No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
علیزے غرارے کو بیڈ پر پھیلائے غور سے اس معائنہ کر رہی تھی ۔
رخسار بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔ اور اپنی لاڈلی بیٹی کی بیتابی دیکھ کر مسکرا دیں ۔پھر وہ چلتی ہوئیں بیڈ پر آ کربیٹھ گئیں ۔
علیزے نے ماں کو دیکھا تو بیتابی بھرے انداز میں انکے پاس ہی آ کر بیٹھ گئی ۔
امّی میں اس غرارے میں پیاری تو لگوں گی نا ؟
میرے لالا کی شادی ہے میں سب سے پیاری دکھنا چاہتی ہوں زونیہ آپی سے بھی پیاری ۔
وہ چہکتے ہوئے بولی تو رخسار بیگم نے اس کی پیشانی چوم لی ۔
میری بیٹی تو اتنی پیاری لگے گی کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جائینگے ۔انہوں نے اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا تو علیزے کے چہرے پر خوشی کے آثار دو گنے ہو گئے ۔
امیّ حیدر لالا ( سالک ) کب آینگے ۔کیا وہ شادی کے دن آینگے ؟؟
اتنے دن ہو گئے ہیں میری ان سے بات بھی نہیں ہوئی ۔ وہ ذرا خفگی سے بولی ۔
میری بات ہوئی ہے بیٹا اس کے آخری سمسٹر چل رہے ہیں دو تین دن میں فراغت حاصل کرکے آئے گا ۔۔۔۔۔۔ اصولاً تو اسے یہیں ہونا چاہیے تھا ۔ حویلی میں اتنی رونق لگی ہوئی ہے ۔ اور وہ شہر کی ویرانیوں میں جا کر بیٹھ گیا ہے ۔ لیکن وہ بھی کیا کرے مجبوری ہے اس کی بھی بیٹا ۔۔۔۔
انہوں نے پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ بھی مطمئن ہو گئی۔
****************
وہ اس کمرے میں آیا جہاں وہ وجود پچھلے دو دنوں سے اس کی قید میں تھا۔ وہ اندر آیا تو سامنے ہی گھٹنوں میں سر دئیے اس لڑکی پر نظر پر پڑی جو اسی کپڑے میں ملبوس تھی جو اس نے دو دنوں پہلے زیب تن کیا تھا۔ لمبے بکھرے بال اور اس کا یہ لاچار انداز اس کی شکست کا واضح طور پر اعلان کر رہا تھا۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے چلتا ہوا چئیر پر بیٹھ گیا اور کچھ لمحے اسے کینہ توز نظروں سے گھورتا رہا جس میں حقارت ہی حقارت تھی۔
اپنا چہرہ اوپر کرو ،،،، وہ بارعب آواز میں بولا لیکین وہ پھر بھی اسی زاوئیے پر ساکن بیٹھی رہی۔
کچھ بکواس کی ہے میں نے ،،، سنا نہیں تمہیں ؟ اب کی بار وہ گویا دہاڑتے ہوئے بولا تو لامحالہ اسے چہرہ اوپر کرنا پڑا وہ شاید رو رہی تھی وہ قدرے فاصلے سے بھی اس کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ رہا تھا۔
اوہ تو رونے کا شغل پورا کیا جا رہا ہے،،، امیزنگ !!! لیکین شاید تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ان سے مجھے شدید نفرت ہے ۔۔۔۔ وہ اس کے قریب آتا اس کے آنسوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
میں چاہتا تو تمہیں یہاں لانے کے بعد تم سے باقی کی انفارمیشن بھی لے سکتا تھا لیکین، تمہارے ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے اور مجھے انتظار کرنے کی عادت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس بار بھی اس کا نشانہ اس کے آنسو ہی تھے۔
