No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
زندگی اسی رفتار سے رواں دواں تھی،،، وہ سنجیدہ طبیعت کا مالک تو پہلے بھی تھا مگر اب اس کے مزاج میں تھوڑا چڑچڑاپن بھی در آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ بستر پر لیٹے لیٹے وہ خود سے بھی بیزار ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر سوہا نے ہمت نہیں ہاری تھی ۔۔۔۔۔ اس نے اس کی خدمت و تیمارداری میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے فریش ہونے سے لے کر اس کے کھانے پینے و دوائیوں کا وہ ہر لحاظ سے بھرپور خیال رکھ رہی تھی، بستر پر مسلسل لیٹے رہنے کے باوجود سالک حیدر کی نفاست پسند طبیعت میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔
وہ جتنا بیزار تھا وہ اتنے ہی سکون سے بنا ماتھے پر شکن لائے اس کے کام کرتی تھی،، وہ جانتی تھی یہ بیزاری، و جھنجھلاہٹ اس سے نہیں، بلکہ اس حالات سے تھی جس سے وہ گزر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہ اپنی اس حالت سے سمجھوتہ نہیں کر پا رہا تھا۔ ایسی حالت میں اس کا اس طرح کا ردِعمل فطری سی بات تھی۔
وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں ہی گزارتی تھی، نیچے کا چکّر بھی وہ کسی نہایت ضروری کام سے ہی لگاتی تھی یا اگر بی جان، اسماء بیگم و مراد صاحب کے پاس کچھ وقت گزارنے کا دل کرتا تو وہ نیچے چلی جاتی، وگرنہ اس کے شب و روز سالک حیدر خان کے ہی ہو کر رہ گئے تھے۔ اس نے لائبریری روم سے چند ایک کتابیں بھی اپنے کمرے میں لا کر سالک حیدر کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیں،،، تاکہ وہ انہیں پڑھ کر اپنا موڈ کچھ بحال کر سکے۔
بعض اوقات وہ خاموشی سے اسے کمرے میں اس کے کام کے سلسلے میں ادھر سے ادھر چلتا پھرتا اسے بغور دیکھتا رہتا تھا ۔۔۔۔۔۔ یا رات میں جب وہ بیڈ کے نزدیک چئیر پر بیٹھی بیٹھی گہری نیند کی وادیوں میں اتر جاتی تو، وہ اس کے معصوم و بے ریا چہرے کو یک ٹک دیکھتے ہوئے اپنے دل کے صحرا میں ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار گرتے محسوس کرتا تھا۔
معاذ وغیرہ کے سہارے وہ نیچے اتر کر ان کی مدد سے اپنی ایکسرسائز بھی کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے فرق اتنا ہوا تھا کہ اس کا دایاں ہاتھ و پاؤں اب تھوڑا بہت حرکت کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں اب زندگی کی رمق محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ دائیں پاؤں کے تھوڑا بہت حرکت کرنے کی وجہ سے وہ آہستہ ہی سہی،، پر وہ ایکسرسائز کرتے ہوئے کچھ دیر خود سے ہی چلنے کی کوشش کرتا تھا،،،، اور یہ حویلی والوں کے لئے بہت خوش آئند بات تھی۔
زندگی میں کسی ایسے شخص کا ہونا بہت ضروری ہے،، جو اپنی محبّت و توجہ سے آپ کو زندگی کی حقیقی خوشیوں سے روشناس کرائے،،، آپ زندگی کے کسی موڑ پر دل برداشتہ یا غمگین ہوں تو وہ اپنے عمل کے ذریعے آپ کو اس تکلیف دہ احساس سے باہر نکالنے کی کوششیں کرے،،، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، تبدیلی زندگی کا اہم جزو ہے اور لازم بھی ۔۔۔۔۔۔،،، لیکن زندگی کے پرسوز و بے رنگ دنوں میں بھی اگر کوئی اپنی زندگی کے تمام تر رنگوں سے آپ کی زندگی کو خوش رنگ بنانے کی کوشش کرے تو اس سے بڑی خوش نصیبی شاید ہی کوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیشک !!!!
