No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
سب سمجھتے ہیں بات مطلب کی کس نے سمجھا ہے بات کا مطلب
وہ اسماء بیگم کی خود میں سر رکھے لیٹی تھی،، پاس ہی بی جان بیٹھی شکوارں سے پان بنوا رہی تھیں، اس وقت وہ بی جان کے کمرے میں موجود تھی۔ شکوارں سے پان لے کر منہ میں رکھتے ہوئے انہوں نے اسے جانے کا حکم دیا اور سوہا کو دیکھا جو آنکھیں بند کئے لیٹی تھی۔
سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے پکارا
بولیں امّی، سن رہی ہوں !!! وہ آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے لگی
سوہا میری بچّی،، تمہیں حیدر کے لئے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں، مانا کہ تم اس سے بہت بدظن ہو، اس سے نفرت کرتی ہو،، لیکن وہ اب تمہارا شوہر ہے بیٹا ۔۔۔۔۔ اس کی عِزّت تمہاری عِزّت ہے ۔۔۔۔۔۔ تم نے سب کے سامنے اس کیلئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں، وہ نہایت غلط ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے نرم لہجے میں اپنی بات کہی تو وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ سیکنڈ کے اندر آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
امّی !!! جو کچھ اس نے میرے ساتھ کیا وہ آپ بھول گئیں ؟؟ آپ وہ کیسے بھول سکتی ہیں امّی ؟؟ اس شخص نے بھی تو سب کے سامنے میری عِزّت کی دھجیاں اڑائی ہیں،،، اس کی زیادتیوں پر کیوں نہیں نظر ڈالتے آپ لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لرزتے ہوئے لہجے میں کہتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی،،، اسماء بیگم بیچارگی سے بی جان کو دیکھتی آہ بھر کر رہ گئیں اور ساتھ ہی اسے دیکھا جس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی تھی۔ بی جان نے زرا سا اس قریب کھسکتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں سمو لیا۔
سوہا میری دھی ،،،، میں جانتی ہوں تجھے زرا وقت لگے گا یہ سب قبول کرنے میں،،، لیکن آئیندہ پلوشہ یا کسی کے بھی سامنے اس طرح کی باتیں نہ کریو میری جان،، پلوشہ کو تو اور بھی موقع مل جانا ہے ۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا
تو میں نے غلط کب کہا ہے بی جان،، اس شخص سے نفرت ہی تو کرتی ہوں میں،، بے تحاشہ نفرت،،، جو میرے دل میں ہے وہی میری زبان پر ہے،، منافقت نہیں ہوتی مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آنسوؤں کے درمیان سلگتے لہجے میں کہا تو بی جان گہرا سانس بھر کے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام گئیں۔
جو تیرے دل میں ہے وہ تیرے کمرے کی چار دیواری کے اندر رہے تو ہی بہتر ہے میری دھی،، رہی بات منافقت کی تو تجھے کسی نے نہیں کہا کہ تو سب کے سامنے ایکٹنگ کر، لیکن بس اپنے شوہر کیلئے آئیندہ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے زرا حکمیہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا تو اسماء بیگم نے تائیدی انداز میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے یقینی کی شِدّت سے سوہا ک چہرے پر ناگواری جبکہ آنکھوں میں آنسوؤں کی دھند اتر آئی تھی۔
نہیں مانتی میں اسے شوہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شخص کو اپنا شوہر ماننا باعثِ شرم ہے میرے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بار پھر بی جان کی گود میں منہ چھپائے وہ سسکیاں لیتی بولی۔
اچھا چل چھوڑ ان باتوں کو،،، یہ بتا رونمائی کا تحفہ کیا دیا حیدر نے ؟؟ بی جان بمشکل مسکراہٹ ضبط کرتے اسے خود میں بھینچ کر پوچھنے لگیں، اسماء بیگم نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ بیٹی کو دیکھا۔ دوسری جانب سے کوئی جواب نہ پا کر دونوں سر کو دائیں بائیں ہلا کر رہ گئیں۔
*****************
ڈائننگ حال میں اب بھی ویسی ہی خاموشی چھائی ہوئی تھی،، گلناز بیگم اب پلوشہ کو گھور رہی تھیں، جو اسی زاوئیے پر کھڑی گویا خون کے گھونٹ پی رہی تھی۔