پ پلیز مجھے جانے دو، تم جو کہو گے میں کروں گی ل لیکین مجھے جانے دو پلیز ۔۔۔۔۔ وہ سسکتی ہوئی بولی تو وہ خون آلود آنکھوں سے اسے دیکھتا اسے کندھوں سے جھپٹ کر کھڑا کر گیا۔
یہاں سے جانے کا اب خواب میں بھی مت سوچنا، البتہ اپنی “جو بھی میں کہوں گا مانو گی” والی بات سے مکر مت جانا اب، تو بولو جو بھی میں کہوں گا بنا کسی ڈرامے کے بنا کسی شور و غل کے مانو گی ؟ ویسے تو تمہیں ہر حال میں ماننی ہوگی میری بات اب یہ تم پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ تم کس انداز میں میرے حکم کی تعمیل کرنا پسند کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
تمہیں ایک لیٹر لکھنا ہوگا، اور میرا آدمی وہ لیٹر تمہارے باپ تک پہنچا دے گا۔ اس لیٹر میں تمہیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ تم میری خاطر میری محبّت میں سب کچھ چھوڑ کر خود آئی ہو اور کسی نے تمہیں مجبور نہیں کیا۔ تم جو کر رہی ہو اپنی خوشی سے کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ جیبوں میں پھنساتا ہوا آرام سے بولتا گویا اسے جلتے ہوئے تندور میں جھونک گیا۔
وحشی آدمی ! تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی ؟ میں مر جاؤں گی لیکین یہ نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غم و غصّے سے پاگل ہوتی چِلّا کر بولی تو ایک زنّاٹے دار تھپڑ نے اس کی بولتی بند کر دی۔ وہ زمین پر منھ کے بل جا گری۔
مجھ سے معافی بھی تو تم مر کر بھی نہیں مانگنے والی تھی جہاں تک مجھے یاد ہے،،، لیکین وہ بھی مانگی تم نے ،،،،، تو تم سے لیٹر لکھوانا میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔۔۔۔ میں تم سے زور زبردستی کر کے بھی لیٹر لکھوا سکتا ہوں ،،،، آئی بات سمجھ میں ؟
وہ مٹھی میں اس کے بال جکڑتے ہوئے درشتگی سے غراتے ہوئے بولا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
جھٹکے سے اس کے بال چھوڑتا وہ اٹھا اور تن فن کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
******************
کون سیکھا ہے صرف باتوں سے
سب کو ایک حادثہ ضروری ہے
وہ سرخ چہرے سمیت سر جھکا کر اپنے بقیہ آنسو گویا پئے جا رہی تھیں لیکن، وہ آنکھوں کو بار بار ان کی ہزار کوششوں کے باوجود دھندلا کر رہے تھے۔ سامنے ہی صوفے پر بیٹھے مہروز سائیں (دادا سائیں) کی سخت نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں۔
اپنے آنسوں ساف کر لیں خانم ، ہمیں قطعی منظور نہیں کہ اس بد بخت کے لئے آپ اپنے قیمتی آنسوؤں کو ضائع کریں۔ حویلی میں جب بھی کوئی خوشی کا موقع آتا ہے۔ آپ کو اس ناہنجاذ کی کیوں یاد ستانے لگتی ہے ؟
کیا بقیہ لوگ یہاں مر گئے ہیں؟ ایک بات آپ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ وہ سالوں پہلے ہمارے لئے مر چکی ہے ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں سنا آپ نے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے تقریباً چنگھاڑتے ہوئے پوچھا تو وہ خفیف سی ہو گیئں اور پھر رندھی آواز میں کہا۔
