Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 18 (Last Episode Part 1)

482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 18 (Last Episode Part 1)

ڈاکٹر نے خالدہ بيگم کی بینائی کے حوالہ سے کوئی خاص امید نہیں دلائی تھی۔

ایک آنکھ کی نظر بلکل ختم تھی جبکہ دوسری کی اگر کوئی ڈونر مل جاتا تو بہتر ہو سکتی تھی۔سفیر نے اپنے طور ڈونر ڈھونڈنے کے لئے لوگوں کو بھی کہہ دیا تھا اور وہ خود بھی ایسا کوئی بندہ کھوج رہا تھا جس کی نظر ٹھیک ہو بس کسی بیماری کی وجہ سے اس کے پاس وقت کم ہو اور وہ اپنے مرنے کے بعد اپنی ایک آنکھ عطیہ کرنے کے لئے رضامندی بھی دے۔

اس کے لئے مریض سے ایک اجازت نامہ فارم کی صورت دستخط کروانا پڑتا ہے۔

سفیر انہی سوچوں میں ہاتھ میں موبائل پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔جب اس کی پرسنل سیکرٹری نے دعا انڈسٹری سے مس دعا کے آنے کی اطلاع دی تھی۔

“بھیج دیں ان کو اندر”

سفیر موبائل سائیڈ پر رکھتا ہوا مصروف سا بولا تھا۔

“السلام علیکم”

وہ اندر داخل ہو کر مدھم سے لہجے میں بولی تھی۔

“وعلیکم السلام،بیٹھیں پلیز”

وہ کھڑا ہو کر عزت سے بول کر اس کے بیٹھ جانے پر بیٹھا تھا۔

وہ آج بھی سیاہ

بھی سیاہ عبایہ اور دستانے پہنے سر تا پير چھپی ہوئی تھی۔

“میں دعا ہوں دعا سفیر،آپ یہ دیکھ لیں،اس فائل میں میرے ابو کی فیکٹری کی ساری ڈیٹیلز موجود ہیں”

وہ کانپتے ہاتھوں سے فائل پکڑا کر بولی تھی۔

“همممم ۔۔۔۔۔یہ تو میں دیکھ لوں گا مگر مس دعا آپ کے ہاتھ کانپ رہے ہیں؟؟”

سفیر فائل سائیڈ پر رکھ کر پریشانی سے بولا تھا۔

“وہ ۔۔،۔۔وہ ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ۔۔۔ابو ۔۔۔”

وہ بے ربط بولتی ہوئی اب خاموش ہو گئی تھی۔سفیر سمجھ گیا تھا وہ دل ہی دل میں رو رہی ہے۔اس کی آواز گلے میں پھنس کر رک گئی تھی۔

اس نے مزيد کوئی سوال نہیں کیا تھا۔لگ بھگ دس منٹ بعد وہ خود ہی بولنا شروع ہوئی تھی۔

“باہر سے پتہ چلا آپ کا نام بھی سفیر ہے تو ابو کی بہت یاد آئی،پھر جس طرح میرے اندر آنے پر آپ کھڑے ہوۓ اور میرے بیٹھنے پر ہی بیٹھے تو ابو کی یاد اور شدت سے آ گئی وہ بھی میرے کمرے میں آنے پر ایسے ہی کھڑے ہو جایا کرتے تھے”

وہ گلا کھنكهار کر آرام آرام سے بولی تھی۔

“اللّه آپ کے ابو کی مغفرت کرے مس دعا،میں فائل دیکھتا ہوں آپ کی”

وہ فائل اٹھا کر اب باغور دیکھ رہا تھا جس کے مطابق وہ فیکٹری کچھ خاص منافعے میں نہیں جا رہی تھی بلکہ اس پر اچھا خاصہ قرضہ بھی چڑھا ہوا تھا۔

مگر دعا اس سب سے شاید انجان تھی تبھی وہ اتنے اطمینان سے اپنی فائل لے لے پھر رہی تھی۔

“مس دعا سفیر صاحب کو کیا ہوا تھا؟؟”

سفیر فائل پر سے نظر ہٹا کر دعا سے مخاطب ہوا تھا۔

“میرے ابو نے بہت محنت سے یہ فیکٹری کھڑی کی تھی،وہ اچھے بھلے تھے پھر پتہ نہیں کیا ہوا خاموش خاموش سے رہنے لگے اور ہارٹ ۔۔۔۔۔اٹیک ۔۔۔۔نے ان كی آنکھیں بند کر دی”

سفیر سمجھ گیا تھا ایک باپ نے اپنی تمام تر پرشانی گھر والوں سے چھپا کر تن تنہا کاٹی اور خود کو لقمہ اجل بنا دیا۔

“اچھا ۔۔۔۔۔تو آپ یہ کاروبار اب چلانا چاہتی ہیں؟؟”

وہ گہری خاموشی کے بعد پوچھ رہا تھا۔

“جی،میں ابو کا بیٹا بننا چاہتی ہوں”

وہ پر امید تھی۔سفیر کو اس کی اس ہمت پر خوشی ہوئی تھی۔

“اچھا تو مس دعا سفیر بیٹا بننے کے لئے تھوڑا سٹرونگ بننا پڑتا ہے،کیسے بھی حالات ہو نا تو رونا ہوتا ہے اور نا ہی ہمت ہارنی ہوتی ہے،کیا آپ میں اتنی برداشت ہے؟؟”

وہ دلچسپی سے نہایت عام انداز میں پوچھ رہا تھا جیسے وہ دعا کو بتانے سے زیادہ بات سمجھا کر آنے والے وقت کے لئے تیار کر رہا ہو۔

“جی سفیر سر ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ابو کا بیٹا ہوں”

وہ دل سے بولی تھی۔

“مجھے بہت اچھا لگا آپ کو اس طرح باہمت دیکھ کر ۔۔۔لیکن کاروبار کے لئے صرف ہمت اور ارادہ کافی نہیں ہوتا۔کچھ تجربہ بھی دركار ہوتا ہے کچھ سمجھ ۔۔۔کچھ فہم جس سے ہمیں کاروبار کے باریک بینیاں سمجھ میں آجائے۔۔۔ہمیں فائل میں لکھی خاص ٹرم میں ہوۓ حساب کتاب پڑھنے اور سمجھنے آنے چاہیے”

“آپ کی تعلیمی قابليت جان سکتا ہوں؟”

وہ اب چاۓ کا آرڈر دیتا ہوا کان فون سے لگاۓ پوچھ رہا تھا۔

“بی۔اے”

وہ فورا بولی تھی۔سفیر سمجھ گیا تھا۔یہ معصوم لڑکی بہت بڑی مشکل میں پڑنے والی ہے۔اس کمپنی کے قرض دار جو اس کے چالو ہونے یا بکنے کے منتظر بیٹھ کر اب تک خاموش تھے وہ اس کا گيٹ کھلتے ہی اب اس کا جینا حرام کرنے والے تھے۔فیکٹری کو کسی کا آرڈر دینا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔

قرضہ لگ بھگ ایک کروڑ تک تھا۔جو فیکٹری کو ہاتھ میں رکھ کر دینا کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا۔رپورٹ کے مطابق خام مال جو آج کل میں بھیجا گیا تھا وہ بھی بہت معمولی مقدار میں تھا۔وہ فیکٹری دیوالیہ ہو چکی تھی شاید یہی وجہ دعا کے والد کی اچانک موت کی وجہ بنی تھی۔

“مس دعا آپ مجھے دو دن کا وقت دے سکتی ہیں؟؟”

وہ کچھ سوچ کر بولا تھا۔

“جی سر ۔۔۔بلکل”

وہ معصومیت سے بولی تھی۔

“بس میری ایک شرط ہے اب، تب تک کسی اور جگہ آرڈر لینے نہیں جائے گی،نا ہی فیکٹری بس آپ دو دن تک گھر پر رک کر میری کال کا ویٹ کریں گی بلکہ دو دن بعد میں خود آپ کی فیکٹری وزٹ

کرنے آؤں گا،پھر وہاں آپ کے آفس بیٹھ کر میں آپ کو کنسائمینٹ کا آرڈر دے دوں گا،یہ فائل آپ یہی چھوڑ جایئں،آپ کے پاس اس سب کی کاپی تو ہوگی”

وہ نظر نیچے کئے ایک ربط میں ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا۔

“جی ہے میرے پاس اس سب کی کاپی گھر پر،ٹھیک ہے میں چلتی ہوں”

وہ جانے کے لئے اٹھی تھی۔

“نہیں آپ بیٹھ جایئں،چاۓ منگوائی ہے آپ کے لئے،آپ آرام سے پی لیں میں تب تک باہر ہوں “

وہ خود جانے کے لئے اٹھ گیا تھا۔

سفیر کے باہر جانے کے بعد آفس بوئے چاۓ بسكٹ لے کر اندر آیا تھا۔دعا نے نقاب نیچے کر کے سب آرام سے کھایا تھا۔

“کتنے اچھے ہیں سفیر صاحب،اللّه ان کو خوش رکھے”

وہ دل سے دعا دیتی نقاب ٹھیک کر کے باہر آ گئی تھی۔سفیر ویٹنگ ایریا میں فائلز کا انبھار لے کر بیٹھا ہوا تھا۔

دعا کو باہر آتا دیکھ وہ اپنی فائل لے کر اندر جانے کے لئے کھڑا ہوا تھا۔

“سر جزاک الله”

دعا میٹھی دعا دے کر باہر مناسب قدم لیتی باہر چلی گئی تھی۔

سفیر بے ا ختیار مسکرا دیا تھا۔

اگلے دن ۔۔۔

جس کھوٹی میں سعید صاحب رہائش پزیر تھے آج کل اس کی نیلامی کی جارہی تھی جو بھی اس اعلی بڑے رقبے پر بنی ہر طرح کی آسائشی سامان سے لیس بنگلے کی سب سے بڑی بولی لگاتا وہ اسی كی ہو جاتی۔سفیر اس میں رہنا نہیں چاہتا تھا وہ اس سے ملنے والی رقم ضرورت مندوں میں بانٹ کر سعید صاحب کی روح کو ثواب پوھنچانا چاہتا تھا۔سعید صاحب اربوں کی جائیداد سفیر کے نام کر کے مرے تھے۔سفیر اس سب کو سعید صاحب کے لئے آسانیوں کا ذریعہ بنانا چاہتا تھا انہوں نے بیٹا سمجھا تھا تو وہ بیٹا بن کر دیکھانا چاہتا تھا۔اس گھر کی بولی دس کروڑ سے شروع ہوئی تھی۔پھر جاتے جاتے بیس پر آ کر رکی تھی۔

سفیر اس سب میں مصروف تھا جب اس کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے مسلسل کال آ رہی تھی۔

“ہیلو؟؟؟”

شور زیادہ ہونے کی وجہ سے سفیر بلند آواز میں فون اٹھا کر بولا تھا۔

“آپ کی آواز نہیں آ رہی پلیز اونچا بولیں”

وہ ایک کان انگلی سے بند کرکے دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگاے اس بولی کے ہونے والے شور سے دور آیا تھا۔

“کون ہے؟؟”

کوئی مسلسل ہچکیوں سے رو رہا تھا۔مگر بول نہیں پا رہا تھا۔

“مجھے آواز نہیں آ رہی کون ہیں آپ اور اس طرح رو کیوں رہی ہیں؟؟؟”

وہ اپنے ساتھ والے لوگوں کو فون سن کر واپس آتا ہوں کا اشارہ کرکے بولا تھا۔

“سفیر سر ۔۔۔وہ انہوں نے میرے ابو کی فیکٹری کو آگ لگادی ہے”

دعا پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

“میں آتا ہوں”

