No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
صبحِ صادق کا وقت ہو چکا تھا۔ نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد وہ فریش ہو کر نیچے اتر آئی۔ تمام ملازمین وقت کی پابندی کیساتھ اپنی اپنی ڈیوٹیز آ چکے تھے۔ اسماء بیگم کے کمرے کا دروازہ کھُلا دیکھکر وہ سیدھی وہیں چلی آئی۔
اسماء بیگم بیڈ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ وہ اتنی محو تھیں کہ انہیں اس کی آمد کا علم نہیں ہو سکا تھا۔ اس نے بیڈ پر بے خبر سوئے مراد صاحب کو دیکھا تو دل میں سکون کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔
امّی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ پل انہیں محبّت بھری نظروں سے دیکھنے کے بعد سوہا نے انہیں پکارا،، آواز پر انہوں نے دروازے کی سمت دیکھا اور مسکرا دیں۔ چئیر سے اٹھ کر وہ کمرے میں آئیں اور بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ سوہا بھی ان کے قریب ہی بیٹھ گئی۔ تسبیح ختم کرنے بعد انہوں نے منہ پر ہاتھ پھیرا اور اس کی جانب متوجّہ ہوئی۔
سوہا میری بچّی،،،، میں ہر صبح اٹھتی اور سب سے پہلے تمہارے کمرے میں جاتی تھی اور تمہیں وہاں نہ پا کر میرا دل تڑپ اٹھتا تھا،،، اور پھر جب تمہارے بابا کی طبیعت بہت خراب ہوئی تو انہیں ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرانا پڑا،،، اس وقت میں خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی۔ آگے پیچھے کوئی نہ تھا،، بس واحد سلطانہ تھی جس نے میری بہت مدد کی ۔۔۔۔۔ اللّہ اسے ہمیشہ سلامت رکھے ۔۔۔۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہستہ لہجے میں اسے اپنی روداد سناتے ہوئے وہ آبدیدہ سی ہو گئیں تو سوہا بے اختیار ان کے گلے لگ گئی۔
میں نے بھی آپ کو اور بابا کو بہت یاد کیا امّی،،،، مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے میں آپ دونوں کو اب ساری زندگی نہیں دیکھ سکوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امّی بابا کے علاج کے لئے پیسے کہاں سے آئے ؟؟؟ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو اسماء بیگم نے اسے خود سے جدا کر کے اس کی پیشانی چوم لی، ساتھ ہی اسے مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مراد صاحب کی نیند خراب ہونے کے خدشے سے وہ دونوں ہی بہت آہستہ آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔
یہ سب کچھ سالک حیدر خان کی وجہ سے ہوا ہے،،، وہی ذمّہ دار ہے اس سب کا ۔۔۔۔۔۔ مجھے شدید نفرت ہے اس شخص سے اسقدر نفرت کہ بیان میں نہیں لائی جا سکتی،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نفرت و حقارت سے بھینچے ہوئے لہجے میں بولی تو اسماء بیگم حیرت سے اسے دیکھنے لگیں،، کیونکہ انہیں اسکی بات کی سمجھ نہیں آ سکی تھی۔ اسماء بیگم کی سوالیہ نظریں محسوس کر کے وہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی اور انہیں الف سے لے کر یی تک ساری بات بتا دی تھی۔ وہ ساکت سی رہ گئیں تھیں۔ اصل معاملے کی خبر تو انہیں اب ہوئی تھی،،، وہ تو اب تک یہی سمجھ رہی تھیں کہ ان سب کے پیچھے مہروز سائیں کا ہاتھ ہے۔
امّی میرا بس چلے تو میں آپ دونوں کے ساتھ ابھی اور اسی وقت شہر کو روانہ ہو جاؤں لیکن جس طرح آپ بی جان کے حُکم کے آگے مجبور ہیں میں بھی ہوں،،، پلیز آپ پوری کوشش کیجئے گا کہ ہم جلد از جلد یہاں سے چلیں جائیں،،، اس گھٹیا شخص کا سامنا ہونے کے خیال سے ہی میرا دم گھٹتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا
میں بی جان سے دوبارہ بات کروں گی بیٹا !!! تم فکر نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے تسلّی دی تو وہ کچھ پُرسکون سی ہوئی۔ مراد صاحب کی گہری نیند میں کوئی خلل نہ پڑا تھا۔ شاید ان کی تھکان اب بھی نہ اتری تھی۔
