No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
اس کے کمرے سے توڑ پھوڑ کی آوازیں سن کر تمام ملازمین سہم سے گئے تھے۔ وہ اپنی ہار کا ماتم دل کھول کر منا رہا تھا۔ اپنے جلتے ہوئے دل و دماغ کیساتھ وہ سگریٹ سلگاتا چئیر پر بیٹھ گیا۔ اس کا ایک ہاتھ بری طرح زخمی ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ لیکین،،، وہ اپنی تکلیف کے احساس سے بھی بے حسِ ہو چکا تھا۔ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ہاسپٹل کا وہ منظر گھوم گیا۔ غصّے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے وہ اٹھا اور کمرے کا دروازہ کھول کر کرخت آواز میں زبیر کو آواز دی اور، جس تیزی سے وہ اس کے سامنے حاضر ہوا تھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بس اپنی ہی پکار کا منتظر تھا۔
اندر آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے کہتا وہ پلٹا اور واپس چئیر پر جا بیٹھا جبکہ زبیر نے حیرت کی زیادتی سے آنکھیں پھاڑے میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے کمرے میں نظر دوڑائی جہاں کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہ تھی یکایک،،، اس کی نظر سالک حیدر خان کے زخمی ہاتھوں پر پڑی تو وہ بوکھلا گیا۔
س،، سر یہ کیا ہوا ؟؟؟ اس نے گھبراتے ہوئے پوچھا
کام ڈاؤن !!! مرا نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بے تحاشہ سرخ آنکھوں سے زبیر کو دیکھتے ہوئے تند لہجے میں کہا تو وہ آنکھوں میں فکرمندانہ سا تاثر لئے لامحالہ چپ کر گیا۔
جس لڑکی کے بارے میں، میں نے تم سے معلومات حاصل کرنے کو کہا تھا کیا تمہیں یقین ہے کہ جس گھر میں تم نے لیٹر پہنچایا تھا،، وہ اس لڑکی کا ہی ہے؟؟؟ اس نے تفتیشی انداز میں زبیر سے پوچھا!!!
جی بالکل صاحب،،، میں نے بالکل سہی پتے پر وہ لیٹر پہنچایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبیر نے یقینی لہجے میں کہا۔
تو پھر ٹھیک ہے،،، میرا ایک کام کرو جو کہ آج ہر قیمت پر ہو جانا چاہئیے،،، مجھے ایک پین اور کارڈ پکڑاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے حکمیہ لہجے پر زبیر نے فوراً حکم کی تعمیل کی ۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ سے پین اور کارڈ لیتے ہوئے اس نے اپنے زخمی ہاتھوں سے ہی اس پر کچھ لکھا،،، زبیر نے شدت سے کہنا چاہا کہ “سر آپ بولیں، میں لکھ دیتا ہوں،،،،،، لیکن یہ الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔ سامنے بیٹھا شخص “سالک حیدر خان” تھا۔ جس کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہ ہلتا تھا۔ وہ ایسا صرف سوچ سکتا تھا۔
یہ پکڑو،،، اور اسی ایڈریس پر پہنچا دو،،، جس پر پہلا لیٹر پہنچایا تھا۔ اب تم جاؤ !!! لیٹر مکمّل کرنے کے بعد اس نے لیٹر زبیر کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے حکم دیا۔
جو حکم سر !!! زبیر سر خم کرتا باہر نکل گیا۔
سالک حیدر نے چئیر کی پشت سے سر ٹکا کر جلتی ہوئی آنکھیں بند کر لیں۔
شِدّتِ عشق خیر ہو تیری کیسے عالم میں لا کے چھوڑ دیا *******************
اسماء بیگم مراد صاحب کے ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں گھر لے آئی تھیں۔ ان کے پڑوس میں ہر کسی کی زبان پر ان کی جوان بیٹی کی گمشدگی کے چرچے تھے۔ پڑوس میں سلطانہ کے الاوہ بھی جن لوگوں سے ان کے اچھے تعلقات تھے وہ سوہا کی گمشدگی کی خبر سے ختم ہو گئے تھے اور نہ ہی وہ ان لوگوں مراد صاحب کی عیادت پر آنا گوارہ کیا تھا۔
