No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
مہروز خان نے پلوشہ و اشعر وغیرہ کی منگنی کے بجائے نکاح کی ڈیٹ فکس کر دی تھی۔ رخصتی کا فیصلہ بعد کے لئے موقوف کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی علیزے کا نکاح بھی انہوں نے اسی ڈیٹ پر وقاص خان کے دوسرے بیٹے ابراہیم خان سے طے کر دیا ۔۔۔۔۔۔ اب اس طرح علیزے پلوشہ کی دیورانی بن جانے کو تھی۔ رہ گئے شاذل، عیسیٰ، و حمزہ تو ان کی منگنیاں انہوں نے ویسے بھی پھپھیوں کی بیٹیوں سے طے کرنی کی سوچی تھی،،،، مگر ابھی اس کے لئے کچھ وقت درکار تھا کیونکہ،، یہ سب ہی ابھی اپنی اپنی اسٹڈیز میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ مہروز خان کی بیٹیوں نے اپنی باقی اولادوں کی شادی آپس میں ہی طے کی ہوئی تھی۔
اشعر و ابراہیم جو کہ جاب کے سلسلے میں بیرون ملک ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بھی ایک، دو روز تک حویلی آ جانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس موقع پر شاذل عیسیٰ و حمزہ جو کہ اسٹڈی کے سلسلے میں باہر ہوتے تھے وہ بھی شرکت کرنے آ رہے تھے۔
ایک ہی دن میں تین نکاح کی رسمیں ادا ہونے کو تھیں ۔۔۔۔۔۔ اس لحاظ سے تیاریاں بھی اپنے عروج پر تھیں۔ سوہا بھی دل کھول کر تیاریوں میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔ کزنز کے نکاح کی خوشی الگ،، لیکن علیزے اس کی اکلوتی نند بھی تو تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کی تیاریاں بھی اپنے جوبن پر تھیں۔
لڑکیوں کے ایک پاؤں حویلی میں تو دوسرے بازار میں تھے ۔۔۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بازار میں ہی ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جائیں ۔۔۔۔۔ رخسار و گلناز بیگم بازار جا کر پلوشہ،،علیزے و لائبہ کے لہنگے کا آرڈر دے آئیں۔ ساتھ ہی بقیہ شاپنگ بھی نپٹا آئی تھیں۔ سوہا کی تیاریاں بھی تقریباً مکمّل ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ہر چیز سالک حیدر کی پسند کا خیال کرتے ہوئے خریدیں ۔۔۔۔۔۔ اس کی بے پایاں محبتوں کے آگے وہ اس کی دیوانی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ وہ شخص اس کے لئے شجرِ ممنوعہ و اس کی کُل کائنات تھا۔
***************
سالک حیدر شکار پر گیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ زونیہ کیساتھ علیزے کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ رخسار بیگم بھی بیٹی کے ساتھ موجود تھیں علیزے کو الگ ہی فکر کھائے جا رہی تھی۔
افففف امّی جان،، مجھے بہت شرم آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ ابراہیم لا ۔۔۔۔۔ لا میرا مطلب میں کیسے ان کو شوہر مانوں ۔۔۔۔۔ انہیں تو میں نے ہمیشہ لالا ہی سمجھا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا تو اس کی بات پر سوہا اور زونیہ ہنس پڑیں اور رخسار بیگم اسے گھورنے لگیں۔
خبردار !!! جو الٹی سیدھی کوئی بات کی،، پتہ نہیں اس لڑکی کا بچپنا کب جائے گا ۔۔۔۔۔ یہ لالا کیا ہوتا ہے ،، وہ اب تمہارا ہونے والا شوہر ہے ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے ڈانٹ لگائی تو وہ منہ بسور کر رہ گئی۔
پاگل لڑکی،، دعا نے بھی تو یوسف کو “لالا” ہی سمجھا ہوا تھا نا ۔۔۔۔۔۔ لیکن دیکھو ایڈجسٹ کر لیا نا اس نے ۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی کر لو گی ۔۔۔۔۔ یہاں تمہیں الگ ٹینشن ہے اور وہاں لائبہ کو اپنے “ذوق” کی پڑی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔ بس ایک پلوشہ ہے جس کا کوئی شدید رسپانس سامنے نہیں آیا ۔۔۔۔ ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ وہ بہت ناراض ہو گی دادا سائیں کے اس فیصلے پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اللّہ کا شکر ہے کہ اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے تشکر سے کہا
ارے ہاں بھابھی ۔۔۔۔۔ پلوشہ آپی تو بہت جلد مان گئیں بنا کوئی تماشہ کئے ۔۔۔۔ یہ تو مقامِ حیرت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے بھی اپنی حیرت کا مظاہرہ کیا،،
وہی تو میں بھی سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے پرسوچ انداز میں کہا
علیزے ویسے تمہارے ابراہیم “لالا” کل آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تم دل ہی دل میں خوش تو ہو رہی ہو گی نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے علیزے کو چھیڑتے ہوئے کہا
ہائے بھابھی ۔۔۔۔۔ اب آپ ایسے تنگ کریں گی مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بلش کرتے ہوئے کہا تو سوہا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ رخسار بیگم بھی مسکرا دیں۔
****************
اشعر و ابراہیم سمیت باقی لڑکوں کی بھی آمد ہو چکی تھی ساتھ ہی پھپھیوں کی فیملیز کی بھی کیونکہ ،،، اسی روز علیزے، لائبہ و پلوشہ کو مہندی بھی لگنے کو تھی۔ ساری لڑکیاں صحن میں بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ مرد حضرات مردان خانے میں موجود تھے۔
وہ برآمدے کے دیوان پر آ بیٹھی۔ اسے سالک حیدر کا انتظار تھا کیونکہ اس نے اسے صبح ناشتے کے بعد سے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ وہ کل شکار پر گیا تھا اور اس کی واپسی شام تک ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ آج اسے ضروری کام سے میل و ڈیرے کی طرف جانا تھا سو وہ صبح کا گیا اب تک نہ لوٹا تھا۔ اس کے وہاں بیٹھنے کے تقریباً بیس منٹ بعد وہ برآمدے کی جانب آتا دکھائی دیا تو وہ بیقراری سے اس کی جانب لپکی ۔۔۔۔۔ اور اسے اپنے انتظار میں یہاں بیٹھے دیکھکر سالک حیدر کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
حیدر سائیں ۔۔۔۔ شکر ہے آپ آ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو صبح سے نہیں دیکھا تھا تو مجھے پریشانی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں بولتی اس سے لگ گئی،، سالک حیدر نے محصور کُن انداز میں اس کے بالوں پر اپنے لب رکھ دئیے۔
کیا اتنی محبّت ہو گئی ہے مجھ سے ؟؟ اس نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے گھمبیر لہجے میں پوچھا۔
اس سے بھی کہیں زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہایت آہستگی سے لرزتے لہجے میں کہا جسے وہ بمشکل سن پایا۔
پھر سے ایک بار کہو ،، میں نے سنا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے تنگ کرنے کو شرارت سے بولا تو وہ بلش کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔
مہندی نہیں لگائی اب تک ،،، کیوں ؟؟؟ سالک حیدر نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر سامنے کیا تو وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
ابھی تو نہیں لگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی بیوٹیشن آئے گی تو اس سے لگوا لوں گی ۔۔۔۔۔ اس نے بتایا تو اس نے اس کی ہتھیلی چوم لی۔
میں لگا دوں مہندی ؟؟ وہ محبت سے پوچھنے لگا تو وہ خوشگوار سی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔
حیدر سائیں آپ لگائیں گے ۔۔۔۔۔۔ ٹھہریں،، میں مہندی یہیں لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ پرجوش سی کہتی ہوئی اندر کی جانب بھاگی ۔۔۔۔۔ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرا دیا اور برآمدے کے دیوان پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ مہندی لئے آئی اور اس کے قریب دیوان پر بیٹھ گئی۔ سالک حیدر نے اس سے مہندی لے کر نہایت توجّہ سے اس کا مرمریں ہاتھ تھام کر اس کی ہتھیلی پھیلائی، اور سوہا کی نظریں اس کی بلائیں لئے جا رہی تھیں۔
تھوڑی محنت کے بعد اس نے اس کی ایک ہتھیلی پر “حیدر” لکھا اور دوسری ہتھیلی پر “آئی لو یو” لکھا،، ساتھ ہی اسے دیکھا جو پیاری سی مسکراہٹ سمیت اپنی ہتھیلی پر لکھے اس کے نام کو دیکھ رہی تھی۔
کیسی لگی مہندی ؟ سالک حیدر نے اس کی لٹوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے پرشوق انداز میں پوچھا۔
بہت دلکش ہے یہ بہت ہی خوبصورت ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی بھی اپنی مہندی کو ہی دیکھے جا رہی تھی،،،، اور پھر یونہی مہندی کو دیکھتے دیکھتے ہی اس کے شانے سے سر ٹکا لیا ۔۔۔۔۔ اس کو تکتی سالک حیدر کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے بے اختیار اس کی پیشانی چوم لی۔
میرا سوچنا تیری ذات تک میری گفتگو تیری بات تک،، نہ تم ملو جو کبھی مجھے میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک، کبھی فرصتیں جو ملے تو آ میری زندگی کے حصار تک، میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں تیرے پہلے سے تیرے بعد تک ! ****************
سوہا بی جان و اسماء بیگم سمیت زونیہ و علیزے وغیرہ کو بھی اپنی مہندی دکھا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ سب نے دل کھول کر اس کی مہندی کو ستائشی لفظوں سے نوازا اور اس کی مہندی دیکھکر سالک حیدر کے حوالے سے اسے خوب تنگ بھی کیا !!!
