482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 16

ماہین کو اپنے گھر گئے ہفتہ ہوا تھا۔رات کا وقت تھا آج موسم کافی خراب تھا یہی وجہ تھی کہ وہ دونوں ماں بیٹا نیچے برآمدے میں سونے لیٹے تھے۔

ابراھیم سفیر کے بارے میں گہری سوچوں میں تھا جب ماہین کا نمبر اس کے موبائل پر جگمگایا تھا۔

“ہوں”

وہ فون اٹھا کر بولا تھا۔

“گھر پر آؤ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں ابراھیم”

وہ عجیب سا انداز لئے ہوۓ تھی۔جس پر ابراھیم اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اس نے ایک نظر سوئی ہوئی ماں پر ڈالی اور چھت پر آ گیا۔

“موبائل میں وقت دیکھو”

وہ بیزاری لئے ہوۓ تھا۔

“جانتی ہوں ایک بج رہا ہے”

وہ فورا بولی تھی۔

“میں نہیں آسکتا،صبح آفس ہے،سونے لگا ہوں ماہین تم بھی سو جاؤ اپنے دماغ سے سب شیطانی خیالات جھٹک کر”

وہ اپنی بات مكمل کر کے فون کاٹ چکا تھا ابھی وہ دوسری سیڑھی پر آیا تھا کہ وہ دوبارہ فون کرنے لگی۔

“ماہین،ماہین یار تنگ مت کرو مجھے سچ میں بہت نیند آ رہی ہے”

بادل زور سے گرجے تھے اس نے ماہین کے ساتھ ساتھ آسمان کے بھی بگڑے تیور دیکھتے ہوۓ جمائی روک کر کہا تھا۔

وہ فون کاٹ چکی تھی۔ابراھیم نے سکھ کا سانس لیا تھا۔وہ واپس آ کر چارپائی پر لیٹ گیا تھا مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی۔

“بھائی میں اب مزيد آپ كی امانت نہیں سنمبهال پا رہا پلیز آپ جلدی سے گھر واپس آجائیں”

وہ کروٹ بدل کر ماں کو دیکھتا ہوا دل میں کہہ رہا تھا جو سونے سے پہلے بھی سفیر کی واپسی کی امید جگا کر سوئی تھیں۔

مزيد ایسے ہی ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔

رات کے دس بجے کا وقت تھا۔تیز بارش ہو رہی تھی۔

ماں سو چکی تھی۔ابراھیم بھی بس سونے ہی والا تھا جب موبائل کی بیپ ہوئی تھی۔

“ابراھیم فورا گھر آؤ ایمرجنسی ہے”

ماہین کا میسج سکرين پر چمک رہا تھا۔

ابراھیم مسلسل کال بيک کرتا رہا مگر اب نمبر بند آ رہا تھا۔اس نے جلدی سے رین کوٹ پہنا اور بائیک پر نکل گیا۔خالدہ بيگم کوویسے بھی نیند آور دوائی دے کر سلایا جاتا تھا۔ان کا اب صبح سے پہلے اٹھنے کا کوئی چانس نہیں تھا۔

تیز بارش ہو رہی تھی۔ماہین بارش میں بیٹھی ساکن دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔جہاں سے ابراھیم داخل ہوا تھا۔

“اس وقت کیوں بلايا ہے مجھے یار پاگل تو نہیں ہو گئی تم ؟؟؟”

وہ اس کا ہاتھ پکڑکر کمرے میں لے گئی تھی۔

“یار اب یہ کیا حرکت ہے؟؟؟”

وہ اپنی شرٹ سے چھیڑ خانی کرتی ماہین کے ہاتھ روک کر دبی دبی آواز میں چلایا تھا۔

“شششش۔۔۔۔۔۔”

اس نے ابراھیم کے لب پر اپنی انگلی رکھی تھی۔

اب وہ اپنا موبائل سیٹ کر رہی تھی۔

“کیا تماشہ چل رہا ہے یہ کوئی مجھے بتاۓ گا ؟؟؟؟؟”

ابراھیم نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھين کر کہا تھا۔

“قتل کے بدلے قتل ۔۔۔۔آنکھ کے بدلے آنکھ ۔۔۔۔غداری کے بدلے غداری ۔۔۔”

