Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 8
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 8
آج مہندی تھی۔اسی کی تیاری میں ماہین لڈی کی سٹکس لے کر بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے کھلی مہندی بھگودی جو رات مہندی کی پلیٹوں میں رکھنی تھی۔
ساری تیاری کر کے اب وہ اپنے اور امی کے کپڑے استری کرنے کے لئے استری فری ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔
“کیا پہن رہی ہو رات کو ؟؟”
ابراھیم چونگم چباتا ہوا ماہین کے ہاتھوں میں کپڑے دیکھ کر بولا تھا۔
“غرارہ”
وہ ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کو ترتیب دیتی مصروف سی بولی تھی۔
“كلر ؟؟”
وہ پاس بیٹھ کر بولا تھا۔
“چاندی کلر کا ہے”
“او ۔۔۔واوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر تو حیران ہونے کے لئے تیار رہنا مس ماہین”
وہ ادا سے کالر جھٹکتا ہوا وہاں سے چھو منتر ہوا تھا۔
شام کے سات بج رہے تھے سب لوگ تقریبأ تیار ہو چکے تھے۔سفیر ابھی تک نہیں آیا تھا۔ماہین چاندی کلر کے غرارے کے ساتھ چاندی اينٹیک سٹائل کی جیولری پہننے میں مصروف تھی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔سموکی آئی ميک اپ کے ساتھ لائٹ پنک لپ سٹیک لگاۓ وہ اب جھومکے پہن رہی تھی۔
“ماہین بیٹا جلدی کرو سب تیار ہو کر ٹینٹوں میں چلے گئے ہیں۔”
طلعت بيگم دوپٹہ صحیح سے لیتی ہوئی بولی تھیں۔
“بس امی،یہ میں ہو گئی تیار،کیسی لگ رہی ہوں؟؟”
وہ اپنے خوبصورت سٹائیلش بال ادا سے ٹھیک کرتی ماں کی طرف منہ کر کے بولی تھی۔
“ماشاءالله ۔۔۔۔ماشاءالله ۔۔۔،بیٹا آج تو قیامت لگ رہی ہے میری بیٹی”
وہ ماہین کو نظر کا ٹیکا کان کے پیچے لگاتے ہوۓ بلائیں لیتی ہوئی بولی تھیں۔ماہین دل ہی دل میں سفیر کے ہوش اڑانے کا سوچ سوچ کر بہت خوش ہو رہی تھی۔
وہ نزاكت سے ماں کے ساتھ چلتی ہوئی ٹینٹ میں آئی تھی جہاں مہندی کے مناسبت سے سجاوٹ کی گئی تھی۔
احمد کے ساتھ اسٹیج پر میل کزن بیٹھے ہوۓ تھے میوزک بلند آواز میں چل رہا تھا۔ابراھیم ان میں نہیں تھا۔
ماہین جیسے ہی اندر داخل ہوئی ہر نظر اس کو اپنی خوبصورتی کو سراہتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔وہ ادا سے چلتی ہوئی اسٹیج کے سامنے موجود کرسيوں پر بیٹھ گئی تھی۔
“میں تیار ہو گئی ہوں سفیر جلدی آؤ نا”
وہ میسج بھیج کر اب سامنے کے منظر کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔جہاں ابراھیم چاندی کلر کا کرتہ پہنے پنک کلر کا دوپٹہ گلے میں ڈالے احمد سے گلے مل رہا تھا۔اس نے ماہین کو دیکھ کر آنکھوں سے ہی واہ کیا بات ہے کہا تھا۔وہ مسکرا کر سمٹ گئی تھی۔
“یار آج تو توں شہزادہ لگ رہا ہے”
احمد نے ابراھیم کو سر تا پير دیکھ کر کہا تھا جو ماہین نے بھی سنا تھا۔
