No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
نکاح کے بعد بعدِ عشاء کھانے کا دور شروع ہوا تھا۔ بی جان و اسماء بیگم اس کے نزدیک آ بیٹھیں اور اس کا گھونگھٹ اٹھا کر سر پر سیٹ کیا اور آبدیدہ لہجے میں اسے ڈھیروں دعائیں دیں،،، خالائیں بھی بھانجی کو دعائیں دینے کیلئے آگے بڑھیں، جبکہ وہ سپاٹ چہرہ و سرد تاثرات لئے پتھر کی مورت بنی ہوئی تھی۔
ہائے اللّہ ،،، یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے،، ایسا لگ رہا ہے ہم کوئی خواب دیکھ رہے ہیں،، یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا ہے کہ میں تو اب تک بے یقینی کی سی کیفیت میں ہوں،،، آج تو مجھے آپ کی نند بننے کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے بے یقینی و شرارت بھرے لہجے میں بولتی آگے بڑھی اور جھک کر پیار سے اس کا چہرہ چھوا تو اس اندازِ تخاطب پر اس نے زخمی نظروں سے علیزے کو دیکھا،، دل تو جیسے خون خون ہو گیا تھا۔
اچھا اب اسے تنگ نہ کرو، اٹھو سوہا، تمہیں کمرے میں لے چلیں، تم چینج کر کے کچھ کھا لو پھر ریسٹ کرو،،، زونیہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں علیزے کو تنبیہہ کی،، اور مائدہ کے ہمراہ آگے بڑھی، اس کے غرارے کو دونوں سائیڈ سے پکڑ کر انہوں نے اسے اٹھایا اور جیسے ہی لئے دو قدم آگے بڑھیں،،، عبّاس و مہروز خان صحن کی جانب آئے ۔۔۔۔۔۔۔ سب سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگے۔
حیدر کی خواہش ہے کہ رخصتی آج ہی ہو،، حالانکہ ہمارا ارادہ تو بعد میں رخصتی کا تھا، لیکن اب جب نکاح ہو گیا ہے تو رخصتی میں کوئی مضحکہ نہیں،،، ولیمہ انشاء اللّہ بعد میں ہماری تمام روایتی رسموں و رواجوں سمیت قرار پائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ رخصتی کی تیاری کریں شاباش ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کو یوں محسوس ہوا جیسے انہوں نے اس کے کانوں میں صور پھونکا ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ بے اختیار سسک اٹھی تھی اور تمام تر بیچارگی سے بی جان و اسماء بیگم کی جانب دیکھا۔مہروز خان نے آگے بڑھکر بے اختیار اسے سینے سے لگا لیا، تو اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی۔
سائیں رخصتی بعد میں بھی تو ہو سکتی ہے نا،، رخصتی کے ساتھ ہی ولیمہ رکھ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے سوہا کی حالت کے پیشِ نظر مہروز خان سے ملتجیانہ انداز میں کہا تو اسماء بیگم نے فوراً ان کی تائید کی۔
بابا جان،،، خانم سہی کہہ رہی ہیں،،، اسے کچھ وقت دیں ،، اتنی جلدی رخصتی کا فیصلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کشمکش کی سی کیفیت میں بولیں۔
ہماری بیٹی کو کون سا یہاں سے رخصت ہو کر کسی دوسرے گھر جانا ہے،، یہیں حویلی میں ہی تو رہنا ہے ہمیشہ،، بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک کی رخصتی پر کیا سوچ بچار کرنا ہے خانم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان نے سسکتی ہوئی سوہا کی پشت سہلاتے ہوئے اس کے سر کو چوما اور اسے خود سے جدا کیا۔ عبّاس خان نے بھی آگے بڑھکر اس کی پیشانی چومی اور رخصتی کی تیاری کرنے کا کہتے مہروز خان کے ہمراہ صحن سے باہر نکل گئے۔ وہ شِدّت سے رو پڑی تھی، بیٹی کی حالت دیکھ کر اسماء بیگم کا دل گویا کوئی مٹھی میں لئے بھینچ رہا تھا۔ دل پر ہزار ضبط کر کے انہوں نے اسے زونیہ کیساتھ اندر بھجا تاکہ وہ اسے کچھ کھلا دے۔
وہ سب اسے کمرے میں لے آئیں، اور ساتھ ہی نِگّو کھانا بھی لے آئی،، بہت اصرار پر بھی اس نے ایک نوالہ نہ لیا تھا،، زہن خالی خالی سا تھا اور وہ بے تاثر آنکھوں کیساتھ نظر جھکائے بیٹھی تھی۔ رونے کی وجہ سے اس کے چہرے پر میک اپ کے مٹے مٹے تاثرات نمایاں ہو رہے تھے۔ زونیہ نے خود ہی اس کا میک اپ سہی کیا اور سر پر دوبارہ دوپٹّہ سیٹ کرتے ہوئے پینز لگائیں۔