*****************
چوہدری ہاشم و چوہدری وجاہت اپنے آمیوں سمیت گاؤں سے فرار تھے۔ لیکن ان کے ایک دو بندے انہوں نے گاؤں کے حالات معلوم کر کے انہیں مخبری کرنے کیلئے گاؤں میں ہی چھوڑ رکھے تھے۔ وہ دونوں یہ کام نہایت چوری چھپے سر انجام دے رہے تھے۔ سالک حیدر خان کے ہسپتال سے گھر آنے کے بعد انہوں نے جب چوہدری ہاشم کو اس کے زندہ بچ جانے کی اطلاع دی تو وہ اپنی شکست پر جیسے پاگل ہو اٹھا تھا، اور اب وہ کوئی نیا منصوبہ بنا رہا تھا۔ مہروز خان کے آدمی دن رات ان کی تلاش میں سرگرداں تھے،، چونکہ وہ گاؤں کی حدود سے باہر تھے اس لئے بآسانی ان کا سراغ لگانا مشکل تھا۔
چوہدری ہاشم گاؤں کی حدود سے کچھ دور سنسان و ویران جگہ جہاں دور دور تک بنجر زمین کے سوا کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا، چوہدری وجاہت و اپنے آدمیوں کیساتھ بیٹھا شکار کر کے مارے ہوئے جانور کا گوشت بھونتے ہوئے آگ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا باپ و ساتھی بھی آگ کے اطراف میں بیٹھے ہوئے تھے۔
میں نے ایک منصوبہ سوچا ہے بابا جان،، جس سے سالک حیدر خود چل کر ہمارے پاس آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا بدلہ ادھورا رہ جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اتنی گولیوں کے بعد بھی وہ بچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔،،، ماننا پڑے گا بڑی اونچی قسمت لکھوا کے لایا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ اب تو اسے اس دنیا کو خیرآباد کہنا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دانت پیستے ہوئے پاس پڑی لکڑی کو آگ میں ڈالتے ہوئے بولا
ہاشم، مہروز خان کے آدمی ہماری تلاش میں بھوکے شیر کی مانند گھوم رہے ہیں، کیا کرنے والے ہو تم ہاں ؟؟ تم کوئی ایسا قدم اٹھاؤ گے تو انہیں ہمارے ٹھکانے کا خودبخود پتہ لگ جائے گا ۔۔۔۔۔۔ بات کو سمجھو ۔۔۔۔۔۔ چوہدری وجاہت نے بیٹے کی کم عقلی پر ماتم کرتے ہوئے کہا۔
بتاتا ہوں کیا کرنے والا ہوں،،، پتہ لگتا ہے تو لگتا رہے،، مجھے ہر صورت سالک حیدر کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کیلئے مجھے اس کی بیوی کو اغوا کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھے پکّا یقین ہے کہ اپنی بیوی کی خاطر وہ خود چل کر یہاں تک آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا پلان بتایا تو وہ سب دنگ رہ گئے۔
کیا ؟؟؟ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ اس کی بیوی کہاں ملے گی ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔ تم کوئی ڈھنگ کا منصوبہ نہیں بنا سکتے تو رہنے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری وجاہت دانت کچکچاتے ہوئے بولا
بابا جان،، ایک تو آپ کی بزدلی نہیں جاتی،، مجھے دیکھیں میں کتنا بہادر ہوں،،، جب اس کام پر عمل کر کے دکھاؤں گا نہ تو آپ سب میری ذہانت پر داد دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دانت نکوستے ہوئے پستی کی نچلی سطح پر تھا۔
خیر چوہدری صاحب، بزدل تو ہم سب ہی ہیں،، جبھی مقابلہ کرنے کی بجائے چھپ کر گاؤں سے کوسوں دور بیٹھے ہوئے ہیں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ایک آدمی نے ہمت کر کے دل کی بات بیان کی تو چوہدری ہاشم آنکھیں نکال کر کھا جانے والی نظروں سے اسے بری طرح گھورنے لگا۔
بکواس بند،، ورنہ اسی آگ میں تجھے جھونک دونگا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جھپٹ کر اس کی گردن دباتے ہوئے بولا تو وہ خوف زدہ ہوتے بری طرح کھانسنے لگا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر اسی طرح اس کی گردن کو اپنی گرفت میں جکڑے رہنے کے بعد جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے چوہدری ہاشم نے چوہدری وجاہت کی سمت دیکھا جو پرسوچ انداز میں آگ سے نکلتی چنگاریوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا آدمی کھانس کھانس کر بیحال ہونے کے بعد اب چپ چاپ بیٹھا خود کو کبھی منہ نہ کھولنے کی سرزنش کر رہا تھا۔
جبھی چوہدری ہاشم نے اپنا فون اٹھا گاؤں میں موجود اپنے دو آدمیوں میں سے ایک کا نمبر ملایا۔
ہاں چوہدری ہاشم بول رہا ہوں،،، میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری محبوبہ یاسمین ہے نا،، اس سے ایک نہایت ضروری کام لو میرا ۔۔۔۔۔۔۔ ترکیب میں بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ کام آج شام تک ہو جانا چائیے سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری جانب سے کال ریسیو ہوتے ہی وہ شروع ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
پوری بات اپنے آدمی کو سمجھانے کے بعد اس نے فون رکھتے ہوئے مکروہ سی ہنسی کیساتھ چوہدری وجاہت کو دیکھا تو وہ بھی کچھ پرسکون ہوتے ہوئے بھنا ہوا گوشت کھانے لگا تھا۔
*****************
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ پرندے اپنے آشیانوں کی جانب لوٹ رہے تھے،، ٹھنڈی و پرنم ہوائیں چہرے کو چھوتی عجیب سا سرور بخش رہی تھیں۔ سوہا کمرے میں داخل ہوئی تو بیڈ پر لیٹے سالک حیدر نے آہٹ پر اس کی سمت دیکھا جبکہ اس نے آگے بڑھکر تمام کھڑکیوں پر گرے پردے اٹھاتے ہوئے کھڑکیاں کھول دی تھیں ۔۔۔۔۔۔ اور چلتی ہوئی بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آ بیٹھی اور سالک حیدر کو دیکھا جو اسے ہی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ !!