وہ خود بھی اس کی ڈریسنگ اپنے ڈریس کے ساتھ اس طرح میچ ہوتا دیکھا حیران ہوئی تھی۔ابراھیم کے بڑے بال خوبصورتی سے کٹے ہوۓ اس کی وجاہت کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ اب اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا ۔
“آج تو قتل کے ہر سامان سے لیس ہو تم ماہین”
وہ اس کو بغور دیکھتا ہوا بولا تھا۔
“کیا مطلب ؟؟”
وہ تعریف پر لال ہوتی ہوئی پھر بھی مطلب پوچھ رہی تھی۔
“قسم لے لو ایسا لگ رہا ہے چاند لڑکی بن کر نیچے اتر آیا ہے”
وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے تھوڑا آگے ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بے بس سا بولا تھا۔وہ اس کی اس بات پر قہقہ لگا کر ہنسی تھی۔
“پلیز بس کردو ابراھیم تمہیں نا تعریف کرنی بلکل بھی نہیں آتی،اچھا تم یہ بتاؤ یہ کپڑے کس خوشی میں میرے جیسے بناۓ ہیں؟؟”
وہ بھی تھوڑا آگے کو جھک کر اس کی طرف دیکھ کر بولی تھی۔
“یہ میں نے میچ نہیں کئے امی نے ہم دونوں کے لئے بناۓ ہیں بھائی کے بھی میرے جیسے ہی ہیں”
وہ سامنے کچھ دیکھ کر بولا تھا۔
“یہ کون ہیں بھائی کے ساتھ؟؟”
وہ حیرانگی سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔
۔************
سعید صاحب کو گھر چھوڑ کر سفیر فلق کے پاس آیا تھا جو پارکنگ میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
سفیر گاڑی لاک کرکے اس کی طرف آیا تھا۔وہ بھاگ کر اس کے گلے لگی تھی۔سفیر اس کی اس حرکت پر ہکا بكا ہوا تھا۔اس نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا تھا اب وہ اسے دیکھ کر اس کی اس حرکت کی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں جو صاف بتا رہی تھیں وہ روئی ہے۔
“کیا ہوا ہے فلق ؟؟؟”
وہ بھی گھبرا گیا تھا۔
“میں تنگ آ گئی ہوں سفیر اس تنہائی سے،مجھے وحشت ہونے لگی ہے خود سے،میں ۔۔۔۔میں صبح سے تمہیں فون کر رہی تھی تم نے میری ایک بھی کال نہیں اٹھائی سفیر”
وہ روتے ہوۓ بولی تھی۔سفیر کو نا چاھتے ہوۓ بھی اس کی کمر کو تھپتھپانا پڑا تھا۔
“سفیر مجھ سے کوئی بھی محبت نہیں کرتا،ڈیڈ اور موم دونوں مجھے پیدا کر کے بھول گئے تھے۔ڈیڈ مہینوں بعد بس دو دن کے لئے اپنی شکل دکھا جاتے وہ دو دن بھی موم کے ساتھ فل ٹائم جھگڑے میں گزر جاتا،اور موم کو کبھی گھر میں دیکھا ہی نہیں تھا،جب ڈیڈ گھر آتے تب بھی وہ بہت کم وقت گھر پر ہوتیں۔میں سارا دن گھر میں اور پھر سکول میں سہمی رہتی،شروع شروع میں ،میں موم اور ان نے ساتھ آنے والے انکلز کا رشتہ نہیں سمجھ پاتی تھی میں،پھر آہستہ آہستہ مجھے سب سمجھ آنے لگا،بیٹی ماں کے نقش قدم پر چلتی ہے،میں نے یہ ثابت کر دیا،میں بھی بہت سے لڑکوں کے ساتھ دوستی رکھنے لگی جس کا میری موم کو کوئی مسلہ نہیں ہوا تھا۔”
وہ ادھر پارکنگ میں ہی ایک طرف بیٹھتے ہوۓ بولی تھی۔
“بوئے فرنڈز سے شروع ہوا یہ سفر گرل فرنڈز سے ہوتا ہوا ڈرگز تک کب پوھنچا پتہ ہی نہیں چلا،مگر سکون پھر بھی نہیں ملا اور اب میرا دل کرتا ہے میں خود کو ختم کردوں”