“یہ ماہین سفیر جہانگیر کا قانون کہتا ہے”

وہ واپس موبائل لے کر ویڈیو ریکارڈر آن کر رہی تھی۔

“تو ٹھیک ہے تم طلاق لے لو بھائی سے پھر . . . ایسے میں ۔۔۔ یہ سب ۔۔۔نہیں یار ۔۔۔”

وہ بيڈ پر اپنے گیلے بال سہلاتا بیٹھ گیا تھا۔

“نہیں تمہاری بیوی بن کر نہیں ۔۔۔۔سفیر کی منكوحہ رہ کر یہ گناہ کروں گی میں،اسے بھی تو پتہ چلے جب میں نے اسے ایسا دیکھا تو کیسا لگا مجھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

“عورت کو بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے اپنے شوہر کو بے وفائی کرتا دیکھ۔ ۔۔۔میں اس سے محبت کی بھیک نہیں مانگوں گی ابراھیم ۔۔ وہ جس دن واپس آیا یہ ویڈیو دیکھاؤں گی پھر پوچھوں گی ہاں بھئی مجھے قبول کر سکتے ہو غلطی ہو گئی مجھ سے پلیز سب بھول جاؤ ۔۔۔”

وہ ساتھ ساتھ ابراھیم کے قریب آرہی تھی۔

تیز بارش اور ماہین كی بے باکی ۔۔۔۔۔ابراھیم بھی مدہوش ہونے لگا تھا۔

“کیسے کہوں عشق میں تیرے کتنا ہوں بےتاب میں۔۔۔

آنکھوں سے آنکھیں ملا کے چرا لوں تیرے خواب میں۔۔۔۔

میرے ساۓ ہیں ساتھ یا راہ جس جگہ تم ہو

میں جو جی رہا ہوں وجہ تم ہو ۔۔۔۔وجہ تم ہو ۔۔۔۔

“ماہین ۔۔۔میرے ساتھ تو بھائی نے کچھ غلط نہیں کیا مجھے کیوں گناہگار کر رہی ہو؟؟”

وہ اسے بيڈ پر چھوڑ کر اٹھ کر بولا تھا ۔

ہے یہ نشہ یا ہے زہر،اس پیار کو ہم کیا نام دیں

کب سے ادھوری ہے،اک داستاں آجا اسے آج انجام دیں

تمہیں بھولوں میں کیسے،میری پہلی خطا تم ہو ۔۔۔

مگر ماہین آج اپنی قبر بھول گئی تھی اس نے دوبارہ سے ابراھیم کو گناہ پر اکسایا اور آخر وہ کامیاب ہو گئی ۔۔۔وہ جو عورت ہو کر حیا کا مطلب بھول چکی تھی پھر ابراھیم مرد ہو کر کب تک اس کی قربت سے انکار کرتا۔

“یہ سب ٹھیک نہیں ہوا ماہین ۔۔۔تم نے مجھے اپنی ہی نظروں میں گرا دیا ہے”

وہ خود کو نارمل کرتا وہاں سے جا چکا تھا۔

“هاهاهاهاها ۔۔۔اب دل ٹھنڈا ہوا ہے میرا،سفیر جہانگیر اب بات برابری پر آ گئی ہے اب سوچا جا سکتا ہے تمہاری بیوی بن کر رہنے کے بارے میں”

وہ قہقہ لگا کر اٹھ کر بیٹھی تھی۔ایک نظر خود پر ڈال کر اسے خود کوگندگی کے دلدل میں دھنسنے کا احساس زوروں سے ہوا تھا۔

اسے خود سے گھن

آئی تھی۔

“سفیر ۔۔۔۔نفرت ۔۔۔۔نفرت ۔۔۔۔بہت زیادہ نفرت ۔۔۔۔۔اس سے بھی کوئی برا لفظ ہو تو وہ کرتی ہوں میں تم سے ۔۔۔خدا کرے تم کبھی واپس نا آؤ۔۔۔۔خدا کرے تم مر جاؤ ۔۔۔تمہاری میت گھر آۓ”

