Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 11)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 11)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
ایان تھک ہار کر گھر میں داخل ہوا تو کیچن میں سے آتی کھٹ پٹ کی آوازوں سے اندر کی جانب گیا۔۔۔
جہاں رحمت اس ہی کی کالی رنگ کی شلوار قمیص زیب تن کیے قیامت برپا کر رہی تھی۔۔۔بالوں کا میسی جوڑا بنائے جن میں سے کچھ آوارہ زلفیں نکل کر اس کے چہرے پر بھکر رہی تھیں جنہیں وہ ہاتھوں کی مدد سے پیچھے کرتی اور وہ واپس سرک کر چہرے پر آ جاتی تھیں۔۔۔
میرا سوٹ کس خوشی میں پہنا ہے تم نے؟
اپنے پیچھے سے ایان کی روبداد آواز سن کر وہ جھٹکے سے مڑی تھی۔۔
جہاں وہ سنجیدہ چہرہ لیے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
و۔۔وہ۔۔۔۔م۔۔میرے پ۔پاس ۔۔ک۔ کوئی سوٹ نہیں تھا۔۔۔۔ت۔۔تو۔۔۔۔
اس کے بے تاثر چہرے کو دیکھ اٹک اٹک کر کہا۔۔
ایک نظر اسے دیکھ بنا کچھ کہہ وہ کمرے میں جا چکا تھا ۔۔۔
اس کے جانے کے بعد کافی محنت سے بنائے گئے اپنے سینڈوچ کو لے کر وہ وہیں قریب ٹیبل پر رکھ کر کھانے لگی تھی۔۔
بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہے
دل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہے
مدت ہوئی دل تاراج ہوئے مدت ہوئی رشتوں کو ٹوٹے
دنیا ہے کہ ظالم آج بھی وہ رنگین فسانے مانگے ہے
دل ہے کہ وہ ہے مرجھایا سا ہر آس کا چہرہ ہے اترا
ہر دوست مرا پھر بھی مجھ سے خوشیوں کے زمانے مانگے ہے
حالات نے آنسو بخشے ہیں تقدیر میں رونا لکّھا ہے
اور وقت نہ جانے کیوں مجھ سے ہونٹوں پہ ترانے مانگے ہے
عقل اور خِرد دونوں مجھ کو دیتی ہیں دعائیں جینے کی
احساس مرا مجھ سے لیکن مرنے کے بہانے مانگے ہے
بستی کیسی محفل کیسی ، کیسے کُوچے کیسے بازار
دنیا سے جہاں چھپ کر رولے دل ایسے ٹھکانے مانگے ہے
ہر چاہ کا بدلہ چاہت ہو ہر پیار کا پیارا ہو انجام
کچھ سوچ ذرا تو دنیا سے کیا چیز دوانے مانگے ہے
(قادر صدیقی)
کل رات حذیفہ نے زینب سے وعدہ کیا تھا وہ اسے ڈینر پر لے کر جائے گا لیکن ہسپتال سے ایمرجنسی کیس کی کال آنے کی وجہ سے اسے ارادہ ملتوی کرنا پڑا ۔۔۔
آج وہ تھکا ہارا نائٹ ڈیوٹی ادا کر کے گھر لوٹا تو سب سے پہلی نظر اپنی جانِ حیات پر گئی جو آس پاس سے لاپروا سی شیلف صاف کر کے کتابین ترتیب سے رکھ رہی تھی۔۔
زینب نے آہٹ کی آواز پر پیچھے کی جانب دیکھا جہاں حذیفہ کھڑا محبت پاش نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ کتابیں ایک طرف رکھتی اس تک آئی سلام کرنے کے بعد اس کے ہاتھ میں موجود کوٹ
لے کر ہینگ کرنے لگی تھی۔۔حذیفہ اپنی جان کے خفا خفا سے چہرے کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر ناراضگی صاف ظاہر تھی۔۔
کچھ خفا خفا سے دکھتے ہیں سرکار ہمارے۔۔۔۔
اس کو دیکھ گنگناتے ہوئے بولا۔۔۔
ناراض ہو؟؟
