Mujhe Azmane Wale Mujhe Azma Kar Roye By Zariya Readelle50064 Last updated: 8 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Mujhe Azmane Wale Mujhe Azma Ke Roye
By Zariya
سر فیاض دونوں ہتھیلی پیشانی پر ٹکاے پریشان حال میں بیٹھے تھے ۔ آہٹ پر سیدھے ہوتے ہوے اس کی جانب نظریں کی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ وہ اریشہ کے ساتھ خاصی سست روی سے سامنے رکھی چییر پر بیٹھ گئی ۔ انہوں نے چند لمحے اسے کڑی نظروں سے گھورتے ہوے گویا غراتے ہوے پوچھا ۔ مس سوہا کیا میں پوچھ سکتا ہوں کی آپ کے ہوش و حواس سلامت ہیں ؟ سوہا نے زرا کی زرا نظریں اٹھا کر خاصے تحمل سے جواب دیا ۔ سر غلطی میری نہیں تھی ۔ سر فیاض نے آبرو اچکا کر دوبارہ سوال کیا ! آپ کو اندازہ ہے کی یہ کیا کیا ہے آپ نے ؟ وہ ہمارے بہت خاص مہمان تھے آپ نے آج یہ بدتمیزی کر کے کیا ثابت کرنا چاہا ہے ؟ کیا آپ یہ بتانا چاہتی ہیں کی لوگوں کو آپ بہت بہادور ہیں ؟ انہوں غصے میں پوچھا ۔ سر بدتمیزی میں نے نہیں ان مسٹر نے کی ہے ۔ سوہا نے جھکتے ہوے سر کے ساتھ جواب دیا ۔ سر فیاض نے گویا اسے تہمینی انداز میں باور کرایا ۔ اگر آپ کے ساتھ آگے کچھ بھی برا ہوا تو میں پہلے ہی کلیر کر دینا چاہتا ہوں کی اس کی زمیدار میں نہیں ہونگا اس کی زمیدار آپ خود ہونگی ۔ اور ایک بات اگر ایسی کویی بات ہوئی تو آپ کو اسی روز یونیورسٹی سے خارج کر دیا جاے گا ۔ اب آپ جا سکتی ہیں ۔ انہوں نے چند لمحے میں بات ختم کر دی اور جانے کا اشارہ کر دیا ۔ وہ اریشہ کے ساتھ مرے مرے قدموں سے باہر نکلی اور راہداری کے بینچ پر جا کر کر بیٹھ گئی ۔ اریشہ نے تسلی آمیز انداز میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا ۔ تو اس نے بہت بیچارگی کے عالم میں اریشہ کی جانب دیکھا ۔ یار ایک مصیبت ختم نہیں ہوتی دوسری آ جاتی ہے میری زندگی میں وہ کمینہ ہے کون ؟ جسے سر اس قدر اہمیت دے رہیں ہیں ۔ وہ بے زاری سے غصے بھرے انداز میں بولی ۔ میں خود بھی سوچ رہی ہو تمہیں اس جیسے شخص کے ساتھ منھ نہیں لگنا چاہیے تھا ۔خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتی نا ۔ اب پتہ نہیں وہ کیا کرے گا سر کی باتوں سے تو یہی لگ رہا ہے وہ کویئ بہت بڑا آدمی ہے ۔ اریشہ کی باتوں پر وہ زور سے ہنس دی اور بولی ۔تم بھی نا ایسا کچھ نہیں ہے ۔میں تو سر کی باتوں پہ تھوڑا پریشان ہو گئی ہوں وگرنہ سچ کہوں تو مجھے اس پاگل انسان کی کوئی فکر نہیں ۔ہونہہ ۔وہ ناک چڑھاتے ہوے بولی ۔ اریشہ نے اس کی طرف دیکھ کر ٹھہر ٹھہر کر کہا ۔سر کی باتوں سے تم اس لیے پریشان ہو کیوں کی کہیں نہ کہیں تمہیں بھی اندازہ ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ اس کی باتوں پر سوہا مراد چپ رہ گئی ۔
کھوتے ہوے دماغ کے ساتھ وہ فارم کے اندر داخل ہوا ۔اپنے روم میں آ کر وہ بیڈ پر جوتوں سمیت گر پڑا اس کا دماغ اس قدر سلگ رہا تھا کی دل چاہ رہا تھا دنیا کی ہر شے کو آگ لگا دے سلگتے ہوے دماغ کے ساتھ اس نے سگریٹ سلگایا اور کش لینے لگا ۔سگریٹ ختم کر کے اس نے دوسری سلگایی اور انٹر کام کے ذریعہ گارڈ کو اندر آنے کا حکم نامہ جاری کیا ۔ گارڈ اجازت لے کر اندر داخل ہوا تو اس نے سگریٹ پیروں تلے مسل کر اس کی جانب اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر دیکھا ۔ اور کہا ۔ اس لڑکی کے متعلق مجھے A to Z انفارمیشبن چاہیے دو دن کے اندر دو دن مطلب دو دن ۔اب جا سکتے ہو ۔ گارڈ سر کو اشارے میں ہلاتے ہوے باہر نکل گیا ۔ وہ سلگتے ہوے دماغ کے ساتھ بیڈ پر واپس ڈھے گیا ۔
وہ یونی کے گیٹ سے نکلی تو اسے اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی ۔ اس نے اطراف میں دیکھا تو اسے کوئی نظر نہیں آیا ۔ وہ اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکتے ہوے وین کی جانب چلی آئی ۔ آج اریشہ اس کے ساتھ نہیں تھی ۔ کسی وجہ سے آج اس نے چھٹی لی تھی ۔وہ اکیلی آج جی بھر کے بور ہوئی تھی ۔ وہ گھر کے گیٹ پر اتری تو جیسے ہی گیٹ کھولنے کے لیےہاتھ بڑھایا پھر اسی احساس نے اسے گھیر لیا ۔اسنے پیچھے مڑ کر چاروں طرف نظرویں دوڑایں تو یکا یک اس کی نظر اس کے کچھ فاصلے پر نیم کے درخت کے نیچے کھڑے دو موٹے شخص پرپڑی تھی وہ کالے لباس میں تھے اور اپنی لال آنکھیں اس پر گاڑے کھڑے تھے ۔ ایک عجیب سا ڈر اسے اپنے شکنجے میں جکڑنے لگا وہ جلدی سے گیٹ کھول کر اندر داخل ہوئی اور اندر سے گیٹ لاک کر دیا ۔
وہ تمام رات ایک پل کی نیند نہیں سو سکا تھا اس کا دماغ اس قدر ماوف ہو رہا تھا کی اس کا کسی سے بات کرنے کا دل بھی نہیں چاہ رہا تھا ۔ عدنان کی کئی کال پر بھی اس نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔ حویلی سے بی جان کی کال الگ ۔امیّ کی کال الگ بابا جان کی الگ لیکن اس نے کسی سے بھی بات نہیں کی ۔ فون بھی بج بج کر چپ ہو گیا تھا ۔ اسے معلوم تھا سب پریشان ہو رہیں ہونگے ناشتہ کر کے اس نے کال بیک کا سوچا آج اس کا یونی جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا …
