No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
راہِ ہستی میں کسی موڑ پہ ملنے والے
پھر کسی موڑ پہ ویسے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کچھ دیر سب کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ فریش ہونے کی غرض سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ خانم کے کہنے پر شکوارں منہ بناتی ہوئی سوہا کو اپنا اور اس کا مشترکہ کمرہ دکھانے کے لئے اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
راہداری کی طرف مڑتے ہوئے شکوارں نے اِدھر اُدھر محتاط نگاہوں سے دیکھا، اور آس پاس کسی کو موجود نہ پا کر تسلی آمیز انداز پہ دونوں کمر پر اپنے ہاتھوں کو رکھتی کینہ توز نظروں سے سوہا کو دیکھنے لگی۔ سوہا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
او بی بی، میری ایک بات نہ اپنے پلّو سے باندھ لیو، تجھ سے پہلے میں خانم کی ملازمہ تھی،،، خاص ملازمہ،،، تونے اگر بھولے سے بھی میری جگہ لینی کی کوشش کی تو تجھے چھڈوں گی نہیں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکوارں ناک سکوڑتے ہوئے غصّے سے بولی تو سوہا ایک گہرا سانس بھرتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی۔
تم فکر نہ کرو، میں نے کون سا یہاں عمر بھر رہنا ہے،،، اب چلیں؛؛؛ اس کے کہنے پر شکوارں الجھ سی گئی۔
کی مطبل ہونہہ ؟؟؟ تو کیا تو کہیں اور نوکری کے لئے جائے گی؟ اس نے سوال کیا۔
کوئی مطلب نہیں ۔۔۔۔۔ سوہا نے دھیمے سے کہا تو شکوارں سر جھٹکتی ہوئی اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی آگے بڑھ گئی۔
وہ ایک درمیانہ سائز کمرہ تھا جو کہ حویلی سے الگ انیکسی میں تھا۔ انہیں حویلی سے یہاں تک کا سفر طے کرنے میں بھی تقریباً دس منٹ کا وقت درکار تھا۔ کمرہ صاف ستھرا اور چیزیں سلیقے سے اپنی جگہوں پر رکھی ہوئی تھیں۔
یہ تیرا اور میرا کمرہ ہے، تیرا سامان کدھر ہے مطبل، تیرے جوڑے وغیرہ،،، شکوارں کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
میرے پاس کپڑے نہیں ہیں، میں یہاں صرف ایک ہی لباس میں آئی ہوں، جو تم میرے جسم پر دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہوئے بستر پر بیٹھ گئی۔
چل ٹھیک ہے خانم سے بات کر لیو تو جوڑوں کے لئے، انتظام ہو جائے گا،،، فلحال یہ میرا جوڑا ہے پہن لیو؛؛؛ اور جلدی سے اپنا کام ختم کر کے حویلی آ، بہت کام ہے، حویلی میں شادی ہے؛ جلدی کر !!!
شکوارں جلدبازی میں بولتی کمرے سے نکل گئی تو وہ اس کے اُس معمولی سے جوڑے کو اٹھاتی ہوئی کمرے سے ملحق چھوٹے سے واش روم میں چلی گئی۔
**************
وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو حال کمرے سے اشعر، ابراہیم و یوسف وغیرہ کی آوازیں سن کر وہیں چلا آیا۔
اوئے ہوئے حیدر لالا ،،،،، عیسیٰ کی پرجوش آواز پر سب ہی مسکراتے ہوئے اس کی جانب بڑھے۔
باری باری سب سے گلے ملنے کے بعد وہ وہیں صوفے پر براجمان ہو گیا۔
یار مجھے تو لگا تو میری شادی کے دن آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاذ نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
ارادہ تو میرا یہی تھا لالا،،، پر آپ پر ترس آ گیا تو زرا پہلے ہی آ گیا ۔۔۔۔۔ اس نے شرارت آمیز لہجے میں کہا تو معاذ اسے گھور کر رہ گیا۔
تجھ سے اور امیّد بھی کیا کی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف خان نے ٹکڑا دینا ضروری سمجھا۔
