No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ایک اور نئے دن کا آغاز ہو چکا تھا۔وہ فریش ہو کر حویلی میں آئی تو وہاں رونقوں کا عالم وہی تھا جو رات میں تھا اس میں زرہ برابر بھی کمی نہ ہوئی تھی۔بلکہ یہ رونقیں اب کہیں زیادہ بڑھ گئی تھیں۔
وہ بی جان کے پاس چلی آئی جو روبی (ملازمہ) سے کام پورا نہ کرنے کے معاملے میں تفتیش کر رہی تھیں۔
سوہا نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دینے کے ساتھ ساتھ روبی کو جانے کا اشارہ کیا اور دوبارہ سوہا کی جانب متوجہ ہوئیں ،،،
سوہا بچی یہ لے یہ جوڑا کل پہن لینا تجھ پر بہت جچے گا ،،،،، انہوں نے پاس رکھا شاپر اس کی جانب بڑھایا تو اس نے وہ تھام لیا۔
شاپر کے اندر زرا سا جھانکنے پر ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کپڑے بہت قیمتی تھے۔ لیکن کیوں ؟؟؟ اسے اس کی قطعی سمجھ آ سکی تھی۔
بی جان یہ تو بہت قیمتی ہے ! میرا مطلب کیا ضرورت تھی اس کی ،، جو کپڑے آپ نے پہلے دئیے تھے۔میں ان میں سے ہی کوئی پہن لوں گی۔۔۔۔۔۔ اس نے بی جان کو انکار کرنا چاہا تو،، انہوں نے اسے فورا ٹوک دیا۔
تو بہت سلجھی ہوئی معصوم بچی ہے ، سچ کہوں تو مجھے بھی تجھ سے عجیب سی انسیت محسوس ہوتی ہے جسے میں کوئی نام نہیں دے پا رہی ،، اب انکار مت کرنا ، ورنہ پھر میں نے ناراض ہو جانا ہے ۔۔۔۔۔ انہوں نے کچھ خفگی سے کہا تو وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
ویسے بیٹا کیا تو کچھ پڑھی لکھی بھی ہے ؟ کتنی کلاسیں پڑھی ہیں ؟ بی جان نے اس کو پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
ان کے سوال پر گویا اس کے زخم ہرے ہو گئے تھے۔
جی ہاں میں یہاں آنے سے پہلے پڑھتی تھی۔ایف۔ایس۔سی فرسٹ ایر کی اسٹوڈینٹ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لہجے میں گہری اداسی اتر آئی تھی۔
اچھا تو مطلب تیری پڑھائی مکمّل نہیں ہو سکی۔ چل کوئی گل نہیں۔ میں تجھے کتابیں منگوا کر دے دوں گی تیاری کر لیو،،، پھر حیدر سے کہہ دوں گی وہ شہر لے جائے گا تو اپنا امتحان دے دینا۔۔۔۔۔لیکن، ایک شرط پر ،،،،، واپس میرے پاس ہی آنا ہوگا !!! کیونکہ اب تیرے بغیر میرا گزراہ ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے محبت بھرے انداز میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور سوہا کی آنکھوں کی بجھی ہوئی جوت تو شہر جانے کے نام پر ہی جل اٹھی تھی۔ کچھ بھی تھا شہر میں اپنے ماں باپ سے ملنے کی امید تو وہ زندہ رکھ سکتی تھی۔ یہاں گاؤں میں تو وہ ان سے میلوں کے فاصلے پر تھی۔
اب وہ بی جان کو اس بات کا کیا جواب دیتی کہ “بی جان جس جگہ آپ مجھے دوبارہ آنے کو کہہ رہی ہیں اس جگہ میں واپس پلٹ کر بھی نہ دیکھوں،،، یہ حویلی میرے لئے زندان ہے ، یہاں سے نکلنے کے بعد ہی میری آذادی کے راستے نکل سکتے ہیں” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کی تسلّی کے لئے وہ محض ہلکے سے سر ہلا گئی تھی۔
****************
سب نے زونیہ کا چھیڑ چھیڑ کر برا حال کر دیا تھا۔ دوسری طرف معاذ کا حال بھی زونیہ سے کچھ الگ نہ تھا۔
سالک حیدر صبح ہی ڈیرے کی طرف چلا گیا تھا بابا خان کے ساتھ ۔۔۔۔۔
وہ اپنے کپڑے کا شاپر جو کہ بی جان نے اسے دئے تھے وہ انیکسی میں رکھنے کی غرض سے حویلی کے داخلی دروازے کی سڑھیاں عبور کرنے ہی والی تھی کہ پیچھے اپنے نام کی پکار سن کر رک گئی؛؛؛ پلٹ کر دیکھا تو پلوشہ کھڑی تھی۔
