Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

سالک حیدر خان سگریٹ کے کش لگاتا پُر سوچ انداز میں سامنے لاؤنج کی ٹیبل صاف کرتے متین بابا (ملازم ) پر نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔ اس کا شاطر ذہن بہت تیزی سے کام کر رہا تھا ۔ وہ اس وقت لاونج میں بیٹھا تھا ۔
متین بات سنو !! اس نے سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں مسلی اور سیدھا ہو بیٹھا ۔
کیا تمہاری کوئی بیٹی ہے ؟؟ اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے متین سے پوچھا ۔
ج جی خان صاحب متین نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔درحقیقت اس کے اس سوال سے وہ بری طرح گھبرا گیا تھا لیکن ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
کیا عمر ہوگی اس کی ؟ اس کی نظریں اب بھی متین کے چہرے پر جمی ہوئی تھی ۔
یہ بچی کوئی بیس ایکیس سال تک خان ۔ متین نے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا وہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا اور کافی عرصے سے سالک حیدر کی خدمت پر معمور تھا ۔
اوکے ،، بات سنو میری اگر بابا جان یا دادا سایئں یا پھر لالا وغیرہ جو بھی یہاں آئے اور اگر تم سے سوال کیا کہ حویلی میں جو لڑکی گئی ہے کیا وہ تمہاری بیٹی ہے تو ، بس انہیں صاف طور پر یہ کہہ دینا کہ ” جی ہاں وہ میری ہی بیٹی ہے “یہاں پہلے ہی کافی ملازمین ہیں تو میں چاہتا تھا کی وہ حویلی میں کام کرے” بس تم نے اتنا ہی انہیں کہنا ہے اب تم جا سکتے ہو ۔ وہ رعب دار لہجے میں اسے حکم دیتا اٹھ کھڑا ہوا تو متین الجھتا ہوا سر ہلاتا چلا گیا۔ سامنے ٹیبل پر پڑی گاڑی کی کیز اٹھاتے اور موبایل جیب میں ڈالتا وہ باہر نکل گیا ۔

                                                   ********* 

مراد صاحب کو فوری طور پر ہاسپیٹل لے جایا گیا . ان کے پڑوس والوں نے ان کی بہت مدد کی اور ہاسپیٹل تک پہچانے میں ان کا بھر پور ساتھ دیا ۔ اسماء بیگم کے آنسو ٹھٹھر چکے تھے ۔ انہیں بس اپنا یہ واحد سہارا بھی چھن جانے کا خوف کھائے جا رہا تھا ۔ مراد صاحب اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ۔ماں باپ وفات پا چکے تھے اور ان کا کوئی ایسا رشتہ دار نہ بھی تھا جو ان کی مدد کو یہاں آ جاتا ۔ لیکن ایک اور خوف جو ان کے دل میں کنڈلی مارے بیٹھا ہوا تھا، وہ یہ تھا کی مراد صاحب کو ہاسپیٹل لے جانے کی غرض سے ان کے پڑوس کے کچھ آدمی ان کے گھر کے اندر آئے تھے اور کچھ عورتیں بھی شور و غل کی آواز سے ان کے گھر میں پہنچ چکی تھیں۔ اور ان عورتوں نے سوہا کی غیر موجودگی بھانپ لی تھی ۔آپس میں چہ مگویئاں شروع ہو چکی تھیں جو کی حواس باختہ سی اسماء بیگم کے کانوں تک بھی جا پہنچی تھیں۔