بالکل، بالکل،،، حیدر نے اسی انداز میں سر ہلایا۔
حیدر لالا، سنا ہے آپ شہر سے ایک عدد ملازمہ بھی ساتھ لائے ہیں،،، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ نہایت حسین ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاذل خان اس سے پوچھتا اس کے مقابل آ کر بیٹھ گیا۔
پتہ نہیں؛ میں نے اس کے حُسن پر اتنا غور نہیں فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لفظ “حُسن” پر زور دیتا چبا چبا کر بولا۔ اس لڑکی کا زکر ہی اسے طیش دلا گیا تھا۔
نِگّو !!!! اس نے ملازمہ کو آواز دی تو وہ دوڑتی ہوئی حاضر ہوئی۔ ویسے تو یہاں ملازمین سب سے ہی بہت ڈرتے تھے لیکین سالک حیدر خان سے تو وہ حد سے زیادہ خوف کھاتے تھے۔ اس کے جاہ و جلال سے صرف حویلی والے ہی نہیں پورا گاؤں واقف تھا۔
جی صاحب !!! وہ حواس باختہ سی بولی۔
میرے لئے ایک کپ اسٹرانگ سی کافی لاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے کہتا وہ ان سب کی طرف متوجہ ہوا۔
حیدر یار، اب تو بھی شادی کر لے مانا کہ تیرے بعد ابھی یوسف لالا رہتے ہیں لیکین کوئی ممانعت تو نہیں ہے نا !!! شاہزیب کے شرارت سے کہنے پر اس نے تند نظروں سے اسے گھورا۔
بکواس بند کرو،،، مجھے ان سب فضولیات کا کوئی شوق نہیں،،، مجھے بتاؤ بابا سائیں وغیرہ آ گئے ہیں کیا؟ کدھر ہیں وہ؟ وہ غصّے سے کہتا آٹھ کھڑا ہوا۔ سب ہی ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ لئے چہرہ جھکا گئے۔ وہ جانتے تھے کہ اس موضوع سے ہی اسے الرجی تھی۔
وہ مردان خانے میں ہیں، یوسف نے جواب دیا تو وہ سر ہلاتا حال کمرے سے باہر نکل گیا۔
تو کبھی نہیں سدھرے گا یار ! تو کیوں میرا حق مارنے کی کوشش کر رہا ہے،،، معاذ کے بعد میرا نمبر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف نے مصنوعی انداز میں بیچاری سی شکل بنا کر شاہزیب سے کہا تو سب ہی ہنس دئیے۔
نِگّو کافی میری آج کی تاریخ میں مل جائے گی؟ وہ غصّے سے بولتا ہوا باورچی خانے میں داخل ہوا تو سامنے ہی اسے دیکھکر غصّے کا گراف کچھ اور بھی اونچا ہو گیا۔
ج، جی سائیں، بس ہو گئ یہ لیں،،،،،، وہ بوکھلاتی ہوئی اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑاتے ہوئے بولی۔
ٹھیک ہے تم جاؤ !!! اس نے کافی کا ایک سِپ لیتے ہوئے نِگّو کو باہر جانے کا حکم دیا جبکہ نظریں ہنوز سوہا پر جمی ہوئی تھیں۔
نِگّو کے باہر جاتے ہی وہ کافی کا مگ سلیب پر رکھتے ہوئے جارحانہ انداز میں سوہا کا بازو اپنے ہاتھوں میں دبوچ کر اسے اپنے سامنے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ حق دق سی اسے دیکھنے لگی۔
محترمہ سوہا مراد ، یہ ہرگز مت بھولنا کہ تمہیں یہاں کس مقصد کے تحت لایا ہوں میں ، میں نہیں چاہتا کہ میرا حکم نا مان کر تم بار بار مجھے میری تذلیل یاد دلاؤ،، کیونکہ اگر ایسا کچھ ہوا تو جو ہوگا سہہ نہیں سکوگی۔ تمہیں صرف اور صرف یہاں اپنا بدلہ پورا کرنے کے لئے لایا ہوں اور تمہیں تمہاری اوقات و حدود میں رہنے کی تعلیم بھی دوں گا جو کہ تمہارے لئے مفید ثابت ہوگی۔
بِی جان نے اگر تمہیں اپنی خاص ملازمہ بنا لیا ہے تو کسی خوش فہمی میں جینے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے اپنی اوقات مت بھولنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غراتا ہوا بولا آنکھیں تو گویا انگارے برسا رہی تھیں ۔اس کی سانسوں کی تپش سوہا کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی۔