موسم اچھا ہو رہا ہے نا تو اس لئے کھولیں، تا کہ تم فریش فریش سا فیل کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ بولی جبکہ وہ اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں لو دیتا تاثر تھا۔ نارنجی کلر کے شرارے میں دوپٹہ ایک کندھے پر رکھے،، دوسرے کندھے پر آگے رکھی اس کے لمبے و ریشمی بالوں کی ایک طرز کی موٹی و برابر کی چوٹی، جس کی لٹیں ہمیشہ کی طرح چہرے کے اطراف میں جھول رہی تھیں۔ حویلی کے روایتی لُک میں وہ اس قدر دلکش لگ رہی تھی کہ سالک حیدر کی نظریں اس کے چہرے سے ہٹنے کو انکاری تھیں۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟؟ وہ اس کی نظروں سے نروس سی ہوتی بولی، چہرہ سرخ سا ہو گیا تھا،،، سالک حیدر کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مگر ہلکی سی مسکراہٹ نے اپنی جھلک دکھائی تھی۔
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلا گیا تاہم نظریں ابھی بھی اس کے چہرے پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔
کسی بھی موڑ پر زرا ٹھہرو،،،، میری حالت سنبھل جائے تو پھر جانا دلِ بیتاب تھوڑا سا بہل جائے، تو پھر جانا ابھی تو فرقتوں کے سحر سے نکلا نہیں ہوں میں تمہارے وصل کا جادو یہ چل جائے تو پھر جانا برا نہ گر لگے تو سامنے بیٹھی رہو یونہی تیرا چہرہ بصارت میں جو ڈھل جائے تو پھر جانا کئی صدیوں رہا ہوں کرب کے اس زرد موسم میں سنو یہ درد کا موسم بدل جائے تو پھر جانا جمی ہیں دھڑکنیں تو منجمد ہیں ساری سانسیں بھی بدن میں زندگی تھوڑی مچل جائے تو پھر جانا ابھی مت جاؤ کہ جکڑا ہوا ہے درد نے مجھ کو یہ میرے درد کا لوہا پگھل جائے تو پھر جانا میرے دل میں ابھی جینے کی پھر خواہش سی جاگی ہے یہ ننھی سی تمنّا پھول پھل جائے تو پھر جانا
ممم میں سر دبا دیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گڑبڑا کر کہتی زرا سا آگے کو سرک آئی اور اپنا لرزتا ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا تو یکایک اس نے اپنا سر تکئے سے اٹھا کر اس کی گود میں رکھ لیا ۔۔۔۔۔ وہ کچھ پل کیلئے ساکت سی رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ جبکہ سالک حیدر نے آنکھیں بند کر لیں تھیں،، بمشکل خود کو سنبھال کر اس نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے اس کا سر دبانا شروع کیا تھا۔ چہرے کی رنگت دم بہ دم گہری سرخی میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی۔
کچھ دیر اس کا سر دباتے رہنے کے بعد اس نے زرا سا جھک کر اس کی بند آنکھوں کو دیکھا تو احساس ہوا کہ وہ نیند میں چلا گیا ہے،،، اس نے احتیاط سے اس کا سر اپنی گود سے اٹھاتے ہوئے تکئے پر رکھا ۔۔۔۔۔ اور بیڈ سے اتر کر دوسری سائیڈ پر آئی، اس کے اوپر لحاف ڈالتی کمرے کی تمام کھلی کھڑکیاں و دروازہ بند کرتے نیچے اتر آئی تھی۔
میرے لفظوں سے نکل جائے اثر کوئی خواہش جو تیرے بعد کروں ****************
وہ سیڑھیوں سے اترتی برآمدے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ نازو (ملازمہ) نے اسے آواز دی، وہ تھمتے ہوئے اس کی جانب متوجّہ ہوئی۔
سوہا بی بی،، آپ کو پچھلے باغ کے دروازے پر ایک عورت بلا رہی ہے جی ،،، ہ کہہ رہی ہے کہ مجھے حیدر سائیں کی بیوی سے ہی کوئی ضروری کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نازو ہانپتی ہوئی بولی تو وہ بری طرح الجھ گئی۔
مجھ سے ؟؟ اس نے انگلی سے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔ کون ہو سکتا تھا،، وہ تو آس پاس کے لوگوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی تھی،،، سوائے پھپھیوں کی فیملی کے ۔۔۔۔۔ !!!
ہاں جی آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نازو نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
تم ان سے پوچھو کیا کام ہے ؟؟ کچھ سوچتے ہوئے اس نے نازو کو کہا
نا جی ۔۔۔۔۔ میں نے پوچھا تھا لیکن وہ کہہ رہی ہے کہ اسے آپ سے ہی کام ہے ۔۔۔۔۔ دو منٹ کیلئے آپ اس کی بات سن لیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ عورت حجاب میں ہے،، چہرہ نہیں دیکھا میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نازو نے ہاتھ نچاتے ہوئے تفصیل بتائی۔
ٹھیک ہے میں دیکھ لیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ الجھتی ہوئی باغ کی سمت چل دی۔ یہاں تک کا راستہ بھی طے کرنے میں تقریباً پندرہ منٹ کا وقفہ درکار تھا۔ وہ باغ میں پہنچ کر اس کے پچھلے دروازے کی سمت بڑھی ۔۔۔۔۔۔ اور دروازہ زرا سا کھول کر دیکھا تو سامنے ایک عورت حجاب میں کھڑی تھی۔
نازو نے بتایا کہ آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جی فرمائیں ۔۔۔۔۔۔ اس کا لہجہ ابھی بھی الجھن آمیز ہی تھا۔ جبھی دروازے کے پیچھے کھڑی عورت نے جھٹکے سے دروازہ پورا کھولتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کھینچ لیا،، اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی و چیختی اس کی ناک پر رومال رکھ کر اسے بیہوش کر دیا گیا۔ ساتھ ہی اسے گھسیٹتے ہوئے کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑی میں اسے ڈال کر وہ عورت دونوں ہاتھ جھاڑتی دوسری جانب مڑ گئی۔ جبکہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے دو آدمیوں میں سے ایک نے گاڑی بھگانے کے انداز میں وہاں سے نکالی تھی۔
