Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

مہروز سائیں کی دہاڑ پر حویلی میں موجود بقیہ مرد حضرات بھی باہر نکل آئے تھے،،،، سالک حیدر تیزی سے سیڑھیاں اترتا حویلی کے باہری حصّے کی جانب آیا جہاں اسماء بیگم اور مراد صاحب اپنی تمام تر بیچارگی سمیت مہروز خان کے قدموں میں گرے ہوئے تھے۔ اور وہ اپنے چاروں بیٹوں سمیت یوں ان دونوں کو خون اندام نظروں سے گھور رہے تھے گویا کچّا ہی چبا جائیں گے۔ حویلی کی لڑکیاں اور عورتیں بھی داخلی دروازے پر آ گئی تھیں۔
اتنے سالوں بعد بیٹی کو اسقدر بیچارگی بھری حالت میں دیکھ کر بی جان کا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا۔

مجھے معاف کر دیں بابا جان،،، خدا کا واسطہ ہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بیٹی بہت معصوم ہے وہ بالکل بے قصور ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے آزاد کر دیں،،، ورنہ وہ سہہ نہیں سکے گی وہ مر جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے فریاد کی جبکہ مراد صاحب لرزتے وجود اور آنکھوں سے گرتے متواتر آنسوؤں کیساتھ ان کے آگے ہاتھوں کو جوڑے جھکے ہوئے تھے۔

خاموش !!! بیغیرت عورت،،، مت کہو ہمیں بابا جان،،،، ہماری عِزّت کو مٹی میں پامال کرتے ہوئے تم نے ہمارا خیال کیا تھا؟؟؟؟ کیا کمی رہ گئی تھی ہمارے پیار میں بولو ؟؟؟ تمہاری وجہ سے ہمیں لوگوں کی سوالیہ نظریں برداشت کرنی پڑی ہیں،، تم نے ہماری عِزّت و ناموس کا جنازہ نکال دیا ۔۔۔۔۔۔۔ ان سب کا کوئی حساب ہے تمہارے پاس ؟؟؟ ان کی آواز میں شیر کی سی غراہٹ تھی۔ سالک حیدر خان خاموش نظروں سے ان دونوں کے بیچارگی بھرے انداز کو دیکھ رہا تھا۔

آپ جو کہیں گے میں کرنے کو تیار ہوں،، میں ہر طرح سے آپ سب سے معافی مانگنے کو تیار ہوں بابا جان،،، خدارا ہم پر رحم کریں،،، میری معصوم بیٹی کو آزاد کر دیں ۔۔۔۔۔۔ میں اپنی بیٹی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔۔ آپ کو خدا کا واسطہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے کہا تو مہروز خان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔

پھر ٹھیک ہے اس شخص کو کہو کہ یہ تمہیں طلاق دے، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو دوسری صورت میں اپنی بیٹی کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہاں چھوڑ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے ،،، تو بتاؤ کسے چنو گی تم ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو یا اس شخص کو ؟؟؟ انہوں نے تمسخرانہ لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا تو اسماء بیگم بے یقینی اور بے تحاشہ دُکھ میں ملے جلے تاثرات کیساتھ انہیں دیکھنے لگیں،،، وہ اتنے کٹھور کیسے ہو سکتے تھے۔ ان کا دل بے طرح رو پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مہروز خان کی دی گئی سزا سن کر بی جان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ سالک حیدر خان گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔

ن،، نہیں بابا جان،،، میں ایسا قطعی نہیں کر سکتی،، مجھ پہ یہ ظلم نہ کریں،،، اس شخص نے مجھے بہت محبّت و عِزّت سے نوازا ہے۔ میں ایسا کر کے اس کی محبّت کی توہین نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔ میری بیٹی کو بخش دیں بابا جان،،، اور مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے بے تحاشہ روتے ہوئے ایک بار پھر ان کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔

تو پھر ٹھیک ہے،،،، جاؤ دفع ہو جاؤ اس بیغیرت آدمی کیساتھ،، اور آئندہ ہمیں کبھی اپنی شکل مت دکھانا ۔۔۔۔۔۔ اور اپنی بیٹی کو بھول جاؤ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بے حِس لہجے میں کہا تو مراد صاحب اور اسماء بیگم کا تو وہ حال ہو گیا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں،،،، جبکہ بی جان اپنی حلق سے امڈتی چیخوں کا گلہ گھونٹتی تیز قدموں سے حویلی کے اندر آئیں،،، اپنے کمرے میں آکر انہوں نے برق رفتاری سے دراز میں رکھا ہوا مہروز خان کا ریوالور اٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی تیزی سے باہر نکلیں۔

سائیں اگر آپ نے ایسا کوئی بھی غلط فیصلہ کیا اور انہیں معاف نہ کیا تو میں اپنی جان لے لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے اونچی آواز میں چلاتے ہوئے ریوالور اپنی کنپٹی پر رکھ لیا۔ ان کو اس طرح کرتے دیکھکر باقی سب کے ساتھ ساتھ اسماء بیگم کی بھی چیخیں نکل گئیں،،، مراد صاحب حد درجے خوف زدہ ہو گئے تھے؛؛؛؛ جبکہ سالک حیدر سرعت سے ان کی جانب بڑھا۔ مہروز خان کی آنکھوں میں پہلے تو بے یقینی ابھری اور پھر غصّے کی آگ دہک اٹھی۔

بی جان نیچے کریں اسے پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ ؟؟؟ سالک حیدر نے ان کے ہاتھ سے ریوالور چھیننے کی کوشش کی تو وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئیں۔

اگر سائیں نے اپنا فیصلہ نہ بدلا تو میں واقعی اپنی جان لے لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔ میں جو کہہ رہی باخدا میں وہ کر گزروں گی اگر میری بیٹی کو معافی نہ ملی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ریوالور پر زرا زور بڑھایا تو مہروز سائیں غصّے سے پاگل ہوتے ان کی جانب بڑھے اور کچھ وقت کی جدو جہد کے بعد ریوالور ان کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینکا۔ سب کی گویا جان میں جان ائی۔ بی جان بے تحاشہ رونے لگی تھیں۔

ہماری بیٹی اور اس کے شوہر کو معاف کر دیں سائیں،،،، یہ آپ کی لاڈلی بیٹی ہوا کرتی تھی،، آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں اس کیساتھ ؟؟؟ ان پر رحم کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بے بسی سے چور انداز میں آنسو بہاتے ہوئے مہروز خان کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے تو ان کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمکی دوسرے لمحے انہوں نے خود پر قابو پا لیا اور پلٹ کر اسماء اور مراد پر نظر ڈالی۔

تمہاری ماں کی ضد کے آگے مجبور ہو کر ہم تمہیں بخش رہے ہیں،،،ورنہ ہم سے کوئی توقع مت رکھنا ۔۔۔۔۔ اب تمہاری بیٹی آزاد ہے،، اس سے مل سکتی ہو !!! انہوں نے سرخ آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا اور اندر کی جانب بڑھ گئے, جبکہ چاروں بیٹوں کے چہرے پر بھی مدھم سے رحمدلی کے تاثرات ابھر آئے تھے۔ بنا کچھ کہے وہ بھی مہروز خان کی تقلید میں اندر کی جانب بڑھ گئے۔
ان دونوں پر گویا شادیٓ مرگ تاری ہو گیا۔ بی جان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا تھا،، انہیں پورا یقین تھا کہ پتھر میں شگاف پڑ چکا ہے،، مہروز خان کا دل جلد ہی اپنی اولاد کیلئے پگھل کر موم ہو جائے گا۔ وہ بیٹی کو گلے لگانے کو بے چین بیتابی سے اسماء بیگم کی جانب بڑھیں اور دونوں ماں بیٹی روتے ہوئے ایک دوسرے میں سما گئیں۔

