482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 13

“ڈیڈ آج ہم کب جایئں گے سفیر کے پاس ؟؟؟”

فلق سعید صاحب جو کہ آفس کے لئے تیار ہو رہے تھے ان کے کمرے میں آ کر بولی تھی۔

“بیٹا فلحال ہم دونوں کا یہاں حاضر رہنا بہت ضروری ہے،آفس کے گاڈ نے رات فون پر بتایا ہے مجھے کہ سفیر کے گھر سے اس کا بھائی آیا تھا۔جہاں تک میرا خیال ہے وہ پولیس سٹیشن بھی گیا ہوگا،اس کی بائیک میں توڑکر کباڑ میں پھینکوا چکا ہوں،مگر وہ چونکہ میرے ساتھ آفس سے نکلا تھا یہ بات میں کسی طرح بھی كور نہیں کر پارہا کیوں کہ سب نے اسے میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ دیکھا تھا۔”

وہ پرفیوم لگاتے ہوۓ بول رہے تھے۔

“ڈیڈ تو آپ یہ کہہ دینا کہ جب تک آپ کی میٹنگ ختم ہوئی آفس ٹائمنگ ختم ہو چکی تھی۔پھر آپ وہاں سے ڈائریکٹ گھر آگئے اور وہ كيب لے کر آفس کے لئے نکل گیا تھا۔پھر جب تک وہ آفس آیا بائیک لینے تب تک آفس خالی ہو چکا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنا آفس کارڈ اوٹ بھی نہیں کیا اور صرف چوکیدار نے ہی اسے بائیک لے کر جاتا دیکھا سمپل۔۔۔۔اور اگر زیادہ مسلہ ہوا تو آپ کے بہت اچھے دوست اس ڈیپارٹمنٹ میں کافی اچھے عہدے پر ہیں ان کی مدد بھی لی جا سکتی ہے”

فلق ڈیڈ کا کوٹ اور ٹائی ٹھیک کرتی ہوئی پر سکون سی بول رہی تھی۔

“ذہین باپ کی فطین بیٹی،مجھے فخر ہے تم پر،مائی ڈارلنگ بےبی،”

وہ فلق کا ماتھا چوم کر بولے تھے۔

“اب بتائیں ہم کب سفیر کے پاس چلے گے بہت یاد آ رہا ہے مجھے وہ،میں کہہ بھی رہی تھی مجھے رات اس کے ساتھ رک لینے دیں،صبح تک میں منا ہی لیتی اسے نکاح کے لئے بھی ڈیڈ”

وہ تقریباً گرتے ہوۓ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی اداسی سے بولی تھی۔

“بیٹا اس طرح تمہارا رکنا مناسب نہیں تھا میں مريم کے سامنے آنکھ ملانے کے قابل نا رہتا،وہ بہت عزت کرتی ہے میری اور اس سب کو معیوب بھی سمجھتی ہے،یہ بلکل بھی مناسب نہیں تھا اور دوسری بات سفیر اس قسم کا لڑکا ہرگز نہیں ہے،کچھ وقت گزر لینے دو تب تک یہاں بھی معملہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور سفیر بھی سمجھ جائے گا کہ یہاں سے اس طرح نكلنا نا ممکن ہے پھر ہم وہاں جایئں گے اور تمہارا نکاح کر کے کینڈا کی سیٹ کنفرم کر کے اسے ڈائریکٹ لے جایئں گے”

“مگر ڈیڈ جیسے کہ پولیس اس کو تلاش کررہی ہوگی تو اس کا ویزہ اور ٹکٹ وغیرہ کا کیا کریں گے وہ سب تو ریکارڈ میں آ جائے گا ؟؟؟”

