No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
وہ اس قدر اسٹریس میں چلا گیا تھا کہ ڈاکٹرز کو اسے سکون کا انجکشن لگانا پڑا تھا،، جس کے باعث اب وہ تھوڑا غنودگی میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان کے حُکم پر سب حویلی چلے گئے تھے۔ بی جان، اسماء بیگم، رخسار بیگم، و سوہا جسے بی جان نے ساتھ روک لیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور مرد حضرات میں معاذ، عبّاس و مہروز خان رک گئے تھے،،، مرد حضرات تو ویسے بھی گاہے گاہے چکّر لگا سکتے تھے۔ صبح تک اسے ڈسچارج کر دینا تھا،، کیونکہ بقول مہروز خان کے کہ وہ اسپتال کے مقابلے حویلی میں زیادہ بہتر محسوس کرے گا۔ یہاں وہ اکتا جائے گا !!! جو مرد حضرات ادھر رکے تھے، وہ سالک حیدر کی دوائیوں و ایکسرسائز کے سلسلے میں ڈاکٹرز سے بات کرنے کی غرض سے چلے گئے تھے۔
سب کے جانے کے بعد وہ آہستہ قدموں سے چلتی دروازے کے اندر داخل ہوئی تھی،، بی جان آنکھیں بند کئے تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں، رخسار بیگم و اسماء بیگم بھی زیر لب دعاؤں کے ورد میں مصروف تھیں، لیکن اسماء بیگم کی نظریں بغور سوہا کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھیں،،، وہ اسی رفتار سے چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آ کھڑی ہوئی اور اپنی جلتی نظریں اٹھا کر اس شخص کو دیکھا،، جو ہوش و خرد سے بیگانہ اب مکمل گہری نیند میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی جلن مزید بڑھ گئی تھی،، بہت آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر اس نے سالک حیدر کے بے جان و زندگی کی رمق سے عاری ہاتھ کو ہلکے سے چھوا تو رگ و پے میں جیسے سرد سی لہر دوڑ گئی تھی۔
یکایک وہ پلٹی اور تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکلی اور ہسپتال کی راہداری میں چئیر پر بیٹھ گئی۔ دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں
“سالک حیدر خان، تم ایسی موت مرو اور ایسی جگہ مرو جہاں تمہیں ایک گھونٹ پانی بھی نہ میسّر ہو؛؛؛ تم ہر کسی کے محتاج ہو جاؤ گے، تم اتنی اذیت میں ہوگے جس کا کوئی حساب نہیں،،، میری بلا سے تم جہنُّم میں جاؤ مجھے رتّی برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ہی بے حسی سے بھرپور آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اس نے بے ساختہ ہی تڑپ کر دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ لئے،،، مگر آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو رہی تھیں۔
نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کیلئے ۔۔۔۔ میں ایسا تو نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہو گیا میرے اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دھیمے مگر بے حد اضطراب بھرے لہجے میں کہتی نفی میں سر ہلائے جا رہی تھی۔
جبھی اسے اسماء بیگم کی آواز سنائی دی، وہ اس کے قریب بیٹھی پریشان حال سی اسے دیکھ رہی تھیں۔ وہ کانوں پر سے ہاتھ ہٹاتی وحشت زدہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہ اس پل حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔
سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ایک بار پھر اسے پکارا تو یکایک اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔ اس نے بیساختہ اسماء بیگم کا ہاتھ تھام لیا۔