علیزے میری ہیلپ کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سوہا کو اٹھاتے ہوئے علیزے کو آواز دی تو وہ فوراً آگے بڑھی اور اسے سہارا دیا۔ وہ سب اسے کمرے سے باہر لائیں اور اوپر جانے والے زینوں کی جانب بڑھیں، اور وہیں کھڑی ہو کر سبّو (ملازمہ) کو بی جان وغیرہ کو بلانے کو بھیجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں گھر کی تمام بڑی خواتین بھی ادھر آ گئی تھیں۔
اللّہ تمہیں ہمیشہ شاد و آباد رکھے میری گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری شادی شدہ ازدواجی زندگی مکمّل اور تمام تر خوشیوں سے بھرپور ہو ۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے لرزتی آواز پر بمشکل قابو پاتے اسے کھینچ کر اپنے سینے میں بھینچا اور پھر اس کے دونوں گالوں کو دیوانہ وار چوما مگر اس بار اس کی آنکھوں سے ایک بھی آنسو نہیں گرا تھا، اس کا چہرہ بے تاثر تھا اور آنکھوں میں زندگی کی کوئی رمق نہ تھی، سب نے ہی دھیرے سے آمین کہا۔ البتہ گلناز بیگم کا موڈ جوں کا توں خراب تھا۔ پلوشہ بھی ہنوز اپنے کمرے میں بند تھی۔
بی جان و بقیہ سب کی بے پناہ دعاؤں کے حصار میں لپٹی سوہا کو لڑکیاں سیڑھیاں پار کراتے ہوئے سالک حیدر خان کے کمرے میں لے آئیں۔ سب کچھ اتنا غیر متوقع تھا کہ کمرہ تو ڈیکوریٹ نہ تھا البتہ بیڈ و قالین پر گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے بیڈ پر بٹھا کر اس کے چہرے پر گھونگھٹ گرا کر وہ سب ایک دوسرے کو اشارے کرتی کمرے سے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دروازہ بند کر کے دروازے پر کھڑی ہو کر سالک حیدر کی آمد کا انتظار کرنے لگیں۔
ان سب کے جانے کے بعد اس نے وخشت زدہ انداز میں گھونگھٹ اٹھایا اور پینز میں جکڑے دوپٹے کا بنا خیال کئے اسے نوچ کر سر سے اتارا اور جارحانہ انداز میں دوپٹے کو دور پھینک دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جھٹکے سے بیڈ سے اتری کہ بھاری غرارے کی وجہ سے لڑکھڑا سی گئی، جبھی نظر سامنے دیوار پر فریم میں قید تصویروں پر پڑی تو اس کا خون جیسے ابل اٹھا۔
سالک حیدر خان،، اب تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم نے کیا غلطی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں میری نفرت کا اندازہ نہیں ہے،، میں تمہیں زندگی بھر معاف نہیں کروں گی، تمہاری بربادی کا انتظار رہے گا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس روز مجھ سے زیادہ خوش کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت سے سوچتے ہوئے ایک بار اس کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاؤں میں موجود پازیب اتار کر اس نے دور پھینکی تھی ساتھ ہی بے دردی سے چوڑیاں و کنگن بھی ہاتھوں سے اتارتے ہوئے قالین پر پھینکا،، اسے یہ سب کسی سانپ و بِچھو کی مانند لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بلکتے ہوئے فرش پر بیٹھ گئی۔ کمرہ اس کی سسکیوں کی آواز سے گونج رہا تھا۔
***************
معاذ و یوسف وغیرہ کے ہمراہ وہ حویلی میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔ برآمدے کے تخت پر بیٹھی بی جان کے پاس بقیہ خواتین کو بیٹھا دیکھ کر وہ سلام کرتا اسی جانب آ گیا۔ بی جان اسے دیکھکر سیخ پا ہوئیں۔
حیدر تو نے صرف نکاح کا کہا تھا، تو رخصتی کروانے کی ابھی کیا تک بنتی تھی ؟؟ انہوں نے کلستے ہوئے پوچھا۔
افففف بی جان !! میں نے کوئی وعدہ تھوڑی کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ رخصتی آج نہیں تو کل ہونی ہی تھی تو آج ہی سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کاندھے اُچکا کر بولا تو بی جان سمیت معاذ اور یوسف بھی اسے گھورنے لگے،،، جبھی اسماء بیگم اپنی جگہ سے اٹھیں تھی اور سالک حیدر کی طرف بڑھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی انہیں دیکھنے لگا
