482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 10

سفیر آفس آیا تو سر سعید کو اپنا منتظر پایا۔

“السلام علیکم سر یہ آپ کی امانت”

وہ کی ٹیبل پر رکھ کر جانے کو مڑا تھا۔

“سفیر مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے کچھ وقت ہوگا تمھارے پاس ؟؟؟”

وہ مدھم سی آواز میں بولے تھے۔

“جی سر کہیے میں سن رہا ہوں”

وہ بیٹھتے ہوۓ بولا تھا۔

“جیسے کہ تم جانتے ہو میرا سب کچھ بس فلق ہی ہے،میں اسے خوش دیکھنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں،کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں”

وہ ایک ایک لفظ جتاتے ہوۓ بول رہے تھے۔

“جی سر ہر باپ کو لگتا ہے کہ ایک صرف وہ ہی ہے جو اپنی اولاد کے لئے یہ سوچ رہا ہے مگر حقیقت میں ہر باپ ہی اپنی اولاد کے لئے ہر حد پار کر دیا کرتا ہے”

سفیر اپنی تھوڈی پر ہاتھ رکھے جلدی سے بولا تھا اس کا انداز واضح یہی کہہ رہا تھا کوئی نئی بات کریں سر۔

“اس کی خوشی تم ہو سفیر،وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے”

سر سعید نظریں جھکاۓ شکستہ لہجے میں بولے تھے۔

“جانتا ہوں سر بچہ نہیں ہوں”

وہ لاپروائی سے گویا ہوا تھا۔

“تو جانتے ہو تو پھر کیوں ملوایا اسے اپنی اس کزن سے ؟؟؟”

وہ ایک دم غصے میں ٹیبل پر زور سے ہاتھ مار کر کھڑے ہو گئے تھے۔

“کیا مطلب ہے سر اس بات کا ؟؟؟وہ خود ضد کر رہی تھی اس سے ملنے کی,شادی والا گھر تھا میں نے سوچا چلو اس سے اس کا دل اچھا ہو جائے گا”

“مگر اب کل کا اس وجہ سے میں جتنی اذیت کاٹ چکا ہوں اور کاٹ رہا ہوں میرے خیال میں ،میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے شاید”

وہ جانے کے لئے اٹھا تھا۔

“کل سے آفس مت آنا”

وہ چیخے تھے۔

“نہیں آؤں گا”

وہ کہہ کر جانے کو تھا جب فلق اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔

“سفیر تم کہیں نہیں جاؤگے”

“ڈیڈ سفیر اپنے عہدے پر برقرار رہے گا از داٹ کلیر؟؟؟”

وہ رعب سے بولی تھی۔

“میرا استیفی آپ کو مل جائے گا سر،چلتا ہوں “

وہ دروازے سے باہر جا چکا تھا۔فلق پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگی تھی۔

مگر سفیر نے بائیک سٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔فلق مٹھیاں بھینچے پارکنگ میں کھڑی اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔

اب وہ آفس میں واپس آئی تھی۔

“ڈیڈ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیاایک بار پھر مجھ سے جینے کی وجہ چھين لی”

وہ باپ کے گلے لگ کر زور و قطار رو رہی تھی۔اور سعید صاحب آگے کی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوۓ اس کی کمر تھپتھپارہے تھے۔

“سفیر تمہارا ہے فلق صرف تمہارا تم بس اپنے ڈیڈ پر بھروسہ رکھو”

“وہ کیسے ڈیڈ؟؟؟”

وہ فورا پیچھے ہو کر بولی تھی۔

“ایک دو دن تک سب بتا دوں گا بیٹا،ابھی چلو گھر چلتے ہیں پھر وہاں سے موم کو لے کر کسی اچھی جگہ گھومنے چلے گے ٹھیک ہے ؟؟”

وہ پر اعتماد لہجے میں پوچھ رہے تھے۔جس پر فلق نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“موم اپنی فرنڈز کے ساتھ ناردن ایریاز کے لئے نکل گئی ہیں ڈیڈ”

