Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 11
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 11
سفیر حسب عادت صبح جلدی اٹھ گیا تھا ۔خالدہ بيگم اس کے آفس کے حساب سے ناشتہ تیار کرنے اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے میں مصروف تھیں باقی سب سو رہے تھے۔وہ رات ابراھیم کے ساتھ اپنے کمرے میں سویا تھا جبکہ ماہین خالدہ بيگم اور طلعت کے ساتھ دوسرے کمرے میں۔
“مجھے امی کو کل سر سعید کے ساتھ ہونے والی ساری بات بتا دینی چاہیے”
وہ صحن میں تولیے سے منہ خشک کرتی ماں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔
“نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔ابھی ابھی ان کو میری ڈبل سیلری کی خبر نے خوشی دی تھی،میری بے روزگاری کا جان کر وہ پریشان ہو جائے گی،جب تک نئی نوکری نہیں مل جاتی میں گھر میں کسی کو بھی وہ سب نہیں بتاؤں گا،ماہین کو بھی نہیں۔۔۔۔۔ وہ جو کل ہی رخصت ہو کر میری زندگی کا حصہ بننے کے خواب سجاۓ بیٹھی ہے اس کو پھر سے اداسی گھیر لے گی”
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اب وہ ابراھیم کو دیکھ رہا تھا ۔
“یہ جو ہفتہ ہو گیا گھر پر ہے لگتا ہے اس کی بھی جاب کا کوئی مسلہ چل رہا ہے،اس کو بتا دیا تو یہ بھی پریشان ہو جائے گا،کتنے سکون سے میرا ہاتھ اپنے سر پر ہونے کی وجہ سے سو رہا ہے اس کا یہ سکون ۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں چھين سکتا ۔۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا اپنی کنپٹی سہلانے لگا تھا۔
اب خالدہ بيگم کچن میں چلی گئی تھیں برتنوں کی کھڑک بتا رہی تھی وہ ناشتہ بنانا شروع کر چکی ہیں۔
سفیر نہانے کے لئے جانے کی بجاۓ ان کے پاس پڑی چوکی پر بیٹھ گیا تھا وہ بس ماں کو بہانے بہانے سے دیکھ رہا تھا۔
“ماں بھی کتنی عجیب ہستی بنائی ہے رب نے نکاح بیٹے کا ہوا ہے خوشی کی لالی ان کے چہرے کو رنگ رہی ہے”
وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کر مسکرا دیا تھا۔
“ماں اپر والا پورشن شروع کرنے کا کہہ رہی تھیں مگر ۔۔۔۔اب تو سر ہو سکتا ہے میری بنتی سیلری بھی روک دیں ۔۔۔۔ڈبل تو دور کی بات ۔۔۔۔۔کیا کروں ۔۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے سر کجھاتا ہوا اٹھ گیا تھا غسل خانے نہاتے ہوۓ بھی وہ انہی خیالات میں ڈوبا رہا ۔۔۔
“کہیں میں کوئی غلطی تو نہیں کر رہا ۔۔۔گھر والوں کو فلق اور اس سر سعید کا سچ چھپا کر”
وہ تولیے سے بال رگڑتا ماں،ابراھیم اور ماہین کے کمرے پر نظر ڈال کر سوچ رہا تھا۔
“سفیر بیٹا ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو”
خالدہ بيگم کی آواز سے اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔وہ تولیہ تار پر ڈال کر دوبارہ چوکی پر آ کر بیٹھ گیا تھا۔
