Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

اثر دل پر کرے شکوہ شکایت ہو تو ایسی ہو گلے لگ کر کوئی روئے ندامت ہو تو ایسی ہو یہی محسوس ہو جیسے کئی صدیاں گزاری ہیں فقط ایک پل کی فرقت میں اذیت ہو تو ایسی ہو مجھے کانٹا چبھے اور اس کی آنکھوں سے لہو ٹپکے تعلق ہو تو ایسا ہو محبّت ہو تو ایسی ہو

سالک حیدر کی خوبصورت سنگت و اس کی بے پناہ محبتوں کے حصار میں وہ دن بہ دن نکھرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس شخص سے اس کی قدر گہری وابستگی قائم ہو چکی تھی کہ اب اس کے بغیر سانس لینے کا تصوّر بھی محال لگتا تھا ۔۔۔۔۔۔ ان تین مہینوں میں اس نے اپنے لئے اس شخص کے دونوں ہی روپ دیکھے تھے ۔۔۔۔۔۔ ایک نہایت نفرت انگیز اور ایک سراپا محبّت ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہی روپ میں شِدّت پسند تھا ۔۔۔۔۔ اس سے نفرت کی تھی تو بنا کسی لحاظ کے دل کی گہرائیوں سے کی تھی،، اور اس سے محبّت کی تو اسے محبّت کے بجائے “عشق” کا نام دیا،،، اس کی محبّت اس کے ہر انداز سے بیان ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کے لئے اس کا کھڑوس پن وہی تھا جو پہلے تھا،، لیکن اس کے لئے وہ جینے کی وجہ بن چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کی قربتوں میں وہ اپنے پچھلے تمام دکھ بھول سی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ !!!

شام کی چائے پر سب ہی لاؤنج میں جمع تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان بھی بیٹوں سمیت سب کے درمیان موجود تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر خان سائیڈ صوفے پر لیپ ٹاپ لئے بیٹھا اس میں مصروف تھا ،،، گلناز بیگم کے ساتھ پلوشہ بھی موجود تھی ۔۔۔۔۔ جبکہ سوہا زونیہ کے پاس بیٹھی گپ شپ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ مرد حضرات نے سیاسی باتیں چھیڑ رکھی تھیں ۔۔۔۔۔۔،،،

سائیں میں چاہتی ہوں آپ پلوشہ کے لئے بھی اب کوئی بہتر فیصلہ کر لیں،،،
شہباز خان کے بڑے بیٹے ضیغم کا نکاح تو نمرہ کے ساتھ طے ہی ہے ،،، شاہزیب کی بھی منگنی مائدہ سے طے ہے،، حمزہ تو ابھی پڑھائی میں مصروف ہے ۔۔۔۔۔ آپ فواد اور پلوشہ کے لئے بھی اب کوئی فیصلہ سنا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کے کہنے پر گلناز بیگم نے دل ہی دل میں سکون کا سانس لیا،، وہ بھی یہی چاہتی تھیں،، اور پلوشہ کو تو گویا کرنٹ لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے بی جان کو دیکھنے لگی۔ سب مہروز خان کی جانب متوجّہ تھے جو پرسوچ انداز میں بیٹھے تھے۔

خانم،، پلوشہ کے لئے ہم نے وقاص خان کے بیٹے اشعر کو سوچ رکھا ہے اور فواد کے لئے ہم نے بیرم خان کی بیٹی لائبہ کو سوچ رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللّہ جلد ہی ان کی منگنی کی رسم نبھائی جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان اپنا فیصلہ سناتے اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ پلوشہ منہ کھولے گلناز بیگم کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ لائبہ کینہ توز نظروں سے فواد کو گھور رہی تھی اور وہ بھی گویا جلتے ہوئے توے پر جا بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ینگ پارٹی ان دونوں کا چہرہ دیکھ کر مسکراہٹ دباتی سر جھکا گئی ۔۔۔۔۔۔۔ باقی سب اپنی اپنی جگہ مطمئن تھے۔ پلوشہ پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

فواد اپنی جگہ سے اٹھا اور دھم دھم کرتا برآمدے کے تخت پر جا بیٹھا،، اسے لاؤنج سے نکلتے دیکھ کر لائبہ بھی اٹھی اور تنتناتی ہوئی اس کے پیچھے آئی اور تخت پر ٹک گئی۔ کچھ دیر ایک دوسرے کو گھورنے کے بعد دونوں نے نخوت سے منہ پھیر لیا۔