وہ اب اپنے بیگ سے ٹشو نکال کر آنسو صاف کرنے لگی تھی۔

“پتہ نہیں کیسی عورت ہے یہ”

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے پھر کچھ سوچ کر ان کے چہرے پر زہر یلی مسکراہٹ آئی تھی۔

“یہ تو اور بھی اچھی بات ہے فلق”

فلق نے بات کو سمجھے بغیر باپ کی طرف دیکھا تھا۔وہ سمجھ گئی تھی پہلا پتھر وہ پانی میں پھینک چکی ہے اب اس کا ارتعاش پورے سمندر میں لہر پیدا کرنے والا تھا۔وہ بھی محض مسکرا دی تھی۔

۔*********

سفیر یہ بوجھ دل سے اتار کر ہلکا پھلکا گھر پوھنچ چکا تھا۔وہ بہت خوش تھا۔ظہر کے بعد احمد کا نکاح تھا اس کے بعد کھانا اور اس کے فورا بعد رخصتی تھی۔احمد کی دلہن کا گھر دو گلیاں چھوڑ کر تھا شام تک سارا فنکشن ختم ہونا متوقع تھا۔اس کے بعد کچھ دیر آرام کے بعد نو بجے تک سفیر اور ماہین کا نکاح ہونا طے تھا سب کو بتا دیا گیا تھا۔

اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔سب تقریبا تیار ہو چکے تھے۔سفیر جلدی سے گھر آیا جہاں خالدہ اور ابراھیم اس کے منتظر تھے۔

ابراھیم تیار ہو چکا تھا وہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔

“بھائی یہ رہے آپ کے کپڑے”

وہ سفیر کو کپڑے ہاتھ میں پکڑاتا بولا تھا خود وہ اب پرفیوم میں نہا رہا تھا۔

“بس کر یار کیا ارادے ہیں ؟؟”

سفیر نے اس سے کپڑے لے کر شرارتی انداز میں کہا تھا۔

“کچھ نہیں بھائی بس دیکھتا ہوں میں بھی آپ کی بھابھی کو ہو سکتا ہے دلہن کے گھر پر ہمیں لو ایٹ فسٹ سائٹ ہو جائے”

وہ گلا کھنکھار کر بولا تھا۔اس بات پر دونوں نے اجتمائی قہقہ لگایا تھا۔

“یہ امی آپ ہمیشہ ہم دونوں کے کپڑے ایک سے کیوں بناتی ہیں اب ہم بچے تھوڑی رہے ہیں”

سفیر نے کپڑوں پر نظر مار کر کہا تھا۔

“میرے لئے تم دونوں اب بھی بچے ہی ہو،تاکہ تم دونوں میں کبھی بھی مقابلے کی سوچ نا پیدا ہو اس لئے بیٹا،والدین اولاد کے معملے میں ہر وقت بس سولی پر چڑھے رهتے ہیں یہ تم ابھی نہیں سمجھ سکتے”

خالدہ بيگم نفيس سا سوٹ پہنے دوپٹہ سر پر اچھے سے لیتی ہوئی بول رہی تھیں۔

“مگر امی مجھے تو پتہ ہے کہ آپ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہیں ابراھیم بیچارہ تو بس میرے جیسا جوڑا پہن کر ہی ٹھرخ جاتا ہے”

سفیر دل سے قہقہ لگا کر بولا تھا۔وہ واقعی بہت خوش تھا اس کا روم روم خوشی میں نہا رہا تھا۔یہ بات ان دونوں نے بھی نوٹس کی تھی۔وہ نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو یہ بات باور کروا چکے تھے۔

“چلو بیٹا جلدی کرو بس بارات نكلنے والی ہے”

خالدہ بيگم بولی تھیں۔

“امی رات والا جوڑا بھی ہمارا ایک جیسا ہے کیا؟؟”

ابراھیم ماں کو آنکھ مار کر بولا تھا جس پر سفیر نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔

سفیر بھی تیار ہو چکا تھا اب وہ تینوں احمد کے گھر کے ساتھ لگے ٹینٹومیں آۓ تھے جہاں سفیر كی نظریں بس ماہین کی متلاشی تھیں۔مگر وہ کہیں نہیں تھی۔

“خالہ ماہین کدھر ہے بھائی کب سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں؟؟”

ابراھیم نے خالہ طلعت کو مخاطب کر کے سفیر کو شرمندہ کر دیا تھا وہ نظريں جھکا کر رہ گیا تھا۔

“بیٹا وہ بس آتی ہی ہوگی،وہ آ گئی ہے”

انہوں نے سامنے کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں سے ماہین بلکل سادہ سی تیار ہوئی پنک ڈریس میں ہائی ہیل پہنے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ہوئی آ رہی تھی۔

“کس بات کا سوگ ہے ہونے والی بھا ۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔۔جان ۔۔۔۔۔۔سو کر اٹھ کر آ گئی ہیں”

ابراھیم اس کا مذاق اڑتا ہوا هنسا تھا۔جبکہ سفیر بس اس کی سادگی پر فدا ہو رہا تھا۔

“چلو بھئ بس تیار ہے آ جاؤ سارے”

سب اب بس میں جا کر بیٹھ رہے تھے۔بس تقریبا فل ہو چکی تھی۔ماہين بیٹھ چکی تھی جبکہ سفیر کھڑا اپنے لئے جگہ دیکھ رہا تھا۔

“بھائی آپ ادھر آ کر بیٹھ جایئں”

وہ ماہین کے ساتھ والی سیٹ کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا جبکہ جو لڑکی ماہین کے ساتھ بیٹھی تھی اسے ابراھیم نے اپنی جگہ دے دی تھی خود وہ اتر کر کچھ اور کزنز کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گیا تھا ویسے بھی دلہن کا گھر بہت پاس تھا اور موسم بھی اچھا تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔پورا آسمان کالی بدلی سے بھر چکا تھا۔ماہین کھڑکی کی سائیڈ بیٹھی تھی سفیر اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا تھا۔

“یار تم سادہ بہت پیاری لگ رہی ہو”

وہ بظاہر کھڑکی سے باہر جھانکتا ہوا مصروف سا لگ رہا تھا۔

“یہ سادہ قمیض شلوار ۔۔۔۔۔اپر سے لائٹ ميک اپ لک ۔۔۔۔آج تو مار ہی ڈالوگی ۔۔۔۔”

سفیر نے مد ہوش ہو کر کہا تھا۔ماہین شرم سے لال ہوگئی تھی۔اتنے میں بس کے ڈرائیور نے گانا چلا دیا تھا جو کسی کزن کے موبائل سے كيبل جوڑ کر موبائل سے لگایا گیا تھا۔

مہندی لگا کر آئی ۔۔۔۔۔۔بندیا سجا کر آئی ۔۔۔۔۔چوڑی کھنکھا کے آئی ۔۔۔۔۔پائل چھنکا کے آئی ۔۔۔۔۔۔۔

اب گيت ملن کا گانا ہے ۔۔۔۔۔گانا ہے ۔۔۔مجھے ساجن کے گھر جانا ہے ۔۔۔۔مجھے ساجن کے گھر جانا ہے ۔۔۔

ماہین نے سفیر کو مسکرا کر دیکھا تھا جو اسی میں کھوسا گیا تھا۔

“محبت دل کا سکون ہے اعتبار ۔۔۔۔۔۔۔

محبت دل كی تڑپ ہے یہ انتظار ۔۔۔۔۔

دیکھا ہے آج پہلی دفع آپ کی آنکھوں میں پیار ۔۔۔۔۔”

اب کچھ کزن بار بار گانا بدل بدل کر کھڑے ہو کر چلتی بس میں ناچ رہے تھے۔اتنے میں دلہن کا گھر آ چکا تھا جاتے ہی نکاح ہوا کھانا کھلایا گیا اور رخصتی کر دی گئی۔

