No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
مزید کچھ دن تک ڈاکٹر کی ہدایت پر تابعداری سے عمل کرتے ہوئے باقاعدگی سے اپنی دوائیں و ایکسرسائز سے وہ اب تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا،،، جو تھوڑی بہت کثر باقی تھی وہ بھی پوری ہو جانی تھی۔ وہ اب خود سے چل پھر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔ جدھر چاہے جا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔ حویلی والوں کی تو اب ہی گویا جان میں جان آئی تھی ،،، سوہا بھی بہت خوش تھی،، کیوں نہ خوش ہوتی ،، اس قدر صبر و انتظار کے بعد تو اس کا صِلہ ملا تھا،، اور آج کل تو وہ ویسے بھی سالک حیدر کی نظروں کے تقاضوں سے گھبرائی گھبرائی پھرتی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کی طرف اٹھتی اس کی نظروں میں اس قدر وارفتگی و جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا کہ وہ شرم و حیا کی شِدّت سے بعض اوقات اس کی نظروں سے چھپتی پھرتی تھی۔
بی جان و اسماء بیگم سمیت سب نے ہی اس کے چہرے سے چھلکتی خوشی و سالک حیدر کے نام پر اس کے چہرے پر بکھرتے خوش رنگ احساس کو کہیں نہ کہیں محسوس کیا تھا۔ اسے خوش دیکھکر سب ہی خوش تھے۔ رخسار بیگم کی بھی فکر دور ہوئی تھی۔ علیزے کی بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
سب رات کے کھانے پر موجود تھے۔ پلوشہ بھی اب اپنی ناراضگی کو زرا پسِ پست ڈالتے ہوئے سب کے درمیان بیٹھا کرتی تھی، اور کھانے کی ٹیبل پر بھی موجود ہوتی تھی۔
آج سب یہاں موجود ہیں تو ایک نہایت ضروری بات سے باخبر کرنا ہے آپ سب کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان نے سب کے چہروں پر نظریں دوڑاتے کہا تو سب ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے
یوسف خان کی شادی ہم بیرم خان کی بیٹی دعا سے طے کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شادی کی تیاریاں شروع کی جائے ۔۔۔۔۔ ایک ہفتے کے اندر اس فرض سے سبکدوش ہونا ہے۔ اور رہی حیدر کی بات تو جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اس کا ولیمہ ہم نے بعد کے لئے موقوف کر دیا تھا۔ تو یوسف خان کی شادی کیساتھ ساتھ حیدر کا ولیمہ بھی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلد ازجلد تیاریاں مکمّل کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہروز خان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر سوہا کو دیکھا تھا،،،، اسی پل اس کی بھی نظریں سالک حیدر پر اٹھیں اور اسے خود کو دیکھتا پا کر وہ بری طرح سٹپٹا کر نظریں جھکا گئی اور زرا سا پیچھے کی طرف کھسکتے ہوئے جیسے پاس بیٹھی علیزے کے پیچھے پناہ لینی چاہی ۔۔۔۔۔۔۔اس کی شرم و گھبراہٹ سے محظوظ ہوتے سالک حیدر اپنی پلیٹ پر جھک گیا تھا۔
لڑکیاں بوکھلا گئی تھیں۔ بقول ان کے کہ اتنی جلدی ان کی تیاریاں کیسے ہونگی ۔۔۔۔۔۔ انہیں تو ڈبل تیاریاں کرنی تھیں ۔۔۔۔۔ اس کے لئے زیادہ وقت بھی درکار تھا ۔۔۔۔۔ ساری خواتین بھی مہروز خان کے اس فیصلے سے مطمئن تھیں۔
کھانے سے فارغ ہو کر سب حال کمرے میں اکٹھّے ہو گئے اور پھر سب نے چھیڑنے کا سلسلہ شروع کیا ۔۔۔۔۔۔ لڑکیاں اپنا فریضہ جبکہ لڑکے اپنا فریضہ ادا کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ دعا تو شرما کر کمرے میں ہی بند ہو گئی جبکہ یوسف تو گویا اسی دن کے انتظار میں تھا،، ان سب کی چھیڑ چھاڑ کا دوبدو جواب دیتا وہ بہت خوش و مطمئن لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر مخصوص انداز میں جیبوں میں ہاتھ ڈالے پرشوق انداز میں سوہا کے بلش چہرے پر گاہے بگاہے نظریں ڈال رہا تھا۔
