Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 20) Last Episode

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 20) Last Episode

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

عیبا غور سے سامنے کھڑے اپنے شوہر کا چہرا دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔جس کا چہرا ہر وقت کالے رنگ کے ماسک سے ڈھکا رہتا۔۔۔۔بہت سی سوچیں اس کے سر پہ سوار تھیں۔۔

وہ اپنے چہرے پر عیبا کی نظروں کی تپش محسوس کر کے بھی انجان بنا اپنے کام میں مصروف رہا۔۔۔

اس نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔۔

کچھ لمحے کے لئے مقابل کا ہاتھ تھما تھا جب اس نے اپنی پشت پر عیبا کا سر محسوس کیا تھا۔۔۔

وہ اپنا کام چھوڑ پوری طرح سے اس کی جانب مڑا تھا۔۔

کیا ہوا جانم آج کچھ زیادہ ہی پیار آ رہا ہے ؟

ٹھوڑی سے اس کا چہرا اوپر کیا تھا اس نے۔۔

ن۔۔نہیں ۔۔م۔۔میرا مطلب ہے ہاں۔۔۔۔

پہلے پہل تو وہ گڑبڑائی تھی۔۔ لیکن پھر خود کو نارمل کرتے کہا تھا اس نے۔۔۔

او۔۔۔ ویسے کیوں۔۔۔؟؟؟

ماسک کے پیچھے سے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔

و۔۔ویسے ہی۔۔۔

آپ میرے شوہر ہیں۔م۔میں آپ کی بیوی ہوں۔۔ م۔۔میں کر۔۔کر سکتی ہوں۔۔

ایسے کہتے ہوئے اس کی خود کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔

ہہہممم۔۔۔

بیویوں کے اور بھی بہت سے فرض ہوتے ہیں جن سے میری جانم باخوبی واقف ہو گی۔۔

اس کے پونی میں مقید بالوں کو آزاد کیا تھا اس نے جو کسی آبشار کی طرح کھل کر اس کے چہرے پر پھیل چکے تھے۔۔۔

ت۔۔تو۔۔۔؟؟؟

تو یہ۔۔۔اس نے کہتے ہی اپنے ماتھے کی جانب اشارہ اشارہ کیا تھا۔۔۔

اس کی بات سمجھ کر پہلے پہل تو عیبا سٹپٹائی تھی۔۔۔لیکن پھر کچھ سوچ کر ہاں کہا تھا اس نے۔۔۔

آنک۔۔آنکھیں ۔۔بند کریں اپنی۔۔۔۔۔

تم تو ایسے شرما رہی ہو۔۔ جیسے میں نے تمہیں نا جانے کیا کہہ دیا ہو۔ ۔

عیبا کی بات سن کر اس نے گھورتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

آپ کر رہے ہیں یا نہیں ۔۔؟؟؟؟؟

اس نے چڑ کر کہا تھا۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔ یہ لو۔۔۔

اس نے اپنی آ نکھوں کو بند کیا۔۔۔

عیبا ڈرتے ہوئے اس کے چہرے کی جانب جھکی تھی۔۔ اور ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر موجود ماسک کو ہٹانا چاہا تھا مگر مقابل نے عیبا کے ہاتھ کو تھام اس کی اس کوشش کو نا کام بنایا تھا ۔۔ اور کھینچ کر اسے دیوار کے ساتھ پن کیا جس سے ایک تکلیف سی اس کے بدن میں دوڑی تھی۔۔ ڈر اور تکلیف کے باعث اس نے اپنی آنکھوں کو بند کیا تھا۔

رحمت فریش سی نہا کر نکھری نکھری شیشے کے سامنے کھڑی آنکھوں میں سرمہ ڈال رہی تھی۔۔ ایان کی محبت نے بارہ گھنٹوں میں ہی اسے آسمانوں کی سیر کروائی تھی وہ بے حد خوش تھی۔۔اس کے محرم کی کشش اسے کھینچ لائی تھی۔۔۔

ایان کی محبت کا سوچ ایک بار پھر وہ خود سے ہی شر ما گئ۔۔

اس بات سے انجان کے ایان پیچھے دیوار سے ٹیک لگائے اس کی ایک ایک حرکات کو نوٹ کر رہا ہے۔۔۔

