Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

پلوشہ کا غصّے سے برا حال تھا۔ اس کے برعکس سوہا کسی حد تک خود کو سنبھال کر اسے سپاٹ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

٫شہری ملازمہ ہو تو یہاں اپنے شہری ہونے کا رعب مت جھاڑو سمجھیں،،، جس کام کے لئے تمہیں کہا جائے بس وہی کرو؛ یوں پوری حویلی میں دندناتی مت پھِرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ناگن کی طرح بل کھاتی ہوئی پھنکاری۔

پہلی بات، مجھے کوئی شوق نہیں ہے دکھاوے کا، یہ تم ہی لوگوں کا شیوہ ہے، اور دوسری بات میں غلطی سے اُس کمرے میں چلی گئی تھی ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے “حیدر سائیں” کو دیکھنے کا اور نہ ہی ان میں کوئی دلچسپی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے متانت سے اپنی بات اس تک پہنچائی۔

اپنی حد میں رہو !!! ملازمہ ہو تو ملازمہ کی ہی طرح رہو،،، بی جان کی خاص ملازمہ ہونے کا فاعدہ مت اٹھاؤ،،، تمہیں تو میں دیکھ لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ کلستی ہوئی نیچے جانے کیلئے بڑھ گئی جبکہ،،، وہ سر جھٹکتے ہوئے رخسار بیگم کے کمرے کا دروازہ کھولتی اندر آئی؛ ٹیبل پر پڑا دوپٹّہ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

                                     ******************

زونیہ کو مایوں بٹھا دیا گیا تھا۔ وہ خوبصورت پیلے جوڑے میں موتیوں اور گجروں کا زیور پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی۔ علیزے اپنے پیارے لالا کی شادی کی خوشی میں چہکتی پھر رہی تھی۔ لڑکیوں کی تیاریاں تھیں کہ جو مکمّل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ کسی کو ہئیر اسٹائل کی پڑی تھی، کسی کو شادی کے دن خوبصورت نہ دِکھنے کا خوف لاحق تھا۔ کسی کی میچنگ چوڑیاں غائب تھیں تو کسی کا میچنگ دوپٹّہ؛؛؛ حتیٰ کہ ہر کوئی اپنی الگ ہی ٹینشن میں تھا۔

سوہا مہندی کی تھال سے ایک مہندی اٹھا کر خانم کے پاس آ گئی۔ وہ حقیقتاً بی جان سے آہستہ آہستہ مانوس ہوتی جا رہی تھی کیونکہ، وہ نہایت ہی شفیق اور مہربان خاتون تھیں۔ انہوں نے ایک دفعہ بھی سوہا سے سختی سے بات نہیں کی تھی۔
خانم ! میں آپ کی ہتھیلیوں میں گول ڈیزائن والی مہندی لگا دوں ؟ سوہا نے تخت کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔

آ،، ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان جیسے کسی گہرے خیال سے جاگتی چونک اٹھیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی آمیزش کو سوہا فانوس کی چکاچوند روشنی میں صاف طور پر دیکھ سکتی تھی۔

خانم !!! آپ رو رہی ہیں ؟ سوہا نے زرا اور قریب آتے ہوئے فکرمندانہ لہجے میں پوچھا۔

نہیں دھئیے،،، بس آنکھوں میں کچھ پڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے دوپٹے کے کونے سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا تو وہ مزید الجھ گئی کیونکہ اس نے خود انہیں روتے دیکھا تھا لیکن، ان کے مُکر جانے پر وہ چاہتے ہوئے بھی مزید اصرار نہیں کر سکتی تھی۔

ہاں تو لگا دے مینو مہندی،،، پھر تو بھی لگا لیو؛ میرے پوتے اور پوتی کی شادی ہے۔ حویلی میں خوشی کا موقع ہے۔ ہمارے یہاں سب کو حق ہے ہماری خوشیوں میں شامل ہونے کا، پھر وہ چاہے ہمارے ملازمین ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تو خود کو غیر نہ سمجھیو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے شفقت سے کہا تو وہ سر ہلاتی ان کے قریب ہی ٹک گئی۔
نہایت توجّہ سے ان کے دونوں ہاتھوں کو قدیم زمانے کی ڈیزائن سے آراستہ کیا تو بی جان نہال ہی ہو گئیں۔

بہت پیاری مہندی لگائی ہے تو نے، مجھے بہت پسند ائی۔ اب جا تو بھی لگا لے۔ جب وہ بی جان کے ہاتھوں پر مہندی مکمّل کر چکی تو انہوں نے اس کو بھی مہندی لگانے کا کہا۔ وہ کچھ جھجھک سی گئی۔