میری بات سنو لائبہ،، اس مسلئے کا کچھ حل سوچتے ہیں،، میں بہت فکرمند ہوں،، تمہارے ساتھ تو میری زندگی جہّنم بن جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فواد نے دانت کچکچاتے ہوئے کہا تو وہ جو منہ پھیرے بیٹھی تھی اسے آنکھیں نکال کر گھورنے لگی۔

تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے دادا سائیں کے اس فیصلے سے میں بہت خوش ہوں،، میں کیا کم غم زدہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جیسے بدذوق انسان کی زندگی میں شامل ہو کر تو میرے سارے ذوق کا بیڑا غرق ہو جانا ہے، تمہیں رنگ، خوشبو، تتلیوں، و خوابوں کا کچھ نہیں پتہ ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے لئے تمہارے ہی جیسی کوئی بدذوق لڑکی ہونی چائیے ۔۔۔۔۔۔ تم مائدہ سے کیوں نہیں کہتے شادی کے لئے ،، وہ تو تم پر ہی گئی ہے ۔۔۔۔۔ اسے بھی شاعری کی “ش” کا نہیں معلوم ۔۔۔۔۔ اسے تھوڑا بہت پسند بھی ہے تو تمہاری طرح سڑی ہوئی شاعری ہی پسند ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی ہوئی بولی وہ جو حیرت سے اپنی اس قدر عِزّت افزائی ملاحظہ فرما رہا تھا،، چیخ اٹھا

او میڈم !! زیادہ بی جمالو بننے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی ۔۔۔۔۔۔۔ دادا سائیں کے منہ سے نکلی بات پتھر کی لکیر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں ساری زندگی جھیل تو سکتا ہوں لیکن ان کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک اچھا شوہر ثابت ہونگا، یہ تو تمہارے دل میں بھی کہیں نہ کہیں ہے،، تمہاری باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے،،، تمہیں میری خوبصورت شاعریوں سے مسئلہ ہے تو فکر مت کرو،، میں دو تین شاعری کی کتاب خرید کر اور بھی باذوق بننے کی کوشش کروں گا،، پھر یوں، یوں مان جاؤ گی مجھے ۔۔۔۔۔ جیسے کورس کے امتحانات کی تیاریاں کرتے ہیں نا،، ویسے ہی میں شادی سے پہلے شاعر بننے کی بھرپور تیاری کروں گا ۔۔۔۔۔ اب خوش ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے چیلینج کرنے والے انداز میں چٹکیاں بجاتے کہا تو وہ بری طرح تلملا کر تخت سے اٹھ گئی۔

تم تو چاہتے ہی یہی تھے ۔۔۔۔۔ تمہارے تو دل کی مراد بر آئی ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی کثر نہیں چھوڑو گے تم مجھے بدذوق بنانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پیر پٹختی اندر چلی گئی

محترمہ کی خوش فہمی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ حد ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے اپنی زندگی کی نہیں، بلکہ شاعری کی پڑی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ بہت اکڑو بن رہی ہے نا ۔۔۔۔۔ کسی جنم میں شادی ہوگی ہماری تو خودبخود سیدھا کر دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فواد نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود سے عہد کیا۔

                                     *****************

غروبِ آفتاب کا وقت ہو چلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عجلت میں آئینے کے سامنے کھڑی اپنی تیاریوں میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسٹرڈ کلر کے شرارے میں،، بالوں کی لمبی و ریشمی چوٹی، و لائٹ میک اپ میں وہ بیحد پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔ جبھی سالک حیدر کمرے میں داخل ہوا ،،، وہ شام کی چائے کے بعد ڈیرے پر چلا گیا تھا ابھی اس کی واپسی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے آہٹ پر اسے پلٹ کر دیکھا اور پھر جلدی جلدی ہاتھوں میں میچنگ چوڑیاں پہنتی اس کے قریب آئی۔

حیدر سائیں،، میں خالہ سائیں کے گھر جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ زونیہ وغیرہ بھی جا رہی ہیں نا تو ہم دو گھنٹے بعد لوٹ آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جلدبازی میں بولتی پلٹ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی جبکہ وہ استحقاق آمیز نظروں سے اس کا نکھرا نکھرا روپ دیکھتے، چلتا ہوا اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور اسے اپنے بازو کے حصار میں جکڑ کے اس کی شہہِ رگ پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کی جان پہ بن آئی۔