“نا تم وہ سب کرتے نا میں آج اس غلاظت کا حصہ بنتی،میں نے آج خود کو اپنے ہی ہاتھوں سے مار دیا ہے،صرف و صرف تمہاری وجہ سے،جب سب کر ہی لیا تھا پھر مجھے ویڈیو کیوں بھیجی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟تم نے میرے پاس کوئی اور چارہ ہی نہیں چھوڑا تھا جبکہ تم میری شکی اور جنونی طبیعت سے واقف بھی تھے۔تم تو جانتے تھے ماہین تم پر ہوا بھی برداشت نہیں کر سکتی پھر یہ میں کیسے برداشت کرتی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

“میرے اللّه کیا کر دیا میں نے ؟؟؟؟؟؟؟کاش ۔۔۔۔کاش سفیر میں تم سے محبت ہی کرتی ۔۔۔۔تم سے عشق نا کرتی۔۔۔”

وہ بیڈ پر لیٹی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

ماہین کی اس رات کی حرکت کے بعد ابراھیم اس سے کترانے لگا تھا۔وہ پوری توجہ سے اپنی جاب کرنا چاہتا تھا۔

اس سب کو چھ مہینے گزر گئے تھے۔ایسا موقع بہت کم آیا تھا جب ان دونوں کا آمنہ سامنا ہوا ہو۔اپنے نمبر سے وہ ماہین کو بلاک کر چکا تھا۔

ماہین بھی ایک اسکول میں جاب کرنے لگی تھی۔آج لگ بھگ اس واقعہ کو سال ہوچکا تھا ۔

خالدہ بيگم کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ابراھیم انھیں ہسپتال لایا تھا تو طلعت کے ساتھ ماہین بھی ساتھ آئی تھی۔

خالدہ بيگم آئی سی یو میں تھیں طلعت اندر تھیں ابراھیم باہر بینچ پر بیٹھا تھا جب وہ اس کے ساتھ آ کر بیٹھی تھی۔وہ شاید سکول سے ڈائریکٹ آئی تھی تو ہاتھ میں کاپیوں کا ڈھیر پکڑا ہوا تھا وہ ایک بڑی سی چادر اڑھے ہوۓ تھی۔

“کیسے ہو ؟؟”

وہ کاپیاں ایک طرف رکھتی اس کے چہرے كی طرف دیکھتی ہوئی پوچھ رہی تھی۔

“ٹھیک ہوں اور تم؟؟”

وہ اس کی طرف پھيكی مسکراہٹ سے دیکھ کر نظریں چرا گیا تھا۔

“تم ہی بتاؤ میں کیسی ہوں؟؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی۔

“امی ۔۔۔۔امی کی وجہ سے پریشان ہوں،ہر وقت چکر آتے ہیں ان کو،ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ان کو آج کل”

ابراھیم منہ پر ہاتھ پھیر کر پریشانی سے بولا تھا۔

“سفیر ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ لمبی سانس کھینچ کر بولی تھی۔

“ان کے مرض کا علاج ۔۔۔۔”

وہ سامنے کی طرف دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔

“اور تمہارے ؟؟؟”

وہ فورا بولا تھا۔

“محبت کے لئے اچھا ہے کہ وہ محبت ہی رہے،جب وہ محبت نہیں رہتی تو وہ کچھ بھی نہیں رہتی ابراھیم”

وہ بے رنگ مسکرائی تھی۔

“مطلب تم بھائی سے اب محبت نہیں کرتی؟؟؟”

سوال حیرت میں ڈبا ہوا تھا۔

“اس رات کے بعد تو میں اس سوال کے جواب کا حق بھی کھو چکی ابراھیم”

“مجھے لگتا تھا محبت بہت مضبوط تعلق کا نام ہے،مگر اب اس نتیجے پر پوہنچی ہوں کہ یہ رشتہ تو ایک غلطی فهمی،بد گمانی ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔غلطی کی مار ہے ۔۔۔۔اس جیسا کمزور رشتہ تو شاید ہی کوئی اور ہو ۔۔۔”

اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔

“آنا کو تسكين ملی؟؟؟”

ابراھیم نے اس کی آنکھوں میں اترتی نمی کو غور سے دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔

“ہاں ۔۔۔۔۔۔آنا اور محبت کی جنگ میں ہمیشہ جیت آنا کی ہی ہوا کرتی ہے،محبت کب اپنے حق کے لئے لڑا کرتی ہے ؟؟؟محبت فقط محبت کے لئے لڑتی ہے خود تو وہ ہر کہانی میں ہی ہار جایا کرتی ہے،ماہین کی آنا بھی جیت گئی”

آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے برسے تھے۔

“اور ماہین کی محبت؟؟؟”

وہ حیران ضرور ہوا تھا۔

“ہار گئی”

اب وہ باقاعدہ رو دی تھی۔

“تم نے اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی کہیں کا نہیں چھوڑا ماہین ۔۔۔۔۔”

وہ کہہ کر اٹھ چکا تھا۔

ماہین اسے جاتا دیکھ رہی تھی اسے اس میں سفیر کی جهلک دکھائی دی تھی۔

وہ ہر وقت هنستا کھیلتا ابراھیم اب اپنے بھائی کی شبی ضرور لگنے لگا تھا۔ سنجیدگی،بس ضرورتأ مسکرانا،کم بولنا ۔۔۔یہ سب سفیر جیسا ہی تو تھا۔سچ ہی کہا کرتے ہیں لوگ اپنے سر پر آجائے تو بچپن بھی دم توڑ دیا کرتا ہے ابراھیم تو جوان تھا۔بھائی کی گمشدگی نے اس سے اس کی مسكراتی زندگی چھين لی تھی۔

۔***********

چار سال بعد ۔۔۔۔

“خالہ یہ امی نے کچھ چیزیں بھیجی تھیں”

ابراھیم کھلے دروازے سے اندر آیا تھا۔

“رکھ دو بیٹا ابھی تک ماہین گھر نہیں آئی،اب تک تو روز آ جاتی ہے”

طلعت پریشانی سے گویا ہوئی تھیں۔

“آجائے گی خالہ آپ پریشان نا ہو”

ابراھیم خالہ کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔

“بیٹا سفیر کا کچھ آتا پتہ نہیں،چار سال گزر گئے میں کب تک اس کو بیٹھا کر رکھوں آخر ؟؟؟نکاح نا ہوا ہوتا تو اور بات تھی اب تو کوئی رشتہ بھی نہیں پوچھتا اس کا،میں بوڑھی جان کب اس دنیا سے اجازت لے لوں کچھ پتہ نہیں،میری جوان بیٹی کا کوئی نہیں سفیر کے علاوہ ایسا جہاں اس پر کوئی انگلی نا اٹھے”

وہ روہانسی ہوئی تھیں۔

“خالدہ سے بیٹے کی جدائی نے بینائی تک چھين لی ہے وہ اسی امید پر جی رہی ہے کہ سفیر واپس ضرور آۓ گا،میں کیا کروں بیٹا،ایک طرف بیٹی کی جوانی ڈھل رہی ہے تو دوسری طرف بہن کی محبت ہے،میں دونوں طرف سے مجبور ہوں”

وہ رو دی تھیں۔ابراھیم کے پاس دلاسہ دینے کے

الفاظ نہیں تھے۔

اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔ماہین اندر آئی تھی۔

وہ ہاتھ میں پکڑی کتابیں فورا سے ٹیبل پر رکھ کر بنا سلام کیے برآمدے میں پڑی کرسی پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔

“امی پانی دے دیں ساتھ پيناڈول،طبیعت بہت خراب ہے میری بہت مشکل سے راستے میں بیٹھ بیٹھ کر آئی ہوں”

وہ آہستہ آہستہ بولی تھی۔

ابراھیم نے اٹھ کر اسے پانی اور فریج کے اوپر سے پيناڈول کا پتا دیا تھا۔

“تمہیں تو بہت تیز بخار ہے یار،چلو اٹھو ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں تم کوئی رکشہ لے لیتی یا مجھے فون کر دیتی میں لینے آ جاتا”

وہ پریشانی سے بولا تھا۔

“نہیں میں ٹھیک ہوں”

وہ کہہ کر اٹھی تھی مگر سر چکرانے سے وہ واپس بیٹھ گئی تھی۔

“بیٹا لے جاؤ اسے ڈاکٹر کے پاس کافی دنوں سے اس کے سر میں درد ہے اور چکر بھی آتے ہیں،میری تو یہ لڑکی ایک بھی نہیں مانتی”

ماں بھی پریشان ہو کر پاس بیٹھ گئی تھی۔آخر ان دونوں کے شدید اسرار پر جانے کے لئے راضی ہوگئی تھی۔