سوہا ہونہہ !! وہ استہزائیہ انداز میں کہتی اس کے قریب آ گئی۔
نام اچھا ہے تمہارا ،، مگر تمہارے کام ماشاء اللّٰہ ۔۔۔۔۔ یہ کیا لے کر جا رہی ہو ہاں؟ دکھاؤ زرا ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ سوہا کچھ جواب دیتی، اس نے اس کے ہاتھوں سے شاپر اُچک لیا اور، برق رفتاری سے اُس میں رکھا سوٹ باہر نکال لیا۔ بے یقینی سے کچھ دیر سوٹ کو دیکھنے کے بعد اس نے ماتھے پر ہزار بل ڈالتے ہوئے سوہا کو دیکھا۔
اتنا قیمتی سوٹ کس نے دیا تمہیں ؟؟؟ وہ خونخوار لہجے میں بولی۔
مجھے یہ خانم نے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے جواب دیا۔
یہ تمہیں بی جان نے دیا ہے؟؟؟ تم ہو کون؟ ایک معمولی سی ملازمہ،،، مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ بی جان آخر تمہیں اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جل کر بولی، اور بے تحاشہ غصّے سے شاپر اور سوٹ اس کے ہاتھوں میں پٹکنے کے انداز میں رکھا۔
اپنے اپنے ظرف کی بات ہے؛ وہ اعلیٰ طرف ہیں سو وہ مجھے معمولی نہیں سمجھتیں، اور تمہاری کم ظرفی تمہاری نظروں میں کسی انسان کو بڑا ہی نہیں دکھانے دیتی،،، بات بس اتنی سی ہے؛؛؛ سوہا نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو پلوشہ کے تو گویا تلوؤں پر لگی اور سر پر جا کر بجھی۔ وہ اسے گھورتی پیر پٹکنے ہوئے برآمدے کی جانب بڑھ گئی۔ سوہا بھی سر جھٹکتے ہوئے سیڑھیاں اتر گئی۔
**************
بابا جان سے کافی دیر تک زمینی معاملات پر باتیں کرنے کے بعد اس کا ارادہ اب میل کی طرف جانے کا تھا۔ اس نے بابا جان کو بعد میں آنے کا کہا تو وہ اکیلے ہی حویلی چل دئیے۔ وہ چارپائی سے اٹھا اور اپنے سیل فون پر مصروف سا ابھی کچھ قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ بالکل اچانک کوئی اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔ اس نے فون سے نظریں ہٹا کر دیکھا تو اپنے سامنے چوہدری ہاشم کو دیکھ کر اس کی پیشانی پر لاتعداد بل پڑ گئے اور آنکھوں میں ناگواری اتر آئی تھی۔
کیا حال ہے سالک حیدر خان ؟ وہ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا بولا۔
کیوں؟ میری خیریت سے تمہیں کیا سروکار ہے؟ سالک حیدر نے سیل فون جیب میں ڈالتے ہوئے اطمینان سے پوچھا۔
تونے اچھا نہیں کیا ہے میرے ساتھ،،، تجھے تو اس کا حساب چُکتا کرنا ہی ہوگا۔ اس روز مجھ پر ہاتھ اٹھا کر تونے بہت غلط کیا ہے سالک حیدر،،، ۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے اسے للکارنے کے انداز میں بولا۔
تو ؟؟ تو کیا کر لے گا تو ؟؟؟ اس نے ہاشم کو کالر سے سے پکڑ کر دہاڑتے ہوئے پوچھا؛ بس ایک سیکنڈ لگا تھا اس کا پارہ ہائی ہونے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت کچھ فلحال تو تجھ سے دو دو ہاتھ کرنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم غصّے سے بل کھاتا ہوا بولا۔ اس کی باتوں پر سالک حیدر کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے ایک زوردار مُکا چوہدری ہاشم کے منہ پر دے مارا ،،، وہ لڑکھڑا کر نیچے گر گیا۔
تجھے عِزّت راس ہی نہیں ہے، بیغیرت انسان !!! سالک اسے کالر سے پکڑتا جھٹکے سے واپس اٹھاتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنچ اتنا زوردار تھا کہ چوہدری ہاشم کا چہرہ سوج گیا تھا۔
اب تو تو نہیں بچے گا،،، پہلے بھی تونے بیچ سڑک پر مجھے مارا اور اب یہ دوسری دفعہ ہے ۔۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں، لعل حویلی میں آج جشن کا سماں ہے نا بہت جلد ان کے لاڈلے سپوت کا جنازہ بھی اسی حویلی میں اترے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشم کمینگی سے مسکراتے ہوئے بولا۔
یار خواب وہ دیکھا کرو، جن کی تعبیر بھی پایہَ تکمیل تک پہنچے،،، خواب بھی تم اپنی طرح تھرڈ کلاس ہی دیکھتے ہو جن کا نہ کوئی سر ہے اور نا پیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے طنزیہ مسکراہٹ سمیت اپنی بات مکمّل کی اور چوہدری ہاشم کو دھکیلتا آگے بڑھ گیا۔ چوہدری ہاشم ایک بار پھر اپنی شکست پر گویا خون کے گھونٹ پی کے رہ گیا۔
****************
پلوشہ سلگتی ہوئی کمرے میں آئی اور بیڈ پر بیٹھ کر اپنا غصّہ قابو کرنے لگی۔ زونیہ واشروم سے نکلی اور اسے بیڈ پر غصّے بھرے انداز میں بیٹھی دیکھکر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
کی ہویا وش ؟ خیر تو ہے نا،،، تم غصّے میں لگ رہی ہو !!! اس نے پلوشہ سے غصّے کی وجہ پوچھی تو وہ پھٹ پڑی۔
یہ جو ملازمہ حیدر سائیں کے ساتھ شہر سے آئی ہے،، مجھے زہر سے بھی زیادہ بری لگتی ہے ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں بی جان نے اسے اتنا سر پر کیوں چڑھایا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اسے بہت قیمتی سوٹ بھی دیا ہے،،، آخر بی جان کو ضرورت ہی کیا ہے اس ملازمہ کو اتنا اہمیت دینے کی ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کل اس نے مجھ سے بدتمیزی بھی کی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ کلستی ہوئی بولی۔
لیکن، اس نے تم سے بدتمیزی کیوں کی؟ زونیہ نے حیرت سے پوچھا
میں نے اس لڑکی کو حیدر سائیں کے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا،، وجہ پوچھی تو وہ بدتمیز مجھ پر ہی چڑھ دوڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ کے لہجے میں سوہا کے لئے نفرت ہی نفرت تھی۔
افففف وش، یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ بیچاری غلطی سے حیدر کے کمرے میں چلی گئی ہو ۔۔۔۔۔ اس کو یہاں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں،، یہاں کی سمتوں سے بھی وہ ناواقف ہے پھر اس سے ایسی غلطیاں ہونا تو یقینی ہے۔ رہی بات قیمتی کپڑوں کی تو کیا ہو گیا ؟ ۔۔۔۔۔ وہ بی جان کی خاص ملازمہ ہے۔ بی جان کو وہ پسند ہے تو دیا ہے نا ۔۔۔۔۔۔ تم اس بارے میں اتنا مت سوچو،،، موڈ فریش کرو اپنا اوکے !!! زونیہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا لیکن وہ تو نفرتوں کے سیلاب میں بہہ رہی تھی۔ اسے یہ باتیں کہاں سمجھ آنی تھیں۔ اس نے دل ہی دل میں سوہا کو بی جان کی نظروں سے کسی نہ کسی صورت میں گرانے کا تہیہ کر لیا۔ وہ اس انسان کو اپنے قابو میں کرنا چاہتی تھی جو اس کا کبھی تھا ہی نہیں اور نہ ہی کبھی ہو سکتا تھا۔
*******************
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے،، حویلی میں ڈھولکی کی آواز پورے زور و شور سے گونج رہی تھی۔ کل معاذ اور زونیہ کی شادی تھی۔ مہمانوں کی آمد بھی کل سے شروع ہو جانی تھی۔ سارا خاندان تو اکٹھا ہو ہی چکا تھا۔ جو لڑکے بیرون ملک تھے ان کی بھی آمد ہو چکی تھی۔ تینوں پھپھیاں بھی اپنی اپنی فیملی کے ساتھ پہنچ چکی تھیں۔ بی جان نے ان سے بھی سوہا کو متعارف کرایا۔ وہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں حد سے زیادہ نروس ہو رہی تھی۔