امّی،، وہ ٹھیک تو ہو جائے گا نا،،، میں مر جاؤں گی امّی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بددعائیں اس کو لگ گئیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں یہ نہیں چاہتی بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ٹھیک ہونا پڑے گا امّی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زار و قطار رونے لگی ،، اسماء بیگم نے افسردگی بھرا گہرا سانس بھرتے اس کو گلے لگا لیا۔
تم ہو نا،، اس کی اتنی خدمت کرنا،، کہ وہ خودبخود روبصحت ہونا چاہے، میری بیٹی،،، وہ پہلے ہی بہت اذیت میں ہے تم اس کے ساتھ ایسا کچھ مت کرنا کہ وہ ان حالات میں بھی تمہاری بیگانگی سے بالکل ٹوٹ جائے ۔۔۔۔۔۔ اس نے جو کچھ کیا اسے اب بالکل بھول جاؤ، دل میں اس کے لئے جو بھی ناراضگی ہے ختم کرو،،، اور اپنے شوہر کی خدمت کرو اسے محبّت دو ۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کرے ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ ۔۔۔۔۔ تم میرے ساتھ آنا کیوں نہیں چاہتی تھی ہسپتال ؟؟؟؟ انہوں نے اس کے شانے کو سہلاتے ہوئے پوچھا جبکہ وہ ہنوز زور و شور سے رو رہی تھی۔
کیونکہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے،،، مجھے خود کو سنبھالنے کیلئے وقت چائیے تھا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے بہت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں وہ مجھ سے ناراض ہو گا میں جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی۔
تو تم اپنی خدمت و محبّت سے اس کی ناراضگی دور کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللّہ وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ دعاؤں میں بہت طاقت ہوتی ہے ،، یہ پہاڑ کو بھی پگھلا کر موم بنا دیتی ہے تو انسان کیا چیز ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اس کے آنسو پونچھ کر اسے سمجھایا تو وہ سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
اچھا چلو !!! اندر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اٹھتے ہوئے اسے بھی کہا تو وہ ان کے ہمراہ اندر چلی ائی۔ بی جان و رخسار بیگم اب نیند میں جھول رہی تھیں۔ اسماء بیگم بھی اپنی جگہ بیٹھ گئیں جبکہ وہ بیڈ کے پاس موجود چئیر پر بیٹھ گئی اور دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا جو دنیا و جہاں سے بیگانہ پڑا تھا۔ دیو قامت وجود، مغرور کھڑی ناک، پیشانی پر بکھرے بال، ہلکی ہلکی شیو و بھرے بھرے ہونٹ، چہرے کی سفیدی میں اب زردی بھی ملی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس حالت میں بھی وہ ہوش و ہواس چھین لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔ سوہا کو اپنی کیفیت سمجھ میں نہیں آ رہی تھی،، مگر وہ اس کے لئے دل کو بہت گداز محسوس کر رہی تھی،، اس بات کا اس کو بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسماء بیگم بھی اب اونگھنے لگی تھیں،،، وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بیڈ پر ہاتھ رکھتے زرا سا جھکی اور بے خبر سوئے سالک حیدر کے لائٹ براؤن بالوں میں آہستگی سے ہاتھ پھیرا جبھی قدموں کی آہٹ پر تیزی سے بیڈ کے پاس سے ہٹتے ہوئے وہ اسماء بیگم کے نزدیک آ بیٹھی۔
آنے والے معاذ مہروز خان و عبّاس خان تھے۔ وہ بیڈ کے پاس پڑی چئیر پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔ یوں دھیرے دھیرے رات گزرتی چلی گئی تھی،، وہ ساری رات ایک لمحے کے لئے بھی نہ سو سکی تھی،،، مختلف دعاؤں کا ورد کرتے اس کی نظریں مسلسل سالک حیدر پر ٹکی ہوئی تھیں۔ جو شاید انجکشن کے باعث ہی اتنی پرسکون و گہری نیند سو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح ساڑھے چار بجے کے قریب وہ آنکھیں کھول گیا تھا، بی جان وغیرہ بھی جگی ہوئی تھیں۔ سب اسے جاگتا پاکر اس پر جھک گئے،،،سوہا بھی پیچھے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے بیحد محبت سے جھک کر اس کی پیشانی چوم لی