وہ بائیک پر بنا ابراھیم پر ہاتھ رکھے بیٹھ گئی تھی۔

“ہاتھ رکھ لو ماہین،گر جاؤگی”

ابراھیم اس کی طبیعت کے پیش نظر بولا تھا۔

“میں تم پر ہاتھ رکھنے کی وجہ سے ہی گر گئی ہوں ابراھیم،اب اور نہیں ۔۔۔۔میں ۔۔۔تم سے دور رہنا چاہتی ہوں،وہ سب نا ہوا ہوتا تو شاید تم اب تک میرے بہترین دوست ہی رهتے مگر ۔۔۔۔۔۔میں نے تو اس رات محبت کے ساتھ ساتھ ایک دوست بھی کھو دیا”

وہ اداس سی بولی تھی۔

“ماہین مان لو بھائی کبھی واپس نہیں آتے تو کیا ان کے نام پر بیٹھی رہوگی؟؟؟؟؟”

ابراھیم نے بائیک آہستہ کرتے ہوۓ پوچھا تھا۔

“پتہ نہیں”

وہ تلخی سے بولی تھی۔

“تم سفیر جیسی باتیں کرنے لگے ہو ابراھیم،اس کی طرح ہی ذمہ داری سے اپنی جاب ۔۔۔اپنے گھر کا ۔۔۔اور میرا بھی خیال رکھنے لگے ہو۔۔۔میں تم میں اسے دیکھتی ہوں”

وہ مسکرا کر نارمل ہوکر بولی تھی۔

ابراھیم نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ڈاکٹر نے اس سب کی وجہ زیادہ سوچنا بتائی تھی ماہین ذہنی دباؤ کی شکار تھی اور اسے ڈاکٹر نے کم از کم ایک ماہ ریسٹ کرنے اور پر سکون نیند لینے کا کہا تھا کچھ دوائیاں بھی دی تھیں وہ اسے گھر لے کر جانے کی بجاۓ ایک پارک میں لے آیا تھا جہاں بہت سے لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھے۔

موسم بھی اچھا تھا وہ دونوں گھاس پر نیچے ہی بیٹھ گئے تھے۔

“بھائی کے ساتھ کیا ہوا،وہ اب تک واپس کیوں نہیں آے،انہوں نے وہ سب کیوں کیا اور تمہیں وہ ویڈیو کیوں بھیجی میں کچھ نہیں جانتا مگر میں جانتا ہوں تو بس اتنا کہ میں تمہیں اس طرح نفسیاتی ہوتا نہیں دیکھ سکتا”

وہ اس کے مرجھاۓ ہوۓ چہرے پر نظریں گاڑے دیکھ رہا تھا۔

“ہو سکتا ہو وہ یہی بتانا چاہتا تھا کہ جیسے وہ زندگی میں آگے بڑھ چکا ہے میں بھی اس کا انتظار چھوڑ دوں”

وہ کرب سے بولی تھی۔

“ابراھیم سچ بتاؤ تو تمھارے ساتھ وہ سب کر کے میں نے سفیر کی ماہین کو مار دیا ہے،اب مجھے اس کا انتظار بھی نہیں ہے”

وہ کھیلتے ہوۓ بچوں کو دیکھتی گھاس اکھاڑتی بولی تھی۔

“ماہین .۔۔۔مجھ سے شادی کرلو”

ابراھیم اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔

“اللّه کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے،ہمارا اس رات قریب آنا اور بھائی کا ابھی تک واپس نا آنا ایک اشارہ ہے کہ ہمیں ایک ہو جانا چاہیے ۔۔۔۔ویسے بھی بھائی تم سے نکاح نا کرتے تو امی تمہیں میری دلہن ہی بناتیں،مجھے تم بچپن سے ہی اچھی لگتی تھی وہ تو پھر بھائی کی وجہ سے میں پیچھے ہٹ گیا اور تم بھی بھائی کو ہی چاہتی تھی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب میں۔۔۔۔۔ قدرت نے مجھے تمہیں مانو پلیٹ میں سجا کر پیش کیا ہے ماہین ۔۔۔۔”

وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑ کر بولا تھا۔

“ابراھیم ۔۔۔۔۔مجھ سے محبت نہیں ہوگی اب ۔۔۔تمہیں نا امید ہو جاؤگے”