*****************
اسے ہوش آیا تو وہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں زمین پر پڑی ہوئی تھی،، اس کا سر بے تحاشہ بھاری ہو رہا تھا۔ گھومتے ہوئے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اٹھی اور جوں ہی سر اٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے سامنے مونچھوں کو تاؤ دیتے کھڑے مسکراتے شخص پر نظر پڑتے ہی اس کا وجود ساکت و آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ اور بھی آدمی کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
اس کے زہن میں یکایک جھماکہ ہوا، یہ تو وہی شخص تھا جس کی مڈبھیڑ سالک حیدر خان سے گاؤں واپسی پر ہوئی تھی، اور اسی شخص نے تو سالک حیدر پر گولیاں چلوائی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علم میں یہ بات بھی تھی۔
ت تم ؟؟؟ کیوں لائے ہو مجھے یہاں ۔۔۔۔۔۔۔ کس مقصد کے تحت مجھے یہاں لائے ہو تم ؟؟ اس کی سمجھ میں پورا معاملہ آ گیا تھا،، وہ اپنے پھٹتے سر کو سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی اور ہراساں سی ہوتی چلا کر بولی
اوئے چپ !!! ویسے سالک حیدر خان کی بیوی ہے نا تو،، اور یقیناً اس کی کمزوری بھی ہوگی جبھی تو تیرے سے نکاح کر لیا اس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑا مزہ آنے والا ہے جب وہ تیرے لئے تڑپتا ہوا ادھر آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شیطانی قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تو اس کے ساتھ کھڑے آدمی بھی زور سے ہنس دئیے تھے۔
ک،،،،کیا، کیا کرنے والے ہو تم لوگ اس کیساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا بول رہے ہو تم گھٹیا انسان، میں تمہارا منہ نوچ لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تڑپ کر ہذیانی انداز میں چیختے چوہدری ہاشم پر جھپٹی تھی کہ اس نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا وہ لڑھکتے ہوئے پیچھے کی جانب گری تھی۔
آہ !!! تکلیف کی شِدّت سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ جھٹکے سے اٹھتے ہوئے چوہدری ہاشم کا کالر پکڑ لیا تھا۔
تم نے اگر اس کیساتھ کچھ بھی مزید غلط کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا بچو گے نہیں تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں عبرتناک سزا ملے گی، بیہودہ انسان ۔۔۔۔۔۔ وہ غم و غصّے سے پھٹی آواز میں چلائی تو ایک اور زوردار تھپڑ نے اسے واپس زمین پر گرنے پر مجبور کر دیا۔ چوہدری ہاشم نے دانت کچکچاتے ہوئے جارحانہ انداز میں اسے بالوں سے پکڑا تو وہ درد و کراہیت کے احساس سمیت بلبلا اٹھی۔
کون دیگا عبرتناک سزا مجھے ،، تمہارا شوہر ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ آج تو وہ نہیں بچے گا، اس کا خاتمہ آج یقینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بال جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے وہ اٹھا تو وہ شِدّت سے رو دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے اس نے نفرت سے اسے اور اپنے آس پاس کھڑے اور آدمیوں کو دیکھا جو اسی شیطانی مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھ رہے تھے۔ اس نے بے اختیار اپنا دوپٹہ درست کیا ۔۔۔۔۔۔ آنے والے وقت کے متعلق سوچتے ہوئے ہی اس کی سانسیں رکنے لگی تھیں۔
یا اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے اپنی حفظ و امان میں رکھنا ۔۔۔۔۔۔ میری مدد فرما میرے اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر رحم کر میرے مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ چوہدری ہاشم اب کسی کو فون ملانے لگا تھا۔
*****************
مہروز خان مردان خانے سے اٹھ کر حویلی کے اندر بڑھے،، ان کے اندر داخل ہوتے ہی لینڈ لائن فون بج اٹھا تھا۔ انہوں نے آگے بڑھکر فون اٹھا لیا۔
ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم بول رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے فون اٹھاتے ہی دوسری جانب سے سنائی دینے والی آواز پر پہلے تو وہ بے یقین ہوئے دوسرے ہی لمحے ان کا خون کھول اٹھا۔
چوہدری ہاشم تم ۔۔۔۔۔۔۔ کہاں چھپ کے بیٹھ گئے ہو تم بزدل انسان ۔۔۔۔۔۔ فکر نہ رہو ہمارے آدمی تمہاری ہی تلاش میں ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بار تم ہاتھ لگ جاؤ اس کے بعد تمہیں ایسی سزا دینگے کہ تاقیامت یاد رکھو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان غراتے ہوئے بولے۔
ہاہاہاہا سب چھوڑو مہروز خان ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے پوتے سالک حیدر خان کی بیوی میرے پاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اسے اغوا کر لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ دانت نکوستے ہوئے بولا تو مہروز خان کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے محسوس ہوئے۔
کیا ۔۔۔۔۔ کیا کہا تم نے ؟؟؟ سوہا تمہارے پاس ہے ۔۔۔۔۔ لیکن کیسے ؟؟ وہ دہاڑتے ہوئے بولے تو ان کی آواز سن کر دھیرے دھیرے سب ان کے پاس جمع ہونے لگے تھے۔