وہ دھیرے سے چلتا ہوا اس تک آیا تھا اور اس کے بالوں میں لگا تولیہ جھٹکے سے اتارا تھا جس سے رحمت کے ریشم بال اس کی پشت پر پھیلے تھے۔۔۔

اس کے گرد بازو حائل کیے اسکے بالوں میں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو خود میں اتارنے لگا۔۔۔اور ایک محبت بھرا لمس اس کی گردن پر چھوڑا تھا ۔۔۔

ایان کی اس حرکت پر رحمت کے ہاتھ میں موجود سرمہ نیچے زمین پر گر کے پھیلا تھا۔۔۔

اس نے مسکرا کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا اور ایک بہت خوبصورت چھوٹی سی باکس سے نتھلی نکال کر رحمت مو پہنے کو دی تھی۔۔۔۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خوبصورت نتھلی اپنی ناک کی زینت بنائی تو وہ بے حد جچ رہی تھی اس کی چھوٹی سی نوز پر۔۔۔۔

ایان نے جھک کر اس کے گالوں پر اپنے پر ہدت لب رکھے تھے۔۔

اور اس کو باہر آنے کا کہے باہر جا چکا تھا۔۔ جبکہ رحمت بھی اپنے تپتے گالوں پر ہاتھ رکھے شال اوڑ کر اس کے پیچھے گئی۔۔۔

یہ کیا کر رہی تھی ؟؟

وہ دبی آواز میں غرا کر بولا تھا۔۔ محبت اپنی جگہ لیکن عیبا کی یہ حرکت اس کو کافی نا گوار گزری تھی۔۔۔

و۔۔وہ ۔۔می۔۔میں چیک کر رہی تھی۔۔ ک۔۔کہیں آ۔۔آپ چیٹنگ تو نہ۔۔نہیں کر رہے۔۔۔

وہ اپنی جان بچانے کو جو من میں آیا کہہ گئی۔۔۔

اس کے اس معصوم سے جھوٹ پر مقابل کو ہنسی آئی تھی جسے وہ مہارت سے چھپا گیا۔۔۔

سچ بتاو۔۔۔

اس کے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹا تھا اس نے۔۔

و۔۔۔وہ آ۔۔آپ ن۔۔نے کبھی چہرا ن۔نہیں دیکھایا۔۔۔ م۔۔میں تو آپ کی بیوی ہوں۔۔۔ م۔۔مجھ سے ک۔کیوں چ۔چھپاتے ہ۔۔ہیں۔۔۔؟؟

اس کی نظروں سے خوفزدہ ہوتی وہ اپنی سوچ بیان کر گئی تھی۔۔۔

او۔۔۔ مطلب میری مسسز مجھے دیکھنا چاہتی ہیں۔۔۔

ایک دلفریب اس کے وجیہ چہرے پر آئی تھی۔۔۔۔۔

سوچ لو ڈر جاو گی!!!!!

وہ اس نے عیبا کو وارن کیا تھا۔۔

کیوں آپ جن ہیں کیا؟؟

وہ بھی دوبدو ہوئی تھی۔۔

عیبا نے زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔۔اپنے لفظوں پہ غور کیے۔۔۔

بی ریڈی جانم۔۔۔۔

کہتے ہی اس نے اپنا ماسک ہٹایا تھا اپنے چہرے سے اور سامنے کھڑے وجود کو دیکھ عیبا کی آنکھیں حیرت سے کھلی تھیں۔۔۔

س۔۔۔سر۔۔۔

سر ازلان۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے کیونکہ سامنے کوئی اور نہیں بلکہ اس کا پروفیسر تھا۔۔۔۔

کیا ہوا جانب جھٹکا لگا کیا؟؟؟

وہ اس کی کھلی آنکھوں کو دیکھتے بولا جن میں حیرت سمائی تھی۔۔۔۔

آ۔۔۔آپ۔۔۔ی۔۔یہ کیسے کر سکتے ہیں۔۔ مطلب آپ کو زرہ شرم نہیں آئی میں آپ کی سٹوڈنٹ ہوں۔۔۔