وہ اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کر کے بولی تھی۔

“مان لو ماہین سفیر بھائی اب کبھی واپس نہیں آے گے ۔۔۔یہ اللّه کا فیصلہ ہے ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔محبت کرنے لگا ہوں تم سے ۔۔۔”

اس نے دوبارہ اس کے ہاتھوں کو تھاما تھا

“ویسے بھی خالہ کسی نا کسی سے تو تمہاری شادی کریں گی ہی تو پھر میں کیوں لا حاصل رہوں؟؟؟میری نیت پر شک مت کرنا جب تک بھائی تھے اور ان کے آنے کی امید تھی میں نے ایک بار بھی تم پر غلط نظر نہیں ڈالی نا ہی ایسا کچھ سوچا ۔۔۔۔اس رات تم میرا اتنا کڑا امتحان نا لیتی تو میں کبھی بھابھی کی حیثیت سے تمہارے قریب نہیں آتا ۔۔۔میری نیت کل بھی صاف تھی اور آج بھی صاف نیت سے تمہیں اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔میرے گھر کو میری ماں کو اور مجھے تمہاری ضرورت ہے ماہین ۔۔۔”

وہ ابراھیم کی آنکھوں میں دیکھتی نم آنکھوں سے مسکرا دی تھی۔

وہ اگلے ہی دن خلاء کے پیپر بنوا کر عدالت میں جمع کروا چکا تھا چونکہ گمشدگی کا معملہ تھا لہذا عدالت نے دوسری ہی سنوائی میں ماہین کو فارغ قرار دے دیا تھا۔

اگلے ہی دن ابراھیم کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا گیا تھا۔

وہ دلہن بنی اس کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔

“اب سے تم صرف ابراھیم كی جان ہو،میں تمہیں اپنی محبت میں پاگل کردوں گا ماہین”

وہ محبت سے زیادہ شدت سے اس کا ہاتھ تھام کر اس کے کان کے پاس ہو کر بولا تھا۔

وہ شرما کر اس کے سینے سے جا لگی تھی۔

ماہین کو ہمیشہ تعریف سننے کا شوق تھا ابراھیم اس کے مزاج کے عين مطابق تھا وہ چلتے پھرتے اس سے محبت کا اظہار کرتا،اسے تنگ کرتا جس پر وہ نہال ہو جاتی،روز شام میں اسے بائیک پر باہر لے کر جاتا ۔۔۔قصہ مختصر ۔۔۔۔

ابراھیم اور ماہین کا لمحہ لمحہ محبت کے سمندر میں ڈوب کر گزر رہا تھا۔

دوسری طرف سفیر کو سعید صاحب نے آزادی کا پروانہ اپنے مرنے سے عین ایک دن پہلے بھیجا تھا۔ساتھ ہی فلق انڈسٹریز کی تمام برانچیز اور اپنی کل دولت سفیر کے نام کر کے اس کے کاغذات بھی بھیج دیے تھے۔

وہ شاید اسی سے اپنا بوجھ کم کرنا چاھتے تھے۔سفیر نے جتنی ایمان داری سے بنا کسی لالچ آج تک ان کا ساتھ دیا تھا ان کو وہ ہی اپنی جائیداد کا وارث لگا تھا۔

وہ دونوں شہر کے کسی ہسپتال میں سعید صاحب کے پاس آے تھے جہاں وہ ایک لمبے عرصہ سے زیر علاج تھے۔

وہ برقی مشینوں میں جکڑے ہوۓ تھے۔ان کی دل کی سرجری كی گئی تھی جو بری طرح فيل ہوئی تھی۔وہ بول نہیں سکتے تھے۔انہوں نے اپنی وصیت ابراھیم اور ماہین کی شادی سے بھی دو ماہ پہلے سرجری سے پہلے کی تھی مگر وکیل نے اس پر عمل میں سستی کر دی تھی ورنہ وہ ان دونوں کا نکاح ہوتا ہی نہیں ۔۔۔مگر قدرت کو یہی منظور ہوا تھا۔

وہ دونوں ہاتھ باندھے کھڑے ان کو دیکھ رہے تھے۔

“ما ۔۔۔۔ما ۔۔۔۔۔معافی ۔۔۔۔”

