Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 10)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 10)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
وہ اسے کھینچتا ہوا اندر لایا اور لاکر صوفے پر پٹخا۔۔
منع کیا تھا نا ۔۔۔مت جانا اس راسکل کے ساتھ پھر کس سے پوچھ کر نکلی تھی ۔۔۔بولو۔۔!!
وہ پوری شدت سے چیخا تھا۔آنکھیں غصّے اور جنون کے باعث لال انگارا ہورہی تھیں۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر دے۔اور اس کا غصہ سامنے ٹیبل پر رکھے پھولوں کے گلدان پر نکل چکا تھا جسے وہ پوری شدت کے ساتھ زمین پر پٹخ کر چکنا چور کر چکا تھا۔جب کہ سامنے بیٹھی رحمت نے خوف سے اپنی آنکھیں بھینچی تھیں۔۔
تم نے ہمارے خاندان کی عزت مٹی میں ملانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی
۔دیکھ لیا تھا نا اپنی وہ سو کولڈ محبت کا نتیجہ ۔۔
سسی۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہوئے بولا کہ یکدم اس کی سسکی نکلی اور آنکھیں جو پہلے ہی اشق بار تھیں ان سے درد کی شدت سے مزید آنسوں بہہ کر بے مول ہونے لگے۔۔
میرے منع کرنے کے باوجود تم اس کے ساتھ گئیں تم نے اپنی مرضی کی
۔ اب جو میں کروں گا وہ میری مرضی ہو گی۔۔جو تمہیں تمام عمر یاد رہے گی۔بہت جی لی تم نے اپنی زندگی بہت آزادیاں منالیں۔۔اب سے تم یہیں رہو گی۔۔سب سے دور اس ویرانے میں تاکہ تمہاری عقل جو کہ کھو چکی ہے لوٹ آئے۔۔وہ اس کا اس کا چہرا اپنے چہرے کے مزید قریب کرتے ہوئے بولا ۔۔
جب کہ ایان کے اس جنونی اور غصے بھرے انداز سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسنی سی دوڑی ۔۔
مسکان کدھر ہو ؟؟
کب سے انتظار کر رہا ہوں تمہارا……
وہ بیزار سی حالت میں حقیقتاً کھیجتے ہوئے بولا۔۔
ہاں رضا بس آ گئی۔۔۔
اتنا لیٹ۔۔۔۔!!!!!!وہ حیرانی کے عنصر میں بولا۔۔۔۔
دادو کو دوائی دینی تھی۔۔۔سوری۔۔۔
شہادت کی انگلی سے ہلکا سا کان دبائے بولی۔۔۔
اب چلو بھی۔۔۔وہ اس کی ادا پر ہنستا اس کا ہاتھ پکڑے گاڑی کی جانب بڑا۔۔۔
واہ۔۔۔رضا یہ تمہاری گاڑی ہے؟؟؟
وہ حسرت سے اس کی بلیک کار کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
نہیں۔!!!
یہ ہماری گاڑی ہے۔۔۔۔محبت سے کہتے ہوئے اسے گاڑی میں بیٹھا چکا تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی ہواؤں سے باتیں کرتی ساحلِ سمندر کے پاس آ کر رکی۔۔۔
اف۔۔۔کیا خوبصورت نظارہ ہے۔۔۔!!!!!
وہ ستائشی نظروں سے دیکھ کر بولی۔۔
اور میرے ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کر پاتی رضا نے اسے پانی میں دھکا دیا۔۔۔
آہہہہ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگلی انسان یہ کیا کیا؟؟؟
وہ لہروں سے بچنے کے لئے خود کو ڈھیلا کر کے بولی۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔مسکان کتنی فنی لگ رہی ہو رکو تمہاری وڈیو بناتا ہوں۔۔۔
وہ با مشکل اپنا قہقہ روکے جیب سے موبائل نکال کر اس کی وڈیو بنانے لگا۔۔۔
رضا تم پٹو گے مجھ سے۔۔۔وہ وارن کرتی ہوئی۔۔۔اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
ادھر آو تمہیں بتاتی ہوں میں وہ بھاگتے ہوئے اس تک گئی اور اس کا ہاتھ تھامے پانی میں لے جانے لگی۔۔۔
وہ دونوں پانی کی اٹھتی لہروں میں ایک دوسرے پر پانی ہاتھوں سے اچھالتے ، بچوں کی طرح کھیل رہے تھے۔۔۔
آو۔۔۔۔مسکان سیلفی لیتے ہیں۔۔جب وہ دونوں تھک ہار کر بیٹھ چکے تھے تو رضا نے اپنا موبائل ریت سے پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
چلو یہاں پر لیتے ہیں ۔۔۔یہ جگہ مست ہے۔۔۔
وہ اس کو لئے کونے پر آتے ہوئے بولا۔۔۔ڈھلتے سورج کے شاندار موسم کے تلے وہ دونوں بہت سی تصاویر موبائل کے کیمرے میں قید کر رہے تھے۔۔۔
اس بات سے انجان کے یہ تصویریں کس کی بربادی کا سبب بنتی ہیں۔۔۔؟؟؟؟
مسکان کی یا پھر رضا کی۔۔!!!!!!!
