Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 7
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 7
صبح سفیر ناشتہ کر کے جلدی سے تیار ہونے گھر کی طرف آیا تھا وہ تیار ہوا اور سعید صاحب كی طرف نکل گیا رات کی بارش سے موسم خاصہ خوش گوار ہو چکا تھا۔
“سر میں آپ کے گھر پوھنچ گیا ہوں بس دو منٹ اور لگے گے مجھے”
سفیر نے کال ملا کر سعید صاحب کو آگاہ کیا تھا۔
“میں آپ کو گیٹ پر ہی ملوں گا”
وہ کہہ کر کال کاٹ چکے تھے۔
کچھ ہی دیر میں سفیر اور سعید صاحب اب اسی گاڑی میں براجمان تھے۔
“سر جانا کدھر ہے ؟؟”
سفیر نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔
“میرے گاؤں میری پہلی بیوی مريم کے پاس”
وہ فورا سے بولے تھے۔سفیر خاموش ہوگیا تھا۔
“وجہ پوچھ سکتے ہو آپ سفیر”
وہ دھیمے لہجے میں بولے تھے۔
“نہیں سر ۔۔۔۔مجھے آپ کی پرسنل لائف میں مداخلت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،آپ خود سے بتانا چاہیں تو میں اچھا سامعہ ثابت ہو سکتا ہوں”
وہ مصروف سا گاڑی کا گیر لگاتا ہوا بولا تھا۔
“معافی۔۔۔معافی مانگنا چاہتا ہوں۔میں نے اسے شوہر ہوتے ہوۓ بھی بیوہ والی زندگی گزارنے پر مجبور کیا،اللّه نے میرا ایسا حساب کتاب بنایا کہ میں بیوی ہو کر بھی ساری عمر اس سے دور رہا،میں نے اسے بے اولاد رکھا اللّه نے مجھے اولاد دی بھی تو ایسی کہ مجھے باپ والی عزت اور مان نہیں دیتی”
وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے تھے۔
“اب میرا دم گھٹنے لگا ہے،مريم کی خاموشی نے میری زندگی میں شور بھر دیا ہے”
وہ اپنے گريبان کے قریب والے بٹن کھولتے ہوۓ لمبی سانس لے کر بولے تھے۔
“مجھے لگتا تھا مکافات عمل ایک گھسا پیٹا سا دقیہ نوسی جملہ ہے جو صرف غریب بوقت ضرورت بولتے ہیں،مگر ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ واقعی اٹل ہے”
“محروم کروگے تو محروم ہو جاؤگے”
وہ کہیں سے بھی کروڑوں کا مالک نہیں لگ رہا تھا وہ تو کسی روڈ پر بیٹھے ہوۓ فقير سے بھی زیادہ پسماندہ شخص لگ رہا تھا۔سفیر کو اس پر واقعی ہی ترس آیا تھا۔وہ ان کے بتاۓ ہوۓ راستے پر جاتے ہوۓ اب گاڑی کو کچی سڑک پر اتار چکا تھا۔
آخر ان کی منزل ایک بڑی سی حویلی تھی۔
“مريم بی بی کو بتاؤ سعید صاحب آۓ ہیں شہر سے”
سعید صاحب نے شیشہ نیچے کر کے بڑے سے لكڑی کے گیٹ کے آگے بیٹھے ملازم کو کہا تھا جو سر ہلاتا ہوا اندر چلا گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ لكڑی کا بڑا دروازہ کھول دیا گیا تھا وہ حویلی اندر سے جانوروں کا باڑہ لگ رہی تھی جہاں بہت سی بھینسیں،بكریاں،مرغیاں،بطخیں اور بڑے منہ والے تین چار کتے بندھے ہوۓ تھے۔وہ اپنے بڑے بڑے منہ کھولے سعید اور سفیر کو دیکھ رہے تھے۔ان سب میں ایک عورت مردانہ کپڑے پہنے بڑا سا دوپٹہ لئے،ناک میں چوڑا سا کوکا پہنے ، جس کی بڑی بڑی آنکھیں سرمے سے بھری ہوئی تھیں اب بھینسوں کو چارہ ڈال رہی تھی۔
وہ کتے اب بھونکنے لگے تھے جس پر اس عورت نے ان کے سروں کو سہلایا تھا وہ دم ہلاتے چپ کر گئے تھے۔وہ مردانہ چال چلتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی تھی۔اس نے سر جھکا کر ہاتھ کے اشارے کے ساتھ دونوں کو سلام کیا تھا۔
“پھیکے دودھ گرم کر کے اس میں پتی پھینک کر لاؤ”
وہ پنجابی میں سعید کو گھورتی ہوئی بلند آواز میں بولی تھی۔
“جی مالكن”
ایک آدمی جو پاس ہی کھڑا تھا وہ سر جھکا کر بولا تھا۔