******************
انسیہ بیگم (خانم) نے آہستگی سے ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئیں، ساتھ ہی دزدیدہ نگاہوں سے راکنگ چئیر پر جھولتے مہروز خان کو دیکھا۔ انہوں نے ساری رات یہیں گزار دی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ اسماء بیگم کو انہوں نے دل سے معاف نہیں کیا، بلکہ خانم کی ضد کے آگے وہ مجبور ہو گئے تھے۔ خانم نے آگے بڑھکر آہستگی سے ان کے شانے پر ہاتھ رکھا تو وہ پیشانی مسلتے سیدھے ہو بیٹھے۔ بنا دیکھے ہی ان کو اس لمس سے آشنائی تھی، جبھی نظریں اٹھا کر دیکھنے سے گریز کیا۔
سائیں، معاف کرنا تو نیک فعل ہے، سوہنا رب معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ نے اس بارے میں نہیں سوچا ؟ وہ بات کا آغاز کرتی ان کے سامنے چئیر پر بیٹھ گئیں۔ مہروز خان نے اپنی پرتپش نگاہیں ان پر کیں۔
کیا آپ کی یہاں موجودگی کا مقصد اپنی بیٹی کا دفاع کرنا ہے، جو کہ آپ پہلے بھی کر چکی ہیں ؟؟ اگر ایسا ہے تو یہاں سے چلی جائیں ہمیں کچھ بھی نہیں سننا نہ اس بارے میں کوئی بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے غصّے سے کہا تو خانم بے اختیار چئیر سے اٹھ کر نیچے قالین پر بیٹھ گئیں اور دونوں ہاتھ مہروز سائیں کے گھٹنوں پر رکھے۔
وہ تینوں یہاں سے جانا چاہتے ہیں سائیں،،، میں نے اصرار کر کے انہیں یہاں رکنے پر مجبور کیا ہے،،، میں قطعی نہیں چاہتی کہ وہ یہاں سے جائیں،، لیکن محض میرے کہنے سے ان کی تسلّی نہیں ہوگی میں جانتی ہوں،، کیا آپ اپنا ظرف اتنا وسیع نہیں کر سکتے کہ ان کی خطاؤں کو دل سے معاف کر سکیں ؟؟ کیا آپ کا دل نہیں چاہتا اپنی بیٹی اور نواسی کو اپنے سینے سے لگانے کا ؟؟ انہوں نے دلگیری سے پوچھا تو مہروز خان کا چہرہ ضبط کی شِدّت سے لال ہو گیا۔
آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں خانم ؟؟ آپ کی ضد کے آگے بے بس ہو کر میں نے اسے رعایت دے دی،، اب کیا بولیں ؟؟؟ ان کا جلال عود کر آیا،،، خانم ان کے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ آپ انہیں دل سے معاف کر دیں، یہ تو طے ہے کہ وہ اب یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو میں جیتے جی مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان خطا کا پُتلا ہے سائیں،، اور جب کوئی اپنی خطاؤں پر دل سے شرمندہ ہو اور معافی کا طلبگار بھی ہو تو معاف کرنا ایک نیک فعل بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ امیّد ہے آپ میری بات پر غور فرمائیں گے،،، آپ فریش ہو جائیں میں شکوارں سے آپ کا ناشتہ بھجواتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی بات ختم کر کے ڈریسنگ روم سے باہر نکل آئیں جبکہ مہروز خان نہ جانے کن خیالات میں گُم ابھی تک اسی زاوئیے پر بیٹھے ہوئے تھے۔
*****************
وہ لائبہ اور زونیہ وغیرہ کے ہمراہ برآمدے کے تخت پر بیٹھی ہوئی تھی۔ علیزے باقی لڑکیوں کے ہمراہ کالج گئی ہوئی تھی، مکمّل حجاب میں انہیں حویلی میں برسوں سے معمور قابلِ بھروسہ ڈرائیور ان کے کالج چھوڑ دیتا تھا،، اور ان واپسی کا وقت ہونے پر وقت سے پہلے وہاں پہنچ جاتا تھا۔ جو لڑکے معاذ کی شادی میں شرکت کے ارادے سے اپنی اسٹڈی اور جاب سے تھوڑی سی رعایت برت کر آئے تھے، وہ بھی اب واپس چلے گئے تھے۔ پھپھیاں بھی اپنے اپنے گھروں کو چلی گئی تھیں، یہ الگ بات تھی کہ ان کے بیٹوں کا وقفے وقفے سے حویلی آنا جانا لگا رہتا تھا جس سے حویلی کی رونقوں میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا، ان کے برعکس ان کی بیٹیوں کا کبھی کبھی ہی یہاں آنا ہوتا تھا حالانکہ، ان کے گھروں سے حویلی تک کا فاصلہ اتنا زیادہ بھی نہ تھا۔
