Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 6)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 6)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
بھاگ چلتے ہیں۔۔۔۔
سپیکر میں سے چینگھاڑتی ہوئی آواز آئی۔۔
کیا؟
وہ حیرت کے عالم میں گویا ہوئی۔۔
ہاں رحمت میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔میری بات تم غور سے سنو ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے،
پر۔۔۔میں کیسے ؟؟
رحمت میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہیں کسی اور کی دسترس میں نہیں دیکھ سکتا۔۔ہمیں یہ قدم اٹھانا ہو گا ورنہ یہ ظالم دنیا ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیں گے۔۔اور میں تم سے دور نہیں جانا چاہتا۔۔
میں بھی تم سے ب۔۔بہت محبت کرتی ہوں۔۔متہاہ !!
تمہارے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔۔
آئی لو۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے آگے کے لفظ مکمل کرتی کوئی دھاڑ کی آواز سے دروازا کھول کر اندر آیا۔۔اندر آنے والی ہستی کو دیکھ کر رحمت کو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے اٹک گیا۔۔
کس سے محبت کا اعتراف ہو رہا ہے؟۔۔ایان دروازے کو لاک کرتا قدم بڑھاتے اس کی جانب آیا اور اس کے ہاتھ سے فون پکڑا۔۔
جان کہاں چلی گئی ہو۔۔۔ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔!!
تمہاری جان اس وقت اپنے شوہر کے ساتھ مصروف ہے برائے مہربانی یہاں دوبارہ فون مت کیجیئے گا۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے کہتا فون بند کر چکا تھا۔۔
کون تھا یہ؟؟
ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے رحمت سے سوال کرتے ہوئے بولا جو کہ سر جھکائے کسی مجرم کی مانند کھڑی تھی۔۔
میں نے پوچھا کون تھا وہ؟؟
شہادت کی انگلی سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھاتے ہوئے بولا البتہ ایک ہاتھ ابھی بھی پاکٹ میں تھا۔۔
م۔۔مت۔۔متہاہ۔۔۔!!!
کون متہاہ۔؟؟
آئبرو اچکاتے ہوئے سوال کیا گیا۔۔۔
یونی میں پڑھتا ہے۔۔
اچھا اور۔۔؟؟ وہ اس کے سراپے پر ایک نظر ڈالے بولا جو اس وقت لان کے سادہ سوٹ میں ملبوس تھی۔
ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔اور۔۔اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
اس کی بات سن کر ایان نے غصے سے اپنی مٹھیاں بینچھیں تھیں۔۔
یہی وجہ تھی کہ تم رخصتی کا سن کر وہاں سے اٹھ آئی تھی۔۔لیکن میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔
اس کے بائیں بازو کو اپنی سخت گرفت میں لیتے ہوئے بولا۔۔
اپنے آپ کو اس رخصتی کے لئیے تیار کر لو۔۔اور یہ بیکار کی کوششیں کرنا ترک کر دو۔۔کوئی فائدہ نہیں۔۔
اور ہاں۔۔۔۔
اگر تم نے کوئی انتہائی قدم اٹھانے کا سوچا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔بہتر ہو گا مجھے ایان ہی رہنے دو، برا بننے پر مجبور نا کرو۔۔
ورنہ پریشانی تمہارے لئیے ہی کھڑی ہونی ہے۔۔
چلو شاباش اب سو جاو۔۔۔اب جاگتی ہوئی نظر نا آو۔۔
وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اس کے بالوں کی آوارا لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا۔۔
جبکہ رحمت حیرت کے عنصر میں اس کے چہرے کو تک رہی تھی ۔۔کیا تھا وہ۔۔۔؟؟؟
پل میں تولا پل میں ماشا۔۔۔!!!!
