482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 14

شام کے سات بج رہے تھے۔

سعید صاحب فلق کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوۓ تھے جہاں سفیر بیٹھا ان کا ہی منتظر لگ رہا تھا۔

“کیسے ہو سفیر؟”

فلق اس کے پاس ٹچ ہو کر بیٹھ گئی تھی۔

“ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟”

وہ خوشگوار انداز میں پوچھ رہا تھا جس سے سعید صاحب اور فلق دونوں کو ہی حیرت کا دھچکا لگا تھا۔جبکہ مريم خاتون جو ابھی ابھی اندر داخل ہوئی تھیں سفیر کو نارمل دیکھ کر مسکرادی تھیں۔

“پھر کیا سوچا تم نے فلق سے نکاح کے بارے میں سفیر بیٹا؟؟؟”

سعید صاحب لوہا گرم دیکھ کر فورا اس پر ضرب لگاتے ہوۓ بولے تھے۔

“اگر میں نکاح کر لیتا ہوں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ پہلے کی طرح رہ سکتا ہوں؟؟؟مطلب فلق میری دوسری بیوی بن کر میرے ساتھ میرے ہی گھر میں میری پہلی بیوی کے ساتھ آرام و سکون سے رہے گی؟؟؟؟”

سفیر نے دوسری اور پہلی بیوی لفظ کو ٹھہر کر زور دے کر ادا کیا تھا۔

“کیوں فلق محبت تو قربانی مانگتی ہے نہ، تم دے سکتی ہو اپنی اس عیش و عشرت والی زندگی کی قربانی؟؟؟؟آفٹر آل یو لوو می آلاٹ،رائٹ؟؟؟”

وہ فلق کے ہی انداز میں اس کے چہرے پر آئی گھونگھریالے بالوں کی لٹ نرمی سے چھیڑتا ہوا پوچھ رہا تھا جس سے فلق کو گویا کرنٹ لگا تھا اس نے اس کا ہاتھ جھٹک کر ڈیڈ کو خونخوار نظروں سے دیکھا تھا۔

“میں کیوں رہنے لگی اس ماہین کے ساتھ ،تم میرے ساتھ کینڈا جاؤ گے سفیر،ایک پر سکون زندگی ہماری رہ دیکھ رہی ہے،میں اپنے اور تمہارے درميان کسی کو بھی برداشت نہیں کرسکتی،میری محبت کو سمجھو ۔۔۔ میں چاہتی ہوں میں تمہیں اور تم بس مجھے ہی دیکھو اور سوچو۔۔۔”

وہ فلمی انداز میں ادا سے بول رہی تھی۔

“آہاں ۔۔۔۔۔ویری گڈ ۔۔۔”

سفیر مسکرا کر بولا تھا۔

“سی ۔۔۔یو سی ڈیڈ میں نا کہتی تھی سفیر میری محبت کو ضرور سمجھ جائے گا۔۔۔۔آپ بس جلدی سے سفیر کے جانے کے انتظامات کریں”

وہ پر جوش ہو کر بولی تھی۔

“نکاح نامے پر دستخط کردو سفیر بیٹا کدھر ہے وہ؟؟؟”

سعید صاحب شائشتگی سے مسکرا کے بولے تھے۔

“مگر میری ایک شرط ہے میں فلق سے ابھی نکاح کر کے سب سے پہلے اپنی ماں سے ملوانے لے کر جاؤں گا”

وہ کھڑا ہو کر فیصلہ کن انداز میں بولا تھا۔

“نہیں ہرگز نہیں سفیر ۔۔۔۔۔وہاں وہ ماہین بھی ہوگی ۔۔۔میں ہرگز اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی،سوری سفیر میرا دل تمہارے معملے میں بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔۔”

وہ افسرده سی بولی تھی۔

“بیٹا میں تمہیں بلنک چیک لکھ کر دیتا ہوں نا تم جتنی رقم چاہے اس میں بھر کر اپنے گھر والوں کو بھیجواسکتے ہو”

سعید صاحب نے سفیر کو مطمئن کرنی كی سعی کی تھی۔

“میں سوچ کر بتاتا ہوں”