فلق نے اہم نقطہ اٹھایا تھا۔

“وہ سب دوسرے نام س بنے گا۔اس کے دو فائدے ہونگے،پہلا اسے آسانی سے لے جایئں گے اور دوسرا اس کی پہچان ختم ہو جائے گی وہ فیک نام سے ایک غیر ملک میں ھوگا پکڑے جانے کا خوف اسے کبھی بھی پاکستان آنے پر مجبور نہیں کرے گا پھر اس کی گردن مستقل تمھارے ہاتھ میں ہوگی تم اپنی خوشی سے اس کے ساتھ رہنا وہ تو بس ایک ربورٹ بن کر رہ جائے گا”

سعید صاحب نے سفاکی کی حد پھلانگتے ہوۓ کہا تھا۔جس پر فلق اپنی نیچ ذہنیت کے عین مطابق خود کو ایک بند کمرے میں سفیر کے ساتھ مختلف انداز میں سوچ سوچ کر خوشی سے لال ہو گئی تھی۔

“پتہ ہے ڈیڈ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ کی بیٹی نے کسی مرد کا ساتھ چاہا ہو اور اس نے انکار کیا ہو ۔۔۔۔سفیر جہانگیر نے مجھے مجبور کیا ہے اس لیول تک آنے پر وہ جب فلیٹ میں آیا کرتا تھا تب ہی میرا اشارہ سمجھ جاتا اور میرے قریب آ جاتا تو فلق سعید اسے بھی عام کر کے انہی سینکڑوں مردوں کی گنتی کا ایک عدد گن کر چھوڑ دیتی مگر ۔۔۔۔۔اس نے میری ضرورت کو نہیں سمجھا ۔۔۔۔ میرا دل کب اس کی اسی ادا پر آہیں بھرنے لگا کچھ پتہ ہی نہیں چلا مجھے ۔۔۔۔اب جب تک میرا دل نہیں بھرتا میں اسے اپنے ساتھ رکھوں گی جس دن فلق سعید کو کوئی اور مرد پسند آگیا میں اسے اس کی اوقات یاد کروا کر پھینک دوں گی”

بیٹی نے ترکی با ترکی باپ کا خون ہونے کا حق ادا کیا تھا۔سعید صاحب خود بھی سفیر والے معملے سے تنگ آچکے تھے وہ بس جلد از جلد کسی من چاہے کھیلونے کی طرح بیٹی کو سفیر دلا کر اس کو خوش کرنا چاھتے تھے۔وہ بیٹی کو پیار دے کر آفس کے لئے نکل گئے تھے۔جہاں پولیس ان كی منتظر تھی۔جس کے وہاں آنے کا مقصد فقط کاغذی کاروائی میں سعید صاحب اور آفس کے لوگوں کا بیان شامل کرنا تھا۔ورنہ ان كی نظر میں سعید صاحب ایک شریف انسان تھے جن پر شک کرنا تو دور سوچنابھی گناہ عظیم تھا۔

۔*************

خالدہ بيگم باقاعدہ ہوسپیٹلائزڈ ہو گئی تھیں۔انہوں بلکل کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔گہرے صدمے کی وجہ سے ان کی ذہن حالت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ان کو مزيد نقصان سے بچاۓ رکھنے کے لئے نیند آور ادویات ڈرپ میں ڈال کر دی جانے لگی۔

ماہین کو بہت مشکل سے کھانے کے چند نوالے خاندان کے بڑے بوڑھے سمجھا سمجھا کر کھلا رہے تھے۔اسے چپ لگ گئی تھی۔وہ زیادہ وقت خلاؤں میں دیکھتی رہتی کوئی کہتا اٹھ جاؤ تو اٹھ جاتی کوئی لیٹنے کا کہتا تو فورا لیٹ جاتی سونے کا کہتا تو آنکھیں بند کر لیتی۔

خالدہ بيگم کے پاس ہسپتال میں

طلعت بيگم تھیں۔جبکہ ماہین اور ابراھیم احمد کے گھر پر تھے۔باقی دونوں گھروں کو تالا لگا دیا گیا تھا۔آج پندرہ دن ہو چکے تھے۔

رات کا وقت تھا سب سو رہے تھے۔موسم خراب تھا بارش کسی بھی وقت آسکتی تھی۔سب نیچے ہی سونے لیٹے تھے مگر ابراھیم پھر بھی ضد کر کے اوپر چھت پر تنہا لیٹ گیا تھا۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھے سفیر کے متعلق سوچ رہا تھا جب اسے اپنی چارپائی کے پاس کسی کی آہٹ محسوس ہوئی تھی۔ بجلی بار بار کڑکتی اور آسمان دو ٹکڑوں میں تقسيم ہوجاتا۔

“ابراھیم”

ماہین کی آواز آج کافی دن بعد ابراھیم کو سنائی دی تھی۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔

“نیچے کیوں بیٹھی ہو ماہین ؟؟یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو”

وہ نیچے ساکت چہرہ لئے بیٹھی ماہین کو نرمی سے بول کر خود بلکل ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا تھا۔مگر اس پر ابراھیم کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

“ابراھیم سفیر کو میری یاد نہیں آتی ہوگی؟؟”

وہ آسمان کو دیکھتی بے رنگ سی بولی تھی۔جب سے سفیر غائب ہوا تھا اسے زبردستی برش کروا کر منہ ہاتھ دھلایا جاتا ۔زبردستی کنگی کر کے اس کے بهكرے بال چٹیاں میں مقید کئے جاتے۔وہ بال جن کو وہ جدید طرز سے کٹوا کر بہت محبت سے رکھتی تھی اب خیال نا رکھنے کی وجہ سے ہر وقت الجھے رہنے لگے تھے۔ اکثر اسے اپنے دوپٹے کی بھی ہوش تک نا ہوتی۔ابھی بھی وہ بنا دوپٹے کے اوپر آ کر نیچے فرش پر بیٹھ گئی تھی۔ابراھیم نے اسے دوبارہ اوپر چارپائی پر آ کر بیٹھنے کا کہا مگر وہ خاموش رہی۔آخر ابراھیم بھی اس کے ساتھ نیچے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔وہ اس کو آج کافی دنوں بعد اس طرح قریب سے دیکھ رہا تھا۔

وہ،وہ ہنستی کھیلتی،زندگی سے بھرپور ماہین تھی ہی نہیں،وہ تو بس ایک اجڑا ہوا وجود تھا جو بس سانس لینے کی وجہ سے زندہ لگ رہا تھا ورنہ موت کی اگر کوئی شکل ہوتی تو وہ ہوبہو ماہین کی حالت جیسی ہی ہوتی۔ماہین کو اس طرح دیکھ کر ابراھیم کا دل بھر آیا تھا وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بے اختیار رو دیا تھا۔ماہین نے اس پر ایک نظر ڈالی اور پھر سے آسمان کو دیکھنے لگی۔

“ابراھیم تم رو کیوں رہے ہو؟سفیر مر گیا ہے کیا؟؟”

وہ اسی طرح بیٹھی آسمان کو دیکھ کر بھرائی آواز میں بولی تھی۔اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔

“تمہارے بھائی زندہ ہیں ابراھیم تم اس طرح رویا مت کرو”

وہ بھاری آواز میں بولی تھی۔آنسو کسی پھندے کی طرح گلے میں پھنس گئے تھے۔

“اگر بھائی واقعی زندہ ہیں تو تم اس طرح بیوہ بن کر کیوں رہتی ہو ماہین ؟؟؟؟؟؟”کچھ احساس ہے تمہیں میرا اور میری ماں کا ؟؟؟؟؟تم سفیر بھائی کی آخری نشانی ہو ہمارے پاس کبھی سوچا ہے ہمارے دلوں پر کیا گزرتی ہے تمہیں ایسے بے مول دیکھ کر؟؟؟؟”

وہ روتے ہوۓ پھٹ پڑا تھا۔

“سفیر زندہ ہے ابراھیم ۔۔۔وہ بس گھر کا رستہ بھول گیا ہے ۔۔۔۔”