خانم ! مم کس سے ؟ رہنے دیں مہندی اتنی ضروری بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے انکار کرنا چاہا تو بی جان ایک ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں بولنے سے روکا۔
ٹھہر !!! انہوں نے قدرے فاصلے پر نمرہ کیساتھ چہکتی علیزے کو دیکھا۔
علیزے؛؛؛ علیزے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے وہیں سے اسے آواز دی تو وہ فوراً ان کے پاس آئی۔ سوہا سخت جزیز سی ہو گئی۔

جی بی جان ؟ علیزے نے پوچھا
یہ سوہا کے ہاتھوں سے مہندی پکڑ، زرا اسے بھی مہندی لگا دے؛؛؛ بچّی ہے اس کا بھی دل کرتا ہوگا۔ چل شاباش، تجھے تھوڑی بہت آتی ہے نا تو لگا دے اس کو بھی۔ تیری مہندی تو سوکھ بھی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے علیزے کو کہا تو اس نے سوہا کو دیکھا۔
پیلے سوٹ میں ملبوس، سادہ سی لمبی چوٹی جس کی لٹیں چہروں کے اطراف میں بکھری ہوئی تھیں۔ لمبی خمدار پلکوں کا خم،،، وہ نہایت دلکش و معصوم لگ رہی تھی۔ علیزے کی نظریں بھی اس پر ٹھہر سی گئیں۔

آؤ بیٹھو !!! وہ وہیں تخت کے سامنے لگے جھولے پر بیٹھ گئی تو ناچار سوہا کو بھی بیٹھنا پڑا۔

                                    *******************

حال کمرے میں کافی رونق لگی ہوئی تھی۔ چائے کیساتھ ساتھ شعر و شاعری کا دور بھی چل رہا تھا۔ نوجوان پارٹی کا جوش و خروش اپنے عروج پر تھا۔

عرض کیا ہے !!! فواد نے بلند آواز میں کہا۔
ارشاد ۔۔۔۔۔۔ سب کی مشترکہ آواز گونجی، اسی اثناء میں سالک حیدر خان بھی حال کمرے میں داخل ہوا۔

ارے سالک لالا آ گئے، اب تو محفل کا مزہ اور بھی دوبالا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ اشعر نے خوشگواری سے کہا تو سب مسکرا دئیے۔

وہ صوفے پر بیٹھا، ساتھ ہی ٹرے میں موجود چائے کا کپ اٹھا لیا اور کشن سے ٹیک لگا گیا۔

“میرے درد کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے جب اس کے بچّے مجھے ماموں کہہ کر پکارتے ہیں؛

فواد نے آہیں بھرتے ہوئے شعر پڑھا تو جہاں سب کا قہقہ گونج اٹھا وہیں لائبہ کا زوردار دھموکہ اس کے بازو پر پڑا۔

کس قدر بدذوق انسان ہو تم،،، توبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ نے تلملاتے ہوئے کہا۔
یار اس سے اچھّی شاعری کہیں سننے کو مل جائے تو میرا نام بدل دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بازو سہلاتا اسے گھور کر بولا ۔۔۔۔ اس کی باتوں پر سب زور سے ہنس پڑے تو سالک حیدر کے لبوں پر بھی دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی۔

ابراہیم تم سناؤ !!! شاہزیب نے ابراہیم سے کہا تو وہ گلا کھنکھارتا سیدھا ہو بیٹھا۔

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمّل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو میرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں میرے نام کا کاجل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر میں تو صحرا ہوں مجھے پیار کا بادل کر دو اس کے سائے میں میرے خواب مہک اٹھیں گے میرے چہرے پہ امیدوں بھرا آنچل کر دو اپنے ہونٹوں سے کوئی مہر لگاؤ مجھ پر ایک نظر پیار سے دیکھو مجھے گھائل کر دو

ابراہیم نے جذبات سے بھرپور آواز میں غزل سنائی تو سوائے سالک حیدر کے باقی سب کی اوئے ہوئے کی آوازوں پر پورا حال کمرہ گونج اٹھا۔

یہ کچھ زیادہ ہی رومینس نہیں ہو گیا پیارے ؟ سالک حیدر نے ایک ابرو اُچکاتے ہوئے ابراہیم سے پوچھا تو وہ مسکراہٹ دبا گیا۔

حیدر لالا فکر نہ کریں، وہ دن بھی دور نہیں جب آپ اپنی شادی کے بعد اس قسم کی محفلیں روز سجایا کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابراہیم نے زومعنی انداز میں کہا تو، پلوشہ بے طرح شرمانے لگی۔ ساتھ ہی دزدیدہ نگاہوں سے سالک کی طرف دیکھا جس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ وہ دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئی۔

