482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 12

“سفیر یہاں آ کر بیٹھو اور نکاح مکمل کرو”

سعید صاحب نرمی سے بولے تھے۔جس کا سفیر نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ مسلسل دروازہ کھولنے میں مصروف تھا۔آخر سعید صاحب نے مريم کو اشارہ کیا تھا کہ وہ مولوی کو دوسرے کمرے میں لے جائے تا کہ سفیر کو راضی کیا جا سکے۔

“سفیر میرے پاس آ کر بیٹھو،یہ دروازہ نہیں کھلے گا تم سے، فضول کی محنت مت کرو،اگر تم میری بات توجہ سے سن لوگے تو شاید میں تمہاری مشکل آسان کر سکوں”

وہ سفیر کی طرف دیکھتے ہوۓ کہہ رہے تھے۔سفیر شکستہ قدم چلتا ہوا ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔وہ خاموش تھا۔فلق یک ٹک اس کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

“سفیر جس جگہ میں بیٹھا ہوں تم بس نکاح کے تین بول بول کر بیٹھ سکتے ہو،میں اپنی بیٹی کی خوشی کے لئے اپنی عمر بھر کی دولت تمھارے نام کرسکتا ہوں،ادھر تم نکاح نامے پر دستخط کروگے جبکہ دوسری طرف اسی وقت میں پراپرٹی کے کاغذات پر دستخط کر کے سب تمہارے حوالے کرنے کے لئے تیار ہوں”

وہ اتنا بول کر چپ ہو گئے تھے کیوں کہ وہ سفیر کو سوچنے کا وقت دے رہے تھے۔مگر سفیر کے تاثرات ابھی بھی برف کی طرح منجمند تھے۔

“سفیر ؟؟؟”

انہوں نے لگ بھگ دس منٹ بعد دوبارہ اس کو مخاطب کیا تھا۔جس پر سفیر نے پہلے فلق اور پھر سر سعید کو دیکھ کر سر نفی میں ہلایا تھا۔

“مجھے کچھ نہیں چاہیے سر،میں آپ کی عمر بھر کی کمائی لے کر کیا کروں گا وہ کمائی جو آپ کا ہر رشتہ بہا کر لے گئی ؟؟؟؟؟”

“میں اگر فلق سے شادی کرنے میں دلچسپی ركهتا تو میرے لئے فلق کا ساتھ ہی کافی ہوتا،میں اسے دو وقت کی روٹی کے لئے اس طرح آپ کو بے یارومددگار نا کرتا،دوسری بات میرے نزدیک یہ ایک باپ کی تذلیل ہے کہ اس کے جگر کا ٹکڑا لے کر اس کو جتایا جائے یا اس سے کوئی مزيد مطالبہ کیا جائے”

وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھتا ہوا پر اعتماد لہجے میں بولا تھا۔

“میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں سفیر تم پلیز مجھ سے نکاح کرلو ہم پھر ملک سے باہر چلے جایئں گے”

فلق سفیر کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھی۔

“تم جانتی ہو فلق میں ایسا کسی صورت نہیں کروں گا،میں کل ہی ماہین سے نکاح کر چکا ہوں”

وہ ہنوز اپنے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا بولا تھا۔

“ماہین،ماہین،ماہین تنگ آ گئی ہوں میں یہ نام سن سن کر،نفرت ہے مجھے اس نام سے،آخر ایسا کیا ہے ایسا اس لڑکی میں جو مجھ میں نہیں ہے ؟؟؟میں تمہاری لائف بدل کر رکھ سکتی ہوں سفیر،پیسوں میں کھیلوں گے،اپنے مستقبل کا سوچو،یہ ماہین کے نام کا راگ آلاپنا چھوڑ دو،میری طرف دیکھو میں تمہاری زندگی کا روشن سویرا ہوں جبکہ ماہین کے ساتھ رہو گے تو ڈیڈ تمہیں جاب سے نکال دیں گے پھر محبت کے نام پر مٹی چاٹو گے ؟؟؟؟جو سيلری میرے ڈیڈ تمہیں دے رہے ہیں وہ کہیں اور نوکری کےشروع میں تمہیں کوئی بھی نہیں دے گا”

