Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 15)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 15)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

کھڑی سے آتے تیز ہوا کے جھونکے سے وہ ہوش میں آئی تھی کالا مونسٹر سمجھتا کیا ہے خود کو(کالے لباس کی وجہ سے کالے کا القاب دیا گیا)۔۔میں بھی اب جاوں گی امبرین کے ساتھ ۔۔۔

وہ ضد میں آ کر اٹل فیصلہ کر چکی تھی یہ جانے بغیر کبھی کھبار فضول کی ضد انسان کو لے ڈوبتی ہے۔

آج میں دیر سے آوں گا ، اسلئے گھر کی دروازے کھڑکیاں وغیرہ بند ہی رکھنا اور باہر نکلنے کی غلطی بالکل نہ کرنا کیونکہ یہاں ہر طرف جنگل ہے باہر نکلی تو واپسی آنا مشکل ہے۔۔

اور میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تم کو ڈھونڈنے مین وقت ضائع کروں ۔۔

وہ جو بہت غور سے اس کی بات سن رہی تھی اس کی آخری بات پر شکوہ کناں نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔

کھانا وقت پر کھا لینا اور ہاں آج کپڑے مت دھونا وہ جاتے جاتے واپسی پلٹا تھا اور تنبیہ کر کے کہنا لگا۔۔

رحمت نے اثبات میں سر ہلایا تھا جیسے اس کی بات سمجھ چکی تھی۔

یہ آج سر ازلان نہیں آئے۔۔؟

امبرین نے اپنے ساتھ بیٹھی عیبا سے سوال کرتے ہوئے کہا۔۔

میرے خیال سے تو نہیں آئے اور اچھا ہی ہے نہ آئیں دیکھا نہیں ہے گھورتے ایسے ہیں جیسے ابھی کھا جائیں گے قسم سے پورے مونسٹر لگتے ہیں مجھے۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔عیبا مجھے یہ بتاو ایسی کون سی شخصیات ہے جس سے تمہیں ویر نہ ہو۔۔

ہیں نا۔۔۔!!!

میرے بھائی ،میرے پاپا اور میرے بھائی پلس جیجا۔۔

وہ انگلیوں پر گنتی سب کے نام بتاتے ہوئے بولی۔۔

‏‎روحان یہ کیا کر رہا ہے؟

کن خیالوں میں کھویا ہے!!!!!

روحان کا دوست حیرت و غم کی حالت میں آگے بڑا تھا جہاں سب اپنا پریکٹیکل کرنے میں مصروف تھے وہیں روحان پریکٹیکل کا کباڑا کرنے میں مصروفِ تھے۔۔

روحان!!!!!

اس کے دوست نے اس کو جھنجھوڑ کر کہا۔۔

ہ۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔

وہ ایک دم ہوش میں آتے ہوئے بولا۔

یہ کیا۔۔کیا ہے تو نے؟؟

وہ اپنا سر پکڑے کیمیکل کی جانب اشارہ کرتے بولا ۔۔

او۔۔۔!!! سوری میرا دھیان نہیں تھا۔۔۔

وہ شرمندگی محسوس کرتے بولا

یار روحان تیری وجہ سے اب ہم سب کی سر سے کلاس ہو گی۔۔

وہ منہ کے زاویے بگاڑتے بولا تھا

بھائی مجھے تو لگتا ہے ہمارا بھائی کسی حسینہ کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا

دوسرے دوست نے روحان کے شانوں کو اپنے شانوں سے چھیڑتے بولا

جس پر وہ ایک دم سٹپٹایا تھا ۔۔

ن۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔

وہ اپنی سبکی مٹاتے بولا تھا البتہ یہ بات الگ تھی کہ وہ نور کے خیالوں میں ہی گم تھا۔

آج حذیفہ نے ہسپتال جلدی آنے کی وجہ سے ناشتہ نہیں کیا تھا اسلئے زینب اپنے ہاتھوں سے اس کے لئے کھانا بنا کر لائی تھی وہ خوشی سے مسکراتی ،اپنے گرد بلیک شال اوڑے حذیفہ کے کیبن میں داخل ہوئی لیکن اندر کا منظر دیکھ کر اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔

ڈاکٹر رابعہ جو حذیفہ کو فائل دے کر جانے لگی تھیں یکدم ان کا پاوں ٹیبل کی کارنر سے ٹکرایا تھا اور وہ سیدھا سامنے بیٹھے حذیفہ پر گریں ۔اور تب ہی کیبن کا دروازہ کھول کر زینب اندر داخل ہوئی ۔۔لیکن اندر اپنے شوہر کی بانہوں میں کسی اور لڑکی کو دیکھ اس کے ہاتھ میں موجود شاپر زمین بوس ہوا تھا وہ ساکت نظروں سے سامنے دیکھتی ،منہ پر ہاتھ رکھے بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نکلی تھی ۔