حیدر میں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو تمہارے حوالے کیا ہے،،، اس کو اتنی محبّت و عِزّت سے نوازنا کہ وہ تمہارے دئیے ہوئے تمام غم بھول جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بھیگے و عاجزانہ لہجے میں کہا تو وہ بے اختیار ان کا ہاتھ تھام گیا۔
آپ فکر نہ کریں پُھپھو جان، میں آپ کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دونگا اب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ انہیں یقین دلایا تو انہوں نے بے اختیار اس کا چہرہ تھام کر اس کی پیشانی چوم لی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد وہ بی جان و رخسار بیگم سے دعائیں لینے کے بعد باقی سب سے ملتا اور اجازت لیتا باقی لڑکوں کیساتھ اندر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
یار حیدر،، معاذ کے بعد تو میں تھا نا ؟ لیکن تیری ضد نے میرا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کے کراہ کر کہنے پر ان سب کا قہقہہ گونج اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر دھیرے سے ہنس دیا۔
یوسف لالا سچ کہہ رہے ہیں،، حیدر بھائی،،، مجھے تو ان پر ترس آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ فواد نے شرارتاً کہتے ہوئے ایک آنکھ دبائی تو یوسف نے اور بھی منہ گرا لیا۔ یونہی نوک جھوک کرتے ہوئے وہ سالک حیدر کے کمرے کی جانب آئے تو وہاں لڑکیوں کا ایک ٹولہ کھڑا دیکھکر ان کی آنکھیں باہر کو نکل آئیں۔
دیکھا حیدر لالا ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ سب آپ کے کمرے کے باہر دھرنا دئیے کھڑی ہونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں ان کا لالچ کب ختم ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاذل نے دانت پیستے ہوئے کہا تو وہ سب اسے گھورنے لگیں۔ سالک حیدر نے ان سب کو ایسے اگنور کر کے آگے بڑھا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر، دروازے پر لگی ان کی بھیڑ کی وجہ سے اسے لامحالہ وہیں رکنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتا انہیں دیکھنے لگا۔
کدھر حیدر ؟؟ زونیہ نے ہاتھ کے اشارے سے شرارت آمیز لہجے میں پوچھا، آخر کو وہ اس کا دیور بھی تو تھا،، یہ شغل میلہ تو اس کا حق بنتا تھا
ظاہر ہے اپنے کمرے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک ہاتھ جیب سے نکالتے ہوئے شہادت کی انگلی پیشانی پر ہلکے سے مار کر کہا
لالا آپ پہلے نیگ دیں،، ورنہ اندر جانے کا خیال دل سے نکال دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے
ہٹ دھرمی سے بولی۔
کیا میں اسے دھمکی سمجھوں ؟ سالک حیدر نے ایک ابرو اُچکاتے ہوئے پوچھا
بالکل سمجھے آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نیگ نکالیں تو ہم جانے دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے دروازے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
اچھا !! لیکن کیا یہ ضروری ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جیب سے والٹ نکالتے ہوئے کہا تو وہ سب لپک کر اس کے نزدیک آئیں
بہت ضروری ہے لالا ۔۔۔۔۔ یہ رسم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ جلدی نیگ نکالیں ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔،،، علیزے نے جلدبازی سے کہا تو اس نے والٹ سے ہزار ہزار کے کئی نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھائے ۔۔۔۔
اور دیں ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔۔۔ علیزے نے نوٹ ہاتھوں میں پکڑ کر پیر پٹختے ہوئے کہا تو وہ اسے گھورتے ہوئے چند نوٹ اور بھی اس کے ہاتھ میں پکڑا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ !!!