مجھے معاف کر دیں بی جان،، میں نے آپ سب کا دل دکھایا ہے،،، لیکن میں بہت مجبور ہو گئی تھی۔ مجھے کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے بولیں تو بی جان نے انہیں خود سے الگ کر کے ان کی پیشانی چوم لی۔
بس اب چپ ہو جا میری بچّی،،، کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں،،، مجھے پورا یقین ہے کہ سائیں جلد ہی مان جائیں گے۔ تو فکر نہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اسماء بیگم کو بھرپور تسلی دیتے ہوئے کہا ساتھ ہی تسلّی آمیز انداز میں مراد صاحب کو دیکھا تو وہ بھی تشکر سے بھرپور انداز میں سر ہلا گئے۔

اپنے مخصوص انداز میں دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا سالک حیدر یہ منظر دیکھتا سر کو ہلکے سے خم کرنے کے انداز میں جھکا گیا۔ تھوڑی دیر پہلے سوہا کا پرسوز اور ٹوٹا بکھرا حال دیکھنے کے بعد اس کے دل میں شِدّت سے یہ خواہش ابھری تھی،،، کہ آگے اور کچھ بھی مزید غلط نہ ہو،، ورنہ یہ نازک لڑکی “اب” اور نہیں سہہ سکے گی۔ اسماء بیگم نے جو کیا تھا ان کے اس فعل کی وجہ سے اس کے دل میں اسماء بیگم کے لئے جو نفرت بھری ہوئی تھی،،،، “اس” لڑکی کا لاچار و بے بس انداز دیکھتے ہوئے اس میں کسی حد تک کمی آ چکی تھی۔ اب جب وہ خود محبّت کے مرحلے سے گزر رہا تھا تو سوہا کی تکلیف اور اس کے ساتھ کی گئی اپنی زیادتی کا احساس خودبخود دل میں جاگ اٹھا تھا۔

“محبّت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ پہاڑوں کو بھی پگھلا کر موم بنا دے تو پھر خاک کا پُتلا کیا چیز ہے” یہ انکشاف اس پر تبھی ہو گیا تھا جب وہ اصطبل سے واپس آیا تھا۔ جب مہروز سائیں اپنا ظرف تھوڑا وسیع کر سکتے تھے تو وہ کیوں نہیں ؟؟ یہ تو طے تھا کہ وہ اب “اس” لڑکی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا،،،ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔ اگر اسماء بیگم کیلئے اپنی نفرت کم کرنے اور ان کے لئے دل میں تھوڑی گنجائش نکالنے میں ہی اس لڑکی کی خوشی تھی تو وہ یہ کرنے کو تیار تھا ۔۔۔۔۔۔ سوچتے ہوئے اس نے بارعب لہجے میں شکوارں کو آواز دی۔

جی سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکوارں جو کہ یہ جذباتی منظر دیکھکر خود بھی رونے کو پر تول رہی تھی فوراً خود پر قابو پاتی اس کی خدمت میں حاضر ہوئی۔

اصطبل سے سوہا کو لاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے حکم پر وہ سر ہلاتی اصطبل کی جانب دوڑی اور سوہا کے نام پر اسماء بیگم اور مراد صاحب کی تڑپ میں اور اضافہ ہو گیا انہوں اپنی پیاسی نظریں اسی سمت پر ٹکا دیں جدھر شکوارں گئی تھی۔ بی جان ان دونوں کی بیتابی دیکھتے نم آنکھوں سے مسکرا دیں۔ سالک حیدر کو سوہا کی آزادی کا کہتے دیکھکر پلوشہ کا تو سیروں خون جل کر خاک ہو گیا۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔

اصطبل کا دروازہ کھولتے ہوئے شکوارں نے اسے آواز دی۔ وہ جو گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھی ہوئی تھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور خوف زدہ نظروں سے شکوارں کو دیکھا

چلو،، تمہاری ماں بلا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی اطلاع پر سوہا کی آنکھیں بے یقینی کی شدت سے پھٹ گئیں۔