سالک حیدر علیزے کے کمرے میں آیا تو وہاں پہلے سے ہی معاذ و یوسف موجود تھے۔ علیزے کو مہندی لگ چکی تھی۔
یار حیدر ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو یہ سوچ سوچ کر فکرمند ہوں کہ یہ پٹاخہ کہیں نہیں جانے والی ۔۔۔۔۔۔ یہی رہ کر ہمیں تنگ کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔۔ معاذ نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے علیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سالک حیدر سے کہا تو وہ زور سے ہنس پڑا ۔۔۔۔۔ علیزے کا منہ پھول گیا۔
تو آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں یہاں سے کہیں چلی جاؤں ۔۔۔۔۔۔ کسی بھول میں مت رہئے گا آپ سب ۔۔۔۔۔ کہیں نہیں جانے والی میں ۔۔۔۔۔۔۔ حیدر لالا آپ بھی یہی چاہتے ہیں کیا ؟ اس نے سالک حیدر کو گھور کر کہا تو وہ ہنستے ہوئے اس کے قریب بیٹھ گیا اور محبّت سے اسے اپنے حصار میں لے لیا
میں بھلا اپنی گڑیا کیلئے ایسا کیوں چاہنے لگا بھئی ۔۔۔۔۔۔۔ میں تو دادا سائیں کے فیصلے سے بہت مطمئن ہوں ۔۔۔۔۔ ابراہیم تو بہت اچھا لڑکا ہے ۔۔۔۔ تم بے فکر ہو جاؤ اس طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ جھینپ کر سر ہلا گئی۔ یوسف اور معاذ نے بھی سالک حیدر کی تائید کی۔
تینوں بھائیوں نے پیار سے اسے آنے والے وقت کیلئے تسلّی و دلاسے دئیے تو علیزے کی فکر دھواں بن کے اڑنے لگی۔
****************
بالآخر نکاح کا دن آ پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ علیزے، پلوشہ، و لائبہ نکاح کے جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ ان تینوں پر ہی بہت روپ آیا تھا ۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلے اشعر پھر ابراہیم اور آخر میں فواد کے نکاح کی رسمیں ادا ہونے کو تھیں ۔۔۔۔۔۔ تمام مرد حضرات صبح سے ہی مردان خانے و لان میں موجود تھے ۔۔۔۔ سوہا نے دل کھول کر تیاری کی تھی ۔۔۔۔۔۔ فان کلر کے لہنگے میں، کانوں میں میچنگ جھمکے پہنے،،، خوبصورت ہئیر اسٹائل، و ہاتھوں میں میچنگ چوڑیوں کیساتھ اپنے رونمائی کے کنگن، و گلے میں رونمائی کا نیکلس پہنے وہ کوئی حور لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر باہر سب کے ساتھ مردان خانے میں موجود تھا کیونکہ مہمان مرد حضرات وہیں موجود تھے ۔۔۔۔۔۔ وہ لائبہ وغیرہ کے کمرے میں موجود تھی جبھی وہ تیار ہو کر باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کی نظریں اسی کو ڈھونڈے جا رہی تھیں۔
کھانے کے بعد نکاح کی رسمیں ادا کی گئیں۔ جبھی وہ اشعر و ابراہیم وغیرہ کیساتھ آتا دکھائی دیا ۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھ کر سوہا کی روح تک سیراب ہو گئی۔ بی جان کا پسند کردہ ہاف وائٹ کرتے و پاجامے میں،، کندھے پر شال ڈالے،، ماتھے پر گرے بال و لمبی جسامت سمیت پشت پر ہاتھ باندھے وہ نظر لگ جانے کی حد تک ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ سوہا نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری ۔۔۔۔ جبھی سالک حیدر کی اِدھر اُدھر بھٹکتی نظریں اس پر آ ٹھہریں تو وہ ہولے سے مسکرا دی ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنی جگہ سحر انگیز سا کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر اسے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر دیکھنے کے بعد یکایک وہ سب کے قہقہے پر جیسے ہوش میں آیا ۔۔۔۔ سوہا جو شرمگیں مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اپنی مسکان دباتی نظریں جھکا گئی،، اور اسی جانب بڑھ گئی جہاں لڑکیاں فواد، اشعر، و ابراہیم سے نیگ وصول کر رہی تھیں۔ گھر کی بڑی خواتین برآمدے کی جانب موجود تھیں۔
یار کیوں مجھے غریب کرنے پر تلی ہوئی ہو سب ؟؟ فواد نے ڈرامائی انداز میں کہا ساتھ ہی چپکے سے ایک نظر گھونگھٹ میں چھپی لائبہ پر ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔ تو یقسف اس کی چوری پکڑتا زور سے ہنس دیا وہ جھینپ گیا۔
فواد شرافت سے نیگ نکالو ۔۔۔۔۔۔ اشعر و ابراہیم نے بھی تو نیگ دیا ہے نا ۔۔۔۔۔۔ تم نہیں بچ سکتے،، تم لوگ نیگ نکالو تو ہم تمہاری دلہنوں کا چہرہ دکھائیں گے ۔۔۔۔ نہیں تو بھول جاؤ اس بات کو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا نے فواد کی جیب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اپنے سالی ہونے کا رعب جمانا چاہا تو وہ منہ بنا کے جیب سے والٹ نکالنے لگا۔
