Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 19 (Last Episode Part 2)
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 19 (Last Episode Part 2)
“تمہیں اب کوئی فرق نہیں پڑرہا بھائی کی اس ویڈیو سے ماہین؟؟؟”
وہ چیخ کر ایک دم بولا تھا۔وہ ڈر کر سہم گئی تھی۔
“وہ فیک تھی،وہ سب سفیر نے نہیں کیا،اور اگر وہ سفیر نے کیا بھی ہے تو یقینأ وہ ہوش میں نہیں ہوگا”
وہ پر اعتماد لہجے میں بولی تھی۔
“کس نے کہا یہ تم سے ماہین ؟؟؟”
سفیر کی برداشت اب جواب دینے لگی تھی وہ چھت کے اوپر آ چکا تھا۔
“میرے دل نے”
وہ مسکرا کر بولی تھی۔
“تو پھر آج تصحیح کرلو اپنے دل کی ماہین ۔۔۔کیوں کہ نا تو وہ ویڈیو فیک تھی اور نا ہی میں تب بےہوش ۔۔۔بلکہ میں تو بہت مدہوش تھا تب ۔۔۔۔میں نے جان بوج کر فلق کے ساتھ اپنی خوشی سے وقت گزارا تھا،اور اگر ہماری ہر ملاقات کی ویڈیو میں تمہیں بھیجتا نہ،تو تمہارے موبائل کی ميموری فل ہو جاتی”
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا۔جس پر ابراھیم حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا وہ اب صرف ماہیںن کو خود سے بدگمان کر کے اس کا گھر بچا رہا ہے۔
“نہیں ۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔تم تو صرف میرے تھے ۔۔۔تم ۔۔۔تم ایسا کیسے کر سکتے تھے؟؟؟؟؟تم ۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو نا ؟؟؟”
وہ اس کا گريبان پکڑ کر برہمی سے بول رہی تھی۔
“کیوں ؟؟میں مرد نہیں ؟؟ہر مرد کی طرح میری بھی ضرورت تھا جسم ۔۔۔۔اور فلق تو ۔۔۔۔۔کمال تھی ۔۔۔۔اس کی ایک ایک ادا ۔۔۔۔وہ تو ۔۔جانتی ہو جب میں اسے احمد کی شادی پر لایا تھا تب بھی تم نے بلکل صحیح اندازہ لگایا تھا کہ ہم کتنی بار لیٹ چکے ہیں ہم واقعی تب تک دو بار ۔۔۔لیٹ ۔۔ “
اس سے پہلے کہ سفیر مزيد اپنے کردار کے چھیتڑے اڑاتا ماہین نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر جھڑ دیا تھا۔
“میں ۔۔۔ہی پاگل تھی ۔۔۔۔جو تم پر اعتبار کرنے لگی تھی دوبارہ سے ۔۔۔۔میں نفرت کرتی ہوں تم سے سفیر ۔۔۔۔تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔”
وہ روتی ہوئی نیچے چلی گئی تھی۔
“بھائی”
ابراھیم اتنا کہہ کر سفیر کے گلے لگ گیا تھا۔
“آپ نے اتنا جھوٹ کیوں باندھ لیا میری خاطر اپنے کردار کے ساتھ؟؟آپ اگر کہیں تو میں ماہین کو طلاق ۔۔ “
سفیر نے اپنا ہاتھ ابراھیم کے منہ پر رکھ دیا تھا۔
“یہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اس میں موجود ہر رشتہ اہم ہے یہ مذاق نہیں ہے ابراھیم ۔۔۔۔۔”
وہ اس کا ماتھا چوم کر بولا تھا۔
“مگر بھائی وہ آپ کو پوری زندگی غدار ہی سمجھے گی،یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوگا”
وہ سفیر کے ہاتھ چومتا رو دیا تھا۔
“زندگی کی کہانی میں ہر رشتے میں ہم وفادار نہیں بن سکتے ابراھیم ۔۔کسی ایک جگہ وفا کا جھنڈا
گاڑنے کے لئے دوسری جگہ ہم غداری کے سبب بے دخل ضرور کر دیے جاتے ہیں اس میں ہمارا اختیار بس ہماری نیت پر ہے وہ خالص ہونی چاہیے ۔۔ اور اگر مجھے غداری کے اس لقب کے ساتھ میرے بھائی کا دل آباد ملتا ہے تو یہ تو گھاٹے کا سودا نہیں ہے نا؟؟؟میں تمہاری خوشی کے لئے اس جرم میں پھانسی چڑھ جاؤں ابراھیم ۔۔۔یہ تو بس معمولی سی سوچ كی بات ہے”