حیدر کے دل کی مراد بر آئی کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں سوہا ۔۔۔۔۔۔۔ سہی کہہ رہا ہوں نا ؟؟؟ معاذ کے شرارتی انداز پر سب محظوظ ہوئے تھے ۔۔۔۔ سوہا کا چہرہ کچھ اور بھی بلش کرنے لگا تھا ۔۔۔ وہ چہرہ جھکا گئی تھی ۔۔۔۔۔ جبکہ سالک حیدر کا بیساختہ خوبصورت قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔۔۔۔
لالا لیو اٹ،، تھوڑا ریوائنڈ اپ کرتے ہیں،، آپ اپنی بیتابی بھول گئے تو میں یاد دلا دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے مسکراتی آواز میں ابرو اُچکا کر کہا تو سب زور سے ہنس دئیے جبکہ معاذ اسے گھورنے لگا ۔۔۔۔۔۔
حیدر لالا بیتابی آپ کی بھی کافی عروج پر تھی،،، سوہا سے جس طرح نکاح کیا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ پورے خاندان کو پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک روز کے اندر اندر آناً فاناً سب کچھ ہوا ۔۔۔۔۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی ٹرین چھوٹ رہی ہے آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فواد نے دانت نکالتے ہوئے کہا تو سب کھلکھلا اٹھے ۔۔۔۔۔
بیشک،، بیشک،، سالک حیدر نے بھی سر کو تائیدی انداز میں ہلایا۔
کچھ دیر وہاں بیٹھے رہنے کے بعد سوہا بی جان سے ملنے کے ارادے سے برآمدے کی جانب چل دی ۔۔۔۔۔۔ وہ برآمدے کی طرف آئی تو بی جان حسبِ معمول شکوارں سے پان لگوا رہی تھیں،، ساتھ ہی پاس بیٹھی اسماء و عائشہ بیگم سے شادی کے سلسلے میں بھی باتیں کر رہی تھیں۔ رخسار بیگم بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ بی جان اسے دیکھکر کھل اٹھیں جبکہ اسماء بیگم محبّت بھری نظروں سے بیٹی کا خوشی سے چمکتا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔
سوہا میری دھی،، تو خوش تو ہے نا ؟؟ وہ بی جان کے قریب بیٹھی تو انہوں نے محبت سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر پوچھا تو وہ بے اختیار ان کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔۔
بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کتنا سہی کہتی تھیں بی جان،، اس بات کا اندازہ مجھے اب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے خوشی سے بھیگی آواز میں کہا تو بی جان کے ہاتھوں میں گویا ہفت اقلیم لگ گئی تھی،، انہوں نے اسے خود سے جدا کر کے چٹاچٹ اس کے دونوں گال چوم لئے
میری بچّی اللّہ تجھے سلامت رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے آبدیدہ لہجے میں دعائیں دیں تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔ اسماء بیگم نے بیحد سکون و تمانیت بھرا سانس بھرتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو وہ ان کے سینے سے لگ گئی۔ رخسار بیگم نے بھی اٹھ کر اس کی پیشانی چوم لی جبکہ عائشہ بیگم بھی مطمئن سی مسکراہٹ لئے اسے دیکھ رہی تھیں۔
کیا ہو رہا ہے بی جان ؟؟ جبھی سالک حیدر وہاں چلا آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے دانستہ بی جان کے پیچھے چھپنا چاہا مگر وہ بھی زیرک نگاہ رکھتا تھا۔
وہ پزل سی ہو گئی۔
شادی کے سلسلے میں بات کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ تو بھی سن لے،،، تیرے ولیمے کی رسم ہونے کو ہے ۔۔۔۔۔ اپنی ضد میں تو نے کوئی رسم بھی سہی طریقے سے پوری نہیں کرنے دی، مگر اب ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا تو ابھی علیزے کے کمرے میں چلی جائے گی ۔۔۔۔۔۔ تجھ سے پردہ ہوگا اس کا تین روز تک ۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ جو بالوں میں ہاتھ پھیرتے سوہا کی شرمگیں حرکتیں ملاحظہ کر رہا تھا یکدم حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