مراد صاحب کو دوائیں دینے کے بعد،،، وہ وضو کر نماز پڑھنے کے ارادے سے اٹھیں اور جیسے ہی کمرے سے باہر نکلیں،، داخلی دروازے کی دستک پر آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھکر ان کے ہوش اڑ گئے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو وہی شخص تھا جو اس سے پہلے وہ لیٹر ان تک پہنچانے آیا تھا۔
تم ؟؟ تم وہی ہو نا ؟؟ کیوں آئے ہو یہاں بولو ؟؟؟ کون ہو تم اور کس کے آدمی ہو بتاؤ مجھے ؟؟؟ کہاں ہے میری بیٹی بولو ؟؟؟ اسماء بیگم نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کئے۔
اس بار بھی میں وہی کام سر انجام دینے آیا ہوں،،، جو پچھلی بار دیا تھا۔ معاف کیجئے گا میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ یہ لیٹر مجھے آپ تک پہنچانے کا حکم ملا ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص ان کے ہاتھوں میں لیٹر تھما کر جیسے آیا تھا ویسے ہی پلٹ کر واپس چلا گیا۔
دروازہ بند کر کے انہوں نے بیتابی سے لیٹر کھولا تو تو اس پر خون کے جا بجا دھبّے دیکھکر ان پر لرزہ تاری ہو گیا۔ انہوں نے سہمی ہوئی نظروں اس پر لکھے سطروں پر دوڑائیں۔
اسماء مراد؛؛؛ جاننا چاہتی ہو تمہاری بیٹی کہاں ہے ؟
تمہاری بیٹی لعل حویلی میں ہے یعنی مہروز خان کی قید میں،،،، اس کی آزادی چاہتی ہو تو، پھر تمہیں مہروز خان کے سامنے حاضری تو دینی ہوگی ورنہ انجام کی ذمّہ دار تم خود ہو گی !!!
خط پڑھکر ان کی آنکھیں خوف کی شِدّت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پیروں میں جیسے جان ہی نہ رہی تھی۔ بمشکل اپنے حواس پر زرا قابو پایا تو احساس ہوا کہ مراد صاحب مسلسل انہیں اپنی نقاہت زدہ آواز میں پکارے جا رہے تھے۔
وہ بے جان قدموں سے لیٹر ہاتھ میں تھامے کمرے میں داخل ہوئیں اور بستر پر مراد صاحب کے نزدیک ٹک گئیں۔
دروازے پر کون تھا اسماء ؟؟؟ انہوں نے اسماء بیگم سے جواب چاہا۔
مراد آپ بالکل سہی کہتے تھے،،، میرا ہی اندازہ غلط تھا ۔۔۔۔۔۔ ہماری بیٹی انہیں لوگوں کے قبضے میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب وہ بے قصور ہے،،، ہمیں تکلیف پہنچانے کیلئے اس سے وہ خط لکھوا کر ہمیں بھیجا گیا ۔۔۔۔۔۔ وہ ان کی قید میں ہے مراد،،،، میں اپنی بچّی کیلئے کچھ بھی کروں گی جو مجھ سے ہو سکا وہ کروں گی پھر چاہے مجھے اپنی موت کا سامان ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔۔۔۔۔۔ وہ بے تحاشہ روتے ہوئے بولیں۔ ان کے لہجے میں مجبوری و بے بسی کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی بات پر مراد صاحب نے بمشکل لب بھینچ کر خود کو رونے سے باز رکھا البتہ آنکھوں میں تکلیف کا تاثر ابھر آیا تھا۔
تم نے دیکھا اسماء ؟؟ میرا اندازہ درست نکلا ۔۔۔۔۔۔ تم خود سوچو ان کے سوا کون ہمیں یوں زک پہنچانے والا ہے ؟ تم جو بھی کرو گی ہماری بچّی کیلئے میں اس میں تمہارا بھرپور ساتھ دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے تسلّی بھرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھا۔
لیکن آپ اس حالت میں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ وہ ان کی حالت کے پیشِ نظر پریشان سی بولیں۔