ہائے اب ہمارے دیور جی کو جانے دو بھئی سب ۔۔۔۔۔۔۔ اندر کی بیقراری چہرے سے عیاں ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ کے شرارتی انداز پر سب کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا تھا جبکہ وہ چہرے پہ سنجیدگی طاری کئے کھڑا ان سب کو دیکھ رہا تھا۔ درحقیقت وہ اندر ہی اندر آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار کر رہا تھا۔
یوسف کے کہنے پر وہ سب اٹھکیلیاں کرتے نیچے کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔۔ جبکہ وہ ایک گہری سانس بھر کے بالوں میں ہاتھ پھیر کے خود کو کمپوز کرتا کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور دروازے کو بند کرتا جوں ہی پلٹا اندر کا منظر دیکھ کر وہیں ٹھٹھک کر رک گیا۔
سامنے ہی وہ گھٹنوں میں سر دئیے ہولے ہولے ہل رہی تھی، فرش پر بکھرے کچھ زیورات،، اور صوفے کے قریب پڑا دوپٹہ، اور اس کا سسکیاں بھرتا الجھا بکھرا سراپا،،، وہ بے اختیار آگے بڑھ آیا مگر اس نے آہٹ پر سر نہیں اٹھایا تھا۔
سوہا ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے آہستگی سے اسے آواز دی دوسری جانب سے کوئی رسپانس نہ پاتے وہ کچھ اور آگے بڑھا۔
میں جانتا ہوں تم مجھ سے بے پناہ نفرت کرتی ہو،، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تم مجھے اپنی نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھتیں، لیکن میں جو کہوں گا سچ کہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی کبھی تم سے اتنی ہی نفرت کرتا “تھا” جتنی تم مجھ سے کرتی ہو،، لیکن پچھلے کچھ دنوں میں میری زندگی مکمّل تبدیل ہو گئی ہے،،، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ جس لڑکی سے میں اس قدر نفرت کرتا ہوں اس سے مجھے جنون کی حد تک محبّت بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ گھمبیر لہجے میں بولتا مزید حکایتِ دل سنانے کو تھا کہ وہ جھٹکے سے اپنا غرارہ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی
خاموش بالکل خاموش !!! سنا تم نے ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ان رام کہانیوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ تم جیسا بے حس وہ خود غرض انسان کیا جانے محبّت کسے کہتے ہیں ،،، تمہیں محبّت کی “م” کا بھی پتہ ہے سالک حیدر ؟؟؟ ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے وہ بے تحاشہ سرخ چہرہ لئے آگے بڑھی اور اس کے گریبان کو مٹھیوں میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔ بے پناہ غصّے و نقاہت سے بھرپور خون چھلکاتا چہرہ و آنکھیں جن میں اس کے لئے نفرتوں کا ایک سمندر آباد تھا ، سرخ ناک جس میں نتھ اب بھی موجود تھی، غصّے کی شِدّت سے لرزتے ہونٹ، بالوں کا آبشار کھل کر پشت پر بکھر گیا تھا جھومر بھی بالوں میں اٹکا ہوا کسی بھی پل گرنے کو تھا۔ وہ اس پل نادانستگی میں ہی سہی پر اس کے اتنے قریب تھی کہ جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ وہ بے خود سا اس کا ہوشربا و پرسوز حُسن دیکھے جا رہا تھا۔
مجھے تو عشق کے “ع” کا بھی بخوبی پتہ ہے، اور تم محبّت کے “م” کی بات کرتی ہو مسز، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اشتیاق آمیز نظروں سے اس کے چہرے کا طواف کرتے ہوئے اس نے جذبوں سے چور آواز میں کہا تو اس اندازِ تخاطب پر ایک جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑتے وہ تڑپ کر پیچھے ہٹی