اس کے دودھیا ہاتھ تھام کر بولا جن پر بیبی پنک کلر کی نیل پینٹ لگی تھی۔۔۔
نہیں تو۔۔۔۔
وہ سامنے ٹیبل پر نظریں جمائے بولی تھی۔۔۔
پھر یہ نظریں کیوں چرا رہی ہو؟
میری طرف دیکھ کر بولو۔۔۔۔
اس کا چہرا محبت سے اپنی جانب کرتے ہوئے بولا۔۔اس نے حذیفہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو کہ رات جاگنے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
دیکھو زینو۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے تم غصہ ہو گی مجھ سے پر میری بھی مجبوری تھی۔۔۔
میں ایک ڈاکٹر ہوں۔۔۔ڈاکٹر مسیحا ہوتا ہے۔۔اگر میں نہ جاتا تو شائد اس شخص کی جان چلی جاتی۔۔ہم نے ہلف اٹھایا ہے ۔ہمیں اس زمہ داری کو پورا کرنا ہوتا ہے۔۔۔
اور پکا والا وعدہ ہم آج شام میں چلیں گے۔۔۔وہ اس کا چہرا محبت سے اپنے ہاتھ میں بھر کر پیار والی گستاخی کر کے بولا جس سے زینب کا چہرا لال اناری ہوا تھا۔۔۔
جب کہ اس کے چہرے پر پھیلے حیا کے رنگوں کو دیکھ مسکراتے ہوئے وہ فریش ہونے چلے گیا۔۔۔
مس نور ریپورٹنگ سر
وہ لڑکی سر پر حجاب لیے جینس شرٹ پر بلیک جیکٹ ویر کیے سامنے بیٹھے آفیسر کو سلوٹ کرتے ہوئے بولی۔۔
مس نور آپ کا مشن کیسا جا رہا ہے؟
آفس کی آرام دہ کرسی پر بیٹھے اس شخص نے کہا۔۔
سر پرفیکٹ۔۔۔ہم انقریب ان تک پہنچ جائیں گے۔۔
ہممم گڈ۔۔۔۔
کوئی مسئلہ یا پریشانی ہو تو آپ جانتی ہیں نا آپ نے کیا کرنا ہے؟؟
یس سر آئے نو۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔
اوکے گڈ باقی آپ ہمیں اپڈیٹ کرتی رہیے گا کیونکہ آگے جا کر ہمارا مشن کمبائن ہونا ہے۔۔
یس سر۔۔۔!!!!!
رضا تم اپنی موم کو لے کر کب آو گے؟
یہاں دادو میرے پیچھے پڑی ہیں شادی کر لو ۔۔۔شادی کر لو۔۔۔
اگر تم رشتہ لے کر نہ آئے نا تو میں نے پکا کسی اور کی ہو جانا ہے۔۔۔
وہ الجھے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔
ڈارلنگ فکر نہ کرو۔۔میں موم کو منا رہا ہوں بس اس ویک تک آ جائیں گے مگر تم پلیز کسی اور کی ہونے والی بات نہ کیا کرو۔۔
وہ تنبیہہ کرنے والے لہجے میں بولا ۔۔
میں کون سا کسی اور کی ہونا چاہتی ہوں۔۔
تمہاری یہ لا پرواہی مجھے ایسا کہنے پر مجبور کرتی ہے ۔۔
اچھا یہ بتاو آ رہی ہو؟؟
کہاں ؟؟؟
جہاں ہم ہمیشہ ملتے ہیں ۔۔۔۔
اف۔۔۔!! رضا ہم کب تک یونہی چھپ چھپ کر ملتے رہیں گے؟
وہ اداسی سے بھرپور لہجے ہیں بولی تھی۔۔
جان آج چھپ کر ملنے کی ہماری آخری ملاقات ہو گی۔۔۔
مسکان کو اس کا لہجہ کافی عجیب لگا لیکن وہ نظر انداز کر گئی۔
ایان کام فائنل کرنے کے بعد کیچن میں کچھ کھانے کی نیت سے آیا تو کھالی برتن اس کو منہ چڑا رہے تھے۔۔۔اور سونے پر سوہگا کیچن میں موجود گندے برتن اس کا دماغ گھوما گئے۔۔مطلب مجال ہے یہ لڑکی کوئی کام ہی کر لے ۔۔۔
اس سے بعد میں نمٹنے کا سوچ سب سے پہلے اس نے اپنے لئے کنور سوپ بنایا اور ساتھ میں ایگ بوائل کیا ۔۔جسے وہ کھا کر اپنی بھوک مٹا سکے۔۔
رحمت !!!!
