No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ہم سے مت پوچھو راستے گھر کے ہم مسافر ہیں، زندگی بھر کے
سالک حیدر اپنی پُرسوچ نظریں چھت کی دیواروں پر ٹکائے بستر پر لیٹا ہوا تھا،، اس کا زہن بہت تیزی سے کام کر رہا تھا۔ یکایک موبائل پر ہوتی رِنگ سے اس کا ارتعاش ٹوٹا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا سیل فون اٹھا کر دیکھا تو سکرین پر “عدنان” کا نام جگمگا رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی، اس نے فون ریسیو کر کے کانوں سے لگایا، دوسری جانب عدنان تو گویا بھرا بیٹھا تھا۔ اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ شروع ہو گیا۔
حد ہوتی ہے یار سالک،، تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ میں تمہارے لئے کتنا فکرمند ہوں، اب زرا میں بولنے کے قابل ہوا ہوں تو سوچا کہ خود بادشاہ سلامت سے پوچھنے کی زحمت کر لوں کہ حضور اتنی افراطفری میں آئے اور اسی رفتار سے واپس کیوں ہو لئے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی غصّے سے تلملائی آواز پر سالک حیدر کا قہقہ بے ساختہ گونجا تھا۔
کام ڈاؤن، کام ڈاؤن، بتاتا ہوں تمہیں سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہایت تحمل سے سننا کیونکہ بات زرا لمبی ہے اور اہم بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسماء بیگم والا قِصّہ عدنان کے گوش گزار دیا عدنان اس کا مخلص دوست تھا، سو اس نے اس سے شئیر کرنا ضروری سمجھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری جانب عدنان حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔
اس کا مطلب جس لڑکی کو تم نے کِڈنیپ کیا، وہ تمہاری پھپھو زاد ہے ؟؟ عدنان کو یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
بالکل !!! اور اب تمہیں کچھ بتانا ہے، جو کہ بہت اہم ہے، میری پہلی بات سے بھی زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
ہممم بولو !!! عدنان ہمہ تن گوش ہوا
عدنان تمہیں یاد ہے ایک بار تم نے مجھے کہا تھا کہ “بعض اوقات شدید ترین نفرت کا اختتام شدید ترین محبّت پر ہوتا ہے” اس وقت مجھے تمہاری یہ بات سوائے فضولیات کے اور کچھ نہ لگی تھی،،، لیکن اب جب میں خود اس دور سے گزر رہا ہوں تو سمجھ آئی ہے کہ تم نے بالکل سہی کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے جذب بھرے لہجے میں گویا ایک بار پھر خود ہی سے اعتراف کیا۔
واٹ ؟؟؟ یہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی !!! تمہارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں محبّت ہو گئی ہے مگر کس سے، کیا جو میں سمجھ رہا ہوں بات وہی ہے ؟؟؟ عدنان نے بے یقینی سے چور لہجے میں پوچھا، آج تو وہ اسے جھٹکوں پر جھٹکے دئیے جا رہا تھا۔
بالکل !!! سوہا مراد سے مجھے محبّت ہو گئی ہے،، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مجھے اس سے عشق ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا انداز اس رہزن کی مانند تھا جو راستے میں ہی اپنا سب کچھ لُٹا بیٹھا ہو۔
یار سالک، یہ واردات ہوئی کیسے ؟ مجھ پر رحم کر میرے یار،، میں ابھی ہاسپٹل سے جان چھُڑا کر آیا ہوں،، تو مجھے پھر کیوں وہیں بھیجنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان کے ملتجیانہ انداز پر سالک حیدر نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔
کچھ نہیں ہوتا تمہیں، فکر نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم میری بات سنو،،، مجھے فوری طور پر کل ہی کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ تمہیں پتہ ہے ہمارے یہاں خاندان سے باہر شادیاں نہیں ہوتیں،،، اس بات کا خیال کرتے ہوئے بچپن میں ہی پلوشہ کو مجھ پر مسلط کر دیا گیا تھا،، جبکہ میں نے اسے ایک لائف پارٹنر کے طور پر کبھی پسند نہیں کیا،، اس کے اور میرے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے،،، بطورِ کزن مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں،،، لیکن میں اسے اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا،، یہ تو میں پہلے بھی نا کرتا اب تو خیر یہ ناممکنات میں سے ہے میرے یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مضبوط لہجے میں کہا۔