وہ برہمی سے بولی تھی۔سفیر نے اس کی مادیت پرستی سے بھرپور باتیں سن کر افسوس سے اس کی طرف دیکھا تھا۔

“ڈیڈ طلاق نامہ تیار کروائیں تا کہ ماہین کا چیپٹر كلوز ہو،ہم دونوں کی ٹکٹ بک کروائیں سویزر لینڈ چلے گے ہم پہلے ہنی مون پر اس کے بعد سفیر کا جدھر دل ہوگا اسی کنٹری میں آپ اس کے لئے بزنس سیٹ کردیجیے گا اور ابھی اس مولوی کو بلوایے نکاح مکمل کرے”

وہ ہیوی دوپٹہ سر سے ہٹا کر خود کو ریلكس کرتی ہوئی نتیجہ خیز لہجے میں بولی تھی۔

“دیکھو فلق میں تمہارے جذبات کی تذلیل نہیں کرنا چاہتا،تمہاری اس آفر سے تم دنیا کا خوبصورت ترين انسان خرید سکتی ہو مگر مجھے افسوس ہے کہ میں بکنے کے لئے تیار نہیں ہوں،میں اپنے حصے کی محبت ماہین کے نام کر چکا ہوں میں اس کے نکاح میں ہوں اب میں خود کو بیچنے کا حق کھو چکا ہوں ۔۔۔میرا لمحہ لمحہ اس کی امانت ہے میرے پاس میں کل اس کے ساتھ ساتھ اپنے رب کے لئے بھی اس سب کے لئے جواب ده ہوں”

“جہاں تک تم نے بات کی ہے کم سیلری کی تو اگر میری قسمت میں آگے فاقے لکھے جا چکے ہیں تو میں اپنا ایمان بیچ کر بھی امیر نہیں ہو سکتا،جو چیز میری قسمت میں لکھ دی گئی ہے وہ مجھ سے کوئی بھی چھين نہیں سکتا اور جو میری قسمت میں لکھا ہی نہیں گیا وہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی حاصل نہیں کر سکتا”

“سر مجھے اجازت دیں اب”

وہ کھڑا ہو کر بولا تھا۔

“میں نے تمہیں کہا بھی تھا فلق یہ ایسے نہیں مانے گا”

سعید صاحب دانت پیس کر بولے تھے۔

“ڈیڈ آپ اس کمرے میں جایئں میں اپنے طریقے سے بات کرتی ہوں سفیر سے”

فلق نے بھاری دوپٹہ صوفے پر پهينک کر سفیر کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے بیٹھ کر کہا تھا۔سعید صاحب اسی مولوی والے کمرے میں چلے گئے تھے۔مريم خاتون دروازے میں کھڑی سفیر کے ساتھ کی جانے والی ہر بات سن رہی تھیں۔سعید صاحب نے ان کو کمرے میں آ کر بیٹھ جانے کا کہا تھا۔

“سفیر میں نے وہ سب بس تمہیں راضی کرنے کے لئے کہا تھا ورنہ تم جانتے ہو میں کتنی محبت کرتی ہوں تم سے،میں بہت خوش رکھوں

گی تمہیں ہر طرح سے،تمہیں بس میرے ساتھ زندگی خوشی خوشی بسر کرنی ہے اور کچھ نہیں کرنا ہوگا،میں کوئی کسر نہیں رکھوں گی تمہیں چاہنے میں،میں بس ہر لمحہ تم پر نچھاور ہونا چاہتی ہوں،تو اس میں کیا غلط ہے ؟؟؟”