کہنے کو تو یہ گاؤں تھا لیکن یہاں ہر وہ سہولیات موجود تھیں، جو انسانی زندگی کیلئے اہم ہیں۔
آج ابھی تک اس کی ملاقات بی جان سے نہیں ہوئی تھی کیونکہ جب وہ صبح ان کے کمرے گئی تو وہ وہاں موجود نہ تھیں۔
سوہا آپی !!! آپ کی اسٹڈی کا کچھ بنا ؟ بی جان سے بات کی اس بارے میں ؟؟ لائبہ نے سوال کیا
میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں،،، وہاں میں باآسانی تیاریاں کر کے ایگزیمز دے سکوں گی ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی ہم یہاں کب تک رہ سکتے ہیں جانا تو ہے ہی نا ۔۔۔۔۔۔ اس کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ لائبہ اچھل پڑی اور تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھی۔
اللّہ اللّہ سوہا آپی !!! آپ پلیز ایسا سوچیں بھی مت،، ہم آپ کو کبھی یہاں سے نہیں جانے دینگے،، پلیز پلیز ۔۔۔۔۔۔ اس کے ملتجی لہجے پر زونیہ و دعا نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
لائبہ ٹھیک کہہ رہی ہے سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم پلیز ایسا تو مت کہو ۔۔۔۔ اب تم ہمارے ہی ساتھ رہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ مانا کہ حیدر بھائی نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے لیکن تم محض ان سے اختلافات کی وجہ سے اتنے سارے محبّت بھرے رشتے چھوڑ کر جاؤ گی بولو ؟ اگر تم دادا سائیں کی ناراضگی کی وجہ سے یہ کہہ رہی ہو تو فکر نہ کرو وہ بہت جلد راضی ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زونیہ نے اسے رام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے سوچوں گی !!! اس نے ٹالتے ہوئے لہجے میں کہا اور بات بدل دی تو وہ سب بھی کچھ مطمئن سی ہو گئیں۔
******************
ناشتے سے فارغ ہو کر وہ میل کی طرف چلا گیا تھا، بابا جان و چچا سائیں ، دادا سائیں وغیرہ بھی وہیں موجود تھے۔ ان کی واپسی اب شام گئے ہونی تھی۔ آج انہیں کچھ زمینی معاملات بھی نپٹانے تھے سو اس کے لئے وقت درکار تھا۔ جبکہ اس کی واپسی ابھی ابھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صبح کافی عجلت میں نکل گیا تھا جبھی بی جان سے نہیں مل سکا تھا،، رخسار بیگم تو ویسے ہی اسے لفٹ نہیں کرا رہی تھیں وہ جانتا تھا وہ بیحد ناراض ہیں،، اسے بی جان کی بھی ناراضگی کا اندیشہ تھا،، جو بھی تھا پر نواسی کیساتھ کی گئی زیادتی کی بِنا پر ان کا اس سے ناراض ہونا فطری بات تھی۔
ابھی وہ بی جان کے کمرے کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کہ اندر سے آتی باتوں کی آوازوں پر وہیں ٹھہر گیا۔
اسماء تو اب یہ بات مت کرنا؛ میں اب تیری اور سوہا کی جدائی برداشت نہیں کر سکوں گی،، میری بوڑھی ہڈیوں پر رحم کر ۔۔۔۔۔۔ تو سوہا کو سمجھا کہ وہ شہر جانے کی ضد چھوڑ دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کی کتابیں شہر سے آ جائیں گی، حیدر سے کہا ہوا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔ تیاری کر لے گی اپنے امتحانات کی،، بی جان نے دو ٹک لہجے میں کہا۔
بی جان سوہا نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے کہ کیسے حیدر نے اسے اغوا کیا اور وجہ کیا تھی،،، میری بچّی نے بہت کم عمری ہی بہت کچھ سہا ہے بی جان،،، ابھی وہ بہت کم عمر ہے میں نہیں چاہتی کہ اسے مزید کوئی تکلیف پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس آپ اس کے اچھّے نصیب کے لئے دعا کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء بیگم نے نم آنکھوں سے اپنا خوف ظاہر کیا تو بی جان نے ان کے ہاتھوں پر تسلّی بھرا ہاتھ رکھا۔