مجھے نہیں پتہ کہ میری تربیت میں کیا کمی رہ گئی تھی کیوں اس نے ایسا کیا لیکن، ماں ہوں اولاد کا غم بھولنا میرے لئے آسان نہیں ہے۔ ان گزرے سالوں میں بہت کوشش کی ہے اُسے بھولنے کی لیکن کل بھی ناکام تھی اور آج بھی ہوں!!! اُن کی بات سن کر وہ کچھ پل اُنھیں خاموش نظروں سے دیکھتے رہے۔
تو پھر سن لیں آپ، آج آخری دن ہے اس کے نام پے ماتم کرنے کا، آج کے بعد اگر اُسکا نام لینے کی بھی گستاخی اس گھر کے کسی فرد نے بھی کی تو وہ یقیناً سزا کا حقدار ہوگا اس بےغیرت کی وجہ سے جو کلنک ہمارے ماتھے پر لگا ہے اُسے مرتے دم تک فراموش نہیں کیا جا سکتا!!!!!!!!!!! انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر غصیلے لہجے میں کہا۔
آپ باپ ہیں اس کے ایک بار ظرف بڑا کر کے تو دیکھیں ۔۔۔۔ پتہ نہیں وہ زندہ بھی ہے یا نہیں صرف ایک بار پتہ کروائیں میری خاطر خدا کے لئے۔ خانم کے کب کے رکے آنسوں پھر سے بہہ نکلے تھے۔
خاموش!!! خبردار اگر آپ نے آئندہ یہ بات اپنے منھ سے نکالی، جب اُس نے وہ ناپاک کام کیا تھا تب ہم نے پتہ کروایا تھا تو صرف اس لئے تاکہ اسے عبرتناک موت دے سکیں لیکن اُسے ڈھونڈنے میں ہم ناکام رہے، اب ہماری بلا سے جہنّم میں جائے وہ کاش وہ پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ وہ دہاڑتے ہوئے بولے تو بی جان ( جو حویلی کے ساتھ گاؤں بھر میں خانم کے نام سے پکاری جاتی تھیں ) چپ سادھتی اپنی جگہ ساکن رہ گئیں۔ وہ اٹھے اور تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئے۔
***************
اس کا سارا اعتماد جو اُس کی طبیعت کا خاصہ تھا پتہ نہیں کہاں جا سویا تھا۔ وہ تین روز سے یہاں قید تھی اور ان تین دنوں میں اُس نے چند الفاظ ہی ادا کیے تھے وہ بھی اُس ظالم شخص کے کیے گئے ظلم کے دفاع میں،،، اُسے تو خود پر حیرانی تھی وہ حقیقتاً خود کو ہی نہیں پہچان پا رہی تھی۔
مسلسل بھوکا رہنے کی وجہ سے اُس پر نقاہت طاری ہو رہی تھی کہ ملازم ایک بار پھر رات کا کھانا لے آیا۔ وہ کب تک انکار کرتی اور کہاں تک کرتی۔ ناچار اُسے چند لقمے زہرمار کرنے پڑے۔
وہ ظلم و جابر شخص کچھ دیر پہلے جو حکم نامہ اُسے سنا گیا تھا۔ اُس کی بابت سوچتے ہوئے اُس کی سانسیں رک سی گیئں۔۔۔۔۔۔ اُس کے ماں باپ پے کیا گزرے گی اُنھیں تو اُس پر اندھا یقین تھا۔ وہ اعتماد اور بھروسہ جو اپنوں نے اُس پر کیا تھا وہ ریزہ ریزہ ہو کر اپنی موت آپ مر جائیگا۔ شاید وہ اتنے بڑے صدمے کو برداشت ہی نہ کر سکیں،،،،، باپ کی بیماری اور ماں کی بیچارگی کا سوچتے ہوئے اُس کی آنکھیں اور دل گویا خون کے آنسوں رونے لگے۔ ابھی وہ رو ہی رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ یکایک زوردار آواز سے کھلا وہ خوف کے مارے آٹھ کھڑی ہوئی اندر آنے والا شخص کوئی اور نہیں اُس کی خوشیوں کا دشمن “سالک حیدر خان ” تھا !!!