کیا مطلب،، تم کل کیا کرنے والے ہو !!! یار تم کچھ ایسا نہ کرنا جس سے حویلی میں قیامت برپا ہو جائے،،، مجھے نہیں لگتا کہ سوہا مانے گی اس بات کیلئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بہت مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم نے اس سے معافی مانگی اپنی زیادتی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سالک کیا، یہ ان کے فیصلوں سے بغاوت نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“میرے دل نے بھی تو مجھ سے بغاوت کی ہے نا، اس کا کیا کروں یار ؟” ۔۔۔۔۔۔۔۔مشکل ہے، ناممکن تو نہیں، لگتا تو مجھے بھی نہیں ہے،، کیونکہ وہ مجھ سے بہت نفرت کرتی ہے، اس کی نفرت بجا بھی ہے اور مجھے منظور بھی ہے،،، رہی معافی کی بات،، تو بس ایک بار وہ میری دسترس میں آ جائے یہ بھی کر لوں گا۔
اور پھر ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ اپنی قسمت اور میرے ساتھ پر نازاں ہوگی !!! اسے اتنی محبّت دوں گا جس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتی،، میں اسے خود سے محبّت کرنے پر مجبور کر دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ہر چیز کے لئے خود کو تیار کر لیا ہے۔ جیت میری ہی ہوگی کیونکہ میں نے ہارنا کبھی سیکھا ہی نہیں ہے !!! اس کے لہجے میں اپنی زات کا اعتماد بول رہا تھا۔
پھر ٹھیک ہے،، آئی ہوپ سب کچھ ٹھیک ہو !!! تم شہر کب آ رہے ہو ؟؟ عدنان نے پوچھنا ضروری سمجھا
آؤں گا بہت جلد،،، مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ تم پہلے سے بہتر ہو۔ میں کچھ روز اور ٹھہرتا اُدھر اگر مجھے یہاں ایمرجنسی میں نہ آنا پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم فکر نہ کرو جلد ہی چکر لگاؤں گا،، ان سب کاموں سے فارغ ہونے کے بعد آفس پر بھی توجّہ مرکوز کرنی ہے،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے تسلّی دی اور پھر چند ایک باتوں کے بعد وہ فون رکھ کر آنے والے دن کی بابت سوچتا آنکھیں بند کر گیا۔
******************
حویلی کی لڑکیاں آج صبح صبح ہی دونوں پھپھیوں کی جانب گئی ہوئی تھیں، اصل مقصد سوہا کو وہاں کی سیر کرانا تھا۔ اب ان کی واپسی رات گئے ہونی تھی۔
سالک حیدر صبح ناشتے کے بعد ڈیرے پر چلا گیا، معاذ اور یوسف کو ویسے بھی آفیشیل کاموں سے فرصت نہیں ملتی تھی، سو وہ شاہزیب اور فواد کیساتھ ڈیرے پر کچھ وقت گزارنے کے بعد حویلی آیا تو دوپہر ہو چلی تھی۔
مہروز خان کو جرگے کا کام سنبھالنا تھا تو وہ اس میں وقاص و بیرم خان کیساتھ مصروف تھے۔ وہ بی جان سے ملاقات کی غرض سے ان کے کمرے کی جانب آیا کیونکہ اس کی ان سے کل بھی ملاقات نہ ہو سکی تھی،،، اور آج تو خیر وہ کسی مقصد کے تحت آیا تھا۔ اس نے سلام کیا تو بی جان اسے خفگی بھرے انداز میں دیکھتے ہوئے شکوارں کے ہاتھوں سے پان لے کر منہ میں رکھتی اسے باہر جانے کا اشارہ کر گئیں۔
بی جان سلام کا جواب دینا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکوارں کے جانے کے بعد وہ دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے مسکراہٹ دبا کر کہتا بیڈ کے نزدیک آ کھڑا۔
بات مت کر مجھ سے !! حد ہی ہو گئی، جب میں تجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی تو کیوں آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے رخ موڑ کر غصّے سے پان چباتے ہوئے کہا تو سالک حیدر کا قہقہہ بہت جاندار تھا۔ اس وقت اسے کوئی اور ایسے ہنستے دیکھتا تو حیرت کی زیادتی سے شاید مر ہی جاتا !!!