یہ تو اب میری ضد بنتی جا رہی ہے حیدر سائیں،، آپ اگر میرے نہ ہوئے تو آپ کو کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں عہد کرتی اپنی ہی آگ میں جل رہی تھی۔
زونیہ کا معاذ سے پردہ تھا اس لئے وہ اپنے کمرے میں تھی اس کے ساتھ مائدہ بھی موجود تھی کیونکہ اسے اس قسم کی محفلوں سے کچھ خاص لگاؤ نہ تھا۔ حویلی میں باقی لڑکے جو پڑھائی یا جاب کی غرض سے باہر تھے انہیں بھی کل تک آ جانا تھا۔

اب حیدر لالا سنائیں گے، حیدر لالا پلیز ایک شعر سنا دیں،،، آپ کا ذوقِ نظر بہت اچھا ہے !!! شاذل کے کہنے پر باقی سب نے بھی اس کی تائید کی اور سالک سے اصرار کیا تو وہ جو کشن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا بالوں میں ہاتھ پھرتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا اور، گمبھیر آواز میں شروعات کی۔

میری آنکھوں کے جادو سے شاید تم ناواقف ہو جس پر مجھ کو پیار آ جائے اس کو پاگل کر دیتا ہوں چھوڑ کے مجھ کو جانے والا لوٹ کے واپس آئے گا دائیں بائیں آگ لگا کر آگے جنگل کر دیتا ہوں

واہ واہ !!! کیا بات عمدہ لاجواب !!! تالیوں نے بھرپور گونج میں سب نے دل کھول کر داد پیش کی۔

نوازش !!! سالک نے ہلکا سا سر خم کرتے ہوئے داد وصول کی اور ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔

ارے لالا ۔۔۔۔۔ کدھر چلے آپ؟؟؟ ابھی تو شروعات ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حمزہ نے اسے جاتے دیکھکر روکا

نہیں !!! اب میں چلتا ہوں، زرا بی جان سے مل لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتا ہوا حال کمرے سے باہر نکل گیا اور راہداری مڑتے ہوئے دوسری سمت بی جان کے کمرے میں چلا آیا۔ وہ بیڈ پر بیٹھی خاندانی زیورات کا باکس کھولے ہوئے تھیں۔
بی جان !!! سالک حیدر کی آواز پر دروازے کی سمت دیکھا تو لاڈلے پوتے کا چہرہ دیکھکر گویا ان کا سیروں خون بڑھ گیا۔

حیدر میرا بچّہ ،،، انہوں نے محبّت سے چور لہجے میں کہا تو وہ کھل کر مسکراتا بیڈ پر ان کے قریب بیٹھ گیا۔
زونیہ کو پہنانے کیلئے خاندانی کنگن نکال رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے زیورات کا باکس سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلاتا ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔

بی جان آپ کی یہ شفقت بھری گود میں وہاں بہت مِس کرتا ہوں، امّی جان، بابا خان، دادا سائیں، لالا ، حویلی کی رونقوں وغیرہ سب کو،،، مجھے لالا کی شادی کے بعد ایک بار اور شہر جانا ہوگا۔ پھر میں یہیں ہوں انشاء اللّٰہ،،، کچھ دن یہاں گاؤں میں گزارنے کے بعد ہی آفس جوائن کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بی جان کو تفصیلات سے آگاہ کرتا آنکھیں بند کر گیا۔
بی جان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو ان کے ہاتھوں پر لگی مہندی کی خوشبو سے سالک حیدر نے آنکھیں کھول دیں اور ساتھ ہی بی جان کے دونوں ہاتھ تھام لئے۔

واؤ اٹس سو بیوٹیفُل،،،، آپ کے ہاتھوں میں یہ مہندی بہت خوبصورت لگ رہی بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مہندی کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے ان کی دونوں ہتھیلیوں کو باری باری چوم لیا۔
کس نے لگائی ؟ وہ مہندی دیکھتا ہوا بولا۔

ارے بچّے، پہلے شکوارں لگاتی تھی لیکن آج سوہا سے لگوائی ہے۔ سچ میں بہت پیاری مہندی لگائی ہے اُس نے،،، بہت پیاری بچّی ہے،،، ماشاء اللّٰہ میں تو اس سے بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان خوشی سے بولیں تو وہ گہرا سانس بھرتے ان کے ہاتھ چھوڑ گیا۔ اور دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔

اچھیّ مہندی لگائی ہے نا ؟ بی جان نے ایک بار پھر نہال ہو کر پوچھا۔
ہممم !!! اس نے بند آنکھوں سے نا چاہتے ہوئے بھی ہنکارا بھرا۔ وہ حقیقتاً پوچھ کے پچھتایا تھا۔