جو بھی ہو۔۔ مگر اب تو تم میری بیوی ہو۔۔۔

رکو۔۔ ابھی اور بھی کچھ دکھانا ہے تم کو۔۔۔

کہتے ہی ازلان نے اپنے کان کے پیچھے موجود جلد کو آرام سے اتارا تھا۔

اب تو وہ بے ہوش ہونے کے قریب تھی۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ اس نے اپنی دونوں آنکھوں کو مسلا تھا کہ کہیں یہ سپنا تو نہیں۔۔۔۔

تو مسسز کیسا لگا اپنے ہبی ازلان میر سے مل کر۔۔۔

اس کی کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا اسکو۔۔۔

چ۔۔چھوڑیں م۔۔مجھے چیٹر۔۔۔

آ۔۔آپ کے کتنے روپ ہیں۔۔۔۔؟؟

کہیں یہ بھی بہروپیا تو نہیں۔۔۔۔

اس کی گرفت میں مچلتی وہ چٹخ کر بولی تھی۔۔۔

چ۔۔چھوڑیں مجھے میں۔۔۔

وہ جو غصے سے چیخ رہی تھی ازلان کی حرکت نے اس کی بولتی بند کروائی تھی۔۔۔وہ جلدی سے پیچھے ہوئی تھی اس کی ہلکی گرفت پر چہرا لال سرخ ہو رہا تھا۔۔۔یہ اندازا لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ یہ چہرا غصے سے لال ہے یا پھر شرم سے۔۔۔۔۔۔

اب میری بات دھیان سے سنو۔۔۔

اسکو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھایا تھا اس نے۔۔۔

میں کوئی پروفیسر وغیرہ نہیں ہوں۔۔ اپنے ایک فرینڈ کی جگہ یونی میں آیا تھا۔۔ دراصل میرے ایک دوست کو چھٹیوں پر جانا تھآ۔۔ اور مجھے اپنے مشن کی بدولت یونی میں ۔۔۔

تو میں نے موقع گنوانے کے بجائے سبسیٹو کا اوپشن اپنایا۔۔۔۔

چونکہ مشن پر گیا تھا تو روپ بدل کر جانا لازمی تھا کیونکہ میرے میر والے روپ سے تقریباً سب آگاہ ہیں۔۔۔

اور دوسری بات اگر تم پوچھو ہمارے نکاح کی تو۔۔

اس میں تمہاری فیملی کی مرضی بھی شامل تھی۔۔ یہ لگا تھا دوسرا جھٹکا اریبہ کو۔۔۔

منہ بند کر لو ۔۔

اس کے کھلے منہ دیکھ وہ ہنستے ہوئے گویا ہوا۔

تمہاری فیملی میں تقریباً سب شادی شدہ تھے سوائے تمہارے۔۔۔۔

اور اس وجہ سے تمہاری جان کو خطرہ لاحق تھا۔۔جس کا ایک نمونہ تم دیکھ ہی چکی ہو۔۔

سو تمہاری حفاظت کے لئے۔۔ تمہارا نکاح مجھ سے کروایا گیا۔۔

م۔۔مطلب آ۔ ۔آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔۔

ؤہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں لئے بولی تھی۔۔۔

ارے میری جان۔۔

اگر محبت نہ ہوتی تو تم اس وقت یہاں موجود نہیں ہوتیں۔۔

عیبا کو کمر سے کھینچ کر اپنی جانب کیا تھا اس نے۔۔۔

“یہ بات یاد رکھو حقیقی محبت نکاح کے بعد پیدا ہوتی ہے۔”

ویسے ایک راز کی بات بتاؤں۔۔

اس کے کان کے پاس جھک کر کہا تھا اور ہلکی سی بائٹ لی تھی اس نے۔۔۔۔

نکاح کی اوفر تمہارے بھائی کو میں نے ہی دی تھی۔۔۔

آپ نا۔۔۔

بہت وہ ہیں۔۔۔

اس کے سینے پہ نروٹھے پن سے مکا جڑا تھا اس نے۔۔

چلو جانم۔۔۔

اب تیار ہو جاو پھر گھر چلیں گے۔۔۔

سچ؟؟؟

وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی۔۔۔

مچ۔۔۔

اس کے نوز پہ پیار کرتا کھڑا ہوا تھا پھر تھوڑی دیر میں وہ دونوں نواب ہاوس پہنچے تھے۔۔پورے راستے عیبا اس کا دماغ کھاتی آئی تھی اور وہ اس کی پاگلوں والی باتوں پر مسکراتا۔۔