وہ ایسے بول رہی تھی جیسے اس نے ابراھیم کو سنا ہی نہیں تھا۔

“کیسے؟؟؟کیسے مانوں تمہاری بات ماہین کیسے ؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ پھر سے شدت سے رو دیا تھا۔

“کیوں کہ ماہین زندہ ہے ابراھیم،میری سانس چل رہی ہے،میری چلتی ہوئی نبض,میری دھڑکتی ہوئی دھڑکن اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ سفیر زندہ ہے،اس کی چلتی سانسیں میری چلتی سانسوں کی ذمانت ہے”

وہ اپنے ہاتھوں کی پوروں سے ابراھیم کے آنسو صاف کرتی ہوئی بے آواز روتے ہوۓ بول رہی تھی۔

“دیکھو ابراھیم آسمان بھی رونے لگا ہے ہمیں روتا دیکھ کر اب ہم میں سے کوئی بھی نہیں روۓ گا،ہم بس سفیر کے جلدی آنے کی دعا کریں گے ٹھیک ہے”

بارش شروع ہو چکی تھی۔وہ کھڑی ہو کر بولی تھی۔ابراھیم بھی کھڑا ہو گیا تھا۔

احمد كی چھت پر ایک کمرہ اور برآمدہ بنا ہوا تھا۔وہ چارپائی اور اس پر بیچھے بستر کو کمرے میں رکھنے میں مصروف ہوگیا تھا۔اس دوران ماہین بارش میں چپ چاپ کھڑی بھیگ رہی تھی۔

اسے آنکھوں کے آگے نکاح کی رات کا منظر نظر آرہا تھا جب سفیر اس کا ہاتھ تھامے بس محبت ۔۔۔۔فقط محبت اس پر نچھاور کرنے میں مصروف تھا وہ سامنے دیکھتی دل سے مسکرا رہی تھی۔ابراھیم اسے ایسے دیکھ کر ایک پل کے لئے خوش ہوا تھا اسے پرانی ماہین نظر آئی تھی۔مگر سفیر بھائی کا سوچ کر اس کو اس طرح ماہین کو اکیلے میں مسکراتے ہوۓ دیکھ کر پریشانی ہونے لگی تھی۔اسے اس کی ذہنی صحت کی فکر ہونے لگی تھی۔وہ جلدی سے اس کے پاس آیا تھا۔اب وہ بھی بارش میں بھیگ رہا تھا۔بارش بھی تیز تھی اور بجلی بھی زور سے کڑک رہی تھی۔

“ماہین کیا دیکھ رہی ہو؟؟”

ابراھیم کی آواز نے اس کا تسلسل اور سامنے نظر آتا خوبصورت منظر توڑا تھا۔

“وہ دیکھو سفیر ۔۔۔۔۔”

وہ انگلی اس سمت کرتی مسکرا کر بولی تھی۔ جہاں اب کالا اندھیرا اس کا منتظر تھا۔

“سفیر؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟سفیر ؟؟؟؟؟؟؟؟میں نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔۔۔سفیر ۔۔۔۔۔تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟سفیر ؟؟؟؟؟؟واپس آجاؤ نا۔۔۔۔۔۔سفیر ۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ دیوانہ وار چیخنے لگی تھی۔جس کی آواز نیچے تک گئی تھی۔گھر کے سوۓ لوگ اوپر آ گئے تھے۔ماہین بنا دوپٹے کے

مکمل بری طرح بھیگی ہوئی ابراھیم کی گلے سے لگی چیخ رہی تھی۔ابراھیم بھی بھیگا ہوا تھا رات کے اس پہر یہ ایسا منظر تھا جیسے دیکھ کر دیکھنے والوں نے منہ سے کچھ نہیں کہا تھا مگر اشاروں اشاروں میں ان کی نظریں ایک دوسرے کو بہت کچھ کہہ گئی تھیں۔

۔************

“سفیر یہ کپڑے لائی ہوں میں تمہارے لئے،نہا کر بدل لو،بہت دنوں سے انہی کپڑوں میں ہی ہوتم”