واٹ ۔۔۔۔۔ لیکن کیوں ؟؟ پردہ ضروری تو نہیں بی جان ۔۔۔۔۔ آپ اتنی ظالم بھی ہو سکتی ہیں یہ نہیں معلوم تھا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے حیرت سے کہتے ہوئے تاسف سے سر ہلایا تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔ سوہا بی جان کی اوٹ سے اسے دیکھ رہی تھی
ہاں ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ میرا حکم ہے ۔۔۔ سوہا کو مہندی بھی لگانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کی شادی کے بعد تجھ سے اس کا سخت پردہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر اس بات کا میں سب لڑکیوں سے کہہ دوں گی تاکہ وہ یاد رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان نے سوچتے ہوئے کہا
اوہو بی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستم کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نفی میں سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔ انداز ایسا تھا کہ ان رسموں کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ اس کے جانے کے بعد سوہا مسکراہٹ دباتی بی جان سے اجازت لے کر حال کمرے میں چلی آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں عجب ہی رونق لگی ہوئی تھی۔
نِگّو (ملازمہ) کو چائے بنانے کا آرڈر مل چکا تھا کیونکہ اب معمول کے مطابق شعر و شاعری کا دور شروع ہونے کو تھا۔ سالک حیدر بھی اپنی نشست سنبھال کر بیٹھ گیا جبکہ سوہا بھی قالین پر بیٹھ گئی تھی۔ باقی سب بھی اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے محفل سے بھرپور لطف اندوز ہونے کو تھے۔
حیدر لالا آپ ہی آج پہلے سنائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے سالک حیدر سے شروعات کرنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا بھی ہمہ تن گوش ہوئی۔ اسی اثناء میں چائے بھی آ چکی تھی۔ سالک حیدر چائے کا کپ اٹھاتے ٹانگوں پر ٹانگیں جمائے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ اور شروعات کی۔
میرے ہمسفر! تیری نذر میں میری عمر بھر کی یہ دوستی میرے شعر میری صداقتیں، میری دھڑکنیں میری چاہتیں تجھے جذب کر لوں لہو میں، میں کہ فراق کا نہ رہے خطر تیری دھڑکنوں میں اتار لوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں
اس کی پُرحِدّت نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر کے سوہا کی پلکیں بے اختیار ہو کر جھک گئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
واہ ہمیشہ کی طرح اعلیٰ کمال،، لاجواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی گھمبیر و خوبصورت آواز میں سالک حیدر نے غزل کا اختتام کیا تو سںب نے دل کھول کر داد و تحسین سے نوازا ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ سالک کی مسکراتی نظریں ہنوز سوہا پر تھیں۔
بھابھی اب آپ کچھ سنا دیں ۔۔۔۔ ہم بھی تو دیکھیں آپ کا ذوقِ نظر کیسا ہے ؟؟؟ علیزے نے سوہا کی طرف رخ کیا تو وہ گڑبڑا گئی۔ علیزے کی بات کی باقی سب نے فوراً تائید کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا نے بیساختہ سالک حیدر کو دیکھا تو اس نے بھی اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔ ایک تو وہ سامنے ہی بیٹھا تھا اوپر سے اس کی بولتی نظروں سے وہ خائف ہوئی جا رہی تھی کجا کہ شاعری سنانا تو مشکل ترین امر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لامحالہ وہ گلہ صاف کرتے شروع ہوئی تھی۔
تم ان لوگوں میں شامل ہو جو ساتھ رہیں تو دنیا کی ہر چیز اضافی لگتی ہے جو بات گوارا مشکل ہو وہ قابلِ معافی لگتی ہے دم بھر کی قربت بھی جن کی صدیوں کی تلافی لگتی ہے تم ان لوگوں میں شامل ہو !!!