وہ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر بمشکل بول پاۓ تھے۔مريم خاتون رونے لگی تھیں۔سفیر نے ان کے ہاتھ پکڑ کر ساتھ بیٹھ گیا تھا۔

“میں نے آپ کو معاف کیا سر ۔۔۔۔قصور آپ کا نہیں ہے ۔۔۔میرے رب نے میری قسمت میں یہ ہجر لکھا تھا۔۔۔جو میں نے کبھی ہنس کر کبھی رو کر کاٹ ہی لیا ۔۔۔۔آپ کی بیوی مريم نے میرا بہت ساتھ دیا ۔۔۔آپ نے ساری عمر ان کو ان کے دل کی مرضی پر سزا دی ۔۔۔۔محبت بس میں کہاں ہوا کرتی ہے ۔۔۔مگر میں یہ دعوے کے ساتھ کہتا ہوں یہ آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہیں ورنہ فقط طلاق کا ڈر ۔۔۔۔کسی انسان کو جانور کی طرح پوری عمر کھونٹی کے ساتھ نہیں باندھے رکھ سکتا ۔۔۔”

آنسو سیلاب کی طرح سعید صاحب کا چہرہ بھگو گئے تھے۔

انہوں نے مريم خاتون کو پاس آنے کا اشارہ کیا تھا . جب وہ آئی تو ان کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے ۔۔۔

وہ عورت جو ساری عمر بے مول گزار چکی تھی اب جا کر اس کے حصے میں یہ تعریف آئی تھی۔

“سائی ۔۔۔۔۔میرے سائی ۔۔۔میرے سر کے سائی ۔۔۔میرے سرتاج ۔۔۔۔بس جلدی سے ٹھیک ہو جایئں آپ،اب مريم اور ہجر نہیں سہہ سکتی ۔۔۔”

وہ تڑپ کر بولی تھیں۔

مشینیں شور کرنے لگی تھیں۔ڈاکٹر بھاگ کر اندر آۓ تھے۔مگر تب تک ان کی روح پرواز کر چکی تھی۔

سفیر نے ان کے کفن دفن کا انتظام کیا تھا۔وہ اور مريم تین دن تک ان کی شہر والی کھوٹی میں آنے جانے والوں کو سمنبهالتے رہے۔پھر مريم خاتون گاؤں چلی گئی جبکہ سفیر کاروبار کے ضروری ضروری کام نپٹا کر آج گھر گیا تھا۔

وہ پانچ سال بعد اپنے گھر واپس آیا تھا اس نے پانچ سال ایک ناكرده جرم کی سزا کاٹی تھی۔وہ بہت خوش تھا،بے تاب تھا اپنی ماں اور چھوٹے بھائی ابراھیم سے ملنے کے لئے۔اس وقت شام کا وقت تھا وہ جانتا تھا اس وقت اس کی ماں اور بھائی شام کی نماز پڑھ کر اب نیچے دسترخوان بچھا کر رات کا کھانا کھارہے ہونگے۔

اس نے ہمیشہ کی طرح اپنے کمرے کی کھلی کھڑکی کا انتخاب کیا گھر کے اندر جانے کے لئے۔

وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا اور سامنے کے منظر پر اس کی نظر پڑی اس کا دل کیا کاش وہ کبھی واپس ہی نا آیا ہوتا۔

اس کی منكوحہ ماہین اس کے بھائی ابراھیم کے گردن کے گرد اپنی باہیں پھیلاے مسرور سی اسے دیکھ رہی تھی وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنے مگن تھے کہ انہیں سفیر کے آنے کی خبر ہی نا ہوئی۔

“چلو نا جان خالہ کھانے پر ہمارا انتظار کر رہی ہیں”

ماہین نے سرگوشی میں محبت سے کہا تھا

“اچھا اچھا چلتے ہیں مگر ایک شرط ہے میں تمہیں گود میں اٹھا کر لے کر جاؤں گا”

ابراھیم نے اس كی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا

“ارے نہیں خالہ کیا سوچیں گی؟”

وہ شرمائی تھی

“امی کو کون سا دکھائی دیتا ہے یار”

ابراھیم نے ماہین کی بات کی تردید کی تھی

“مطلب امی اندھی ہو گئی ہیں میرے جانے کے دکھ میں ؟؟؟؟؟”