وہ فون بند کرکے گھر کے کاغذات پر دستخط کرکے باقی کا کام اپنے ساتھیوں پر چھوڑ کر تیزی سے کار لے کر دعا کی فیکٹری کی طرف آیا تھا جسے آگ ابھی ابھی لگائی گئی تھی ابھی زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا۔

دعا اپنی ماں کے ساتھ کھڑی بری طرح رو رہی تھیں فائر برگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف تھیں۔

وہ لگ بھگ پندرہ لوگ تھے جو زہر آلود نظروں سے دعا اور اس کی ماں کو دیکھ رہے تھے۔

“آپ سب میرے ساتھ آئیں”

سفیر نے دعا اور اس کی والدہ کو بھی ساتھ آفس آنے کا کہا تھا۔

“یہ سب آپ لوگوں نے کیا؟”

سفیر تحمل سے پوچھ رہا تھا۔

“جی بلکل ۔۔۔ہمارے پاس یہ سب کرنے کی قانونی وجہ ہے”

ان میں سے ایک بد لحاظی سے بولا تھا۔

“دو مجبور عورتوں کو بے آسرا کرنے کی بھلا کیا قانونی وجہ ہو سکتی ہے کیا میں پوچھ سکتا ہوں؟”

سفیر پہلے سے بھی زیادہ سکون سے بولا تھا۔

“ان کے والد کے دوست اشفاق صاحب جو ان کے بزنس میں پچاس فیصد کے مالک تھے وہ اپنا پیسہ بڑے آرام سے سمیٹ کر یہاں سے چلتے بنے ہیں وہ چار ماہ جب سے سفیر صاحب کا انتقال ہوا تھا۔تب سے ہمیں لارے لگا رہے ہیں کہ وہ ہمارا پیسہ لوٹا دیں گے مگر آج پتہ چلا وہ تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔تو اس کھنڈر کو جلا کر ہم نے بھی تو اپنا غصہ نکالنا تھا نا صاحب”

وہ شخص اس بار سفیر کی نرم مزاج رویہ دیکھ کر ادب سے شکایتی انداز میں بولا تھا۔

دعا جو کب سے اشفاق صاحب کو مدد کے لئے بلانے کے لئے کال ملا ملا کر تهک چکی تھی اور مجبور ہو کر ہی سفیر کو فون ملایا تھا وہ ہکی بکی اس آدمی کی بات سن کر ماں کو دیکھ رہی تھی۔

“ابو ان کو اپنا بھائی مانتے تھے،ابو کے بعد انہوں نے ہمیں چند ہزار دے کر کہا کام رکا ہوا مال نہیں آیا ابھی،پھر مجھے کہا ان ان لوگوں کے پاس جاؤ میں ان کے بتاۓ ہوۓ جس بھی کمپنی میں گئی وہاں کسی نے میری بات تک نہیں سنی،میں یہی سوچ رہی تھی آخر سب ایک جیسا برتاؤ کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ،آپ کے آفس میں تو میں خود ہی آ گئی تھی،آپ کے ادارے کا نام اس میں نہیں تھا”

وہ مدہم سی آواز میں کرب میں مبتلا بولی تھی۔سفیر کو دل سے افسوس ہوا تھا یہ سب جان کر۔

“اپنی اپنی رقم بتائیں”

وہ چیک بک نکال کر بولا تھا۔سب نے اپنی اپنی رقم گرم جوشی سے بتائی۔دعا اور اس کی والدہ سفیر کی اس مہربانی پر جہاں خوش تھیں وہاں ان کی خودداری کو بھی ٹھيس پوھنچی تھی۔

“سب کا ہوگیا کوئی رہتا تو نہیں؟؟؟”