فو۔۔۔فون؟؟
وہ جیسے ہی باہر جانے لگا رحمت نے اس کے ہاتھ میں موجود اپنے موبائیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
رحمت کی ہانک سن کر وہ پیچھے کی جانب مڑا اور ایک آئبیرو آچکا کر اس کی جانب دیکھا جیسا یہ جتلانا چاہ رہا ہو کہ۔۔اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود تمہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ میں دوں گا۔۔
فون چاہیے؟؟
یہ لو۔۔۔
کہتے ہی اس نے فون سامنے موجود دیوار پر دے مارا۔۔
چھناک۔۔ک۔۔۔کی آواز کے ساتھ فون زمین پر گر کے چکنا چور ہو چکا۔۔۔
اپنے اتنے مہنگے فون کی یہ حالت دیکھ کر وہ صدمے سے کبھی فون تو کبھی ایان کو دیکھتی جو کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔
اس کو یوں مسکراتے دیکھ اس کا دل چاہا کہ اس کے سارے بال نوچ دے۔۔
لیکن ہائے رے مجبوری۔۔۔
اوپس۔۔۔فون تو ٹوٹ چکا ہے۔۔
چلو کوئی بات نہیں شادی کے بعد نیا دلا دوں گا۔۔۔
وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ رحمت کو دیکھتا باہر کی سمت چلا گیا۔۔
___________________________________________
عیبا دیکھو کیسا لگے گا یہ مجھ پر؟
زینب خوبصورت سا پیلے اور ہرے رنگ کے امتیاز کا جالی کا ڈوپٹہ اپنے سر پر لیتے ہوئے بولی جس پر گولڈن رنگ کی خوبصورت موتیوں والی لیس سے کام ہوا تھا۔۔
واو۔۔۔
آپی یہ وا۔۔۔
ٹر۔۔ن۔ ۔۔ٹرن۔۔۔
ایک منٹ اپیا آپ دیکھیں میں آتی ہوں۔۔عیبا کہتی ہوئی فون لے کر باہر کی سمت چلی گئی۔۔
ہیلو۔۔۔!!
ہیلو!!
کون بات کر رہا ہے؟؟
ٹوں۔۔ٹوں۔۔۔
فون کٹ چکا تھا۔۔
لو بھلا عجیب لوگ ہیں جب بات کرنی ہی نہیں ہوتی تو فون کرتے ہی کیوں ہیں۔۔!!
وہ سر کو بائیں جانب غصے سے ہلاتی اندر جانے لگی کہ اپنے عقب سے آتی بچے کی آواز پر پیچھے مڑ کے دیکھا جہاں چھوٹی سی عمر کا ایک بچہ کھڑا تھا۔۔
آپی ۔۔یہ آپ کے لئیے ان بھائی نے دیا ہے۔۔
ایک بچے نے اس کے ہاتھ میں گلاب کا پھول تھماتے ہوئے کہا۔۔
عیبا نے اپنی نشیلی آنکھیں اٹھا کر دیکھا جہاں کوئی شخص کالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس چہرے پر ماسک لگائے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے بچے کے ہاتھ سے ایک ادا سے پھول پکڑا اور ایک نظر اس انجان شخص کی جانب دوڑائی ،پھول لے جا کر شاپ کی سائڈ پر رکھے ڈسٹ بین میں ڈالا اور اندر کی جانب چلی گئی جہاں سب کپڑے سلیکٹ کرنے میں ہلکان ہو رہے تھے۔۔
عیبا کی اس حرکت پہ مقابل کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔
___________________________________________
پاوں رکھنا نا زمین پر،
جان رک جا تو گھڑی بھر،
تھوڑے تارے تو بجھا دوں ،
میں تیرے واسطے۔۔۔۔
زینب شاور لے کر رات کے وقت چھت پر کھڑی دھلے ہوئے کپڑے رسی سے اتارتے ہوئے گانا گنا رہی تھی۔۔چھت پر چلتی ہوا کے باعث اس کے گلے میں موجود سلک کا دوپٹہ لہرا رہا تھا۔
میرے جیسا عشق میں پاگل،
پھر ملے یا نا ملے کل،
سوچنا کیا ہاتھ یہ دوں تیرے ہاتھ میں۔۔
حذیفہ زینب کو تلاش کرتا اوپر چھت کی جانب آیا اس کو گانا گنگناتا دیکھ اس کے آگے کے شعر کو مکمل کیا۔۔