بیوٹیشن نے زونیہ کے ہاتھوں اور پاؤں کو نہایت ہی خوبصورت مہندی سے آراستہ کیا تھا۔ اس کی مہندی کا رنگ بھی بہت گہرا آیا تھا۔ حویلی کے وسیع و عریض لان میں ہلدی کی رسم کا اہتمام تھا۔ سارے لڑکے معاذ کے گرد ڈیرا ڈالے اسے چھیڑنے کا اہم فریضہ بھی سر انجام دے رہے تھے۔ باورچی خانے میں ملازمین کی ڈیوٹیز اور بھی سخت ہو چکی تھیں۔
وہ بی جان کا کہوہ بنانے کے لئے باورچی خانے میں آئی۔ وہ چولہے کی جانب آئی جہاں بشیراں چائے بنا رہی تھی۔ وہ کہوہ بنانے کی تیاری کرنے لگی،، جبھی بشیراں نے اس کے ہاتھوں میں چائے کا مگ پکڑایا اور، لان میں موجود سالک حیدر کو دینے کیلئے کہا۔ بقول اس کے کہ اس کو کئی اور اہم کام سر انجام دینے ہیں۔ سوہا کا دل چاہا چائے کا کپ اٹھا کر دیوار پر دے مارے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ناگواری سے بشیراں کو دیکھتی چائے کا کپ پکڑے لان کی جانب آ گئی جہاں کی چکاچوند عروج پر تھی۔ کچھ دیر میں معاذ کی ہلدی کی رسم بھی شروع ہونے کو تھی۔
اس کی نظر ایک سائیڈ میں قدرے فاصلے پر چئیر پر براجمان ہاتھوں میں سگریٹ تھامے سالک حیدر پر پڑی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ قریب آئی اور سامنے رکھی ٹیبل پر چائے کا کپ پٹکنے والے انداز میں رکھا اور واپسی کیلئے مڑ گئی۔
مِس سوہا مراد ۔۔۔۔ کیا میں نے جانے کیلئے کہا ؟؟؟ اپنے پیچھے سالک حیدر کی بارعب آواز سن کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔ وہ پلٹی پر اعتماد سی چال چلتی ہوئی آگے بڑھ آئی۔
میں یہاں تمہارے حکم کی غلام نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سینے پر دونوں ہاتھوں کو باندھتی ہوئی متانت بھرے لہجے میں بولی۔
خیر تمہارا یہ کہنا تو سراسر غلط ہے کہ تم میرے حکم کی تابع نہیں،،، میں یاد دلاؤ دوں، میرے حکم کی تعمیل میں ہی تمہاری زبان بند ہے،، اس کا مطلب سمجھتی ہو ؟؟ وہ ٹانگوں پر ٹانگیں جمائے سگریٹ کے گہرے کش لیتا دھواں فضا میں اُڑاتے ہوئے بولا۔
مکافاتِ عمل کا نام سنا ہے، سالک حیدر؟ وہ اسی انداز میں کھڑی بھینچے ہوئے لہجے میں بولی
بالکل سنا ہے؛؛؛ بلکہ تمہیں اس کی زندہ مثال بھی دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے میری تذلیل کی اور آج جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے،،، کیا یہ مکافاتِ عمل نہیں سوہا مراد ؟ اس نے ایک ابرو اُچکاتے ہوئے سوال کیا تو سوہا کا چہرہ شدتِ ضبط سے سرخ ہو گیا۔
ایک دن بہت پچھتاؤ گے سالک حیدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءاللّہ وہ دن جلد ہی آئے گا ۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ دعا کے انداز میں اوپر کو پھیلائے پریقین سی بولی
پلٹ کر آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا گئے لوگوں کا غم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا سرِ تسلیم خم کر کے بہت کچھ مل تو سکتا ہے سرِ تسلیم خم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا جو نفرت ہو تو بیحد ہو، محبّت ہو تو بے پایاں کوئی بھی کام کم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا
سگریٹ نیچے پھینک کر اپنے جوتوں سے اس کی راکھ مسلتا ہوا وہ گمبھیر لہجے میں بولتا اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں ہاتھ جینس کی جیب میں ڈال لئے۔
سوہا کچھ دیر اسے نفرت بھری نگاہوں سے گھورتی رہی اور پھر جھٹکے سے پلٹ کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔ سالک حیدر کی سلگتی نظروں نے تب تک اس کا پیچھا کیا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔ ٹیبل پر پڑی چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
*******************
پلوشہ کمرے میں داخل ہوئی اور محتاط نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کمرے میں کوئی بھی موجود نہ تھا۔ یہ علیزے، مائدہ، اور اس کا مشترکہ کمرہ تھا۔وہ بیڈ پر بیٹھ کر اپنے دونوں پاؤں سے سونے کی پازیب اتاری۔ ایک نظر پورے کمرے میں دوڑائی اور پھر اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل کی نچلی دراز پر آ کر ٹھہر گئی۔ اس نے جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کی نچلی دراز میں احتیاط سے ڈائری کے اندر وہ پازیب رکھ دی۔ اور دراز بند کر کے اطمینان سے باہر نکل گئی۔
باہر لان میں مرد حضرات معاذ کی ہلدی کی رسم نبھا رہے تھے۔ سوہا بی جان کو کہوہ دینے کے بعد اب ان کے کہنے پر صفیہ بیگم (زونیہ کی امّی) کو بلانے کیلئے حال کمرے سے گزر رہی تھی کہ کہ اسے پلوشہ ہی آواز سنائی دی۔ وہ مائدہ کو اس کا سیل فون اوپر سے لانے کیلئے اسے سوہا کو اوپر بھیجنے کا کہہ رہی تھی۔ جبھی مائدہ کی نظر اس پر پڑی تو اس نے سوہا کو آواز دی۔
وہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کے قریب گئی تو مائدہ نے سمت بتاتے ہوئے اوپر اپنے کمرے سے اسے ایک فون لانے کو کہہ دیا۔ اس نے پہلے صفیہ بیگم کو بی جان کا پیغام دیا اور خود اوپر چل دی وہ مائدہ کے بتائے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔
اس نے بیڈ پر رکھا سیل فون اٹھایا اور نیچے چلی ائی۔ مائدہ کو فون تھماتے ہوئے اس نے پلوشہ کی آنکھوں میں کمینی سی چمک پر غور ہی نہیں کیا اور کچن میں چلی آئی کیونکہ اسے اب بھوک محسوس ہو رہی تھی۔
وہ فارغ ہو کر کچن سے نکلی اس کا ارادہ اب تھوڑی دیر کے لیے انیکسی میں جانے کا تھا۔ جبھی اس کا بازو سختی سے کسی نے پکڑا ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تڑپ کر دیکھا تو سامنے پلوشہ کھڑی تھی
چھوڑو مجھے !!! یہ کیا کر رہی ہو تم ؟؟؟ اس نے اس کی گرفت سے اپنا بازو آزاد کرنا چاہا۔
چھوڑ دوں گی چھوڑ دوں گی،،، پہلے یہ بتاؤ میری سونے کی پازیب کدھر ہے ؟؟ اس نے بلند آواز میں پوچھا تو دھیرے دھیرے سب ادھر ہی جمع ہو گئے۔
سوہا کا چہرہ مارے سبکی کے لال ہو گیا۔
کیا ہوا ہے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان بھی وہیں چلی آئی تھیں۔
بی جان آپ تو اسے بہت اچھا سمجھتی ہیں نا ۔۔۔۔۔ اس نے میری سونے کی پازیب چوری کی ہے،،، یہ مائدہ کا فون لینے ہمارے کمرے میں گئی تھی اور آخری بار یہی گئی تھی آپ ہی بتائیں کون چوری کر سکتا ہے وہ پازیب ؟؟؟ وہ چلاتے ہوئے بولیں تو بی جان کا چہرہ غصّے کی شدت سے تھرا گیا۔
میں نے نہیں لی ہے میرا یقین کریں خانم پلیز،،، میں بس سیل فون لے کر نیچے آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے لرزتے ہوئے لہجے میں بی جان سے کہا۔ اپنی ذات کی بے مائیگی اسے بری طرح گھائل کر گئی تھی۔ اتنے لوگوں کی موجودگی میں اپنے وجود کا یوں ارزاں ہونا اس کا دماغ ماؤف کر رہا تھا۔ وہ تو شکر تھا کہ گھر کے بڑے مرد حضرات باہری مردان خانے میں موجود تھے۔