ان تینوں سے نیگ وصول کرنے کے بعد ہی لڑکیوں نے چین کا سانس لیا ۔۔۔۔۔۔ چونکہ علیزے و پلوشہ عبّاس خان کی اکلوتی بیٹی تھی سو اس کی طرف سے لڑکیوں نے ابراہیم و اشعر سے ڈبل نیگ لیا تھا ۔۔۔۔۔ سالک حیدر اسی زاوئیے پر کھڑا ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ ان کے تماشے سے محظوظ ہو رہا تھا۔
فواد چلو آج اپنے زوق کا ثبوت دو تا کہ ہماری لائبہ کی کچھ تسلّی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے شرارت سے فواد سے کہا تو سب نے فواد سے لائبہ کی خدمت میں کچھ عرض کرنے کو کہا۔ فواد نے ایک نظر لائبہ کی جانب دیکھا جس کا چہرہ گھونگھٹ کے اندر تھا۔
عرض کیا ہے،،،، اس نے گلہ کھنکھار کر کہا تو سب نے ایک لے میں ارشاد کہا
بالوں میں سرسوں کا تیل ڈالے پاؤں میں پازیب ڈالے گلے میں پہنے گیندے کا ہار گوری کرت سنگھار
فواد نے لائبہ کے گھونگھٹ پر نظریں جمائے جذب سے شعر پڑھا تو بیساختہ ان سب کا زوردار قہقہہ نکلا ۔۔۔۔۔ وہ انہیں گھورنے لگا،، اور لائبہ کا دل چاہا اس کا سر پھاڑ دے ۔۔۔۔۔۔ وہ دانت پیس کے رہ گئی۔
چلو بھئی ۔۔۔۔۔۔ ان کو ان کی دلہنیں جلدی دکھا دیں ۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے کہتے ہوئے باری باری تینوں کا گھونگھٹ اٹھا کے سر پر رکھا تو وہ تینوں مہبوت سے کھڑے رہ گئے ۔۔۔۔۔ پلوشہ، علیزے، و لائبہ یوں سب کے سامنے بے طرح شرما گئیں ۔۔۔۔۔۔ ان تینوں کی محویت پر سب نے شوخ انداز میں شور مچایا تو وہ تینوں گڑبڑا گئے ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ سالک حیدر کی نظریں تو اپنی متاعِ حیات سے ہی ہٹنے کو انکاری تھیں ۔۔۔۔۔ اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے سوہا نے نظریں اٹھائیں تو اس کی نظروں سے چھلکتے تقاضوں پر پلکیں بوجھل ہو کر جھک گئیں۔
کچھ دیر ہنسی ٹھٹھول کرنے کے بعد ان تینوں کو سہارا دے کر بی جان وغیرہ سے ملواتی ان کے کمرے تک چھوڑ آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ لائبہ و پلوشہ کا مشترکہ کمرہ تھا تو انہیں ان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔۔۔۔۔ باقی کی لڑکیاں نیچے ہی اپنی محفلیں جمانے کو چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ علیزے کا زیور وغیرہ اتارنے میں اس کی مدد کرنے لگی تو سوہا لائبہ کے کمرے میں آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ چینج کرنے کی غرض سے واشروم میں تھی،،، اور پلوشہ ابھی تک اپنی چوڑیوں میں ہی الجھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اس کے پاس زرسانگہ موجود تھی جو اس کی مدد کر رہی تھی مگر چوڑیاں تھیں کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ سوہا انہیں دیکھنے لگی
افففف،،، میرے ہاتھوں میں گئی تو بہت آسانی سے تھی ۔۔۔۔ اب اتر کیوں نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ نے پریشانی سے کہا تو سوہا ان کے قریب آ گئی۔
میں مدد کروں،، ہو سکتا ہے اتر جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے جھجھکتے ہوئے پلوشہ سے پوچھا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔ لیکن اس بار آنکھوں کا تاثر نرم سا تھا۔
ہاں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا تو سوہا اس کے نزدیک بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلے اس کی تمام چوڑیوں کو اوپر سرکا کے اس کی کلائی کو پانی سے بھگویا اس طرح چوڑیاں پھسلتی ہوئی اس کی کلائی سے باہر آ گئیں۔
ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے دھیمی سی مسکراہٹ کیساتھ اور اٹھنے کو تھی کہ پلوشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔ سوہا اسے دیکھنے لگی
سوہا بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا زرسانگہ کو دیکھتی دوبارہ اس کے نزدیک بیٹھ گئی ۔۔۔۔ زرسانگہ بھی ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسی دوران لائبہ بھی چینج کر کے واشروم سے نکل آئی تھی۔
مجھے معاف کر دو سوہا ۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت ظلم کیا ۔۔۔۔۔ میں انتقام میں بالکل اندھی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں اپنی ان نازیبا حرکات کیلئے تم سے معافی مانگتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ آئیندہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم مجھے معاف کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ کی آنکھوں میں گہری شرمندگی ہلکورے لے رہی تھی۔