جب اولاد کی بات آتی ہے نا پھر کچھ بھی معنی نہیں رکھتا،،، تم فکر نہ کرو،،، اپنی بیٹی سے بڑھکر میرے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ انہوں نے اسماء بیگم کو یقین دلایا تو وہ آنے والے وقت کیلئے خود کو تیار کرتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
*****************
رات کی نسبت صبح تک وہ کسی حد تک خود پر قابو پا چکا تھا۔ وہ تیار ہو کر ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھا تو دینو نے برق رفتاری سے اس کا ناشتہ ٹیبل پر لگایا۔ زخم صاف کر کے اس نے ہاتھ پر اپنا رومال باندھ رکھا تھا۔
زبیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اونچی آواز میں زبیر کو آواز دی۔
یس سر ؟؟؟ وہ حاضری لگاتے ہوئے تابعداری سے بولا
کیا تم نے وہ لیٹر پہنچایا ؟ اس نے ناشتے سے انصاف کرتے ہوئے پوچھا
جی سر،،، میں نے پہنچا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جواب پر وہ سر ہلا گیا اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔ اس وقت سالک حیدر کے زہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔
ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد اس نے گاڑی کی کیز اٹھائی اور عدنان کے پاس ہاسپٹل جانے کے ارادے سے باہر نکل گیا۔
****************
یا اللّہ میری بیٹی کو محفوظ رکھنا،،،، میرے جرم کی سزا میری بیٹی کو مت دینا میرے اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں تجھ سے التجا کرتی ہوں،،، بیشک تو رحیم و کریم ہے میری دعا ضرور سنے گا میرے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جائے نماز پر سجدے میں گری اپنی بیٹی کی سلامتی کی دعائیں کرتی بری طرح سسک رہی تھیں۔
سالوں پہلے جو گناہ ان سے سرزد ہوا تھا اس کی معافی انہیں آج تک نہیں مل سکی تھی آج اس بات کا انہیں اور بھی گہرا یقین ہو گیا تھا۔
وہ مہروز خان کی سب سےچھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھیں۔ وہ جو بھی فرمائش کرتیں وہ فوراً پوری کی جاتی،،، بشرطیکہ وہ اگر جائز ہوتی تو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت اِدھر اُدھر کی سیر میں گزارتی تھی ۔۔۔۔۔۔ حویلی سے تھوڑے سے فاصلے پر ایک سفید پوش گھرانے کی لڑکی روبینہ بھی ان کی پکّی سہیلی تھی۔ کوئی ایسا دن نہ جاتا جب وہ روبینہ کے گھر نہ جاتی تھیں، ان کے برعکس روبینہ کبھی کبھار ہی چکر لگاتی تھی بقول اس کے اسے حویلی کے خانوں سے خوف آتا تھا اسے حویلی کے مرد حضرات بہت بارعب لگتے تھے اور وہ انسیہ بیگم (خانم) سے بھی بہت ڈرتی تھی۔
جب وہ روبینہ کے یہاں جاتیں تو پاس میں ہی موجود تالاب کے پاس ایک چکر ضرور لگا آتیں؛؛؛ ایک روز وہ تالاب پر گئیں تو ان کے کانوں میں بانسری کی مدھر سی آواز گونجی،،، زرا اور آگے بڑھنے پر انہیں وہاں ایک خوش شکل نوجوان بیٹھا بانسری کی دُھن بجاتا نظر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ انہوں نے چہرے پر حجاب ڈال رکھا تھا اس لئے اور زرا آگے بڑھکر اس نوجوان کی بانسری سے نکلتی دُھن کی تعریف کی،،، اس کی بانسری سے نکلتی خوبصورت دُھن گاؤں کے دلکش ماحول میں نہایت ہی گہرا ارتعاش پیدا کرتی کرتی تھی جس سے ماحول پر چھایا سحر دیکھنے سے مماثلت رکھتا تھا۔