حیدر میرا لال،، تو فکر نہ کر ۔۔۔۔۔۔ تو بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ اللّہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ سوہا بھی تیرے لئے کتنی پریشان ہے،، ساری رات نہیں سوئی،، جب جب میری آنکھ کھلی اسے جاگتا پایا ۔۔۔۔۔۔۔ سب کی دعائیں تیرے ساتھ ہیں میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے پیار سے کہا تو سالک حیدر کی نظریں ایک پل کے لئے بیڈ کے نزدیک کھڑی سوہا پر گئیں،، جو اس کے دیکھنے پر اپنی پلکیں جھکا گئی تھی۔ وہ نظروں کا زاویہ بدل گیا تو سوہا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جس کے چہرے پر سرد سا تاثر تھا۔
دادا سائیں،، مجھے گھر لے چلیں پلیز،،، میں یہاں مزید نہیں رہ سکتا اب ۔۔۔۔۔۔۔اس نے بیزاری بھرے انداز میں مہروز خان سے کہا۔
بس برخوردار ڈاکٹر کو آ جانے دو،،، پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے تسلی دی تو وہ سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔۔ اس نے مزید ایک نظر بھی سوہا پر نہ ڈالی تھی۔
دو سے تین گھنٹے کے مزید انتظار کے بعد ڈاکٹر ڈیوٹی پر آیا تو انہوں نے اس سے اجازت لی،، ساتھ ہی بل وغیرہ کی پیمنٹ کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو وہیل چیئر پر بٹھا کر باہر کھڑی گاڑی تک لے جایا گیا،، اور پھر وہیل چیئر سے گاڑی میں منتقل کر کے پچھلی سیٹ پر لٹا دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ خواتین دوسری گاڑی میں سوار ہوئیں۔ گاڑیاں تیزی سے حویلی کے راستے پر گامزن ہوئی تھیں۔
*******************
گاڑیاں حویلی کے گیٹ کے اندر جوں ہی آئیں تو خواتین، لڑکے و لڑکیاں گیٹ پر آ گئے ۔۔۔۔۔۔ ملازمین بھی اپنے خان کی یہ حالت دیکھ کر سخت غمگین تھے۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے شاہزیب و معاذ وغیرہ نے اس کو وہیل چئیر پر بٹھایا تو سب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں،، سالک حیدر خان شِدّتِ ضبط سے آنکھیں میچ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی زہنی حالت کی تباہی کا اندازہ لگاتے ہوئے سوہا بمشکل اپنے آنسو پیتے اندر جانے کیلئے بڑھی، علیزے تو جیسے اسے اس حال میں دیکھ دیکھ کر پاگل سی ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ سب اسے اندر لائے بی جان نے اسے نیچے ہی ٹھہرنے کا کہا،، بقول ان کے اس حالت میں اس کا اوپر جانا مشکل امر ہے،، بھلے ہی وہ سہاروں پر جائے گا لیکن اگر اسکی تکلیف بڑھ گئی تو مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے نہیں سنی،، وہ اپنے ہی کمرے میں اپنے ہی بستر پر سکون محسوس کرتا تھا،، سو اس کے انکار پر اسے سہاروں کے ساتھ اوپر کمرے میں پہچا دیا گیا۔
بی جان نے ہسپتال میں اس کے نیند سے اٹھنے کے بعد اسے تھوڑا بہت کچھ کھانے پر اصرار کیا لیکن وہ انکار کر گیا تھا ۔۔۔۔۔ اسے بیڈ پر لٹانے کے بعد سب کچھ دیر تک اس کے پاس کھڑے رہے،، پھر بی جان نے اس کے آرام کا خیال کرتے ہوئے سب کو جانے کا کہہ کر خود بھی کمرے سے نکلنے لگیں تھیں کہ نظر ہراساں سی دروازے کے باہر کھڑی سوہا پر پڑی۔
سوہا میری دھی،، اب تیرے شوہر کی خدمت تیرے زِمّہ داری ہے ۔۔۔۔۔ اسے کسی بھی چیز کی ضرورت محسوس ہو تو تو پورا کرے گی،، اس کے پاس سے مت ہٹنا ۔۔۔۔۔۔ یہیں رہو ۔۔۔۔۔ میرا بچّہ بہت تکلیف میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اللّہ اسے جلد از جلد ٹھیک کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کے نرمی و شفقت سے بولتی آبدیدہ سی ہو گئیں۔ اور نم آنکھیں دوپٹے سے پوچھتی نیچے کی جانب بڑھ گئیں۔