مسٹر سالک حیدر، یہ تمہاری بھول ہے کہ تم مجھے حاصل کر لو گے،،، یہ نارسائی تمہارا مقدر بن جائے گی، تم مجھے حاصل کر کے کبھی حاصل نہیں کر سکو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم سب کو بیوقوف بنا سکتے ہو، لیکن مجھے نہیں سمجھے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے دل میں جو تمہارے لئے نفرت ہے وہ کبھی کم نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔ تم نے مجھے کھلونا سمجھ رکھا ہے نا، بہت جلد تمہیں اپنے کئے کی سزا ملے گی بہت جلد، مجھے اللّہ کے انصاف پر پورا بھروسہ ہے ۔۔۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے غم و غصّے کی شِدّت سے چلا چلا کر کہا
میں ہر سزا کیلئے تیار ہوں، میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ ناقابلِ معافی زیادتیاں کی ہیں، لیکن میں پھر بھی تم سے معافی کا طلبگار ہوں،، مجھے میرے اس بدترین فعل کیلئے معاف کر دو سوہا تو ہو سکتا ہے ضمیر کا یہ بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اضطراری انداز میں بولتا ایک قدم آگے بڑھا۔
کبھی نہیں، ہرگز نہیں، تم چاہے مجھ سے معافی مانگ مانگ کر مر ہی کیوں نا جاؤ میں تمہیں ساری زندگی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ان معافیوں اور تلافیوں کی میرے نزدیک زرہ برابر بھی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ناگن کی طرح پھنکارتے ہوئے بولی تو وہ آنکھوں میں بے بسی کی سی کیفیت لئے اسے دیکھنے لگا
سوہا ایک دفعہ میری بات تو سن لو !!! وہ کہتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھا تھا کہ وہ چیخ اٹھی تھی۔
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی، سنا تم نے، دور رہو مجھ سے، میرے قریب بھی آنے کی ہمت مت کرنا، گھِن آتی ہے مجھے تمہارے وجود سے ۔۔۔۔۔۔۔اگر تم نے ایسا کیا تو میں اپنی جان لے لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت و حقارت سے بھینچے لہجے میں چلاتے ہوئے اس نے بالوں میں اٹکا جھومر بے دردی سے نوچتے ہوئے دور پھینکا تھا ساتھ ہی سی کر کے رہ گئی مگر پھر فوراً ہی اسی جارحیت سے نتھ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو بنا اس کی باتوں کی پرواہ کئے وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے قریب کھنچا۔
پاگل مت بنو،، میں تمہاری ہیلپ کرتا ہوں اسے اتارنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور رہی قریب آنے کی بات تو میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں،،، تم اس طرف سے بے فکر ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کو ریلیکس کرنے والے انداز میں بولتا اس کی نتھ کی جانب ہاتھ بڑھا گیا جب کہ وہ تو ساکت سی کچھ سمجھنے سے ہی قاصر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ نتھ کو کھولنے کے طریقے ہی سمجھ رہا تھا کہ وہ ہوش میں آتی جارحانہ انداز میں اپنا بازو اس کی گرفت سے نکالتی پوری قوت سے اس کا ہاتھ جھٹکتی پیچھے کی جانب ہٹی تھی۔ دوپٹے سے بے نیاز طیش و غضب کے باعث اس کی سانسوں کے زیر و بم سے اس کے سینے پر پڑا لاکٹ کا پینڈینڈ بھی ہلکورے لے رہا تھا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی بھی،،،،خبردار جو تم نے آئیندہ مجھے چھوا ۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں نے جو کہا ہے کر گزروں گی ہرگز گریز نہیں کروں گی سالک حیدر ۔۔۔۔۔۔ وہ غصّے سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے غرائی تو وہ گہرا سانس بھرتا بیڈ پر بیٹھ کر اس کی نبرد آزمائی دیکھنے لگا۔
