No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
سر فیاض دونوں ہتھیلی پیشانی پر ٹکاے پریشان حال میں بیٹھے تھے ۔ آہٹ پر سیدھے ہوتے ہوے اس کی جانب نظریں کی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ وہ اریشہ کے ساتھ خاصی سست روی سے سامنے رکھی چییر پر بیٹھ گئی ۔ انہوں نے چند لمحے اسے کڑی نظروں سے گھورتے ہوے گویا غراتے ہوے پوچھا ۔
مس سوہا کیا میں پوچھ سکتا ہوں کی آپ کے ہوش و حواس سلامت ہیں ؟ سوہا نے زرا کی زرا نظریں اٹھا کر خاصے تحمل سے جواب دیا ۔
سر غلطی میری نہیں تھی ۔
سر فیاض نے آبرو اچکا کر دوبارہ سوال کیا ! آپ کو اندازہ ہے کی یہ کیا کیا ہے آپ نے ؟ وہ ہمارے بہت خاص مہمان تھے آپ نے آج یہ بدتمیزی کر کے کیا ثابت کرنا چاہا ہے ؟ کیا آپ یہ بتانا چاہتی ہیں کی لوگوں کو آپ بہت بہادور ہیں ؟ انہوں غصے میں پوچھا ۔
سر بدتمیزی میں نے نہیں ان مسٹر نے کی ہے ۔ سوہا نے جھکتے ہوے سر کے ساتھ جواب دیا ۔
سر فیاض نے گویا اسے تہمینی انداز میں باور کرایا ۔ اگر آپ کے ساتھ آگے کچھ بھی برا ہوا تو میں پہلے ہی کلیر کر دینا چاہتا ہوں کی اس کی زمیدار میں نہیں ہونگا اس کی زمیدار آپ خود ہونگی ۔ اور ایک بات اگر ایسی کویی بات ہوئی تو آپ کو اسی روز یونیورسٹی سے خارج کر دیا جاے گا ۔ اب آپ جا سکتی ہیں ۔ انہوں نے چند لمحے میں بات ختم کر دی اور جانے کا اشارہ کر دیا ۔ وہ اریشہ کے ساتھ مرے مرے قدموں سے باہر نکلی اور راہداری کے بینچ پر جا کر کر بیٹھ گئی ۔ اریشہ نے تسلی آمیز انداز میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا ۔ تو اس نے بہت بیچارگی کے عالم میں اریشہ کی جانب دیکھا ۔
یار ایک مصیبت ختم نہیں ہوتی دوسری آ جاتی ہے میری زندگی میں وہ کمینہ ہے کون ؟ جسے سر اس قدر اہمیت دے رہیں ہیں ۔ وہ بے زاری سے غصے بھرے انداز میں بولی ۔
میں خود بھی سوچ رہی ہو تمہیں اس جیسے شخص کے ساتھ منھ نہیں لگنا چاہیے تھا ۔خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتی نا ۔ اب پتہ نہیں وہ کیا کرے گا سر کی باتوں سے تو یہی لگ رہا ہے وہ کویئ بہت بڑا آدمی ہے ۔
اریشہ کی باتوں پر وہ زور سے ہنس دی اور بولی ۔تم بھی نا ایسا کچھ نہیں ہے ۔میں تو سر کی باتوں پہ تھوڑا پریشان ہو گئی ہوں وگرنہ سچ کہوں تو مجھے اس پاگل انسان کی کوئی فکر نہیں ۔ہونہہ ۔وہ ناک چڑھاتے ہوے بولی ۔
اریشہ نے اس کی طرف دیکھ کر ٹھہر ٹھہر کر کہا ۔سر کی باتوں سے تم اس لیے پریشان ہو کیوں کی کہیں نہ کہیں تمہیں بھی اندازہ ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ اس کی باتوں پر سوہا مراد چپ رہ گئی ۔
کھوتے ہوے دماغ کے ساتھ وہ فارم کے اندر داخل ہوا ۔اپنے روم میں آ کر وہ بیڈ پر جوتوں سمیت گر پڑا اس کا دماغ اس قدر سلگ رہا تھا کی دل چاہ رہا تھا دنیا کی ہر شے کو آگ لگا دے سلگتے ہوے دماغ کے ساتھ اس نے سگریٹ سلگایا اور کش لینے لگا ۔سگریٹ ختم کر کے اس نے دوسری سلگایی اور انٹر کام کے ذریعہ گارڈ کو اندر آنے کا حکم نامہ جاری کیا ۔