باپ اس حالت میں ہے اور جوان بیٹی کا کچھ اتا پتہ نہیں توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے ۔اسماء نے اپنی بیٹی کو ضرورت سے زیادہ چھوٹ دی ہوئی ہے ۔ اپنی مرضی سے باہر جاتی ہے اور اپنی مرضی سے گھر آتی ہے اب یہی دیکھ لو باپ موت کے منہ میں ہے لیکن اس بے شرم لڑکی کا کچھ اتا پتہ ہی نہیں ۔ یہ باتیں سن کر اسماء بیگم کے حواس کچھ اور بھی مختل ہو گئے تھے ۔ مراد صاحب کی حالت بہت نازک تھی ۔ ڈاکٹر نے فوراً انہیں I.C.U میں شفٹ کر دیا ۔انہیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا ۔اور ان کی زندگی کے چانسیز بہت کم تھے ۔ پڑوس کی ایک عورت سلطانہ بھی اسماء بیگم کیساتھ موجود تھی ۔ وہ تھکے تھکے انداز میں چئیر پر بیٹھ گئیں جو تھوڑے بہت پیسے انہوں نے بینک میں جمع کرائے تھے وہ اب مراد صاحب کے علاج میں لگ جانے تھے ۔ اور بقیہ کے پیسے انہوں نے اپنے ایک دو زیور بیچ کر ان کے علاج میں لگانے کا فیصلہ کیا تھا ۔کچھ دیر وہ وہیں بیٹھ کر سانسیں بحال کرنے کے بعد ہمت جمع کرتی اٹھ کھڑی ہوئیں اور سلطانہ کو وہیں رکنے کا کہہ کر ہاسپیٹل سے باہر نکل گیئں ۔انہیں اس عورت کی آنکھوں میں بھی وہی سوال نظر آ رہے تھے جو ان کے گھر میں موجود باقی عورتوں کی زبان پر تھے


تقریباً ایک گھنٹے بعد اس کی واپسی ہوئی تھی اس کے ہاتھوں میں دو شاپر تھے ۔وہ نہایت عجلت میں تھا کیونکہ راستے میں اسے ایک بار یوسف لالا کا فون آ چکا تھا ۔اسے آج حویلی کے لئے نکلنا تھا ۔ وہ دروازے کی ناب گھماتا اس کے کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ صوفے پر سکڑی سمٹی بیٹھی ہوئی تھی ۔بات سنو لڑکی ! وہ تیز لہجے میں بولتا اس کے سر پر جا کھڑا ہوا ۔
مگر دوسری جانب کوئی جنبش نہیں ہوئی ۔ وہ شاید گہری نیند میں تھی ۔
سالک حیدر خان کا پارہ ہائی ہونے لگا ۔
کیا اوپر پہنچ گئی ہو ؟؟۔ وہ گرجتا ہوا بولا تو وہ یکایک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔
نظریں اٹھایں تو سامنے ہی وہ شعلہ بار نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔
پھر اس کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود شاپر پڑی تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
اٹھو یہ کپڑے پہنو اور بھی ضرورت کی چیزیں ہیں اس میں، جلدی کرو میرے پاس فضول وقت نہیں ہے ۔وہ کمرے سے ملحق واشروم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔
ک کیا مطلب تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ظالم انسان بتاو مجھے ؟ بنا کچھ بھی جانے میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاوں گی ۔۔۔۔۔
وہ تڑپ کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تو اس کےلمبے بال سینے پر بکھر گئے ۔
وہ دوپٹے سے بے نیاز اس وقت اپنا آپ بھی بھول گئی تھی ۔
بکواس بند کرو تمہاری مرضی چلی کب ہے جو اب یہ نیا ڈرامہ شروع کر دیا ہے ؟؟ تم یہاں میرے حکم کی غلام ہو ۔دس منٹ کے اندر باہر آو ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گا جو تم تاقیامت نہیں بھولو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غراتے ہوئے بولا تو سوہا کو مارے بے بسی کے رونا آنے لگا ۔
وہ باہر جا چکا تھا۔ وہ شاپر ہاتھ میں لئے بری طرح الجھی ہوئی تھی ۔
وہ اسے کہاں لے کے جا رہا تھا ؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔ اس شخص کا خوف اس کے ذہن پر سوار تھا ۔ کچھ بھی تھا وہ اتنا سمجھ چکی تھی کی یہاں وہ محکوم ہے اور وہ شخص حاکم !!
تین دنوں کے بعد غسل لے کر دوسرا کپڑا زیب تن کیا تو طبعیت کی کسلمندی کسی حد تک کافور ہو چکی تھی۔ وہ دوپٹہ سر پر اوڑھتی کالی شال جو کہ اسی شاپر میں موجود تھی، اسے کندھوں پر اچھی طرح پھیلاتی کمرے سے باہر نکل آئی ۔بالوں کی اس نے سادہ سی چوٹی بنا لی تھی ۔ اس سادگی میں بھی وہ نہایت ہی بے ضرر اور معصوم سی لگ رہی تھی ۔ وہ چلتی ہوئی لاؤنج کے صوفے پر ٹک گئی ۔ اور ہراساں نظروں سے آس پاس دیکھنے لگی ۔جبھی اپنے پیچھے آہٹ کا گمان ہوا وہ چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی رخ موڑا تو سالک حیدر خان دونوں جیب میں ہاتھ پھنسائے ہوئے کھڑا اسے گہری نظروں سے گھور رہا تھا ۔
تو پورا ہو گیا تمہارا معائنہ یا نہیں ؟ وہ ایک ابرو اچکاتا ہوا بولا تو وہ نفرت سے منھ موڑ گئی۔ اس شخص کی موجودگی سے ہی اسے کراہیت محسوس ہو رہی تھی ۔
غلام دین ؟؟ سالک نے ملازم کو آواز دی تو وہ حاضر ہوا ۔
سب کو اکٹھا کرو ۔ ! اس کا اشارہ باقی کے ملازمین کی جانب تھا ۔
جی صاحب ! وہ تابعداری سے کہتا چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد باقی کے ملازم بھی وہاں موجود تھے ۔