ہونہہ ڈرامے بازیاں ہیں سب،، میں اچھی طرح جانتی ہوں، پہلے بھی یہ حیدر سائیں کے لئے ایسا دکھاوا کرتی تھی جیسے اس کو ان سے کوئی سروکار ہی نہ ہو اور اب دیکھا،، اندر ہی اندر عشق کا چکّر چلا کر میرے حق پر ڈاکہ ڈال کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اب بھی اس کے ڈرامے ختم نہیں ہو رہے، جبکہ سب کچھ اسکی مرضی سے ہوا ہے،، میں اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ چہرے کیساتھ غرا غرا کر بولتی وہ کوئی پاگل لگ رہی تھی۔
خاموش ہو جاؤ پلوشہ !!! حد ہوتی ہے کسی بات کی ،،، حیدر نے خود تم سے شادی سے انکار کیا تھا،،، اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا اب حیدر کی بیوی اور اس حویلی کی بہو ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے، تمہیں بھی اس حقیقت کو قبول کر لینا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسار بیگم کے غصّے بھرے لہجے پر پلوشہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھر آئی۔
ہونہہ ،،، تو میں کیا کہہ رہی ہوں،، اسی ڈائن کی ہی وجہ سے تو مجھے ٹھکرایا ہے حیدر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑوں گی نہیں میں اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو اس کی اوقات یاد دلا کر رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چبا چبا کر بولی تو گلناز بیگم جھٹکے سے اٹھیں اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے ڈائننگ حال سے باہر نکل گئیں۔ رخسار بیگم بھی تیزی سے حال کمرے سے باہر نکل گئیں۔
یار کوئی حد ہوتی ہے،،، لیکن یہ پلوشہ آپی تو پاگل ہی ہو گئی ہیں بالکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے تاسف سے کہتے ہوئے سر ہلایا
سوہا بیچاری بھی کیا کرے،، جو کچھ حیدر نے ماضی میں اس کیساتھ کیا ہے اس کا یہ ردِعمل تو فطری بات ہے،، مجھے حیرت نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں پرُامیّد ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ کے کہنے پر وہ سب دھیرے سے آمین بولتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
****************
سالک حیدر کی واپسی دوپہر تک ہوئی تھی،،، مہروز خان کو یوں بھی دن بھر فرصت نہیں ملتی تھی، سو وہ بی جان کے کمرے میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد اسماء بیگم کیساتھ ان کے کمرے میں چلی آئی کچھ وقت مراد صاحب کیساتھ گزارنے کے بعد وہ برآمدے کے تخت پر آ بیٹھی تھی،،
رخسار بیگم مُنّی (ملازمہ) کیساتھ،،، سالک حیدر کے کمرے میں جا کر سوہا کے ڈریسنگ ٹیبل پر بکھرے زیورات کو لاکر میں رکھنے کے بعد اس کے شادی کے جوڑے کو تہہ کر کے احتیاط سے رکھنے کے بعد،، اس کے لئے خریدے اور بھی ملبوسات و ضروری اشیاء مُنّی سے وارڈروب میں سیٹ کروا دئیے تھے،،، اور میک اپ کا سامان بھی ڈریسنگ ٹیبل ترتیب سے
ہمیشہ کی طرح حویلی کی گہما گہمی عروج پر تھی،، لیکن اس کے ہی اندر کا موسم ٹھیک نہیں تھا،،، نقاہت کے باعث اب اسے اپنا جسم پُر حِدّت محسوس ہو رہا تھا
سالک حیدر راہداری عبور کرتا برآمدے کی جانب آیا تو سامنے تخت پر بیٹھی اس دشمنِ جاں کو دیکھکر دل میں سکون و آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی۔
وہ چلتا ہوا تخت کے پاس آ کھڑا ہوا،،،، وہ ناجانے کن خیالات میں گُم تھی کہ آہٹ پر بھی سر نہ اٹھایا۔
صبح بخیر مسز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پُرشوق نظروں سے اسے دیکھتے وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا
اس کی آواز پر یکدم وہ چونکتی سر اٹھا گئی، اور سامنے اپنے اپنے لمبے قد و قامت سمیت کھڑے سالک حیدر کو دیکھکر اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا، چہرے پر چھلکتی ناگواری کے تاثرات سمیت وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی جوں ہی اندر جانے کیلئے قدم بڑھایا،، سالک حیدر نے سرعت سے آگے بڑھکر اس کی کلائی تھام لی۔ سوہا کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی
چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،، بھینچے لہجے میں کہتی اس نے ہاتھ چھڑانے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر دوسری جانب گرفت مضبوط تھی۔
کیا اتنا قابلِ نفرت ہوں کہ ایک نظر بھی مجھ پر ڈالنا گوارا نہیں سمجھتیں ؟؟ وہ گھوم کر اس کے مقابل آ کھڑا ہوا،،،، آہستہ مگر لو دیتے لہجے میں کہتے اپنی جذبوں سے چور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا،، تو وہ جو بگڑے تاثرات سمیت نظروں کا زاویہ پھیرے ہوئے تھی،،جھٹکے سے اسکے چہرے پر اپنی کاٹ دار نظریں ڈالیں۔
قابلِ نفرت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم تو نفرت کے قابل بھی نہیں ہو !!! میری نظروں میں تمہارا مقام اتنا ہی گرا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خونخوار لہجے میں بولتی وہ ایک بار پھر اس کی گرفت سے کلائی چھڑانے کی جدو جہد میں مصروف ہو گئی۔ سالک حیدر نے ایک ہاتھ میں اس کی کلائی ہنوز پکڑے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی کو اس کے ماتھے پر رکھا،، اور ساتھ ہی فکرمندانہ نظروں سے اسے دیکھا۔
تمہیں تو بخار ہو رہا ہے سوہا،، میڈیسن لی تم نے کوئی ؟؟ یقیناً نہیں لی ہوگی، چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشویش سے کہتا اس کی کلائی پر اپنی گرفت سخت کرتے اسے ساتھ چلنے کا کہا۔
تم کس بھول میں ہو آخر ہاں ؟؟ تم جو کہوگے میں مانوں گی اس خیال کو اپنے دل سے نکال دو سالک حیدر خان،،، چھوڑو میرا ہاتھ ،،، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرا کر کہتے اس نے پوری قوت سے کلائی چھڑانے کی کوشش کی مگر بے سود رہی۔
ورنہ ؟؟ سالک حیدر نے ایک ابرو اُچکاتے ہوئے اسے دیکھا تو وہ سلگتی آنکھوں سے اسے دیکھتی اسہزائیہ انداز میں ہنسی
ورنہ میں کر ہی کیا سکتی ہوں،، میں کیوں یہ سب کہہ رہی ہوں،، یہاں کسی کو یا تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم تو بہت مزے میں ہو،، کیونکہ تمہیں سب کی حمایت جو حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے ہر کوئی تمہاری طرف داری کر رہا ہے تو تمہارا میرے ساتھ اس قسم کے جبر پر بھی کوئی میرا ساتھ کیوں دیگا ۔۔۔۔۔۔۔ سہی کہا نا میں نے ؟؟؟؟ وہ چھبتے ہوئے لہجے میں حقارت سے بولی تو سالک حیدر نے بے ساختہ اپنی گرفت سے اس کی کلائی کو آزاد کیا تھا۔ جبکہ وہ ہنوز کینہ توز نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
سوہا میں نے تمہیں رات بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں جبکہ بار بار اپنی باتوں کو دہرانا بھی میری عادت میں شامل نہیں ہے،، میری محبّت کو ہوس سے تشبیہہ مت دو،،، میں چھیننے جھپٹنے کا قائل نہیں ہوں،، سو جبر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یو ڈونٹ وری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں بھرپور سنجیدگی لئے وہ اسے یقین دلانے والے لہجے میں بولا تو وہ سر نخوت سے سر جھٹک کر رہ گئی۔
میں کل صبح شہر جا رہا ہوں،،، آفس کے کچھ ضروری کام نپٹا کر چند دنوں میں واپس آ جاؤں گا،،،، تمہاری کتابیں بھی ساتھ لے آؤں گا،،، میری خواہش تو یہی ہے کہ تم ساتھ چلو مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری طبیعت کے پیشِ نظر یہ پھر کبھی پر چھوڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اس کے بیگانہ انداز کو دیکھتے ہوئے اسے شہر جانے کی بابت بتایا۔ وہ اسی لحاظ سے گویا جلتے توے پر جا بیٹھی۔
مسٹر سالک حیدر،،، تم میری بلا سے جہنم میں جاؤ مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا، دوسری بات ہرگز نہیں خبردار جو تم میری کتابیں لائے میں ان کتابوں کا وجود ہی ختم کر دوں گی،، اور ہاں میری بات سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ شہر جانے سے بہتر ہے کہ میں زہر کھا کر سو رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ آج اور نہ آئندہ ۔۔۔۔ مجھے اپنے پلان میں شامل کرنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھے تم ۔۔۔۔۔۔ غصّے سے بپھرتے وہ بنا کسی لحاظ کے چیخی تھی،، پھر پیر پٹختے ہوئے تنتناتی اندر چلی گئی،، سالک حیدر وہیں کھڑا چند گہری سانس بھر کر خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔
****************
سالک حیدر نے مہروز خان و بی جان وغیرہ کو اپنے صبح شہر جانے کی اطلاع کر دی تھی،،، اندر ہی اندر وہ سوہا کی طبیعت کی وجہ سے پریشان بھی تھا، سو اس بابت بی جان سے بات کرنے کی غرض سے حویلی کے پچھلے حصّے میں مقیم باغ کی جانب آ گیا۔ بی جان شام میں ایک چکّر ادھر کا ضرور لگاتی تھیں سو وہ جانتا تھا کہ وہ ادھر ہی ملیں گی۔ بی جان جھولے پر بیٹھی ہولے ہولے جھولتی ساتھ میں تسبیح پڑھتی شام کے اس پرکیف منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ انہیں پکارتا ان کے نزدیک ہی جھولے پر بیٹھ کر ان کی گود میں سر گیا تو وہ اسے خفگی سے دیکھنے لگیں ،،، ان کی ناراضگی محسوس کرتے وہ دھیرے سے ہنسا اور انہیں اپنے حصار میں لے لیا۔
میں چند دنوں بعد آ جاؤں گا بی جان،،، بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے،،، ضروری کام نپٹا کر میں چلا آؤں گا،،، رہی آفس کے کام کی بات تو میں کون سا وہاں امپلائے ہوں،، گاہے گاہے چکّر لگا لیا کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں فکر کرتی ہیں ؟؟ اس نے محبت بھرے لہجے میں ان کی ناراضگی دور کرنی چاہی
سوہا سے بات کی ؟؟ اسے بھی ساتھ لے جا ۔۔۔۔۔ ویسے بھی اب وہ تیری بیوی ہے اسے تیرے ساتھ ہونا چائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا
بی جان میں اسی متعلق آپ سے بات کرنے آیا ہوں،،، سوہا کی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی،، آئی تھنک، اسے بخار ہو رہا ہے،،، اتنا لمبا سفر کر کے اسے مزید تھکان ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سو پھر کبھی سہی ۔۔۔۔۔۔ بس اسے میڈیسن دیں اور اگر وہ تیار ہو جائے تو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں سکون سے شہر جا سکوں گا، ورنہ وہاں بھی مجھے اس کی طبیعت کی فکر رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے فکرمندانہ انداز پر بی جان کی آنکھوں میں طمانیت اتر آئی۔ انہوں نے اس کی پیشانی چومتے تشکرانہ نظروں سے اوپر دیکھا تھا۔
*******************
رات کے کھانے کے بعد سب حال کمرے میں جمع ہو گئے،، سوہا کا دل بھی ادھر بیٹھنے کو تھا لیکن طبیعت کے پیشِ نظر وہ بی جان سے دوا لے کر کھاتی اب انہیں کے کمرے میں سونے کی منتیں کرنے میں مصروف تھی۔ پاس کھڑی اسماء بیگم مسکراہٹ دباتی آنکھوں ہی آنکھوں میں بی جان کو کسی بھی صورت نہ ماننے کا کہتی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
بی جان پلیز،، آپ کے پاس ہی سوؤں گی میں،،، آپ کو مجھ پر رحم کیوں نہیں آ رہا ؟؟؟ وہ خفگی و نقاہت سے چور لہجے میں بولی تو بی جان نے اسے گھورا۔
ضد نہیں کرتے میری دھی،، جا اپنے کمرے میں سو،، شاباش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی اب تیری جگہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے کہا بھی ہے کہ ڈاکٹر کے پاس چل، لیکن تو مانے تب نا،، اب لیٹ مت کر ۔۔۔۔ اپنے کمرے میں جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوا کھلائی ہے نا ۔۔۔۔ انشاء اللّہ سو کر اٹھے گی تو بہتر محسوس کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے محبت سے پچکارتے ہوئے کہا تو وہ غصّے سے بل کھاتی انہیں خفگی بھرے انداز میں دیکھتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے وہ غصّے سے دندناتی بیڈ کے قریب آئی اور تکیہ اٹھا کر پلٹی، کبھی سالک حیدر کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھ کر سوہا کے نقوش میں اور بھی تلخی ابھر آئی۔
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے سوہا، سو تمہیں بیڈ پر سونا چائیے،، صوفے پر خواہ مخواہ بے آرامی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بارعب لہجے میں کہتا وہ بیڈ کے قریب آیا۔
