Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 3
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 3
سفیر اور سعید صاحب گاڑی سے اتر کر تقریبأ بھاگتے ہوۓ کاؤنٹر پر آئے تھے۔جہاں سے مریض کا نام اور کنڈیشن بتا کر ان کو فلق کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔
سعید صاحب ایمرجنسی روم میں فلق کو دیکھنے گئے تھے۔جبکہ سفیر کو ڈیوٹی پر بیٹھے ڈاکٹر سے فلق کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا تھا۔
“السلام علیکم ڈاکٹر ۔۔۔میں مس فلق کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں”
سفیر نے ڈیوٹی ڈاکٹر سے استفسار کیا تھا۔
“وعلیکم السلام بیٹھ جایئں پلیز”
“رشتہ پوچھ سکتا ہوں آپ کا ان سے ؟؟”
ڈاکٹر نے پین اور رائٹنگ پيڈ ایک طرف رکھ کر پوچھا تھا۔
“رشتہ ۔۔۔۔۔تو نہیں ہے ایسا ۔۔۔اپ مجھے ان کا دوست ۔۔۔۔۔یا پھر ۔۔۔ خیرخواہ سمجھ لیں اصل میں وہ میرے بہت عزیز انکل کی بیٹی ہیں”
سفیر کو حقائق جاننے کے لئے بات بنانی پڑی تھی۔
“ان کو اگر وقت پر نا لایا جاتا تو جس طرح انہوں نے خود کو زخمی کیا تھا ان کی جان موقعے پر ہی جاسکتی تھی۔فلحال وہ بچ ضرور گئی ہیں مگر ان کو بہت کمزوری ہے شاید وہ پچھلے لمبے عرصے سے اپنی ڈائیٹ پر ٹھیک سے توجہ نہیں دے رہی،وہ زندگی سے بہت ناراض لگتی ہیں ایسا کیوں ہیں؟؟؟اور ان کے جو ٹیسٹ فوری کروائے گئے ان کے مطابق میرا شک صحیح نکلا وہ بہت بڑی مقدار میں آئس کا نشہ کرتی ہیں”
ڈاکٹر نے بہت سوچ سوچ کر یہ سب کہا تھا۔ڈاکٹر کی بات سن کر خاص کر آئس کا نام سن کر سفیر کے پسینے چھوٹے تھے۔
“ڈاکٹر یہ آئس ؟؟؟”
سفیر نے لمبی سانس کھینچ کر پوچھا تھا۔
“جی آئس ۔۔۔۔۔اس کے نام سے لگتا ہے یہ نشہ برف کھانے کا ہوتا ہے ۔۔۔ایسا بلکل نہیں ہے ۔۔۔۔یہ تباہی کی حد تک خطرناک ڈرگ کی قسم ہے،اس کو آپ فرار کا آخری دروازہ بھی کہہ سکتے ہیں”
ڈاکٹر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پهنساتے ہوۓ کہا تھا۔
“ڈاکٹر ۔۔۔میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔کیا آپ تھوڑی راہنمائی کر سکتے ہیں میری پلیز۔۔۔”
سفیر کے لہجے سے الجھن واضح تھی۔
“آئس کا نشہ کرنے والا پانچ سے چھ دن تک لگاتار جاگتا ہے،وہ کھانا پینا بلکل چھوڑ دیتا ہے،وہ ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھ کر خوفزده رہتا ہے کہ کوئی اسے مارنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور اس میں اس کے گھر والے بھی شامل ہے۔اس کے خوفزدہ ہونے کی یہ حد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سائے پر بھی گولی چلا دے خوف کے مارے ۔۔۔۔اس کی ٹانگیں اور پورا جسم درد کی اس انتہا پر ہوتا ہے کہ عام طور پر اتنی تکلیف ایک عورت کو شاید زچگی کے دوران بھی نہیں ہوتی “
ڈاکٹر صاحب اب کھڑے ہو گئے تھے۔وہ اپنی ٹیبل پر پڑی ایک فائل بھی ساتھ ساتھ دیکھنے لگے تھے۔
“ڈاکٹر اگر اس کا نشہ اتنا تکلیف دہ ہے تو کوئی اس کو کرتا ہی کیوں ہے ؟؟؟نشہ تو سکون حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے نا ؟؟؟”
سفیر نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔
“ہاں اس نشے کا انتخاب سکون حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے حال کا یا ماضی کا صفحہ اپنے دماغ سے نوچ کر پھینکنا ہوتا ہے کیوں کہ آپ کا دماغ اس سب پر سوچنا ترک کر دیتا ہے اس نشے کے بعد ۔۔آپ اس کو چلتی سانس کی خود کشی ۔۔۔۔کہہ سکتے ہیں ۔۔”
“قصہ مختصر یہ ۔۔۔۔۔مس فلق ۔۔۔۔اپنے ماضی ۔۔۔۔سے پیچھا چھڑوانا چاہتی ہیں ۔۔۔۔جس کے لئے انہوں نے اس نشے کا انتخاب کیا ہوگا شاید کیوں کہ جتنی وہ دولت مند ہیں سکون اور شوق کے لئے وہ مہنگا سے مہنگا نشہ بہت آسانی سے افورڈ کر سکتی ہیں پھر اسی نسبتأ سستے نشے کا ہی انتخاب کیوں کیا ہوگا انہوں نے ؟؟یا شاید جتنا تلخ ماضی وہ رکھتی ہیں یہ تکلیف کم لگتی ہے ان کو جس سے وہ اب گزر رہی ہیں۔۔۔۔آئس کا نشہ اپنی بد ترین تکلیف کو اس سے ملنے والی اذیت سے ایکسچینج کرنے کا نام ہے”
ڈاکٹر اب کسی کو فون ملانے لگا تھا۔
“ڈاکٹر اب کیا کیا جانا چاہیے مس فلق کے لئے ؟؟”
“جی مسٹر عابد ۔۔۔مس فلق کی باقی کی ليب رپورٹس میرے روم میں بھیج دیں”
ڈاکٹر نے سفیر کو ہاتھ سے انتظار کرنے کا اشارہ کر کے ليب انچارج کو فون ملا کر کہا تھا۔اب وہ فون رکھ کر سفیر کی طرف متوجہ ہوۓ تھے۔
“وہ تنہائی کی شکار ہیں جو انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے،ان کے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے فلحال،ان کو جینے کی وجہ دینے ہوگی اور ساتھ ساتھ ان کو اس نشے کی لت سے نکالنے کے لئے لگ بھگ تین ماہ تک ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں رکھنا ہوگا،ان کی اس حرکت سے پہلے بھی ان کے والد ان کو میرے پاس لا چکے ہیں،اصل میں میں ان سائیکائیٹرسٹ ڈاکٹر آصف باجوہ ہوں”
وہ مزيد بولے تھے۔
“اچھا میں اب چلتا ہوں ڈاکٹر آصف ۔۔۔۔۔میں سعید سر سے اس حوالے سے بات کر کے آپ کو بتا دوں گا،آپ کے وقت کا بہت بہت شکریہ”
سفیر بات ختم کرتا ہوا باہر آیا تھا۔وہ سخت تنگ تھا سچ تو یہ تھا اسے اس امیر زادی کی اس عیاش زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔یہ اضافی ذمہ داری فقط ایک زبردستی کا ڈھول تھی جو اس کے گلے میں ڈال دیا گیا تھا جو اسے اب بس نا چاھتے ہوۓ بھی بجانا تھا۔
وہ انہی سوچوں کے ساتھ
فلق کے کمرے میں آیا تھاوہ ابھی دروازے میں ہی کھڑا تھا جب اس کے کانوں میں سعید صاحب اور ان کی بیوی لائبہ کی آوازیں پڑی تھیں۔
“یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے لائبہ؟؟
کوئی ڈھنگ کے کپڑے نہیں تھے تمہارے پاس؟؟
یہ پاکستان ہے ایک نام ہے،مقام ہے عزت ہے میری یہاں ۔۔”
سعید صاحب دبی دبی آواز میں لائبہ کو باتیں سنا رہے تھے جو کھلے گلے والی شارٹ شرٹ،کھلے ٹراؤزر کے ساتھ گلے میں مفلر سا ڈالے فلق پر جھک کر مائی چائلڈ مائی چائلڈ کی رٹ لگاۓ ہوۓ تھی۔
“جسٹ شٹ آپ سِڈ۔۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ ۔۔۔۔پلیز اکیلا چھوڑ دیں مجھے اور میری فلق کو ۔۔۔”
وہ بدتمیزی سے فلق کی پرواہ کئے بغیر چینخی تھی۔جس پر فلق اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔اس نے اپنی کلائی والا ہاتھ اور دوسرا ہاتھ اپنے بالوں پر رکھا اور اب وہ اپنے بال کھینچ کر غصیلی آواز نکالتی چینخی تھی۔سفیر جلدی سے اندر آیا تھا۔