تم سب کو میرا حکم ہے کہ حویلی سے کوئی بھی آئے اور کسی لڑکی کے متعلق پوچھے تو کہہ دینا کی وہ ” متین کی لڑکی ہے جو حویلی گئی ہے ۔ اور متین کو کیا کہنا ہے یہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں ۔ یہ لڑکی میرے ساتھ جا رہی ہے اور تم لوگوں کو اس لڑکی کے متعلق یہ بات بتانی ہے آئی سمجھ میں ؟ میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں ۔ وہ ملازمین پر نظریں دوڑاتا سختی سے بولا تو سب نے ایک لے میں اپنے سروں کو ہلایا ۔
اب تم لوگ جا سکتے ہو ۔ اور کوئی بھی غلطی ہوئی تو انجام کے لئے تیار رہنا ۔ وہ تنبیہی انداز میں بولا ۔ اور پلٹ کر سوہا کی جانب دیکھا جو خاموشی سے کھڑی یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔
چلو !! وہ آڈر دیتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔معاملہ کیا تھا یہ وہ تھوڑا بہت سمجھ چکی تھی اس کا دل چاہا اس شخص کا حشر نشر کر دے مگر یہ وہ صرف سوچ سکتی تھی ۔ وہ کلستی ہوئی اس کے پیچھے چلنے پر مجبور تھی ۔

                                         **************

سالک حیدر نے عدنان کو فون کر کے پہلے ہی اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا ۔ جس پر عدنان گہری سانسیں بھر کر رہ گیا ۔ کچھ بھی بولنا پتھر سے سر پھوڑنے کے برابر تھا ۔ اس نے عدنان کو اپنے ساتھ حویلی چلنے کی آفر بھی کی تھی ۔ بقول اس کے کہ اس کے بھائی کی شادی میں اس کے جگری دوست کی شرکت لازمی ہونی چاہئے ۔ لیکن عدنان پارٹ ٹائم جاب کی وجہ سے نہیں جا سکتا تھا ۔ اس لئے اس نے پھر کبھی آنے کا کہہ کر سہولت سے انکار کر دیا۔ تو سالک حیدر خان نے بھی اس کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے ہامی بھر لی ۔