مما۔۔

بابا۔۔

نواب ہاؤس پہنچ کر رحمت روتے ہوئے ان دونوں کے گلے لگی تھی۔سونیا بیگم نے محبت سے اس کو اپنے ساتھ لگایا تھا جبکہ کاشان صاحب نے شروع میں ناراضگی ظاہر کی تھی مگر اس کو روتے دیکھ اس کو سینے کے بھینچا تھا۔۔۔پھوپھو نے بھی دونوں کی نظریں اتاری تھیں۔۔

ہماری بیٹی تو بہت خوبصورت لگ رہی ہے لگتا ایان نے کچھ زیادہ ہی خیال رکھا ہے۔۔۔

رانی بیگم نے محبت سے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرا اور شرارتاً

گویا ہوئیں۔ان کی بات سن وہ بلش کرنے لگی تھی جس پر سب کا مشترکہ قہقہ گونجا تھا۔۔۔

واہ بھئی واہ کیا خوب محفل جمی ہے۔۔۔؟؟؟

ازلان اور عیبا کے ایک ساتھ داخل ہوئے تھے ہال میں ۔۔۔۔

آج ہمارے گھر کی دونوں رحمتیں ایک ساتھ تشریف لائی ہیں۔۔۔ ابرار صاحب نے عیبا کو پیار کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔جبکہ ہانیہ سب سے بے نیاز اپنے موبائل میں مصروف تھی۔۔۔

تم دونوں چڑیلوں کو میں نے بہت مس کیا ۔۔۔۔۔۔

زینب نے دونوں کو اپنے پاس بیٹھا کر کہا تھا۔۔۔۔ایک دائیں جانب دوسری بائیں جانب تھی۔۔۔

ہم نے بھی آپی۔۔اسپیشلی آپ کے ہاتھ کا چاکلیٹ موس۔۔۔

عیبا کے مسکرا کر کہنے پر رحمت نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔

اٹینشن ایوری بڈی۔۔۔

آپ لوگ یہ سوچ رہے ہونگے کہ میں نے آپ سب کو یہاں کیوں اکٹھا کیا ہے۔۔۔!!!!

اوبولزلہی ۔۔۔۔عیبا اور رحمت سے ملوانے کے لئے۔۔۔

زینب نے اپنا دماغ چلاتے ہوئے کہا۔۔۔

نہیں۔۔۔

آپ کو اس خاندان کے غدار ، دھوکے باز ، عیبا کے کیڈنیپر سے ملوانے کے لئے۔۔۔

سنجیدہ چہرے کے ساتھ گویا ہوا تھا وہ ۔۔۔

سب گھر والوں نے نا سمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔

سب اپنی جگہ بیٹھے ساکت ہوئے جبکہ ہانیہ کے چہرے کا رنگ اڑا تھا جیسے ہی ایان نے لیپ ٹاپ پر وڈیو چلائی تھی۔۔۔جس میں وہ متہاہ اور امبرین کو عیبا کے کیڈنیپ کرنے کی پلاننگ بتا رہی تھی۔۔۔

سب نے ہانیہ کو دیکھا تھا جو کہ خود حیرت سے سامنے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

ارے رکیے ایک اور چیز ہے ۔۔کہتے ایان نے وہ ریکوڈنگ چلائی تھی جس میں وہ رحمت کو طلاق دینے کی شرط رکھ رہی تھی عیبا کی آزادی کے عوز۔۔۔

کیا ہوا ہانیہ بی بی۔۔

چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہے؟؟

ایان نے طنز کیا تھا اس پہ۔۔۔

ی۔۔یہ۔۔۔س۔۔سب۔۔۔

شاک میں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آر ہا تھا کہ کیا کہے۔۔۔