بی جان میری بات تو سن لیں،، مجھے معلوم ہے آپ اور امّی جان بلکہ علیزے اور لالا بھی مجھ سے ناراض ہیں، لیکن میں اپنی نفرت کے آگے مجبور ہو گیا تھا،، میں جانتا ہوں وہ میری بہت بڑی غلطی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان کے قریب بیڈ پر بیٹھتا زبردستی ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تو وہ خفگی بھرے انداز میں دوسری جانب دیکھنے لگیں۔
بی جان میں نے سوہا کیساتھ جو کچھ بھی کیا ہے،، میں اس پر تہہِ دل سے نادم ہوں، اور وقت آنے پر اس سے معافی بھی مانگوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے اس سے پہلے آپ سے بات کرنی ہے جو کہ اسی کے متعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بی جان کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا۔
پہلے تو میری بات سن،،، اسماء کو سب پتہ چل گیا ہے اسے سوہا نے سب بتا دیا ہے،، اور بھلا بتاتی بھی کیوں نہ وہ ماں ہے اسکی، اسے پتہ چلنا ہی تھا،،، تجھے سوہا کیساتھ اپنا رویہ ٹھیک کرنا ہوگا کیونکہ وہ بھی اب اسی حویلی کی فرد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔۔ میں تو سوچ رہی ہوں کہ جلد از جلد اس کے لئے کوئی حتمی فیصلہ کر لوں،، تاکہ اسماء کی فکر دور ہو ۔۔۔۔۔ اس کا نکاح اسی حویلی میں ہوگا ہماری روایات کے مطابق ۔۔۔۔۔ انشاء اللّہ ۔۔۔۔۔
بی جان کہتے کہتے پھر جیسے کچھ سوچ کر آبدیدہ سی ہو گئیں۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
بی جان میں آپ سے اسی متعلق بات کرنے آیا ہوں،،، مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ میں پلوشہ سے کسی قیمت پر شادی نہیں کر سکتا،، میں سوہا سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تو جیسے بنا کسی لحاظ کے بی جان کے سر پر دھماکہ کر دیا تھا۔ بی جان کے کمرے کی جانب آتی اسماء بیگم کی آنکھوں کے سامنے سالک حیدر کے منہ سے یہ الفاظ سن کر اندھیرا سا چھا گیا، انہوں نے بمشکل دیوار کا سہارا لیا۔
تم ہوش میں تو ہو حیدر، کیا بکواس کر ریے ہو یہ ؟؟ بی جان غصّے سے بارود ہوتی اٹھ کھڑی ہوئیں، سالک حیدر بھی بیڈ سے اٹھ کر ان کے مقابل آ کھڑا ہوا
میں جو کہہ رہا ہوں مکمّل ہوش و ہواس میں کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے پلوشہ کے لئے کبھی اس طرح نہیں سوچا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسے ناپسند نہیں کرتا لیکن میں اس سے شادی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دھونس بھرے لہجے میں بولتا ان کی جانب سے رخ موڑ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ بی جان یوں خود کو سنبھالے کھڑی تھیں جیسے ابھی نیچے گر پڑیں گی۔ جبکہ اسماء بیگم اب لرزتے قدموں سے کمرے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی تھیں۔
تو کیوں ہمیں زندہ درگور کرنا چاہتا ہے حیدر کیوں بول ؟؟ پہلے بھی تونے کیا کم ہمیں زہنی اذیت سے دوچار کیا ہے جو اب یہ نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے ؟؟؟ کیا اب بھی تیرا بدلہ پورا نہیں ہوا ؟ جان چھوڑ دے اس معصوم کی اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان پھپھک کر رو پڑیں اور غصّے سے بل کھاتی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئیں جبکہ وہ بے بسی سے بی جان کو دیکھنے لگا۔