خاموش !!! کیا بول رہی ہو لڑکی ؟؟؟ ہوش میں تو ہو تم ؟؟؟ سوہا پر مجھے دل و جان سے بھروسہ ہے تم ایسا اس کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتی ہو ؟؟؟ بی جان نے غصّے سے پلوشہ سے پوچھا۔
کیا ہوا کون مر گیا ہے یہاں ۔۔۔۔۔۔ کیوں جاہلوں کی طرح تماشہ لگائے ہوئے ہو سب ؟؟؟ جبھی سالک حیدر کی دہاڑتی ہوئی آواز پر سب سیڑھیوں کی جانب متوجہ ہوئے جہاں وہ آستین کے قف لگاتا نہایت غصّے میں بولتا سیڑھیاں اتر رہا تھا۔
وہ،،، وہ حیدر سائیں، میری سونے کی پازیب نہیں م، مل رہی۔ آخری بار یہی میرے کمرے میں گئی تھی مائدہ کا سیل فون لانے ۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ نے اپنی بوکھلاہٹ چھپاتے ہوئے اپنی بات دہرائی ۔۔۔۔۔۔ اس کے کہنے پر سالک نے سوہا کی جانب دیکھا۔ وہ آنسوؤں سے بھری آنکھوں، اور لرزتے ہونٹوں سمیت سر کو دھیرے دھیرے نفی میں ہلا رہی تھی۔ باقی سب خاموش تھے بی جان تاسف بھری نظروں سے پلوشہ کو دیکھ رہی تھی۔
کیا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اسے پازیب لیتے ہوئے،،،، بس جتنا پوچھ رہا ہوں اتنا ہی جواب دوں،،، فالتو کچھ بھی نہیں سننا مجھے،،، بولو ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سوہا سے نظریں ہٹا کر پلوشہ سے پوچھتا انتہائی غصّے میں لگ رہا تھا۔
ل،، لیکن آخری بار یہی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ نے ہکلاتے ہوئے کہنا چاہا ۔۔۔۔۔
میں نے کہا نا کہ فالتو بکواس نہیں سننی مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یا نا میں جواب دو بس ۔۔۔۔۔ اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں میں،،،، بس مجھے اتنا بتاؤ کہ کیا تم نے خود دیکھا اسے وہ پازیب لیتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر سوہا کی طرف اشارہ کرتا ہوئے سخت لہجے میں پلوشہ سے پوچھا۔ پلوشہ کے اندر اس کے اس انداز پر تو گویا بھانبھڑ جل اٹھے تھے جبکہ سوہا کے لئے یہ مقامِ حیرت تھا۔ وہ حیرانگی سے سالک حیدر کو دیکھ رہی تھی۔
پلوشہ آپی بات سنیں کہیں آپ اس پازیب کی بات تو نہیں کر رہی نا ؟؟ میں نے جا کر چیک کی تو یہ مجھے ڈریسنگ ٹیبل کی نچلی دراز سے ڈائری کے اندر سے ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبھی علیزے ہانپتی ہوئی ہاتھوں میں پازیب لئے آئی تو یکایک پلوشہ کا رنگ فق پڑ گیا اور وہ دانت پیس کر رہ گئی۔ سوہا نے جہاں تشکر بھرا سانس لیا وہی سالک کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔ سب کی تاسف بھری نظریں پلوشہ پر تھیں جبکہ ، گلناز بیگم کینہ توز نظروں سے بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جس نے اپنی حرکتوں سے انہیں سب کے سامنے شرمندہ کر دیا تھا۔
مجھے ان سب فضول ڈرامے بازیوں سے نفرت ہے سمجھیں تم،،، نیکسٹ ٹائم اگر ایسا کوئی تماشہ یہاں ہوا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پلوشہ کی طرف دیکھ کے انگلی اٹھا کے وارن کرتا ہوا بولا،،، تو پلوشہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اس نے ایک نفرت بھری نظر سوہا پر ڈالی اور بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر بھی تیزی سے لان کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ بی جان کے کہنے پر سوہا بھی حیرت کے سمندر میں ہنوز غوطے کھاتے ہوئے انیکسی میں چلی گئی۔