تو فکر نہ کر،،، اس کا نصیب انشاء اللّہ سنہری قلم سے لکھا ہو گا۔ اس کی شادی اسی خاندان میں ہو گی۔ اس کو بہت محبّت کرنے والا ہمسفر ملے گا میری بچّی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کے دعائیہ الفاظ پر اسماء بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے وہ بے اختیار بی جان کے گلے سے لگ گئیں۔ جب کہ دروازے کے قریب کھڑا سالک حیدر ان کی گفتگو سن کر تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ تیزی سے پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
*******************
چوہدری ہاشم نے ریوالور کی اچھّی طرح صفائی کرنے کے بعد، الٹ پلٹ کر اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد نظر اٹھا کر سامنے مونچھوں کو تاؤ دیتے بیٹھے ہوئے چوہدری وجاہت (باپ) پر ڈالی۔
خانوں کی بربادی ایک طرف بابا جان،،، سب سے پہلے تو مجھے سالک حیدر خان کا علاج کرنا ہے،،، اس کی بربادی میرے ہی ہاتھوں لکھی ہے ۔۔۔۔۔ انشاء اللّہ ۔۔۔۔۔۔ بہت زعم ہے نا اسے خود پر،، چور چور نہ کر دیا اس کا زعم تو میرا نام چوہدری ہاشم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم اپنی بے عِزتی کو یاد کرتا غصّے سے دانت کچکچا کر بولا۔
دو بار اس نے تمہاری بے عِزّتی کی ہے، دونوں بار تم بزدلوں کی طرح اس سے پِٹ کر چلے آئے ۔۔۔۔۔۔۔ کوئ حد ہوتی ہے بے شرمی کی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بڑے بڑے دعوے کسی کام کے نہیں جب تک اس پر تم عمل کر کے نہ دکھاؤ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری وجاہت نے تلملا کر کہتے ہوئے ہوئے بیٹے کی بزدلی پر چوٹ کی تو چوہدری ہاشم بری طرح بھِنا اٹھا۔
بابا جان،،، میں بس سہی وقت کے انتظار میں ہوں،،، سالک حیدر خان کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ریوالور کے منہ پر پھونک مارتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کمینے پن سے کہا تو چوہدری وجاہت کے ہونٹوں پر بھی شاطرانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
*****************
حسبِ معمول حال کمرے میں گہما گہمی مچی ہوئی تھی۔ سب اپنی اپنی نشست سنبھال کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔ نازو (ملازمہ) کو چائے کا کہہ کر اب معمول کے مطابق ان کا شعر و شاعری کرنے کا موڈ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر وہ بھی وہیں چلی آئی اور علیزے کے ساتھ بیٹھ گئی۔ پلوشہ کو تو اس کی یہاں موجودگی کو ہضم کرنا مشکل لگ رہا تھا،،، یہ حقیقت اس سے برداشت نہ ہو رہی تھی کہ سوہا بھی اب اس گھر کی ایک فرد ہے۔ وہ کینہ توز نظروں سے اسے گھور رہی تھی جو علیزے کی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔
آئے ہائے ،، آج تو چاند حال کمرے میں ہی اتر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکر ہے ہمیں بھی آپ کی مسکراہٹ کا شرف حاصل ہوا کزن صاحبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہزیب نے بیحد شرارتی انداز میں اس کے سامنے سر خم کرتے ہوئے کہا تو سب ہنس دئیے اور سوہا بری طرح نروس ہو گئی۔
اچھّا اب شروع کریں اگر تمہاری باتیں ختم ہو گئی ہوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ نے تلملا کر کہا،،، اپنے بھائی کا یہ لطف و مزاح اسے زہر سے بھی برا لگ رہا تھا۔
تم تو جل جل کر ہی خاک ہو جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی جواباً اسے گھور کر بولا تو سب اپنی مسکراہٹ دانتوں تلے دبا گئے۔ پلوشہ کو تو گویا آگ ہی لگ گئی، اس نے ماتھے پر بل ڈال کر شاہزیب کو گھورا، مگر دوسری جانب کوئی اثر نہ تھا۔