اپنے عقب سے آتی گانے کی آواز پر زینب یکدم پیچھے مڑی جس سے اس کے لمبے سلکی بال سائے کی طرح اس کے چہرے پر پھیلے۔۔گیلے بالوں کے کچھ قطرے حذیفہ کے چہرے پر بھی گرے تھے۔۔
وہ دو قدم چلتا اس کے قریب ہوا ۔۔اس کے چاند سے مُکھڑے پر چھائے بالوں کو آرام سے ہٹایا۔۔
حذیفہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھتا اپنے دل کی گیلری میں اتار رہا تھا۔۔وہ دونوں ہی ہر چیز سے انجان ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھوئے ہوئے تھے۔۔
چھناک۔۔۔۔
چھت پر کچھ گرنے کی آواز سے دونوں ایک دوسرے کے صحر سے نکلے اور ایک اس سمت دیکھا جہاں پر گلدان گرا ہوا تھا۔۔۔
ادھر آو۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا چلنے لگا وہ بھی چپ چاپ اس کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور کونے پر رکھے بینچ پر بیٹھی۔۔جو چھت کی دیوار کے ساتھ رکھا گیا تھا۔۔
حذیفہ نے ایک شاپر کھولا اس میں سے دو آئس کریم کپ نکالے ایک اس کے ہاتھ میں پکڑایا اور ایک خود تھاما۔۔جب کہ۔آئس کریم دیکھ کر زینب کے چہرے پر بالکل بچوں جیسی خوشی چھائی تھی جسے حذیفہ نے پر شوق نظروں سے دیکھا تھا۔۔
وہ دونوں مل کر رات کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواوں کے زیرِ اثر
پورے چاند کی موجودگی میں بیٹھے آئس کریم کھاتے کھاتے ایک دوسرے سے محبت بھری باتوں میں مصروف تھے۔۔جس میں کبھی حذیفہ ایسی بات کر جاتا جس کی وجہ سے زینب شرما اپنا کر سر جھکا لیتی یا پھر مصنوعی گھوری سے نوازتی۔۔
کیسی لگی آیس کریم؟
وہ محبت سے ایک ہاتھ اس کے شانوں کے گرد رکھتے ہوئے بولا۔۔
بہت ٹیسٹی تھی۔۔ویسے بھی آج دوپہر سے میرا دل چاہ رہا تھا آئس کریم کھانے کا۔۔
وہ اپنا سر اس کے کندھے پر ٹکاتے ہوئے بولی۔۔
زینب کی بات سن کر حذیفہ کے چہرے پر مسکان نمودار ہوئی۔۔
چلو پھر..ہنی مون پر ہم آئس کریم فیکٹری چلیں گے۔۔جتنی دل چاہے کھا لینا۔۔یا پھر وہیں پر ہم اپنا گھر بنا لیں گے۔۔
جہاں تم ، میں، ہمارے بچے۔۔(حذیمہ،اور زینیا) ہونگے۔۔
وہ اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے بولا۔۔
جبکہ اس کی بات سن زینب نے سر اٹھا کر حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔مزاق کر رہا ہوں۔پر زینیا اور حذیمہ والی بات کو ہٹا کر۔۔۔
وہ اس کو آنکھ مارتے ہوئے بولا۔۔
حزیفہ۔۔۔!!!!!!
بولیں حذیفہ کی جان۔۔۔
آپ نا ایک نمبر کے ______ڈیش ڈیش ہیں۔۔۔۔
کیا۔۔۔ہینڈ سم۔۔۔وہ بالوں میں ایک ادا سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔
نہیں۔۔۔ٹھرکی۔۔
وہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولی۔۔
ارے۔۔بیوی سے کیسا ٹھرک پن۔؟؟
وہ شانے اچکاتے آنکھوں میں شرارت سموئے بولا۔۔
چلو کوئی بات نہیں۔۔اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو نہیں کروں گا۔۔
وہ اداس سا چہرا بنا کر بولا۔۔جب کہ چہرے پر سنجیدگی اپنا لی۔۔
ویسے بھی آج ہی ایک نیو ڈاکٹر نے جوائین کیا کافی خوبصورت ہیں وہ۔۔
موڈرن،بولڈ،کونفیڈینٹ ،اور بیوٹیفل۔۔۔
کتنا اچھا لگا نا۔۔۔مسٹر اینڈ مسسز ڈاکٹر۔۔۔