تم کون ہوتے ہو مجھے حکم دینے والے،، جہاں میرا دل کرے گا سوؤں گی ۔۔۔۔۔۔ لیکن بیڈ پر ہرگز نہیں سونے والی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آگ بگولہ ہوتی بولی تو سالک حیدر کے ہونٹوں پر ایک دھیمی مگر خوبصورت مسکراہٹ آ گئی۔
اب تو یہ سوال سراسر غلط ہے “مسز” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کون ہوں تمہارا یہ تو تمہیں بہتر پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس سوال کا مقصد ؟؟ وہ مسکراتی جتاتی نظروں سے اس کی بخار کی حِدّت سے سرخی لئے سرمئی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو وہ دانت کچکچا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پاؤں پٹختے ہوئے صوفے کی جانب بڑھ گئی۔ اور صوفے پر سیدھی لیٹ کر دوپٹہ چہرے پر ڈال لیا۔
سالک حیدر یوں تو کافی دیر تک نیچے جمی محفل سے لطف اندوز ہوتا مگر سوہا کی فکر میں وہ جلدی آ گیا تھا۔ وہ بیڈ پر دراز ہو گیا جبکہ نظریں صوفے پر جمی ہوئی تھیں۔ جہاں وہ وجود اس سے مکمل بیگانگی کیساتھ سویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے جلتی نظریں چھت پر ٹکا دیں
کیا تم مجھے کبھی معاف کر بھی سکو گی سوہا یا نہیں ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی یہ نارسائی میرا مقدّر بن جائے گی ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا سچ میں، میں تمام عمر تمہاری ایک نظرِ کرم کے لئے ترسوں گا ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی تمہیں میرے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ؟؟؟ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تم ہی میری زندگی کا حاصل ہو تو میں وہ کبھی نہ کرتا جو میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جلتی آنکھیں میچتے ہوئے اس نے دوبارہ صوفے کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔۔ وہ اسی زاوئیے پر سو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب وہ گہری نیند سو چکی تھی۔
وہ بیڈ سے اٹھا اور صوفے کی جانب بڑھا،،، آہستگی سے اس کے چہرے سے دوپٹّہ سرکاتے اس نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو گویا کرنٹ لگا تھا۔ وہ شدید بخار میں پھنک رہی تھی۔ بی جان کی دی ہوئی دوائیوں نے اب تک کوئی اثر نہیں دکھایا تھا۔ وہ نیم بے ہوشی کی سی کیفیت میں تھی۔
بنا اس کی بعد کی ناراضگی کی پرواہ کئے اس نے بے اختیار اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا، اور بیڈ پر لا کر آہستگی سے اس کے سر کو پیچھے کی جانب سے احتیاط سے پکڑے جیسے ہی لٹانے لگا وہ ایک بازو اس کی گردن میں ڈالے کسمسا کر اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی،،،، سالک حیدر خان اسی زاوئیے پر چند لمحے کیلئے ساکت رہ گیا تھا،،، سوہا کے چہرے سے اٹھتی بے تحاشہ گرم بھاپ گویا اس کے سینے میں اتر رہی تھی۔ وہ ہوش میں ہوتی تو اس قسم کے اقدام کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھتی،، لیکن ظاہر تھا کہ وہ ہوش میں ہی تو نہ تھی۔
گہرا سانس بھرتے اس نے آہستگی سے اسے خود سے الگ کرتے بیڈ پر لٹایا تھا،، اور صوفے سے تکیہ اٹھا کر اس کے قریب آتا اسی احتیاط سے اس کا سر اٹھا کر نیچے تکیہ لگا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی فرسٹ ایڈ باکس سے پٹی نکالتا اور چئیر کو بیڈ کے قریب رکھتا وہ کمرے سے نکلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیڑھیوں کے قریب آ کر بلند آواز میں سبّو (ملازمہ) کو آواز دے کر ٹھنڈا پانی لانے کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پانی لائی تو اس نے سیڑھیوں سے ہی پانی کا باؤل تھامتے اسے جانے کا حکم دیا اور باؤل لے کر اپنے کمرے میں چلا آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے بیڈ پر نظر ڈالی جہاں وہ ہنوز بے خبر پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،