سفیر نے آخری بندے کو

چیک دے کر پوچھا تھا۔

“نہیں سر بس ہم پندرہ لوگ ہی تھے جن کے سفیر صاحب كی طرف پیسہ تھا وہ بھی وہ بہت جلد اپنی زندگی میں ہی لوٹانے والے تھے وہ انتظام بھی کر چکے تھے۔مگر پھر پتہ نہیں کیا ہوا ہمیں ان کی موت کی خبر ملی۔خیر ان کے ساتھی اشفاق صاحب یہی کہتے رہے دے دوں گا دے دوں گا مگر آج ہم یہاں آے تو فیکٹری سے نا صرف مال غائب تھا بلکہ اہم اور مہنگی مشینری بھی،بس پھر ہم نے یہ حرکت کی،مگر اب ہم بہت شرمندہ ہیں”

وہ سر جھکا کر بولا تھا۔سفیر اشفاق صاحب کی ساری گیم سمجھ گیا تھا۔

“تو کیا آپ اب ان سے معافی مانگنا چاھتے ہیں؟؟”

سفیر افسوس سے لمبی سانس کھینچ کر بولا تھا۔

“جی جی بلکل سفیر صاحب کی بیٹی تو ہماری دھی ہے اور ان کی بیوہ ہماری بہن،ہم معافی چاھتے ہیں آپ دونوں سے”

وہ ہاتھ جوڑے ان دونوں کے سروں پر باری باری ہاتھ رکھ کر چلتے بنے تھے۔

سفیر کو یہ منظر اندر تک افسرده کر گیا تھا۔

“بیٹا آپ کا بہت بہت شکریہ”

دعا کی امی بھرائی آواز میں بولی تھیں۔

“امی میں ۔۔۔میں ۔۔۔تو ابو کی اس فیکٹری کو چلانا چاہتی تھی،اب کیا ہوگا،اب تو سب ختم ہو گیا”

وہ دھیمی آواز میں روتے ہوۓ ماں کے کان میں کہہ رہی تھی جو سفیر سن چکا تھا۔مگر وہ مزيد اس وقت کچھ کہہ کر ان کی خوداری کا قتل نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“میں آپ دونوں کو گھر چھوڑ آتا ہوں”

وہ کہتا ہوا باہر آ گیا تھا۔

وہ بوجھل قدم پیچھے آ گئی تھیں۔

دعا نے اپنے ہاتھ سے گيٹ کو مقفل کیا تھا۔وہ تکلیف سے کانپ رہی تھی۔

ایسا لگ رہا تھا وہ عنقریب گر جائے گی۔

سفیر کو بہت دکھ ہو رہا تھا۔وہ ان کی مزيد مدد کرنا چاہتا تھا۔اسے اس بات کی پریشانی الگ سے تھی کہ ان دونوں کا کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کا سہارا بن کر آنسو پونچھے۔

وہ ان کا دکھ دیکھ کر اپنی ماں اور ماہین کا دکھ فی لوقت بھول گیا تھا۔

“اور بھی غم ہیں غالب ۔۔

زمانے میں محبت کے سوا۔۔ “

اس مصرعے کی گہرائی کا اندازہ سفیر کو آج ایک بیوہ عورت اور ایک یتيم لڑکی کی آنکھوں میں بسی بے بسی اور تکلیف سے ہوا تھا۔

“جب بھی اپنا غم بڑا لگنے لگے خود سے زیادہ غمگين لوگوں میں جا کر بیٹھو اپنا غم چھوٹا لگنے لگے گا”

اس جملے میں چھپی زندگی کی حقیقت کا طلسم آج ٹوٹا تھا۔

وہ ان سے گھر کا پتا پوچھ کر اب وہاں گاڑی روک چکا تھا۔

آج ایک یتيم لڑکی کا اپنے مرحوم باپ کا بیٹا بننے کا خواب چکنا چور ہوا تھا۔وہ دونوں ماں بیٹیاں بمشکل ایک دوسرے کو پکڑ کر سفیر پر ایک مجبور اور لاچار نگاہ ڈال کر شکریہ کہتی گھر کی طرف چل پڑی تھیں۔

دعا کے لڑکھڑاتے قدم بتا رہے تھے وہ اندر سے چکنا چور ہو گئی ہے ماں نے اس کا ہاتھ نا پکڑا ہوتا تو وہ شاید گر ہی جاتی باوجود اس سب کے وہ چلا چلا کر نا رو رہی تھی نا ہی بین کر رہی تھی وہ اس میں بھی اپنے پردے کی حد جانتی تھی۔سفیر کو اس پل میں دعا میں اپنا آپ نظر آیا تھا ۔

“یہ بھی تو زندگی ہے،ہم محبت کو ہی کیوں سب کچھ سمجھ لیتے ہیں؟؟؟؟

Love is only a part of life. Love is not a heart of life.