تو تم نے کھانا کھا ہی لیا، اس کا مطلب کی اب تمہاری بھی ناقص عقل میں یہ بات سما چکی ہے کہ اس کے علاوہ تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تمسخرانہ لب و لہجے میں بولا، وہ کچھ کہے بغیر شعلہ بار نظروں سے اُسے گھورتی رہی۔
نظریں نیچی !! ورنہ اس گستاخی پر تمہاری یہ آنکھیں بھی تمہارے وجود سے الگ کر دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر خان نے درشتگی سے کہا تو وہ نظروں کہ زاویہ پھیر گئی اُس شخص کی شکل سے ہی اُسے نفرت محوس ہو رہی تھی۔
یہ لو لکھو لیٹر جیسے میں کہوں۔ اُس نے نوٹ بک اور پین بستر پر پھینکا تو وہ چوک اٹھی اور ہراساں نظروں سمیت اُس کی جانب دیکھا پھر بدک کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے پیچھے ہٹی۔۔
میں یہ قطعی نہیں کروں گی سنا تم نے ظالم انسان، تم میرے ماں باپ کو کیوں زندہ درگور کرنا چاہتے ہو انہوں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔ اللّٰہ کرے تم مر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور سے چلاتی ہوئی بولی اُس کی آواز غم و غصے کی شدت سے پھٹ گئی تھی مگر ایک زوردار تھپڑ نے اُس کی آواز کو دبا دیا تھا وہ پیچھے کی جانب جا گری۔
میں نے تم سے پوچھا نہیں ہے سنا تم نے سوہا مراد ؟ میں تمہیں حکم دے رہا ہوں تمہیں یہ کرنا ہے اور ابھی کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے سرخ آنکھوں سے اُس کے ہاتھوں میں نوٹ بک اور پین پکڑاتے ہوئے کہا تو وہ رو دی۔ لیکن اس بار اُس کے منھ سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو سکا۔ بس جو وہ کہتا گیا وہ نوٹ بک پر وہی الفاظ گھسیٹتی گئی لیٹر پورا ہوا تو وہ اُس کے ہاتھوں سے لے کر بھرپور معائنے میں مصروف ہو گیا جب اُسکی تسلّی ہو گئی تو وہ آٹھ کھڑا ہوا اور کمرے کا دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی وہ اس وقت مکمل طور پر اُس شخص کے رحم و کرم پر تھی یہ بیچارگی نا چاہتے ہوئے بھی اُسکی طبیعت کا حصہ بن گئی تھی۔
*****************
اُس نے عدنان کو کال ملائی تاکہ اُس کو حویلی جانے کے متعلق آگاہ کر سکے فون پہلی ہی بار میں اٹھا لیا گیا۔
ہیلو سالک خیریت ؟ عدنان نے فکر مندانہ لہجے میں پوچھا ہاں سب خیریت ہے بس یار لالا کی شادی اب بالکل نزدیک ہے میرا حویلی پہنچنا لازمی ہے ایک یا دو دن کے اندر، مزید تاخیر نہیں کر سکتا حویلی میں سب میری غیر موجودگی سے نالاں ہیں لیکن، اس مصیبت کا کیا کروں اُس کو تو میں حویلی نہیں لے جا سکتا اور نہ ہی یہاں فارم ہاؤس پہ چھوڑ کے جا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جھنجلائے ہوئے لہجے میں بولا۔
ایک مشورہ ہے میرے پاس اگر تم مانو تو،،،، کچھ پل کی تاخیر کے بعد دوسری جانب سے عدنان کی آواز ابھری
ہممم بولو! وہ گویا ہوا
تم اگر اُس لڑکی سے نکاح کر لیتے ہو تو تمہارا کردار مشکوک ہونے سے بچ سکتا ہے تمہارے پاس ایک ٹھوس وجہ بھی ہوگی کہ وہ تمہاری بیوی ہے اس طرح تم بنا سوچے سمجھے اُسے حویلی لے جا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔عدنان نے رک رک کر کہا دوسری جانب سالک کو گویا کسی نے جلتی ہوئی آگ میں دھکا دے دیا۔
واٹ؟؟؟ وہ اتنی زور سے چیکھا کہ عدنان کے ہاتھوں سے فون گرتے گرتے بچا