خانم میری مہندی دیکھیں !!! سوہا بولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور سامنے بیڈ پر بی جان کی گود میں سر رکھے لیٹے وجود کو کو دیکھکر وہیں
سن سی کھڑی رہ گئی۔ وہ اب آنکھیں کھولے چھبتی ہوئی نظروں سے اس
کی جانب دیکھ رہا تھا۔ وہ خود پر جمی اس کی شعلہ بار نظریں محسوس کرتے بری طرح گڑبڑا گئی۔ اس کی یہاں موجودگی کا اس نے تصوّر بھی نہ کیا تھا اس لئے بنا سوچے سمجھے اندر داخل ہو گئی تھی۔

دکھا دھیئے،،، مینو اپنی مہندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کے کہنے پر وہ مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق آگے بڑھ آئی۔ وہ اس شخص کے چہرے کی طرف بنا دیکھے
ہی اس کی شعلہ بار نظریں خود پر محسوس کر سکتی تھی۔

اس نے دونوں ہتھیلیاں بی جان کے سامنے پھیلاتے ہوئے مہندی دکھائی تو بی جان خوشی سے شرسار ہو گئیں۔

ماشاءاللّہ، چشمِ بددور،،، بہت پیاری لگ رہی ہے تیرے ہاتھوں میں؛ سہی کہہ رہی ہوں نہ حیدر؟ بی جان نے دل کھول کر تعریف کرتے ہوئے سالک حیدر سے بھی تائید چاہی، بقول ان کے سوہا اس کے ساتھ شہر سے آئی تھی اس لئے وہ حویلی والوں سے پہلے اسے جانتی ہے،،، سو انہوں نے اس کی رائے لینا مناسب سمجھی۔

وہ جو اسے بری طرح سے گھورنے میں مصروف تھا، بی جان کے سوال پر جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اور گویا انگارے برساتی نگاہوں سے اسے یوں گھورا جیسے سالم کا سالم نگل جائے گا۔ اس کی پشت بی جان کے سامنے ہونے کیوجہ سے بی جان اس کے غصیلے تاثرات نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ سوہا کا دل چاہا وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ جائے۔ بی جان نے اگر مہندی دکھانے کا نہ کہا ہوتا تو وہ یہاں نہ آتی۔ اس شخص کی یہاں موجودگی سے اسے وحشت ہو رہی تھی۔

بی جان میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں، اب آپ بھی ریسٹ کریں، انکو کہتا ایک بار پھر اسے گھورتی نظروں سے دیکھتا گویا دانت پیستا کمرے سے باہر نکل گیا۔

یہ بھی نا !!! ابھی تو اچھا بھلا باتیں کر رہا تھا ،،، خیر بڑی سوہنی مہندی لگی ہے،،، جا اب تو بھی آرام کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے حیرت سے سر جھٹکتے ہوئے سوہا سے کہا تو وہ سر ہلاتی انیکسی کی طرف چل دی۔
حویلی میں رونقوں کا گراف ابھی بھی اتنا ہی اونچا تھا۔ چونکہ وہ بی جان کی خاص ملازمہ تھی اس لئے اس کے سارے کام ان تک ہی محدود تھے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو شکوارں دنیا و مافیہا سے بے خبر خراٹّے لے رہی تھی۔ وہ بھی تھکے تھکے انداز میں بستر پر لیٹ گئ اور نظریں چھت پر ٹکا دیں

اپنے والدین کے متعلق سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ آنکھوں کے کونوں سے آنسو نکل کر بالوں میں ہی کہیں جذب ہو گئے تھے۔ وہ جانے کس حال میں ہونگے،، اس کے بعد ان پر کیا گزری ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچتے ہوئے وہ اذیت کی انتہا پر پہنچتی آنکھیں بند کر گئی۔

“سالک حیدر خان، تم ایسی موت مرو اور ایسی جگہ مرو جہاں تمہیں ایک گھونٹ پانی بھی نہ میسّر ہو،،، انشاء اللّٰہ وہ دن ضرور آئے گا جب میں سرخرو ہونگی اور تم اتنی اذیت میں ہوگے جس کا کوئی حساب نہیں،،، تمہاری نفرت سے کئی گنا زیادہ نفرت میں تم سے کرتی ہوں؛؛؛ تم ہر کسی کے محتاج ہو جاؤ گے، پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ “مکافاتِ عمل” کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کئے بہت دھیمی و ڈوبتی آواز میں بولتی، درد کی انتہا پر تھی۔ اپنی خوشیوں کے قاتل کو بددعائیں دیتے ہوئے شدید تھکان کے باعث اس کا ذہن بھی آہستہ آہستہ غنودگی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔

                                                                                                   جاری ہے