Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

پھپھیوں کی فیملیز و دیگر مہمان بھی آ چکے تھے۔ حویلی کی گہما گہمی مزید بڑھ گئی تھی۔ دعا کو مہندی لگ چکی تھی۔ وہ ہلدی کے پیلے لباس میں بہت دلکش لگ رہی تھی۔ ہلدی کی رسم کے دوران بھی سوہا سالک کی نظروں کی تپش خود پر محسوس کرتی رہی تھی،، لیکن دانستہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا !!!

ڈھولکی کی آواز اس خوشنما ماحول کو اور بھی پرکیف و خوشگوار رنگ دے رہی تھی۔ یوسف خان کے چہرہ خوش سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کے تقریباً 3 بجے تک اس رسم کا اختتام ہوا تھا۔ خیر و عافیت سے دوسرے روز یوسف خان کی شادی کا مرحلہ بھی طے ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ یوسف خان کے ولیمے کے تین روز بعد سالک حیدر و سوہا کے ولیمے کی رسم ہونے کو تھی۔ اس دوران سالک حیدر سے اس کی روز رات میں فون پر بات ہوتی رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے انتخاب میں سے اسے کچھ سناتا اور وہ آنکھیں بند کئے اس کی ماحول پر سحر طاری کر دینے والی آواز میں کھو سی جاتی ۔۔۔۔۔ !!!

سالک نے عدنان کو کال کر کے ولیمے پر مدعو کیا تو اس نے حامی بھر لی ۔۔۔۔ اس نے عدنان کو اپنی طبیعت کی خرابی کا نہیں بتایا تھا،، کیونکہ وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا،، جبکہ دوسری جانب عدنان حیران تھا کہ وہ آخر شہر کا چکّر کیوں نہیں لگا رہا۔ سالک حیدر نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ کچھ دن گاؤں میں گزارنا چاہتا ہے۔ آفس کی ڈیٹلیز اسے ذولفقار صاحب سے ملتی رہتی تھی۔

یوسف خان کے ولیمے کی رسم کے بعد سوہا کو پیلے سوٹ میں مایوں بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں کو خوبصورت مہندی کی ڈیزائن سے مزین کیا گیا،، اس وقت علیزے نیچے تھی جبکہ وہ کمرے سے باہر نہیں نکل سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔ اسے پیاس کا احساس جاگا تو وہ پانی کا خالی جگ دیکھ کر کمرے سے نکل کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی،، تاکہ کسی ملازمہ کو آواز لگا کر پانی لانے کا کہہ سکے،،، وہ کمرے سے نکل کر لمبی راہداری عبور کرتی جوں ہی سیڑھیوں کی جانب ائی،، سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتے سالک حیدر کو دیکھ کر اس کا منہ کچھ پل کے لئے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ اپنے سیل فون پر مصروف تھا۔ سوہا کو بوکھلاہٹ میں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس سمت کو جائے ۔۔۔۔۔۔،،،
جبھی سالک حیدر نے کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے سر اٹھایا تو سامنے گھبرائی گھبرائی سی کھڑی سوہا کو دیکھکر وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوا۔

کیا بات ہے جناب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ میرے ویلکم کے لئے یہاں کھڑی تھیں ؟؟ اسے استحقاق آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے سیل فون جیب میں ڈالا ۔۔۔۔۔ جبکہ وہ بنا کوئی جواب دئیے پلٹ کر بھاگنے کو تھی کہ سالک حیدر نے سرعت سے اس کا ہاتھ پیچھے سے پکڑا ،، سوہا کی گھبراہٹ دو چند ہو گئی۔

حیدر سائیں،، یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ میرا آپ سے پردہ ہے ۔۔۔۔۔۔ چھوڑیں کسی بھی پل کوئی بھی آ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کانپتے لہجے میں بولی جبکہ بنا اس کی التجا پر کان دھرے وہ گھوم کر اس کی جانب آتا ہنوز اسی طرح اس کا ہاتھ پکڑے اسے تیزی سے لے کر کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ک،، کیا کر رہے ہیں،،، علیزے یا کوئی بھی آ گیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی لرزتی آواز حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے اسے ڈریسنگ ٹیبل کے قریب دیوار سے لگا کر اس کے مہندی لگے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی مہندی کو دیکھا جو کہ سوکھ چکی تھی