بی جان میں جو کہوں گا دل سے کہوں گا، منافقت سے کام لینا میرا شیوہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں سوہا سے محبّت کرنے لگا ہوں، یہ سب کچھ میرے ساتھ اتنا اچانک اور غیرارادی طور پر ہوا ہے کہ میں خود اپنی حالت سمجھنے سے قاصر ہوں،،۔۔۔۔۔۔۔ آپ میرا یقین کریں، میں اب اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بی جان کے ہاتھوں کو تھام کر کہا تو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگیں، یہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔
اور اگر میری شادی سوہا سے نہ ہوئی تو؛ یہاں کوئی بھی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ میں پلوشہ سے شادی کر لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چاہے میرے نام پر ایسے ہی ساری عمر بیٹھی رہے میں اس سے شادی نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں نقصان اس کا ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پہلے ہی وارن کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ وہ سرد لہجے میں بولتا بی جان کو بے سکونی کے گہرے سمندر میں پھینک گیا تھا۔
بی جان کیا آپ کو میری آنکھوں میں صداقت نظر نہیں آتی ؟ وہ چاہے مجھ سے ہزار نفرت کرے میں اپنی محبت سے اس کی نفرت کا خاتمہ کر دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلیو می !!! وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے بی جان کے پتھرائے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں مانے گی !! پلوشہ پر کیا گزرے گی یہ سن کر، اس بارے میں سوچا تو نے ؟؟ ایک طوفان برپا ہو جائے گا حویلی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلناز کو کیا جواب دوں گی میں حیدر ؟؟؟ بی جان ہوش میں آتی بپھر کر بولیں
آپ کا کام بس ان دونوں کو منانا ہے، باقی سب کو میں خود ہینڈل کر لوں گا۔……..
سالک حیدر کا اشارہ اسماء اور سوہا کی طرف تھا،، اپنی بات ختم کر کے وہ بی جان کو ایسے ہی ساکت چھوڑ کر تیز قدموں سے جیسے ہی بی جان کے کمرے سے نکلا، اس کی نظر دیوار کا سہارا لئے بے جان قدموں پر کھڑی اسماء بیگم پر پڑی،، وہ ٹھٹھک کر وہیں رک گیا،، اسماء بیگم کا حال بی جان کے حال سے مختلف نہ تھا۔ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر بے حال کھڑی تھیں۔ وہ بمشکل نظروں کا زاویہ پھیر کر وہاں سے نکل گیا۔
بی جان آنے والے طوفان کے بارے میں سوچتی بیڈ پر ڈھے گئیں، جبھی اسماء بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو انہوں نے چونک کر اسماء کو دیکھا جن کے چہرے پر زلزلے کے سے آثار تھے۔ ایک نظر کے دیکھتے ہی بی جان کو اندازہ ہو گیا کہ وہ سب کچھ سن چکی ہیں،،، اسماء بیگم بھی بے جان قدموں سے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ دونوں قوتِ گویائی کھو بیٹھی تھیں،، کمرے میں طوفان سے پہلے کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
*******************
رات کے کھانے پر مرد حضرات میں سب ہی موجود تھے،، حتیٰ کہ مراد اور اسماء بھی آج سب کیساتھ ہی ڈنر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مراد صاحب کی طبیعت اب پہلے سے بہت بہتر تھی۔ اسماء بیگم اور بی جان اپنی اپنی سوچوں کے گرداب میں پھنسی بے دھیانی سے مہروز خان، اور بیٹوں کی سیاسی باتیں سن رہی تھیں۔