کہاں ہیں میری امّی ؟؟؟ میرے بابا بھی ساتھ ہیں کیا ؟؟؟؟ اس نے آنسو اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سمیت پوچھا اور بنا شکوارں کا جواب سنے باہر کی جانب لپکی۔ ننگے پاؤں، پھولی سانسوں سمیت اور بکھرے بالوں سمیت وہ حویلی کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی، سامنے مراد اور اسماء کو دیکھکر اس کی آنکھوں سے بے شمار آنسو بہنے لگے۔ وہ بھی اسے دیکھکر تقریباً دوڑتے ہوئے اس تک پہنچے۔ اور اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنی سینے میں بھینچ لیا۔

امّی میری امّی؛ میرے بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے مضبوط حصار میں سمٹی وہ مراد صاحب اور اسماء بیگم کے چہروں کو چھو چھو کر محسوس کرتی بلند آواز میں رو رہی تھی،،، اس کی آواز میں وہ ساری تکلیفیں و درد چیخیں مار مار کر بین کر رہے تھے جو اس نے اب تک جھیلی تھیں۔

میں مر گئی تھی امّی بابا، میں آپ دونوں کے بغیر بالکل مر گئی تھی۔ مجھے اپنے دل میں چھپا لیں،،،، مجھے یہاں سے کہیں دور لے چلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیخ چیخ کر روتے ہوئے وہ اسماء بیگم کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
اسماء بیگم نے دیوانہ وار اس کا چہرہ چوم لیا جبکہ مراد صاحب اسے خود میں سموئے اس کے بالوں پر لب رکھے ہوئے تھے۔
وہاں موجود حویلی کے بقیہ لوگوں کی آنکھوں میں اس روح افزاء منظر کو دیکھتے ہوئے آنسو آ گئے تھے۔ سالک حیدر کو اپنی نگاہیں سوہا سے ہٹانا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔ یکایک وہ اس پر سے نظریں ہٹا کر حویلی کے گیٹ سے باہر نکل گیا!

خوب رو کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد اس نے مراد صاحب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
بابا آپ ٹھیک تو ہیں نا ؟؟؟ اس نے محبّت سے ان کے ہاتھ چومتے ہوئے پوچھا۔
میری بیٹی میرے ساتھ ہے نا تو بھلا کیسے ٹھیک نہ ہونگا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کی پیشانی پر پیار کیا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ کتنا تڑپی تھی وہ اس لمس کے لئے،،، کتنا روئی تھی،،،، کوئی اس کے دل سے پوچھتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!

بی جان اپنے آنسوؤں کو صاف کرتی آگے بڑھیں۔
چلو اب سب اندر چلو !!! انہوں نے آگے بڑھکر سوہا کو خود سے لپٹاتے ہوئے کہا تو وہ مراد اور اسماء کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ دونوں بھی کچھ جھجھکتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

مگر خانم !!! سوہا نے کچھ کہنے کی کے لئے لب کھولے تو انہوں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
خانم نہیں!! آج سے میں تمہاری بھی بی جان ہوں،،، اور کوئی اگر مگر نہیں،،، سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں کا غصّہ بھی ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔ تم سب اب یہی رہو گے ہمیشہ کے لئے،،، اور یہ میرا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے دو ٹک لہجے میں بات ختم کی اور ان کو اندر چلنے کا اشارہ کرتی خود اندر کی جانب بڑھ گئیں۔

دل میں ہزاروں وسوسے لئے مراد اور اسماء نے بھی اپنے قدم بڑھائے جبکہ سوہا کا تو ایک لمحہ یہاں مزید ٹھہرنے کا دل نہیں تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ مراد اور اسماء کے ہمراہ ابھی شہر کو روانہ ہو جائے لیکن،،، مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اسے بھی بی جان کے حکم کی تعمیل کرنی تھی۔