اور اگر میں آپ کا یہ حکم نہ مانوں تو یہاں آپ میرے ساتھ کونسا ظلم کریں گے محترم؟؟ سوہا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے مضبوط لہجے میں ہوچھا تو اس کے سوال پر سالک حیدر نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا نتیجتاً وہ پیچھے سلیب سے جا ٹکرائی۔
اوہ تو چیونٹی کے بھی پر نکل آئے ہیں،،، امیزنگ ؟ وہ استہزائیہ انداز میں بولا،،،،سوہا خود کو سنبھالتی دو قدم آگے بڑھ ائی۔
مسٹر سالک حیدر،،، مجھے حالات نے وقتی طور پر شکستہ کر دیا ہے، میں یہاں وہ بھی کرنے پر مجبور ہوں جو میں نہیں کرنا چاہتی،،، لیکِن فکر مت کرو،،، تمہارا مکروہ چہرہ بھی سب کو دکھاؤں گی اور یہاں سے نکل بھی جاؤں گی۔ سنا تم نے،،، میں خانم کو اعتماد میں لے کر سب کچھ بتانے والی ہوں اس شادی کے ہنگامے کو ختم ہونے کے بعد ۔۔۔۔۔۔ مجھے اچھی طرح پتہ ہے وہ میری مدد کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے طیش دلانے والے انداز میں پر یقین سی بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر سالک کی آنکھوں کی سرخی میں کچھ اور بھی اضافہ ہو گیا۔
اوہ !!! تو یہ خوش فہمیاں پال کے بیٹھی ہو تم ؟ سب کچھ بتانا تو ساتھ ہی یہ بھی بتانا کہ تم نے ان کے لاڈلے پوتے کو ہزار لوگوں کے مجمعے میں تھپّڑ مارا تھا۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ کون تمہاری مدد کرتا ہے سوہا مراد، تم نے بی جان کی ابھی ایک سائیڈ دیکھی ہے۔ اتنا اپنے ذہن میں بٹھا لو کہ وہ بہرحال ساتھ میرا ہی دیں گی، رہی بات بابا خان و دادا سائیں کی تو یہ اہم خبر ان کو پہنچانے کے بعد ان سے کسی بھی قسم کے رحم کی امیّد مت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لفظ لفظ پر زور دیتا ہوا بولا تو سوہا نے نفرت سے رخ دوسری جانب موڑ لیا۔
تم نے محض ابھی ٹریلر دیکھا ہے مطلب، کچھ بھی نہیں دیکھا ،،،، جس جگہ تم موجود ہو اس وقت؛؛؛ یہاں لوگوں کی زبان پر میرے ظلم کے قصّے مشہور ہیں۔ میرے سامنے زبان چلا کر مجھے مجبور مت کرو کہ مجھے دوسری زبان میں تمہیں اپنی بات سمجھانی پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ آنکھوں سمیت اس کو دیکھتا وہ جنونی انداز میں بولا تو شِدّت ضبط سے سوہا کا چہرہ لال ہو گیا۔
اللّٰہ کرے تم مر جاؤ سالک حیدر،،، میری دعا ہے تم تڑپ تڑپ کر مرو اور میں تمہاری بے بسی کا تماشا دیکھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نفرت آمیز لہجے میں بولی۔
فکر مت کرو، مر جاؤں گا لیکن تمہیں مارنے کے بعد،،،، افسوس میری بے بسی کا تماشہ دیکھنے کے لئے تم موجود نہیں ہوگی !!! سوہا کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔
وہ سلیب سے کافی کا مگ اٹھاتا باورچی کھانے سے نکل گیا اور باہر مردان خانے کی جانب چلا گیا۔
٫اس قدر برف پڑی ہے صدموں کی
صبر جم گیا ہے آنکھوں میں؛
**************
زونیہ کو آج شام مایوں بیٹھ جانا تھا۔ سوہا کو بھی بی جان نے کئی ضروری کام سونپے تھے ساتھ ہی اس کے کہنے پر اس کے روز مرہ کے پہننے والے کپڑے بھی فراہم کئے تھے۔ اس نے ان کپڑوں میں سے ایک کپڑا پہن لیا جو کہ بی جان نے اسے مایوں کی مناسبت سے دئیے تھے۔
دادا سائیں لاڈلے پوتے کی آمد پر بہت خوش تھے۔بابا خان اور چچا سائیں بھی نہایت گرمجوشی سے اس سے ملے وہ سب سے ملاقاتوں کے بعد تھوڑی دیر کے لئے ڈیرے کی جانب چلا گیا۔