سفیر نے ابراھیم کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا تھا۔
“وعدہ کرو تم کبھی بھی ماہین کے ساتھ میری وجہ سے زیادتی نہیں کرو گے ؟؟؟”
سفیر نے اس کے ہاتھو ں کو پکڑ کر کہا تھا۔
“میں بہت محبت کرتا ہوں ماہین سے بھائی،اور آپ سے بھی میں وعدہ کرتا ہوں ایسا کبھی نہیں ہوگا”
ابراھیم نے سفیر کے ہاتھ پر بوسہ دے کر کہا تھا۔
“وہ دل كی بری نہیں ہے بس منافقت نہیں آتی اسے جو دل میں ہوتا ہے وہ ہی زبان پر،تم اس پر کبھی میرے حوالے سے شک مت کرنا کیوں کہ ہمارا رشتہ ایسا ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے تمہاری زندگی سے دور نہیں ہو سکتا بیٹے ہو تم میرے”
سفیر نے ٹھہر ٹھہر کر بے بسی سے کہا تھا۔
“بھائی آپ رہ لے گے ماہین کے بغیر ؟؟؟میں نے آپکا بیٹا ہو کر آپ سے آپ کی خوشی چھين لی ۔۔ایسا ہوتا ہے بیٹا ۔۔۔”
وہ شرمندگی سے بول رہا تھا۔
“دیکھو ابراھیم پہلی بات ۔۔۔
کوئی کسی سے سب چھين سکتا ہے مگرایک انسان دوسرے انسان کی قسمت اور مقدر پر قابض ہونے کی قدرت نہیں رکھتا وہ اگر میری قسمت میں لکھی ہوتی تو میری منکوحہ ہو کر بھی آج تمہاری بیوی نا بن گئی ہوتی،اسے میری قسمت میں لکھا ہی نہیں گیا تھا ورنہ تم کبھی بھی اسے مجھ سے چھين نہیں سکتے تھے”
“دوسری اور آخری بات ۔۔۔اب وہ تمہاری بیوی ہے،پھر میں اس کے لئے لفظ محبت استعمال کرنا بھی رشتوں کے تقدس کی توہین سمجھتا ہوں،انسان اور جانوروں میں یہی تو ایک فرق ہے ان کو رشتوں کی حد ،رشتوں کا احترام نہیں سیکھایا گیا وہاں ماں بہن بھابھی بیٹی اور دیگر رشتوں کی حد بندی نہیں بتائی گئی وہاں بس نر اور ماده کا تصور قیامت تک چلے گا،مگر میں اپنی حد جانتا ہوں،ماہین سے محبت میرے بس میں نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔”
سفیر نے ‘تھی’ پر زور دیا تھا۔
“مگر اب تمہارے نکاح کا جان لینے کے بعد وہ فقط میری بھابھی ہے ۔۔۔میرے بیٹے جیسے بھائی کی محبت اور بیوی،وہ مجھے کیا کہتی ہے کیا سمجھتی ہے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ابراھیم،مجھے فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ میرے بھائی کے بارے میں کیا سوچتی ہے،اور وہ تم پر اعتبار کرتی ہے،میں اس کا اعتبار اس ویڈیو کے بعد سے کھو چکا ہوں جو باتیں وہ ابھی کر رہی تھی وہ سب وقتی ہیں ۔۔۔اور زندگی محبت کے بنا بھی کامیابی سے گزاری جا سکتی ہے مگر جہاں اعتبار نا ہو وہ رشتہ بس پھر ایک سرطان زدہ وجود بن کر رہ جاتا ہے۔جو ساتھ تو رہتا ہے مگر بہت تکلیف دیتا ہے۔لہذا میں ماہین سے کسی صورت بھی شادی نہیں کر سکتا،یہ میرا فیصلہ ہے جو میں کسی کی وجہ سے نہیں کر رہا تم خود کو میرا احسان مند اگر سمجھ رہے ہو تو تم بلکل غلطی پر ہو”
سفیر نے ابراھیم كی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچائی سے کہا تھا۔
وہ دونوں اب بیٹھ گئے تھے سفیر نے اسے ہر قسم کے بوجھ سے آزاد کر دیا تھا۔
،”بھائی آپ بہت اچھے ہیں”