جبھی سالک حیدر ڈائننگ حال میں داخل ہوا، اور سلام کرتا چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا۔
اور بتاؤ، برخوردار، شہر واپسی کا کب تک ارادہ ہے ؟؟ مہروز خان نے لاڈلے پوتے کو اپنے مخصوص انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
بہت جلد دادا سائیں،، اس سے پہلے ایک ضروری کام نپٹا کر ہی یہاں سے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بریانی سے انصاف کرتے ہوئے یوں کہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو وہیں خانم اور اسماء بیگم کی سانسیں اوپر کی اوپر رہ گئیں۔ بی جان نے کڑی نظروں سے اسے گھورا لیکن وہ ان کی جانب متوجّہ نہیں تھا۔
آئی نو! میرے اس فیصلے سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو گا مگر مجھے آپ سب کو آگاہ کرنا ہی ہے، کیونکہ اس کے بغیر میری خواہش کی تکمیل ممکن نہیں !!!! چہرے پر سرد سا تاثر لئے نپے تلے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے سب پر سرسری نظر دوڑائی اور پھر مہروز خان کو دیکھا۔
ہاں بولو ہم سن رہے ہیں !!! مہروز خان نے رائتہ پلیٹ میں ڈالتے کہا۔
دادا سائیں، میں سوہا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،،، کیونکہ میں اس سے محبّت کرنے لگا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا جبکہ اس کی نظریں ٹیبل پر کسی غیر مرئی نقطے پر جمی ہوئی تھیں۔
کیا بکواس ہے یہ حیدر، دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ؟؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کیا بول رہے ہو تم ؟؟ مہروز خان نے چمچے کو پلیٹ میں پٹخ کر دہاڑتے ہوئے کہا تو بی جان اور اسماء بیگم کا دل لرز کر رہ گیا۔ مراد صاحب کے ہاتھوں سے نوالہ گرتے گرتے بچا تھا۔ انہیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا ۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ پتھر ہو گئے تھے۔
گستاخی معاف دادا سائیں،، لیکن میں جو کہہ رہا ہوں دل سے کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ کوئی مذاق نہیں ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے متانت بھرے انداز پر شہباز خان بے تحاشہ غصّے میں اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ گلناز بیگم بے یقینی و غصّے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
حیدر تم نے ایسا سوچا بھی کیسے ہاں ؟؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ پلوشہ تمہاری بچپن کی منگ ہے،، تم نے اسے چھوڑ کر کسی اور لڑکی کے بارے میں سوچنے کی گستاخی بھی کیسے کی ؟؟؟ شہباز خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے کچّا چبا جائیں یہی حال گلناز بیگم کا بھی تھا۔ رخسار بیگم آنکھوں میں آنسو بھرے بیٹے کو دیکھے جا رہی تھیں، آج تو اس نے حد ہی پار کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے پلوشہ کے لئے ایسا کبھی نہیں سوچا، کیا آپ لوگوں نے مجھ سے پوچھ کر وہ منگنی کی تھی ؟ مجھے نہیں منظور یہ رشتہ،، میری زندگی میں اگر کوئی شامل ہوگی تو وہ سوہا ہی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دو ٹک لہجے میں کہا
یہ قطعی نا ممکن ہے حیدر، شادی تو تمہیں پلوشہ سے ہی کرنی ہوگی !!! عبّاس خان نے شہادت کی انگلی اٹھا کر گویا اپنا فیصلہ سنایا لیکن دوسری جانب ان کا ہی خون تھا۔ جو ٹھان لیتا وہ ہر حال میں پوری کرنے والا ۔۔۔۔۔۔ !!!