حذیفہ کی نظر جیسے دروازے پر کھڑی زینب پر پڑی وہ خود ساکت ہو گیا تھا وہ جلدی سے کھڑا ہوتا ڈاکٹر رابعہ کو بھی نظر انداز کرتا جو کہ خود شرمندہ سی تھیں باہر کی جانب لپکا ، سب اسٹاف اور پیشنٹس اس کو باہر بھاگتا دیکھ رہے تھے لیکن اس کو کسی کی پروا نہیں تھی ۔۔اس کو اپنی بیوی کی غلط فہمی دور کرنی تھی جو کہ انجانے میں اس کا شکار ہو رہی تھی۔

وہ جب تک باہر پارکنگ میں آیا وہ کار میں بیٹھتی جا چکی تھی حذیفہ نے غصے سے مکا دیوار پر مارا تھا۔

تم ابھی تک گئی نہیں عیبا؟

امبرین عیبا کو یوں پارکنگ میں کھڑے دیکھ کر بولی۔۔

نہیں نا۔۔پتہ نہیں ڈرائیور کہاں رہ گیا ہے۔۔

وہ باہر کی جانب نظریں دوڑاتی بولی۔۔

او۔۔اچھا!!!

وہ اپنے ہونٹوں کو گول کرتے بولی ۔۔

تو تم ایسا کرو اگر پوسیبل لگے تو میرے ساتھ چلو میں ڈراپ کر دیتی ہوں۔۔

امبرین میں چلی تو جاتی پر مما لوگ ڈانیں گے۔

نہیں۔۔ڈانتتے بول دینا ڈرائیور نہیں آیا تھا۔۔

اچھا رکو میں کسی کو انفورم کر دوں۔

ٹو۔۔۔ں۔۔۔ٹوں۔۔۔!!!!!

کیا؟

اس نے آئیبرو اچکا کر سوال کیا۔۔۔

فون نہیں اٹھا رہیں۔۔

وہ پریشان زدہ چہرے کے ساتھ بولی۔۔

اف !!! تم بھی نہ۔

چلو میرے ساتھ۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ کھینچے اپنے ساتھ لے کر گئی اور گاڑی میں بیٹھایا۔۔

مسکان بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی کہ اس کے موبائل پر ایک نوٹیفیکیشن شو ہوا جس میں کچھ تصاویر بھیجی گئیں تھیں۔۔وہ اگنور کرنے لگی تھی کہ اس کی نظر اپنی تصویر پر گئی ، تصویر دیکھتے ہی اس کی آنکھیں حیرت کی زیاتی سے کھل پڑی تھیں ۔۔۔

یعنی اس کی تصاویروں کو ایڈٹ کر کے بھیجا گیا تھا اپنی ایسی تصاویریں دیکھ اس کی آنکھیں بھی شرم سے جھک گئی تھیں۔۔

وہ صدمے کی سی کیفیت میں مبتلا تھی کہ فون کی چنگھاڑتی آواز سے ہوش میں آئی جہاں رضا کالنگ جگمگا رہا تھا۔۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے یس کیا تھا

بیبی پکس کیسی لگیں۔۔۔؟؟؟

وہ کمینگی کی انتہاہ پر پہنچتے مکاری سے ہنستے ہوئے بولا

ر۔۔۔رض۔۔رضا ی۔۔یہ ت۔۔۔تم۔۔۔ن۔۔نے کککی۔۔کیا ہ۔۔ہء ہے….

وہ کانپتی آواز کے ساتھ بولی ۔

آنسوں تواتر آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔

آفکورس ڈارلنگ۔۔پھر کیسا لگا سرپرائز؟؟

ت۔۔تم۔۔تم نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔

تم تو محبت کرتے ہو نا مجھ سے پھر یہ سب کیوں؟؟

ہاہاہاہا۔۔۔۔میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا۔۔۔اور کون سی محبت نا محرم کی محبت ۔۔۔۔۔۔

ویسے مجھے لگا تھا تم جیسی کو پٹانے میں مسلہ ہو گا مگر ہم شکر گزار ہیں سوشل میڈیا کے جن نے ہمارا کام آسان کر دیا ہے۔۔

جس دھوکہ کی تم بات کر رہی ہو نا وہ اپنے گھر والوں کو دیتی ہو ، اپنے خدا کو دیتی ہو ،

بلکہ دھوکہ تم لوگ اپنے آپ کو بھی دیتی ہو۔۔

چلو بہت باتیں ہو گئیں اب کام کی بات پر آو

مجھے ایک لاکھ روپے چاہیے ہیں ۔۔

م۔۔میں کہاں سے دوں؟؟

وہ پھولی ہوئی سانسوں سمیت بولی۔۔

مجھے نہیں پتہ جہاں سے بھی کر کے دو یہ تمہارے اوپر ہے۔۔

ورنہ یہ تصاویریں میں نیٹ پر دے دوں گا یا کسی ویب پر بیچ دوں گا یقین جانو کافی پیسہ ملتا ہے۔۔۔

وہ بیغرتی کا مظاہرہ کرتے بولا۔۔

رض۔۔۔رضا تم نیٹ پر مت دینا میں کرتی ہوں کچھ۔۔۔

بائے بیبی۔۔۔

وہ اس کی بے بسی کا مزاق اڑاتے بولا۔۔

جب کہ مسکان کا سر ابھی تک گھوم رہا تھا۔۔