وہ کہہ کر دوسرے کمرے میں آ گیا تھا۔

“پتر فلق سے نکاح کر لے ایک بار یہاں سے نکل جاؤ باہر ہزار راستے ملے گے فرار کے”

مريم خاتون کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے۔وہ فیصلہ کر کے باہر آ گیا تھا۔

“میں نے اس پر دستخط کر دیے ہیں”

وہ نکاح نامہ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گیا تھا۔

“سچ؟؟؟؟میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔مسز سفیر بن گئی ہوں اب ؟؟؟؟”

وہ خوشی سے پاگل ہونے کو تھی۔

“مبارک ہو سائی”

مريم خاتون نے ٹوٹے لہجے میں اپنا فرض نبھایا تھا۔

“تھینک یو بیٹا،تم نے میری بیٹی کا مان رکھ لیا”

وہ سفیر کو گلے لگا کر بولے تھے۔سفیر نے ایک لمبی سانس کھینچ کر مريم خاتون کو دیکھا تھا جن کی آنکھوں میں آتی نمی وہ دور سے بھی جان گیا تھا۔

وہ جس انداز سے مسكرائی تھیں وہ محبت کے جنازے کے ماتم سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔

“چلو مريم رات کے کھانے پر اہتمام کرواؤ ۔۔۔۔آج جشن منایا جائے گا ۔۔۔۔سعید ۔۔۔۔۔وڈیرے سعید کی بیٹی کی شادی کا جشن ۔۔۔۔۔”

وہ خوشی میں مست مريم کا ہاتھ پکڑ کر بولے تھے۔جنہوں نے ان کی اس حرکت پر اذیت سے ایسے آنکھیں بند کر لی تھیں جیسے ان کے جسم سے آگ ٹکڑا گئی ہو۔وہ اثبات میں سر ہلا کر باہر آگئی تھیں۔

لگ بھگ دو گھنٹے بعد وہ سب تہہ خانے سے باہر نکلے تھے۔آج پورے ایک مہینے بعد سفیر نے آسمان کو دیکھا تھا۔جو تاروں سے بھرا ہوا تھا۔آج چودوی کا چاند پورے آب وتاب سے چمکتا اپنے جوبن پر تھا۔

“ماہین ۔۔۔۔۔”

اس چاند کو دیکھ کر بے اختیار اس کے ہونٹ اس ورد پر پھڑپھڑاۓ تھے۔

“کیسی ہے وہ ؟؟تمہیں تو نظر آ رہی ہوگی؟؟”

سوال چاند سے ہوا تھا۔

“تمہارے بغیر بھلا وہ کیسی ہو سکتی ہے ؟؟”

چاند نے بہت کچھ جتایا تھا۔

“همممم ۔۔۔۔”

وہ چاند کے جواب پر لاجواب ہو کر پھيكی ہنسی مسکرا دیا

تھا۔

اے چاند خوبصورت اے آسماں کے تاروں تم میرے سنگ زمیں پر تھوڑی سی رات گزارو ۔۔۔۔

یہ گانا سفیر کی سماعتوں میں بجتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

“اگر آپ لوگوں کو کوئی اعتراض نا ہو تو میں کھانا صحن میں بیٹھ کر کھانا چاہتا ہوں”

وہ مريم خاتون کو مخاطب کرتا فلق اور سعید صاحب کو دیکھ کر بولا تھا۔

“تم اب حکم کرو میری جان ۔۔۔۔۔۔۔”

فلق سفیر کو چپكتی ہوئی بولی تھی۔

کھانا باہر صحن میں لگایا گیا۔سفیر بار بار چاند کو دیکھتا چھوٹے چھوٹے نوالے لے رہا تھا۔

“چلو سفیر اندر چلتے ہیں مجھے بہت نیند آئی ہے”

فلق مدہوش ہوتی بولی تھی۔

جس کا مطلب وہ تینوں نفوس سمجھ گئے تھے۔

سعید صاحب نے فلق کی طرف سے مزيد کسی متوقع حرکت کے پیش نظر مريم خاتون کو ساتھ اندر آنے کا کہہ دیا تھا۔وہ جو کہ کھانا اٹھا کر ابھی ابھی بیٹھی تھیں ان کے ساتھ چل پڑی تھیں۔