وہ اپنا چہرہ نوچنے لگی تھی۔
“فلق تمہارا کیا دل کرتا ہے؟؟”
سفیر ہمدردی سے کہتا ہوا اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔
“بس تم میرے پاس رہو سفیر مجھے بہت سکون ملتا ہے تمہارے ساتھ”
وہ اس کے قریب آتی ہاتھ پکڑ کر بولی تھی۔
“فلق مجھے تمہارے ساتھ ہمدردی ہے مگر اس طرح ہاتھ پکڑنا گلے ملنا یہ کہیں سے بھی مناسب نہیں ہے،تم جس معاشرے سے آئی ہو وہاں یہ سب معمولی بات سمجھا جاتا ہوگا مگر میں نے آج تک اپنی منگیتر تک کا کبھی ہاتھ نہیں پکڑا،ہمارے ہاں یہ حق نکاح کے بعد ہی ملنا مناسب سمجھا جاتا ہے”
منگیتر کا سن کر فلق پیچھے ہوئی تھی اب وہ سفیر کو سپاٹ چہرہ لئے دیکھ رہی تھی۔
“ماہین نام ہے اس کا وہ بہت محبت کرتی ہے مجھ سے”
“اور تم سفیر ؟؟؟”
وہ بات کاٹ کر بولی تھی۔
“میں بھی”
وہ دل میں اس کا تصور کر کے مسکرايا تھا۔
“مجھے ملوا سکتے ہو؟؟؟”
اگلا سوال ہوا تھا۔
“ہاں ۔۔۔بس شادی ہو جائے پھر اسے لاؤں گا تم سے ملوانے”
اب اس کی محبت سفیر کے چہرے پر فلق کو نظر آرہی تھی۔وہ پہلو بدل کر بیٹھی تھی۔
“مگر مجھے آج ملنا ہے”
وہ ضد کرتی بولی تھی۔
“اتنی جلدی کیوں ہے فلق ؟؟”
وہ خلا میں دیکھتا ہوا بولا تھا۔
“میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ خوش نصیب انسان دیکھنے میں کیسا ہوتا ہے جیسے تم جیسا مرد اتنی محبت کرتا ہے کہ فقط اس کے ذکر سے ہی تمہارا چہرہ کھل گیا ہے،وہ کیسی ہوگی؟؟”
وہ عجیب سے لہجے میں بولی تھی۔
“آج تو میرے کزن کی مہندی ہے،میں نے تمہیں بتانا تھا فلق میں دو دن تک یہاں نہیں آپاؤں گا تمہیں کچھ چاہیے تو تم مجھے بتا دو میں لا دیتا ہوں،میں بس یہی بتانے آیا تھا”
وہ اٹھتا ہوا بولا تھا۔
“دو دن؟؟؟؟؟؟؟”
وہ حیرانگی كی انتہا پر لگ رہی تھی۔وہ بھی کھڑی ہو گئی تھی۔
“ہاں بس دو دن اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو فلق ؟؟؟”
“بس دو دن ہونگے یہ تمہارے لئے میں تو ایک پل بھی مشکل سے گزارتی ہوں سفیر جب تم نہیں ہوتے”
وہ پھر سے سفیر کے ہاتھوں کو پکڑ کر بولی تھی۔سفیر نے نرمی سے اس کے ہاتھ خود سے الگ کئے تھے۔
“دیکھو فلق مجھے تم سے فقط ہمدردی ہے “
“میں نہیں جانتا تم اور تمہارے ڈیڈ مجھے کیا سمجھتے ہو،مگر میں اس وقت تمہارے ساتھ فقط دلی ہمدردی میں بیٹھا ہوں مجھے تم لوگوں کے روپے پیسے کی کوئی لالچ نہیں ہے،مگر اگر تم اس طرح سے اس کا غلط مطلب نکال کر میری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کروگی تو میں نا صرف یہاں آنا چھوڑ دوں گا بلکہ آفس کی جاب سے بھی استیفی دے دوں گا۔”
وہ نرم لہجے لئے تلخی سے بولا تھا۔
“میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔ ابببببب ۔۔۔۔۔۔اب ایسا کچھ نہیں کروں گی پلیزززز ۔۔۔سفیر تم مجھے چھوڑ کر متتت مت ۔۔۔۔جانا ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔ایک بار پھر سے اکیلی ہوجاؤں گی ۔۔۔۔سفیر ۔۔۔”