گاہے گاہے سالک حیدر پر نظریں ڈالتے ہوئے اس نے ٹھہر ٹھہر کر اپنی غزل پیش کی تو حال کمرہ تالیوں سے گونج اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ سالک حیدر نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہلکا سا سر خم کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا بیساختہ مسکرا دی۔
ارے واہ بھابھی، آپ کا زوق بھی لالا سے کچھ کم نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مزہ آ گیا ۔۔۔۔۔۔ علیزے نے چہکتے ہوئے کہا
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مدھم سا مسکراتے ہوئے کہا تو علیزے نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
فواد تم بھی کچھ سنا دو آج ۔۔۔۔۔۔۔ مانا کہ تم بہت بدذوق ہو لیکن کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے سیکھ جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ نے فواد سے کہا تو اس اچانک حملے پر وہ دانت کچکچا کر رہ گیا،، سب کا بیساختہ قہقہہ نکلا تھا۔
سناتا ہوں سناتا ہوں،، بڑی آئی زوق والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بار میں بھی کچھ نیا لایا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی مان جاؤ گی میری شاعری کا لوہا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لائبہ کو گھور کر کہتا شروع ہوا تو سب ہی اس کی جانب متوجّہ ہوئے
اپنے مہندی لگے ہاتھ مجھے دکھا کر روئی اپنے بچوں کے سامنے مجھے ان کا ماموں بلا کر روئی
دفع دور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تمہارا نیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ نے سنتے ہی متلی جیسا منہ بنا لیا ۔۔۔۔۔ وہ سب ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا بھی کھلکھلا کر ہنس پڑی اور جوں ہی ہنستے ہوئے نظریں اٹھائیں سامنے بیٹھے سالک حیدر کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ دیکھکر تھم سی گئی۔ وہ ہنستے ہوئے کتنا اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری
معاذ لالا آپ سنائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ نے معاذ سے کہا تو وہ سر ہلاتے سیدھا ہوا ۔۔۔۔۔ حال کمرے میں پھر سے مکمّل سکوت چھا گیا۔
محبّت پھر محبّت ہے،، کبھی دل سے نہیں جاتی ہزاروں رنگ ہیں اس کے عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے کبھی صحرا،کبھی دریا، کبھی جگنو، کبھی آنسو ہزاروں روپ رکھتی ہے،،، بدن جھلسا کے جو رکھ دے کبھی وہ دھوپ رکھتی ہے کبھی بن کر یہ ایک جگنو شبِ غم کے اندھیروں میں دلوں کو آس دیتی ہے کبھی منزل کنارے پر پی پیاسا مار دیتی ہے اذیت ہی اذیت ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے محبت پھر محبت ہے کبھی دل سے نہیں جاتی
لاجواب کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمدہ کلام ۔۔۔۔۔۔ تالیوں کی گونج کیساتھ مختلف ستائشی الفاظ بھی سنائی دے رہے تھے۔ رات کے تقریباً بارہ بجنے کو تھے جب محفل کا اختتام ہوا تھا۔ سب ہی اپنی جگہوں سے اٹھتے اپنی اپنی خواب گاہ کا رخ کر چکے تھے۔ سالک حیدر زرا پہلے ہی اٹھ کر چلا گیا تھا۔