“ہم کیوں اللّه کی دی ہوئی اتنی قیمتی زندگی کو بس محبت کے نام پر تباہ کرنا چاھتے ہیں؟؟؟ہمیں کیوں لگتا ہے کہ من پسند پارٹنر نا ملنا ہی بد قسمتی اور بد نصیبی ہے ؟؟؟ایک محبت کا شریک حیات بن جانا ہی اس زندگی کا حاصل ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو بات بات پر بے برکتی،نا شکری اور اللّه کے ناپسندیدہ جملوں کا استعمال کرنا ہم پر جائیز ہو گیا؟؟؟؟

نہیں بلکل نہیں ۔۔۔

سفیر نے اپنے ہر سوال کا خود ہی نفی میں سر دھن کر انکار کیا تھا۔

“محبت کسی خاص انسان کے ساتھ منصوب کرنے کا ہی نام نہیں ہے۔۔۔بلکہ انسانیت کو زندہ رکھنا اصل محبت ہے ۔۔۔

کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا محبت ہے۔

کسی بیوہ کے گھر راشن ڈالنا اس کے مسائل کی خبر گیری کرنا محبت ہے۔

کسی یتيم کے آنکھوں کے ان خوابوں کو تعبیر دینا محبت ہے جو باپ کے بعد ادھورے ہو چکے ہیں۔

کسی قرض دار کا وہ چند کاغذ کے ٹکڑوں پر مبنی قرض اتارنا محبت ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی اولاد کو قتل کر کے خود بھی حرام موت چننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔۔

کسی قرض دار کا قرض معاف کرکے اس کا صلا رب سے مانگنا محبت ہے ۔۔

اپنے من چاہے انسان کو فقط محرم بنا کر پا لینا محبت ۔۔۔۔۔۔صرف محبت نہیں ۔۔۔۔خود پسندی ہے ۔۔۔

محبت کا دائرہ خود غرضی سے بہت وسیع اور بالاتر ہے۔

سفیر جو ماہین کو نا پا کر خود کو دنیا کا مظلوم انسان سمجھنے لگا تھا۔اسے اپنی ہی اس سوچ پر احساس ندامت نے آن گھیرا تھا۔

“یا اللّه مجھے معاف کر دے،میں نے تجھ سے فقط اتنی سی قربانی پر شکایت کی،میں یہ بھول گیا تھا اصل محبت تو تیری بنائی مخلوق کی خدمت کرنا ہے”

وہ گاڑی روک کر بری طرح رو دیا تھا۔

“یا اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے توں نے میرا مقصد حیات فقط من پسند جسم حاصل کرنے تک محدود نہیں کیا بلکہ اس قيد کی آزمائش کے بدلے مجھے اتنی دولت دی کہ میں نے محبت کے ماخذ کو پالیا”

“اس پہاڑ کو پالیا جہاں سے محبت کا چشمہ پھوٹا ہے”

“بیشک میرا رب لے کر بھی آزماتا،لے کر بھی آزماتا ہے،اور جب وہ لے کر آزماتا ہے تو صبر اور شکر پر پھر جب وہ اپنی رحمت کی بارش کرتا ہے تو بندہ اس بارش میں بھیگ کر اپنے ہر پرانے زخم میں ٹھنڈک محسوس کرتا ہے۔

“الحمدللّٰه….”