ان کے جانے کے بعد اس نے اندر داخل ہوتے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور بیڈ کے قریب آئی۔ وہ جو اسے اپنے قریب آتا محسوس کر چکا تھا نظروں کا زاویہ پھیر گیا۔ وہ اضطراری کیفیت میں ہاتھوں کو مسلنے لگی۔
ممم میں جانتی ہوں ت،، تم مجھ سے نا،،، ناراض ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ب،، بہت غلط کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے ان الفاظوں کے ل،، لئے میں معافی چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔ پ،، پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہکلاتے ہوئے بمشکل اس کے ہونٹوں سے لفظ ادا ہوئے تھے جبکہ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے نظروں کا زاویہ پھیر کر اسے چھبتی نظروں سے دیکھا۔
حیرت ہے !! تمہیں تو دکھ ہونا چائیے کہ میں زندہ کیوں بچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ تم نے میرے حق میں دعائیں تو بہت کیں،، مگر افسوس !! تمہاری خواہش ادھوری رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔ میں مر جاتا تو ۔۔۔۔۔۔۔ کاٹ دار لہجے میں کہتا وہ مزید کچھ کہنے کو تھا کہ وہ تڑپ کر بیساختہ آگے بڑھی اور اس کے پاس ٹک کر اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ سوہا کو یکدم ہی اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا تو ہاتھ ہٹا لیا ۔۔۔۔
میں تم سے معافی چاہتی ہوں،، پلیز مجھے معاف کر دو،، میرے الفاظ بہت غلط تھے میں جانتی ہوں،، لیکن میں تم کو ایسے نہیں دیکھ سکتی کیونکہ مجھے لگتا ہے یہ میری بددعاؤں کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہوئے سسک اٹھی جبکہ وہ شِدّتِ گریہ سے سرخ آنکھوں سمیت اسے دیکھتا واپس نظروں کا زاویہ پھیر گیا۔
جو ہونا تھا ہو گیا،مجھے میرے ہی کئے کی سزا ملی ہے بیشک،،، تم چاہو تو جشن کا اہتمام کر سکتی ہو،، ویسے بھی میری موت پر تم جشن ہی تو منانے والی تھی نا ۔۔۔۔۔ تو بس یہی سمجھ لو کہ میں مر گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ کیا میں تمہیں مردہ وجود نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔۔ خود اذیتی کی انتہا پر پہنچتا وہ بھنچے لہجے میں بولا تو سوہا کے آنسو اور بھی تیزی سے بہنے لگے تھے۔
پ،، پلیز ،،، ایسا تو نہ کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔ مجھے اللّہ پر پورا بھروسہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں بولی تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔ پھر اس کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہو گئے تھے۔
تمہیں کس نے مجبور کیا ہے یہ سب کرنے کو سوہا ؟؟؟ اس نے سلگتی آنکھیں اس کے چہرے پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
کسی نے نہیں !!! بس مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے ،،، تم نے میرے ساتھ جو کچھ بھی کیا وہ اپنی جگہ،،، لیکن مجھے تمہارے لئے وہ الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سر جھکاتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بولی تو سالک حیدر کے ہونٹوں پر ایک اسہزائیہ مسکراہٹ آ گئی۔
یہ تو میں بخوبی جانتا ہوں کہ تم مجھ سے محبّت نہیں کرتیں،، تو اس کے علاوہ کون سا جذبہ بچتا ہے سوائے ہمدردی کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ہمدردیوں سے نفرت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جتاتے ہوئے لہجے میں بولا اور،، سر جھٹکتا دائیں ہاتھ سے شرٹ کے بٹن کھولنے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر کے ماتھے پر بل پڑ گئے وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