“ساتھ تازہ بسکٹ بھی لانا،جو صبح میں نے دیسی گھی میں حلوہ بنایا تھا وہ بھی ساتھ لیتے آنا”
(ان کی یہ بات بھی خالص پنجابی میں تھی)
وہ مزيد بولی تھی ساتھ ہی اس نے ان دونوں کو اندر آنے کا اشارہ کیا تھا۔
یہ کمرہ جو کہ مہمان خانہ تھا پرانے مگر نفيس سامان سے مزين تھا۔وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے۔وہ بھی سامنے موڑا لے کر بیٹھ گئی تھی۔
“کیسی ہو مريم ؟”
سعید صاحب بے چین سے ہمت کر کے بولے تھے۔ایسا لگ رہا تھا یہ سوال بہت مشکل سے ان کے لبوں نے پوچھنا قبول کیا تھا۔
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
“بہت اچھی ہوں”
وہ قہقہ لگا کر پھر سے پنجابی میں گویا ہوئی تھی۔
“بہت ۔۔۔۔۔۔بہت ۔۔۔۔۔بدل گئی ہو تم۔ ۔۔۔۔”
سعید صاحب نے اس کی آنکھوں میں بمشکل دیکھ کر کہا تھا۔ان کی بے چینی ان کے ہاتھوں سے بھی معلوم ہو رہی تھی جو وہ بار بار ایک دوسرے میں پهنسا کر الگ کر رہے تھے۔
“کہا جاتا ہے سائی زندہ رہنے کے لئے تو ناگن بھی روپ بدل لیتی ہے میں تو پھر انسان تھی”
(پنجابی)
اس کا لہجہ کاٹ دار تھا۔سعید صاحب نظریں جھکا گئے تھے۔
“مجھے ۔۔۔۔مجھے معاف کردو”
اچانک سعید صاحب مريم کے پیروں میں بیٹھ کر روتے ہوۓ بولے تھے۔وہ گھبرا کر کھڑی ہوئی تھی۔وہ بری طرح کانپنے لگی تھی اس میں چھپی عورت فورا باہر نکلی تھی۔وہ اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی چیخ روک رہی تھی۔اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے اس نے بھاگ کر دروازہ بند کیا تھا۔
“یہ کیا کیا آپ نے سائی مجھ جنم جلی کو گناہگار کر دیا آپ نے میں رب کو کیا منہ دکھاؤں گی بھلا اب ؟؟؟؟؟؟”
وہ دھاڑے مار کر اب رونے لگی تھی سفیر یہ سب حیرانگی سے دیکھ رہا تھا۔
“میں نے یہی سنا رکھا تھا شوہر مجاذی خدا
ہوتا ہے سائی۔۔۔۔آپ نے یہ اچھا نہیں کیا ۔۔۔آپ نے مريم کو ایک بار پھر جیتے جی مار دیا”
وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ایسا لگ رہا تھا برسوں کا سوگ آج منا رہی ہے۔وہ نیچے فرش پر بیٹھ گئی تھی سعید صاحب اسے چپ کروانے کی بجاۓ اسے گلے لگا کر اتنی ہی شدت سے رونے لگے تھے۔سفیر کو اپنا آپ یہاں غیر ضروری لگا تھا مگر وہ خاموشی سے یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا۔
“مريم میرے ساتھ چلو ،میں تمہیں وہ مقام ضرور دوں گا جس کی تم مستحق تھی بلکہ تم ہی اس مقام کی مستحق ہو”
وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوۓ مسلسل یہی بات دوہرا رہے تھے۔وہ ہر بار نفی میں سر ہلاتی اور روتی جاتی۔
“مجھے آپ کے ساتھ کی اب طلب نہیں رہی سائی،میں نے سنا تھا عورت کمزور ہوتی ہے بس اس خوف سے میں نے خود کو اتنا مضبوط کر لیا کہ آج مجھے عورت کوئی نہیں سمجھتا”
وہ پنجابی میں سعید کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے روکتی ہوئی بولی تھی۔
“مجھے ہاتھ مت لگائیں سائی ۔۔۔۔بڑا وقت لگا ہے مجھے اپنے اندر کی عورت کا جنازہ پڑھنے میں”
وہ سعید کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انھیں کھڑا کر کے دوبارہ اسی کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ بولی تھی ۔
اتنے میں ملازم چاۓ اور دیگر لوازمات لئے اندر آیا تھا۔
“ہور کوئی حکم مالکن”
وہ فرمانبر داری سے پوچھ رہا تھا جس کا جواب مريم نے ہاتھ کو نفی میں ہلا کر دیا اور ساتھ ہی اسے جانے کا اشارہ کیا۔اب وہ گرم گرم چاۓ اور پلیٹ میں حلوا اور بسكٹ رکھ کر دونوں کو پکڑا کر واپس بیٹھ گئی تھی۔