مريم خاتون سفیر کے پاس نیچے آئی تھیں جو سر جھکاۓ بیٹھا ہوا تھا۔

“آپ ۔۔۔مجھے یہاں سے باہر نکال سکتی ہیں؟؟؟میری مدد ۔۔۔۔دد “

الفاظ ایک ایسے انسان کے سامنے جس نے ساری عمر اپنی مدد کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی تھی اس لفظ ‘مدد ‘پر دم توڑ گئے تھے۔

“پتر ۔۔۔۔مجھے تم سمجھ نہیں پاۓ شاید ۔۔۔۔ورنہ مجھ سے یہ نا کہتے ۔۔۔۔باہر جتنے بھی لوگ ہیں یہ سب سائی کے بندے ہیں ۔۔۔میں تو خود تمہاری طرح ہی ہوں ۔۔۔۔پتر ۔۔ بس فرق اتنا سا ہے کہ میں نے اس قيد کو اپنا مقدر مان لیا ہے ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔قيد میں تو میں بھی ہوں ۔۔۔۔۔”

وہ اداس سی بولی تھی۔

“میرا موبائل بند ہے اب تو یہ بھی نہیں یاد مجھے یہاں کتنے دن ہو گئے ہیں اور کب دن ہے ،کب رات ہے،چارجر ہوگا یا پھر فون ہے گھر میں ؟؟؟؟”

وہ پرامید سے اٹھ کر بيڈ پر مريم خاتون کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔

“نہیں پتر ۔۔۔۔۔میرے ماں باپ ۔۔۔۔کب سے اس دنیا سے جا چکے تب تھا فون ۔۔۔۔کبھی کبھی کر لیتے تھے مجھے ۔۔۔کیوں کہ اس کا سسٹم کچھ ایسا کیا تھا کہ بس وہ ہی فون کر سکتے تھے۔۔۔وہ کبھی دل ہوتا تو کر لیتے فون ۔۔۔۔۔۔وہ کبھی میرے دل کو نہیں سمجھ سکے ۔۔۔۔یا شاید ان کو اپنی غلطی ۔۔۔اور میرے ساتھ ہوئی زیادتی کا احساس تھا تبھی وہ بہت کم فون کرتے حال چال ۔۔۔۔نہیں بس یہ جان کر فون بند کر دیتے کہ میں ۔۔۔۔میں ابھی زندہ ہوں ۔۔۔میرے موت کا میرے ٹوٹنے کا انتظار طویل ہوتا گیا اور ان کا اس دنیا سے جانے کا وقت اس سے پہلے آ گیا”

وہ عجیب سا مسکرا کر بولی تھیں۔

“مجھے میرے گھر والے بہت یاد آ رہے ہیں ،میری بیوہ ماں ۔۔۔میرا پیارا بھائی ۔۔۔۔میری ۔۔۔۔ماہین ۔۔۔میری زندگی ۔۔۔۔ “

وہ بے بس سا بولا تھا۔

“پتر تم نکاح کرلو فلق سے پھر جب یہ تم پر اعتبار کرلے اور تمہیں یہاں سے باہر نکال دے تو پولیس سٹیشن بھاگ جانا۔۔۔۔یہ باپ بیٹی بہت بے حس ہیں ان کے سینوں میں دل نہیں پتھر رکھا ہوا ہے پتھر،ان کو دل سے نہیں یہاں سے دیکھو،یہاں سے”

وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر دماغ کی طرف اشارہ دے رہی تھیں۔

“میں نے جس ہاتھ سے دستخط کر کے ماہین کو اپنا سب کچھ کہا ہے ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔کیسے ۔۔۔ کیسے فلق کے ساتھ نکاح کے لئے اس ہاتھ کو راضی کروں ؟؟؟”

وہ اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر کرب سے گویا ہوا تھا۔

“پتر ماہین کے پاس جانے کے لئے تمہیں یہ کڑوا گھونٹ ہنس کر پینا ہوگا،فلق کو میٹھا زہر دینا ہوگا”