کیوں نہیں ۔۔۔۔۔ میرے لئے تو یہ باعثِ خوشی ہے کہ تم نے اپنے دل سے میرے لئے بدگمانیوں کو نکال پھینکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور رہی معافی مانگنے کی بات تو پلیز معافی مانگ کے مجھے شرمندہ تو نہ کرو ۔۔۔۔۔۔ میرے دل میں تمہارے لئے کوئی بغض و کینہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اللّہ تمہیں ہمیشہ خوش اور آباد رکھے آمین۔ سوہا نے خوشدلی سے مسکرا کر کہا تو پلوشہ اس کے گلے سے لگ گئی ۔۔۔۔ سوہا بھی اسے گلے سے لگاتی کھِل اٹھی ۔۔۔۔۔ زرسانگہ و لائبہ بھی خوشی کے احساس سے مسکرا دیں۔
*******************
ینگ پارٹی حال کمرے میں جمع تھی ۔۔۔۔۔ شعر و شاعری کا آغاز و چائے کا دور شروع ہونے کے مرحلے پر تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا سیڑھیاں اتر کر راہداری عبور کرتی حال کمرے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ پیچھے سے اس کی چوڑیوں بھری کلائی کسی نے پکڑ لی،، اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے سالک حیدر کو دیکھکر لب پھول کی طرح کھِل اٹھے ۔۔۔۔۔۔ اسے استحقاق آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے سالک حیدر نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے ہونٹوں سے چھوا تو سوہا نے نظروں ہی نظروں میں اسے تنبیہ کرتے ہوئے ہاتھ چھڑانا چاہا تو اس نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ شرم سے چلبلاتی حال کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ دعا کے پاس جا کر بیٹھ گئی،، سالک حیدر بالوں میں ہاتھ پھیرتا صوفے پر بیٹھ گیا۔ پرشوق نگاہیں گاہے بگاہے اسی کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ اس کی بولتی نظروں پر وہ شرم سے سمٹتی جا رہی تھی۔ وہ نظریں جھکا کر اپنی ہتھیلیوں پر اس کا لکھا نام اور اظہارِ محبّت دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ اس کی مہندی کا رنگ بہت گہرا آیا تھا۔
جاذم تم سناؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ نے جاذم سے کہا تو وہ شروع ہوا۔
منزلیں بھی اس کی تھیں راستہ بھی اس کا تھا ایک ہم اکیلے تھے قافلہ بھی اس کا تھا،، ساتھ ساتھ چلنے کی سوچ بھی تو اس کی تھی راستہ بدلنے کا فیصلہ بھی اس کا تھا آج کیوں اکیلے ہیں دل سوال کرتا ہے،، لوگ تو سب اس کے تھے کیا خدا بھی اس کا تھا !!!
واہ انتہائی خوبصورت کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب نے تالیاں پیٹتے ہوئے جاذم کی کھلے دل سے تعریف کی ۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اشعر سے کہا تو وہ اپنا کلام شروع کر گیا۔
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے برف کو پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی تھک جائے چاہے کوئی رہ جائے قافلوں کو چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی جیسا بھی ہمسفر ہو صدیوں سے راستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے یہ تو وقت کے بس میں ہے کس کو کتنی مہلت دے ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے سوچ کی زمینوں پہ راستے جدا ہوں تو دور جا نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
بہت اعلیٰ،،، عمدہ،، خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب نے اپنی اپنی جانب سے تعریفی کلمات ادا کئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اشعر کا کلام واقعی میں زبردست تھا۔ سب چائے کے ساتھ انصاف کرتے اس محفل سے مکمل طور پر لطف اندوز ہو رہے تھے۔
زرسانگہ سنائے گی اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہزیب نے زرسانگہ کو سنانے کا اشارہ کیا
کبھی خاموش بیٹھوگے، کبھی کچھ گنگناؤگے میں جتنا یاد آؤں گا مجھے اتنا بھلاؤگے جو کوئی پوچھ بیٹھے گا اداسی کا سبب تم سے بہت سمجھانا چاہوگے مگر سمجھا نہ پاؤگے کبھی دنیا مکمل بن کے آئے گی نگاہوں میں کبھی میری کمی دنیا کی ہر ایک شئے میں پاؤگے پڑھو گے خط کبھی میرے، کبھی تصویر دیکھوگے کبھی ہاتھوں میں جو لکھی ہے وہ تقدیر دیکھوگے میری تصویر پھینکوگے نہ میرے خط جلاؤگے دِیا اپنے سرہانے کا جلاؤگے بجھاؤگے کہیں پر بھی رہیں ہم تم محبّت پھر محبّت ہے تمہیں ہم یاد آئیں گے ہمیں تم یاد آؤ گے
واہ زرسانگہ کیا بات ہے تم نے تو کمال ہی کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اعلیٰ کلام بیشک،،، زونیہ نے کہا تو سب نے تائیدی انداز میں تالیاں بجائیں ۔۔۔۔۔