اس کا چہرہ کسی صحرا کی طرح خشک اور ویران تھا۔وہ لوگوں کی نظر میں ایک مضبوط عورت تھی جس نے شاید اس کا آج کا سچ نہیں دیکھا تھا ایسا لگ رہا تھا وہ ایک خول نما وجود ہے جو اندر سے بلکل خالی ہے۔سفیر کو اس پر رحم آیا تھا۔
“یہ کون ہے لڑکا”
سوال دوبارہ خالص پنجابی میں ہوا تھا۔
“میرا بیٹا ہی سمجھو،میرے ساتھ کام کرتا ہے بیٹوں جیسا ہے”
وہ بھی اب نارمل ہو کر بولے تھے۔یہ سن کر سفیر کے گلے میں خالص چائے کا گھونٹ کڑوہ ہوتا محسوس ہوا تھا۔وہ چاۓ کا کپ واپس رکھ چکا تھا۔
“تو تم میرے ساتھ واپس نہیں جاؤ گی مريم ؟؟”
سفیر صاحب حلوے کو چمچ میں بھرتے ہوۓ پوچھ رہے تھے۔
“نہیں ۔۔۔۔کہوں گی تو رب ناراض ہوگا۔۔۔۔سائی پڑھی لکھی ہوتی تو ناں کہنے کا کوئی جواز ڈھونڈ لیتی میں تو ٹھہری چٹی ان پڑھ ۔۔۔جو بڑوں سے سنا بس اتنا ہی جانتی ہوں۔۔۔۔آپ جیسا حکم کرو ۔۔۔۔۔”
وہ سادہ الفاظ میں ایک بسکٹ آدھا توڑ کر منہ میں ڈال کر اپنی انگلیاں جھاڑتی پنجابی میں بولی تھی۔
“نہیں ایسے میں تمہیں مجبور کر کے اپنا پابند نہیں کرنا چاہتا مريم جب تمہارا دل نہیں ہے تو ۔۔۔”
سعید صاحب کے جملے میں تھکاوٹ ہی تھکاوٹ تھی۔
“سائی ۔۔۔۔باہر آپ نے جانور دیکھیں ہیں نا ؟؟یہ بڑے وفادار ہیں میرے ۔۔۔۔۔یہ بس جانور ہی ہیں ۔۔۔۔یہ انسان نہیں ہیں ۔۔۔۔یہ مجھ جاہل کی نیت اورخدمت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں،یہ جانتے ہیں میں بس دل کڈ کے نہیں رکھ سکتی ورنہ میری محبت میں کمی بس اتنی سی ہی ہے”
اس کی آواز بھاری ہوئی تھی۔
“میں اس سب کی تلافی کرنا چاہتا ہوں مريم”
سعید صاحب نے چاۓ کا کپ رکھ کر شکستہ آواز میں کہا تھا۔
“آپ مجھے میری جوانی لوٹا سکتے ہیں سائئ؟؟؟؟”
“وہ خواب جوڑ سکتے ہیں جن کی ٹوٹی کرچیاں اب تک میری آنکھوں میں چھب کر جلن پیدا کرتی ہیں؟؟؟؟؟”
“وہ لمحے لوٹا سکتے ہیں جو میں نے بیوہ بن کر گزار دیے؟؟؟”
“آپ میری سونی گود بھر سکتے ہیں؟؟؟”
“آپ مجھے میری نسوانیت لوٹا سکتے ہیں ؟؟؟آپ مجھے وہ نزاکت لوٹا سکتے ہیں جو میں نے خود سے نوچ کر اتار پھینکی،آپ وہ ڈھونڈ کر لا سکتے ہیں؟؟؟”
وہ پھٹ پڑی تھی۔
“گزرے وقت کا کفارہ نہیں ہوا کرتا سائی ۔۔۔۔۔۔وہ تو سرطان بن جایا کرتا ہے”
سعید صاحب اب اپنی بائیں جانب خود کو ملنے لگے تھے ان کے چہرے پر آتے کرب کے ساۓ ان کی دلی کیفیت بتانے لگے تھے۔وہ جانے کے لئے اٹھے تھے۔
“دل پر کوئی بوجھ مت لے کر جائیں سائی آپ کی اس ان پڑھ منکوحہ نے آپ کا ہر پچھتاوه معاف کیا”
وہ بھی اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی۔وہ ان پڑھ عورت ایک پڑھے لکھے مرد کو اپنے صبر اور بڑوں کی تربیت سے چت کر چکی تھی۔
وہ گاڑی میں بیٹھ کر آنکھیں موندے باقی کے سفر بلکل خاموش رہے تھے۔
“مجھے گھر چھوڑ آؤ سفیر بیٹا،تم فلق کے پاس سے ہو کر گھر چلے جانا آفس میں آج ویسے بھی کوئی خاص کام نہیں تھا۔”
وہ اسی پوزیشن میں بولے تھے۔
“سر مجھے دو چھٹیاں چاہیے،میرے فسٹ کزن كی شادی ہے آج مہندی،کل بارات اور پھر ولیمہ ہے”
سفیر کو یاد آیا تھا۔
“بیٹا آفس سے کرلو مگر فلق کے لئے وقت نکال لینا،یہ لڑکی مجھے قبر میں ڈال کر ہی دم لے گی”
وہ تکلیف سے کہہ رہے تھے۔
“جی سر”
سفیر نے نا چاھتے ہوۓ بھی یہ کہہ دیا تھا۔
وہ سعید کو گھر ڈراپ کر کے اب فلق کی طرف چل پڑا تھا۔
جو صبح سے مسلسل فون کر رہی تھی۔