وہ بے تکفی سے سفیر کو چھونے لگی تھی۔جس پر سفیر اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ گیا تھا۔

“اللّه کی بندی محبت کے ‘ م ‘ سے بھی تم واقف ہوتی تو اس طرح مجھے قيد کرواکر یہ سستی حرکات نا کررہی ہوتی،محبت میں جسم تو شرط ہی نہیں ہوا کرتا،محبت تو روحوں کا میل ہے،بنا کسی رشتے کے ایک لڑکی ہو کر تمہارا دل کر کیسے لیتا ہے مجھے ہاتھ لگانے کو ؟؟؟”

وہ اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہتک سے بولا تھا جو وہ کھول کر محبت کا اظہار کررہی تھی۔

“تو اسی لئے تو نکاح کرنا چاہتی ہوں تم سے سفیر میری محبت کا ہر رنگ تمہیں غلط کیوں لگتا ہے ؟؟؟”

وہ دوبارہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی۔

“محبت اور عزت ایسے جذبے ہیں جو رب دلوں میں ڈالتا ہے اس میں انسان کا کوئی کمال نہیں ہے فلق،میں اپنے حصے کی محبت ماہین سے جو کہ اب میری محرم بھی ہے اس سے کر چکا ہوں،تم اس بات کو سمجھو اور چلی جاؤ یہ ملک چھوڑ کر میں دعا کروں گا کوئی اچھا انسان تمہیں پالے”

وہ اس سے فاصلہ بناکر بولا تھا۔

“پھر ماہین ؟؟؟؟میں قتل کروا دوں گی اس (گالی) کا”

وہ غصے سے کھڑی ہو کر بولی تھی۔

“ایک بات یاد رکھنا فلق تمہارا اور تمہارے ڈیڈ کا آج کا روپ دیکھ لینے کے بعد اگر تم دنیا کی آخری لڑکی بھی رہ جاؤ تو میں تب بھی تم سے شادی نہیں کروں گا”

وہ ہاتھ کی انگلی اٹھا کر پختہ ارادے سے بول رہا تھا۔

“سفیر میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں،بس تمہیں پانے کے لئے ہی یہ سب کر رہی ہوں”

وہ تڑپ کر بولی تھی۔

“اس کو محبت نہیں ضد کہتے ہیں فلق اور تم مجھے پانا نہیں بلکہ حاصل کرنا چاہتی ہو،ورنہ تم دل کے راستے مجھ تک پوہنچنے کی کوشش کرتی اس طرح زور زبردستی سے مجھے لالچ دے کر مجھ پر قابض نا ہوتی”

وہ اب اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔

جس پر فلق ڈیڈ ڈید چلانے لگی تھی۔

وہ مريم خاتون کے ہمراہ فورا باہر نکلے تھے۔

“یہ نہیں مان رہا ڈیڈ،میں اب کیا کروں؟؟؟”

وہ ہیجانی کیفیت میں آچکی تھی۔وہ ایک دم سے پاگل لگنے لگی تھی وہ خود کو بے دردی سے کاٹنے لگی تھی۔

“سفیر تم بہت بڑی زیادتی کر رہے ہو میری بیٹی کے ساتھ میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ موت بھی تمہارے پاس آنے سے ڈرے گی،تم کیا سمجھتے ہو تم بہت کوئی بڑی توپ چیز ہو ؟؟؟؟اپنی اوقات مت بھولو”

وہ بیٹی کو سمنبهالتے ہوۓ غصے میں دھاڑے تھے۔سفیر جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھ چکا تھا۔

“ڈیڈ یہ اسے روک لیں یہ آج چلا گیا تو واپس کبھی نہیں آۓ گا،میں ۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر آپ سمجھ رہے ہیں نا ؟؟؟”