                                         *****************

کالے کرتے شلوار میں، دونوں آستینوں کو ہلکا سا فولڈ کئے،، کاندھے پر کالی شال ڈالے، روایتی خسّہ پہنے، ماتھے پر بکھرے بالوں سمیت،،، اپنی ہیزل براؤن آنکھوں میں دنیا جہاں کا اضطراب سمیٹے؛؛؛ وہ ڈیرے پر بیٹھا اپنے پسندیدہ مشغلے(سگریٹ) میں مصروف تھا۔ پچھلے تین دنوں میں اس کی زندگی جس قسم کی تبدیلی سے دو چار ہوئی تھی وہ اس بارے میں جتنا سوچتا اتنا ہی دماغ ماؤف ہوتا جاتا تھا۔ یہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا وہ اب تک یہ سمجھنے میں ناکام تھا۔ ڈیرے پر تعینات ان کے آدمیوں میں سے کچھ اس کے اطراف کھڑے تھے تو کچھ ڈیرے کے اطراف میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ دشمنوں سے تو اس وقت مکّمل طور پر محفوظ تھا لیکن ان سوچوں کا کیا کرتا جنہوں نے اسے سنسان اور بیچ دوراہے پر تنہا لا کھڑا کیا تھا۔

رات کافی ہو گئی تھی لیکن وہ تو گویا پوری رات یہیں گزارنے کا تہیہ کئے بیٹھا تھا۔ وہ دوسری سگریٹ سلگانے لگا تھا کہ اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا،،، سر اٹھا کر دیکھا تو یوسف خان (بھائی) کو کھڑا پایا۔ اس نے واپس اپنی توجّہ سگریٹ پر مرکوز کی۔ یوسف چلتا ہوا دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا۔

حیدر،،، تم نے سوہا کیساتھ ایسا کیوں کیا ؟ وہ تنبیہی انداز میں پوچھتا اسے دیکھنے لگا جو یہاں ہوتے ہوئے بھی شاید یہاں نہ تھا۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں حیدر، کیوں کیا ایسا سوہا کیساتھ ؟؟؟ یوسف نے زچ ہو کر اپنا سوال دہرایا

آپ شاید بھول گئے لالا، میں نے وجہ بتائی ہے اپنے اس فعل کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سگریٹ کا دھواں فضا میں اڑاتے ہوئے اضطراب بھرے انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

تم ایسا کیسے کر سکتے ہو حیدر ؟؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ اس لڑکی کو کس قدر تکلیف سے دو چار کیا ہے تم نے ؟؟ تم نے اسے اتنی اذیتیں دی ہیں کیا وہ تمہیں کبھی معاف کر پائے گی ؟ انہوں نے تاسف اور غصّے سے ملے جلے لہجے میں کہا تو سالک حیدر کے اندر اضطراب کا تاثر کچھ اور بھی گہرا ہو گیا تھا۔

پلیز لالا، میں الریڈی بہت ڈسٹرب ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سگریٹ اپنے کھسّے تلے مسل کر اٹھ کھڑا ہوا

کیوں ڈسٹرب ہو وجہ ؟ جو تم نے چاہا وہی تو کیا ہے،، تو اب تمہاری یہ اضطراری کیفیت میری تو سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف خان جھلاتے ہوئے بولا جبکہ وہ اب دوسری جانب رخ موڑے کھڑا تھا جیسے اپنی آنکھوں سے چھلکتا حالِ دل اس پر ظاہر ہو جانے کا خدشہ ہو۔

اچھا اب رات کافی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حویلی چلو !!! کچھ پل اس کے جواب کا انتظار کرنے بعد، دوسری جانب گہری خاموشی پا کر یوسف خان نے گہری سانس بھرتے ہوئے اسے حویلی چلنے کو کہا، وہ بخوبی جانتا تھا؛ کہ وہ جواب کے انتظار میں ساری رات بھی ادھر کھڑا رہا تو بھی جواب نہیں ملنے والا ۔۔۔۔۔ سالک حیدر خاموشی سے اس کی تقلید میں حویلی کے راستے کی جانب ہو لیا۔

                                     *******************

اندر آنے کے بعد اسماء بیگم نے اپنی پیاسی نظریں حویلی کے در و دیوار پر ڈالیں،،، کتنے برس بیت چکے تھے انہیں یہاں کی خوشبو محسوس کئے،،، وہ بیتاب نظروں سے چاروں طرف اپنی نظریں دوڑا رہی تھیں۔ بی جان نے باری باری سب کا تعارف ان سے کرایا ۔۔۔۔۔ بھابھیاں بھی بہت گرمجوشی سے ان سے ملیں ساتھ ہی سوہا کو بھی پیار کیا۔