“بیٹا میں تمہیں کل سے نوٹ کر رہی ہوں تمہارا رویہ نارمل نہیں ہے ۔۔۔نا خوشی کا اظہار تمہاری پریشانی چھپا پایا نا ہی تمہاری یہ خاموشی آخر بات کیا ہے میری جان،ماں صدقے واری،مجھے بتاؤ؟؟؟”
وہ پراٹھے کی سائیڈ بدلتی ہوئی بیٹے کا اندر تک ایکس رے کرتی ہوئی پوچھ رہی تھیں۔
سفیر جو مزيد اس بوجھ کو اٹھانے سے قاصر تھا سب بتا ہی دیتا شاید مگر ابراھیم کی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
“بھائی کب سے آپ کا موبائل بج رہا ہے نیند خراب کردی ہے ساری میری”
وہ موبائل سفیر کے ہاتھ میں تهما کر آنکھیں ملتا ہوا واش روم گھس چکا تھا۔
سر سعید کی دس مسڈ کالز اس کی منتظر تھیں۔
“امی آفس سے فون ہے میں بات کر کے آتا ہوں”
وہ کال بيک کرتا ہوا چھت پر آ گیا تھا۔
“جی سر السلام علیکم”
وعلیکم السلام سفیر میں نے تم سے معافی مانگنے کے لئے فون کیا ہے ۔۔۔۔در اصل فلق کو میں بہت جلد واپس کینڈا بھیجوانے والا ہوں ۔۔۔اس کا معملہ تم ختم سمجھو ۔۔۔تمہاری دو دن کی چھٹی ختم ہوئی تم آفس آ جاؤ ۔۔۔بہت کام پینڈنگ میں پڑے ہیں”
وہ ٹوٹل پیشہ وارانہ انداز میں بولے تھے۔
“اوکے سر،تھینک یو”
وہ اپنی اندر کی خوشی چھپاتا ہوا نارمل لہجے میں بول کر فون کاٹ چکا تھا۔
“یا اللّه تیرا شکر ہے ۔۔۔۔آپ نے میری بہت بڑی پریشانی ختم کردی”
وہ رب کا شکر ادا کرتا پیچھے مڑا تو ماہین کو اپنا منتظر پایا۔وہ اسے دیکھ کر خوشی سے مسکرا دیا تھا۔
“مسز سفیر کو نکاح کی پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو”
وہ اس کے پاس کھڑا ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا محبت سے بولا تھا۔وہ جو ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی،اپنی آدھ کھلی آنکھوں کو چندیاتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی تھی۔
“اب تو قریب آ جایا کرو یار بیوی ہوں تمہاری وہ بھی حق حلال کی،اب تو کوئی حد نہیں ہے ہمارے اور تمہارے بیچ،سب جائیز ہے”
وہ مسکرا کر آنکھ مار کر بولی تھی۔
“اچھا،مجھے یقین آۓ تو میں آگے بڑھوں ماہین ۔۔۔۔مطلب آج تک کسی کو بنا کسی قیمت کے محبت بیوی کے طور نہیں ملی پھر ماہین احمد،ماہین سفیر جہانگیر کیسے بن گئی اتنی آسانی سے؟”
وہ اسے محبت سے دیکھتا ہوا بے یقینی کی کیفیت لئے ہوۓ تھا۔
“چلو پیچھے ہٹو رات بھی تمہیں میرے ساتھ کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا سارا وقت تمہیں یقین ہی دلانے میں گزر گیا میرا ۔۔۔۔تم خود کو خود ہی نظر لگا دو گے سفیر ۔۔۔۔مجال ہے جو کوئی اور بات بھی کرو تم”
وہ بد مزہ ہوتی نیچے جانےکے لئے مڑی تھی۔
“آئی لو یو مسز سفیر”
وہ اسے کھینچ کر اپنے قریب
لا کر بولا تھا۔
“اور ۔۔۔؟؟؟”