گارڈ اجازت لے کر اندر داخل ہوا تو اس نے سگریٹ پیروں تلے مسل کر اس کی جانب اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر دیکھا ۔ اور کہا ۔ اس لڑکی کے متعلق مجھے A to Z انفارمیشبن چاہیے دو دن کے اندر دو دن مطلب دو دن ۔اب جا سکتے ہو ۔ گارڈ سر کو اشارے میں ہلاتے ہوے باہر نکل گیا ۔ وہ سلگتے ہوے دماغ کے ساتھ بیڈ پر واپس ڈھے گیا ۔
وہ یونی کے گیٹ سے نکلی تو اسے اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی ۔ اس نے اطراف میں دیکھا تو اسے کوئی نظر نہیں آیا ۔ وہ اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکتے ہوے وین کی جانب چلی آئی ۔ آج اریشہ اس کے ساتھ نہیں تھی ۔ کسی وجہ سے آج اس نے چھٹی لی تھی ۔وہ اکیلی آج جی بھر کے بور ہوئی تھی ۔ وہ گھر کے گیٹ پر اتری تو جیسے ہی گیٹ کھولنے کے لیےہاتھ بڑھایا پھر اسی احساس نے اسے گھیر لیا ۔اسنے پیچھے مڑ کر چاروں طرف نظرویں دوڑایں تو یکا یک اس کی نظر اس کے کچھ فاصلے پر نیم کے درخت کے نیچے کھڑے دو موٹے شخص پرپڑی تھی وہ کالے لباس میں تھے اور اپنی لال آنکھیں اس پر گاڑے کھڑے تھے ۔ ایک عجیب سا ڈر اسے اپنے شکنجے میں جکڑنے لگا وہ جلدی سے گیٹ کھول کر اندر داخل ہوئی اور اندر سے گیٹ لاک کر دیا ۔
وہ تمام رات ایک پل کی نیند نہیں سو سکا تھا اس کا دماغ اس قدر ماوف ہو رہا تھا کی اس کا کسی سے بات کرنے کا دل بھی نہیں چاہ رہا تھا ۔ عدنان کی کئی کال پر بھی اس نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔ حویلی سے بی جان کی کال الگ ۔امیّ کی کال الگ بابا جان کی الگ لیکن اس نے کسی سے بھی بات نہیں کی ۔ فون بھی بج بج کر چپ ہو گیا تھا ۔ اسے معلوم تھا سب پریشان ہو رہیں ہونگے ناشتہ کر کے اس نے کال بیک کا سوچا آج اس کا یونی جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
دوسرے روز بھی وہ کالج کے لئے اکیلے روانہ ہوئی ۔آج بھی اریشہ اس کے ساتھ نہیں تھی ۔ وہ امّی کو خدا حافظ کرتی ہوئی تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی وین میں جا کر بیٹھ گئی ۔ بیٹھنے کے بعد جیسے ہی وہ سیدھی ہونے کو مڑی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔ وہی دونوں آدمی جو کل اسے گھور رہے تھے وہ وین کی سیٹ پر براجمان تھے ۔آگے شاید ڈرایور بیٹھا ہوا تھا ۔اس سے پہلے کی وہ کچھ سمجھتی ایک نے رومال اس کی ناک پر رکھ ڈالا ۔اس کے بعد اس کا ذہن اندھیرے میں ڈوب گیا ۔
اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک وسیع و عریض کمرے میں پایا ۔ وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی کچھ دیر وہ خالی خالی نظروں سے چھت کو گھورتی رہی پھر یکا یک جیسے ہوش میں آ گئی ۔اسے اب سمجھ میں آ رہا تھا کی وہ کیڈنیپ ہوئی ہے ۔ لیکن کون کرے گا ایسا اور کیوں ؟؟ اس کا ذہن اس وقت کام نہیں کر رہا تھا ۔وہ دوڑتی ہوئی دروازے کی جانب آئی ۔ اور اسے پیٹ ڈالا مگر دروازہ لاک تھا ۔وہ زور زور سے رونے لگی ۔