بی جان کے حکم پر شنّو نے مراد اور اسماء کا کمرہ تیار کیا،،، جبکہ سوہا کے لئے انہوں نے علیحدہ کمرہ تیار کرنے کو کہا۔ مراد صاحب لمبے سفر کیوجہ سے کافی تھک گئے تھے۔ اور آج سارا دن انہیں جس زہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس سے ان کی تھکاوٹ دوچند ہو گئی تھی۔ ابھی بھی ان دونوں میاں بیوی کے دل میں مہروز خان کے حوالے سے جو وسوسہ تھا، وہ بدستور کنڈلی مارے بیٹھا ہوا تھا۔
سوہا ابھی اسماء بیگم سے ڈھیروں باتیں کرنا چاہتی تھی، لیکن ان کی تھکان کا خیال کرتے ہوئے کل پر ارادہ موقوف کر دیا۔ مراد صاحب و اسماء بیگم کو شنّو ان کا کمرہ دکھانے چلی گئی سوہا بھی کافی تھک گئی تھی، لیکن اس کے گرد سب نے اپنا ڈیرہ ڈال لیا۔

سوہا، آج تو ہمیں بہت بڑا سرپرائز ملا ہے یار،،، تم ہماری کزن ہو یہ سن کر ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فواد نے چہکتے ہوئے سوہا سے کہا تو وہ نروس ہوتی ہلکا سا مسکرا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کی محبّت بھری نظریں اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔

سوہا آپی ،،، میں آج سے آپ کے روم میں شفٹ ہو رہی ہوں،،،، میں آپ کے ساتھ آپ کا روم تو شئیر کر سکتی ہوں نا ؟ آپ برا تو نہیں منائیں گی ؟ علیزے نے اس کے ساتھ چپک کر پرجوش لہجے میں پوچھا تو بی جان اس کی بیتابی پر اس کے سر پر چپت لگاتی ہنس دیں۔

بالکل کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے اس کی طرف دیکھ کر اپنائیت سے بھرپور لہجے میں مسکراتے ہوئے جواب دیا تو وہ مارے خوشی کے کھِل اٹھی۔ پلوشہ تو غصّے سے پاگل ہوتی کب کی اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔

سوہا اس سے زرا بچ کے رہنا،،،، یہ بہت پٹاخہ چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے شرارت آمیز لہجے میں سوہا کو ڈرانا چاہا معاذ نے فوراً اس کی ہاں میں ہاں ملائی،، تو علیزے مصنوعی خفگی سے انہیں گھور کے رہ گئی۔

لالا بجائے اس کے کہ آپ بہن کا ساتھ دیں، آپ اپنی بیگم سے جا ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منہ پھلا کر بولی تو سب کا مشترکہ قہقہہ گونج اٹھا۔ سوہا ان کی نوک جھوک انجوائے کرتے مسکرا رہی تھی۔ اس پل وہ سب کچھ بھول گئی تھی،، طبیعت کا بوجھل پن بھی کچھ حد تک کم ہو گیا تھا۔
رات کافی ہو چکی تھی،، سو بی جان کے حکم پر سب بقیہ کی موجیں کل پر چھوڑتے ہوئے اپنی اپنی خوابگاہ میں جانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

                                        ****************

وہ اس قدر تھکی ہوئی تھی کہ جب علیزے کے ساتھ سونے کو لیٹی تو اس کی باتیں سنتے سنتے ہی کب نیند کی گہری وادیوں میں اتری پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔۔۔۔۔ !!!