سوہا نے بھی اپنے کمرے کا رخ کیا تاکہ اپنی ضرورت کی چیزیں لے کر علیزے کے کمرے میں چلی جائے ۔۔۔۔۔۔۔ مایوں کا جوڑا تو ویسے بھی اسے یوسف خان کی شادی کے بعد پہننا تھا سو وہ کمرے میں داخل ہوئی تو سالک حیدر کمرے میں موجود نہ تھا پھر کمرے سے ملحق بالکونی کے کھلے دروازے پر نظر پڑی تو وہ سمجھ گئی کہ وہ اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وارڈروب کھول کر کھڑی ہو گئی،،، کچھ سوچتے ہوئے وہ وارڈروب کا لاکر کھول کر اپنے زیورات کا باکس نکال کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ پھر اس نے وہ درمیانہ سائز باکس اٹھا لیا جو سالک حیدر نے اسے رونمائی کے طور پر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ تب اس نے اسے دیکھا بھی نہ تھا، لیکن اب جب دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی، تو آس پاس کا منظر بھی خودبخود تبدیل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے وہ باکس کھولا تو اس میں بیحد خوبصورت ڈائمنڈ نیکلس موجود تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ نیکلس پر انگلیاں پھیرتی اسے لئے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی ،،، اس کام میں وہ اتنی مگن تھی کہ اپنے پیچھے آہٹ کا گمان ہی نہ ہوا۔ وہ تب بری طرح چونکی جب پیچھے سے سالک حیدر نے اس کے گرد اپنا حصار باندھ دیا تھا۔ سوہا ہاتھوں میں نیکلس کو دانستہ اس کی نظروں سے چھپانے کی کوشش میں لب دانتوں میں دباتی پلکیں جھکا گئی۔
کیا ہو رہا ہے مسز، کچھ ہمیں بھی بتائیں گی ؟ اس نے آئینے میں سوہا کے عکس کو دیکھتے اپنے چہرے سے اس کا چہرہ مس کیا تو اس کی شیو کی چبھن سے وہ ہلکا سا کسمسائی تھی،، شرم کے مارے منہ سے آواز ہی نہ نکل سکی۔
شروع کر دی نا سگریٹ ؟؟؟ اب تک تو آپ کی عادت چھوٹ جانی چاہیئے تھی لیکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل نہیں پسند مجھے آپ کی یہ عادت ۔۔۔۔۔۔ خالص بیویوں والے ریوّں میں اس کی توجہ بٹانے کو اس نے فوراً سگریٹ پر تبصرہ کیا جبکہ اس کی بات کو نظر انداز کر کے اس نے اس کے ہاتھ کو سامنے کیا،،، جس میں نیکلس موجود تھا۔
وہ،، وہ ممم میں نے سوچا میں پہن لیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سرخ چہرے سمیت نظریں چرا کر گڑبڑا کر کہتی بیحد پیاری و معصوم لگ رہی تھی۔ سالک کے ہونٹوں پر ایک جاندار مسکراہٹ آ گئی تھی
میں پہنا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اس کے ہاتھوں سے نیکلس لیتے ہوئے اس کے بالوں کا آبشار آگے کیا اور اس کی گردن میں نیکلس ڈال کر اس کا لاک لگا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی دونوں نے سامنے آئینے میں دیکھا ۔۔۔۔۔۔ اس کی گردن میں سجا نیکلس پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی دلکشی بیان کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ نیکلس کو چھوتی دھیرے سے مسکرا دی۔
بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے سالک حیدر نے یکدم جھک کر اس کی سفید دمکتی گردن پر پوری شِدّت سے اپنے لب رکھ دئیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ سوہا تو گویا پوری جان سے کانپ اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے ساختہ سمٹتے ہوئے اس کی جانب رخ موڑ گئی اور اس کے سینے میں منہ چھپا لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ دھڑکنوں کی دھک ۔۔۔۔۔ دھک ۔۔۔۔ حد سے سوا تھی ۔۔۔۔ چہرہ دہک کر انگارہ بن گیا تھا ۔۔۔۔۔ سانسیں بھی جیسی اپنی ڈگر چھوڑ گئی تھیں۔
سالک حیدر اس کا گریز سمجھتے ہوئے مسکراہٹ دبا کر گرد اپنا مضبوط حصار باندھتے اس کے سر پر ٹھوری ٹکا کر اسے پکارا۔
سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
ہممم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہلکے سے بولی۔
بی جان نے جو کہا ہے کہ تم نے ابھی اس کمرے سے رخصتی لے لینی ہے ۔۔۔۔۔۔ یار میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر اتنے دن ؟؟ میری دوائیں کون دیگا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جھلاتے ہوئے کہا