“سفیر میری جان ۔۔۔۔چلو نا اندر ۔۔۔کیوں تڑپا تڑپا کر اپنی فلق کو مار دینا چاھتے ہو؟؟”

وہ بے تكلف ہوئی تھی۔سفیر ساکن بیٹھا فقط چاند کو دیکھ رہا تھا۔

“فلق ۔۔۔۔میں کافی دنوں بعد آج آسمان کو دیکھ رہا ہوں میں آج یہی سونا چاہتا ہوں باقی اب ہمیں ساری عمر ہی ساتھ گزارنی ہے جلدی کس بات کی ہے؟؟”

وہ نرمی سے اس کا ہاتھ پیچھے کرتا ہوا دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔

“جلدی نہیں ہے یہ سفیر میں کب سے ترس رہی ہوں تمہاری قربت میں کٹ مرنے کے لئے ۔۔۔۔اب محرم ہونے کی شرط بھی پوری ہو گئی ہے اب کیوں دور ہو کر بیٹھ گئے ہو مجھ سے ؟؟؟”

اس کی آواز میں غصہ شامل ہوگیا تھا۔

“بس آج کی رات صبر کرلو ۔۔۔۔۔پلیز ۔۔۔”

وہ منت کرتا بولا تھا۔وہ پير پٹختی تہہ خانے میں آگئی تھی۔

“یہ اس (گالی) کی وجہ سے میرے قریب نہیں آ رہا،جس آگ میں،میں جل رہی ہوں تمہیں بھی اسی میں نا جلایا تو میرا نام فلق سعید نہیں ۔۔۔”

وہ خود کو کاٹتی ہوئی ہاتھ پرزخم بنا چکی تھی۔رات وہ اپنے شیطانی دماغ میں ایک شیطانی منصوبہ ترتیب دے چکی تھی۔

اس کو سفیر کا بند موبائل ڈھونڈنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی تھی وہ سامنے ٹیبل پر ہی موجود تھا۔اس نے اس میں سے سم نکال کر چبا ڈالی۔اور موبائل چارج پر لگا دیا۔جب وہ تھوڑا چارج ہوگیا تو اس میں سے ماہین کا نمبر نکال کر اپنے موبائل میں محفوظ کر لیا۔سفیر کا موبائل واپس بند کر کے رکھ دیا۔

صبح وہ کوئی خاص حرکت کئے خاموشی سے باپ کے ساتھ شہر چلی گئی تھی۔باپ سے کہہ کر اس نے اس حویلی کے گرد سیکورٹی سخت کردی تھی۔

سفیر اب مريم کو مختلف کاموں میں جانوروں کے ساتھ مصروف دیکھ کر ٹائم پاس کر رہا تھا۔

وہ خوش تھا کہ سب پلان کے مطابق ہو رہا تھا۔

شام کو فلق باپ کے ساتھ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں شادی کا لہنگا پکڑا ہوا تھا۔وہ برائیڈل میک اپ میں تھی۔کھانا کھاکر وہ،وہ لہنگا پہن کر بیٹھ گئی تھی۔سفیر ابھی تک اندر نہیں آیا تھا۔

وہ اٹھی اور کچن میں مريم خاتون کو چاۓ بنانے کا کہا۔اس نے چاۓ میں کچھ ملایا اور شیطانی مسکراہٹ لئے وہ چارپائی پر بیٹھے سفیر کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔

“کیسی لگ رہی ہوں ؟؟؟”

وہ چاۓ کا کپ دے کر طنزیہ انداز میں بولی تھی۔

“اچھی ۔۔۔”

وہ پھيكی مسکراہٹ سجاۓ بولا تھا۔

“یہ پی کر اندر آجاؤ سفیر”

وہ اپنی چاۓ ختم کرکے بولی تھی۔

سفیر نے جیسے چاۓ ختم کی اس کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی۔اس چاۓ سے اس کے منفی جذبے بيدار ہوۓ تھے۔

وہ لڑ کھڑاتا ہوا کمرے میں آیا تھا جہاں اسے سب دھندلا نظر آ رہا تھا۔

“ماہین۔۔۔”