بس مجھے یہ مہندی دیکھنی ہے،، تمہارے ہاتھوں میں یہ بہت دلکش لگ رہی ہے،، اور تمہارا یہ روپ،، میرے دل کے نہاں خانوں میں حشر برپا کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی دونوں ہتھیلیوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے اس نے توجّہ اس کے چہرے کی جانب مرکوز کی تو اس کی نظروں کی حِدّت سے اس کا چہرہ اناری ہو گیا ۔۔۔۔۔ ساری جان جیسے ہتھیلیوں میں ہی سمٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ کسی کے آ جانے کا خوف و گھبراہٹ الگ ۔۔۔۔۔۔۔

ا،،، اچھا اب دیکھ لی ہے تو میں جاؤں ؟ اس نے التجائیہ آمیز لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔ سالک حیدر کی اشتیاق آمیز نظریں اس کے چہرے پر پھسل رہی تھیں۔

اچھّا جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو روز بعد تو تم نے میرے ہی پاس آنا ہے ۔۔۔۔۔۔ سب حساب برابر کر دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھیمے و جذبوں سے چور لہجے میں بولتا وہ اسے بوکھلانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی سائیڈ سے نکل کر سرپٹ بھاگی تھی۔ راہداری میں کوئی نہ تھا۔ وہ شکر کرتی کمرے کی جانب بھاگی ۔۔۔۔۔۔ گھبراہٹ میں پیاس کا احساس بھی کافور ہو چکا تھا۔

دھوپ کے پار ستاروں کا نگر لگتا ہے اُس پہاڑی پہ مجھے چاند کا گھر لگتا ہے میں تیرے ساتھ ستاروں پہ بھی چل سکتی ہوں کتنا آسان محبّت کا سفر لگتا ہے *****************

بالآخر ولیمے کا دن آ پہنچا تھا۔ عدنان کی بھی آمد صبح ہی ہو چکی تھی۔ سالک حیدر اس سے نہایت ہی گرمجوشی سے ملا ،،، اسکی خاطر مدارت بھرپور طریقے سے کی گئی تھی۔ مہروز خان سے لے کر باقی مرد حضرات بھی اس سے بہت تپاک سے ملے۔

یار سالک،، یہ معجزہ ہوا کیسے ؟ بھابھی تو تجھ سے بہت ناراض تھیں نا تو نے انہیں کیسے منایا بتا دے، آگے چل کر میرے کام آئے گا یہ راز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان کے شرارتی انداز پر سب ہنس پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت سب باہر مردان خانے میں موجود تھے۔

معجزے تو پل بھر میں ہی رونما ہوتے ہیں میرے یار،، انہیں صدیاں درکار نہیں ہوتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے ہنستے ہوئے جواب دیا

میں تیرے لئے بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔ اللّہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان نے دل سے دعا دی

آمین !!! بہت شکریہ میرے دوست،، میں بھی تمہاری یہاں شرکت پر بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تم یہاں ایک ہفتہ گزارو گے پھر ہی شہر جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر کے کہنے پر سب نے اس کی تائید کی جبکہ عدنان نے اپنی مصروفیات کا بتاتے کل ہی شہر واپسی کا کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کے اصرار پر اس نے پھر کبھی آنے کا وعدہ کر لیا تو سالک حیدر بھی مطمئن ہو گیا۔

                                ******************

ڈیپ ریڈ غرارے میں خاندانی زیورات پہنے و سولہ سنگھار کئے وہ دلہن بنی کوئی اپسرا لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ جو بھی نظر اس پر اٹھی تھی ٹھہر سی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے اس کے نام پر صدقہ اتارا ۔۔۔۔۔ جبکہ اسماء بیگم و مراد صاحب کی آنکھیں اس کو اس کی حقیقی خوشیوں کی دعائیں دیتے ہوئے نم ہو گئی تھیں۔ مہروز خان سمیت حویلی کے بڑے مرد حضرات نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعاؤں سے نوازا تو اتنی محبتوں پر وہ خدا کی مشکور ہو گئی۔ سالک حیدر بلیک تھری پیس سوٹ میں،،، اپنے لمبے قد و قامت سمیت،، ہیزل براؤن آنکھوں میں دنیا جہاں کے جذبات سمیٹے، انتہا کا جاذب نظر لگ رہا تھا۔ چونکہ یہ ان کا ولیمہ تھا لیکن سالک حیدر کی تمام رسمیں باہر لان میں جبکہ سوہا کیساتھ تمام رسمیں اندر ہی نبھائی گئیں تھیں۔

وہ عدنان سے ملتا باقی لڑکوں کیساتھ اندر بڑھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان و دیگر خواتین سے ملتا وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو لڑکیاں سوہا کو لئے سیڑھیوں کے قریب کھڑی تھیں،، سوہا کا گھونگھٹ چہرے پر گرا ہوا تھا۔ لڑکیوں کو ایک بار پھر سے ان کا مطلوبہ نیگ دینے کے بعد اس نے گھونگھٹ میں کھڑے وجود پر نظر ڈالی۔

حیدر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کو تم اٹھا کر کمرے میں لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے شرارتی انداز میں کہا تو باقی سب بھی شور مچانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کا دل گویا دماغ میں دھڑکنے لگا تھا۔ مارے شرم و گھبراہٹ کے ہاتھ پاؤں برف ہو چکے تھے جبکہ سالک حیدر نے دلنشیں مسکراہٹ کیساتھ آگے بڑھکر اس کے کانپتے وجود کو کسی گڑیا کی مانند اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تالیوں کی گونج میں وہ اسے لئے سیڑھیاں چڑھ کر راہداری عبور کرتا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اس کی قربت پر سوہا کی سانسیں رک سی گئیں تھیں ۔۔۔۔۔ اسے پھولوں سے سجے بیڈ پر بٹھا کر وہ دروازے کی سمت بڑھا اور دروازہ بند کر کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلتا بیڈ کی جانب آ گیا۔ سوہا کی ہتھیلیوں میں پسینہ اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ دل اس قدر زور زور سے دھڑک رہا تھا کہ اس کی آواز اسے اپنے کانوں میں صاف سنائی دے رہی تھی۔

مجھ کو خیال ہے کہ تو میرا خیال ہے ائے مرکزِ خیال تیرا کیا خیال ہے ؟ آتا ہے تو خیال میں کتنے خیال سے مجھ کو تیرے خیال کا کتنا خیال ہے

اپنی گھمبیر و خوبصورت آواز کے جادو بکھیرتا وہ بیڈ پر آ بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا بے اختیار زرا سا پیچھے سرکی تھی۔ کچھ پل گھونگھٹ میں چھپے اس کے سراپے کو دیکھنے کے بعد نہایت آہستگی سے اس کا گھونگھٹ الٹ دیا تھا،،،،،، اور پھر وہ جیسے اپنی جگہ دم بخود رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لمبی پلکیں جو کہ حیا کے بوجھ سے رخساروں کی زینت بنی ہوئی تھیں،، دمکتی پیشانی جس پر نازک سا خوبصورت ٹیکہ اپنی جوبن دکھا رہا تھا ۔۔۔۔۔ کھڑی ستواں ناک میں پہنی نتھ اس کے دلہناپے کو مزید نکھار رہی تھی۔ کانوں میں پہنے خوبصورت جھمکے و مہندی لگے ہاتھوں میں طلائی چوڑیاں ۔۔۔۔۔۔۔ عارضوں پر سمٹا گُلال،،، ریڈ لپسٹک سے سجے صندلی لب جو ہولے ہولے لرزتے ہوئے اس کی اندرونی حالت کا پتہ دے رہے تھے۔ بالوں میں لگے جھومر و خوبصورت پازیب و جھاگر کیساتھ وہ کسی حور سے مشابہت رکھتی قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر بے خود سا اس کا یہ روپ آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا۔

آداب !!! اس کا حنائی ہاتھ تھام کر لبوں سے چھوتے ہوئے اس نے شرارتی انداز میں کہا تو وہ مزید خود میں سمٹتے ہوئے آنکھیں مکمل بند کر گئی تھی۔
سالک حیدر نے بیساختہ اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ کٹی ہوئی شاخ کی طرح اس کے سینے سے آ لگی ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تو آنکھیں ہنوز بند تھیں۔

یار میں اتنا بھی برا نہیں ہوں مسز،،، آنکھیں کھولو تو سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی دونوں آنکھوں پر لب رکھتا وہ دھیرے سے ہنسا جبکہ اشتیاق آمیز نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ بکھر گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ اس نے آہستگی سے لمبی پلکوں کی جھالر اٹھا کر اسے دیکھا ،، آنکھوں میں حیا کی لالی بکھری ہوئی تھی۔

کچھ بولو گی نہیں ،، میری تعریف ہی کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرارت آمیز لہجے میں وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا تو سوہا کے چہرے پر الوہی مسکان آ گئی۔