واپسی پر ماہین دلہن کے ساتھ احمد کی بہن بن کر بیٹھی تھی۔

گھر آکر مختلف رسمیں نبھائی گئی ہنسی مذاق چلتا رہا۔

اب آٹھ بجنے کو تھے۔ماہین نکاح کے لئے تیار ہونے چلی گئی تھی۔احمد کے لئے لائی گئی رینٹ کی کار میں ہی اسے احمد لے کر گیا تھا ۔

دوسری طرف ابراھیم سفیر کو تیار کررہا تھا۔

ماہین کو لایا جا چکا تھا وہ حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی اس کو دیکھنے والا ہر بندہ ایک پل کے لئے پلک جهپکنا بھول جاتا۔۔۔۔

سفیر بھی بہت شاندار مرد لگ رہا تھا۔

نکاح شروع ہوا تھا دونوں کو الگ الگ بیٹھا کر نکاح پڑھوایا گیا۔نکاح مکمل ہوتے ہی سب دونوں کو مبارک دیتے رہے پھر سفیر کو ماہین کے کمرے میں لایا گیا۔

سفیر نے ماہین کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوم کر مبارک باد دی تھی جس سے کمرے میں کزنز نے سیٹیاں اور شور مچا کر شغل لگایا تھا۔

اب سب تهكے ہارے سونے کی جگہ ڈھونڈ رہے تھے کچھ بیچ میں سو چکے تھے۔

آج احمد کا کمرہ چونکہ اینگیج ہوچکا تھا آج سونے کی جگہ کم پڑرہی تھی۔

“طلعت تم اور میری بہو میری طرف چلو ادھر جگہ نہیں بن رہی آج”

خالدہ بيگم کی بات نے سفیر کا دل خوش کردیا تھا۔وہ خاموشی سے گھر چلا آیا تھا تا کہ اس کے دل کا حال دیکھ کر طلعت خالہ ارادہ ملتوی نا کر لیں۔

ابراھیم اس سے پہلے گھر آ کر چینج کر کے ڈھیر ہو چکا تھا۔

موسم کافی خراب ہو رہا تھا۔کسی بھی وقت طوفانی بارش آنے کو تھی۔

وہ تینوں گھر آ چکی تھیں۔

“یہ لو بیٹا یہ کپڑے بدل کر یہ والا نرم جوڑا پہن لو تنگ ہو رہی ہوگی ان میں”

ماں نے ماہین کو لان کا جوڑا تهماتے ہوۓ کہا تھا۔سفیر کب سے ابراھیم کو فون ملا رہا تھا تا کہ وہ کسی بہانے سے ماہین کو اپر بھیجے مگر وہ گدھے گھوڑے بیچ کر سویا ہوا تھا۔

آخر وہ تنگ آ کر نیچے آ گیا تھا سامنے کمرے میں ماہین کسی پری کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔سفیر نے اسے اشارے سے موبائل کا پوچھا تھا جو وہ احمد کے گھر ہی چھوڑ آئی تھی۔خالدہ بيگم بیٹے کی بےچینی

بھانپ چکی تھیں۔

“بیٹا اب تو ماہین تمہاری محرم ہے جو بھی بات کرنی ہے تم آرام سے کر سکتے ہو”

وہ مسکرا کر بیٹے کے کندھے پر تھپکی دے کر بولی تھیں۔وہ خود بھی کپڑے بدل کر منہ ہاتھ دھو کر آ رہی تھیں۔طلعت بھی سونے والی تھی۔

سفیر نے ماہین کو چھت پر آنے کا اشارہ کیا تھا جہاں ایک برآمدہ بنا ہوا تھا بس،باقی کھلی چھت تھی۔جبکہ نیچے دو کمروں کے آگے برآمدہ ،اس کے ایک طرف چھوٹا سا سٹور اور دوسری طرف کچن تھا۔