تو پھر میرا بھی فیصلہ سن لیں بابا خان، میں شادی کروں گا تو صرف سوہا سے ورنہ، میری زندگی میں کسی اور لڑکی کے وجود کا تصوّر بھول جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا وہی نڈر انداز،،،،، شہباز خان تو گویا غم و غصّے سے پاگل ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ عبّاس خان بیٹے کو اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹتا نہ دیکھکر دانت پیستے ہوئے مہروز خان کی جانب دیکھنے لگے جو چہرے پر جاہ و جلال سمیٹے سالک حیدر کو گھور رہے تھے۔
آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ ہمارے فیصلے کے خلاف جا سکے،، لیکن تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے ہمارے فیصلے کے خلاف جا کر اور ہم سے بغاوت کر کے کیا ثابت کرنا چاہا ہے حیدر ؟؟؟ لاڈلے پوتے کی یہ نافرمانی مہروز خان کا خون خولا رہی تھی۔
دادا سائیں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کوئی ایسی انوکھی خواہش بھی نہیں ظاہر کی ہے، صرف آپ لوگوں کو اپنی پسند سے آگاہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس لڑکی سے میں محبّت کرتا ہوں اس سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کرنا کوئی گناہ تو نہیں ہے، اور رہی پلوشہ کی بات تو حویلی میں بہت سے لڑکے ہیں آپ اس کی شادی کسی سے بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غصّے سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا اور جھٹکے سے چئیر کھسکا کر ڈائننگ حال سے باہر نکل گیا جبکہ مہروز سائیں خون کے گھونٹ پیتے پیشانی مسلنے لگے۔ مراد صاحب خود کو بمشکل سنبھالتے اٹھے تو اسماء بیگم نے انہیں لپک کر سہارا دیا اور باہر لے گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
میں اسے سمجھاؤں گی،، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسار بیگم نے آنسو پتے ہوئے کہا تو گلناز بیگم نے اپنا بے تحاشہ غصّہ بمشکل ضبط کرتے انہیں دیکھا۔
رہنے دیں بھابھی بیگم ،، بات سمجھنے اور سمجھانے سے بہت آگے نکل چکی ہے،، میں تو اب اپنی بیٹی کی شادی قطعی حیدر سے نہیں کروں گی،، میری بیٹی حسین ہے اسے لڑکوں کی کمی نہیں ہے خاندان میں،، میری چاند سی سیدھی سادھی بیٹی کو ٹھکرایا ہے نا حیدر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت پچھتائے گا دیکھ لینا آپ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چبا چبا کر کہتی اٹھیں اور دندناتی ہوئی حال کمرے سے باہر نکل گئیں، جبکہ شہباز خان بھی کچھ پل وہاں کھڑے ہو کر اپنا غصّہ ضبط کرنے کی ناکام سی کوشش کرنے کے بعد بیگم کے پیچھے ہی چلے گئے۔ عبّاس خان بھی بیٹے کی حرکت پر غیض و غضب سے بڑبڑاتے ہوئے باہر مردان خانے کی جانب چلے گئے۔
دماغ خراب کر دیا ہے اس لڑکے نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان خانم کی طرف دیکھکر غرا کر کہنے کیساتھ ساتھ ہی پیر پٹختے وہاں سے نکل گئے۔ وہاں اب صرف رخسار بیگم، خانم، ہی رہ گئی تھیں۔ رخسار بیگم باقاعدہ سسکیاں لے لے کے رونے لگ گئیں۔
اس لڑکے نے تو تو طے کر لیا ہے نہ کسی کی سننی ہے نا ماننی ہے،، اللّہ جانے کیا ہوگا آگے،،، مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا خانم،، کیوں کرتا ہے وہ ایسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولیں۔
فکر نہ کرو رخسار، سب اللّہ پر چھوڑ دو،، ہو سکتا ہے اس میں ہی ان دونوں ہی بہتری ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان اپنی جگہ سے اٹھ کر رخسار بیگم کے کاندھے پر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ رکھ کر بولیں تو انہوں نے تڑپ کر سر اٹھایا۔
میرا زہن بالکل بھی کام نہیں کر رہا خانم !!! یا اللّہ مجھے کوئی راستہ دکھا ۔۔۔۔۔۔ وہ وحشت زدہ سی بولیں تو خانم نے ان کے سر پر اپنا تسلّی بھرا ہاتھ رکھ کر انہیں ساتھ لگا لیا۔
ہر کام میں اللّہ کی مصلحت ہوتی ہے میری بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خانم کا لہجہ بھرپور تسلّی لئے ہوئے تھا،، ان کے لفظوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی نتیجے پر پہنچ گئی ہوں۔
***************
خوب ڈھیر ساری موجیں کرنے کے بعد وہ سب تقریباً دس بجے کے قریب حویلی میں داخل ہوئیں،، حویلی میں موت کا سا ماتم چھایا ہوا تھا،،
ہیں !!! ہم سے ہے زمانہ دیکھا،،، یہ لڑکے کسی کام کے نہیں،، ہم لوٹے ہیں تو دیکھا کیسی حویلی کی رونقیں لوٹ آئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے اتراتے ہوئے کہا تو ان سب نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
سوہا آپی، کمرے میں چلیں،، علیزے نے سوہا سے کہتے ہوئے سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھائے۔
تم چلو ! میں امّی سے مل کر آتی ہوں !!! وہ کہتے ہوئے اسماء بیگم کے کمرے کی طرف چلی آئی،، دروازہ ادھ کھلا ہوا تھا اس نے دستک دی
آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم کی بھرائی آواز پر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور جوں ہی دروازہ بھیڑ کر پلٹی، اسماء بیگم کو جائے نماز پر بیٹھا روتا دیکھکر وہ تیزی سے ان کے نزدیک آ کر فرش پر ان کے قریب ہی بیٹھ گئی۔
کیا ہوا امیّ،، آپ رو کیوں رہی ہیں، کسی نے کچھ کہا ہے کیا بتائیں؟ وہ بیحد پریشان ہو گئی تھی اور پھر زرا سا گردن موڑ کر بیڈ کی جانب دیکھا تو مراد صاحب بیڈ پر بیٹھے پیشانی مسلتے نظر ائے۔ وہ بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا امّی، بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا کچھ تو بتائیں،، کیا نانا سائیں نے کچھ کہا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی تو اسماء بیگم بھی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
سوہا،، حیدر نے پلوشہ سے شادی سے انکار کر دیا ہے، جبکہ وہ اس کی بچپن کی منگ ہے وہ کہہ ،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم کے آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب اس نے ناگواری سے انہیں ٹوک دیا۔
امّی آپ کو اس شخص کی فکر کرنے کی بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں ہے،، ہماری بلا سے بھاڑ میں جائے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو بہت فکر ہو رہی ہے اس کی ۔۔۔۔۔۔ کیوں ؟؟؟ وہ کلستے ہوئے دانت پیس کے بولی
تمہیں پتہ بھی ہے سوہا کہ اس نے پلوشہ کو ٹھکرا کر کس لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے ؟؟؟ تم سے کہا ہے اس نے شادی کرنے کا،،،، سب کے سامنے اس نے یہ بات کی ہے، اس کا کہنا ہے کہ اسے تم سے محبّت ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم ضبط کھو کر گھٹی گھٹی آواز میں چلاتے ہوئے بولیں، سوہا کو یوں محسوس ہوا کہ اس کے سر پر آسمان آ گرا ہو۔
کیا ۔۔۔۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امّی ۔۔۔۔۔۔۔ اس گھٹیا، شخص کی ہمت کیسے ہوئی امّی میرے بارے میں ایسا سوچنے کی بھی ۔۔۔۔۔۔۔ میں اس کو نہیں چھوڑوں گی،،، اس نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ غم و غصّے سے پاگل ہو کر چیخ اٹھی تھی اس کی آواز بے تحاشہ طیش کے سبب پھٹ سی گئی تھی، اس سے پہلے کہ اسماء بیگم مزید کچھ کہتی وہ جارحانہ انداز میں دروازے کی سمت لپکی، اور دھاڑ سے دروازہ کھول کر انہیں خطرناک تیوروں سمیت سیڑھیاں چڑھتی ہوئی سالک حیدر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
غصّے کی زیادتی سے اس کا چہرہ بے تحاشہ لال جبکہ آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی،، وہ سالک حیدر کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے کو زوردار آواز میں دھکیلتی اندر آئی،، وہ چئیر پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا دروازے کی آواز پر اس سمت دیکھا۔