دلہن بنی فلق کو دیکھ کر وہ زیرلب بڑبڑایا تھا۔

سفیر جو ایک ماہ سے ماہین کی یاد میں پل پل تڑپا تھا آج اس نے جی بھر کر اسے پیار کيا تھا۔

ایک طرف سفیر فلق کو ماہین سمجھ کر نچھاور ہوا تھا۔تو دوسری طرف فلق جو کہ عورت کے نام پر دھبہ تھی اس کی محبت کے نام پر جسمانی تسکین ہوئی تھی۔

اس سب کے بعد سفیر بے ہوش سا سو گیا تھا۔فلق نے ان نازيبا حراکات کو کمرے میں قيد کرتے ہوۓ اوکے کا بٹن دبایا اور پر سکون سی سفیر کی آغوش میں سو گئی۔

صبح سفیر کی جیسے ہی آنکھ کھلی وہ فلق کو اور خود اس طرح معیوب حلیے اور انداز میں ساتھ لیٹا دیکھ اوچھل کر بیڈ سے اترا تھا۔

اس نے خود کو مناسب کیا اور اپنا سر پکڑ کے نیچے بیٹھ گیا۔

“یہ کیا کر دیا میں نے؟؟؟میں ۔۔۔میں یہ سب کیسے کر سکتا ہوں؟؟؟؟”

وہ بس رو دینے کو تھا۔

“سفیر اس طرح کیوں دور بیٹھ گئے ہو ؟؟؟پاس آؤ نہ”

وہ باہیں پھیلا کر بولی تھی۔

“تمہیں شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوۓ فلق ؟؟؟”

وہ جو دو دن سے ضبط کئے ہوا تھا برہمی سے چیخا تھا۔

“کیوں آتی شرم تم میرے شوہر ہو سفیر “

وہ بیڈ پر لیٹی سستی سے جمائی روکتی ہوئی بولی تھی۔

“شوہر تھا تو ایسے بےہودگی کرنے كی کیا ضرورت تھی تمہیں فلق؟؟؟؟؟؟اتنی ہوس پرست ہو تم ؟؟؟؟؟”

“عورت اپنے اظہار میں اتنی بے پردہ کب سے ہو گئی ؟؟؟؟”

وہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کا منہ نوچ کر بولا تھا۔

“سفیر جانور ہو کیا پیچھے ہٹو،تم اس (گالی) کی وجہ سے مجھے یہ سب سنا رہے ہو نا اب دیکھو میں کرتی کیا ہوں؟؟؟”

وہ اسے پیچھے کو دھکا دے کر اٹھ گئی تھی۔سفید نائٹی ٹھیک کرتی وہ ٹیبل پر پڑے اپنے موبائل کی طرف گئی تھی۔سفیر چپ چاپ کھڑا اس کی حرکت کو بھانپ رہا تھا۔

اب وہ موبائل رکھ کر ہاتھ جھاڑتی کھڑی سفیر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

“کیا کیا ہے تم نے موبائل دیکھاؤ “

سفیر اس کے پاس آیا تھا۔

“ارے ایک کام تو بھول ہی گئی اس نے موبائل سے سم نکال کر چباڈالی تھی۔

“شکر ہے کچھ کام میں رات کو ہی مکمل کر کے سوئی تھی”

وہ بے تكلفی سے سفیر کے پاس آ کر اس کی شرٹ ٹھیک کرتی ہوئی بولی تھی۔

“ابھی چلو میرے ساتھ بستر پر اور میرا حق ہوش و حواس میں ادا کرو،تمہاری واپسی کے سارے دروازے ویسے بھی بند ہو چکے مسٹر سفیر تم یہی رہو گے کسی قيدی کی طرح میرا جب دل کرے گا میں یہاں آؤں گی اور تم مجھے خوش کروگے”

وہ دانت پیستا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔

“تھڑاخ ۔۔۔۔۔۔کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔سفیر نے اس کا گال رنگ دیا تھا۔

“حرافہ عورت ۔۔۔۔میں تم پر تھوکتا بھی نہیں ہوں تمہارے قریب آنا تو بھول جاؤ،میں تمہیں طلاق دے دوں گا”