********************
اللّہ اللّہ کر کے شادی کا دن آ پہنچا تھا۔ آج وہ بی جان کے دئیے ہوئے جوڑے میں ملبوس تھی۔ بال گیلے ہونے کیوجہ سے اس نے بالوں میں کیچر لگا کر بال کھلے ہی چھوڑ دئیے تھے۔ اور دوپٹہ سر پر لے لیا تھا۔ وہ بی جان کے پاس آئی تو انہوں نے اسے دیکھکر کھلے دل سے اس کی۔ ان کے بہت اصرار پر نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے ان کی ہی میک اپ کِٹ سے لائٹ سی لپسٹک اور آنکھوں میں کاجل ڈال لیا تھا۔ بی جان تو گویا خوشی سے نہال ہی ہو گئیں۔ جب سے شکوارں آئی تھی شکوارں کے مزے ہو گئے تھے۔ اسے ضرورت سے زیادہ ہی فراغت حاصل ہو گئی تھی۔ بی جان شکوارں کی خبر لینے کا سوچتی سوہا سے اپنے بالوں میں پراندہ لگانے کو کہنے لگیں۔
سالک حیدر خان تھری پیس سوٹ میں ملبوس، فریش فریش سا رخسار بیگم کے کمرے میں آیا وہاں بابا خان بھی موجود تھے ۔۔۔۔۔۔۔ رخسار بیگم نے بیٹے کی وجاہت کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں بلائیں لیتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی۔ اس کے بعد وہ بابا خان کے سامنے جھکا۔
جیتے رہو اللّٰہ سلامت رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بھی اس کی پیشانی چومتے ہوئے دعا کی جبھی علیزے چلی آئی۔
واہ لالا ۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے تو بجلی ہی گرا دینی ہے آج ۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیاں آپ کو دیکھ کے کہیں بیہوش ہی نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شرارت سے کہتی سالک کے ساتھ لگ گئی تو وہ تینوں ہی ہنس دئے۔ سالک نے محبّت و شفقت سے اس کے سر کو چوما اپنی اکلوتی بہن میں اس کی جان بستی تھی۔
وہ بابا خان کے کمرے سے نکلا اب اس کا ارادہ بی جان کے پاس جانے کا تھا۔
وہ ان کے کمرے کے دروازے پر آن کھڑا ہوا تو اس کی نظر سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی بی جان کے بالوں میں پراندہ لگاتی سوہا پر پڑی۔ جھک کر ڈریسنگ ٹیبل سے پراندہ اٹھاتے ہوئے اس کا دوپٹہ سر سے سرک گیا تھا اور آدھے لمبے بال آگے کی جانب گر گئے تھے۔ کاجل لگی خوبصورت آنکھوں کی دلکشی گویا ماحول پر سحر طاری کر رہی تھی۔ ہلکی سی لپسٹک سے سجے اس کے یاقوتی لب گویا کوئی اور ہی داستان کہہ رہے تھے۔ معصوم و بے ریا چہرے کا حُسن اتنا قیامت خیز تھا کہ وہ اپنی جگہ ساکت کھڑا رہ گیا۔ وہ حقیقتاً مہبوت سا ہو گیا تھا۔ اس ہر آج اس لڑکی کے بے پناہ حُسن کا ادراک ہوا تھا یہ الگ بات کہ پہلے اس نے کبھی دھیان ہی نہ دیا تھا۔
یہ پل بھر میں کیا سے کیا ہو گیا تھا، وہ خود اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس کا دل و دماغ آندھیوں کی زد میں تھے۔ معجزہ تو ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ معجزے تو پل بھر ہی ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے سوہا نے سامنے دیکھا تو دروازے پر استاذہ سالک حیدر کو دیکھکر اس کی حلق تک میں کڑواہٹ بھر گئی۔ اس نے لمحے کے ہزارویں حصّے میں نظروں کا زاویہ بدلا ۔۔۔۔۔۔ بی جان کا چہرہ سائیڈ میں تھا ۔۔۔۔۔۔ اس لئے انہیں سالک کی موجودگی کی خبر نہیں ہو سکی تھی۔
وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی جانب چلا گیا
جاری ہے