وہ باپ کے چہرے کو ہاتھ لگاتی روتی ہوئی انہیں اپنی بات سمجھاتی ہوئی بولی تھی۔

“یہ صرف تمہارا ہے میری جان اب یہ ساری زندگی ادھر ہی رہے گا،نکاح نا بھی کرے تو بھی یہ صرف تمہارا ہی رہے گا اس دو ٹکے کی لڑکی کی شکل کو ترس ترس کر یہی اپنی جان سے جائے گا،اگر یہ میری بیٹی کو رلا کر خوش ہے تو یہ خود بھی ہجر کی فصل کاٹے گا،چلو میرے ساتھ”

وہ فلق کو مولوی والے کمرے میں لے کر چلا گیا تھا مريم خاتون بھی سفیر پر رحم کی نگاہ ڈال کر سپاٹ چہرہ لئے پیچھے گئی تھی۔

کچھ وقت گزرا تھا سعید صاحب اکیلے سفیر کے پاس آۓ تھے۔

“اگر تم ماہین کو طلاق نا بھی دو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے سفیر،تم میری بیٹی سے نکاح کرلو،اور باہر شفٹ ہو جاؤ میں وعدہ کرتا ہوں میں ایک بڑی معقول رقم تمہاری اس منکوحہ اور گھر والوں کو ہر ماہ بھیج دیا کروں گاورنہ ۔۔۔۔”

وہ سفیر کا گريبان پکڑ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھمکانہ انداز میں بولے تھے۔

ورنہ کیا ؟؟؟”

سفیر اپنے گريبان سے نرمی سے سعید صاحب کے ہاتھ الگ کرتا بولا تھا۔

“ورنہ پھر ساری عمر تمہیں ادھر ہی سڑنا پڑے گا،یہ نکاح نامہ ٹیبل پر پڑا ہوا ہے میری بات عقل میں آجاۓ تو اس پر دستخط کر دینا”

وہ ایک فائل ٹیبل پر تقریبأ اچھال کر پهينكتے ہوۓ پھر سے دوسرے کمرے میں چلے گئے تھے۔کچھ وقت ایسے ہی گزر گیاتھا۔سفیر کو کسی کی آہٹ نہیں سنائی دی تھی اس نے جلدی سے موبائل نکالا تھا وہ جلدی سے ابراھیم کو فون پر سب بتا دینا چاہتا تھا مگر موبائل میں دو سمز کے باوجود بھی نیٹ ورک نہیں مل رہا تھا۔

دونوں سمز پر کراس بنا اس کو منہ چڑھا رہا تھا۔وہاں یقینأ جیمئر سے موبائل سروس کو بلاک کیا گیا تھا یا شاید تہہ خانے میں ہونے کی وجہ سے سنگنلز ویسے ہی نہیں آرہے تھے۔

وہ بلی کی چال چلتا ہوا اس دوسرے کمرے میں گیا تھا جہاں اب کوئی نہیں تھا۔اس کمرے میں بڑے بڑے پردے لگے ہوۓ تھے اس نے سارے پردے ہٹا کر دیکھا اور ایک چھوٹا سا بھاری آہنی دروازہ دیکھا جو خالص لوہے کا بنا ہوا تھا جس پر جتنے بھی ہاتھ مار لئے جاتے وہاں آواز پيدا ہونے سے انکاری تھی۔

اب وہ ان دونوں کمروں کا جائیزہ لے رہا تھا۔

دونوں کمروں میں سونے کی ہر ضرورت کی چیز موجود تھی۔اٹیچ واش روم اور باتھ روم بھی تھا۔

اس نے موبائل پر وقت دیکھا جو دن کے چار بتا رہا تھا۔بھوک بھی اب اسے ستانے لگی تھی۔

“ماہین پتہ نہیں میرے آج گھر نا آنے پر کیا نتیجہ نکالے گی؟؟”