یہ تمہاری منہ دکھائی کا تحفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہتے ہوئے ایک باکس اس کی جانب بڑھایا تو اسے تھام گئی۔ کھول کر دیکھا تو اس میں بیحد خوبصورت طلائی کنگن موجود تھے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی

یہ بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آہستگی سے کہتے ہوئے نظریں اٹھائیں تو اس کی محبّت بھری نظریں خود پر جمی محسوس کر کے لجا سی گئی۔

انہیں بعد میں پہن لینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہ مخواہ ڈسٹرب کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ سے باکس لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا وہ جس انداز میں بولا ۔۔۔۔۔۔ اس کی بے باک گفتگو سے سوہا کے چہرے پر جیسے خون امڈ آیا تھا ،، وہ کانوں کی لوؤں تک سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ پلکیں لرز کر رہ گئیں۔

سالک حیدر نے اس کا بھاری دوپٹہ اس کے وجود سے الگ کرتے ہوئے پاس رکھ دیا،، وہ بے اختیار اس کے گلے سے لگ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ دھڑکنوں کا شور دم بہ دم بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ گہرے سانس بھرتی وہ گویا خود کو تقویت پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

سالک حیدر نے اس کے نرم گرم لمس کو محسوس کرتے بے خود انداز میں اس کے گداز وجود کو خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر آنکھیں بند کئے اس کے اس کے لمس کو محسوس کرنے کے بعد وہ اسے خود سے الگ کر گیا۔ وہ پلکیں جھکا گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اس کے کانوں سے جھمکے نکال کر سائیڈ پر رکھے،، ساتھ ہی اس کی نتھ بھی آہستگی سے نکال کر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی گردن کو چین و نیکلس سے آزاد کرتا وہ اس کے لمبے بالوں کو کھول گیا۔ اس کے ہاتھ کو چوڑیوں و پاؤں کو پازیب سے آزاد کرتا وہ اسے اپنے بیحد قریب کر گیا تھا۔

ح حیدر سائیں پ،، پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چہرے کو اپنے حنائی ہاتھوں میں چھپاتی لرز کر بولی
سالک حیدر نے ایک ہاتھ سے اس کی کمر جکڑ کر جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھوں کو اس کے چہرے سے ہٹایا تو وہ بے ترتیب سانسوں کے ساتھ پزل ہوتی اسے دیکھنے لگی جس کے تیور خطرناک لگ رہے تھے۔ اس نے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹیک دیا۔

مسز، پلیز کی تو گنجائش ہی نہیں بچتی،، اتنے انتظار کے بعد تو یہ لمحات نصیب ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے گھمبیر آواز میں کہتے اس کی شہہ رگ پر لب رکھ دئیے تو اس کے حواس مختل ہونے لگے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے جسم کے ہر مسام سے پسینہ بہہ نکلا ہو۔

اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے اس نے اس کی پیشانی پر محبّت کی مہر ثبت کی، پھر اس کے دونوں عارضوں کو چومتے وہ اس کی ٹھوری پر اپنے لب رکھ دئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کئے گہرے سانس لیتی خواب کی سی کیفیت میں تھی۔ اس کے کپکپاتے لبوں کو دیکھتے ہوئے سالک حیدر بے اختیار اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔ سوہا نے یکدم مضبوطی سے اس کے شانوں کو تھاما تھا ۔۔۔۔۔۔ دل کی دنیا میں دھڑکنوں کا عجب شور برپا تھا۔ چند سیکنڈز بعد وہ زرا پیچھے ہوا تو وہ اپنا تنفس درست کرنے کی کوشش میں بیحال سی بے تحاشہ سرخ دہکتے چہرے کیساتھ پیچھے ہٹی تھی۔

اس کی حالت دیکھتے ہوئے وہ بیساختہ قہقہہ لگا گیا۔ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بیڈ سے اتر کر قدرے فاصلے پر کھڑی ہو گئی۔

مممم چینج کر لوں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے چھپائے ہی بولی۔