وہ پر اعتماد لہجے میں سفیر کو دیکھتی ہوئی بولی تھیں۔

“آج تمہیں یہاں 29 دن ہو گئے ہیں۔ جہاں تک میں سائی کو جانتی ہوں وہ کل اپنا کاسا لے کر ضرور تم سے بھیک مانگنے آۓ گے،تم نہا دھو لو اور کل ان کو حیران کر دینا،اسی میں تمہاری رہائی ممکن ہے”

وہ کپڑے رکھ کر باہر چلی گئی تھیں۔

۔***************

مینوں سوچاں دیا دے گیا سوغاتاں ۔۔۔

سکھ ماہی نال لے گیا ۔۔۔

نال دکھاں دے کراں کے ملاقاتاں سکھ ماہی نال لے گیا ۔۔۔۔

آنکھیاں دے وچ اترولے کے ۔۔۔۔

ویکھاں او دیا راواں بے کے ۔۔۔

کس نو دل دا حال سناواں آج وی طعانے دين او تھاواں ۔۔

جیتھے کر دے ساں بے کے گلاں باتاں ۔۔۔۔سکھ ماہی نال لے گیا ۔۔۔۔

بے دردی نے مکھ پرتایاں آنڑ دا کہہ کے موڑ نئی آیا ۔۔۔

آساں دے جو محل اؤ سارے وچڑیا ماہی ڈھے گئے سارے ۔۔۔

مینوں پول گیا عیداں شبراتاں سکھ ماہی نال لے گیا ۔۔۔

روندے رین دے نین نا مانڑے جس نو لگدی او ہو جا نے ۔۔۔

کون کسے دا درد وانڈاوے ۔۔۔یار کسی دا دور نا جاوے ۔۔۔نت اکھاں وچ لگدیاں راتاں سکھ ماہی نال لے گیا ۔۔۔

ماہین مکمل خالص سیاہ جوڑا پہنے چارپائی پر آدھی اپر آدھی نیچے لیٹی ہوئی تھی۔

اس کی نظریں دروازے پر تھیں اس کی آنکھوں سے آنسو نصرت فتح علی صاحب کو سنتے ہوۓ سیلاب کی طرح بہہ رہے تھے مگر وہ ساكن سی بس دروازے کو تاک رہی تھی۔جہاں سے ابراھیم سر جھکاۓ داخل ہوا تھا۔وہ بجلی کی تیزی سے اٹھی تھی۔

“سفیر کا کچھ پتہ چلا؟؟؟”

اس کی حالت تب ایسی تھی جیسے ایک مرتاہوا شخص زندگی جینے کی آخری امید کو ڈاکٹر کے چہرے پر کھوجتا ہے ۔۔۔۔مگر وہاں کوئی امید نا پا کر وہ دھاڑے مار مار کر رونے لگی تھی ۔

“سفیر تم مجھے اس طرح دھوکا نہیں دے سکتے ۔۔۔۔سفیر ۔۔۔۔۔”

“ابراھیم کچھ کرو ۔۔۔میں جی نہیں پا رہی ۔۔۔۔۔پلیز اسے لا دو کہیں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔سفیر تم تو جانتے تھے میں ایک دن تمہارے بغیر کیسے گزارتی تھی ۔۔۔آج ۔۔۔۔آج پورا مہینہ ہو گیا میں پھر بھی زندہ ہوں ۔۔۔۔ابراھیم ۔۔۔۔میں خود جاؤں گی اب اپنے سفیر کو ڈھونڈنے ۔۔۔”

وہ دوپٹہ سر پر ڈال کر دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔

“ماہین بھائی کہیں نہیں ہیں میں نے ہر جگہ دیکھا ہے”

وہ اسے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔وہ بھی دیوانہ وار روتی ہوئی اس کے پیروں میں گر گئی تهی۔اس کا جسم بے دم ہو گیا تھا۔وہ بیہوش نہیں تھی بس تهک چکی تھی بہت زیادہ ۔۔۔۔۔