گاؤں میں کسی کی جرت نہ تھی کہ لعل حویلی کی سمت نظریں اٹھا کے بھی دیکھ سکے۔ان کا ہی جرگہ بیٹھتا تھا ان کے ہی فیصلے چلتے تھے۔ لیکن مہروز خان سائیں (دادا سائیں) انصاف پسند شخص تھے اس وجہ سے ان کے گاؤں میں ان کو بہت پسند بھی کیا جاتا تھا، سوائے چودہری ہاشم کے خاندان کے،،، وہ مخالف پارٹی کے لوگ تھے ان کا مقصد جرگے کی سربراہی اپنے سر لینا تھا لیکن اس کے لئے انہیں گاؤں والوں کی حمایت درکار تھی جو کہ ناممکن تھی۔ وہ حویلی کے لوگوں کے ازلی دشمن تھے کیونکہ جس شملے کو اپنے سر پر لینے کی انہیں طلب تھی وہ لعل حویلی کے قبضے میں تھا۔
************
حویلی میں بہت رونق لگی ہوئی تھی۔ گیتوں کی آواز رات کے سنّاٹے کو چیرتی دور دور تک گونج رہی تھی۔ ملازمین اِدھر سے اُدھر بھاگ دوڑ میں مصروف تھے۔ لڑکیاں اپنی گہما گہمی میں تھیں۔ کچھ بھی تھا، پر ایسی روایات ایسا شغل میلہ سوہا نے اپنی اب تک کی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ حقیقتاً دل ہی دل میں ان سب سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
سوہا دھیئے اِتھے آ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کی آواز پر وہ پان میں کسیلی کا ٹکڑا رکھتی ہوئی پان لے کر ان کے تخت کے پاس چلی آئی۔
یہ لیں خانم !!! اس نے پان بی جان کی طرف بڑھایا اور ساتھ ہی کام پوچھا۔
جیتی رہ، زرا رخسار کو بلا کا ۔۔۔۔۔۔ بی جان پان منہ میں رکھتے ہوئے بولیں۔
جی اچھّا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سر ہلاتی ہوئی رخسار بیگم کو بلانے چل دی تو وہ آتی دکھائی دیں۔
بیگم صاحبہ،،، آپ کو خانم بلا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے انہیں خانم کا پیغام پہنچایا تو وہ سر ہلاتی ہوئی برآمدے کی جانب آئیں جہاں خانم ان ہی کے انتظار میں تھیں۔
خانم، آپ نے بلایا ؟ رخسار بیگم نے پوچھا۔
ہاں رخسار، زونیہ کے مایوں کے سوٹ کے ساتھ دوپٹّہ نہیں ہے، تم نے دوپٹے پر موتیے کا کام بنوانے کا کہا تھا تو شاید دوپٹہ تمہارے پاس ہی رہ گیا۔ کدھر رکھا ہے اوپر کمرے میں ہے کیا ؟ انہوں نے دوپٹے کی بابت پوچھا اسی اثناء میں نادیہ بیگم بھی وہیں چلی آئیں۔
رکیں کسی کو بھیجتی ہوں لانے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسار بیگم عجلت میں کہتی مڑیں
بھابھی بیگم،،، سوہا کو بھیج دیں نا لا دے گی !!! نادیہ بیگم نے کہا۔
ہاں بات سنو،،، اوپر داہنے سائیڈ والے پہلے کمرے میں چلی جانا ٹیبل پر ایک پیلے رنگ کا دوپٹہ پڑا ہو گا وہ لے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسار بیگم نے سوہا کو سمت بتائی تو وہ سر ہلاتی اوپری سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آئی اوپری حِصّہ بھی کافی وسیع و عریض تھا۔ وہ تھوڑا اور دیکھنے کی خواہش میں آگے بڑھ ائی۔ تبھی اس کے کانوں میں مانوس سی موسیقی کی آواز گونجی۔
مریضِ محبّت انہیں کا فسانہ
سناتا رہا دم نکلتے نکلتے،
مگر زِکرِ شامِ الم جب بھی آیا
چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
یہ تو اس کی پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ایک تھی۔ لیکین آواز کہاں سے آ رہی تھی اسے اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا۔ اوپر سے اس جانب کسی کے آ جانے کا خوف بھی لاحق تھا۔ یہاں تو اس قدر لوگ تھے کہ کوئی بھی کسی بھی پل آ سکتا تھا۔