میں آپ کو دواؤں کی ٹائمنگ سمجھا دوں گی اور طریقہ بھی ۔۔۔۔۔۔ یہ رسم ہوتی ہے اور مجھے پسند بھی ہے یہ رسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے چھپائے ہی بولی ۔۔۔۔۔۔
کیا کہا تم نے ؟؟؟ سالک کو حیرت کا جھٹکا لگا،،، اس نے فوراً اسے خود سے الگ کر کے دیکھا تو وہ سرخ چہرے کیساتھ آنکھیں پٹپٹاتی اسے دیکھنے لگی
اففففف،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر اوپر کرتا گویا زچ آ گیا۔
پھر وارڈروب کی جانب بڑھا اور اس کے نچلے حصّے میں رکھا سیل فون کا ڈبہ اٹھا کر اس میں سے سیل فون باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
یہ لو،، یہ میں نے تمہارے لئے ہی لیا تھا اس میں سِم کارڈ بھی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں رات میں کال کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سیل فون اسے تھماتے ہوئے کہا
حیدر سائیں ل،، لیکن علیزے کے سامنے ک،، کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بوکھلاتی ہوئی کچھ خفگی سے بولی تو وہ بے ساختہ ہنس دیا
تم بالکونی میں چلی جانا، پھر بات ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دوبارہ اس کے قریب آتے ہوئے بولا تو وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی
اب جانا ہے میں نے،، ورنہ بی جان کو پتہ لگ جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لرزتے لہجے میں بولتی بیڈ کی جانب بڑھی اور ضروری چیزیں اٹھا کر جوں ہی پلٹی اس سے ٹکرا گئی۔ وہ اس کے بالکل پیچھے ہی کھڑا تھا۔ بے باک نگاہوں سے اسے تکتے اس نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا۔ وہ بے ساختہ آنکھیں بند کر گئی،، اس سے پہلے کہ وہ کسی اور گستاخی کا مرتکب ہوتا دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوہا چونکتے ہوئے پیچھے ہوئی اور دھڑکنیں قابو میں کرنے لگی۔ اندر آنے والی علیزے تھی۔ وہ آتے ہی شروع ہو گئی تھی۔
بھابھی جلدی کریں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ ولیمے تک میرے ہی کمرے میں قیام پزیر رہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور لالا آپ بھی سن لیں کہ آپ کا ان سے پردہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے سالک حیدر کو تنبیہہ کی تو وہ اسے گھورنے لگا جبکہ سوہا ہنسی ضبط کر گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیزے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے گئی
ظالم سماج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر زیر لب بڑبڑاتے ہوئے لائٹ آف کرتا بیڈ پر گر گیا۔
******************
وہ علیزے کیساتھ لیٹی کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔ علیزے نے اس سے نیکلس کا پوچھا تو اس نے رونمائی کے تحفے کا بتا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ علیزے بے طرح خوش ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ملنسار و ہنس مکھ لڑکی تھی۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد علیزے سو گئی، تو وہ سیل فون لئے کمرے سے ملحق بالکونی میں آ کر چئیر پر بیٹھ گئی۔ اسی اثناء میں سیل فون بج اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا سالک حیدر اس کے پل پل سے باخبر ہے۔
اس نے فون ریسیو کر کے کان سے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ہلکی سی آواز میں کہا۔
یار سوہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بجائے اپنے شوہر کا ساتھ دینے کے تم اس ظالم سماج کیساتھ مل گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری جانب گویا آہ بھر کر کہا گیا وہ ہولے سے ہنس دی۔