سالک حیدر خان سے بولو، اگر اپنی بیوی کی زندگی چاہتا ہے تو خود چل کر آئے اور اسے بچا لے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف سے چوہدری ہاشم کی خباثت بھری آواز سن کر جاہ و جلال سے مہروز خان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
تم اب اپنی خیر مناؤ چوہدری ہاشم ۔۔۔۔۔۔ یہ تم نے اچھّا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اگر سوہا کو کچھ ہوا تو ہم تمہیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غصّے سے تھرکتے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب حیرت سے پاس کھڑے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سالک حیدر کی آنکھ کھلی تو اس نے کمرے میں ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔۔۔۔ سوہا کمرے میں موجود نہ تھی، وہ بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا کہ یکایک اسے مہروز خان کی اونچی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔۔ وہ حیرت کی زیادتی سے ایک ہاتھ کے سہارے سے اٹھ بیٹھا،، اور بمشکل پاؤں نیچے کرتے بیڈ پر ایک ہاتھ رکھتے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے دروازے تک پہنچا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔ سیڑھیوں تک پہنچتے ہوئے اس نے مہروز خان کی بات سمجھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔ وہ آخر اتنی اونچی اواز میں کس پر چلا رہے تھے۔
مہروز خان نے فون پٹک کر غصّے سے سرخ چہرے کے ساتھ چند گہرے سانس لئے ۔۔۔۔۔۔ ان کا دماغ دہک رہا تھا۔
کیا ہوا سائیں ؟؟ چوہدری ہاشم کیا کہہ رہا تھا بتائیں؟؟ کدھر ہے وہ ؟؟ آپ سوہا کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے ؟؟؟ بی جان نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا تو سیڑھیوں پر کھڑا سالک حیدر سوہا کے نام پر بری طرح چونک اٹھا
اس بیغیرت چوہدری ہاشم کا فون تھا،، اس نے کہا ہے کہ سوہا اس کے پاس ہے،، جگہ بھی بتائی ہے اس نے ۔۔۔۔۔۔ اس کی زندگی چاہتے ہو تو سالک حیدر کو میرے پاس بھیجو ۔۔۔۔۔۔ کب گئی سوہا باہر ۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ میں سے کسی نے نہیں دیکھا اسے ؟؟؟ وہ غصّے سے بارود ہوتے چلا کر بولے جبکہ سالک حیدر کا گرم خون تو جیسے کنپٹیوں میں ٹھوکریں مارنے لگا تھا۔ بی جان سمیت سب کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ بی جان نے روتے کلیجے پر ہاتھ رکھ لیا۔ اسماء بیگم بھی بے آواز رونے لگی تھیں۔ سب ہی اپنی اپنی جگہ پریشان کھڑے تھے۔
یا اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ کچھ کریں سائیں ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں میری بچی کس حال میں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان اونچی آواز میں روتے ہوئے بولیں۔ اسماء بیگم تو صدمے سے نڈھال ہی ہو گئی تھی۔
س،، سائیں،، وہ نا ایک عورت باغ کے پچھلے دروازے پر نقاب میں آئی تھی اور سوہا بی بی سے ملنے کا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے ہی آ کر پیغام دیا تھا جی سوہا بی بی کو تو وہ باغ میں گئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ نازو نے بے حد خوف زدہ ہوتے پوری بات بتائی۔
تونے یہ بات مجھے کیوں نہیں بتائی نازو ؟ بی جان اسے ڈپٹتے ہوئے بولیں اور سر تھام کر بیٹھ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان کی پیشانی پر لاتعداد بل پڑ گئے تھے۔ غصّے کی شدت سے ان کی پیشانی کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ باقی سب اور بھی زیادہ فکرمند ہو گئے تھے۔
دادا سائیں،، چوہدری ہاشم نے یہ اچھا نہیں کیا،، وہ اب نہیں بچے گا دادا سائیں ۔۔۔۔۔۔ اس کی اتنی جرت،،،، میں اس کا خون پی جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بمشکل سیڑھیاں اترتے سالک حیدر نے دہاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔ غیض و غضب سے اس کا تنفس بے ترتیب سا تھا۔ چہرے کا رنگ خطرناک حد تک سرخ ہو گیا تھا۔ اس نے دائیں ہاتھ کی مُٹھّی بھینچ لی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے سیڑھیاں اترتے دیکھ کر معاذ نے آگے بڑھکر باقی کی سیڑھیاں اترنے میں اس کی مدد کی
میں جاؤں گا دادا سائیں ،، اور پلیز مجھے مت روکئیے ۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم آج نہیں بچے گا ۔۔۔۔۔۔ بہت دے لی اس کو رعایت ۔۔۔۔۔ اب اور نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زخمی شیر کی مانند غراتے ہوئے بولا۔ اس کے جانے کا سن کر سب بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے۔
کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں جانے کی حیدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان نے سختی سے کہا۔ عبّاس خان بھی اس کی حالت کے پیشِ نظر اسے کے وہاں جانے کا سن کر سخت تشویش زدہ ہو گئے تھے۔