“وہ ماں جس کا میں نے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا ؟؟؟؟”

سفیر کو لگا اس کی اصل قيد اور سزا تو اب شروع ہوئی ہے ۔

“اور یہ ماہین میری منکوحہ تھی مجھ سے محبت کا دم بھرتی نہیں تھکتی تھی یہ ؟؟؟یہ میرے بھائی کے ساتھ کیا کر رہی ہے ؟؟؟”

“میری ایک غلطی نے میری دنیا بدل دی،میں سب کیسے ٹھیک کروں گا اب ؟؟؟؟؟؟”

سفیر غیر ارادی طور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا جس سے ابراھیم اور ماہین گھبرا کر اس کی طرف متوجہ ہوۓ تھے۔

۔**********

“امی آپ ان رشتے والوں کو منع کر دیں۔میں ابھی شادی نہیں کروں گی”

دعا جو آج پھر جاب کے لئے سڑکوں پر خاک چھاننے کے لئے تیار ہو رہی تھی اجلت میں بولی تھی۔

“بیٹا جاب کرنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے ایک تو تم پردہ کرتی ہو،اوپر سے کوئی انجان نمبر تمہیں فون کرنے لگ جائے تو تمہاری نیند اڑجاتی ہے یہ مردوں کا معاشرہ ہے میری جان تم جیسی معصوم لڑکیاں اس میں نوکری نہیں کر سکتیں”

دعا کی والدہ عافیہ بيگم اسے سمجھاتے ہوۓ بول رہی تھیں۔

“نہیں امی اب میرا ارادہ جاب کے نام پر ذلیل ہونے کا نہیں ہے”

وہ اب عبایہ پہنتی ہوئی مسکرا کر ماں کو دیکھ کر بولی تھی۔

“تو پھر یہ شاہی سواری کدھر جا رہی ہے اس طرح سر تا پير خود کو سیاہ رنگ کے حوالے کرکے ؟؟؟”

وہ اب اس گرمی میں سیاہ دستانے پہن رہی تھی۔

“امی میں نے فیصلہ کیا ہے میں اباں کی گارمنٹس کی فیکٹری پھر سے چالو کروں گی جو ان کے انتقال کے بعد سے بند پڑی ہے”

“میں فیکٹری جا رہی ہوں،میں نے اباں کے دوست جو ان کے ساتھ یہ فیکٹری چلا رہے تھے اشفاق انکل ان کو بلایا ہے۔سب وہ مجھے سمجھا دیں گے وہ فون پر بتا رہے تھے۔جو خام مال اباں آرڈر دے کر فوت ہو گئے تھے وہ آ چکا ہے۔اب بس کوئی اچھی سی کمپنی ہمیں آرڈر دے دو تو فیکٹری چل پڑے گی”

دعا کی آنکھوں میں امید کی کرن دیکھ کر عافیہ بيگم دل سے خوش ہوئی تھیں۔

“اور ویسے بھی اباں ہمیشہ کہتے تھے۔میں ان کا بیٹا ہوں۔ان کو کوئی غم نہیں بیٹا نا ہونے کا،تو دعا سفیر احمد یہ ثابت کر دے گی”

وہ پرجوش سی ماں کا ماتھا چوم کر بولی تھی۔

“اللّه میرے بیٹے کو کامیاب کرے”

وہ دعا دے کر مسکرادی تھیں۔

دعا جس کے والد کے انتقال کو پانچ ماہ ہونے کو تھے۔وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔دعا کے والد سفیر احمد ایک گارمنٹس بنانے والی فیکٹری چلا رہے تھے جو ان کی اكلوتی کمائی تھی وہ پانچ ماہ سے بند تھی۔تب سے وہ کافی بار جاب کے لئے گھر سے نکلی تھی مگر اتنے پردے میں بھی لوگوں کی نظروں اور باتوں سے تنگ آ کر پھر سے ارادہ ملتوی کر دیتی۔کیوں کہ اکثر جاب پر اس پر پہلا اعتراض اس قدر پردہ کرنے پر کیا جاتا طرح طرح کے فضول سوال سے اس کو الجھایا جاتا ۔آج وہ ایک نئی امید کے ساتھ گھر سے نکلی تھی۔