سالک حیدر حویلی آ چکا تھا۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا جبھی سامنے سے علیزے آتی دکھائی دی تو وہ وہی ٹھہر گیا۔

لالا،،، آپ اتنی رات گئے کہاں سے آ رہے ہیں ؟؟ علیزے کی نظروں و لہجے میں خفگی کا عنصر صاف طور پر نمایاں تھا ۔۔۔۔۔ وہ اس سے خفا تھی اور وجہ وہ جانتا تھا۔ لیکن وہ اس سے بہت محبّت بھی کرتی تھی وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف تھا۔
بس ڈیرے پر گیا تھا،،، تم بتاؤ،، ابھی تک جاگ رہی ہو ؟؟ سالک حیدر نے پیشانی پر انگھوٹے سے ہلکی سی ضربیں مارتے ہوئے اس سے پوچھا۔

ہاں وہ میں سوہا آپی سے باتیں کر رہی تھی لیکن وہ تھکی ہوئی تھیں تو سو گئیں،،، میں زرا نیچے اپنے لئے کافی بنانے جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کمرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی جو اب اس کا اور سوہا کا مشترکہ کمرہ تھا۔ سالک حیدر کی نظریں بے اختیار ہو کر اس کمرے کی جانب اٹھیں۔

لالا میں آپ سے بہت ناراض ہوں،،، آپ نے سوہا آپی کیساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔ علیزے خفگی سے بولتی نیچے جانے کیلئے بڑھ گئی جبکہ سالک حیدر کی نظریں ابھی تک اسی کمرے کے دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں۔

وہ چلتا ہوا اس کمرے کے دروازے کے پاس پہنچا تو دروازہ کھلا ہوا تھا اور سامنے ہی وہ بیڈ پر محوِ استراحت نظر ائی۔ اس کے قدم بے ساختہ کمرے کی دہلیز پار کرتے اندر داخل ہو گئے۔ بنا کوئی جنبش پیدا کئے وہ بیڈ کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔
سائیڈ ٹیبل پر رکھی لیمپ کی روشنی میں وہ بے خبر سوئی کسی پرستان کی شہزادی لگ رہی تھی،، سپید بے داغ دمکتی پیشانی،، خوبصورت نین کنول پر بچھا ہوا لمبی پلکوں کا جال، صندلی عارض و عنابی ہونٹ،،،، چہرے کے اطراف میں بکھری کچھ آوارہ لٹیں ۔۔۔۔۔۔!!!

وہ بے اختیار ایک ہاتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا اس پر جھکا اور بہت آہستگی سے اس کے بالوں کی لٹوں کو پیچھے کیا اور نظریں اس کے چہرے پر ٹکا دیں،،،، پھر یکایک وہ ہوش میں آتا اس پر سے نظریں ہٹا کر پیچھے ہٹا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ علیزے کا دور دور تک کوئی پتہ نہ تھا۔

اپنے کمرے میں آ کر وہ دروازہ بند کرتا گویا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بالوں میں ہاتھ پھیرتا بستر پر گر گیا اور سلگتی ہوئی آنکھیں میچ گیا۔

سوہا مراد،، آج میں خود سے یہ اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے تم سے محبّت نہیں بلکہ عشق ہو گیا ہے،،، میں نہیں جانتا یہ کیوں اور کیسے ہوا ہاں مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اب میری زندگی کے تمام موسم صرف تمہاری ہی ذات سے وابستہ رہ گئے ہیں،،،
میری زندگی کی بہار و خزاں صرف تمہاری ہی ذات تک محدود ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے دور نہیں جا سکتیں،،، کسی قیمت پر نہیں؛؛؛ تمہارے دل میں میرے لئے ہزار نفرت سہی لیکن یہ تو طے ہے کہ میں اب تمہارے وجود کے بغیر بالکل ادھورا اور نامکمل ہوں،،، میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ تم مجھ سے دور ہو،،، اور نہ ہی کبھی ایسا ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کئے ایک جذب سے بہت آہستہ لہجے میں بولتا بالآخر آج وہ خود سے اس لڑکی کے عشق میں گرفتاری کا اعتراف کر چکا تھا۔

تم نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا
آنکھ تازہ منظروں کی آس میں کھو جائے گی
دل پرانے موسموں کو ڈھونڈتا رہ جائے گا
جاری ہے