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ اب حیدر لالا سنائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ادا سے شکریہ ادا کرتے ہوئے زرسانگہ نے سالک حیدر سے سنانے کو کہا۔ سوہا نے پیاری سی مسکراہٹ کیساتھ اسے دیکھا جو اب کلام شروع کرنے کو تھا۔
کارواں بدلو زرا محمل بدل کر دیکھ لو ایک منزل تو نہیں، منزل بدل کر دیکھ لو کیا ہے یہ محفل تمہیں پل میں پتہ لگ جائے گا ایک لمحے کے لئے محفل بدل کر دیکھ لو یہ محبّت کا شجر ہے یہ یہی لگ جائے گا تم بجائے نخلِ و آب و گُل بدل کر دیکھ لو کیوں ڈبوتے جا رہے ہو کشتیوں پر کشتیاں دور ہے ساحل تو پھر ساحل بدل کر دیکھ لو کون کتنا چاہتا ہے سب پتہ لگ جائے گا تم ہمارے ساتھ اپنا دل بدل کر دیکھ لو صرف دو نقطوں میں ہے دنیا کی ساری روشنی ورنہ جو آنکھوں میں ہے وہ تِل بدل کر دیکھ لو سنگ تو جذبات کو محسوس کر سکتا نہیں وہ جو سینے میں دھری ہے سِل بدل کر دیکھ لو اتنا نازک آئینہ رکھنا ضروری تو نہیں ٹوٹتا رہتا ہے دل تو دل بدل کر دیکھ لو دوریاں دشواریاں سب سامنے آ جائیں گی ہم سے ایک پل کیلئے منزل بدل کر دیکھ لو ساری دنیا ایک جیسی تو نہیں ہوتی عدیم عدل ہے درکار تو عادل بدل کر دیکھ لو رحم آتا جائے گا اس کو صدا تم پر عدیم قتل ہونا ہے تو پھر قاتل بدل کر دیکھ لو
اس کی غزل ختم ہوئی تو سب تقریباً دو منٹ تک تالیاں بجاتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ کیا غزل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ایک لفظ دل میں اتر گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ بہت خوب،، بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختلف قسم کے تعریفی جملے وقفے وقفے سے سننے کو ملتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد زونیہ وغیرہ کی باری آئی ۔۔۔۔۔ سالک حیدر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تو سوہا نے اسے دیکھا تو وہ سر کے اشارے سے اسے آنے کا کہتا حال کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ تھوڑے توقف کے بعد اٹھ کھڑی ۔۔۔۔۔۔ تاکہ کسی کو محسوس نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ سیڑھیوں کی جانب آئی تو اسے سبّو سیڑھیاں اترتی دکھائی دی۔
سوہا بی بی،،،، سائیں نے کہا ہے آپ کو سب سے اوپر والی چھت پر بھیجوں جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبّو(ملازمہ) نے اسے دیکھ کر سالک حیدر کا پیغام اس تک پہنچایا تو وہ سر ہلاتی اوپری منزل کی جانب بڑھ گئی۔ سیڑھیوں پر سیڑھیاں پار کرتے وہ چھت پر آئی تو اس کا سانس پھول گیا ۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر ریلنگ پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔ سوہا کی جانب اس کی پشت تھی،، ۔۔۔۔۔ سوہا کا سانس اتنی سیڑھیاں چڑھنے کے باعث پھول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ آہٹ پر سالک حیدر پلٹنے کو تھا ہی کہ وہ سالک حیدر کی پشت سے لگ گئی اور ساتھ ہی اپنا چوڑیوں بھرا ہاتھ اس کے گرد باندھ دیا۔ اس کا نرم گرم سا لمس سالک حیدر کے جذبات کی دنیا میں ہلچل مچانے لگا۔
حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پیچھے سے اس کے شانے پر ٹھوری ٹکا کر اسے پکارا۔
بولو حیدر سائیں کی زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے گرد بندھے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ انہیں باری باری چومتے ہوئے بولا تو سوہا کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی پرکیف ہوائیں چل رہی تھیں،، چاندنی رات تھی، چاند کی روشنی پوری فضا کو منّور کر رہی تھی۔
آج یہیں سوئیں گے کیا ؟ اس نے پوچھا۔
بالکل،، آج ہم یہیں رات گزاریں گے ۔۔۔۔۔۔ دیکھو نا کتنا خوبصورت سماں ہے ۔۔۔۔۔ میں تم اور ہماری محبّت بس !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مخمور لہجے میں بولتا وہ اس کی جانب پلٹا تو وہ بلش کرتا چہرہ جھکا گئی۔ اور پھر اپنی شرم چھپانے کو چھت پر موجود جھولے پر جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔ اس کی ادا سالک حیدر بالوں میں ہاتھ پھیر کے مسکراہٹ ضبط کرتا اس کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور جھولے پر لیٹ کر اس کی گود میں اپنا سر رکھ لیا آنکھیں موند لیں۔
حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔ اگر چھت پر کوئی آ گیا پھر ؟ اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ شرم سے لب دانتوں دبائے بولی