چٹاخ۔۔۔۔

پھوپھو کے ہاتھ سے پڑنے والے زور دار تھپڑ نے اس کے حواس سلب کیے تھے۔۔۔۔

ایسی تربیت تو نہ کی تھی تمہاری میں نے جو تم یہ سب کرتی پھر رہی ہو۔۔۔ کیا ملنا تھا تمہیں اس کی طلاق کروا کر۔۔۔

محبت کرنے والوں کے بیچ طلاق کروانا گناہ ہے سنا تم نے گناہ۔۔۔

میں محبت کرتی ہوں ایان سے۔۔۔جبکہ وہ اس رحمت سے۔۔۔۔۔

کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے۔۔ لوگ کیا کیا نہیں کرتے اپنی محبتوں کو پانے کے لئے ۔میں نے بھی کیا۔۔۔

بدتمیز۔۔۔۔

تم جیسی اولاد ہونے سے بہتر ہے وہ مر جائے۔۔تف ہے تم پر۔

ابھی اسی وقت دفع ہو جاو یہاں سے۔۔۔پھوپھو نے دھکا دیا تھا اس کو وہ روتے ہوئے وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔۔

پھوپھو پیچھے اس کی وجہ سے اپنے بھائیوں میں شرمندہ ہوئی تھیں۔۔۔

وہ اس وقت سمندر کی اونچی چوٹی پر موجود تھی۔وہاں کی موجوں نے ایک الگ حشر برپا کیا تھا۔۔۔ دوپہر کی ویرانی کے باعث بہت کم لوگوں کی چہل پہل تھی ۔۔

تم جیسی اولاد ہونے سے بہتر ہے وہ مر جائے۔۔تف ہے تم پر۔

تم جیسی اولاد ہونے سے بہتر ہے وہ مر جائے۔۔تف ہے تم پر۔

اپنی ماں کے کہے گئے الفاظ بار بار اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے۔۔۔آنسوں اس کی آنکھوں سے لڑیوں کی مانند بہہ رہے تھے۔۔سب اس سے منہ موڑ چکے تھے اس کی خطا کے باعث۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر پانی کو دیکھا تھی پھر آنکھوں کو زور سے میچ کر سمندر میں چھلانگ لگائی تھی

شرررررر۔۔۔۔۔کی آواز پورے ایریا میں پھیلی تھی۔۔۔۔

نیوی آفیسرز کی ٹریننگ کا شپ وہاں سے گزر رہا تھا ۔۔۔ کیپٹن کی نظر سمندر میں گرتی لڑکی پہ گئی تھی۔۔۔

او شٹ۔۔۔۔اس کے پیچھے کیپٹن نے بھی چھلانگ لگائی تھی۔۔۔۔

اور جلدی سے تیرتا اس وجود تک پہنچا تھا جو خود کی جان لینے پر تلی تھی۔۔۔

کیپٹن اسے لئے کنارے تک آیا اتنے دیر میں ان کی ٹیم بھی وہاں پہنچ چکی تھی۔۔۔اس کے کچھ جونیر دانت نکال رہے تھے کہ اس کے گھورنے پہ سنجیدہ ہوئے تھے۔۔۔۔

کیپٹن جلدی سے اسے فرسٹ ایڈ دے کر موت سے زندگی کی طرف لائے تھے۔۔۔۔

ایان اور میر ان دونوں کو گھر چھوڑ نکل چکے تھے اپنے آخری مشن پر جو کہ موسٹ آف دی امپورٹنٹ تھا۔۔یعنی کنگ کا خاتما۔۔۔

اس کے تمام اڈوں کو تباہ کرنے کے بعد ۔۔۔وہ اب اپنے گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔۔اس آخری مشن میں ان کی مدد متہاہ نے کی تھی۔۔وہ سلنڈر کرنا چاہتا تھا۔اسلئے۔اسی نے نا صرف کنگ کے خلاف ثبوت بھی دیے بلکہ اس کے خفیہ اڈوں کا بھی پتہ بتایا۔۔۔جو کہ ان کے لئے بہت کار آمدد ثابت ہوئے۔۔۔ پولیس ان کو اپنی ہراسات میں لے چکی تھی۔۔