اس نے جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو زبیر کی آواز سن کر رک گیا ۔ وہ اس پوچھ رہا تھا کی کیا اس کے حفاظتی گارڈذ بھی اس کے ساتھ جایں گے ۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا اور دروازہ کھول کر ڈراوئنگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ سوہا نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنا چاہا تو وہ شاید لاکڈ تھا ۔
محترمہ سوہا مراد ؟ تمہارے باپ کا ڈرائیور نہیں ہوں میں سو فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھو ۔ وہ لفظوں کو گویا چبا چبا کر بولا تو سوہا اس کے منھ سے اپنے بابا کے لئے اس قسم کے الفاظ سن کر بل کھا کر رہ گئی ۔
وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھی اور جھٹکے سے دروازہ بند کرتے ہوئے سالک حیدر کی جانب دیکھا ۔ گاڑی فارم ہاوس کے گیٹ سے باہر نکل چکی تھی ۔
تم میرے بابا کے لئے آئندہ اس قسم کے الفاظ استعمال مت کرنا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ طیش سے بولی ۔
اوہ دھمکی ورنہ ؟ ورنہ کیا کرو گی تم .بتاو مجھے ! مجھے بھی تو پتہ چلے یہ جھانسی کی رانی اور کیا کیا کر سکتی ہے، آنسوں بہانے کے علاوہ وہ سلگتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔
اتنا غرور اچھا نہیں ہے سالک حیدر خان بعض اوقات یہی تکبُّر ہمیں منھ کے بل گرا دیتا ہے ۔ تم اپنے دولت کے زعم میں اتنے اندھے ہو چکے ہو کی تمہارے ہوش و حواس سلامت ہی نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ضبط کھو کر چلاتی ہوئی بولی تو گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی ۔اور ساتھ ہی سوہا کی آواز بھی جیسے دب کے رہ گئی ۔ سالک حیدر نے اسے بازؤں سے دبوچتے ہوئے اپنے انتہائی قریب کر لیا ۔ اس کی آنکھوں میں گویا خون اتر آیا تھا ۔
سالک حیدر خان کے سامنے زبان چلانے والوں کی سزا کیا ہوتی ہے شاید تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ کوئی بات نہیں تم آخر یہاں ہو کس لئے، سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے لئے ہی تو تمہیں اپنے پاس رکھا ہے ۔
” زندہ دفن کر دیتا ہوں میں ان لوگوں کو جو اپنی اوقات سے بڑھ کر بولتے ہیں ” ۔
آئندہ اگر بھول کر بھی غلطی ہوئی تو اس دن جو دیکھو گی تاقیامت نہیں بھولو پاؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بے تحاشہ سرخ آنکھیں، غصے کی زیادتی سے تیز گرم تنفُّس ، اور انگارے برساتا لہجہ سوہا کی رگوں میں دوڑتا خون بھی منجمد کر گیا ۔ وہ بے حد خوف زدہ ہو گئی تھی ۔
ایک بات اور، حویلی پہنچ کر تم اپنی وہی پہچان بتاؤ گی جو میں نے کہا ہے،دوسری صورت میں اپنے انجام کے لئے بھی تیار رہنا۔ تم مجھے جانتی نہیں ہو میں جو کہتا ہوں اس پر عمل بھی کرتا ہوں۔ اسے محض دھمکی سمجھو گی تو نقصان اٹھاؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے وہ اپنا شل بازو پکڑے گاڑی کی ونڈو پر سر ٹکا گئی ۔ اس کے وہ چھوٹے چھوٹے خواب، اس کے محبت کرنے والے ماں باپ ۔ اس کی پڑھائی، اس کا پیارا سا چھوٹا سا گھر جہاں ہزار پریشانیاں تھیں پر سکون کا احساس ہوتا تھا ۔ سب کچھ چِھن چکا تھا ۔وہ گھنٹوں کے حساب سے بھی اس نقصان پر آنسوں بہاتی تو بھی جو زیاں اس کی زندگی کا حِصّہ بن چکا تھا وہ کم نہیں ہونے والا تھا ۔

