Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 6
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 6
سفیر گاڑی کی چابی اور لفافہ لئے اپنے کیبن میں آ گیا تھا وہ بہت خوش تھا اس کی تنخوا ڈبل ہوگئی تھی۔اس نے بارہ بجے تک آفس کے مختلف کام نپٹاۓ ابھی بمشکل ایک منٹ ہی اپر ہوا تھا جب سعید صاحب کی کال نے اسے فلق کے پاس جانے کی یاد دہانی کروائی تھی۔وہ اپنی فائلز سميٹ کر اب پارکنگ میں کھڑی گاڑی کی طرف آیا تھا جو شاید آج کل میں ہی شوروم سے نکلوائی گئی تھی۔
“دل تو کر رہا ہے فلق کی بجاۓ ماہین کے پاس چلا جاؤں اور اپنی اس نئی گاڑی میں پہلی رائیڈ اسی کو دوں،چلو کوئی بات نہیں فلق کو نپٹا کر ابراھیم، امی،ماہین اور خالہ کو لے کر لونگ ڈرائیو پر نکلوں گا۔”
وہ دل ہی دل میں حساب لگاتا گاڑی میں بیٹھا اور فلق کی طرف نکل گیا۔
اب وہ بيل دے کر دروازہ کھلنے کا منتظر تھا۔دروازہ کچھ دیر کے بعد کھول دیا گیا ۔فلق مغربی لباس پہنے اس کے سامنے ہلکے پھلکے میک اپ میں کھڑی تھی۔اس کے كرل گولڈن بال بلا شبہ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔
اس کی آنکھیں نيلی تھیں جو اس کی گوری رنگت پر خوب جچ رہی تھیں۔اتنے دنوں میں یہ پہلا تفصیلی جائزہ تھا جو سفیر نے لیا تھا۔
“مجھے سر نے بھیجا ہے آپ کو کچھ چاہیے تو آپ میرے ساتھ چل کر خرید سکتی ہیں”
سفیر نے محتاط انداز میں کہا تھا۔
“ہاں مجھے کچن کے لئے کچھ سامان لینا ہے وہ سب جو میرے پاس کینڈا میں تھا اور میں اپنا کھانا خود آسانی سے بنا لیا کرتی تھی”
وہ گھر کو لاک کرتی ہوئی سفیر کے ساتھ نیچے آتے ہوۓ بولی تھی۔وہ آج کل سے کافی بہتر لگ رہی تھی۔
سفیر اسے ایک اچھے سے مال میں لے آیا تھا۔فلق نے بہت خوبصورتی سے صرف ضرورت کی چیزیں ہی خریدی۔اس کی شاپنگ سینس کمال تھی۔اس سب میں لگ بھگ دو گھنٹے لگ گئے تھے۔
“ابھی گھر نہیں جانا میں نے سفیر کسی اچھی جگہ لے جاؤ مجھے جہاں بہت سکون ہو”
وہ سفیر کو گاڑی گھر کی سڑک پر ڈالتا دیکھ کر سیٹ پر نیچے کی طرف ہو کر لیٹتی ہوئی بولی تھی۔
“مس فلق موسم خراب ہے،کسی بھی وقت بارش آتی ہو گی اور مجھے گھر بھی جلدی پوھنچنا ہے”
وہ نارمل لہجہ اپناۓ انکار کرتا ہوا بولا تھا۔
“مجھے گھر نہیں جانا سفیر تم ابھی مجھے مونال لے کر جاؤ رات کا کھانا وہی کھا کر پھر مجھے گھر چھوڑ جانا”
فلق نے سفیر کی بات کو ان سنی کیا تھا۔
“مگر مس فلق؟؟؟”
وہ اس کی طرف دیکھ کر دبی آواز میں چیخا تھا۔
“میں اگر مگر کچھ نہیں جانتی،نشہ چھوڑنا اتنا آسان لگتا ہے تمہیں اور ڈیڈ کو ؟؟؟؟کوئی چوینگم یا ٹافی تھی وہ جو میں تم لوگوں کے کہنے پر چھوڑ دوں ؟؟؟ہاں ؟؟؟مذاق ہوں میں ؟؟؟مجھے اسی تنہائی نے وہ سب کرنے پر مجبور کیا تھا مسٹر سفیر ورنہ وہ زہر ہے یہ میں بھی اچھے سے جانتی تھی”
“اب جب تک میں تمہیں اجازت نہیں دوں گی تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہوگا،ورنہ میں دوبارہ خود کشی کرلوں گی”
وہ ہیجانی کیفیت میں بولی تھی۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے بالوں میں پھنسا لئے تھے۔
سفیر نے غصے سے گاڑی روک دی تھی۔وہ نیچے اتر گیا تھا اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑے وہ اب سعید صاحب کو کال ملانے کا سوچ رہا تھا۔