بس چند دنوں کی ہی تو بات ہے،، اس کے بعد میں آپ کے پاس ہی تو ہونگی ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے نظریں جھکاتے ہوئے یوں کہا جیسے وہ اس کے سامنے بیٹھا ہو
اشاء اللّہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سالک حیدر نے جذب سے کہتے آنکھیں بند کیں۔
میں تمہارے لئے کچھ عرض کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ سننا چاہو گی ؟ اس نے آنکھیں بند کئے ہی اس سے پوچھا
ہاں سنائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہتی چئیر پر پاؤں ٹکا کے بیٹھ گئی، دوسری جانب سے اس کی گھمبیر آواز گونجی تھی۔
قسم لے لو تمہارے بعد کسی کا خواب دیکھا ہو کسی کو ہم نے چاہا ہو کسی کو ہم نے سوچا ہو کسی کی آرزو کی ہو کسی کی جستجو کی ہو کسی کی راہ دیکھی ہو کسی کا قرب مانگا ہو کسی کو ساتھ رکھا ہو کسی سے آس رکھی ہو کوئی امیّد باندھی ہو کوئی دل میں اتارا ہو کوئی تم سے بھی پیارا ہو کوئی دل میں بسایا ہو کوئی اپنا بنایا ہو کوئی روٹھا ہو تو منایا ہو دسمبر کی کسی رت میں کسی کا ہجر جھیلا ہو کسی کی یاد کا موسم میرے آنگن میں کھیلا ہو کسی سے بات کرنی ہو کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں کسی کی بیوفائی پر کبھی یہ نین برسے ہوں کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر تیرے دکھ میں نہ روئے ہو قسم لے لو تمہارے بعد ہم ایک پل بھی سوئے ہوں قسم لے لو کبھی جگنو، کبھی تارہ، کبھی مہتاب دیکھا ہو قسم لے لو تمہارے بعد کسی کا خواب دیکھا ہو
اور مجھ سے پہلے ؟؟؟ غزل ختم ہوئی تو وہ جو شرمگیں مسکراہٹ کیساتھ غزل سن رہی تھی،،، شرارت سے بولی تو اس کی بات پر سالک حیدر کا قہقہہ بیساختہ تھا۔
مجھ پر شک کر رہی ہو مسز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مسکراتی آواز میں بولا تو وہ بھی ہنس دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر اس سے باتیں کرنے کے بعد وہ کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ گئی کچھ دیر آنے والے خوشگوار حالات کے بارے میں سوچتی وہ نیند کی گہری وادیوں میں اتر گئی تھی۔
***************
دن رات ایک کر کے شادی کی شاپنگ و ساتھ ساتھ اپنی بھی شاپنگ خواتین و لڑکیوں نے کی تھی۔ بی جان نے دعا کی شادی و ولیمے کا و سوہا کے لئے بھی ولیمے کا ڈریس خرید لیا تھا،، ساتھ ہی یوسف و سالک حیدر کیلئے بھی شاپنگ مکمل کر لی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ سوہا نے یوسف کی شادی کیلئے بھی خریداریاں کر لی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا کو مایوں بٹھا دیا گیا تھا۔ بالآخر ہلدی و مہندی کا دن آ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ !!!
وہ پھولوں سے بھرا ٹوکرا لئے نہایت عجلت میں کمرے میں داخل ہوئی ۔نیچے ہلدی کی رسم شروع ہونے کو تھی وہ پیلے ہلدی کے غرارے میں زرتار کا دوپٹہ لئے سیدھی مانگ میں ٹیکہ سجاے دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کے چوڑیاں پہنے کانوں میں خوبصورت جھمکے پہنے ہوے لمبے کھلے بالوں سمیت حویلی کے روایتی لباس میں ادھر ادھر کام کے سلسلے میں دوڑتی بھاگتی نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔ اس وقت بھی وہ کام سے ہی اپنے کمرے میں آئی تھی۔ سالک حیدر کی غیر موجودگی میں وہ اپنے ضروری کام سے ادھر آئی تھی ساتھ ہی جلدی میں ہلدی کی تھال کو وہ یہیں بھول گئی تھی۔ وہ ٹیبل سے ہلدی کی تھال اٹھا کر ہلدی اور پھولوں کی تھالیوں کو ایک ہی ہاتھ میں اوپر نیچے رکھتے ہوئے جوں ہی پلٹی سامنے سالک حیدر کو کھڑا دیکھ کر بری طرح سے سٹپٹا سی گیی ۔