وہ چئیر پر بیٹھا اور پٹیوں کو پانی بگھوتا اس کی پیشانی پر رکھ گیا،،، چند لمحے رک کر اس کی پیشانی سے پٹی کو اتارا اور پھر دوبارہ وہی عمل دہرایا اور پھر بار بار وہی عمل دہراتا گیا ۔۔۔۔۔۔ رات کے تقریباً دو بج چکے تھے جب اس کا بخار اترا لیکن وہ ابھی بھی گہری نیند میں تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کے ٹھنڈے ماتھے پہ ہاتھ رکھتا وہ گویا سکون کی گہری سانس بھر گیا ساتھ ہی اس کا ہاتھ اور گردن چھو کر ایک بار پھر اپنی تسلیّ کی ،، کچھ دیر اسے بے خود نظروں سے دیکھنے کے بعد وہ اٹھا اور اس پر لحاف ڈالتے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔
*****************
صبح اس کی آنکھ کھلی تو وہ مندی مندی آنکھوں سے کچھ دیر بستر پر پڑی رہی اور پھر گویا ہوش میں آتی کرنٹ کھاتی بیڈ سے اتری ۔۔۔۔۔۔۔ بے یقینی کی کیفیت میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وہ ایک دفعہ صوفے کی جانب تو ایک دفعہ بیڈ کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
جبھی سالک حیدر کمرے میں داخل ہوا تھا،،، کندھوں پر کوٹ ڈالے، وائٹ شرٹ و نیوی بلیو جینس میں، سنوارے ہوئے لائٹ براؤن بال جو کہ کچھ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے،، قیمتی جوتوں سمیت وہ شہر کے لئے تیار اب نکلنے کو تھا۔
میں تمہیں بیڈ پر لے گیا تھا،، ایکچولی تمہارا بخار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بے یقینی دیکھتے ہوئے وہ متانت بھرے لہجے میں کہتا گویا اسے آگ ہی لگا گیا۔ وہ بپھری ہوئی موج کی طرح اس کی طرف بڑھی تھی۔
کیوں کس حق سے تم نے یہ کیا سالک حیدر ؟؟؟ تمہاری جرت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی بھی ۔۔۔۔ بولو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات کاٹتے ہوئے وہ غم و غصّے پھٹتی آواز میں بولی،، آنکھیں تیزی سے نم ہوئی تھیں۔
تمہاری طبیعت بہت خراب تھی رات،، بخار زیادہ تھا،، اور تم صوفے پر بے آرامی سے پڑی تھی تو میں نے تمہیں بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔۔۔ ڈیٹس اٹ۔ تمہارا بخار اترا تو میں ڈریسنگ روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے بتاتے وہ دانستہ پٹی والی بات مِس کر گیا تھا۔
اچھے بننے کا ناٹک مت کرو سمجھے تم،، آئیندہ اگر تم نے ایسی کوئی بھی جرت کی تو میں تمہارا قتل کر دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شہادت کی انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے غرائی تو سالک حیدر کے لبوں پر بے اختیار ہنسی ابھر آئی۔
میں تو ویسے بھی شہر جا رہا ہوں ،، انشاءاللّہ چند روز میں واپسی ہوگی !! تم اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہوئے آگے بڑھا اور اس کو کندھوں سے تھام لیا،، اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی اس نے نہایت آہستگی سے اس کی پیشانی پر پوری شِدّت سے اپنا لمس چھوڑا تھا،، اور وہ اپنی جگہ ساکت بت بنی کھڑی رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے پیچھے ہٹتے بے خود انداز میں اس کا چہرہ دیکھا اور آہستگی سے خدا حافظ کہتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہ اب تک اسی زاوئیے پر ساکن کھڑی تھی پھر یکایک ہوش میں آتی وحشت زدہ انداز میں بے دردی سے اپنی پیشانی رگڑتی بیڈ پر اوندھے منہ گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
سالک حیدر سب سے ملاقات کے بعد بی جان و اسماء بیگم کو سوہا کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کرتا گاڑی میں آ بیٹھا ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ اس کے حفاظتی گارڈز بھی موجود تھے،،، گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بے اختیار اس کی نظریں اوپر اپنے روم کی کھڑکیوں پر پڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ ہنوز بند تھیں۔ گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے بلیک گلاسز آنکھوں پر لگایا اور ڈرائیور کو گاڑی آگے بڑھانے کا کہا !!!
ستم سہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ مجھ کو بھی محبّت ہو گئی ہے تجھے ہے فِکرِ دنیا اور مجھ کو فقط تیری ہی چاہت ہو گئی ہے جاری ہے