ح،، حیدر سائیں،، بہت لیٹ ہو جائے گا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑیں نا ۔۔۔۔۔ وہ لرزتی آواز میں اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتی بولی،،، اس کی بات کو مکمّل نظر انداز کرتے اس نے جھک کر اس کا گال چوم لیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سمٹ سی گئی۔ پھر خفگی بھرے انداز میں آئینے میں اس کے عکس کو دیکھا۔

میرا میک اپ خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک بار پھر اس کا حصار توڑنے کی کوشش کی تو سالک حیدر نے اس کا رخ موڑ کر اپنی جانب کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنی جذبات سے گندھی نگاہیں اس کے دمکتے چہرے پر ڈالیں۔
اس کی پُرحِدّت نظروں سے سوہا کا چہرہ اناری ہو گیا۔
یار کس کافر کو میک اپ کی پڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم اس قدر حسین لگ رہی ہو کہ میرا دل بے ایمان ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہ رہا ہے تمہیں بس سامنے بٹھا کر دیکھتا رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھیمے و گھمبیر لہجے میں کہتے اس نے بنا اس کی خفگی بھری نظروں کی پرواہ کرتے اس نے جھک کر اس کا دوسرا گال چوما تھا ۔۔۔۔۔ اور پھر خمار آلود نظریں اس کے یاقوتی لبوں پر ٹکا دیں ۔۔۔۔ پھر آہستگی سے اس کے لبوں پر انگلی پھیری تو اس نے بے اختیار اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنی ننھی سی گرفت میں پکڑا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ لرزتی پلکیں جھکا گئی۔

ح،، حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔ میری لپسٹک خراب ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔ وہ شرم و خفگی سے ملے جلے تاثرات سمیت بولی تو وہ اپنے لبوں سے اس کا ہاتھ ہٹا کر اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتا اسے کمر سے پکڑ کر خود سے قریب تر کر گیا۔

تو ہونے دو خراب،،، تم اس کے بغیر بھی بہت خوبصورت ہو میری زندگی،، اشتیاق بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ پوری شِدّت سے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کی سانسیں رکنے لگیں۔ اس نے اس کے کرتے پر اپنی ہاتھوں کی گرفت مضبوط کی۔ چوڑیوں کا خوبصورت ساز کمرے کے سکوت میں ارتعاش پیدا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ زرا پیچھے ہٹا تو اپنا خون چھلکاتا چہرہ لئے اسے خفگی سے دیکھتے اس نے اس کے کشادہ سینے پر زوردار مُکا مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر کا خوبصورت قہقہہ فضا میں گونجا۔ وہ محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پشت پر ہاتھ باندھ گیا۔

بہت برے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منہ پھلائے واپس آئینے کے سامنے رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی۔ اور تیزی سے اپنا میک اپ درست کرنے لگی۔

کوئی بات نہیں یارِ من،، کدھر جانا ہے آخر تم نے !! رات میں تو میرے ہی پاس آنا ہے نا ۔۔۔۔۔۔ دیکھ لوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ معنی خیز لہجے میں بولتا بیڈ پر جا بیٹھا ۔۔۔۔ وہ اپنا شرمگیں تاثر چھپانے کی ناکام کوشش میں ہلکان میک اپ صحیح کرنے کے بعد تیزی سے وارڈروب کی جانب بڑھی ۔۔۔۔ اس میں سے اپنی شال نکال کر کندھے پر ڈالی اور اسے زبان نکال کر منہ چڑاتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی معصومانہ حرکت پر وہ کھل کر مسکرا دیا۔

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے *****************

ان کی گاڑی پھپھیوں کے گھر کی جانب گامزن تھی ۔۔۔۔۔ ان کے ہمراہ گاڑی میں موجود لائبہ کا پھولا ہوا چہرہ دیکھ کر دعا نے سوہا کو ٹہوکا دیتے ہوئے لائبہ کی جانب اشارہ کیا تو وہ بھی اسے دیکھنے لگی۔

لائبہ فواد بہت اچھا لڑکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا ۔۔۔۔۔ کیوں فکر کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ دعا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

اچھا ہونہہ !!! اس بندر کو انسان بنانے میں ہی میری پوری زندگی لگ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا تو وہ سب زور سے ہنس پڑیں۔