کل تین بجے عدالت میں ان کی پیشی ہے۔۔۔۔جس میں حکومت اپنا فیصلہ سنائے گی۔۔

ہانیہ نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو کسی انجان جگہ پہ پایا سب سے پہلے تو خود کو ہاتھ لگا کر زندہ ہونے کا یقین کیا تھا اسنے۔۔۔

وہ آرام سے چلتی ہوئی باہر آئی تو ہر طرف صبح کی روشنی پھیل چکی تھی۔۔آفیسرز اپنی ٹریننگ کر رہے تھے جبکہ درخت کے پاس کھڑا وہ شخص انہیں لیڈ کر رہا تھا۔۔۔۔

کیا آپ بتا سکتے ہیں یہ جگہ کون سی ہے؟؟

وہ اپنے کھلے بالوں کو سمیٹتے بولی جو بات کے دوران اس کے منہ پر آ رہے تھے۔۔۔

شکر۔۔

تمہیں ہوش آ گیا۔۔۔وہ نوجوان اسے دیکھتے بولا تھا۔

ک۔کیا مطلب۔۔۔؟؟

وہ نا سمجھی سے بولی۔۔

آپ سمندر میں گر گئی تھیں ۔۔۔میں نے آپ کی جان بچائی۔۔۔

وہ فخر سے سئینہ چوڑا کیے مخاطب ہوا۔۔۔

کیوں بچایا؟؟؟

کل ہوئی روادار پھر اس کے گرد گھومنے لگی تھی۔۔۔۔جسے سوچ کر اسے رونے کا جی چاہا۔

ہیں۔۔!!!

اب حیران ہونے کی باری مقابل کی تھی۔۔۔۔

ہانیہ نے ایک نظر اس وجیہ نور شخص کو دیکھا اور تمام بات ا سے ی تک اس کے اس کے گوشوار گزار دی۔۔۔۔

اس کی بات سن کر اس نے حیرت اور افسوس سے ہانیہ کو دیکھا تھا جو شکل سے بے حد معصوم نظر آتی تھی ۔۔۔

عدالت کے حکم کے مطابق کنگ کو تین بار پھانسی اور متہاہ کو دو لاکھ جرمانہ اور سات سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔۔۔ اس کے سلنڈر اور پولیس کی مدد کرنے کے باعث سزا میں کمی کی گئی تھی۔۔۔ایان اؤر میر بے حد خوش تھے ان کے تمام مشن پورے ہوئے تھے۔۔۔مشن میں کامیابی کی بدولت ایان ، نور اور میر تینوں کا پروموشن کر دیا گیا ۔۔۔

کچھ سالوں بعد۔۔۔۔۔۔

ادر آو میں تمیں توئی لدواوں۔۔۔تم بمار او۔۔۔

(ادھر آو میں تمہیں سوئی لگاوں تم بیمار ہو)

نی میں بمار نی اووو۔۔۔

(نہیں میں بیمار نہیں ہوں)

پانچ سالہ نجف حذیفہ کا ڈاکٹر کوٹ پہنے چھوٹے رحمان کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔۔

زینب چھپکے سے ان کی ویڈیو بنا رہی تھی۔۔

آپ نے بڑے ہو کر کیا بننا ہے نجف۔۔؟؟؟

زینب نے نجف سے سوال کیا جس کا جواب سیکنڈ میں آیا تھا۔۔۔

داتر حدیفہ۔۔۔۔

(ڈاکٹر حذیفہ)

ہاہاہاہا۔۔۔۔حذیفہ آپ ہی کی نکلیں اتار رہا ہے یہ صاحب زادہ۔۔۔۔

زینب نے کب سے روکا ہوا قہقہ ابھی نکالا تھا۔۔۔

آہہہ ۔۔ میرا بیٹا ڈاکٹر بنے گا۔ چیمپ۔بالکل پاپا کی طرح۔۔۔

اس نے نجف کو گود میں لیا تھا جبکہ اس کو دیکھے رحمان رونے لگا تھا۔۔۔۔

او۔۔۔تم گولو مولو آنی کے پاس آو۔۔۔ مما پاس جانا ہے۔۔۔؟؟؟

اسے گالوں کو چٹا چٹ چومتے بولی تھی وہ۔۔۔۔

اور رحمت کے پاس چھوڑ کر روم میں آئی تھی تیار ہونے کیونکہ آج انہیں روحان اور مسکان کے نکاح میں جانا تھا۔۔

—————–

رحمت اور زینب نے اس وقت لیلن کی بلیک امرائڈی ساڑی ویر کی تھی۔۔۔ان کی گوری رنگت پہ وہ بہت جچ رہی تھی۔۔۔ہلکا سا کیا گیا پارٹی میکپ ان دونوں دلفریب بنا رہا تھا۔۔۔

ایان اور حذیفہ ان دونوں کو دیکھتے ہی محبوت سے ہو گئے تھے۔۔ وہ بچے ان کو تھمائے خود فنکشن انجوائے کر رہی تھیں اور ساتھ میں عیبا میڈم کا انتظار جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔

بالآخر ان کا انتظار ختم ہوا وہ گولڈن رنگ کے لہنگے میں ملبوس کسی اپسرا کی مانند اپنے شہزادے کے ساتھ داخل ہوئی تھی۔۔۔اور سب کی نگاہوں کا مرکز بنی۔۔۔۔

واو عیبا کتنی پیاری لگ رہی ہو ؟؟

زینب نے پیار اس کے گالوں پر بوسہ لیا تھا۔۔

اوئے ۔۔۔ میں ہوں۔۔ جیجا نہیں ۔۔جو تو ایسے شرما رہی ہے۔۔۔

اس کے شرمانے پر رحمت نے تنگ کیا تھا اس کو۔۔۔

روحان تو سب سے لا پرواہ بنا اپنی شریکِ حیات کو ہی دیکھ رہا تھا جب وہ اس کی نظروں سے پزل ہو رہی تھی ۔

کیا ہے روحان سامنے دیکھو۔۔

کیوں۔۔ میں تو اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں۔۔ تمہیں کوئی پروبلم۔۔۔

گھر جا کے جی بھر کے دیکھ لینا مگر ابھی تم سامنے دیکھو۔۔ کیونکہ اب یہیں دیکھ رہے ہیں۔۔سب کہیں گے کتنا ٹھرکی دولہا ہے۔۔۔

تو کوئی بات نہیں۔۔۔

بھاڑ میں جاو۔۔۔

وہ بھڑک کے بولی تھی۔۔۔

نہیں۔ فلوقت بانہوں میں جانے کا ارادہ ہے۔۔

وہ آنکھ مار کے بولتا اس کے گرد بازو حائل کر گیا جب وہ سٹپٹائی تھی۔۔۔

ہانیہ کو اپنے شوہر ارسل کے ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ وہ ایک دم سیدھا ہوا تھا۔۔۔

بھائی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔

محبت سے کہتے اس نے تحفہ ان کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔

ہانیہ کی شادی پچھلے سال ہی کیپٹن ارسل ہو گئی تھی۔۔

بے شک اس نے غلط راہ کا انتخاب کیا تھا۔۔ایک غیر محرم کی چاہت میں غلط کام کر گزری تھی۔۔اور محبت نہ ملنے پر رسوائی ہونے پر خود کشی کرنا چاہا لیکن اس کو بچانے کے لئے خدا کی طرف سے ارسل پہنچ چکا تھا۔۔۔ کیونکہ اللہ اسے ہدایت دینا چاہتے تھے۔۔۔۔

یہ حقیقت ہے غیر محرم کی محبت رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں دیتی۔۔۔بہت سی زندگیاں تباہ اور برباد ہو جایا کرتی ہیں۔۔

اسی محبت کی وجہ سے بہت سے کوگ حرام موت، حرام راستہ اپناتے ہیں۔۔ اور ہر کسی کو بچانے کے لئے ارسل جیسا شخص موجود نہیں ہوتا۔۔۔۔

ہانیہ نے مسکرا کر ارسل کی جانب دیکھا تھا جو اس کو بانہوں کے حسار میں لیتا اسٹیج سے اتر چکا تھا۔۔