مسٹر عدنان، تم شکر کرو کہ تم اس وقت میرے سامنے نہیں ہو ورنہ اب تک میرے ہاتھوں سے میں تمہارا گلا گھونٹ چکا ہوتا۔ اُس دو ٹکے کی لڑکی نے ہزاروں لوگوں کے مجمعے میں مجھے رسوا کیا اور تم مجھے مشورہ دے رہے ہو کہ میں اُسے اپنی زندگی میں شامل کر لوں، کیا تمہارے ہوش و حواس سلامت ہیں ؟ وہ دہاڑتے ہوئے بولا تو عدنان چپ کا چپ رہ گیا۔۔ وہ ویسے بھی اُس کے غصے سے خوف کھاتا تھا کیوں کہ جب وہ غصے میں ہوتا تھا تو بلکل بھی لحاظ نہیں کرتا تھا۔
میں تو بس تمہاری مشکلات کے خیال سے بول رہا تھا۔۔۔۔۔ عدنان نے دبے دبے لہجے میں کہا۔
اس طرح کے مفید مشورے کا بہت بہت شکریہ،،، داد کے لئے میرے پاس الفاظ کم پڑ گئے ہیں مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا دوست اتنا عقل مند بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم اُس لڑکی كا بھلا چاه رہے ہو لیکن، مسٹر عدنان!!! تم اُسے میری زندگی میں شامل کرنے کا کہنے سے پہلے شاید یہ بھول گئے کہ میں اُس لڑکی سے بے تحاشا نفرت کرتا ہوں اتنی نفرت کہ اسے اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ وہ میرا نام بھی اپنی زبان سے لے سکے، حتیٰ کہ اسے زندگی میں شامل کرنا تو دور کی بات ہے ۔۔۔۔۔ سنا تمہیں؟ وہ چبا چبا کر بولا
بعض اوقات شدید ترین نفرت کا اختتام شدید ترین محبّت پر ہوتا ہے، سنا ہوگا تم نے ؟ عدنان نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا تو سالک حیدر خان کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔
محبّت ہونہہ ،،،، وہ بھی اس لڑکی سے ؟ اپنی بکواس بند کرو ورنہ تمہارے گھر تک کا فاصلہ طے کرنے میں مجھے بالکل ٹائم نہیں لگے گا، میرے ہاتھوں زایاں ہونے کا پلان بنا لیا ہے تو بتاؤ ؟ تم اس لڑکی کے دوست ہو یا میرے ؟ پہلے مجھے اس بات سے آگاہ کرو تم ، کیونکہ مجھے تو اب تمہاری دوستی پر بھی شک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات پر دوسری جانب عدنان نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی۔
کیسی بات کر رہے ہو یار ؟ میں تو تمہاری فکر میں وہ مشورہ دے رہا تھا تمہیں نہیں منظور تو رہنے دو،،، میری دوستی پر انگلی تو مت اٹھاؤ میں تمہارا مخلص دوست ہوں یقین کر لو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے یقین سونپنے کی کوشش کی
ہمممم !!! لیکن آئندہ تم ایسی کوئی بکواس نہیں کرو گے ورنہ پھر انجام کے لئے تیار رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سپاٹ لہجے میں بولا پھر اِدھر اُدھر کی کچھ باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا۔ لیکین حقیقتاً عدنان کی بات نے اس کے اندر بھانبھڑ جلا دئیے تھے جس کی تپش اس کی آنکھوں میں بھی اتر آئی تھی۔
**************
رو رو کر ان کا سر درد کی شدت سے پھٹا جا رہا تھا اور اب ان کا ذہن غنودگی میں جا رہا تھا۔ وہ اونگھنے لگی تھیں کہ یکایک باہری دروازہ انتہائی زوردار آواز میں بجایا گیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔
ک کون ہے ؟ دروازے کے نزدیک آ کر انہوں نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا
آپ کے نام پر ایک لیٹر ہے وہی پہنچانے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ دروازے کے دوسری جانب سے کسی مرد کی آواز ابھری تو وہ حیرت کی گہرائیوں میں ڈوبتی دروازہ کھول بیٹھیں