وہ پاگلوں کی طرح بیٹھ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگی تھی۔وہ ایک ہی لمحے میں بلکل دیوانی لگنے لگی تھی”
سفیر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔
“دیکھو فلق اپنے ماں باپ کے ساتھ رہو،انہوں نے جو کیا وہ بھول جاؤ وہ جیسے بھی ہیں تم سے بے پناہ بے لوث محبت کرتے ہیں،میں روز روز تمہاری دل جوئی کا سامان نہیں بن سکتا یہ میری سیلف ریسپیکٹ کے خلاف ہے”
وہ اب نرمی سے بولا تھا۔
“ٹھیک ہے میں تمہاری بات مان لوں گی مگر ایک شرط پر تم مجھے ماہین سے ملوانے لے چلو ابھی”
وہ آنسو صاف کرتی اٹھی تھی۔
“مگر آج پورا خاندان وہاں جمع ہے میں تمہیں ایسے کیسے لے جا سکتا ہوں یار ؟؟؟”
وہ تنک کر بولا تھا۔
“کہہ دینا باس کی بیٹی ہے ذہنی بیمار ہے ڈاکٹر نے کہا ہے اس کو پرہجوم جگہ پر لے جاؤ تو بہتر ہو جائے گی”
وہ بهرائی آواز سے کہتی ہوئی ایک بار پھر خود کو کاٹ کر ہیجانی کیفیت میں بولی تھی۔
“تم پاگل نہیں ہو فلق بس اپنوں سے دور ہو”
سفر کشمکش کے عالم میں جيب سے موبائل نکالتا ہوا بولا تھا۔
“تم ادھر روکو میں ماہین سے بات کر کے بتاتا ہوں تمہیں”
وہ تھوڑا آگے کی طرف جاتا ہوا بولا تھا۔
(یہ سین تب کا ہے جب ماہین مہندی کی پلیٹس ٹھیک کر رہی تھی اور گھر پر بلند آواز میں میوزک چلا کر لڑکے مستی کر رہے تھے۔)
“ہیلو ماہین میری بات سنو؟”
“ہیلو سفیر کب آؤ گے تم ؟؟؟؟؟”
وہ ایک کان بند کر کے بلند آواز سے پوچھ رہی تھی۔
“ماہین میرے ساتھ سر کی بیٹی آرہی ہے وہ بہت بیمار ہے خود کشی کی کوشش بھی کر چکی ہے چار دن پہلے”
سفیر فورا سے بولا تھا مگر موسيقی کی تیز آواز کی وجہ سے ماہین نے کچھ بھی نہیں سنا تھا۔
“ہیلو یار کیا کہہ رہے ہو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ؟؟”
“بس جلدی سے گھر آجاؤ مجھے اور کچھ نہیں سننا”
وہ اپنی سنا کر فون کاٹ چکی تھی۔
سفیر غصے اور بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر فلق کی طرف آیا تھا۔
“کپڑے ہیں شادی پر پہننے والے ؟؟؟”
وہ بیزار سا بولا تھا۔جس کا جواب اس نے نفی میں سر ہلا کر دیا تھا۔
“چلو اب جا ہی رہی ہو تو کم از کم تیاری سے تو جاؤ”
وہ گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔پہلے اسے مال لے کر گیا جہاں سے اسے تینوں فنکشنز کے کپڑے اس کی پسند سے لے کر دیے۔پھر وہ پالر گئے۔جہاں اس نے گولڈن براؤن فروک کے ساتھ ہلکا سا میک اپ کروایا۔وہ اپنی بے حد گوری رنگت کی وجہ سے اس مشرقی لباس پہنے گھونگریلاۓ بالوں میں موم کی گڑیا لگ رہی تھی وہ سفیر سے ستائشی نظر چاہتی تھی مگر اس نے ایسا کوئی تاثر نہیں دیا تھا اس کا سارا دیھان ماہین کے ردعمل کی طرف تھا۔
“بس آخری کڑوہ گھونٹ پھر فلق اپنے گھر چلے جائے گی اور یہ چیپٹر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کلوز”
وہ سارے راستے خود کو سمجھتاے ہوۓ گھر پوھنچا تھا۔