—————————-

کیا سوچ رہی ہو پرنسس۔۔

رحمت کو سوچوں کے سمندر میں ڈوبا دیکھ ایان نے کہا ۔۔۔

سوچ رہی ہوں۔۔ قسمت کتنی مہربان ہے مجھ پر۔۔۔ جس نے آپ جیسا محبت کرنے والا شوہر میری قسمت میں لکھا ۔۔ ایک خوبصورت چاند سا بیٹا مجھے عنایت کیا ہے۔۔۔حالانکہ میں اس سب کے لائق نہیں تھی۔۔۔

رحمان کے چہرے پر پیار کرتے بولی تھی وہ۔۔۔

پرنسس۔۔

تم جانتی ہو تمہیں بچپن سے میں پرنسس کیوں بلاتا ہوں؟

ناسمجھی سے دیکھا تھا اس نے ایان کی بات پر۔۔

کیونکہ پرنسس کے پاس دنیا کی ہر چیز موجود ہوتی ہے۔۔۔

اور میں نے سوچا تھا جب تم ہمیشہ کے لئے میرے پاس آو گی۔۔

تو میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔۔۔

ہاں۔ مانا کہ تم تھوڑی بدھک گئی تھی۔

مگر اب تو لوٹ چکی ہو۔۔۔۔

اس کو کمر سے تھامے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔۔ایان نے ماتھے پر پیار کیا تھا اس کو۔۔۔

وہ بھی خاموشی سے اپنا سر ایان کے سینے پر ٹکائے نیند کی آغوش میں جا چکی تھی ۔۔۔

—————-

ازلان یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟؟

اس نے جیسے ہی عیبا کو اپنی بانہوں نے اٹھایا تھا وہ گھبرا گئی تھی اچانک اس آفات پر۔۔۔

ہماری شادی نا تھوڑی عجیب اسٹائل میں ہوئی تھی تو میں نے سوچا کیوں نہ آج ہم اس دن یادگار بنائیں۔۔۔۔میری وش تھی جو بھی میری دلہن ہو گی نا اس کو میں ایسے ہی اٹھا کر روم میں لے کر جاوں۔۔۔

اس نے آنکھ مارتے ہوئے عیبا کو کہا ۔۔۔

اور لا کر بیڈ پر بیٹھایا تھا اس کو۔۔۔

عیبا اس کی آنکھوں میں اٹھتے محبت کے شور کو دیکھ آنکھیں جھکا گئی تھی۔۔۔

اوئے ہوئے۔۔۔ شرما گئیں کیا؟؟؟

اس نے اس کو کسی نازک متاع کی طرح خود کی جانب کھینچا تھا۔۔۔

ایم بلیسڈ ود آ ون بیوٹی فل وائف۔۔

اس نے خمار آلود آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔اور خوبصورت سی چین اس کے گلے کی زینت بنایا۔۔۔۔

اس کے محبت سے بھری آواز اور گرم سانسیں اپنے کان کی لو اور گردن پر محسوس کیے وہ خود میں سمٹی تھی۔۔۔۔

تمہاری اس قدر اے خوبصورت یار آنکھیں ہیں

بھری دنیا میں ایسی تو فقط دو چار آنکھیں ہیں

اُلجھ کر اِن سے پھر بچنا نہیں ممکن کسی کا بھی

اگر ناگن ہیں زلفیں تو تری تلوار آنکھیں ہیں…

A ❤️ A

سرگوشی میں کہتا اس کی سانسوں اور محبت کو خود میں قید کر گیا

۔۔آج دو دل دو جان ایک دوسری کی محبت میں گم ہوئے تھے۔۔تقدیر دو محرموں کو آپس میں ملایا تھا۔۔۔💞

سمندر کی اٹھتی موجیں ، فضا میں رقص کرتی ہوائیں بے حد خوش تھیں۔۔۔۔

بے شک مرد و عورت دونوں کو چاہیے اپنے دامن کو اپنے محرم کے لئے بچا کر رکھیں۔۔۔کیونکہ حقیقی خوشی اور سکون صرف محرم کی چاہت اور اس کی محبت ہی دیتی ہے۔۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔۔✅