مممم میں ک،،، کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منمناتے و ہکلاتے ہوئے بولی تو وہ گہرا سانس بھر کے رہ گیا۔ درحقیقت اسے سوہا کے اُن الفاظوں نے ٹھیس پہنچائی تھی، کتنی آسانی سے اس نے کہہ دیا تھا کہ اسے اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب اس کا یہ روپ دیکھکر وہ واقعی اس لڑکی کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل تک تو وہ اس سے شدید نفرت کرتی تھی تو پھر آج کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں کی جلن میں اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سرخ آنکھوں سمیت وہ سوہا پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ زہن اس کی اس اچانک تبدیلی پر غور فرما تھا۔
اپنے چہرے پر اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتے اس کی شرٹ کے بٹنوں کو کھولتے ہوئے نہ جانے کس جذبے کے تحت اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس کی شرٹ کے تمام بٹنوں کو کھولنے کے بعد اس نے نہایت آہستگی و احتیاط سے شرٹ اتار دی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ اس کے بنا شرٹ کے وجود سے نظریں چرا لی تھیں۔ جبکہ وہ آنکھیں بند کر گیا تھا۔
سب سے پہلے اس نے اس کے فریش ہونے کا اہتمام کیا،، وارڈروب سے اس کی شرٹ نکال کر بیڈ پر رکھنے کے بعد اس نے اسے سہارا دے کر اٹھانا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا ۔۔۔۔۔
رہنے دو،، میں کسی نہ کسی طرح خود ہی کر لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم چاہو تو باہر جا سکتی ہو !!! وہ نپے تلے انداز میں بولتا ایک ہاتھ کے سہارے سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا کہ سوہا نے بیساختہ اسے سہارا دیا،، تو وہ تکلیف کی شِدّت سے ہونٹوں کو سختی سے بھیچتا اس کے سہارے پر وہیل چئیر پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ وہ وہیل چئیر کو باآسانی واشروم کے اندر لاتی ضرورت کی تمام چیزیں اس کے سامنے رکھتی
اس کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ اسے ٹوتھ برش تھمانے کے بعد اس پانی چیک کیا جو کہ نارمل گرم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیٹ و دائیں ہاتھ کو پانی سے بچاتی اس کے جسم کو اوپری حِصّے کو گیلے تولیے سے پوچھنے کے بعد، اس نے اس کا چہرہ دھلوانے میں مدد کی،، ساتھ ہی وہیل چیئر کو واشروم سے باہر لے آئی تھی۔
وہ سرد تاثر کیساتھ خاموش تھا،، شاید وہ اپنی اس کنڈیشن کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔ اور وہ اس سے نالاں بھی تو تھا،، وجہ یہ بھی تھی۔
وہیل چئیر کو بیڈ کی سمت لے جاتے ہوئے اس نے بیساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر گویا اسے ٹٹولا تھا،، یہ کیسا جذبہ تھا ،،، اسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔۔۔ کیا سالک حیدر سہی کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ کیا یہ واقعی ہمدردی و ترس کا جذبہ ہے ؟؟؟؟ لیکن کیا ہمدردی و ترس میں انسان اتنا سب کچھ کر سکتا ہے ؟؟؟ اس میں اتنی ہمت کدھر سے آ گئی تھی ؟؟؟ کیا سالک حیدر کو بددعائیں دینے کے بعد اسے اپنے حصے میں آنے والے گناہ کو مٹانے کی تمنا یہ سب کروا رہی ہے ؟؟؟؟ اس کی سوچیں جانے کہاں کہاں پرواز کر رہی تھیں، لیکن اسے جواب اب بھی نہ مل سکا تھا ۔۔۔۔۔۔
تکیہ درست کر کے اسے وہیل چیئر سے بیڈ پر منتقل کرنے کے بعد اس نے اسے تکیے سے ٹیک لگا کر بٹھایا اور اس کی شرٹ اٹھا لی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے جبکہ چہرہ پھر سے سرخ ہو رہا تھا،،، نہایت احتیاط سے اسے شرٹ پہنانے کے بعد اس نے سہارا دے کر اسے لٹایا تھا، اس کوشش میں وہ اس کے اتنے نزدیک آ گئی تھی کہ سالک کی گرم سانسوں کی تپش اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دانستہ اس کے چہرے کی طرف دیکھنے سے پرہیز کیا ۔۔۔۔۔ اور اس پر لحاف ڈال دیا تھا۔
ممم کچھ کھانے کو لاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پیچھے ہٹتے ہوئی لرزتے لہجے میں بولی تو وہ جو اضطراری انداز میں کمرے کی چھت کو دیکھتے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ باہر نکل گئی تھی۔
اس کے جانے کے بعد سالک حیدر خان نے اپنی بے پناہ جلتی آنکھوں کو بند کر لیا تھا۔ اپنی بے بسی پر اس کا دل چاہ رہا تھا وہ کسی چھوٹے سے بچے کی طرح ایڑیاں رگڑتے ہوئے چیخیں مار مار کر روئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محتاجی کے گہرے احساسات سمیت اس نے لب بھینچ کر آنکھیں میچ لی تھیں۔
کیا اندھیروں کے غم کیا اجالوں کے دکھ جب ہرا دیں مقدر کی چالوں کے دکھ جن کی آنکھیں نہیں وہ نہ روئیں کبھی جان جائیں اگر آنکھ والوں کے دکھ تم ملے ہو تمہاری محبّت نہیں ہجر سے بھی بڑے ہیں وصالوں کے دکھ ***************
وہ نیچے اتر کر باورچی خانے کی جانب آئی تو وہاں پہلے سے ہی موجود بی جان و اسماء بیگم کو دیکھ کر ان کے پاس آ گئی ۔۔۔۔۔۔
سوہا،، سالک کے لئے دلیہ بنوایا ہے،، تو لے کر جا اسے کھلا دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ٹرے میں سوپ کا باؤل، نیم گرم پانی، دودھ کا گلاس، و دلیہ کا باؤل رکھ کر اسے تھمایا ۔۔۔۔۔۔ تو وہ خاموشی سے ٹرے تھامتی باورچی خانے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان و اسماء بیگم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور دھیرے سے مسکرا دیں۔
وہ ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئی اور بیڈ کے قریب آتے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور آنکھیں بند کئے پڑے سالک کو دیکھتے قریب آئی۔
میں ناشتہ لائی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آواز پر وہ اپنی بے تحاشہ سرخ آنکھیں کھول گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اٹھنے کی کوشش کی تو اس نے فوراً آگے بڑھکر اسے سہارا دیتے ہوئے اس کی پشت تکئیے سے لگائی ۔۔۔۔
اس کے قریب ٹک کے اس نے اسے دودھ کا گلاس پکڑایا،، دودھ کے بعد وہ سوپ کا باؤل خود تھام کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اور جوں ہی پہلا چمچہ اس کی جانب بڑھایا ۔۔۔۔ وہ ایک ابرو اُچکاتا اس کا ہاتھ تھام گیا تھا،،، وہ چمچہ واپس باؤل میں رکھتی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
تم تو نفرت کرتی ہو نا مجھ سے ؟؟ میری تم سے محبّت تو یکطرفہ ہے نا ؟؟ تو پھر یہ سب کر کے تم مجھے پاگل کیوں کر دینے کے درپے ہو ؟؟ وہ غصّے و بے بسی سے ملے جلے تاثرات کیساتھ دانت پیستا بولا تو وہ نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ منہ سے کچھ نہ کہا۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں،،، شاید سنا نہیں تمہیں !!! وہ زچ ہوتے ہوئے بولا۔
تم سوپ پیو،، ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ نظریں چرا کر کہتی وہ ایک بار پھر چمچہ اس کی جانب بڑھا گئی ۔۔۔۔۔۔ تو وہ شکن آلود پیشانی سمیت منہ کھول گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ !!!
اسے ناشتہ کروا کے فارغ ہونے کے بعد اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور اسے لیٹنے میں مدد کی ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس پر لحاف درست کرتی کمرے کی لائٹ آف کر کے باہر نکل گئی جبکہ وہ دوبارہ آنکھیں بند کر گیا تھا۔
کچھ درد میرے تو سہنے دے اندر سے زندہ رہنے دے آنکھیں بنجر ہو جائیں گی کچھ اشک میرے تو بہنے دے ******************
وہ کھوئی کھوئی سی بی جان کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی،، بی جان اس کی غائب دماغی کا اندازہ لگا چکی تھیں، جسے شاید سانپ سونگھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
سوہا میری دھی،، کی ہویا،، حیدر نے ناشتہ کیا تھا یا نہیں !!! انہوں نے اس کا چہرہ سہلاتے ہوئے پوچھا تو جیسے کسی گہرے خیال سے چونکی۔
آ ہاں ۔۔۔۔۔۔ کر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاید اب سو رہا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بتاتے ہوئے دوبارہ مراقبے میں چلی گئی۔
اللّہ میرے لال کو مکمل صحتیاب کرے آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے بھی اطمینان کا سانس لیتے ہوئے تسبیح اٹھا لی
بی جان ایک بات کہوں !!! اس نے کسی غیر مرئی نقطے پر نظر جمائے پوچھا
ہاں بول کیا بات ہے ؟ بی جان پوچھتے ہوئے ہمہ تن گوش ہوئی۔
بی جان میں اپنی کیفیت نہیں سمجھ پا رہی ہوں،، مجھے پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بھیگی آواز میں کہا تو بی جان کچھ سمجھتے ہوئے دھیمے سے مسکرا دیں۔
کیا ہو رہا ہے بتا ؟؟ کیا چیز تجھے پریشان کر رہی ہے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں خود بھی سمجھنے سے قاصر ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رخ موڑتے ہوئے بی جان کی گود میں منہ چھپا گئی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بی جان پر اپنا آپ آشکار کر گئی ہے۔ پتھر میں شگاف تو پڑ چکا تھا بس احساس ہونا باقی تھا۔
*****************
سالک حیدر کی خراب طبیعت کے پیشِ نظر رات سب نے شعر و شاعری کی محفل سے گریز برتا،، وہ اپنے کمرے میں آئی تو علیزے و زونیہ وغیرہ کیساتھ بی جان، رخسار و اسماء بیگم کو بھی موجود پایا ۔۔۔۔
سالک کچھ کھا لے ہلکا پھلکا ہی سہی بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے اس کے بے جان ہاتھ کو سہلاتے ہوئے اس کی منت کی۔
نہیں میرا بالکل بھی دل نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بیزار بیزار سا انکار کر گیا تو بی جان گہرا سانس بھر کے رہ گئیں۔
جب کہ لڑکیاں اسے دکھ بھری نگاہوں سے دیکھے جا رہی تھیں،،، کچھ دیر اس کے پاس بیٹھ کر اس پر قرآنی دعاؤں کے ورد کے بعد بی جان اٹھ کھڑی ہوئیں۔
حیدر اب تو آرام کر ۔۔۔۔۔۔ زہن سے ہر قسم کی فکر کو نکال دے ۔۔۔۔۔ تجھے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ تو بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔ انشاء اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے محبت سے اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا تو سب نے زیر لب آمین کہا ۔۔۔۔۔ رخسار بیگم بھی بیٹے کا سر سہلاتی سب کے ہمراہ باہر نکل گئیں۔ وہ چھت پر نظریں ٹکا گیا۔
سوہا دروازہ بند کرتے ہوئے بیڈ کی جانب آئی، اور کچھ دیر تذبذب میں کھڑی رہنے کے بعد بالآخر جھجھکتے ہوئے بیڈ پر آ لیٹی،،، اس اقدام کی وجہ یہ تھی کہ رات میں سالک حیدر کو کسی بھی چیز کی ضرورت پڑ سکتی تھی،، جبکہ دوسری جانب سالک حیدر ساکت رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر خاموشی جوں کی توں تھی ۔۔۔۔۔۔ سوہا زرا سی ہی دیر میں ہی غنودگی میں چلی گئی تھی،،، سالک حیدر کو اچانک پیاس کا شِدّت سے احساس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دائیں ہاتھ کی کہنیوں کا سہارا لیتے بمشکل تھوڑا سا اٹھا تھا لیکن ایسے گلاس سے پانی بھرنا بھی ایک مشکل امر تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ پانی کے بوتل کی جانب ہاتھ بڑھانے کی کوششوں میں تھا کہ ایک جھٹکے سے سوہا کی آنکھ کھلی تھی۔ اسے سائیڈ ٹیبل کی جانب جھکا دیکھکر وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر بیڈ کے دوسری جانب آئی تھی اور تیزی سے گلاس میں پانی بھرا تھا۔
مجھے آواز کیوں نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو موجود تھی نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے شکوہ کناں لہجے میں بولتے پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگایا تھا،،، جو وہ ایک سانس میں ہی ختم کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور پھر نڈھال سا ہو کر تکئے پر سر رکھ لیا۔ ہوا میں یکایک خنکی سی بڑھ گئی تھی،، موسم سرد سا ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ وارڈروب کی جانب بڑھی اور زرا اِدھر اُدھر تلاش کرنے کے بعد بالآخر اسے گرم موزے دِکھ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ موزے لے کر سالک حیدر کے پاؤں کے پاس آ کر جھکی اور احتیاط سے اسے موزے پہنا دئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اسے دیکھا ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں بند تھیں،، پتہ نہیں وہ سو رہا تھا یا جاگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ اندازہ نہیں لگا سکی اور پھر بیڈ کے پاس موجود چئیر پر ہی بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ گہری نیند سو گئی تھی۔
رات کے کسی پہر اس کی زرا سی آنکھ کھلی تو نظر سیدھے بیڈ پر لیٹے سالک حیدر پر پڑی تھی،، شاید اس کے سر میں درد تھا اس وجہ سے اسے نیند نہیں آ رہی تھی،،، وہ آنکھیں موندے دائیں ہاتھ کی مٹھّی بنائے پیشانی پر ہلکی ہلکی ضربیں مار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ فوراً چئیر سے اٹھی تھی اور بیڈ کی دوسری جانب سے بیڈ پر اس کے سرہانے پر بیٹھ گئی۔
میں دبا دیتی ہوں ۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو جاؤگے بہت جلد ۔۔۔۔ شاید تمہیں اسی ٹینشن میں نیند نہیں آ رہی نا ؟؟ پوچھتے ہوئے اس نے جوں ہی ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے آنکھیں موندے ہوئے ہی اس کا بڑھا ہوا ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آنکھیں کھول کر اس کے چہرے پر نظریں ڈالیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہیزل براؤن آنکھوں کی سرخی میں عجیب سا درد ہلکورے لے رہا تھا۔ سوہا ساکت سی یک ٹک اس کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ جبھی وہ گویا ہوا تو اس کی آواز میں جیسے کسی نوحے کی گونج بسی ہوئی تھی۔ آواز عجب سوز لئے ہوئی تھی۔
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں دردِ عشق سے جاں بَلَب مجھے زندگی کی دعا نہ دے مجھے چھوڑ دے میرے حال پر تیرا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تیری نوازشِ مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے میں غمِ جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن و ملال ہوں جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خدا نہ دے میرے داغِ دل سے ہے روشنی یہی روشنی میری زندگی مجھے ڈر ہے ائے میرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں مجھے خوف آتشِ گُل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
آپ رہنے دیں،، آپ کو زحمت ہوگی ۔۔۔۔۔۔ یہ تو اب ساری زندگی کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے آزردہ لہجے میں بولا اور آنکھیں بند کر لیں تو وہ جو ساکت سی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ بے جان انداز میں بیڈ پر لیٹ گئی اور دوسری جانب کروٹ بدل لی تھی ۔۔۔۔۔ کچھ دیر ساکت انداز میں لیٹے رہنے کے بعد اس نے دھیرے سے انگلیوں کی پوروں سے اپنے چہرے کو چھوا تو اسے پوروں پر نمی کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔ اسے حیرت ہوئی، وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ کیوں رو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا،،، لیکن وہ رو رہی تھی اور پھر بے آواز ایک تسلسل سے روتی ہی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔!!!!
جاری ہے