وہ اب دروازے کی طرف جا رہا تھا۔

“سفیر ۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ سفیر ۔۔۔پلیز ۔۔۔”

وہ جنونی ہو کر اس کے قدموں سے لپٹ گئی تھی ۔مگر سفیر اسے لات سے پیچھے کرتا ہوا کمرے کا لاک کھول رہا تھا۔

“سفیر ۔۔۔اگر تم گئے تو ۔۔۔۔تو ۔۔ میں خود کو ختم کردوں گی”

وہ کہہ کر خاموش ہو گئی تھی۔اتنے میں سعید صاحب بھی وہاں آگئے تھے۔جو کسی بات پر کافی برہم لگ رہے تھے۔

فلق خود کو کاٹتی ہوئی دوسرے ہاتھ سے پستول اپنے ماتھے پر رکھ کر کھڑی تھی۔

“ففففف ۔۔۔فلق ۔۔۔میری جان ۔۔۔یہ ۔۔۔۔یہ مجھے دے دو ۔۔۔پلیز ۔۔۔۔”

سعید صاحب گڑگڑاتے ہوۓ کہہ رہے تھے۔

“ڈیڈ ۔۔۔۔یہ کہتا ہے یہ مجھے طلاق دے دے گا،اس ماہین کتیا کے پاس چلا جائے گا ۔۔۔”

وہ پاگلوں کی طرح روتی ہوئی ہچکیوں سے بول رہی تھی۔

“میں ۔۔۔مانتی ہوں ۔۔میں ۔۔۔میں بہت بری ۔۔۔۔میں اچھی لڑکی نہیں ہوں ۔۔۔مگر میری محبت تو سچی ہے نا ۔۔۔مگر ۔۔۔یہ ۔۔۔یہ نہیں ۔۔۔سمجھ رہا ڈیڈ ۔۔۔”

وہ پستول ہاتھ میں پکڑے روتے ہوۓ بیٹھ گئی تھی۔

سعید صاحب اور سفیر اس کے پاس آ گئے تھے۔

“سعید صاحب آپ کی بیٹی کو علاج کی ضرورت ہے شادی یا شوہر کی نہیں خدارا اس پر رحم کریں”

سفیر بے بسی سے بولا تھا۔

“بکواس بند رکھو تم اپنی،جھوٹے انسان”

وہ اس پر پھٹ پڑے تھے۔

سفیر اٹھ کر جانے کو تھا۔

“ڈیڈ اس کو روکیں ورنہ فلق مر جائے گی،یہ مجھے طلاق دینے والا ہے”

وہ پھر سے پستول تان کر چیخی تھی۔رات کے ڈريس میں وہ عریانیت کا اعلی نمونہ پیش کررہی تھی۔

“طلاق تو تب دے گا نا جب اس نے تم سے نکاح کیا ہوگا فلق”

سعید صاحب کے اس جملے نے سفیر کے اٹھے قدم ہوا میں ہی معلق کر دیے تھے۔

“کیا مطلب ڈیڈ ؟؟؟؟”

“میں سفیر کی بیوی نہیں ہوں ؟؟؟؟”

“میری محبت اتنی بے مول تھی اس کے لئے ؟؟؟”

وہ بےچارگی سے رو دی تھی۔

“تم ۔۔۔بیٹا یہ مجھے دے دو ۔۔۔میں ابھی دستخط کرواتا ہوں اس سے”

سعید صاحب اور قریب ہوۓ تھے۔

“نہیں ۔۔۔۔ڈیڈ ۔۔۔میں بہت تهک گئی ہوں ۔۔۔اس زور زبردستی کے رشتوں سے ۔۔۔۔۔نا آپ میرے ہوۓ نا مما ۔۔۔۔۔پھر یہ کیسے میرا ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔اپنا گندہ ماضی چھوڑ کر ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔ماضی ہر وقت حال بن کر میرا حال برباد کرتا رہا ۔۔۔۔۔ میں نے لڑکا لڑکی ۔۔۔۔ہر جنس کے ساتھ تعلقات رکھے مگر مجھے نا تو آپ نے نا ہی مام نے منع کیا ۔۔۔مجھے میری مرضی پر ایسا چھوڑا کہ میں خود بھول گئی کہ میری مرضی ہے کیا ۔۔۔کیا صحیح کیا غلط ۔۔۔۔۔اسی لئے آئس کے نشے کی تکلیف مجھے اپنے اس درد کی دوا لگنے لگی ۔۔۔۔جب زندگی میں سے لفظ خوشی غائب ہوگیا تو میں نے موت کو دو بار سکون کے لئے چنا ۔۔۔۔مگر وہ بھی مجھے نہیں ملی ۔۔۔۔”