ماہین نے اپنے گالوں پر انگلی رکھ کر اسے اشارہ دیا تھا۔جس پر سفیر اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بہت قر یب ہوا تھا ماہین نے آنکھیں بند کر لی تھیں مگر حسب توقع کچھ نہیں ہوا تھا۔
“یہ سب رخصتی کے بعد،میں لیٹ ہو رہا ہوں جان”
وہ کہہ کر تیزی سے نیچے چلا گیا تھا۔
“تم کتنے سادہ ہو سفیر،کتنا کنٹرول ہے تمہیں خود پر،میں دنیا کی خوش نصیب لڑکی بن گئی ہوں”
وہ خوشی سے جھومتی ہوئی نیچے اتر آئی تھی۔
ابراھیم اور طلعت بيگم بھی اٹھ کر ناشتے پر بیٹھ گئے تھے سب نے ہنسی مذاق کرتے ہوۓ ناشتہ کیا۔
سفیر ناشتہ کر کے دروازے میں تیزی سے جاتے جاتے ایک دم رک گیا تھا۔جانے کیوں اس نے سب کو باری باری دیکھا ۔۔۔پھر بے اختیار پورے گھر کو دیکھا پھر اس نے بائیک سٹارٹ کردی۔
“یہ آج اس طرح میری دھڑکنیں بے ترتیب کیوں ہو رہی ہیں گھر سے جاتے ہوۓ؟؟؟”
گھبراہٹ سے اس نے اپنے اپر والے دو بٹن کھول لئے تھے۔
“ایسا کرتا ہوں ابراھیم کو سب بتا کر جاتا ہوں”
وہ بائیک سٹارٹ کر کے اب گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔
“اچھا اب سوال یہ ہے کہ تمہیں بھابھی بولوں یا ماہین؟؟؟”
ابراھیم ماہین کو تنگ کرنے میں لگا ہوا تھا جس پر وہ قہقہ لگا لگا کر خوش ہو رہی تھی۔
“یہ ضرور ماہین کو بتا دے گا،جب فلق جا ہی رہی ہے پھر کیا ضرورت ہے دوبارہ سے اس کا ٹاپک چھیڑنے کی؟؟”
وہ ان دونوں پر ایک نظر ڈالتا ہوا دوبارہ بائیک پر بیٹھ گیا تھا۔
“مزيد اگر کچھ ہوا تو سب کو سب بتادوں گا”
وہ اس فیصلے پر خود کو مطمئین کرتا ہوا آفس کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔
آفس پوھنچتے ہی سر سعید کی پرسنل سیکرٹری نے اسے سر کے آفس فوری طور جانے کا کہا تھا۔
“السلام علیکم سر”
وہ آفس میں داخل ہوا تھا مگر خلاف توقع سر سعید اپنی کرسی پر بیٹھے ہونے کی بجاۓ جانے کے لئے کھڑے تھے۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔سفیر آج سب سے پہلے ہم مريم کے پاس چلے گے کچھ کاغذات پر اس سے دستخط کروانے ہیں،اصل میں،میں اپنا یہ پورا کاروبار یہاں سے کینڈا شفٹ کرنا چاہتا ہوں تا کہ فلق کے ساتھ ہی رہوں بس کچھ زمین جائیداد کا حساب کتاب ہے وہ مريم کے ساتھ کرنا چاہ رہا ہوں،چلو میرے ساتھ”
وہ مصروف سے بولے تھے۔
“مگر سر ؟؟؟”
سفیر نے اتنا ہی کہا تھا کہ سر سعید نے اس کی بات کاٹ دی۔
“وہ میری بیوی ہے سفیر جس سے تم مل چکے ہو،اب میں ہر ورکر کو اپنی ذاتی زندگی میں نہیں شامل کر سکتا،کچھ اور پوچھنا ہے یا چلیں؟؟”
وہ اپنا بیگ ہاتھ میں پکڑے سفیر کو دیکھتے ہوۓ بولے تھے جس پر سفیر نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
اب وہ گاؤں کے راستے پر رواں دواں تھے۔