“پلیز ميم ایسا مت کریں”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنے لگا تھا۔
“ان دونوں کو کہیں نکل جایئں یہ کمرے سے ورنہ میں ابھی اور اسی وقت اس کمرے كی کھڑکی سے گود کر اپنی جان دے دوں گی”
وہ ہیجانی کیفیت میں چیخ کر بولی تھی۔سفیر نے اشارہ سے سعید صاحب اور ان کی اہلیہ کو باہر جانے کا کہا تھا وہ دونوں شکستہ قدم باہر چلے گئے تھے۔ان کے جانے کے بعد وہ ایک دم نارمل ہوتی سیدھی لیٹ گئی تھی اس کے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھے ہوۓ تھے۔سفیر چپ چاپ کھڑا اس انتہاکی گوری چٹی خوبصورت، معصوم لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کے دل و دماغ کی تکلیف اس کا چہرہ چینخ چینخ کر بتا رہا تھا۔اس کی آنکھوں کے نیچے پڑے سیاہ ہلکے ،ایک لمبے عرصہ سے شب بيداری کا پتہ دے رہے تھے۔اب وہ چھت کو گھور رہی تھی۔اس کے لب ایسے خاموش تھے جیسے وہ برسوں سے چپ کے تالے سے مقفل رہے ہو۔۔۔
“آپ جو کوئی بھی ہیں آپ بھی چلیں جایئں یہاں سے مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے”
اس کی آنکھوں کے دونوں اطراف سے آنسوؤں کا ایک ریلا بہہ کر آزاد ہوا تھا مگر لب اس سے بے خبر سپاٹ تھے۔
سفیر بنا کچھ کہے وہاں سے نکل آیا تھا۔سعید اور لائبہ اسے باہر آتا دیکھ فوراً اس کے پاس آے تھے۔
“بیٹا تم تو ادھر رهتے کہیں وہ پھر سے کچھ کر نا لے۔۔۔”
ایک کمزور باپ بولا تھا۔جو اربوں کی جائیداد کا مالک ہو کر بھی اپنی اصل دولت اولاد کی محبت سے محروم تھا۔
“وہ اکیلا رہنا چاہتی ہیں سر،آپ فکر مت کریں وہ ٹھیک ہو جائے گی انشاءلله”
سفیر نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیا تھا۔جس پر وہ سفیر کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے تھے۔
“اچھا بیٹا تم گھر چلے جاؤ،گھر والے پریشان ہو رہے ہونگے،کل بہت اہم میٹنگ ہے اب وہ تم اکیلے ہی ہینڈل کرو گے فلق کی طبیعت بہتر ہوتی ہے تو میں آفس کا چکر لگاؤں گا”
وہ الگ ہوکر اب کورٹ سے ٹشو نکال کر اپنی آنکھیں خشک کرتے ہوۓ بولے تھے۔
سفیر نے اثبات میں سر ہلایا اور جلدی سے کوریڈور سے ہوتا ہوا باہر آیا تھا شام کے سات بج رہے تھے اور اس نے آج پورے دن میں ایک بار بھی ماہین کو خود سے کال یا میسج تو دور اس کے کال اور میسج کا بھی جواب نہیں دیا تھا وہ جانتا تھا آج وہ کسی قیمت نہیں مانے گی۔
وہ روڈ پر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑا ہو گیا تھا اس نے موبائل نکال کر ماہین کا نمبر ڈائل کیا تھا۔کال پہلی رنگ پر ہی اٹھا لی گئی تھی۔
“ہیلو ۔۔۔ماہین کیسی ہو میری جان ؟؟؟”
سفیر نے حفاظتی تدابیر کو اپناتے ہوۓ اس کے من پسند لفظ جان کا استعمال کیا تھا۔
“بہت اچھی ہوں ۔۔۔۔۔۔ارے اب میری کی طرف تو مت دیکھو نا ایسے۔۔۔کہہ بھی رہی تھی اتنی جلدی جلدی مت ختم کرو،میں تو نہیں دینے والی اپنی آئس کریم”