وہ جلدی سے اس کی سایڈ سے نکلی لیکن اس نے پیچھے سے اس کا زرتار آنچل اپنی گرفت میں لے لیا ۔ سوہا کی سانسیں حلق میں اٹک گیئں ۔ اس نے یکدم پلٹ کر دیکھا تو اسی زاوئیے پر کھڑا تھا اور اس کا رخ دوسری جانب تھا ۔
پ،،،،پلیز میرا دو،،، دوپٹّہ چھوڑیں نیچے رسم شروع ہونے کو ہے !!!! وہ سراسیمگی کی کیفیت میں بولی، تو وہ اس کی جانب پلٹا۔ سفید کرتا پاجامہ اور کندھے پر کالی شال ڈالے پاوں میں کھسہ پہنے مغرور نقوش اور سلیقے سے سنورے بالوں میں وہ بلا کا ہنڈسم لگ رہا تھا۔
سوہا نے نظر لگ جانے کے خدشے سے نظریں جھکا لیں ۔ ویسے بھی اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی ۔ آج کل تو ویسے بھی سالک حیدر کی نگاہیں کوئی اور ہی بیان کرتی تھیں۔
اوکے جاو !! وہ دوپٹّہ اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوے بولا تو وہ تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی مگر وہ مسکراہٹ ضبط کرتا ایک جست میں ہی دو قدم آگے بڑھ کر دروازہ بند کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جو دروازے کے قریب پہنچ چکی تھی اس کے دروازے پر دونوں ہاتھ رکھنے کی وجہ سے اس کے حصار میں آ گئی۔
ان دونوں کا رخ دروازے کی جانب ہی تھا ۔ سالک نے آہستگی سے اس کا رخ اپنی سمت موڑا تو وہ سرخ چہرے سمیت پلکوں کی باڑ جھکا گئی ۔۔
پ پلیز جانیں دیں کوئی آ جاے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شرم و خوف سے ملے جلے تاثرات کے ساتھ روہانسی ہو کر بولی۔
مثلًا کون ؟ سالک نے اس کی مانگ سے تھوڑا سائیڈ میں سرک جانے والے ٹیکے کو واپس سے اس کی سیدھی مانگ پر رکھتے ہوے پوچھا تو وہ اور بھی نروس ہو گئی ۔۔
ک کوئی بھی اور مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لرزتے ہوے لہجے میں بولی تو سالک کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اپنا احاطہ کیا جسے اس نے فوری طور پر ہی لبوں میں دبایا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا جھکا ہوا چہرہ اوپر اٹھایا تو سوہا کی سانسیں بے ترتیب سی ہو گئیں، پلکیں بوجھل سی ہو کر جھک گئیں۔ وہ ایک ہاتھ میں ہلدی کی تھال تھامے ہوئے تھی، دوسرا ہاتھ مزاحمت کے لئیے اٹھانا چاہا تو سالک نے اس کا اٹھا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا ۔
تمہارے ہمراہ چلتا ہوں نہ نیچے اس سے پہلے نظر اتار لوں تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے سرخ عارضوں پر اپنی پرشوق نظریں دوڑاتے ہوے بولا۔
وہ اس کے اس قدر قریب کھڑا تھا کی اس کی سانسوں کی تپش اپنے رخسار پر وہ واضع طور پر محسوس کر سکتی تھی ۔ یکدم سالک نے جھک کر آہستگی سے باری باری اس کے دونوں گال چوم لئے ۔سوہا کے رخسار گویا دہک کر انگارہ بن چکے تھے، ہونٹ شرم کی شدت سے لرزنے لگے تھے مگر آنکھیں ہنوز بند تھیں اور ان پر لمبی پلکوں نے اپنا جال بچھایا ہوا تھا سالک نے وارفتگی سے یہ دل کو موہ لینے والا روپ دیکھا۔ اس کی نظریں اس کے لرزتے ہونٹوں پر آ رکیں۔
اس سے پہلے کہ کوئی اور گستاخی سرذد ہو جائے چلو چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے شرارت آمیز لہجے پر سوہا نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور پلٹ کر ایک ہاتھ سے دروازہ کھولتے ہوے اسی ہاتھ سے اپنے غرارے کو سمبھالتی ہوئی پھولی سانسوں سمیت تقریباً دوڑتی ہوئی سڑھیاں اتر گئی ۔
اس کے پیچھے سالک حیدر کمرے میں کھڑا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے آنکھوں کو بند کئے گویا اس کی خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کر رہا تھا ۔پھر دیر ہو جانے کے خیال سے وہ جلدی سے باہر نکلا اور کلائی میں بندھی ریسٹ واچ دیکھتے ہوئے تیزی سے سڑھیاں اتر کر حویلی کے لان کی جانب بڑھ گیا۔
جاری ہے