وہ کمرے میں آیا تو بیڈ پر بیٹھی رحمت کو دیکھ اسکو پکارتے ہوئے بولا۔
اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
میری ایک بات تم کان کھول کر سن لو۔۔۔تم جانتی ہو گندگی مجھے بالکل پسند نہیں ہے ہر کام مجھے بالکل پروپر چاہیے ہوتا ہے۔۔۔
یونی تو تم نے اب ویسے بھی نہیں جانا۔۔۔
وہ تلخی سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔
تو کل سے گھر کی تمام زمداریاں تمہاری ہیں۔۔مثلًا ، کھانا ،صفائی ، برتن، کپڑے سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب تم سنبھالو گی ایک سکھڑ بیوی کی طرح۔۔۔
گوٹ اٹ۔۔۔۔!!!!!!
پر مجھے کھانا بنانا نہیں آتا۔۔۔
وہ دھیمی سی آواز میں احتجاجاً بولی تھی۔۔۔
اس نے تو سوچا تھا ایسا کہنے سے کھانا بنانے سے وہ دستبردار ہو جائے گی مگر اس کی اگلی بات سن کر اس کی خوشی کہیں دور جا سوئی تھی۔۔۔
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔کوکنگ بک رکھی ہے اسٹڈی میں ماشاللہ سے تھوڑی بہت پڑھی لکھی ہو۔۔۔وہاں سے دیکھ کر بناو۔۔
اور صفائی کپڑے دھونے وغیرہ مشکل کام نہیں۔۔۔
اس کو حیرتوں کے سمندر میں چھوڑتا خود بستر پر دراز ہو چکا تھا۔۔
پیو گی؟؟
کنگ اپنے سامنے بیٹھی اس نو عمر دوشیزہ سے مخاطب ہوا جو آتشی رنگ کی لانگ چست میکسی میں ملبوس تھی۔۔۔
وائے ناٹ !!!
وہ ادا سے کہتی کنگ کے پہلو میں آ بیٹھی تھی۔۔۔
تم جانتی ہو خوبصورتی کنگ کی کمزوری ہے ۔۔اس کے ہاتھ میں مشروب کا گلاس تھمائے اس حسنِ سراپا کو اپنے مزید قریب کرتے بولا تھا۔۔۔
اور اس وقت تم مجھے اپنی کمزوری معلوم ہو رہی ہو۔۔۔
وہ اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے بولا تھا جس پر اس لڑکی تھی ایک ادا سا قہقہ لگایا تھا۔۔
کدھر ؟؟؟؟
رحمت کو بیڈ سے اٹھتا دیکھ سوال کرتے ہوئے بولا۔۔۔
صوفے پر۔۔۔
کیوں پوری رات بیٹھنے کا ارادہ رکھتی ہو ۔۔
یا کوکنگ بک ریڈ کرنی ہے۔۔
وہ اس کا مزاق اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔
وہ اس کو بات کو نظر انداز کیے تکیہ اٹھا کر صوفے پر جانے لگی تھی کہ ایان نے ہاتھ کھینچ کر اس کی اس کوشش کو ناکام بنایا تھا ہاتھ کھینچے جانے پر وہ بیڈ پر ایک بازو کی سائڈ گری تھی۔۔
جہاں تک میرا خیال ہے ناول زینب آپی پڑھتی ہیں تم نہیں ۔۔۔۔
تو یہ ناول کی ہیروئن بننے کی کوشش نہ کرو شرافت سے یہاں لیٹی رہو ۔۔
مجھے ایک پریکٹیکل لائف پسند ہے فضول کی یہ ڈرامے بازی مجھے پسند نہیں ۔۔۔
اب بے فکر ہو کر سو جاو آفٹر آل کل سارے کام تم نے ہی تو کرنے ہیں۔۔
کہتا وہ لائٹ آف کر کے نیم دراز ہو چکا تھا۔۔جبکہ رحمت بھی ایک نظر اس کو دیکھ برا سا منہ بنائے سائڈ پر ہی لیٹ چکی تھی۔۔