اوکے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ ضبط کرتا بولا تو اسے جیسے آزادی کا پروانہ مل گیا تھا فوراً واشروم کی جانب بھاگی تھی،، وہ بھی چینج کرنے کی غرض سے ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔
چینج کرنے کے بعد وہ کچھ دیر تک تذبذب میں کھڑی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شخص کے سامنے جانے کے خیال سے ہی دل لرزنے لگا تھا اوپر سے اس کی بولتی ہوئی نظریں ۔۔۔۔۔۔۔،،، واشروم سے باہر نکل کر وہ آہستہ قدموں سے چلتی سائیڈ ٹیبل کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔ کمرے کی لائٹس بند تھیں ۔۔۔۔ سائیڈ لیمپ کی روشنی میں اس نے نظر اٹھا کر سامنے بیڈ کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چینج کر کے بیڈ پر لیٹا اسی کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کے قدم من بھر بھر کے ہو رہے تھے۔ وہ ہاتھوں کو مسلتی بیحد نروس سی ہونٹوں کو چبائے جا رہی تھی۔

آہٹ پر آنکھیں بند کر کے لیٹے سالک حیدر نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسے بیر بہوٹی بنے کھڑا پایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سکائی بلیو کاٹن کے ہلکے سے شرارے میں ملبوس جس کی سلیوز ہاف تھیں وہ سادگی میں بھی کوئی کانچ کی گڑیا لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی جھجھک کو محسوس کرتا وہ بیڈ سے اٹھا اور اس کے قریب آ کر اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے چہرہ اس کی گردن میں چھپا لیا تھا۔ اس کی سانسوں کی تپش اپنی گردن پر محسوس کرتے سالک حیدر کے جذبات کی دنیا میں وہ تلاطم برپا کر رہی تھی۔

اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس کا دوپٹہ پرے کرتا وہ تکئے پر دائیں ہاتھ کی کہنی کے سہارے اس پر جھکا اور دوسرا ہاتھ تکئے کے اطراف میں رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پلکیں جھپکتی اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اس کے جسم سے اٹھتی کلون کی خوشبو اس کے حواسوں پر طاری ہو رہی تھی۔

سوہا میں تم سے جنون کی حد تک محبّت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم میری زندگی میں خدا کا وہ عطا کردہ خوبصورت تحفہ ہو،، جس کا ساتھ میں جنّت کی وادیوں تک چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاری لہجے میں بولتا وہ حکایتِ دل سنا رہا تھا
اس قدر محبت پر اس کی آنکھیں نم سی ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔

میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی،، سالک حیدر خوشگوار سی حیرت میں مبتلا ہوا

مطلب تمہیں بھی مجھ سے محبّت ہے ؟؟ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھنساتا بولا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی اس کے سینے میں پناہ لینے کو تھی کہ سالک حیدر سائیڈ لیمپ آف کرتا اس کی گردن پر جھکا اور جا بجا اس پر اپنا لمس چھوڑا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ اس پر مکمّل طور پر حاوی ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے محصور کُن لمس سے وہ ایک سحر میں جکڑی جا رہی تھی۔

اس کی شِدّتیں اس کے ایک ایک انداز سے جھلک رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کے چہرے پر گلال سا بکھر گیا ۔۔۔۔۔ دھڑکنیں دل کا ساتھ چھوڑنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بیتابیوں سے گھبرا کر اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ قائم کرنا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام گیا ۔۔۔۔ اور جھک کر اس کے نرم و نازک لبوں پر اپنے لب رکھ دئیے ۔۔۔۔۔۔۔
کچھ پل کے بعد سانسوں کی زیر و بم کیساتھ وہ اس کے سینے میں چھپ گئی۔

بہت برے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسم سے مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنے رومینٹک بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے گرد اپنا ننھا سا حصار باندھ کر اس کے سینے میں منہ چھپائے سانسوں کو درست کرتی وہ قدرے خفگی سے بولی تو کمرے کی خواب ناک فضا میں سالک حیدر کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا ۔۔۔۔۔۔ وہ جھینپ سی گئی۔

سویٹ ہارٹ،،، ہم اس سے بھی زیادہ برے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آزمائش شرط ہے ۔۔۔۔۔ اس نے خمار آلود آواز میں کہتے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تو وہ مارے حیا کے کچھ اور بھی اس میں سمٹ گئی۔ قطرہ قطرہ بھیگتی رات ان کی محبّت کے رنگوں کو اور بھی گہرا کر رہی تھی۔

دل اس راہ پہ چلتا ہی نہیں جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے زندگی میری تھی مگر اب تو تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے ******************

اس کی آنکھ کھلی تو خود کو مضبوط حصار میں پا کر اس نے اپنے برابر لیٹے بے خبر سوئے سالک حیدر کو دیکھا،، پھر رات کا منظر یاد آتے ہی چہرہ شرمگیں ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آہستگی سے اس کے بازوؤں کا حصار توڑ کر بیڈ سے اترنا چاہا تو گرفت اور بھی تنگ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ وہ بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی جو خمار آلود آنکھوں میں بلا کی شرارت بھرے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ بری طرح شرما گئی تو گویا وہ اتنا بھی بے خبر نہیں تھا۔