نہیں حیدر کسی صورت نہیں،، تو اپنی حالت دیکھ،، تو کیسے جائے گا ۔۔۔۔۔۔ معاذ وغیرہ جائیں گے لیکن تو نہیں جا سکتا ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان تیزی سے اٹھ کر اس کے قریب آتی اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر ملتجیانہ انداز میں بولیں تو رخسار بیگم نے بھی ان کی تائید کی۔ لیکن وہ سالک حیدر تھا ۔۔۔۔۔ اپنی ضد کا پکّا اور اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹنے والا انسان،،
نہیں دادا سائیں،، مجھے سوہا کو ہر صورت وہاں سے لانا ہی ہے ۔۔۔۔۔ اور میں ہی جاؤں گا ۔۔۔۔۔ مزید دیر نہیں کر سکتا میں ۔۔۔۔۔۔ مجھے جانا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ فکر نہ کریں ان سب کو آپ تک پہنچانے میں مجھے کچھ آدمیوں کی ضرورت تو پڑے گی سو لے کر جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جلتے دل و دماغ کیساتھ مہروز خان سے کہا اور باہر کی جانب قدم بڑھائے،، لیکن مہروز خان سمیت سب کی تسلّی ابھی بھی نہ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بائیں پیر کے سہارے چلتا اور دایاں پیر جو کہ اب زرا حرکت کرنے کے قابل تھا اسے گھسیٹتا گاڑی میں آ بیٹھا ۔۔۔۔۔ مہروز خان نے ڈرائیور کو چوہدری ہاشم کی فون پر بتائی جگہ بتائی۔ ڈرائیور کے نشست سنبھالنے پر فوری طور پر اسے گاڑی آگے بڑھانے کو کہا ۔۔۔۔ پیچھے اس کے آدمیوں کی گاڑیاں موجود تھیں۔
گاڑیاں گیٹ سے نکلنے کے بعد مہروز خان نے معاذ و یوسف وغیرہ کو بھی اس کے پیچھے جانے کا حکم دیا تو وہ فوراً حکم کی تعمیل کرتے گاڑی لے کر حویلی سے باہر نکل گئے۔
******************
چوہدری ہاشم نے فون کاٹ کر سوہا کو دیکھا تو وہ جو اسے روتے ہوئے نفرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے رونے میں مزید شِدّت آ گئی ہے۔
آئے ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا رستہ نکالا ہے میں نے اپنا بدلہ لینے کا ۔۔۔۔۔۔۔ کیا دماغ پایا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھنا بابا جان سالک حیدر اپنی جان کو بچانے خود آئے گا ۔۔۔۔۔۔ وہ وجاہت چوہدری سے کہتا قہقہہ لگا کر ہنس پڑا جبکہ وجاہت چوہدری اب تھوڑا فکرمند نظر آنے لگا تھا۔ خوف کے مارے سوہا کا دل تھمنے لگا۔
تونے غلطی کی ہے ہاشم،، وہ اپنے آدمیوں کیساتھ آ رہا ہو گا ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہم میں سے کوئی نہیں بچے گا ۔۔۔۔۔۔ تو نے ہماری شامت کو خود آواز دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری وجاہت فکرمندی سے کہتا ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا
ارے بابا جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے آدمی بھی تو موجود ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بزدلی کو پرے کر کے زرا عقل سے کام لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے چوہدری وجاہت سے استہزائیہ انداز میں کہا اور اپنے آدمیوں کی جانب دیکھا جو کافی سہمے ہوئے لگ رہے تھے۔
اوئے !!! تم لوگوں کو کیا ہوا ۔۔۔۔۔ یہ منہ کیوں لٹکا رکھا ہے ؟؟ وہ غصّے سے چلاتے ہوئے بولا
ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا اب ۔۔۔۔۔۔ یہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ معافی،، چوہدری جی لیکن ہم آپ کا ساتھ نہیں دے سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ایک آدمی نے خوف سے تھرتھراتے ہوئے کہا تو چوہدری ہاشم کی آنکھیں غصّے سے ابل اٹھیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا وہ سب ہی برق رفتاری سے بھاگتے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ چوہدری وجاہت و چوہدری ہاشم نے ان کے پیچھے دوڑ لگا دی مگر وہ گاڑی کیساتھ فرار ہو گئے تھے۔
آآآآآ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غدار کہیں کے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کو تو میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم چِلّا اٹھا تھا ،،، ملک وجاہت کچھ اور بھی بوکھلا اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کے ہونٹوں پر ایک استہزائیہ مسکان آ گئی۔
تقریباً آدھے گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد گاڑیاں چوہدری ہاشم کے بتائے ہوئے ٹھکانے کے قریب اتری تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک سنسان علاقہ تھا ۔۔۔۔۔ اندر جانے کیلئے ایک لمبی گلی تھی ،،، اس گلی سے نکلنے کے بعد ایک چٹیل میدان تھا ۔۔۔۔۔۔ گاڑیاں گلی کے راستے سے ہوتے ہوئے میدان میں آ رکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر گاڑی کا دروازہ کھول کر اترا۔
سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی اونچی آواز اس ویران جگہ پر گونج اٹھی تھی۔ وہ جو رونے میں مصروف تھی سالک حیدر کی آواز پر برق رفتاری سے اٹھ کھڑی ہوئی،، اور بھاگتے ہوئے جوں ہی جھونپڑی سے نکلی،، چوہدری ہاشم نے جھپٹ کر اسے پکڑتے ہوئے اس کی کنپٹی پر ریوالور رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ خوف کی شِدّت سے وہ چیخ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ چیخوں کی آواز پر سالک حیدر بمشکل تیز قدم اٹھانے کی کوشش کرتا اپنے آدمیوں کے ہمراہ جھونپڑی کے بالکل سامنے آ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا خون جیسے ابل اٹھا تھا۔