کوئی نہیں ائے گا ۔۔۔۔۔ اور جو آئے گا وہ خود ہی لوٹ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ بھاری لہجے میں بولتا وہ اس کے سر کو ہلکے سے پکڑ کر خود پر جھکا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کی سانسیں بے ترتیب سی ہونے لگیں ۔۔۔۔۔ کچھ دیر کے بعد اپنی گردن پر اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتے وہ بے تحاشہ دہکتے چہرے کیساتھ خود میں سمٹ گئی۔ چوڑیوں نے عجب شور برپا کر رکھا تھا۔
ح،، حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے تحاشہ دھڑکتے دل و سانسوں کی تاروں کو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش میں ہلکان وہ شرم سے چور چور ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد اس نے سر اوپر اٹھایا تو بنا سالک حیدر کی جانب دیکھے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی ۔۔۔۔۔۔۔ پورا جسم مارے حیا کے کانپ رہا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر سالک حیدر بیساختہ ہنس پڑا ۔۔۔۔ اور وہ اپنا تنفس درست کرنے کی کوشش میں بیحال سی اسے دیکھنے لگی تو اس کی بولتی و مسکراتی آنکھوں کو دیکھکر کانوں کی لوؤں تک سرخ ہو گئی پھر خجالت بھرے انداز میں اس کے کشادہ سینے پر مُکا مارا تو وہ قہقہ لگا بیٹھا۔ اس نے اس کا نازک ہاتھ پکڑ کر اس کی مہندی دیکھنے لگا اور پھر پورے جذب سے اس کی ہتھیلی چوم لی۔
تمہیں پتہ ہے سوہا میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی کہ اب ایک پل بھی تم سے جدا ہونے کا سوچنا بھی میرے لئے سوہانِ روح ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم میری دھڑکن میرے دل میں سما چکی ہو ۔۔۔۔ اور میری رگوں میں خون کی مانند دوڑنے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔ تم میری زندگی کا محور اور میری کُل کائنات ہو ۔۔۔۔۔۔۔ چاند کی تابناک روشنی میں وہ بیحد محبت بھرے لہجے میں حکایتِ دل سنا رہا تھا ۔۔۔۔ سوہا نے بے اختیار جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے۔
سوہا میں اب شہر دو روز کے لئے ہی کیوں نہ جاؤں تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گا ۔۔۔۔۔ تمہاری ایک پل کی بھی دوری مجھے گوارا نہیں کجا کہ دو روز ۔۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنا فیصلہ سنایا
ٹھیک ہے،، میں اریشہ سے بھی مل لیا کروں گی ۔۔۔۔ وہ میری یونی فرینڈ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے اریشہ کے متعلق بتایا
بالکل مل لینا میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پیار سے بولا
حیدر سائیں ۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے پلوشہ میرے ساتھ اب ٹھیک ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ وہ بہت شرمندہ تھی اور معافی کی طلبگار بھی ۔۔۔۔۔ میں نے بھی اس کی خطائیں بھلا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں سچ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پرجوش سی بتانے لگی تو وہ چونک اٹھا۔
واٹ ؟؟ کہیں یہ اس کی کوئی سازش تو نہیں ۔۔۔۔۔ آگے چل کر پھر کچھ اس نے غلط کرنے کا پلان تو نہیں بنایا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر کو اس دن کا واقعہ یاد کر کے پھر سے غصّہ آنے لگا۔
نہیں حیدر سائیں،، ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ سچ میں بہت شرمندہ ہے ۔۔۔۔۔ اس نے لائبہ و زرسانگہ کے سامنے معافی مانگی ہے ۔۔۔۔۔ اس نے جلدی سے وضاحت کی اور سالک حیدر نے گہرا سانس بھرتے سر جھٹکا اور اس کا چہرہ تھام کر ایک بار پھر خود پر جھکا لیا ۔۔۔۔۔ کچھ سیکنڈ کے بعد وہ اس کی گود سے سر اٹھاتا جھولے سے اٹھ کھڑا ہوا وہ جو شرم و حیا سے بیر بہوٹی بنی ہوئی تھی اسے جھولے سے اٹھا کر اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کا دوپٹہ جھولے پر ہی رہ گیا ۔۔۔۔۔ اس نے سالک حیدر کی گردن کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا ۔۔۔۔۔ شرم سے برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ اس شخص کی قربت اس پر سحر طاری کر دیتی تھی۔ اس کے ہوش و حواس مختل ہونے لگتے تھے۔
وہ اسے چھت پر بچھی قالین جس پر گاؤ تکیئے لگے ہوئے تھے اس پر لٹا کر اس کا سر تکئے پر رکھ دیا اور اس پر جھک گیا ۔۔۔۔۔۔ وہ شرمگیں چہرہ لئے اس کے گریبان کی بٹنوں سے کھیلنے لگی اور دانستہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا ۔۔۔۔۔ اور پھر نظریں اٹھا کر آسمان پر موجود چاند کو دیکھنے لگی۔
حیدر سائیں ۔۔۔۔۔ چاند کتنا حسین لگ رہا ہے نا ؟ اس نے مدھم آواز میں کہتے انگلی سے چاند کی جانب اشارہ کیا۔
بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔ اتنا حسین کہ دل چاہ رہا کہ دل میں چھپا لوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جھک کر اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے وہ خمار آلود آواز میں بولا تو وہ شرم سے سمٹ سی گئی ۔۔۔۔ اور لرزتی پلکوں سے اسے دیکھا۔
ح،، حیدر سائیں میں تو اس چاند کی بات کر رہی ہوں جو آسمان پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا تو سالک حیدر نے جھک کر ایک بار پھر اس کے لبوں کو چھوا۔
لیکن میں تو اپنے چاند کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ جو اس وقت میرے پہلو میں میری شہہِ رگ سے بھی زیادہ قریب تر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے استحقاق آمیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے کر کہا تو وہ آنکھوں میں پھیلی حیا کی لالی سمیت اس کو دیکھنے لگی۔ اپنی بیقرارانہ نگاہوں سے اس کے چہرے کا طواف کرتے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔
“تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش میری تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں،،، تیری زلفیں، تیری آنکھیں، تیرے عارض، تیرے ہونٹ کیسی انجانی سی معصوم خطا کرتے ہیں”
خمار آلود لہجے میں بولتے اس نے جھک کر اس کی نوزپِن چوم لی ۔۔۔۔۔۔ سوہا کے چہرے پر قوس و قزح کے سارے رنگ بکھر گئے ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر کے ہاتھ اس کی لمبی چوٹیوں کے بل کھولنے لگے تو شرم کی شِدّت سے اس کی پلکیں بوجھل ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاند کی خوابناک روشنی میں اس کے دودھیا چہرے پر بکھرا گلال اس قدر دلکش و حسین لگ رہا تھا کہ اس کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر سی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی چوٹیوں کے بل کھول کر اس نے اس کی چوڑیوں سے بھری کلائی تھام لی ۔۔۔۔۔۔ اور اس کی کلائی کو لبوں سے چھوتے ہوئے نہایت احتیاط سے اس کی تمام چوڑیاں نکال کر سائیڈ پر رکھ دیں ۔۔۔۔۔ سوہا کی آنکھیں حیا سے بند ہو گئیں ۔۔۔۔۔ دل کی دھک دھک کانوں میں حشر برپا کر رہی تھی۔
اس کے بقیہ زیورات اتار کر اس نے اس کے برابر لیٹتے ہوئے اس کے نازک سراپے کو نرمی سے کھینچتے ہوئے اپنے اوپر کیا ۔۔۔۔۔ سوہا کی پلکیں ماہیٓ بے آب کی طرح لرز رہی تھیں۔ سالک حیدر نے دیوانہ وار اس کی گردن پر جا بجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑا سوہا نے تڑپ کر اس کے کرتے کو اپنی مٹھی میں جکڑا ۔۔۔۔۔ وہ مدہوش سا اپنی شدتیں اس پر لٹاتے اسے بھی ہوش و خرد سے بیگانہ کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر اسی زاوئیے پر لیٹے رہنے کے بعد سالک حیدر نے اسی بے اختیاری سے اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کے بالوں کی نرماہٹ محسوس کرتے اسے نیچے لٹا کر اس پر جھک گیا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کا تنفس جیسے اپنی ڈگر ہی بھول چکا تھا ۔۔۔۔ صندلی لب اس شخص کی شِدتوں پر کانپ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پوری شدت سے اس کے عارضوں کو چوما ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں پر لب رکھتے ہوئے اس نے اس کے مرمریں وجود کو خود میں بھینچ لیا ساتھ ہی پیروں کی انگلیاں بھی اس کی انگلیوں سے الجھا لیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی چھوٹی سی ناک کو چومتے ہوئے عقیدت سے اس کی دمکتی پیشانی چوم لی ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے گلاب کی پنکھڑیوں کی مانند خوبصورت لبوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے وہ مکمل طور پر اسں کے وجود پر چھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے خود سپردگی کے انداز میں اس کے وجود کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا تنگ کر دیا ۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کی دھڑکنوں کی تال ایک ہی لے پہ دھڑک رہی تھیں اور سانسیں بھی آپس میں مل چکی تھیں۔ وہ دونوں دنیا جہاں سے بیگانہ ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے اپنی اپنی شِدّتیں ایک دوسرے کو بانٹنے میں مصروف تھے۔ آسمان پر موجود چاند نے بھی ان دونوں کو دیکھکر ماشاءاللّہ کہا اور مزید آب و تاب سے چمکنے لگا۔
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی تم آئے ہو تو اس رات کی اوقات بنے گی تمت البخیر