وہ سفیر کے گلے دوبارہ سے لگ کر بولا تھا۔
وہ دونوں بھائی کافی دیر ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے جس میں سفیر نے اسے امی کو لے کر نئے گھر میں شفٹ ہونے کا بھی بتایا اور یہ بھی کہ وہ ماہین کو لے کر کچھ عرصہ کے لئے طلعت خالہ کے گھر شفٹ ہو جایئں تا کہ وہ اس گھر کو توڑوا کر نیا گھر بنوا سکے ۔۔ جو سراسر ماہين اور ابراھیم کی پسند کا ہوگا۔ ۔۔۔
لگ بھگ چھ ماہ میں وہ گھر مکمل ہوا تھا۔جہاں اب ابراھیم اور ماہین خوشی خوشی رہ رہے تھے۔اس دوران خالدہ بيگم کا اپریشن بھی ہوگیا تھا وہ اب ایک آنکھ سے صاف دیکھ سکتی تھیں۔سفیر نے سعید صاحب کے پورے بزنس کو کافی اچھے سے نا صرف سمنبهال لیا تھا بلکہ کافی ترقی بھی دی تھی۔اس کی خوش اخلاقی اور رحم دل طبیعت نے بہت سے لوگوں کو مخلص ہو کر اس کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا سب لوگ سفیر سے بہت خوش تھے اور وہ دل سے اس کی عزت کرتے تھے۔
سفیر نے بنا دعا کو دیکھے خالدہ بيگم کے ٹھیک ہونے کے بعد دعا کا رشتہ مانگا تھا۔
اس وقت وہ دونوں دعا کے گھر پر موجود تھے۔
“بیٹا مجھے کوئی اعتراض نہیں نا ہی میری بیٹی کو ہوگا بس میں چاہتی ہوں تم بھی ایک بار دعا کو بنا پردے کے دیکھ لو،یہی اسلام بھی کہتا ہے کہ نکاح سے پہلے کم از کم ایک بار لڑکا لڑکی مل کر ایک دوسرے کی صورت دیکھ سکتے ہیں”
دعا کی امی نے پیار سے کہا تھا۔
“مگر آنٹی اگر لڑکا لڑکی میں سے کسی کو بھی اعتراض ہو جائے ملنے کے بعد تو کیا پھر اس ملاقات کا گناہ نہیں ہوگا؟؟”
سفیر نے چاۓ کا سپ لے کر کپ واپس ٹیبل پر رکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔
“بیٹا وہ رب ہے اسے کسی بھی بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں وہ تو بس ہماری نیت دیکھتا ہے جب نیت نکاح کی غرض سے لڑکی کو دیکھنا ہوتی ہے تو پھر کیسا گناہ ؟؟؟اگر بنا دیکھے ہم کسی کی بیٹی کو بیاہ کر گھر لے آۓ اور پھر ہم اس کی صورت میں نقص نکالیں اسے ذلیل کریں اور طلاق تهما کر گھر بھیج دیں فقط صورت پسند نا آنے پر،وہ گناہ ضرور ہے بیٹا،آپ بیٹھیں میں دعا کو بھیجتی ہوں آپ کی امی کو تو بہت پسند آئی ہے میری دعا ماشاءالله”
وہ مسکرا کر بولی تھیں۔وہ دونوں باہر چلی آئی تھیں جبکہ کچھ دیر بعد دعا اندر آئی تھی۔
“السلام علیکم”
وہ آہستہ سے بول کر سامنے والے صوفہ پر بیٹھ گئی تھی۔
“وعلیکم السلام”
سفیر نے بنا اس كی طرف دیکھے نظریں جھکا کر کہا تھا۔
وہ دونوں خاموش تھے نا ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھ ہی رہے تھے۔
“کیا میں آپ کی طرف دیکھ سکتا ہوں؟”
سفیر نے ہنوز ٹیبل کو دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔
“جی “
اس كی آواز میں لاج کا عنصر نمایاں طور جهلکا تھا۔سفیر نے اپنی نظروں کا زاويہ ٹیبل سے بدل کر اس کے پیروں پر سے خوبصورت نرم اور گورے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ آف وائٹ دوپٹے میں موجود چاندی جیسی گوری رنگت چاند جیسی صورت پر مرکوز کر دی تھیں۔وہ بلا شبہ بہت حسین تھی مگر پردے اور حیا کی لالی نے اسے اس دنیا سے بہت الگ بنا دیا تھا۔سفیر کبھی بھی حسن پرست نہیں رہا تھا مگر وہ اسے مسلسل دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔
وہ زبردستی نظریں زمین پر گاڑ چکا تھا۔
“سفیر ۔۔۔مجھے آپ سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے بس ۔۔۔ایک چھوٹی سی گزارش ہے”
وہ جو پہلے ہی نظریں جھکا کر اپنے دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی میں سفيد نگ والی انگھوٹی سے مسلسل کھیل کر اپنی بے چینی چھپا رہی تھی اس کی نظروں کی تپش اپنے وجود پر محسوس کر کے حیا سے بولی تھی۔
“اللّه نے آپ کی سیرت کی خوبصورتی کے عين مطابق آپ کو صورت دی ہے دعا،سچ تو یہ ہے اگر اس کے برعکس بھی ہوتا تو میں آپ سے ہی شادی کرتا کیوں کہ آپ کی سیرت آپ کی صورت کے ہر عیب پر بہت بھاری ہے۔آپ کھل کر بتائیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟”
وہ اپنی نظر کو یہاں وہاں لے جاتا اس کو بنا دیکھے بولا تھا۔
“امی کو میں شادی کے بعد ساتھ رکھنا چاہتی ہوں،ان کا میرے علاوہ کوئی نہیں ہے”
وہ ایک لمبے وقفے کے بعد بولی تھی۔
“اچھا ۔۔۔۔۔ویسے تو مجھے اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اس کے علاوہ کیا وجہ ہے اس شرط کی ؟؟”
وہ جو اس کا جواب جانتا تھا شاید دلچسپی سے مسکرا کر پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا۔
“کیوں کہ بیٹے شادی کے بعد ماں کو چھوڑ کر نہیں جاتے ۔۔۔اور میں اپنے ابو کا بیٹا ہوں میں فیکٹری نہیں چلا پائی اب اگر اس فرض میں بھی بیٹا نا بن پائی تو کل ابو کو کیا جواب دوں گی؟؟”
وہ اس بات کے ساتھ جزباتی ہو کر سفیر کو دیکھنے لگی جو چہرے پر شرارتی مسکراہٹ لئے نیچے دیکھ رہا تھا۔
“آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟؟”
وہ گھبرا کر بولی تھی۔
“ہنس نہیں رہا بس اپنی قسمت پر خوش ہورہا ہوں ،یہ سوچ مجھے مسکرانے پر اکسا رہی ہے کہ اللّه یقینأ میری کسی نيكی پر بہت خوش ہے مجھ سے ورنہ آپ جیسی خوبصورت اور معصوم سوچ والے سادہ دل انسان آج کل کہاں ملتے ہیں؟؟؟”
“میں بہت خوش ہوں دعا ۔۔۔۔ایسا لگ رہا ہے مجھے آپ سے بے پناہ محبت ہونے والی ہے۔بس امی کو کہتا ہوں اسی ہفتہ ہماری رخصتی طے کریں،اتنا خوب سیرت همسفر ۔۔۔۔میں ایک لمحہ بھی اکیلا نہیں گزارنا چاہتا ۔۔،اور میں مزيد اپنے جذبات بنا نکاح کے گناہ کے ڈسٹ بن میں نہیں ڈالنا چاہتا آپ کمرے سے چلی جایئں اور امی اور خالہ کو اندر بھیج دیں”
وہ نظريں جھکا کر پر سکون سا کہہ رہا تھا۔
وہ شرما کر آرام آرام سے بنا قدم کی آواز نکالے اٹھ کر باہر چلی آئی تھی۔
سب سفیر کی خواہش کے عین مطابق ہوا تھا۔سفیر کی شادی سادگی سے ہوئی تھی جس میں ماہین اور ابراھیم بھی آے تھے۔ماہین پریگنٹ تھی اور ابراھیم کے ساتھ بہت خوش تھی اس نے سفیر کی شادی میں خاص دلچسپی نہیں لی تھی۔وہ اسے غدار قرار دے کر اپنے دل کی عدالت میں پھانسی چڑھا کر مار چکی تھی۔اب اس کا وجود اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھا تھا۔