چوہدری ہاشم، چھوڑ دو اسے، اگر اسے کچھ ہوا تو بہت برا ہو جائے گا !!!! اس کی آنکھوں میں گویا خون اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔ آواز میں شیر کی سی غراہٹ اتر آئی تھی ۔۔۔۔۔۔ سوہا اسے بیساختہ ہی روتی چلی گئی تھی۔
چوہدری وجاہت بھاگنے کی کوشش میں تھا کہ سالک کے کچھ آدمیوں نے اس کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی اثناء میں معاذ و یوسف بھی پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گاڑی سے اتر کر بھاگتے ہوئے اس جانب آئے تھے۔
اوہ شہزادے ،، تمہارے اندر اتنی ہمت ہے کہ تم مجھے مار سکو،،، کوئی آگے مت بڑھنا ورنہ سب مارے جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم للکارنے والے انداز میں بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔ معاذ نے باقی بندوں کو اشارہ کیا تو انہوں نے چوہدری ہاشم کے پشت پر جا کر کمال مہارت سے ریوالور اچک لیا تھا،، اور اسے اپنی گرفت میں جکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو جیسے پاگل ہو اٹھا تھا۔
سوہا !!! سالک حیدر نے اسے دیکھتے بیتابی سے پکارا
سوہا نے سامنے کھڑے سالک حیدر کو دیکھا تھا،، وہ اس حالت میں صرف اس کیلئے یہاں تک آیا تھا،، وہ سہی معنوں میں آج اس کی محبّت کے آگے اپنا سب کچھ ہار گئی تھی۔ پچھلے ڈیڑھ مہینوں میں وہ جس ادھیڑ بن کا شکار رہی تھی اس کی ڈور بالآخر آج اس کے ہاتھوں میں آ ہی گئی تھی۔
حیدر !!! اس کے لبوں سے یہ نام ٹوٹ کر بکھرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سالک حیدر کو دیکھتی اس کی آنکھیں پھر سے پانیوں سے بھر گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے ساختہ دوڑتی ہوئی اس کے سینے سے آ لگی،، اور بے تحاشہ رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے جیسے سکون کا گہرا سانس لیتے اس کے بالوں پہ لب رکھ دیئے تھے۔ معاذ اور یوسف بھی اسے ٹھیک دیکھکر پرسکون ہو گئے تھے۔
کچھ دیر اسے اسی طرح اپنے ساتھ لگائے وہ کھڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اس کے گرد حصار باندھے اس سے لگی سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اس کا سرخ چہرہ دیکھا تو بے تحاشہ سرخ آنکھوں سے سامنے کھڑے ہاشم چوہدری کو دیکھا تھا جو اس کے آدمیوں کی گرفت میں جھٹپٹا رہا تھا یہی حال چوہدری وجاہت کا بھی تھا
وہ چلتا ہوا چوہدری ہاشم کے سامنے آ کھڑا ہوا، چوہدری ہاشم دانت کچکچاتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے بائیں ہاتھ کا مُکّا اس کے چہرے پر اتنی زور سے مارا کہ وہ دہرا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ معاذ اور یوسف بھی ہاتھ باندھے کھڑے چوہدری ہاشم کی درگت بنتی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ بائیں پاؤں کی زوردار لات اس نے چوہدری ہاشم کے پیٹ پر دے ماری ساتھ ہی ایک اور زبردست پنچ اس کے منہ پر مارا تھا ۔۔۔۔۔۔ چوہدری ہاشم کا منہ خون سے بھر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے خوف کے مارے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا۔ چوہدری وجاہت بھی دانتوں پر دانت جمائے بیٹے کو زلیل ہوتے دیکھ رہا تھا۔
اس حالت میں بھی اتنی ہمت ہے کہ تمہارا منہ توڑ سکوں کُتّے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے غراتے ہوئے اس کے کالر کو پکڑ کر جھٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔ اور اپنے آدمیوں کو ان دونوں کو مہروز خان کے حوالے کرنے کا کہتا خود سوہا کیساتھ چلتا ہوا گاڑی میں آ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تو وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
ہمارے قافلے کا ہر گھڑی منظر بدلتا ہے کبھی رہزن بدلتا ہے کبھی رہبر بدلتا ہے *****************
وہ حویلی میں داخل ہوئے تو ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے سب نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان سمیت باقی مرد حضرات تو باہر مردان خانے میں ہی انتظار کر رہے تھے،، معاذ نے سب کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
سوہا نے بی جان و اسماء بیگم کی تسلّی کی تھی،، سالک حیدر تھوڑا تھک سا گیا تھا ۔۔۔۔ اسلئے مہروز خان نے شاہزیب سے کہا کہ اسے اوپر اس کے کمرے میں لے جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا کی نظریں گاہے گاہے اس پر جا رہی تھیں ۔۔۔۔
وہ اس کے لئے رات کا کھانا لے آئی ۔۔۔۔۔۔ وہ اب بھی ہلکی پھلکی ہی غذا لیتا تھا ۔۔۔۔۔ اسے کھانا اور دوائیاں کھلا کر فارغ ہونے کے بعد اس نے اسے لیٹنے میں مدد کی ساتھ ہی اس پر لحاف درست کیا اور ٹرے لئے خود نیچے چلی آئی ۔۔۔۔ خود ڈنر کر کے جب وہ کمرے میں آئی تو سالک حیدر گہری نیند کی آغوش میں تھا ۔۔۔۔۔ وہ دروازہ و کمرے کی لائٹ بند کر کے نائٹ بلب آن کرتی بیڈ پر آ بیٹھی ۔۔۔ اس کی نظریں سالک حیدر کے چہرے پر تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر اسے یوں ہی بنا پلک جھپکے دیکھنے کے بعد اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر زرا اور قریب کھسکتی بیساختہ ہی اس کے سینے پر سر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور سسکیاں لینے لگی ۔۔۔۔۔ دل بیحد گداز ہو رہا تھا۔