وہ کان فون کے ساتھ لگا کر سفیر اور ابراھیم دونوں سے مخاطب ہوئی تھی۔لہجہ بہت فریش تھا اور حسب توقع اس نے کوئی گلا بھی نہیں کیا تھا وہ بہت خوش اور مصروف لگ رہی تھی سفیر کو یہ سب اچھا نہیں لگا تھا وہ چہرے پر آئی مسکراہٹ کو پی گیا تھا وہ چپ کر گیا تھا۔
“ہاہاہاہا ۔۔۔۔کمینے کہیں کے ۔۔۔۔ماہین نے ابراھیم کی کسی حرکت پر کھلکھلا کر کہا تھا۔سفیر نے کال کاٹ کر موبائل جيب میں رکھ لیا تھا اسی دوران ٹیکسی آکر رکی تھی۔وہ اس میں بیٹھ گیا اس کا خیال تھا ماہین اب حسب عادت اسے بار بار فون کر کے کال کاٹنے کی وجہ پوچھے گی مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔وہ کافی دیر موبائل کی سکرین پر اس کا نام روشن ہونے کا منتظر رہا مگر ایسا نہ ہوا۔
پورے دن کی بے آرامی اور ورک لوڈ کے بعد ماہين اس کی زندگی میں وہ واحد وجہ تھی جس کے ساتھ بات کرتے ہی وہ دن بھر کی تھکان چاۓ کے کپ کی ایک چسکی کی طرح اتار لیا کرتا تھا مگر آج اس کی آواز میں اس کے بغیر جهلكتی خوشی دیکھ کر اس کی تھکاوٹ میں انتہا کا اضافہ ہوا تھا۔
وہ شل اعصاب کے ساتھ گھر پہنچا تھا۔
“سفیر بیٹا کھانا گرم کرتی ہوں تم نہا دھو لو”
خالدہ بيگم نے بیٹے کو دیکھتے ہی فوراً کہا تھا جو آج سلام کئے بغیر ہی چپ چاپ اندر آ کر برآمدے میں پڑی چارپائی پر آنکھیں بند کئے لیٹ
گیا تھا۔
“ابراھیم کدھر تھا آج سارا دن؟؟
کام پر نہیں جا رہا کیا آج کل؟؟؟”
سوال اسی پوزیشن میں ہوا تھا۔
“جاتا ہے بیٹا بس دو دن سے کہہ رہا ہے مالک باہر گیا ہوا ہے تو انشورنس آفس بند پڑا ہے،تم تو جانتے ہو اس کی ہوائی روزی ہے تمہاری طرح پکا کام نہیں ہے اس کا”
خالدہ بيگم اب کچن کی طرف بڑھی تھیں۔
“تو گھر میں نہیں ٹک سکتا جب دیکھو آوارہ گردی،کبھی یہاں کبھی وہاں”
سفیر کی آواز میں غصہ واضح جهلك رہا تھا۔
“بیٹا مجھے تیری یہی بات بہت پسند ہے،باپ کی طرح فکر کرتا ہے تو ابراھیم کی”
وہ محبت سے گویا ہوئی تھیں۔
“ہاں تبھی تو وہ میرا باپ بن گیا ہے”
سفیر نے ہم کلامی میں آہستہ سے کہا تھا جو خالدہ بيگم کو سمجھ نہیں آیا تھا۔
“امی کھانا نہیں کھانافلحال بس اچھی سی چاۓ لا دیں،چھت پر جا رہا ہوں”
سفیر کہہ کر اوپر چلا گیا تھا۔اب وہ ادھر کھلی چھت پر بچھی چارپائی میں لیٹا ستاروں سے بھرے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔
“کہیں ایسا تو نہیں ابراھیم بھی ماہين کو پسند کرتا ہے؟؟”
مگر وہ تو جانتا ہے کہ ماہین مجھ سے محبت کرتی ہے پھر ۔۔۔ وہ میرا بھائی ہو کر سب جانتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟”
وہ سخت الجھا ہوا تھا جب کوئی چھت پر آیا تھا جیسے بنا دیکھے سفیر نے چاۓ نیچے رکھ دینے کا کہا تھا۔
“ارے بس چاۓ کا ہی انتظار ہو رہا تھا؟؟
مجھے تو لگا مجھے سوچا جا رہا ہوگا”
ماہین چادر اوڑھے ہاتھ میں چاۓ کا کپ پکڑے بولی تھی۔سفیر کو اسے رات کے اس پہر ابراھیم کے ساتھ بائیک پر خاک چھان کر اب یہاں آنا سخت ناگوار گزرا تھا۔وہ تلخی سے اس پر نظر ڈال کر پھر سے تاروں سے بھرے آسمان کو دیکھنے لگا تھا۔
“دیکھا میں نے کہا تھا نا بھائی ناراض ہیں تم سے،تم نہیں مان رہی تھی نا اب دیکھ لو”
ابراھیم جو اس کے پیچھے ہی تھا فوراً سے بولا تھا۔سفیر نے اب آنکھیں بند کر لی تھیں۔
“سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ابراھیم میں کہہ بھی رہی تھی میں امی کے ساتھ چلی جاؤں گی پالر”
وہ چاۓ کا کپ ہاتھ میں پکڑے اب سفیر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔
“مجھے تمہارا میرے بھائی کے ساتھ جانا برا نہیں لگا بلکہ رات کے اس پہر اس طرح کھلے عام کسی آئس کريم پالر پر بیٹھنا برا ضرور لگا ہے”
سفیر نے چاۓ کا کپ اس کے ہاتھ سے لے کر کہا تھا۔
“تم نیچے جاؤ ابراھیم میں خود بات کرتی ہوں آپ کے بھائی جان سے”
ماہین نے ابراھیم کو نیچے جانے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا۔
“معاف کردو اپنی جان کو آئندہ ایسے نہیں ہوگا،دیکھو میں اس وقت امی کو بنا بتائے ابراھیم کی منتیں کر کر کے یہاں آئی فقط تمہیں منانے آئی ہوں،میں جانتی تھی اب فون نہیں اٹھاو گے پھر میں پوری رات جاگ کر گزارتی”
وہ پاس آ کر سفیر کی آنکھوں میں محبت سے دیکھتی ہوئی اپنے دونوں کان پکڑ کر بولی تھی۔
سفیر کو اس پیاری لڑکی پر جی جان سے پیار آیا تھا،وہ مسکرا دیا تھا۔جس پر ماہین نے سرگوشی میں اسے آئی لو یو کہا تھا ۔۔
“چلو جلدی جلدی چائے ختم کرو پھر مجھے گھر چھوڑ آؤ،بنا اپائنٹمنٹ کے پالر گئی تھی آخر میں جا کر میری باری آئی تھی۔بالوں کی کٹنگ کروا کر آئی ہوں۔مگر ابھی نہیں دکھاؤں گی،تم بس احمد بھائی کی شادی پر دیکھنا میرے جلوے ۔۔۔۔”
وہ ادا سے مسکرا ئی تھی ۔۔۔۔سفیر اس کو بچوں کی طرح خوش ہوتا دیکھ فریش ہوگیا تھا سارے دن کی تھکان چھو منتر ہوئی تھی۔۔۔۔
“سمجھ نہیں آ رہی چاۓ سے سر درد ختم ہوا ہے کہ تمہیں دیکھ کر۔۔۔”
سفیر نے چاۓ کا سپ لے کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔
“آف کورس مجھے دیکھ کر،آخر میں چیز بڑی ہوں مست مست ۔۔۔”
وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔
سفیر اس کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دیکھ کر دل سے خوش ہوا تھا ۔۔۔
“واہ جی کیا بات ہے آپ دونوں كی،غوٹر غوں،غوٹر غوں ۔۔۔ نیچے امی کب سے آپ دونوں کا راستہ دیکھ رہی ہیں،آپ دونوں نیچے چلیں میں خالہ کو لینے جا رہا ہوں امی کہہ رہی ہیں آج رات آپ دونوں ادھر ہی کریں گے”
ابراھیم وہاں اچانک آ دھمکا تھا۔
“تو کیا کہا آپ دونو ں نے مجھے؟؟؟کباب میں ہڈی؟؟؟”
وہ دونوں کو خود کو دیکھتا دیکھ قہقہ لگا کر بولا تھا۔
“آئندہ اپنی بھابھی کو اس طرح دوکان پر بیٹھ کر آئس کريم مت کھلانا ابراھیم”
سفیر نے نرمی سے کہا تھا۔
“کوریکشن ریکوائرڈ ۔۔۔ہونے والی بھابھی ۔۔۔سفیر بھائی”
ابراھیم نے ایک بار پھر زور دار قہقہ لگایا تھا۔
“کریں نا بات امی سے احمد بھائی کے ساتھ لگے ہاتھوں آپ کا بھی لگن ہو جائے،ماہین گھر میں آ جائے گی تو میری بوریت بھی کچھ کم ہو جائے گی کوئی ہمیں بھی چاچو چاچو کہنے والا ہوگا۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
وہ خوش ہوتا پیٹ پکڑ کر هنسا تھا۔سفیر بھی هنسا ضرور تھا مگر اسے کچھ وقت پہلے ابراھیم کو لے کر اپنے وسوسے کو سوچ کر اپنی سوچ كی پستی پر افسوس ہوا تھا۔جبکہ ماہین شرم سے زیادہ خوشی سے لال ہوتی تیزی سے اتر کر نیچے گئی تھی۔
وہ دونوں بھی ہنستے ہوۓ نیچے آئے تھے۔۔