وہ غرارے کو سنبھالتی بمشکل چلتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کے پاس جا کھڑی ہوئی اور کھینچ کر گلے سے لاکٹ اتارتے ہوئے دور پھینکا ساتھ ہی کانوں سے جھمکے بھی اتار کر بھی دور اچھال دیئے تھے۔ ساتھ ہی غصّے سے نتھ کا لاک کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ کسی صورت بھی کھل کر نہیں دے رہا تھا۔ درد کی شِدّت سے اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے۔ جبھی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں بیڈ پر بیٹھے اس کی ایک ایک حرکت ملاحظہ فرماتے سالک حیدر پر پڑی تو غم و غصّے کی شدت سے بپھرتی وہ اس کی جانب رخ موڑ گئی۔
اس سب کے زِمّہ دار تم ہو سالک حیدر،، تم نے میری زندگی جس طرح اجیرن بنائی ہے نا دیکھ لینا تم ایک روز تمہاری اپنی زندگی تم پر تنگ ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ شِدّتِ ضبط سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے بیٹھے شخص کا گلہ گھونٹ دے۔
اب اگر تم نے کوشش کر لی ہے تو میں ایک کوشش کر کے دیکھ سکتا ہوں ؟؟ وہ بیڈ سے اٹھتا ڈریسنگ ٹیبل کے نزدیک آ کر بولا تو، وہ جارحانہ تاثرات لئے اس کی جانب پلٹی۔
چاہے ساری رات بھی کوششوں میں گزر جائے تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چائیے ۔۔۔۔۔ بہتر ہو گا تم اپنی اوقات میں رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بپھری ہوئی موج کی طرح وہ دانت پیستے ہوئے بولی تو سالک حیدر نے آگے بڑھکر جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑا تو وہ بے یقینی کی شِدّت سے بت بنی کھڑی رہ گئی۔
یہ کوئی انٹرٹینمنٹ گیم نہیں ہے جسے تم ساری رات کھیلنا چاہتی ہو،، جلدی اس کام سے فارغ ہونے کے بعد چینج کرو اور ریسٹ کرو،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساکت انداز کو نوٹ کرتا وہ باآسانی اس کی نتھ کی لاک کو کھول گیا ساتھ ہی اس کی نتھ آہستگی سے اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی تھیں اور پیچھے ہٹ گیا۔
سوہا میں کبھی بھی تم سے زور زبردستی کا متحمل نہیں ہو سکتا،،، میں تم سے معافی کا طلبگار ہوں آگے بھی رہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ جب تم میری طرف سے اپنے ظرف کو وسیع پاؤ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اب چینج کر کے ریسٹ کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولا۔
تمہارے لئے میرا ظرف کبھی وسیع نہیں ہو سکتا،،، سالک حیدر خان ۔۔۔۔۔۔۔ تم میرے لئے ہمیشہ قابلِ نفرت ہی رہو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہوش میں آتی گھٹے گھٹے انداز میں چیخ کر بولی تو وہ بنا کچھ بھی کہے ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔
جبکہ وہ غرارے کو سنبھالتی واش روم میں بند ہو گئی۔
چینج کرنے کے بعد ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تو نظر صوفے کے قریب پھینکے دوپٹے پر پڑی اس نے دوپٹہ اٹھا کر صوفے پر رکھا اور کارپٹ پر بکھرے جا بجا بکھرے زیورات کو اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا بیڈ کی جانب آیا اور پھولوں کی پتیاں بیڈ سے جھاڑتے ہوئے تکیہ درست کیا جبھی وہ حویلی کے روایتی سادے سے کاٹن کے شرارے میں ملبوس واش روم سے نکلی اور صوفے کی جانب بڑھی تھی۔