اس کی سسکیوں کی آواز پر سالک حیدر کی آنکھ کھل گئی تھی۔ کچھ پل ناسمجھی کی کیفیت میں وہ کمرے کی چھت کو دیکھتا رہا پھر اپنے سینے پر سر رکھے لیٹی سوہا کو سسکیاں بھرتے دیکھا۔ حیرت کی زیادتی سے اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا
سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے آواز دیتے اس کا چہرہ اوپر کیا جبکہ وہ ہنوز سوں سوں کر رہی تھی۔ سالک حیدر گہرا سانس بھرتے ہوئے اس کے گرد اپنے بائیں بازو کا حصار بنا گیا۔
میں جانتا ہوں سوہا کہ میں نے تمہیں بیحد دکھ دئیے ہیں۔ اتنے دکھ کہ جن کا ازالہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میری زندگی کے ان بدترین دنوں میں تم نے میری جس طرح خدمت کی ہے اور کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی میں اللّہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ میری آخر ایسی کون سی نیکی تھی جس کے بدلے تم مجھے ملی ہو ۔۔۔۔۔ میں کبھی کبھی تم پر ان حالات میں بھی روڈ ہوا ہوں ۔۔۔۔۔۔ میری وجہ سے تمہیں جتنی بھی تکلیفیں پہنچی ہیں ان سب کے لئے ایک بار پھر میں تم سے معافی مانگتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہو سکے تو اپنے ظرف کو وسیع کر کے مجھے معاف کر دو پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آزردہ و ندامت بھرے لہجے میں کہا
معاف تو میں نے آپ کو ڈیڑھ مہینے پہلے ہی کر دیا تھا،، مجھے آپ سے شکوہ نہیں ہے حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھیگی آواز میں بولی جبکہ وہ اندازِ تخاطب پر چونکا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ “تم” سے “آپ” کے درجے پر فائز ہو چکا تھا ۔۔۔۔ اور سالک حیدر سے “حیدر سائیں” کے درجے پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے ساختہ ایک خوبصورت مسکراہٹ سالک کے لبوں پر آ گئی تھی۔
اچھّا بتاؤ ۔۔۔۔۔۔ مجھے کیسے پتہ لگے گا کہ مجھے تم نے معاف کر دیا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اسے لو دیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو سوہا کو یکایک اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ لمحوں میں ہی سرخ ہوئی تھی ،، چہرہ حجاب آلود سا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ اس نے بیساختہ سالک حیدر کے حصار کو ہٹاتے ہوئے دور ہٹنا چاہا تو سالک حیدر نے اس کی کمر پر اپنے ہاتھوں کی گرفت مضبوط کر لی ۔۔۔۔۔۔۔۔
پ،،، پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ منمنائی تھی،، سانسیں بے ترتیب سی ہو گئی تھیں ۔۔۔۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا دل پسلیوں سے باہر نکل آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ اور دانستہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر کی پرشوق و اسحاق آمیز نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
مسز،، بتاؤ گی تو ہی پتہ لگے گا نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے تو میں نہیں چھوڑ رہا پھر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ ہونٹوں کے گوشوں میں دباتا اس کے شرمائے گھبرائے سراہے کو دیکھتا بولا،، زرا سا اٹھنے کے باعث اس کا چہرہ اس پل سالک حیدر کے چہرے کے بیحد قریب تھا، اتنا کہ ان دونوں کی ناک آپس میں مِس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ شرم سے سمٹتے ہوئے لانبی پلکوں کی باڑ جھکا گئی۔
ادھر دیکھیں ،، پھر بتاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے چہرے کا رخ دوسری جانب کرتی لرزتے لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔ شرم سے برا حال تھا،،، جبکہ وہ واپس چہرہ سیدھا کر گیا اور مسکراتی نظریں اس پر جما دیں۔ سوہا کا منہ کھل گیا تھا۔
اچھا آنکھیں بند کریں ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے نظریں جھکاتے ہوئے الوہی مسکان سمیت کہا تو وہ خمار آلود آنکھیں بند کر گیا۔ کچھ دیر تذبذب میں پڑتے ہوئے اس نے آہستگی سے اپنا چہرہ زرا سا اُچکاتے ہوئے سالک حیدر کی کشادہ پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے تھے ساتھ ہی فوراً اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔
سالک حیدر کچھ پل آنکھیں بند کئے اس کے محصور کُن لمس کو محسوس کرتا رہا
نوازش !!!! اس نے گھمبیر و جذبوں سے چور لہجے میں کہتے اس پیشانی چوم لی تھی ۔۔۔۔۔۔ سوہا جو پہلے ہی شرم سے چور چور تھی ،، بے اختیار اس کے بازو کا حصار توڑتے اس سے زرا دور سرکتے اپنے تکئے پر سر رکھ لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چہرہ حیا کی حِدّت سے دہک رہا تھا پلکیں جھکی ہوئیں جبکہ دھڑکنیں و سانسیں بے ترتیب سی تھیں۔ وہ دھڑکنوں کے بے ہنگم شور سے گھبراتی بیساختہ سالک حیدر کی جانب سے کروٹ بدل گئی تھی،، لیکن کروٹ بدلنے کے بوجود اسے اپنی پشت پر اس کی گہری و معنی خیز نگاہوں کی تپش ہنوز محسوس ہو رہی تھی۔
اس کے چہرے کے نقوش ایسے ہیں آنکھ اٹھاتا ہوں بھٹک جاتا ہوں اس کی آنکھوں سے اس کے ہونٹوں تک سفر اتنا ہے کہ تھک جاتا ہوں جاری ہے