وہ لمبی سانس لے کر بيڈ پر لیٹا سوچ رہا تھا۔ایسے ہی اٹھتے بیٹھتے رات کے نو بجنے کو تھے اب سفیر کا گلا پیاس سے خشک ہو چکا تھا معدہ بھوک سے الگ چیخنے لگا تھا۔سونے پر سہاگہ موبائل کی چارج بھی کم رہ گئی تھی۔

اس نے موبائل نکالا اور وقت دیکھا اب یہ وہ ہی وقت تھا کل جس وقت وہ ماہین کے ساتھ چھت پر تھا اس نے جلدی سے وہ تصوریں نکالیں جس میں ماہین دلہن بنی اسے محبت سے دیکھ رہی تھی۔

وہ دیوانہ وار وہ ساری تصویریں بار بار دیکھتا ہوا رو دیا تھا۔

“کاش یہ وقت واپس آجاۓ اور میں ماہین کو سب بتا دوں،کاش مجھے پتہ ہوتا یہ لمحات اتنی قیمتی ہیں تو میں کبھی گھر سے ہی نا نكلتا۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔۔ماہین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا سر پکڑ کر اونچی اونچی رو دیا تھا۔

دروازہ کھل کر بند ہو چکا تھا مگر سفیر ماہین کو دیکھ دیکھ کر رونے میں اتنا مصروف تھا کہ وہ جان ہی نہیں پایا تھا۔اسے ہوش تب آئی جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔سفیر نے لال آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔مريم خاتون دوسرے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لئے نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔

انہوں نے کھانا نیچے ہی سفیر کے پاس رکھ دیا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی۔

(ان کی ہر بات آپ نے پنجابی میں ہی سمجھنی ہے میں لکھ اردو میں رہی ہوں)

وہ سفیر کے ہاتھ سے موبائل لے کر ماہین کی تصویر دیکھنے لگی تھیں۔

“بہت پیاری ہے شودی،پتر تمہارا یہ حال بنتا ہے”

وہ موبائل سائیڈ پر رکھ کر سفیر کے آنسو اپنے دوپٹے سے پونچھتے ہوۓ بهرائی آواز میں بولی تھی۔

“چل میرا پتر کھانا لائی ہوں وہ دونوں باپ بیٹی ابھی ابھی نکل کر گئے ہیں تو میں جلدی سے سے کھانا اٹھا لائی ہوں”

وہ کھانا آگے کر کے پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگا کر بول رہی تھی۔

سفیر نے پورا گلاس ایک ہی بار میں موٹے موٹے گھونٹ بھر کر خالی کر لیا تھا۔

“پتر یہ تیرا سعید صاحب بہت ظالم آدمی ہے اور ساتھ ساتھ ضدی بھی,یہ اپنی بات منوا کر ہی دم لے گا”

وہ نوالا سفیر کے منہ میں ڈال کر اب دوسرا نوالا بنا رہی تھی۔

“اس نے ضد میں مجھ سے شادی كی،پھر ساری عمر بس اپنے نام پر مجھے بیٹھاۓ رکھا نا طلاق دی نا ہی مجھے ساتھ رکھا”

وہ دوسرا نوالا دیتی ہوئی اداس سی بتا رہی تھی۔سفیر نے ان کو سوالیہ نظروں سے نوالا چباتے ہوۓ دیکھا تھا

“میں اپنے چچا زاد اسرار سے محبت کر بیٹھی تھی،منگنی چونکہ بچپن میں ہوئی تھی میں اس سچ سے بے خبر اسرارے کو دل دے بیٹھی تھی۔سعید صاحب کو جیسے یہ پتہ چلا انہوں نے ضد میں مجھ سے شادی کر لی اور مجھے نکاح کے نام پر کسی بيل بكری کی طرح سنگلی ڈال کر باندھ دیا،پوری عمر کاٹ دی میں نے پتر ۔۔۔۔۔یہ ہجر کی فصل بہت قربانی مانگتی ہے اسے دل کا خون دے کر کاٹنا پڑتا ہے،میری روح چھلنی ہو گئی ہے،میرے ہاتھ دیکھو ان پر زخم ہی زخم ہیں”

وہ روٹی ہاتھ سے نیچے رکھ کر اب اپنے سخت مردانہ ساخت کے ہاتھ دیکھا رہی تھی ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا بند ٹوٹ چکا تھا۔سفیر نے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ان کو دلاسہ دینا چاہا تھا۔

“پتر ہر روز یہ فصل کاٹ کر سوتی ہوں دن چڑھتا ہے تو پھر سے پہلے سے بھی بڑے قد کی فصل میری منتظر ہوتی ہے”

“فلق بلکل اپنے باپ پر گئی ہے،ضد کی پکی،توں نے اس کی بات نا مانی تو یہ تجھے یہاں ساری عمر باندھ کر رکھ لے گی مگر اس لڑکی کا نہیں ہونے دے گی،خون بولتا ہے,اس کے باپ نے میری محبت اسرار کے حق میں برداشت نہیں کی ساری عمر مجھ سے نفرت کرنے میں گزار دی فلق تو تمہاری دیوانی ہے وہ رب جانے تمہارے ساتھ کیا کرے گی ماہین سے نفرت میں”

سفیر کو اب پھر سے کھانا کھلارہی تھیں۔

۔************

ماہین اور طلعت کو خالدہ اور ابراھیم نے ولیمہ ختم ہونے کے بعد ادھر ہی روک لیا تھا۔ان کا یہی پلان تھا کہ سفیر آجائے پھر کہیں گھومنے نکلیں گے۔جب تک وہ گھر آۓ دوپہر کے چار بج رہے تھے۔ماہین بہت اچھے سے تیار ہوئی تھی۔سب ولیمے والے کپڑے بدل کر آرام ده کپڑے پہن چکے تھے مگر سفیر کو بنا خود کو دیکھاۓ وہ یہ کیسے کر سکتی تھی۔وہ مسلسل چھت پر چکر کاٹ رہی تھی جب ابراھیم اوپر آیا تھا۔

“بھائی کا ویٹ ہو رہا ہوگا یقینأ”

وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ببل چباتا بولا تھا۔

“ابراھیم کب سے کال ملا رہی ہوں نمبر بھی بند جا رہا ہے،صبح کا ایک میسج تک نہیں کیا مجھے”

وہ بے چین سی ایک ربط میں بولی تھی۔

“چھٹی کے بعد آفس گئے ہیں ماہین تم پریشان مت ہو کام جمع ہوگا بس ابھی آتے ہونگے”

وہ نارمل انداز میں بولا تھا۔

“نہیں ابراھیم میرا دل عجیب سا ہو رہا ہے۔۔۔۔عجیب سی گھٹن ہو رہی ہے،ایسا تو کبھی نہیں ہوا”

وہ اب برآمدے میں پڑی چارپائی پر

بیٹھ گئی تھی۔

“لو جی ۔۔۔۔۔ایک رات میں ہی روایتی بیویوں والی منحوس باتیں کردی ہیں شروع ۔۔۔ویل ڈن مسز سفیر”

وہ تالیاں بجاتا ہوا اس کا موڈ اچھا کرنے کی کوشش کررہا تھا مگر وہاں بلا کی سنجیدگی اور بے سکونی تھی۔

“بیٹا دونوں نیچے آجاؤ چائے پی لو”

خالدہ بيگم نے سیڑھی میں کھڑی ہو کر آواز دی تھی۔

“مجھے نہیں پینی تم چلے جاؤ ابراھیم”

وہ پھر سے چکر کاٹنے لگی تھی۔ابراھیم بھی اب موبائل نکال کر وقت دیکھ رہا تھا جو شام کے چھ بجانے کو تھا وہ اس پر ایک نظر ڈال کر نیچے آ گیا تھا۔نیچے بھی یہی بات زیر بحث تھی کہ آج سفیر نے بنا اطلاع کے بہت دیر کردی ہے۔

اسی پریشانی میں چاۓ پی لی گئی اب رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔رات کے نو بج رہے تھے مگر سفیر کی کوئی خیر خبر نہیں آئی تھی۔

ابراھیم کو سفیر کے آفس بھیجا گیا جو بلکل خالی تھا گاڈ نے یہی بتایا (سعید صاحب کے حکم پر)کہ وہ اپنے وقت کے مطابق تین بجے یہاں سے بائیک لے کر چلا گیا تھا۔

وہ بھی اب کافی پریشان ہو گیا تھا۔ماہین بار بار فون کرکے سفیر کے متعلق پوچھ رہی تھی۔وہ اس کی کال اب کاٹنے لگا تھا۔اب اس کا ٹارگیٹ تمام ہسپتال تھے۔وہ دھڑکتے دل سے جگہ جگہ اسے ڈھونڈتا رہا۔آج کی تاریخ میں جو جو ایکسیڈنٹ ہوۓ تھے وہ ان تمام کا پوچھ پوچھ کر سرد خانے تک چیک کر رہا تھا۔

ایک دوست کو ساتھ لے کر اب وہ پولیس سٹیشن گیا تھا جہاں اس نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔

“یار میں امی کا سامنہ کیسے کروں گا ایسے خالی ہاتھ؟؟؟”

وہ تھانے کے باہر نیچے بیٹھ گیا تھا۔

“مل جائے گے یار سفیر بھائی اچھے خاصے سمجھ دار بندے ہیں تم بلا وجہ پریشان ہو رہے ہو”

وہ پاس بیٹھ کر دلاسہ دیتا بولا تھا۔

“تم نہیں جانتے میرے بھائی کو وہ بہت ذمہ دار انسان ہیں،وہ بنا کسی بڑی وجہ کے ایسا نہیں کر سکتے وہ جانتے ہیں ہم ماں بیٹے کا ان کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ ۔۔”

اس بات پر ابراھیم کے دوست ناصر نے اسے گلے لگایا تھا۔

“میرا بھائی نہیں ہے وہ یار میرا باپ ہے”

ابراھیم پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔دوسری طرف خالدہ بيگم كی مسلسل کال آ رہی تھی۔ان کی بند ہوتی تو ماہین کرنے لگ جاتی۔

ناصر نے اسے ہمت دے کر گھر جانے کا کہا تھا۔وہ اسے گھر چھوڑ کر خود بھی ساتھ اندر آ گیا تھا۔

وہ تینوں خواتین صحن میں ہی کھڑی تھیں۔

ماہین نے سارا دن بھوکا پیاسہ گزارا تھا اس کا بی پی الگ سے لو ہو رہا تھا۔وہ اسی طرح انہی کپڑوں میں دروازہ پکڑ کر دوسرے ہاتھ میں موبائل پکڑ کر کھڑی تھی۔

ابراھیم کو اکیلا دیکھ کر وہ تکلیف سے چیخی تھی۔خالدہ بيگم الگ سے نیچے گر گئی تھیں۔

“کدھر ہے میرا سفیر ابراھیم تم اسے ساتھ کیوں نہیں لے کر آۓ؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ بھی تکلیف سے چیخی تھیں شور سن کر احمد لوگ اور محلے کے باقی لوگ بھی باہر نکل آۓ تھے.

“میں تمھارے لئے تیار ہوئی ہوں سفیر۔۔۔۔۔تم جب تک مجھے نہیں دیکھو گے میں کپڑے نہیں بدلوں گی،تم جلدی سے آجاؤ”

ماہین دروازہ کے پاس نیچے بیٹھ کر خوفزده سی آہستہ آہستہ یہ جملہ بار بار دوہرا رہی تھی۔جبکہ باقی لوگ خالدہ اور ابراھیم کو سمنبهالنے میں لگے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔۔