۔

ٹھیک ہے ۔۔پھر رہو یہاں ۔۔۔۔۔اسی فلیٹ میں۔۔۔۔۔!!!!!

وہ ہاتھوں کو کھولے بولا ۔۔۔

ہاں۔۔۔اب گھر کا رستہ بھول جانا کیونکہ بنا نکاح کے تم یہاں سے جا نہیں سکتی۔۔۔

وہ طنز کے نشر اچھالتا دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ پیچھے سے عیبا کی آواز سن ایک مسکراہٹ آئی تھی چہرے پر۔۔۔

م۔۔۔میں ت۔۔۔۔تیار ہوں۔۔۔خود پر ضبط کیے آنکھوں کو بند کیے بولی تھی وہ جبکہ ہاتھوں کی دونوں مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں۔۔

ہممممم۔۔۔۔گڈ ڈیسیجن۔۔۔۔!!!!!!💕

تھوڑی دیر میں اس کا نکاح ہو چکا تھا وہ اپنے تمام حقوق

مقابل کے نام لکھوا چکی تھی۔۔۔اس وقت وہ شدت سے اپنے گھر والوں کو یاد کر رہی تھی۔۔۔ایک آنسوں بے مول ہوا تھا۔۔۔

اپنے سر پہ کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس کیے اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا جہاں ایک شخص کھڑا تھا جو کہ اس کے گواہوں میں سے ایک تھا۔۔۔وہ بنا کچھ کہے جا چکا تھا اس کی آنکھوں میں موجود چمک کا وہ اندازہ نہ لگا پائی۔۔۔

وہ خاموشی سے اٹھ کر اندر جا چکی تھی۔۔۔کیونکہ اتنے مردوں میں اکیلا بیٹھنا اس کو کافی عجیب لگ رہا تھا۔۔سب کو فارغ کرنے کے بعد وہ اندر داخل ہوا جہاں عیبا بالکونی کے پاس کھڑی آسمان میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی اس نے پیچھے سے اسے اپنے گھیرے میں لیا تھا۔۔۔۔