اس لئے کہتے ہیں رب سے محبت کے علاوہ ہر محبت میں ایک حد ہونی چاہے ورنہ شدید محبت کو شدید نفرت میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔۔انسان کو انسان سمجھ کر ہی اہمیت دینا ٹھیک ہے انسان کو فرشتہ سمجھ کر اس سے کسی بھی قسم کی غلطی کی چھوٹ نا دینا زیادتی ہے اس انسان کے ساتھ بھی اور اپنی ذات کے ساتھ بھی،کیوں کہ وہ رب ہی ہے جو ہماری ہر امید پر پورا اترتا ہے جو بیشک ایک مٹی سے بنے وجود کے بس کی بات نہیں ۔۔۔
۔***********
ایک سال بعد۔
دعا ابھرے پیٹ کے ساتھ سٹڈی ٹیبل پر جھکی ورکرز کی سیلری شیٹ بنا رہی تھی۔
“سفیر احمد صاحب کا بیٹا یہ بھول گیا ہے کہ وہ سفیر جہانگیر کی بیوی بھی ہے؟؟؟”
سفیر جو کب سے اس کا منتظر تھا آخر تنگ آ کر بولا تھا۔
“ارے یاد ہے مجھے بس سفیر آ رہی ہوں،اصل میں پتہ ہے میں نے کیا کیا ہے؟’
وہ خوشی سے لال ہوتی بولی تھی۔
دعا جس کو سفیر نے شادی کے فورا بعد دعا انڈسٹری میں ساری کمیاں پوری کر کے رواں حالت میں سونپ دیا تھا۔وہ دن رات اس کی کامیابی میں جت گئی تھی۔ابھی بھی وہ اسی کے ورکرز کی سیلری شیٹ بنا رہی تھی۔وہ سب اچھے سے کر رہی تھی مگر اکثر سفیر اس کے علم میں لاۓ
بغیر اس کی فیکٹری کے متنازعہ معملات حل کر دیاکرتا تھا۔مختصر یہ کہ وہ کمپنی نا پرافٹ دے رہی تھی نا ہی لاس وجہ یہی تھی کہ دعا پورے سال میں تین بار ورکرز کی سیلری بڑھا چکی تھی اس کا ماننا تھا کہ کسی مزدور کی بیٹی کو اس کے باپ نے بیٹا بنانا ھوگا مگر کم سیلری کی وجہ سے وہ اسے پڑھا نہیں پا رہا ہوگا،لہذا سیلری بڑھانا اشد ضروری ہو گیا ہے سفیر چپ چاپ اس کے کمپنی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروا دیتا اور وہ یہی سمجھتی کہ کمپنی بہت اچھا کما رہی ہے۔وہ سفیر جیسی ہی تھی لوگوں کو مختلف عزت دار طریقوں سے پیسے دے کر خوشی سے جھوم جانے والی،دعا انڈسٹری فقط دعا ئیں اكهٹی کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گیا تھا باقی مادی لحاظ سے اس کا ہونا نا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔وہ سب تو بس دعا کا بیٹا بننے کے خواب کی تعبیر تھا۔
“ایک مزے كی بات بتاؤں آپ کو سفیر؟؟”
وہ خوشی سے پہیلی بھجوانے کے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
“نہیں اتنی دور سے بالکل نہیں سنوں گا تمہاری مزے کی بات،میرے پاس آ کر بتاؤ”
سفیر ناراضگی ظاہر کرتا اپنے ساتھ اس كی جگہ خالی کرتا بولا تھا۔
“اچھا آتی ہوں”
وہ ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر اس کے سہارے اٹھ کر اب اپنا ہاتھ پیٹ پر رکھ کر چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ہوئی سفیر کے ساتھ آ کر لیٹ گئی تھی۔
“تمہارے بیٹے بننے کے چکر میں ہم باپ بیٹی مفت میں جاگتے ہیں،سو جا میری گڑیا”
سفیر دعا کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا تھا۔جہاں بچہ ٹھیک ٹھاک حرکت کرتا دیکھا جا سکتا تھا۔
“میں مزے كی بات بتانی تھی آپ کو”
وہ پھر سے مسکرا کر بولی تھی۔
“بتاؤ میں سن رہا ہوں”
وہ پرسکون سا آنکھیں بند کرتا ہوا بولا تھا۔
“میں نے پھر سیلری بڑھا دی میں کہہ رہی تھی عید آنے والی ہے تو ورکرز کے بچوں نے ان سے نئے کپڑے جوتے مانگے ہونگے”
وہ اس بات سے اداس ہوگئی تھی۔