“بیشک تیرے ہر کام میں ہماری ہی اصلاح پوشیده ہے یا رب،ہم اپنے لئے بہتر سوچتے ہیں لیکن میرے اللّه توں ہمارے حق میں بہترین کردیتا ہے بس ہم ہی اس مصلحت کو بنا سمجھے ناشکرے بن جاتے ہیں،یا اللّه ہمیں اپنی رضا میں راضی رکھنے والا بنا دے امین ثم امین”

سفیر خود كلامی میں کہتا ہوا دعا کی صورت اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے چہرے پر پھیرتا اب ٹشو سے اپنی آنکھیں صاف کر رہاتھا۔

ساری محرومی ایک لمحے میں اللّه کے شکر میں منتقل ہوئی تھی۔وہ ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہوا آفس آیا تھا۔

وہاں کے کام نپٹا کر وہ گھر آیا تھا۔اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے۔

دروازہ کھلا تھا۔خالدہ بيگم اپنے کمرے میں تھیں وہ ان سے سلام دعا کرکے فریش ہونے جا رہا تھا جب ابراھیم اور ماہین کی آوازیں اس کے کانوں میں پڑی تھیں۔الفاظ ایسے تھے کہ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کچھ سیڑھیاں اوپر آ کر اب خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔

“ابراھیم سفیر بے قصور تھا میں نے اس کے ساتھ بہت برا کیا پہلے اس کے نکاح کا مذاق بنا کر تمہیں اپنے ساتھ گناہ پر اکسایا پھر اس سے پل پل نفرت کی اور اسی نفرت میں تم سے شادی کی تا کہ وہ جب واپس آۓ تو مجھے تمہاری قربت میں دیکھ کر پل پل تڑپے ۔۔۔مگر اب یہ مجھ سے نہیں ہورہا میں اسے خود سے دور اور تمہیں قریب دیکھ کے احساس ندامت میں آجاتی ہوں”

وہ کرب سے بولی تھی۔

“اچھا تو تم اب کیا چاہتی ہو ماہین؟”

ابراھیم کا لہجہ بتا رہا تھا وہ یہ بازی ہار چکا ہے۔

“یہی کہ تم مجھے چھوڑ دو اور میں سفیر کی ہو جاؤں ۔۔۔ میں اسے اس قيد، اس دوری میں بہہ جانے والے آنسوؤں کا انعام دینا چاہتی ہوں”

وہ فیصلہ سنا چکی تھی۔

“اور میں ؟؟؟میری محبت کا کیا جو میں نے تمہیں عزت کے ساتھ اپنا ہم سفر بنا کر کی؟؟؟”

وہ اسی انداز میں شکستہ لہجے میں بولا تھاوجہ اس کے سامنے ایک خود غرض لڑکی کا ہونا تھا جیسے اپنے سواہ کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا۔

“یار ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔تم جانتے ہو میں نے تم سے کبھی محبت نہیں کی ۔۔۔تم سفیر کے لئے میری دیوانگی دیکھ چکے ہو،پھر تم مجھ سے اتنی محبت کیسے کر سکتے ہو؟؟،تم کسی سے بھی شادی کرلو ابھی دو ہی مہینے ہوۓ ہیں ہماری شادی کو”

ماہین نے بہت آسان حل دیا تھا۔

ابراھیم بے بس سا،اس جواب پر اسے دیکھ رہا تھا۔

“کیا بھائی بھی یہی چاھتے ہیں؟؟”

ایک لمبا وقفہ۔۔۔

ابراھیم کی آواز کسی کنویں سے آئی تھی

“ہاں ۔۔ ظاہر سی بات ہے۔۔۔۔”

وہ کندھے اچکا کر بولی تھی۔

“تمہیں اب کوئی فرق نہیں پڑرہا بھائی کی اس ویڈیو سے ماہین؟؟؟”

وہ چیخ کر ایک دم بولا تھا۔وہ ڈر کر سہم گئی تھی۔

“وہ فیک تھی،وہ سب سفیر نے نہیں کیا،اور اگر وہ سفیر نے کیا بھی ہے تو یقینأ وہ ہوش میں نہیں ہوگا”

وہ پر اعتماد لہجے میں بولی تھی۔