اسی اثناء میں سالک حیدر حال کمرے میں داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر سیدھے سامنے کشن سے ٹیک لگائے بیٹھی سوہا پر پڑی۔
اسے دیکھکر جہاں باقی سب پرجوش ہو اٹھے تھے وہیں سوہا کی آنکھوں و چہرے پر بھرپور ناگواری اتر آئی تھی۔ یکدم ہی اس کا دل اس ماحول سے اچاٹ ہوا تھا۔ وہ اٹھنے کے لئے پر تول ہی رہی تھی کہ علیزے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہیں بیٹھے رہنے کو کہا تو وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔ سالک حیدر کی نظروں سے اس کی یہ حرکت چپھی نہ تھی۔
وہ گہرا سانس بھرتا بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔ جبھی نازو چائے لے آئی تھی۔
عرض کیا ہے ،،، حمزہ گلہ صاف کرتا ہوا بولا تو با آواز بلندِ ارشاد کی گونج اٹھی۔
“تجھ سے ملتا ہوں تو اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں وقت کے پاؤں میں زنجیر میں ڈالوں کیسے”
واہ واہ بہت اعلیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب نے دل کھول کر داد پیش کی، پلوشہ کا بگڑا موڈ بھی سالک حیدر کو سامنے دیکھکر قدرے بہتر ہو گیا تھا جبکہ وہ ہمیشہ کی طرح اس کی موجودگی سے بے نیاز تھا۔ چائے کے سِپ لیتے سالک حیدر کی نظریں گاہے بگاہے سوہا کی جانب اٹھ رہی تھی جو چہرے پر بورنگ سا تاثر سجائے ہر طرف سے لاتعلق نظر آ رہی تھی۔
اس طرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ہیں تھوڑا ملنے جلنے کا سلسلہ تو رکھتے ہیں جو تمہارے اپنے ہوں، تم سے پیار کرتے ہوں ان کا حال کیسا ہے، کچھ پتہ تو رکھتے ہیں دوستی کے رشتے کو توڑتے نہیں ایسے روٹھے دوستوں سے بھی واسطہ تو رکھتے ہیں چھوڑ جانے والے لوٹ کے بھی آتے ہیں لوٹ کے وہ آنے کا راستہ تو رکھتے ہیں
فواد نے شعر پڑھا تو تالیوں کی گونج میں شرمانے کی ایکٹنگ کرتا ہوا جھک جھک کر داد وصول کرنے لگا۔
حیدر لالا ۔۔۔۔۔ کچھ اپنی پسند میں سے سنا دیں، اور زرا سیڈ سا ہی کلام ہو،،، آپ تو جانتے ہیں مجھے دکھی شاعری ہی پسند ہے ۔۔۔۔۔۔ حمزہ نے مصنوعی بیچارگی سے کہا۔
کیوں تمہیں کون سا دکھ لگ گیا ہے ؟ خیر تو ہے نا ؟؟ معاذ نے حمزہ کو تاڑتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ قہقہ لگا بیٹھا۔
ارے معاذ لالا میں ٹھیک ہوں، بس اپنی اپنی پسند کی بات ہے !!! اس نے کندھے اُچکاتے ہوئے کہا
اچھا بچّو !! چلو حیدر پوری کر دو اس کی فرمائش بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاذ نے سالک حیدر سے کہا تو اختیار اس کی نظریں سوہا کی جانب اٹھی تھیں،، پھر خود پر بمشکل قابو پا کر وہ سیدھا ہو بیٹھا۔ اور اپنی گھمبیر آواز میں شعر کی شروعات کی جبکہ سوہا کے چہرے کے زاوئیے مزید بگڑ چکے تھے۔
کوئی دیوار ہے نہ در سائیں ہم فقیروں کا کیا ہے گھر سائیں آبلے پڑ چکے ہیں پیروں میں ختم ہوتا نہیں سفر سائیں اپنے صدمے سے مار دیتا ہے عشق ملتا نہیں اگر سائیں تجھ کو بھولیں تو کس طرح بھولیں زور چلتا ہے عشق پر سائیں ؟ تجھ کو چاہا نہیں خدا کی قسم تجھ کو پوجا ہے عمر بھر سائیں ایک بھٹکے ہوئے مسافر کو اور رہنا ہے دربدر سائیں
واہ واہ !!! کمال کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عمدہ، بہترین کلام بیشک ،،،، سب دل کھول کر داد پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔
نوازش !!! ہلکا سا سر خم کرتے ہوئے اس نے ایک نظر سوہا پر ڈالی، جس کے ہر انداز سے اس کیلئے نفرت و بیگانہ پن چھلک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ مگر جو بھی تھا اس کو اپنے سامنے بیٹھا دیکھکر سالک حیدر کی جلتی آنکھوں میں آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی تھی۔
اس کے بعد معاذ اور زونیہ نے بھی اپنا اپنا شعر سنایا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا علیزے کو کمرے میں جانے کا بتانے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔ علیزے کا ابھی اور بھی اس محفل سے لطف اندوز ہونے کا موڈ تھا۔ سو وہ سر ہلا گئی۔ سوہا جانتی تھی یہ سب بہت دیر تک چلنے والا ہے۔ لیکن اسے سالک حیدر کی موجودگی سے وحشت ہو رہی تھی
سوہا مراد ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد اپنے کمرے کے دروازے کے قریب جوں ہی پہنچی، اپنے پیچھے سالک حیدر کی آواز سن کر اس کے قدم وہیں تھم گئے مگر وہ پلٹی نہیں تھی ۔۔۔۔۔ چہرے پر اس شخص کے لئے نفرت کا تاثر کچھ اور بھی گہرا ہو گیا تھا۔
کچھ زیادہ ہی بیقراری نہیں ہے تمہیں شہر جانے کی ؟؟ سوچنا بھی مت یہاں سے جانے کا ۔۔۔۔۔۔۔ آئی سمجھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! سالک حیدر نے چھبتے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ سلگ کر اس کی جانب پلٹی اور تیر کی سی تیزی سے اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی۔
تم ہوتے کون ہو مجھ پر اپنا حکم صادر کرنے والے،، کس حق سے تم مجھے یہ حُکم دے رہے ہو ؟؟ واضح رہے کہ “اب” میں تمہارے حکم کی تابع نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے میں مجبور تھی اور میری مجبوری کا تم نے دل کھول کر فاعدہ اٹھایا ۔۔۔۔۔۔ تم اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں اب بھی تمہارے حکم کی غلام ہوں ۔۔۔۔۔ انڈرسٹینڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔
اوہ !!! تو مطلب تمام جُملٓہ حقوق اپنے نام کروا کر یہ حُکم دے سکتا ہوں ؟؟؟ دونوں جیبوں میں ہاتھ وہ ایک ابرو اُچکاتے ہوئے بولا جبکہ مقابل کھڑا وجود اس کی نفرت سے پور پور بھیگا ہوا تھا،،، اس کی ان زومعنی باتوں پر وقت دینے کیلئے مقابل کے پاس وقت نہیں تھا۔
تمہیں پتہ ہے سالک حیدر،، میں نے اپنی زندگی میں اتنی نفرت کبھی کسی سے نہیں کی جتنی تم سے کی ہے، اور کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابلِ نفرت ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ایک گھٹیا انسان ہو ۔۔۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غصّے سے پھنکارتے ہوئے بولی تو وہ کچھ بھی کہے بنا بس اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا تھا۔ وہ غصّے سے بل کھاتی جانے کے لئے پلٹی ،،،
مجھے جو کہنا ہے میں کہہ چکا ہوں سوہا مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شہر سے تمہاری کتابیں لا دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو طے ہے کہ اب تم نے یہیں رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ متانت بھرے لہجے میں بولا جب کی آنکھوں کی سرخی میں دم بہ دم اضافہ ہو رہا تھا۔
یہ میری زندگی ہے،، اسے کیسے گزارنا ہے اور کہاں گزارنا ہے یہ میرا دردِ سر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم کون ہو بولو ؟ ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ان باتوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے سمجھے تم !!! وہ چِلّا کر بولی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس شخص کا گلہ دبا دے
کون ہوں میں !!! بہت جلد پتہ چل جائے گا تمہیں ،،، یو ڈونٹ وری ۔۔۔۔۔۔۔ وہ گہری اور زومعنی نظروں سے اسے دیکھتا پلٹ گیا ۔۔۔۔۔ جبکہ وہ سلگتے ہوئے دل و دماغ کیساتھ کمرے کا دروازہ زور سے بند کر کے واش روم میں آ گئی۔ منہ پر دو چار چھینٹے مارتے ہوئے اپنی غصّے سے بے ترتیب سانسیں درست کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
جاری ہے