“چلو اچھا کیا میری دعا نے تم لسٹ بنا کر دے دینا جو زیادہ ڈیزرونگ ہے میں بھی ان کی مدد کردوں گا چلو اب مجھے سلاؤ دعا”
وہ نيم غنودگی میں بولا تھا۔
“بھلا آپ کوئی چھوٹے بچے ہیں سفیر جو میں آپ آپ کو سلاؤں”
وہ خوشی سے چہک کر بولی تھی۔
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں دعا”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا۔
“میں بھی”
وہ شرما کر بولی تھی۔
کتنا سکون تھا اس محرم کی محبت میں ۔۔۔۔
۔*********”**
دو سال بعد ۔۔۔
“ابراھیم دیکھ کر بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں؟؟؟”
ماہین جو آج نئی سٹالش ہیئر کٹنگ کروا کر آئی تھی چہک کر ادا سے کھڑی ہو کر پوچھ رہی تھی۔
“بہت اچھی”
“چلو میرا بےبی،آئس کریم کھاؤگے؟؟”
ابراھیم اپنے بیٹے سعد کو گود میں پکڑے اس کے نرم نرم گال سہلا کر پوچھ رہا تھا۔
“بنا دیکھے ہی بول رہے ہو جانتی ہوں میں”
وہ ناراض ہوتی بولی تھی۔
“ارے نہیں میری جان ایسا نہیں ہے تم جتنی خوبصورت ہو تمہاری تعریف تو میں آنکھیں بند کر کے بھی کر سکتا ہوں”
وہ بیٹے کو کھیلونوں کے ساتھ بیٹھا کر اس کو اپنے حصار میں لے کر بولا تھا جس پر وہ دل سے مسكرائی تھی ۔
“ابراھیم تمہاری محبت نے مجھے مجبور کیا تم سے بے پناہ محبت کرنے پر،یہ سچ ہے میں تم سے بے پناہ محبت کرتی ہوں”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی سچائی سے بولی تھی۔
“ماہین روم میں چلیں؟”
وہ شرارت سے بولا تھا۔
“ہاں”
وہ آنکھ مار کر بولی تھی ساتھ ہی وہ قہقہ لگا کر لوٹ پوٹ ہوئی تھی۔دونوں ماں باپ کو هنستا دیکھ کر ان کا بیٹا سعد بھی کلکاریاں مارکر ہںسنے لگا تھا ۔
“اچھا دعا بھابھی اور سفیر بھائی کی بیٹی ماہم کی برتھ ڈے پارٹی ہے جلدی تیار ہو جاؤ بھائی کب سے فون کر رہے ہیں۔
ابراھیم اس کو اپنی گرفت سے آزاد کر کے بولا تھا۔
“ہاں دعا بھی کافی میسجز کر چکی ہے۔میں بس جلدی سے تیار ہو کر آتی ہوں جان”
وہ رومانٹک انداز میں بولی تھی۔
“ابراھیم میں نے کلر کومبو ہم تینوں کا سیم رکھا ہے”
وہ اپنے بازو اس کے گردن کے گرد حائل کرکے محبت سے بولی تھی۔
“وہ کیوں ظالم حسینہ”
وہ محبت سے بولا تھا۔
“میں چاہتی ہوں کہ میں پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ محبت بار بار ہوتی ہے،اسی ایک شخص سے جو آپ کو عزت اور محبت دیتا ہے جو آپ کی غلطیوں کوتاہیوں سميت قبول کر کے سدھرنے کا وقت دیتا ہے،موقع دیتا ہے”
وہ ابراھیم کے ماتھے کو چوم کر بولی تھی۔
“آآ ہاں ۔۔۔”
ابراھیم نے سرشار ہو کر کہا تھا۔
“محبت کرتا ہوں کہہ دینا کافی نہیں ہوتا ہے۔محبوب کی غلطیوں کو معاف کرنا بھی محبت کے لئے لازم ہے،تم نے میرا ہر رویہ برداشت کیا تب تم صرف میرے دوست بن کر میری بات سنتے اور سمجھتے