وہ اس کے پیچھے پیچھے اپر آ چکی تھی۔

وہ چھت پر پردے کے ساتھ کھڑا تھا۔بار بار بجلی کڑک رہی تھی ٹھنڈی ہوا نے موسم گرما میں سردی کی جهلک شامل کر دی تھی ۔

وہ اسے برآمدے میں بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔کچھ لمحے خاموشی سے گزر گئے تھے۔

“آج کیوں چپ لگ گئی ہے ان ہونٹوں کو”

وہ ماہین کے ہونٹوں کو چھو کر بولا تھا۔وہ مسکرائی تھی۔

“ماہین ۔۔۔۔تم سچ ہو نا کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا میں ؟؟؟”

وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر بے قراری سے بولا تھا۔ماہین اس رومانوی باتیں کرنے والے سفیر کو آج زندگی میں پہلی بار مل رہی تھی۔وہ انہی جذبوں کی حدت کے لئے پل پل ترسی تھی۔وہ خود اس پل کو بس سکون سے محسوس کرنا چاہ رہی تھی۔

“تم واقعی میری ہو چکی ہو ماہین؟؟؟وہ ماہین جیسے میں نے بچپن سے اللّه سے مانگا تھا کیا واقعی سفیر کے نام لکھ دی گئی ہے ؟؟؟؟”

وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر جنونی کیفیت میں بولا تھا۔

“سفیر ۔۔۔۔۔”

وہ بس اس کا نام لے کر اس کے قریب ہوئی تھی۔

“ماہین جانتی ہو سفیر نے تم سے عشق کیا ہے عشق ۔۔۔۔۔۔تم میری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی ہو ۔۔۔۔کیا واقعی اتنی خوبصورت لڑکی اب صرف میری ہے ؟؟؟”

وہ بے یقینی سے بلبلا اٹھا تھا۔

“سفیر اب تو ہمارا نکاح ہو چکا آپ اس طرح بے چین کیوں ہیں ؟؟”

ماہین نے باہر ہوتی بارش کو دیکھ کر کہا تھا جو ابھی ابھی شروع ہوئی تھی۔

“یار پتہ نہیں دل میں عجیب سی بے چینی ہے،ایسا لگ رہا ہے یہ ۔۔۔یہ سب خواب ہے”

وہ اٹھ کر اب بارش کو ہاتھ میں بھرنے لگا تھا۔

“ایسا نہیں ہے سفیر ۔۔۔۔۔ماہین حقیقت ہے ۔۔۔۔”

وہ سفیر کی کمر کو اپنے حصار میں لے کر آنکھیں موند کر بولی تھی۔

“ماہین مجھ پر ہمیشہ بھرودسہ رکھنا چاہے دنیا تمہیں کچھ بھی کہہ دے،سفیر جان سے تو جا سکتا ہے مگر کبھی تمہیں دھوکہ نہیں دے گا یاد رہی گی میری یہ بات ؟؟؟”

وہ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر اپنے بہت قریب کر کے بے بسی سے بولا تھا۔

“هممم ۔۔۔ ۔۔۔۔”

وہ بس اتنا ہی بول پائی تھی ۔۔۔۔

بارش نے زور پکڑا تھا اور دوسری طرف ان کے جذبات نے ۔۔۔۔۔

خوبصورت موسم میں خوبصورت جذبہ محبت محرم کے آگے سرشار ہوا تھا۔۔۔۔

“سفیر کی جان ۔۔۔۔۔۔۔”

“جی ماہین کی جان ۔۔۔”

اب وہاں بس سرگوشیاں تھیں ۔۔،۔۔۔

وقت کروٹ بدلنے والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔یہ ملاقات بہت خاص اس لئے بھی تھی کیوں کہ جب بھی کسی لفظ کے ساتھ آخری کا اضافہ کر دیا جاتا ہے پھر وہ جاتے جاتے اسے خاص بنا ہی دیتا ہے ۔۔۔۔۔

سفیر نے اپنے موبائل میں بہت سی یاد گار سیلفیاں لی تھیں جو شاید یاد بننے والی تھیں ۔۔۔