کس قدر تکلیف دہ تھا آرزؤں کا سفر
سلسلہ در سلسلہ ، سانحہ در سانحہ

                                             ********** 

پلوشہ نے سرخ دوپٹہ اٹھا کر اپنے سر پر ڈالا اور خود کو آئینے میں دیکھ کر شرما سی گئی ۔ اسی اثناء میں علیزے براندے اور چوڑیوں کا باکس اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی اس کے ساتھ زرسانگہ بھی تھی ۔
اوہ ! بی بنو کو دیکھا آئینے میں خود کو دیکھ کر شرمایا جا رہا ہے ۔ زرسانگہ نے علیزے کو ٹہوکا دیتے ہوئے کہا تو ان دونوں کا مشترکہ قہقہ گونج اٹھا۔ ان کی باتوں اور ہنسی کی آواز پر پلوشہ اچھل پڑی ۔
کیوں نہ دیکھوں بھئ میرا حق بنتا ہے آخر کو میرا شہزادہ بھی تو آج آ رہا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرم نے اتراتے ہوئے کہا تو دونوں نے تائیدی انداز میں سر ہلایا ۔
ویسے پلوشہ آپی آپ اتنی اتاولی ہو رہی ہیں کیوں نہ ہم سب مل کر دادا سائیں سے آپ کی اور لالا کی شادی کے بارے میں بات کریں کیسا رہے گا ؟ علیزے نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا تو اس کے گال اور بھی گلابی ہو گئے ۔
مجھے کب انکار ہے لیکن تمہارا ادا ( بھائی ) مانے تب نا ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں یہ میرا وہم ہے یا کچھ اور لیکن مجھے لگتا ہے اسے مجھ میں دلچسپی ہی نہیں ہے ۔ وہ خفگی سے بولی تو علیزے نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
نہیں آپی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔ ایسا کچھ نہیں ہے لالا کی نیچر کا تو آپ کو تو پتہ ہی ہے وہ ذرا ریزرو ہی رہتے ہیں ذرا آتش مزاج ہے ان کا پر میرے لالا کو آپ سے بہت محبت ہے میں گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتی ہوں آخر کو آپ ان کی منگیتر بھی تو ہیں۔ ۔وقت آنے پر وہ اپنی محبت کا اظہار بھی کرینگے، بے فکر ہو جایں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا تو حرم مسکرا دی۔ علیزے کی باتوں سے وہ تھوڑا پرسکون سی ہو گئی تھی ۔
اچھا اب زرا مجھے بتایں کی کون سا براندہ ٹھیک رہے گا اس کپڑے کے ساتھ اور کون سی چوڑیاں اس پر سوٹ کریں گی ۔ علیزے کے بولنے پر وہ دونوں اس کی طرف متوجہ ہو گئیں ۔ باقی لڑکیاں اپنی بچی کھچی شاپنگ مکمل کرنے کی غرض سے مارکیٹ گیئں ہوئی تھیں۔