شوہر بن کر مجھ سے منہ نہیں موڑتے تھے۔میں نے سنا تھا عورت مرد کو بے وفائی کے ساتھ قبول کرتی ہے مگر تم نے برسوں کی روایت ہی توڑ ڈالی ابراھیم۔ہمیشہ ایک عورت اپنے شوہر کے میچورڈ ہونے کا انتظار کرتی تھی مگر تم پہلے مرد ہو شاید جس نے مجھے سمجھ دار ہونے کا وقت دیا۔کوئی بھی انسان مرد ہو یا عورت وہ فطرتأ صحیح یا غلط نہیں ہوتا بس اس کے میچورٹی لیول آنے کا وقت مختلف ہوتا ہے کسی کی سوچ میں جلدی پختگی آ جاتی ہے کوئی زیادہ وقت لے لیا کرتا ہے مگر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو ان کا پارٹنر اس وقت تک سمنبهالے رکھتا ہے ان کو بیچ منجھدار میں چھوڑ نہیں دیتے۔اصلاح تبھی ممکن ہے جب دوسرا بندہ پہلے بندے کی برائی کو اپنی اچھائی سے زیر کرتا ہے اصل محبت کا امتحان ہی تب ہے جب آپ کی بیوی یا شوہر غلط راہ پر چل نکلیں مگر آپ اس کا ہاتھ چھوڑنے کی بجاۓ اپنی محبت سے یہ ثابت کر دیں آپ ان کو کسی حال بھٹکنے نہیں دے سکتے،محبت سے اسے اپنی آغوش میں بھر کر اس غلط را ہ سے دور لے جایئں،جیسا تم نے کیا ابراھیم”
وہ اپنی ناک ابراھیم كی ناک سے رگڑ کر بولی تھی۔
“آج سب سے برملا کہتی ہوں ابراھیم،مجھے تم ہی سدھار سکتے تھے۔مجھے تم پر آنکھیں بند کر کے اعتبار ہے”
وہ اپنی آنکھیں بند کر کے بولی تھی۔
“یار تم کام خراب کررہی ہو صاف صاف کہہ دو روم میں چلتے ہیں؟؟”
وہ قہقہ لگا کر بولا تھا۔
“زیادہ فری نا ہو تم میں تیار ہونے جا رہی ہوں”
وہ اسے پیچھے دکھیل کر بولی تھی۔
وہ جا چکی تھی جبکہ ابراھیم سعد کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا تھا۔
“پوری کی پوری فلم ہے سعد آپ کی مما”
ابراھیم كی اس بات پٹ سعد مسکرا دیا تھا۔
۔*******
اس وقت سفیر کے عالیشان گھر پر تھے۔جہاں دعا اور سفیر کی بیٹی ماہم کی پہلی سالگیرہ تھی۔
مريم خاتون بھی آئی تھیں۔
“ماسی کیسا جا رہا ہے کام؟؟”
سفیر مريم خاتون کے پاس آ کر بیٹھا تھا۔
“بہت شکر اللّه سونڑے کا سفیر پتر “
وہ پر جوش سے پنجابی میں بولی تھیں۔
“آپ تو ڈاکٹر مريم بن گئی ہیں ماسی”
وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔جس پر وہ حیران ہوئی تھیں۔
“وہ کیسے بیٹا جی؟؟”
وہ اپنا ہاتھ چہرے پر رکھ کر پوچھ رہی تھیں۔
“آپ بے سہارا عورتوں کو اپنے گھر میں جمع کر کے کھانا پينااور ہربنيادی ضرورت پوری کرتی ہیں۔وہ عورتيں جو تنہائی کا ایسا شکار ہوئی کہ ذہنی مریض بننے لگی آپ ٹوٹے دلوں کو اچھے ماحول میں جوڑ کر رکھے ہوۓ ہیں۔رشتوں کے ہوتے ہوۓ بھی تنہا ہو جانا بھی تو بیماری ہیں نا ماسی؟؟؟آپ تنہائی کا علاج کرتی ہیں وہ عورتیں جو اپنا منہ دھونا بھول گئی تھیں اب پھر سے جینے لگی ہیں صرف اور صرف آپ كی بدولت زندگی دینا تو خدا کے بعد ایک ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہی ہے نا؟؟”
وہ ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا رسان سے بولا تھا۔
“ہاں پتر تنہائی کتنی بڑی بیماری ہے اس کا پتہ مجھ سے زیادہ کسے ہوگا”
“سچ پوچھو تو بیٹا جی میں اپنا علاج کر رہی ہوں۔انسان انسان ہی ہیں ڈنگر مال مویشی کبھی انسانوں کی جگہ نہیں لےسکتے میں تنگ آ گئی تھی ان کے ساتھ سے پتر وہ بس سنتے تھے اب مجھے کسی بولنے والے کی لوڑ تھی،بس پناہ گاہ کا بورڈ لگانے کی دیر تھی گیٹ پر گھر ہر عمر کی عورتوں سے بھر گیا۔ابھی کل ایک بچی کا علاج مکمل کروا کر گاؤں کے لڑکے سے بیاہ کر فارغ ہوئی ہوں۔بہت ہی دل خوش ہوا میرا سفیر پتر یتيم تھی،بھائیوں نے بیوی کے کہنے پر مار مار کر پاگل کر دیا تھا۔اور میری ریحانہ ہے نا جس کی سال پہلے شادی كی تھی وہ بھی ایسی ہی کسی وجہ سے میرے پاس آئی تھی۔اس کے ہاں رب سونڑے نے بیٹا بیٹی کا جوڑا دیا ہے بہت خوش ہے وہ اپنے گھر روز فون کرتی ہے۔مجھے ایسا لگتا ہے میری سگی اولاد ہے،پتر ساری بات احساس کی رکھی ہے رب سونڑے نے رشتوں میں احساس نا رہے تو اپنی اولاد بھی غیر بن جایا کرتی ہے اور جہاں مجھ جیسے پر رب کی رحمت ہو تو پھر غیر بھی اتنی محبت اتنی چاہت دیتے ہیں کہ میں فون سن سن کر سجدے میں گر جاتی ہوں”
ان کی آنکھوں میں رب کی رحمت کی تشکر کی نمی آئی تھی۔
سفیر بھی ان کی بات پر بے آواز رو دیا تھا۔
“آپ میری ماں ہو میں آپ کا بیٹا ہوں”
وہ مسکرا کر ان کے آنسو صاف کرتا ہوا کہہ رہا تھا۔
“جانتی ہوں پتر مگر میری بہو کدھر ہے؟؟”
وہ یہاں وہاں دیکھ کر بولی تھیں۔
“وہ اپنے فیکٹری کے ورکرز میں خود کھانا تقسيم کر رہی ہے،اس نے سب کو فیملی سميت ماهم کی خوشی میں بلايا ہے۔ماهم کو بھی ساتھ ہی پکڑا ہوا ہے۔اس کا کہنا ہے وہ جو ہمیں کرتا دیکھی گی کل وہ ہی کرے گی بس گرمی میں اسے بھی لیے لیے پھر رہی ہے بس آنے والی ہے پھر كيك کاٹتے ہیں ماسی”
وہ مسکرا کر بتا رہا تھا۔
سامنے ابراھیم اور ماہین سیلفياں بنا رہے تھے۔وہ دونوں بہت خوش اور مکمل لگ رہے تھے۔
اب ماہین مختلف سٹایلش پوز بناتی مگر ابراھیم اس پر کوئی ہارر شکل لگا دیتا وہ اپنی پكس دیکھ کر اب ابراھیم کے کندھے پر چپت مار کر ناراض ہو رہی تھی جس پر ابراھیم
اسے ہاتھ سے پکڑ کر قريب کر کے کان پکڑ کر منا رہا تھا۔
سفیر نے ان کی کھٹی میٹھی نوک جھوک دیکھ کر ایک اطمینان بھری لمبی سانس کھینچ کر خارج کی تھی۔سعد کو امی گود میں پکڑ کر کھیلا رہی تھیں۔
پھر اس کی نظر سامنے سے آتی دعا سفیر پر پڑی تھی جو حجاب میں نورانی چہرہ لئے ماهم کو اٹھاۓ مسکراتی ہوئی سفیر کے پاس آئی تھی۔
“دعا سفیر عرف پاپا کا قابل بیٹا بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ”
سفیر ماہم کو گود میں اٹھاتے ہوۓ دعا کو دیکھتا ہوا مسکرا کر بولا تھا۔
“ارے یہ ہمارا بيڈ روم تھوڑی ہے تھوڑا خیال کریں”
وہ شرما کر حجاب ٹھیک کرتی بولی تھی۔
“یہ سفيد فراک بہت پیاری لگ رہی ہے آپ پر مسز”
وہ اسے پزل کرتا ہوا مزيد بولا تھا۔
“سفیر آپ کو پتہ ہے نا یہ سب مجھے پبلک پلیس پر اچھا نہیں لگتا”
وہ منہ بسور کر کہہ رہی تھی۔
“یار بیوی ہو تم میری اور کون سن رہا ہے ادھر”
وہ پاس ہوتا کندھا مار کر بولا تھا۔
“سفیر”
وہ اس کا نام کھینچ کر لیتی بولی تھی۔
“جی مسز سفیر”
وہ فورا سے بولا تھا۔
“دعا آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہے”
وہ کان میں سرگوشی سے کہتی ہوئی ماهم کو سفیر کی گود سے لے کر چلتی بنی تھی۔
سفیر اس كی اس بات سے بہت حیران ہوا تھا۔وجہ پبلک پلیس ۔۔۔۔
“الحمدللّٰه”
بے اختیار سفیر کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوا تھا۔
وہ اپنی دنیا دعا اور ماهم کے پیچھے پیچھے چلتا مسلسل اس كلمے کا ورد کررہا تھا۔
اب كيك کاٹا جا رہا تھا۔
سو اس طرح محبت سے شروع ہونے والا یہ سفر غداری سے ہوتا ہوا محبت پر ختم ہوا تھا۔۔۔۔