آج بھی ڈرائیونگ سفیر ہی کر رہا تھا۔وہ جیسے ہی مريم کے گھر پوھنچے ان کو دیکھ کر آج لكڑی کا وہ بڑا سا گیٹ فوری کھول دیا گیا تھا گویا ان کی آمد کی اطلاع فون پر دی جا چکی تھی۔مگر آج اس دن کی طرح مريم خاتون اپنے باڑے میں نہیں تھیں۔اور آج وہ چار وفادار کتے بھی منظر سے غائب تھے۔
سفیر کو اس پورے ماحول سے عجیب سی کوفت اور وحشت ہو رہی تھی۔آج وہ اس کمرے سے ہوتے ہوۓ نیچے طے خانے میں بنے ایک شاندار خواب نما کمرے میں جا پوھنچے تھے۔جہاں مريم خاتون کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی جس کے ہاتھ میں ایک رجسٹر پکڑے ہوۓ تھے بیٹھا ہوا تھا۔جو سفیر کے خیال میں اس علاقے کا پٹواری تھا شاید جیسے حساب کتاب کے سلسلے میں وہاں مدعو کیا گیا تھا۔
“السلام علیکم سائی”
مريم اٹھ کر ادب سے بولی تھی۔جس کا جواب سعید صاحب نے محض سر ہلا کر دیا تھا۔
“سائی اجازت ہے؟؟”
وہ اس بوڑھے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ سعید صاحب سے مخاطب تھی۔سفیر کا اس سب میں دم گھٹ رہا تھا۔
“سر آپ یہ سب کریں میں اپر آپ کا ویٹ کرتا ہوں”
وہ اپنی گردن کے گرد کالر کو لوز کرتے ہوۓ سانس کھینچ کر اٹھ کر بولا تھا۔جس کا سعید صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔سفیر جیسے ہی اٹھ کر دروازے پر گیا اسے سختی سے مقفل پایا۔ان تینوں نفوس میں سے کوئی بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔
“سر یہ دروازہ ؟؟؟”
وہ اتنا ہی بولا تھا جب وہ بوڑھا آدمی مريم خاتون سے مخاطب ہوا تھا۔
“مالكن لڑکی کو بلا دیں،پہلے اسی سے پوچھا جائے گا”
جس کا جواب مريم نے سر ہلا کر دیا تھا اب وہ اسی طے خانے میں بنے ایک اور دروازے کی طرف گئی تھی کچھ وقت ہی گزرا ہوگا وہ سر پر گھونگھٹ ڈالے ایک لڑکی کو اپنے حصار میں لئے بر آمد ہوئی تھی۔سفیر حیران پریشان یہ سب دیکھ رہا تھا۔سارا منظر اس کی عقل سے بالاتر تھا۔وہ لڑکی مريم خاتون کے ساتھ بیٹھ گئی تھی اب ہاتھ کے اشارے سے مريم خاتون نے اس بوڑھے آدمی کو شروع کرو کہا تھا۔سفیر ایک ہاتھ سے داخلی دروازے کی کنڈی پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے لگاتار اپنے چہرے پر آتا پسینہ صاف کر رہا تھا۔
“آپ کا نکاح باعوض دس لاکھ سکہ رائج الوقت سفیر جہانگیر سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟؟”
وہ آدمی جو کہ مولوی تھا گھونگھٹ میں بیٹھی لڑکی سے پوچھ رہا تھا۔
سفیر کی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی وہ اب دونوں ہاتھوں سے دیوار پکڑ کر اس لڑکی کی آواز سننے کی ہمت جمع کر رہا تھا۔
“میں فلق سعید سفیر جہانگیر کو اپنی زندگی بنا کر اپنی زندگی میں تہہ دل سے قبول کرتی ہوں،قبول کرتی ہوں،قبول کرتی ہوں”
وہ گھونگھٹ ہٹا کر جوش سے چیخ کر بولی تھی۔جس پر مولوی نے مريم خاتون کو دیکھا تھا جو نظریں جھکا گئی تھیں۔
سفیر اب دروازہ کھولنے کی جی توڑ کوشش کرنے میں جت گیا تھا۔