میرے نام پر لیٹر ؟؟؟ لیکین، کس نے بھیجا ہے؟ اسماء بیگم نے لیٹر اس شخص کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے پوچھا
مجھے مزید کچھ بھی کہنے سے منع کیا گیا ہے، آپ لیٹر پڑھکر خود ہی سمجھ جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا بولا اور پلٹ کر سامنے کھڑی گاڑی میں جا بیٹھا۔
وہ دروازہ بند کرتی لیٹر لئے صوفے پر بیٹھ گئیں اور لیٹر کھول لیا ،،،، جوں جوں اس پر لکھی سطروں پر ان کی نظریں پھسلتی گئیں انہوں یوں محسوس ہوتا گیا گویا ان کے سر پر نہ تو آسمان کا سایہ ہے اور نہ پیروں تلے زمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے لیٹر کو دیکھ رہی تھیں جس میں ان کی بیٹی نے برملا اپنے عشق کا اظہار کیا تھا اور آخر میں یہ بھی لکھا تھا ٫٫٫مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجئے گا کیونکہ میں اپنی محبّت کے ساتھ بہت خوش ہوں؛؛؛
لیٹر ان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر نیچے جا گرا اور وہ یکایک ہوش میں آتی دہاڑیں مار مار کر رونے لگیں۔ پھر آس پاس کے گھروں میں بسنے والے لوگوں کا خیال کرتے اپنے منھ پر ہاتھ رکھتے بمشکل اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا۔ ان کے رونے کی آواز سن کر مراد صاحب کی نیند میں بھی خلل پڑا تھا وہ اپنی کمزور آواز میں انہیں کمرے سے آوازیں دے رہے تھے۔ اسماء بیگم کمرے میں داخل ہوئیں اور گھٹی گھٹی آواز میں زار و قطار رونے لگیں۔
کیا ہوا ہے اسماء تم ایسے کیوں رو رہی ہو ؟ کیا سوہا کا کچھ پتہ چلا ہے کہاں ہے میری بچّی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بیحد گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا تو آسماء بیگم کی سسکیاں مزید تیز ہو گئیں۔
آپ اب بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہوا تو سن لیں وہی ہوا ہے جو برسوں پہلے ہوا تھا۔ تاریخ ایک بار پھر اپنا آپ دہرا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے چلاتے ہوئے کہا
ک کیا مطلب ہے تمہارا ؟ مراد صاحب ہکلاتے ہوئے بولے ،،، ان کے سوال پر اسماء بیگم کمرے سے باہر نکلیں اور حال میں صوفے کے قریب گرا لیٹر اٹھایا اور اسی تیزی سے کمرے میں آئیں ۔۔۔۔۔ مراد صاحب ابھی بھی وہیں کھڑے تھے
یہ لیں پڑھ لیں سب سمجھ آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے لیٹر مراد صاحب کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا تو مراد صاحب نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے لیٹر پکڑ لیا۔
لیٹر پڑھنے کیساتھ ساتھ ان کی آنکھیں اسی تیزی سے آنسوؤں سے بھرتی جا رہی تھیں۔ اس کے بعد وہ گویا کراہ اٹھے تھے ان کا سارا جسم بے جان ہو گیا تھا اور وہ پیچھے بیڈ پر جا گرے۔
مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم کی دلدوز چیخیں پورے گھر میں گونج اٹھیں ،، انہوں نے مراد صاحب کو سہارا دیا لیکن وہ ان کے ہاتھوں سے پھسلتے جا رہے تھے۔ خوف کے مارے اسماء بیگم کا پورا وجود کانپنے لگا اور چیخیں مزید زور پکڑنے لگیں۔ ان کے پڑوسیوں تک ان کے رونے کی آوازیں پہنچ چکی تھیں۔ ان کی آہوں کیساتھ ساتھ باہری دروازے کی دستکیں بھی زور پکڑتی جا رہی تھی۔
جاری