                                        ************* 

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ۔ سورج کی تند و تیز روشنی اب غروب ہونے کے آخری مرحلے پر تھی ۔ ہرے بھرے کھیتوں کے مناظر شام کے اس پرکیف ماحول کو اور بھی خوبصورت بنا رہے تھے ۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب تیزی سے واپسی کا سفر طے کر رہے تھے ۔ ٹھنڈی ہوائیں اس ماحول کو اور بھی تازہ خوشگوار رنگ دے رہی تھیں ۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی اس دلفریب مناظر کے سحر میں جکڑ سی گئی تھی ۔ پورے راستے سالک حیدر خان نے اور کوئی بات نہیں کی ۔ وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا ۔ ایک دو بار فون پر کسی کو اپنے خیریت سے آنے کی اطلاع دی ۔
گاڑی اب حویلی کی طرف جانے والے راستے کی جانب گامزن تھی ۔
اطراف میں دور دور تک ہرے بھرے کھیت ہی دکھائی دے رہے تھے ۔سوہا کھڑکی سے نظریں ہٹا کر جیسے ہی سیدھی ہوئی یکایک اس کی چینخیں نکل گیئں۔ گاڑی کے سامنے کوئی آ کر کھڑا ہوا تھا ۔
کالے کرتے پاجامے میں ملبوس وہ شخص اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا طنزیہ نظروں سے سالک کی جانب دیکھ رہا تھا ۔سوہا کی سانسیں حلق میں ہی اٹک گئی تھیں ۔ اس نے بے ساختہ سالک کی جانب دیکھا ۔ تو اسے یہ سمجھنے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا کہ سالک اور اس مقابل کھڑا شخص دونوں دشمن تھے ۔ سالک اسٹیئرنگ پر دونوں ہاتھ جمائے شعلہ بار نظروں سمیت اس شخص کو گھور رہا تھا ۔ اور پھر وہ جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکلا، سوہا مزید پریشان ہو گئی تھی ۔
چودھری ہاشم تمہاری یہ ہمت کہ تم سالک حیدر خان کا راستہ روکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غراتا ہوا چوھدری ہاشم کے سر پر جا کھڑا ہوا ۔
ذرا دھیرج رکھ پیارے ۔۔۔۔۔ میں تو بس یہ پوچھنے کے لئے سامنے آیا تھا کہ شہر سے اس خوبصورت چھوری کو بھگا کر ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ایک زور دار مُکّے چودھری ہاشم کے باقی الفاظ اس کے منھ میں رہ گئے ۔ سالک کا مکا اتنا زوردار تھا کی چودھری ہاشم کے منھ پر لگتے ہی منھ سے خون چھلکا گیا ۔ وہ بری طرح لڑکھڑا گیا ۔ سوہا کے منھ سے چینخیں نکل گئیں ۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔
بغیرت انسان ۔۔۔۔ سالک حیدر دھاڑتے ہوئے اس کے جبڑے کو اپنے ہاتھوں میں سختی سے جکڑتے ہوئے بولا ۔
تجھے تو میں بعد میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔ بس کچھ دن اور اس کے بعد تو میں مستقل یہی ہوں ۔۔۔۔ تجھے جہنم میں نہ بھیجا تو میرا نام بھی سالک حیدر خان نہیں ۔۔۔۔۔ میرے الفاظ کو ذہن نشین کر لے ۔۔۔۔۔ اس نے چودھری ہاشم کو روڈ کی سائیڈ پر دھکیلتے ہوئے کہا ۔تو وہ لڑکھڑا گیا ۔

دیکھ لوں گا میں سالک حیدر خان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تونے اچھا نہیں کیا ۔ اس کی تجھے وہ سزا دوں گا جو تیرے گمان میں بھی نہیں ہوگی ۔ تجھے بے بس نہ کر دیا تو میرا نام بھی چودھری ہاشم نہیں ۔ وہ آستین سے منھ سے نکلتے خون کو صاف کرتے ہوئے بولا ۔
سالک چہرہ اوپر کر کے یوں ہنسا جیسے کسی بچے کی باتوں پر ہنستے ہیں ۔ پھر دونوں ہاتھ جیب میں ڈالتے ہوئے چودھری ہاشم کے بلکل سامنے جا کھڑا ہوا ۔اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔

بے بسی کس چڑیا کا نام ہے یہ مجھے آج تک نہیں پتہ چل سکا ۔ اور رہی بات تیری دھمکی کی تو ۔تو صرف منصوبے ہی بنا سکتا ہے پیارے، عمل کرنا تیرے جیسوں کے بس کی بات نہیں ۔ ڈر نام کا لفظ میری ڈکشنری میں ہے ہی نہیں نہ میں تم سے ڈرتا ہوں نہ تمہارے خاندان سے بلکہ لعل حویلی کو کوئی بھی بندہ تم سے اور تمہارے لوگوں سے نہیں ڈرتا ۔یہ بات جتنی جلدی سمجھ لو تمہارے لئے بہتر ہے ۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ جھٹکے سے مڑا اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا ۔ چودھری ہاشم بھی سلگتا ہوا وہاں سے واپس چلا گیا تھا ۔
سوہا کا رکا ہوا سانس بھی گویا واپس اپنی ڈگر پر آ گیا تھا مگر اندر سے حقیقتاً وہ بہت ڈر گئی تھی۔ اور اس گھٹیا شخص کے گرے ہوئے کلمات نے اسے اور بھی ارزاں کر ڈالا تھا۔ سالک نے گاڑی آگے بڑھائی تو اس نے دوپٹے سے اپنی پیشانی پر پسینہ صاف کیا، ان سب کا ذمّہ دار یہی شخص ہے ۔۔۔۔۔ سوچتے ہوئے اس نے دربارہ کھڑکی کی جانب رخ موڑ لیا۔