انہوں نے اس نوجوان سے اس کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام “مراد” بتایا۔ اس کے خاندان کے بابت پوچھا تو اس کا کہنا تھا اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ماں باپ بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے،،، وہ ایک بنجارہ ہے اور کچھ نہیں،،، ۔۔۔۔۔۔ یوں یہ سلسلہ اور بھی طویل روپ اختیار کرتا گیا،،، وہ جب بھی روبینہ کے یہاں جاتیں ان کا ایک چکر تالاب کی جانب لازمی لگتا تھا،،،، لیکن اب ان کے وہاں جانے کی وجہ مختلف تھی،،، پہلے وہ صرف اس جگہ کی خوبصورتی سے لگاؤ ہونے کی وجہ سے آتی تھیں، لیکن اب یہ وجہ پسِ منظر چلی گئی تھی۔ اب وجہ صرف اور صرف وہ “بنجارہ” تھا جو انہیں اپنی طرف کھینچتا تھا۔
حویلی کی عِزّت و ناموس کا خیال نہ کرتے ہوئے یہ سلسلہ دن میں موقوف کر کے اب راتوں کو شروع ہو چکا تھا۔ مراد اور اسماء کی ملاقاتیں اب حویلی کے پیچھے باغ میں بھی ہونے لگی تھی، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر تالاب پر انہیں کسی نے ایسے ملاقاتیں کرتے دیکھ لیا تو بات بگڑ سکتی ہے ۔۔۔۔۔ وہ دونوں باغ میں ملاقات کا کام اتنی چالاکی سے سر انجام دیتے کہ کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوتی تھی۔ یوں یہ سلسلہ چلتا گیا۔ اسماء بیگم نے اس بات کا زکر اپنی جگری دوست روبینہ سے بھی نہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر یوں ہوا کہ ایک روز مراد صاحب نے ان سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکین،،، وہ جانتی تھیں کہ ان کے بابا سائیں ان کا سر تو قلم کر دینگے،،، لیکن ان کی شادی خاندان سے باہر قطعی نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں مسقبل کے حالات کا اندازہ تھا،،،،، اور پھر ایک روز ان دونوں نے یہاں سے بھاگنے کا پلان بنایا؛؛؛؛ گاؤں میں کسی کو نہیں معلوم تھا کہ بانسری کی راگ کے پیچھے کیا داستان رقم کی جا رہی ہے۔ اور پھر ایک روز اسماء بیگم اپنے پیچھے سب کچھ چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں مراد صاحب کے ساتھ فرار ہو گئیں۔
لعل حویلی میں تو گویا کہرام برپا ہو گیا تھا۔ مہروز خان سائیں کا جاہ و جلال عروج پر تھا۔ انہوں نے ہر طرف اپنے آدمیوں کو لگا دیا تھا کہ شاید ان دونوں کا کچھ سراغ مل جائے،،، لیکین ان کا کچھ پتہ نہ چل سکا تھا۔ بعد میں سب نے اس بنجارے کی غیر موجودگی محسوس کی تو پوری کہانی سب کی سمجھ میں آ چکی تھی۔ ان دونوں کا پتہ لگانے کو مہروز سائیں کے آدمیوں نے بہت دوڑ بھاگ کی لیکن ناکام رہے،،،، یوں لعل حویلی نے اسماء بیگم کو اپنے تئیں مردہ تصوّر کر لیا،،، سوائے انسیہ بیگم کے،،،، ان کا دل آج بھی اپنی اولاد کے لئے روتا تھا،،،، مہروز خان سائیں نے تو گویا اس جانب سے اپنا کلیجہ پتھر کر لیا تھا۔ گاؤں میں کسی کی ہمت نہ تھی کہ لعل حویلی والوں کے منہ پر اپنی زبان کھولنے کی جرت کرتا،،، لیکن لوگوں کی سوالیہ نظروں نے حویلی کی غیرت پر جو داغ لگائے تھے اس کے نشانات اتنے برسوں بعد بھی جوں کے توں تھے۔