حذیفہ باہر کے تمام معاملات صحیح کیے کمرے میں داخل ہوا تو اپنی جانِ حیات کو اداس نگری بنے روتے پایا ۔۔
وہ ہوا میں لمبا سانس خارج کرتا اس تک آیا اور تکیہ سیٹ کیے وہیں بیٹھ گیا۔
رو کیوں رہی ہو؟؟؟
اس کا ہاتھ محبت سے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔۔
ان سب کی ہمت کیسے ہوئی میری رحمت کے بارے میں ایسا کہنے کی۔۔۔؟؟؟؟
مجھے پورا یقین ہے اپنی بہن پر وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
وہ ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے بولی۔۔۔۔
میری جانِ حیات تم بالکل فکر نہ کرو۔ ۔۔ہماری رحمت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ایان کے پاس ہے۔۔۔
وہ ہلکا سا اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے بولا جس سے اسکا سر حذیفہ کی گود میں گرا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔سچی۔۔!!!!!
وہ دوبارا کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔۔
جی۔۔۔ہاں۔۔۔!!!!!
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔۔اور زینب کا ہاتھ پکڑ کے اس کو اپنے قریب کیا ۔۔۔
جانتی ہو۔۔۔آج کا دن میرے لئے بہت خاص ہے۔۔
آج تم ہمیشہ کے لئے میری دسترس میں داخل ہو چکی ہو۔۔۔میں چاہتا ہوں ہم میاں بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی رہیں۔۔۔اپنا ہر دکھ ،غم ،خوشی محبت ایک دوسرے سے بانٹیں۔۔۔
باتوں ہی باتوں میں ایک خوبصورت سا بریسلٹ اس کے ہاتھوں میں پہنا چکا تھا ۔۔
میں غالب و فراز نہیں جو بیان کروں لفظوں میں،
کہاں الفاظ کا وزن ، اور کہاں میرے یار کا حسن۔۔۔۔۔۔۔
وہ محبت پاش نظروں سے اس کے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے مدہوش کی آواز میں گنگنایا تھا۔۔۔اس کی لو دیتی نظریں اور مدہوش لہجے میں زینب کو پلکوں کے جھالڑوں کو جھکانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
ہزار بار مرنا چاہا نگاہوں میں ڈوب کر ہم نے فراز۔۔۔،
وہ نگاہیں جھکا لیتی ہے، ہمیں مرنے نہیں دیتی۔۔۔
اس کی پلکیں جھکانے کی ادا پر مسکرا کر شعر پڑھتا اپنی محبت اس پر نچھاور کرنے لگا تھا۔۔۔۔جس پر اس کی ننی سی جان کانپ سی گئی تھی۔۔۔
بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند اور قدرت کے اس حسین نظاروں نے بھی ان کی نظر اتاری تھی۔۔۔۔
ایان گھر سے نکل کر سیدھا میر کے پاس پہنچا ۔جہاں اس کی اگلی خبر سنتے ہی اس کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا تھا۔۔۔
جتنی بھی لڑکیاں تھیں سب کو ان کی فیملیز میں باحفاظت پہنچا چکے ہیں۔۔۔
جب وہ ۔۔۔۔وہاں سے بچ کر نکل چکا تھا۔۔۔
شٹ۔۔۔۔وہ ہاتھ کا مکا بنائے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارتے ہوئے بولا۔۔۔
باقی کے سارے دھندے اسی کے انڈر میں ہیں۔۔اب کے جو اٹیک ہوا ہے اس پر وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔۔۔ہمارے پاس بہت کم وقت ہے اس مشن کو مکمل کرنا ہے جلد از جلد۔۔۔
وقت تیز رفتار سے گزر رہا تھا ۔رحمت کو اس گھر میں رہے پورے ایک ہفتے کا وقت بیت چکا تھا۔۔ایان بھی اس کو کام کی وجہ سے مکمل طور پر فراموش کر چکا تھا۔۔
ہر کوئی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو چکا تھا۔۔۔نواب مینشن میں بھی سب اپنے معمول میں آ چکے تھے کیونکہ ایان انہیں فون پر رحمت کی اپنے پاس ہونے کی اطلاع دے چکا تھا۔۔جسے سن کر وہ کافی پر سکون ہو چکے تھے۔۔۔
رحمت کے جانے کے بعد عیبا نے بھی دوبارا یونی جوائن کی تھی۔۔۔اکیلے آنے کا اس کا بالکل دل نہیں چاہتا تھا لیکن وہ صرف حذیفہ کے سمجھانے پر آئی تھی۔۔۔۔
آج بھی وہ اداس تنہاہ سی کتاب کھولے بیٹھی تھی کہ ایک نسوانی آواز سن کر ہوش میں آئی۔۔۔
ہیلو!! ڈریمی گرل۔۔۔
پینٹ شرٹ میں وائٹ کوٹ پہنے ایک لڑکی اس کے ساتھ بینچ میں آکر بیٹھی۔۔۔۔
آر یو آلون۔۔۔؟؟؟
اس نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
عیبا نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور واپس اپنے آپ کو کتاب میں مشغول کر لیا۔۔۔
کیا ہم دوست بن سکتے ہیں؟؟
وہ اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے بولی تھی۔۔۔
میں دوست نہیں بناتی۔۔۔۔۔
وہ آرام سے جواب دیے اپنی جگہ سے اٹھ کر جانے لگی تھی۔۔۔
او ۔۔۔۔۔ایٹیٹیوڈ۔۔۔۔!!!!
امبرین نے اپنے ہونٹوں کو گول شکل دیتے ہوئے کہا۔۔