ای،،، ایسے کیا دیکھ رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھ ،، چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہکلاتے ہوئے اس کے بانہوں سے نکلنا چاہا تو وہ ایک جھٹکے سے اسے واپس لٹاتا اس کے اوپر جھک گیا۔

آپ کی رات تو خیریت سے گزری تھی نا محترمہ ؟؟؟ وہ شرارت سے بولا تو وہ شرم سے چور چور ہو گئی۔ اور خجالت بھرے انداز میں اس کے سینے پر مُکا مارا تھا۔

نئی زندگی کی نئی صبح مبارک ہو میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جذب سے کہتا وہ جھکا اور اس کی پیشانی چوم لی تو وہ مسکرا دی۔

آپ کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پلکوں کی باڑ جھکا کر کہا تو وہ اس کے شرمیلی ادا پر فدا ہوتا اس کی آنکھوں پر لب رکھ گیا۔

اب چ،، چلیں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ لیٹ ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اٹک اٹک کر بولی

کوئی لیٹ نہیں ہوتا،، مجھے ابھی ان لمحات کو محسوس کرنے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈونٹ ڈسٹرب می ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں پر کمفرٹر درست کرتا ایک بار پھر اس پر جھک گیا تو وہ اس کی بے لوث محبتوں کے آگے بے بس سی ہو گئی۔

تمہیں کیا لکھوں؟ دوست لکھوں، ہمدم لکھوں غمگسار لکھوں، یا پیار لکھوں دل کہتا ہے،،،، دنیا کے تمام خوبصورت لفظوں کو یکجا کر کے، ایک پیاری سی بات لکھوں تمہیں اپنی کائنات لکھوں۔۔۔!!! ******************

سالک حیدر فریش ہو کر باہر مردان خانے میں عدنان کیساتھ ناشتہ کرنے کی غرض سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد اس کا پلان عدنان کو گاؤں کی سیر کرانا تھا کیونکہ عدنان کے پاس وقت کم تھا اور اسے دس بجے تک شہر واپسی کیلئے نکلنا تھا۔

علیزے اس کے روم میں آئی تو وہ تیار ہو کر اس کے ہمراہ نیچے چلی آئی اور سب کیساتھ ہی ناشتہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے نکھرے نکھرے گلاب کی مانند کِھلے سراپے کو دیکھ کر بی جان و اسماء بیگم سمیت سب ہی پرسکون و مطمئن ہو گئے تھے۔ ناشتے کے بعد وہ سب برآمدے میں آ بیٹھیں۔

سوہا حیدر نے رونمائی کا تحفہ کیا دیا ؟؟؟ زونیہ نے آنکھ مارتے ہوئے شرارت سے پوچھا تو وہ بری طرح جھینپ گئی باقی سب بھی تجسّس میں اسے دیکھنے لگے۔

یہ پہلے دیا تھا اور یہ رات میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے نیکلس و کنگن دکھاتے ہوئے بتایا ۔۔۔۔ اس شخص کے زکر پر ہی چہرہ سرخ ہوا جا رہا تھا۔

واؤ ماشاء اللّٰہ ،،، بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ سمیت سب نے ہی دل کھول کر تعریف کی ۔۔۔۔۔۔ پاس ہی تخت پر بیٹھی بی جان نے دل ہی دل میں اس کی بلائیں لیں، اسماء بیگم سمیت خالاؤں کی نظریں بھی اس پر واری جا رہی تھیں۔ ممانیاں بھی اس کی خوشی میں خوش تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ !!! البتہ گلناز بیگم نے خاص خوشی کا مظاہرہ نہیں کیا،،، کچھ بھی تھا انہیں ساتھ تو اپنی بیٹی کا ہی دینا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ نے یوسف خان کی شادی کی ہر رسم میں دل کھول کر حِصّہ لیا البتہ،، سوہا سے وہ اس دن کے بعد سے مخاطب نہیں ہوئی تھی نہ ہی سالک حیدر کے ولیمے میں کسی قسم کی خوشی کا اظہار کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بیر اس نے شروع دن سے اس سے پال کر رکھا تھا وہ ہنوز قائم تھا۔۔۔۔۔۔ !!!

                                                                                                                         جاری ہے