مراد صاحب اسماء بیگم کو شہر اپنے ایک دوست کے پاس لے آئے تھے۔انہوں نے پہلے اسماء بیگم سے نکاح کیا اور پھر کچھ روز دوست کے گھر رہ کر ہی اپنی ملازمت کا انتظام کیا،،،، تھوڑی محنت کے بعد انہیں قابلِ بھروسہ ملازمت مل ہی گئی۔ تنخواہ اچھی ہونے کی وجہ سے دو، تین مہینے کی تنخواہوں سے انہوں نے ایک گھر کرایہ پر لیا یوں وہ اپنے گھر میں شفٹ ہو گئے۔ مراد صاحب نے اسماء بیگم کو بہت محبت اور عزت سے نوازا۔ انہیں اپنے تئیں کبھی کسی بھی چیز کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ خود اسماء بیگم بھی ان کیساتھ بہت خوش تھیں۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنوں کو سوچ کر بہت اداس ہو جاتیں،، ایسے میں مراد صاحب ہی ان کا دل بہلاتے۔۔۔۔۔۔۔ شادی کے ایک سال بعد ان کے یہاں “سوہا” کی پیدائش ہوئی اور پھر ان کے یہاں اور کوئی اولاد نہ ہو سکی۔ اپنی اکلوتی بیٹی میں اسماء بیگم اور مراد صاحب کی جان بستی تھی۔ اور آج وہی بیٹی اتنی تکلیف میں تھی تو وہ کیسے نہ روتیں،،، کیسے نہ تڑپتیں،،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔ جائے نماز سے سر اٹھا کر آنسو پوچھتے ہوئے انہوں نے کل لعل حویلی جانے کا عظم کیا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔
***************
عدنان اب تھوڑا بہت بول سکتا تھا۔ لیکن فلحال وہ چلنے پھرنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا۔ کافی دیر عدنان کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بیڈ کے قریب عدنان پر جھکا۔
عدنان میری بات سنو !!! مجھے فوری طور پر حویلی پہنچنا ہے،، ایک نہایت ہی ضروری کام ہے ،،، میں انشاء اللّہ جلد ہی لوٹوں گق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے عجلت میں عدنان کو اطلاع دی
لیکین تم کل ہی تو آئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان حیرت سے جھٹکا کھاتے ہوئے بولا
میں تمہیں بعد میں تفصیلات سے آگاہ کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فلحال میں چلتا ہوں،،،، اپنا خیال رکھنا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ میں جلد ہی آؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے عدنان کو تسّلی آمیز لہجے میں کہا تو وہ سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر خان تیزی سے ہاسپٹل کی منزل عبور کرتا گاڑی میں آ بیٹھا !!!
فارم ہاؤس آ کر وہ حویلی جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اسے آج ہر صورت حویلی پہنچنا تھا۔ کل رات اس پر جو انکشافات ہوئے تھے انہوں نے اس کے دل و زہن کو آتشِ فشاں بنا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے وجود میں جو لاوا بہہ رہا تھا وہ کسی صورت بجھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس نے اپنے کچھ محافظوں کو ساتھ لیا اور گاڑی میں آ بیٹھا۔
اسماء مراد،،، تمہیں حویلی بھیجنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ تم دادا سائیں کو باآسانی دستیاب ہو جاؤ،،،، اس دن کا شِدّتِ سے انتظار ہے مجھے جب حویلی کی عِزّت و ناموس پر کیچڑ اچھالنے والی عورت کی سزا بابا سائیں خود متعین کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلگتے ہوئے دماغ کیساتھ سوچتے ہوئے اس نے ڈرائیور کو گاڑی آگے بڑھانے کو کہا۔ حویلی پہنچ کر اسے سوہا مراد کو بھی تو حقیقت کا آئینہ دکھانا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کسی صورت بھی اس لڑکی پر اپنی کمزوری عیاں نہیں ہونے دیگا۔
جاری ہے