پلیز دروازہ کھولو کون ہو تم مجھے کیوں کیڈنیپ کیا ہے ۔دروازہ کھولو پلیز !! اس کی آہ و بکا کو وہاں شاید سننے والا کوئی نہیں تھا ۔ وہ تھکی ہاری انداز میں وہیں دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔ اور بے آواز رونے لگی ۔ وہ ایک شاندار کمرہ تھا جس کی ایک ایک شے گھر کے مالک کی نفاست جھلکا رہی تھی ۔ وہ لرزتے قدموں کے ساتھ چلتے ہوے کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی ۔ جہاں سے پیچھے لان کا منظر صاف طور پر دکھائی دے رہا تھا ۔ بڑا سا سویمنگ پول اور اس کے اطراف میں سفید دودھیا رنگ کے کبوتر لان کی خوبصورتی میں بے حد اضافے کا سبب بن رہے تھے ۔۔ وہ کچھ دہر کھڑی رہی پھر جیسے ہی پلٹنے کے لئے رخ موڑا تو اسے دروازے کا لاک کھلنے کی آواز آئی وہ اندر آنے والے دراز قد و قامت شخص کو کمرے کی نیم روشنی کی وجہ سے صاف نہیں دیکھ سکی تھی ۔
وہ اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا ۔اس نے سرسراتی آواز میں پوچھا کون ہو تم ؟ اسے ایک فلک شگاف قہقہے کی آواز سنائی دی ۔ تمہاری یادداشت اتنی گئی گزری ہے کی تم مجھ جیسے ہیرے کو بھول گئی ۔ حیرت ہے !!
سوہا کا دماغ میں گویا جھماکا ہوا اسی وقت کمرہ روشنی میں نہا گیا وہ اب کھلی آنکھوں سے صاف سامنے کھڑے شخص کو دیکھ سکتی تھی ۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی ۔ جس کے چہرے پر فتح کے زور کے آثار صاف نظر آ رہے تھے ۔ وہ استہزایہ نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا ۔ نفرت اس کی آنکھوں میں صاف نظر آ رہی تھی ۔
پہچانا مجھے یہ اپنا تعارف بھی اپنے انداز میں کروانا پڑے گا ۔ ؟؟ وہ غراتے ہوے اسے کاندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوے بولا ۔
سوہا مراد کو اس وقت اندازہ ہو رہا تھا کی جس غلطی کو اس نے دھول میں اڑانا چاہا تھا آج وہ ایک غلطی ایک بھیانک روپ میں اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
تمہیں کہا تھا میں نے نہ مجھ سے پنگا لے کر تم اچھا نہیں کیا اب میں تمہیں بتاوں گا کی مجھ سے بدتمیزی کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے ۔ تمہاری زندگی جہنم بن جاے گی آج کی تاریخ سے اس دن بہت اکڑ رہی تھی نہ تم معافی نہیں مانگوں گی ۔وہ ایک بار زور سے ہنسا اور مزاق اڑانے والے انداز میں بولا ۔
اب تم روز معافی مانگو تو نہ تمہیں معافی ملے گی اور نہ رہائی ۔ آئی سمجھ ؟
اس کے دونوں گالوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے جکڑتے ہوے کہا ۔
جھٹکا اتنا شدید تھا کی وہ دوبارہ بہوش ہو کر اس کی باہنوں میں جھول گئی ؟
سالک نے ایک نفرت بھری نظر اس کے خوبصورت سراپے پر ڈالی اور اسے بیڈ پر پٹک کر دروازہ لاک کر کے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ۔ آج وہ بہت پرسکون نیند سونے والا تھا اس کا مشن جو پورا ہو گیا تھا ۔
جاری ہے