وہ دھیرے دھیرے آواز کے تعاقب میں چلتی ایک کمرے کے دروازے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔ کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔ اس نے دروازہ تھوڑا سا اور کھول کر اندر جھانکا تو اندر کوئی بھی موجود نہ تھا۔ وسیع و شاندار و نفاست سے بھرپور کمرہ اس میں رہنے والے کی نفاست پسند طبیعت کی نشاندہی کر رہا تھا۔ موسیقی کی آواز بھی اسی کمرے سے آ رہی تھی۔
وہ ابھی جائزہ لینے میں ہی مصروف تھی کہ اس کی نظر دیوار پر آراستہ فریم نما تصویروں پر پڑیں۔ تصویر میں موجود شخص پر نظر پڑتے ہی سوہا کے حواس بری طرح مختل ہو گئے۔ جبھی اسے اپنے پیچھے آہٹ کا گمان ہوا،،، اس نے چونک کر رخ موڑا تو اس کی سانسیں اوپر کی اوپر رہ گئیں۔ سالک حیدر تولیئے سے بال رگڑتا ہوا واشروم سے باہر نکلا۔ وہ باتھ گاؤن میں موجود تھا۔ سائیڈ چئیر پر تولیہ پھینکتے ہوئے وہ جیسے ہی مڑا اپنے مقابل مگر کچھ دور کھڑی سوہا کو دیکھکر پہلے تو اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری، اور پھر ایک سیکنڈ لگا تھا اس کا پارہ ہائی ہونے میں !!!
تم ؟؟؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ وہ دہاڑتے ہوئے بولا
سوہا نے مارے خوف کے ادھ کھلے دروازے کو دیکھا،اس کی سوئے ہوئے مُردوں کو بھی جگا دینے والی آواز پر سب نے ہی یہاں آ جانا تھا۔
وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور اسے کندھوں سے سختی سے پکڑ کر دیوار سے لگا دیا۔ موسیقی کی آواز ابھی بھی کمرے میں گونج رہی تھی۔
میں پوچھ رہا ہوں، تم میرے کمرے میں کیوں موجود ہو سوہا مراد؟ ایک ہی بار پوچھتا ہوں،،، جواب نہ دینے کی صورت میں زبان بھی کاٹ سکتا ہوں۔ اب بولو؟ وہ بھینچے ہوئے لہجے میں بولا۔
ہلکی سی نمی لئے اس کی پیشانی پر بکھرے بال، اور اپنے مغرورانہ نقوش میں جاہ و جلال سمیٹے وہ انتہا سے زیادہ جاذب نظر لگ رہا تھا۔
سوہا نے پل بھر کو اسے دیکھا اور نظریں پھیرتے ہوئے اپنے شانوں پر جمے اس کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔
یو باسٹرڈ !!! تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں میں، کیا سماعت سے محروم ہو گئی ہو؟ وہ شیر کی مانند غراتے ہوئے بولا۔
وہ مم میں دو دوپٹّہ لینے آئی تھی اوپر،،، خانم نے کہا تھا،،، مم بھول کر اس کمرے میں آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اٹکتے ہوئے کہا تو سالک نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ گرتے گرتے بچی۔
دفع ہو ،،، آئی سیڈ گو !!! وہ انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتا اتنی زور سے چیخا کہ سوہا کو لگا وہ بیہوش ہو کر یہیں گر پڑے گی۔ وہ تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے کمرے سے نکلی تو اپنے پیچھے دروازے کے بند ہونے کی دھماکے دار آواز پر اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
وہ بنا پیچھے دیکھے سرپٹ دوڑتی ہوئی رخسار بیگم کے کمرے کی جانب آئی اور جیسے ہی ان کے کمرے کا دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا اپنے پیچھے نسوانی آواز سن کر ساکن رہ گئی۔
بات سنو !!! تم حیدر سائیں کے کمرے میں کیا کر رہی تھی ہاں ؟ اس نے پلٹ کر دیکھا وہ جو کوئی بھی تھی بہت خوبصورت تھی لیکن اس کی آنکھوں میں سوہا کے لئے حقارت کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ غصّے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ شاید اسے سالک کے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
جاری ہے