گاڑی عالیشان حویلی کے گیٹ پر آ کھڑی ہوئی تو جلدی سے گیٹ پر معمور دو چوکیداروں نے گیٹ کا دروازہ کھولا۔ گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو سالک نے وہیں اسے دوسری گاڑیوں کے ساتھ کھڑا کیا ۔ اور دروازہ کھولتا باہر نکل گیا اور پلٹ کر اس کی جانب دیکھا ۔ مطلب صاف تھا کی وہ بھی گاڑی سے باہر آئے ۔
سوہا اونچی اور بے تحاشہ خوبصورت حویلی کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتی ہوئی گاڑی سے باہر اتری ۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے ۔ وہ اپنی آنکھیں گھما گھما کر حویلی کے اطراف میں دیکھ رہی تھی ۔
کیا اندر جانے کے لئے انویٹیشن کارڈ دینا ہوگا ؟ سالک حیدر کی تیز آواز پر وہ اچھل پڑی اور خفت زدہ سی اس کے پیچھے چلتی حویلی کے اندر داخل ہوئی ۔اندر داخل ہوتے ہی اسے یوں محسوس ہوا کہ ابھی وہ بہوش ہو کر گر پڑے گی ۔وہاں اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ بے تحاشہ نروس ہو گئی ۔ جبھی علیزے کی نظر سالک پر پڑی ۔
لالا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی سے چینخی تو سب ہی داخلی دروازے کی جانب متوجہ ہوئے۔
سالک آ گیا ؟ سب کے چہروں پر خوشی کے آثار مزید بڑھ گئے تھے ۔علیزے دوڑتی ہوئی سالک حیدر کے گلے سے جا لگی ۔ سوہا انگلیاں مروڑتی نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔وہ سب سالک کو دیکھ کر اتنے ایکسایٹیڈ ہو گئے کہ ان کا دھیان ابھی تک سوہا کی جانب نہیں گیا تھا ۔علیزے سالک سے الگ ہوئی اور اس کے دیر سے آنے کا شکوہ کرنے لگی ۔وہ محبت بھرے لہجے میں جواب دیتا رہا ۔سوہا حیرت سے اس کا یہ روپ دیکھ رہی تھی ۔ ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ وہ سب کے شکوے بھرے سوالوں کا جواب دے رہا تھا ۔یکایک علیزے کی نظر سوہا پر پڑی ۔۔۔۔۔۔

یہ کون ہے لالا ؟؟؟ اس نے سوہا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو وہاں موجود تمام نفوس چونک کر سوہا کی جانب متوجہ ہوئے ۔ اتنے لوگوں کی نظریں خود پر جمی محسوس کر کے سوہا کی پیشانی عرق آلود ہو گئی ۔ وہ نظریں ہی نہ اٹھا سکی۔

یہ میرے ملازم متین کی بیٹی ہے وہ اس کو نوکری پر رکھنا چاہتا تھا فارم ہاؤس پر لیکن وہاں آلریڈی کافی ملازمین ہیں وہاں ضرورت نہیں تھی اس کی سو میں اسے یہاں حویلی لے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے پل بھر کو نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس کی آنکھوں میں اس شخص کے لئے حقارت ہی حقارت تھی ۔