اب وہ اسے گھر لے آیا اس وقت شام کے سات بجے کا وقت تھا سفیر نے ماں کو فون کر کے گھر بلايا۔اور اسے فلق سے ملوایا اور اس کی ذہنی حالت بتائی وہ خود اب نہا کر تیار ہونے لگ گیا تھا اس نے ابراھیم کی طرح کا کرتا اور دوپٹہ گلے میں گھوما کر ڈالا تھا۔اسی دوران خالدہ بيگم فلق کے ساتھ بہت محبت سے باتیں کر رہی تھیں۔فلق خالدہ بيگم کے ساتھ بہت خوش نظر آرہی تھی۔
“فلق تم نے دوائی لی ہے ؟؟”
سفیر نے دوپٹہ سیٹ کرتے ہوۓ باہر آکر پوچھا تھا۔
“واہ ۔۔۔۔سفیر تم تو کمال لگ رہے ہو ۔۔۔ہیں نا آنٹی جی ؟؟”
وہ کھڑی ہو کر گرم جوشی سے بولی تھی۔
“میرا بیٹا ہے ہی شہزادہ”
وہ بلائیں لیتی بولی تھیں
“فلق دوائی کھائی ہے ؟؟”
اس نے سوال دوہرایا تھا۔
“کھا لوں گی سفیر”
وہ مصروف سی بولی تھی۔
“ویسے میری بیٹی بھی بہت پیاری لگ رہی ہے”
وہ فلق کو محبت سے دیکھ کر بول رہی تھیں جس پر فلق نے شرماکر سفیر كی طرف دیکھا تھا۔
“بہت اچھا کیا تم نے بیٹا جو فلق بیٹی کو ساتھ لے آے تم یہاں شور شرابے میں اس کا دل اچھا ہو جائے گا”
خالدہ بيگم گھر کو تالا لگاتے ہوۓ بولی تھیں جبکہ وہ دونوں ساتھ کھڑے تھے۔
“میں اپنا پرس تو اندر ہی بھول آئی ہوں،بیٹا آپ لوگ چلو میں آتی ہوں”
وہ تال واپس کھولتے ہوۓ بولی تھیں۔
سفیر فلق کے ساتھ ٹینٹ میں داخل ہوا تھا جہاں ابراھیم کی نظر سب سے پہلے ان دونوں پر پڑی تھی وہ منہ میں بڑبڑاتا اٹھا تھا اس کی نظر کا تعاقب ماہین نے بھی کیا تھا۔وہ بجلی کی تیزی سے سفیر کی طرف اٹھ کر ابراھیم سے پہلے سفیر کے پاس پوھنچی تھی۔
وہ پتھرائی آنکھوں سے دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی،تکلیف اتنی کہ آنسو بھی آنکھوں میں آنے سے گریزہ تھے۔اس کی آنکھوں میں سوالوں کا طوفان تھا۔
وہ بمشکل ہاتھ اٹھا کر فلق کی طرف کر کے سفیر کو دیکھ رہی تھی۔
“میں بتاتا ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو ماہین پلیز میری بات سنو”
سفیر ماہین کے پاس ہوا تھا۔
ماہین کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا تھا اور وہ بیہوش ہوگئی تھی۔ابراھیم چونکہ اس کے ساتھ کھڑا تھا اس نے اسے فوری سہارا دیا تھا وہ اس کی باہوں میں جھول گئی تھی۔وہ اسے جلدی سے اٹھا کر گھر کے اندر لے آیا تھا سفیر اور فلق بھی ان کے ساتھ آے تھے۔خالدہ بيگم بھی ان کو اندر جاتا دیکھ چکی تھیں وہ بھی ٹینٹ میں جانے کی بجاے ان کے پیچھے ہی اندر آئی تھیں۔
سفیر ماہین کے ہاتھ مل رہا تھا وہ ایک دم بلکل ٹھنڈی ہو گئی تھی۔خالدہ بيگم اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹیں مار رہی تھیں۔اس نے آنکھیں کھول دی تھیں مگر بلڈ پریشر شدید لو ہوا تھا۔اس کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔
ابراھیم جلدی سے سکینجبين بنا کر لایا تھا جو اس نے دو گھونٹ پی کر چھوڑ دی تھی۔
وہ بس سفیر کو گھور رہی تھی جو بے قصور ہو کر بھی مجرم بنا کھڑا تھا۔