سالک حیدر خان،، تماری جرت بھی کیسے ہوئی کہ تم میرے لئے ایسی بات کرو، تم نے یہ سوچا بھی کیسے بولو !!! تم جیسے انسان سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ میں زہر کھا کر مر جاؤں، کیوں کہا تم نے ایسا ؟ تم میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے گھٹیا انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ضبط کھوتی چیخ چیخ کر بولی جبکہ وہ اطمینان سے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
مجھے آپ ہی کا انتظار تھا محترمہ سوہا مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے جو سنا ہے ٹھیک سنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ چلتا ہوا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اطمینان بولا جہاں اس کے لئے نفرت کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں اور غیض و غضب سے اس کا تنفس بگڑا ہوا تھا۔
کسی بھول میں مت رہنا سالک حیدر،، سمجھے تم،، تمہاری کسی بھی گھناؤنی سازش کو میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی،، سنا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنی جان لے لوں گی لیکن تم سے شادی مر کر بھی نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جیسا گھٹیا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں نہیں دیکھا، انسانوں کے نام پر دھبّہ ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور محبّت ہونہہ،،،، تم جیسا اناپرست اور جابر انسان کیا جانے محبّت کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ تم نے میرے بارے میں ایسا سوچنے کی جرت بھی کیسے کہ سالک حیدر ؟!! وہ مٹھیاں بھینچ کر نفرت سے بھینچے بھینچے لہجے میں چلائی،، چہرے سے جیسے خون چھلک اٹھا تھا۔
پہلی بات کہ بطورِ مسلمان حرام موت کو گلے لگانے کے خواب دیکھنا تمہیں زیب نہیں دیتا، اور دوسری بات میری تعریفوں کے لئے بہت بہت شکریہ،،، یقین مانو اتنی خوبصورتی سے میری تعریف آج سے پہلے کسی نے نہیں کی،،، اور آخری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس خواہش کا میں نے اظہار کیا ہے وہ پوری ہوگی اور ضرور ہوگی، تمہارے خون میں اگر ضد ہے تو میرا بھی خمیر اسی مٹی سے اٹھا ہے،،
اور رہی محبّت کی بات تو، کوئی نہیں، نکاح کے بعد تم مجھے اور بھی اچھّی طرح گائیڈ کر دینا محبّت کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی باتوں پر سوہا کا دماغ گھوم گیا تھا،، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس شخص کو کچّا چبا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مارے بے بسی سے اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تھے۔
میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا اور بیہودہ انسان ہو تم ،،، اللّہ کرے تم مر جاؤ سالک حیدر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دن میں جشن مناؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نفرت سے چور لہجے میں چبا چبا کر بولی جبکہ سالک حیدر کے ہونٹوں پر ایک دھیمی مگر خوبصورت سی مسکراہٹ اپنی جھلک دکھا کر گُم ہو گئی۔
خوبصورت دعائیں دینے میں تمہارا کوئی ثانی نہیں بیشک،،، وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہلکا سا سر خم کر کے بولا ۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری زندگی جہنّم نہ بنا دی تو میرا نام بھی سوہا مراد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ !!! مٹھیاں بھینچ کر کہتے وہ طوفان کی سی تیزی کمرے سے نکل گئی، جبکہ سالک حیدر گہرا سانس بھرتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتے چئیر پر بیٹھ کر ایک اور سگریٹ سلگا گیا۔
سوہا مراد،، بننا تو تمہیں میری ہی زندگی کا حِصّہ ہے،، تمہیں اپنا نہ بنایا تو میرا نام سالک حیدر خان نہیں !!! سگریٹ کا دھواں فضا میں اڑاتے ہوئے گویا وہ خود سے عہد کر رہا تھا۔
سننے کو بھیڑ سرِ محشر لگی ہوئی ہے تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی ہے