تو پھر کیا خی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو اپنی دھن میں زینب کو چڑا رہا تھا آگے کے الفاظ مکمل نا کر سکا۔۔
کیونکہ بے اختیار اس کی نظر خاموشی سے آنسوں بہاتی زینب پر پڑی۔۔۔۔
زیبو۔۔۔۔۔؟؟
حذیفہ یکدم نرم پڑا اس کو یوں روتا دیکھ اس کو خود پر غصہ آیا کہ کیا ضرورت تھی فضول بولنے کی۔۔
زینو۔۔میری جان کیا ہو گیا ہے یار۔؟؟
تم تو سیریس ہی ہو گئی۔۔میں بس تمہیں تنگ کر رہا تھا۔۔وہ محبت سے اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولا ۔۔
آ۔۔آپ۔۔۔ا۔۔اس۔۔ڈاکٹر کی۔۔۔ت۔۔تعریف ۔۔۔کر۔۔کر۔رہے تھے۔۔۔
م۔۔میں۔۔۔آپ ۔۔۔کو۔۔۔کو۔۔ب۔۔بری ل۔گتی ہوں۔۔؟؟؟
وہ ھیچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے بولی۔۔
نہیں۔۔میری ڈیر وائفی وہ تو میں ایسے ہی بول رہا تھا۔۔
تم تو یہاں راج کرتی ہو۔۔میرے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل کی دھڑکن ہو تم۔۔۔
وہ۔۔اس کے آنسوں کو لبوں سے چنتے ہوئے بولا۔۔
زینب کے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہوئی کہ حذیفہ اسے باخوبی سن سکتا تھا۔۔
میری چلتی سانسوں کی گواہ ہو تم۔۔
اس کی روئی روئی آنکھوں پر محبت سے لب رکھتے ہوئے بولا۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی اور محبت بھری گستاخی کرتا اس کی نظر دیوار کی پیچھے چھپے ہیولے پر گئی۔۔
ہیولے کی پہچان ہوتے ہی اس کو غصہ اور ہنسی دونوں ایک ساتھ آئے۔۔
عیبا۔۔۔!!
شرافت سے باہر اہ جاو۔۔اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔
وہ تھوڑے غصیلے لہجے میں بولا تھا۔۔
کیونکہ اس کے اچھے خاصے رومینس کا اس کی بہن صاحبہ کباڑا کر چکی تھیں۔۔
وہ۔۔وہ بھائی م۔۔میں تو پانی لینے آئی تھی۔۔
عیبا اپنی چوری پکڑے جانے پر آہستہ آہستہ سے دیوار کے اوٹ سے نکلی۔۔اور جان بخشی کے لئیے جو سمجھ آیا بول گئی۔۔
او۔۔سیریسلی۔۔تم چھت پر پانی پینے آئی تھی۔۔
سچ سچ بتاو۔۔کیا کر رہی تھیں۔۔یہاں۔؟؟
بھائی دیس سز نوٹ فیر۔۔آئس کریم کا میں نے بتایا تھا۔۔اور آپ دونوں یہاں اکیلے بیٹھے رومینس جھاڑ رہے ہیں۔۔۔
مم۔۔میرا مطلب تھا کہ آئس کریم کھا رہے ہیں۔۔
حذیفہ کے گھورنے پر وہ جلدی سے بات کو بدلتے ہوئے بولی۔۔
تم نا کبھی اپنی حرکتوں سے باز نا آنا عیبا کی بچی۔۔
یاد تھا مجھے ایک بھُکر بھی بیٹھی ہے گھر میں لایا ہوں تمہارے لئیے بھی نیچے رکھی ہے۔۔
وہ کہتا سیڑھیوں کو ٹاپتہ نیچے چلا گیا۔۔
عیبا بھی ہنستی ہوئی حیران پریشان کھڑی زینب کے پاس آئی۔۔اور باریک سی چٹکی اس کے گالوں پر کاٹی۔۔
میری بہن + بھابھی بلش کر رہی ہیں۔۔
چکر کیا ہے۔۔؟؟
وہ ایک انگلی ٹھوڑی پر رکھے سوچنے کے انداز میں بولی۔۔
___________________________________________
کام کہاں تک پہنچا؟؟
کنک۔۔۔کام سو فیصد پکا ہے۔۔۔پلین بھی ترتیب دے چکا ہوں ۔
بس عمل کرنا باقی ہے۔۔
گڈ۔۔!!
بس اب دھیان رکھنا کسی قسم کی کوئی غلطی نا ہو۔۔
ورنہ تم دوبارا غلطی کرنے کے قابل نہیں رہو گے۔۔
وہ صاف وارننگ دینے والے انداز میں سامنے کھڑے لڑکے مخاطب ہوا۔۔
ج۔۔جی کنگ۔۔ضرور۔۔اس بار آپ کو کوئی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔
اس لڑکے نے کنگ کی وارننگ کے بارے میں سوچ کر ہی جھرجھری لی تھی۔۔