تم اسے باذوق بنا دوگی مجھے پورا یقین ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خود پر بھروسہ رکھو ۔۔۔۔۔ زونیہ نے اسے تسلّی دی۔

وہ تو میں کوشش تو جاری ہی رکھوں گی اپنی،،، پر وہ بننا چاہے تب نا ۔۔۔۔۔ لائبہ نے تنک کر کہا

کیوں نہیں بننا چاہے گا بھئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کوئی اتنا بڑا ایشو بھی نہیں ۔۔۔۔ تم بالکل اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ دعا نے پر ُامیّد انداز میں کہا تو سب نے اس کی تائید کرتے ہوئے آمین کہا ۔۔۔۔ تو لائبہ زرا مطمئن ہوتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

                                        ***************

امّی دادا سائیں کا فیصلہ سنا آپ نے ؟؟ میں کیسے کر سکتی ہوں اشعر لالا سے شادی ۔۔۔۔۔۔ اففففف ۔۔۔۔۔۔ پلوشہ غصّے سے بولتی سر تھامے بیڈ پر بیٹھ گئی۔

جیسے ساری لڑکیاں کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ ویسے ہی کرو گی ۔۔۔۔ گلناز بیگم آرام سے بولیں تو وہ کلستے ہوئے انہیں دیکھنے لگی

امّی،، آپ کیوں نہیں سمجھتیں،، میں اشعر لالا سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔ وہ تیز لہجے میں بولی

دیکھو پلوشہ،، ضد کرنے کا کوئی فاعدہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ایک تو میں تمہاری ضد سے بہت تنگ ہوں ۔۔۔۔ اشعر بہت اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا ہے بیٹا ۔۔۔۔۔ تم اس کے ساتھ بہت خوش رہو گی ۔۔۔۔۔ جو ہو چکا اسے بھول جاؤ ۔۔۔۔۔ فضول ضدیں کرنے سے تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا ۔۔۔۔۔ بس یہ سوچو کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے ۔۔۔۔ ہمارا رب بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔۔۔۔ اس کی رضا میں راضی ہونا سیکھو ۔۔۔ زندگی کی تمام خوشیاں خودبخود تمہاری ساتھی بن جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کے قریب بیٹھ کر اسے پیار سے سمجھایا تو وہ انہیں دیکھنے لگی۔

جب تمہیں تمہاری زندگی کی حقیقی خوشیاں ملیں گی نا تو تم میری یہ باتیں یاد کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم خود سوچو اگر حیدر تم سے شادی کر بھی لیتا تب بھی تم ساری زندگی خوش نہ رہ پاتی،، اس کے دل میں اس کی زندگی میں صرف سوہا کی گنجائش ہے بس !!! تو بیٹا بس یہ سمجھ لو کہ جو ہو رہا ہے وہ تمہارے حق میں بہتر ہو رہا ہے اور انشاء اللّہ آگے چل کر بہترین ثابت ہو گا ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا تو وہ بھی گہرا سانس بھرتی سر ہلا گئی۔

اور ایک بات اور،، تم سوہا کے ساتھ اگر اپنا رویہّ اچھا نہیں رکھ سکتی تو برا بھی مت رکھو ۔۔۔۔۔۔۔ اپنا ظرف اس کے لئے بڑا نہیں کر سکتی تو اس سے دور رہو ۔۔۔۔۔ یہی تم دونوں کے حق میں بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے سمجھایا

آپ صحیح کہہ رہی ہیں امّی ۔۔۔۔۔ اللّہ ہمارا برا کبھی نہیں سوچ سکتا،، کیونکہ وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ ہمیں پیار کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ میں کوشش کروں گی اس رشتے کیلئے خود کو مکمل طور پر راضی کرنے کی ۔۔۔۔۔۔ اس نے پرسوچ لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر کہا تو گلناز بیگم زندگی میں پہلی بار بیٹی کی اتنی سمجھداری پر دل کی گہرائیوں سے خوش ہو گئیں۔ ساتھ ہی دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کی بات اس کے کچھ تو پلّے پڑی ۔۔۔۔۔ اپنی ضد چھوڑ کر اس نے ان کی بات سمجھنے کی کوشش تو کی ۔۔۔۔ انہوں نے بے طرح خوش ہوتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔

                                        ***************

تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد ان کی واپسی ہوئی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو سالک حیدر موجود نہیں تھا۔ میک اپ صاف کرنے کے بعد وہ چینج کرنے کی غرض سے واشروم میں چلی گئی ۔۔۔۔۔ چینج کر کے باہر نکلی تو وہ اسے بیڈ پر لیٹا نظر آیا۔

آ گئیں محترمہ آپ،، کیسا رہا سب کچھ ۔۔۔ انجوائے کیا ؟؟؟ اس نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

ہاں جی بہت انجوائے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بتائیں ۔۔۔۔ کھانا کھایا ؟ وہ چہکتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی

میں ڈنر کر کے میل کی جانب چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ابھی واپسی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ اسے بتاتے ہوئے وہ اسے بغور دیکھنے لگا،، وہ اسے پرجوش سی خالاؤں کے گھر دورے کی تفصیلات بتانے لگی ۔۔۔۔۔۔ وہ یک ٹک اس کے معصوم چہرے کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں لو دیتا تاثر ابھر آیا تھا۔

“تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھا ہے”

ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟؟؟ یکایک وہ اس کی نظروں پر پزل ہوتی اس سے پوچھ بیٹھی

تمہیں دیکھ رہا ہوں اور تمہاری اس نوزپِن کو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے تم پر بہت پسند ہے ۔۔۔۔۔۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس سے آ لگی۔ اس کی وارفتگی پر لمحوں میں اس کا چہرہ دہک اٹھا۔ سالک حیدر نے اس کا چہرہ سامنے کرتے اس کی ناک میں چمکتی دلکش سی نوزپِن پر لب رکھ دئیے تو اس کے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ بکھر گئے ۔۔۔۔۔۔ اس نے سحر زدہ ہو کر اس کا یہ شرمایا گھبرایا روپ دیکھا

مسز،، آپ کی اسی ادا پر تو ہم جان و دل سے فدا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جذب سے اس کی پیشانی چومتے ہوئے بولا

اچھا؛؛؛ آج سگریٹ نہیں پینا آپ نے ۔۔۔۔۔۔ ویسے تو روز پیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ پہلو بچاتے ہوئے جس انداز میں بولی سالک حیدر بیساختہ ہنس دیا

ویسے تو تم مجھے روز ٹوکتی ہو سگریٹ پینے پر ،، ابھی کیا ہوا ؟؟ وہ شرارت آمیز لہجے میں دوبدو بولا تو وہ جھینپ گئی ساتھ ہی اس کی بانہوں سے نکلنا چاہا تو وہ اس کا سر تکئے پر رکھتا اس پر جھک گیا وہ اسی لحاظ سے مزید گڑبڑا گئی۔

حیدر سائیں،، سونا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں تنگ کرتے ہیں ؟؟ اس نے لرزتے لہجے میں بولتے ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراہٹ دباتا اس کے ہاتھوں کو چہرے سے ہٹا گیا تو وہ پلکوں کی جھالر گرا گئی۔ دل اپنی رفتار سے زیادہ تیز دھڑکنے لگا تھا۔

آپ کو تنگ کرنے کا پرمٹ حاصل کیا ہے جانِ من ۔۔۔۔۔۔ نکاح نامے پر دستخط کر کے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بھاری آواز میں کہتے اس کی بند پلکوں پر ہونٹ رکھے تو اس کے چہرے پر گلال بکھر گیا ۔ اس کی گرم سانسوں کی تپش اپنی گردن پر محسوس کر کے وہ شرم کی شِدّت سے اس کے شانے میں چہرہ چھپا گئی ۔۔۔۔۔۔اس کی شِدّتیں اسے پاگل کر دینے کے درپے تھیں۔

آپ مجھے اپنے انتخاب میں سے کچھ سنائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھڑکنوں کے شور سے گھبراتی وہ بے ترتیب سانسوں سمیت بولی تو سالک حیدر اس کے ہونٹوں پر جھک کر اسے خاموش کر گیا ۔۔۔۔۔۔ حجاب آلود چہرے سمیت بے بس ہوتے اس نے خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

خوشبوؤں کی طرح میری ہر سانس میں پیار اپنا بسانے کا وعدہ کرو رنگ جتنے تمہاری محبّت کے ہیں میرے دل میں سجانے کا وعدہ کرو ہے تمہاری وفاؤں پہ مجھ کو یقیں پھر بھی دل چاہتا ہے میرے دل نشیں میں تجھے یاد رکھنے کی کھاؤں قسم تم مجھے نہ بھلانے کا وعدہ کرو جاری ہے