“کاش ڈیڈ،آپ کوئی تو کمی چھوڑتے میری زندگی میں۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔میں واقعی سفیر کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔”

گولی کی آواز کے ساتھ ہی فلق کی آواز خاموش ہوگئی تھی۔

سفیر بھاگ کر اس کے پاس آیا تھا مگر وہ ہے اور تھا کا درمیانی فاصلا اس لمحے میں طے کر چکی تھی۔

وہ جو ساری عمر شرم اور حیا کا فرق کیے بغیر گزاررہی تھی۔اس کی موت بھی اسی عکس کا آئینہ تھی۔اس کا لاش نيم برہنہ پڑی ہوئی تھی۔

سعید صاحب لگاتار اپنی بائی سائیڈ سہلاتے ہوۓ رو رہے تھے۔مريم خاتون بھی بھاگ کر وہاں پوہنچی تھیں۔

انہوں نے جلدی سے بیڈ شیٹ نکال کر فلق کے اوپر ڈال دی تھی۔اس کے ارد گرد خون کے دھبے جگہ جگہ پھیل چکے تھے۔

سعید صاحب نے خاموشی سے فلق کے کفن دفن کا انتظام کروایا تھا۔لائبہ فلق کی ماں چونکہ شہر سے باہر تھی وہ اس کا چہرہ دیکھنے سے محروم رہ گئی تھیں۔

۔*************

صبح کا وقت تھا ماہین سو کر اٹھی تھی۔خالدہ بيگم گھر آ چکی تھیں۔وہ کل ہی آئی تھیں تو ابھی تک طلعت اور ماہین ان کے گھر پر ہی تھیں۔

ماہین نے موبائل اٹھایا تو ایک انجان نمبر سے آئی ہوئی ویڈیو پر اس کی نظر پڑی تھی۔

سفیر مدہوش سا کسی گوری لڑکی کے ساتھ اخلاقیات،مذہب اور شریعت کی ہر حد توڑ کر مصروف تھا۔لڑکی کا چہرہ بلر کر دیا گیا تھا۔

ماہین کی سانس مانو پيروں سے اکڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔وہ بری طرح کانپنے لگی تھی۔اس نے موبائل دور پھینکا تھا۔

وہ لرزتی کانپتی ہوئی کسی بچے کی طرح کرلونگ کرتی باہر برآمدے میں آئی تھی۔جہاں سب ناشتہ کر رہے تھے۔ابراھیم کو کل ہی نئی جاب پر بلايا گیا تھا۔وہ چاۓ کا آخری گھونٹ بھر کر بس جانے کے لئے اٹھنے والا تھا جب اس کی نظر فرش پر خوفزده

بیٹھی ماہین پر پڑی تھی۔وہ تیزی سے اس کے پاس آیا تھا۔

“وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔سفیر ہے کمرے میں ۔۔۔۔”

وہ بمشکل رک رک کر بولی تھی۔ابراھیم اسے ویسا چھوڑ کر کمرے میں آیا تھا۔جہاں موبائل کی سکرين روشن تھی ۔باقی کمرہ خالی تھی۔

اس نے موبائل اٹھایا تو اس کی نظر اس قیامت خیز ویڈیو پر پڑی وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بمشکل اپنی آواز روک کر وہ سب دیکھ رہا تھا۔

“یہ بھائی نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔”

اس نے موبائل واپس رکھ کر دوبارہ ویڈیو غور سے دیکھی تھی۔وہ سفیر ہی تھا۔

وہ یہ سب ہر قیمت پر اپنی امی اور ماہین کی امی سے چھپانا چاہتا تھا۔وہ جلدی سے باہر آیا جہاں ماہین نیچے بیہوش پڑی تھی اور وہ دونوں اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