سوہا یہ تمہاری رونمائی کا تحفہ ہے، تم آگر قبول کرو گی تو مجھے خوشی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے نزدیک آ کر ایک درمیانہ سائز باکس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا تو اس نے چہرے کے بگڑے زاویئے سمیت وہ باکس اس کے ہاتھوں سے لے پوری قوت سے ڈریسنگ روم کے دروازے پر دے مارا تھا۔
تمہارے ان تحفوں کی مجھے نہ ہی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کی میرے نزدیک کوئی حیثیت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آئیندہ کسی بھی قسم کی زحمت سے پرہیز کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ انگاروں پر لوٹتی الفاظوں کو چبا چبا کر بولی، جبکہ سالک حیدر کے چہرے کا رنگ پل بھر کیلئے متغیر ہو گیا تھا۔
تم حق بجانب ہو !!! خود کو سنبھال کر کہتا وہ پلٹا اور بستر کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ وہ اسی انداز میں بیڈ کی جانب بڑھی اور ایک تکیہ اٹھا کر جوں ہی پلٹی وہ اس کے سامنے آ گیا۔
میں نے تمہیں کہا ہے نا کہ میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں،،، تم چاہو تو بیڈ پر سو سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ساتھ ہی دوبارہ اسے یقین دلایا وہ اسی حساب سے جھلس گئی۔
تمہارے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سونا !!! ناممکن !!! ہونہہ ۔۔۔۔ ہٹو میرے راستے سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تکیہ بازوؤں میں دبائے نظروں کا زاویہ دوسری جانب پھیر کر غصیلے لہجے میں بولی تو وہ کچھ پل اسے دیکھتا رہا پھر سامنے سے ہٹتا بیڈ پر دراز ہو کر سائیڈ لیمپ آف کر دیا۔ جبکہ وہ صوفے پر تکیئے کو پھینکتی لیٹ کر آنکھوں پر بازو رکھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جلتی آنکھوں و جلتے دماغ کو چند گہرے گہرے سانس لے کر قابو میں کرنے کی ناکام سی کوششوں میں مصروف وہ آنکھیں بند کر گئی اور پھر پتہ نہیں کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی اسے خبر ہی نہ ہوئی۔
****************
سالک حیدر کی آنکھ کھلی تو ساڑھے چھ بج رہے تھے،، اس کی نظر بے اختیار صوفے کی جانب گئی جہاں وہ سکڑا سمٹا وجود بے خبری کی نیند سویا ہوا تھا۔ وہ فریش ہونے کی غرض سے واشروم میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ باتھ لے کر تیار ہونے کے بعد آستین کے کف فولڈ کرتے وہ ڈریسنگ روم سے نکلا تو پاؤں تلے کسی چیز کو محسوس کرتے زرا پیچھے ہٹ کر دیکھا تو رونمائی کا تحفہ اپنی ناقدری پر آنسو بہا رہا تھا، سالک حیدر کے ہونٹوں پر دھیمی و مضمحل سی مسکراہٹ آ گئی، اس نے اسے بھی اٹھا کر اور زیورات کیساتھ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اور آہستہ قدموں سے چلتا ہوا صوفے کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
لائٹ پنک کلر کے کاٹن کے سوٹ میں ملبوس چہرے پر بکھری لٹوں، و اپنے بے ریا و معصوم چہرے کیساتھ بے خبر سوئی وہ کوئی ربڑ کی گڑیا لگ رہی تھی۔
وہ بے اختیار ہی اس پر جھکا، اور دھیرے سے اپنی انگلیوں کی پوروں کو اس کے عارضوں پر پھیرا،، تو وہ نیند میں کسمسا کر کروٹ بدل گئی۔ یعنی اس بے خبری میں بھی اس نے اپنی ناگواری ظاہر کر دی تھی۔ سالک حیدر اس کی پشت کو دیکھتا سیدھا کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ وہ ہنوز گہری نیند سو رہی تھی!
یہ بھی نہیں کہ ساتھ ہے میرے وہ ہم نفس ایسا بھی نہیں کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص ***************
وہ سو کر اٹھی تو تقریباً اٹھ بجنے کو تھے،، اس نے پورے کمرے پر نظر دوڑائی اور رات کا منظر دماغ میں تازہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ ناگواری کے بھرپور تاثرات سمیت وہ اٹھی تو نظر سامنے پڑی ٹیبل پر رکھے جوڑے پر پڑی ۔۔۔۔۔ وہ اسے اٹھاتی واشروم میں بند ہو گئی۔ اندر اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں،، یعنی اتنی افراطفری میں بھی کسی بھی چیز کو فراموش نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فریش ہو کر باہر نکلی اور تولیے سے بالوں کو خشک کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبھی کمرے کا دروازہ کھلا تھا
اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو بی جان و اسماء بیگم کیساتھ زونیہ و علیزے بھی موجود تھیں۔ وہ دوپٹہ ٹھیک کرتی سپاٹ چہرے کیساتھ ان کے نزدیک آ گئی۔ اسماء بیگم بغور بیٹی کا چہرہ دیکھ رہی تھیں جہاں خوشی کی کوئی رمق موجود نہ تھی۔
سوہا میری بچّی ۔۔۔۔۔۔۔ چل آ ہمارے ساتھ ناشتہ کر میری دھی،، ۔۔۔۔۔۔ بی جان زونیہ و علیزے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کسی بھی شرارت سے باز رہنے کو کہتیں سوہا سے محبّت سے کہتی اس کی پیشانی چوم گئیں تو اسماء بیگم نے بھی آگے بڑھکر اسے گلے لگایا۔ جبھی رخسار بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔
ماشاء اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نظر نہ لگے ۔۔۔۔۔ چلو ہم سب کیساتھ ناشتہ کرو بیٹا ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے محبت سے اس کی بلائیں لیتے ہوئے کہا تو وہ ہلکے سے سر ہلا گئی۔ اس کا سرد و سپاٹ انداز و صوفے پر موجود تکیہ گزری رات کی داستان خود بخود بیان کر رہا تھا
*****************
سالک حیدر صبح ہی مردان خانے میں ناشتے کے بعد ڈیرے پر چلا گیا تھا،،، اس نے سب کیساتھ ڈائننگ ٹیبل پر ہی ناشتہ کیا،، سب ہی آپس میں نوک جھوک میں مصروف تھے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ نکاح جن حالات میں ہوا تھا سب کو معلوم تھا اس لئے سب نے بمشکل خود کو کسی بھی قسم کے شوخ فقرے چھوڑنے سے باز رکھا،، اس نے بس چند لقمے زہرمار کئے اور چائے کے دو تین گھونٹ کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
اسماء بیگم بیٹی کو اپنے کمرے میں لے جانے کے ارادے سے آگے بڑھیں تو سوہا نے بھی ان کی تقلید میں قدم بڑھائے جبھی اس کا رخ جھٹکے سے کسی نے اپنی جانب موڑا اس نے حیرت سے مڑ کر دیکھا تو سرخ آنکھوں و جارحانہ تیوروں سمیت کھڑی پلوشہ پر نظر پڑی۔
سکون مل گیا تمہیں ہاں بولو ؟؟ تم ڈائن و سبز قدم لڑکی ۔۔۔۔۔ جب سے حویلی آئی ہو سکون غارت کر دیا ہے سب کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب تو تم نے حد ہی کر دی ۔۔۔۔ مجھ سے ؟حیدر سائیں کو چھین کر اچھّا نہیں کیا تم نے بیغیرت لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کا بازو اپنی مضبوط گرفت میں بھینچے وہ چلا چلا کر کہتی وہ ہوش و خرد سے بیگانہ گویا اس کا منہ نوچ لینے کے درپے تھی۔ سب اپنی جگہ ساکت رہ گئے تھے۔ بی جان کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات سمیت آنکھوں میں غصّہ سمٹ آیا تھا۔
سوہا نے جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑایا اور سلگتی ہوئی نظروں سے پلوشہ کو دیکھا۔
تمہارے حیدر سائیں میں مجھے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ہے،، میں لعنت بھی نہیں بھیجتی اس شخص پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کہنا ہے اسے جا کر کہو مجھے نہیں،،، سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لفظ بہ لفظ جما جما کر بولی اور تیز قدموں سے ڈائننگ حال سے باہر نکل گئی۔ پیچھے پلوشہ دانت پیس کے رہ گئی۔ گلناز بیگم نے سر ہاتھوں میں تھام لیا،، اور رخسار بیگم گہرا سانس بھر کے رہ گئیں،، یہ تو ہونا ہی تھا۔
بی جان بھی پلوشہ کو ناگواری کے تاثرات سمیت گھورتی ڈائننگ حال سے باہر نکل گئیں۔ تمام لڑکیاں اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھی تھیں۔
جاری ہے