وہ بات ختم کر کے بی جان (خانم) کے سامنے جھکا تو انہوں نے نہایت محبت سے اس کے بالوں کو سنوارتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی ۔
سدا خوش رہ میری جند جان ، انہوں نے محبت لٹاتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔پھر وہ رخسار بیگم کے گلے جا لگا ۔ انہوں نے بھی اس کی پیشانی پر پیار کیا تو اس نے دادا سائیں بابا سائیں اور چچا سائیں وغیرہ کے بارے میں پوچھا کیوں کہ اسے کوئی نظر نہیں آ رہا تھا ۔
ابھی آ جاتے ہیں وہ میل کی طرف گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بی جان نے جواب دیا تو وہ سر ہلا گیا ۔
سب سالک کے گرد ہی جمع تھے۔ سوہا ابھی تک اسی زاوئیے پر کھڑی تھی کہ بی جان کی نظر اس پر پڑی ۔
یہاں آ بچی ۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے نظریں اٹھا کر ان کا شفیق چہرہ دیکھا اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی دیوان کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔
بِیٹھ جاو ۔ لمبے سفر سے آئی ہو تھک گئی ہوگی ۔
کیا نام ہے ؟؟؟ بی جان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا تو پتہ نہیں کیوں ان کے محبت بھرے انداز پر سوہا کی آنکھیں بھرنے لگیں۔ اس نے بہ مشکل آنسوں کو حلق میں انڈیلا ۔
سوہا ۔۔۔۔۔۔ اس نے دھیرے سے نام بتایا ۔
ماشااللہ بہت خوبصورت نام ہے آج سے تو میری خاص ملازمہ ہے شکوراں بھی ہے لیکن آج سے تم دونوں مل کر میرا کام کیا کرو گی ۔۔۔۔۔ انہوں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ، پتہ نہیں کیوں اس لڑکی سے انہیں مانوس سی خوشبو آ رہی تھی جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھیں۔

اتنی خوبصورت ملازمہ ہونہہ،،،،، پلوشہ نے نخوت سے ناک چڑھاتے ہوئے لائبہ کے کانوں میں سرگوشی کی۔
کیا ضرورت تھی سالک کو اس ملازمہ کو ساتھ لانے کی،،، یہ سفید پوش گھرانوں کی لڑکیاں امیزادوں کو اپنے حسن کے جال میں پھنسانا بخوبی جانتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ انگاروں پر لوٹتی ہوئی بولی تو لائبہ نے اسے تسلی دی۔

افففف پلوشہ، تم فکر مت کرو، حیدر لالا کو پتہ ہے کہ تم ان کی بچپن کی منگ ہو۔ کوئی غریب اگر انہیں اپنے حسن کے جال میں پھنسا بھی لے تب بھی وہ اس سے شادی نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں ہماری روایات کا پتہ ہے، ہمارے یہاں خاندان سے باہر شادیاں نہیں ہوتیں، اس لئے بے فکر رہو۔
لائبہ کی باتوں پر پلوشہ کے ہونٹوں پر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ آ گئی۔

تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے پتہ ہی نہ ہو کہ وہ کون ہے ” سالک حیدر خان ” اپنی منوانے والا اور کسی کی نہ سننے والا ۔ پلوشہ نے تلملاتے ہوئے کہا تو لائبہ کی نظریں بھی اس بے تحاشہ حسین لڑکی پر ٹھہر گئی۔ ُحسن کی کمی تو خیر حویلی میں بھی نہ تھی، یہاں بھی حوروں کی کمی نہ تھی ۔ لیکن اس حور کو دیکھ کر پلوشہ کے دل میں وسوسے پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔

وہ صوفے پر بیٹھا رخسار بیگم سے شادی کے متعلق انفارمیشن لے رہا تھا ۔معاذ ، یوسف وغیرہ کا بھی کچھ پتہ نہ تھا۔ ان کی غیر موجودگی بھی شادی کے سلسلے میں ہی تھی۔ حویلی کے ملازمین بھی اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کر رہے تھے ۔
بی جان سوہا کی تسلی کر چکی تھیں کہ وہ بے فکر ہو کر ادھر رہے وہ ان کی خاص ملازمہ ہے۔ اسے یہاں کوئی پریشانی نہ ہو تو انہیں آگاہ کرے۔
ان کی باتوں پر وہ ہلکے سے مسکرائی اور جوں ہی نظریں پھیریں سائیڈ صوفے پر بیٹھے سالک کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹ سی گئی ۔۔۔۔ وہ چھبتی ہوئی نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ وہ سراسیمہ سی واپس نظریں جھکا گئی۔ نظریں جھکانے کے باوجود اسے اپنے چہرے پر اس کے غصے بھری نگاہوں کا اندازہ بخوبی ہو رہا تھا !!!!

                                                                                                    جاری ہے