پھر اس نے فلق کی طرف دیکھا تو روتے ہوۓ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔اس نے جیسے ہی فون رکھا سعید صاحب کی کال سفیر کے نمبر پر آنے لگی۔
“،جی سر ؟؟”
وہ فلق کو دیکھتا ہوا بولا تھا جو اب آنسو صاف کرتی ہوئی سفیر کو ہی دیکھ رہی تھی۔
“یہ میں کیا سن رہا ہوں فلق سے ؟؟؟سفیر بیٹا آپ سے زیادہ کوئی بھی اس کی ذہنی حالت کو نہیں سمجھ سکتا جو جو ڈاکٹر آپ کو بتا چکا ہے،مجھے بہت دکھ ہوا کہ آپ فلق کو پریشان کیسے کر سکتے ہیں؟؟؟”
وہ غصے سے بولے تھے۔
“سر میں نے ان کو ان كی ضرورت کی ہر چیز لے کر دے دی ہے اب اس سے زیادہ میں کیا کروں ؟؟؟”
سفیر بے بس سا بولا تھا۔
“تم جانتے ہو فلق اس پورے ایمپائر کی اکلوتی وارث ہے اگر وہ تمہاری کمپنی پسند کرنے لگی ہے تو گڈ فور یو سفیر ۔۔۔۔۔”
“تو آپ اب مجھے لالچ دے رہے ہیں ؟؟؟”
سفیر کی آواز بھی بلند ہوئی تھی۔
“نہیں ۔۔۔ بلکل نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔تم لالچی ہوتے تو آج ابھی میں اس طرح سے تم سے اپنی بیٹی کو وقت دینے کا نا کہہ رہا ہوتا،بیٹا تم مجھے اپنا باس مت سمجھو ایک باپ کی نظر سے مجھے دیکھو جو بہت پریشان ہے اپنی کل کائنات بیٹی کی صحت کو لے کر،صرف کچھ دن کی بات ہے تم اسے خوش رکھو بس پھر میں اسے اپنے پاس بلا لوں گا بس پھر تم پھر سے صرف آفس ہی دیکھا کرنا”
وہ شکستہ لہجے میں بولے تھے۔
“جی سر میں کوشش کروں گا”
سفیر کو ھتیار ڈالنے پڑے۔
“بیٹا وہ ذہنی مریض ہے اس کی باتوں اور حرکتوں کو اس کی بیماری کی طرح لو،وہ جیسا کہتی ہے کرو میں ۔۔۔میں تمہاری پے تگنی کردوں گا تمہیں پل پل کی قیمت دوں گا”
وہ بھرائی آواز میں بولے تھے۔سفیر نے حامی بھر کر فون کاٹ دیا تھا۔اب وہ فلق کو دیکھ رہا تھا جو کسی معصوم بچے کی طرح لال ہوتی آنکھوں سے سفیر کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
وہ واقعی کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی اس کی ذہنی کیفیت اس کے چہرے پر عیاں ہو رہی تھی بس سمجھ کر دیکھنے کی آنکھ دركار تھی۔
“اب سے میں فلق کو کسی پیشنٹ کی طرح ٹریٹ کروں گا”
وہ خود سے عہد کر کے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا وہ اس کی طرف ہی متوجہ تھی۔اب وہ مونال ریسٹورنٹ کی طرف رواں دواں تھے جو اسلام آباد کی مشہور جگہ ہے موسم کافی اچھا تھا زرہ سا آگے جانے پر بارش شروع ہو چکی تھی۔
بارش کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہو گئی تھی۔
“آئ لو رین”
وہ زیر لب بولی تھی۔
“سفیر گاڑی روکو”
وہ دروازہ کھولنے کی پوزیشن بنا کر بولی تھی۔
“کیوں ؟؟؟”
وہ گاڑی کی سپیڈ سلو کرتا ہوا بولا تھا۔
“مجھے بارش میں نہانا ہے”
وہ سفیر کو دیکھتی ہوئی مسکرا کر بولی تھی۔
“نہیں مس فلق آپ بیمار ہو جائے گی،ٹھنڈ ہو گئی ہے اور آپ کے پاس کپڑے بھی نہیں پھر بدلنے کو،ہم مونا ل جا کر بارش دیکھیں گے ٹھیک ہے ؟؟”
وہ همدردی سے نرم الفاظ میں بولا تھا نرم الفاظ نے اس پر جادو کا کام کیا تھا وہ فورا مسکرا کر پیچھے ہو کر بیٹھ گئی تھی۔
موسم کی خرابی کی وجہ سے ڈرائیونگ سلو کرنی پڑی کچھ راستہ بھی ہموار نہیں تھا چڑہائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ راستہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا۔
مونال بارش میں اور بھی حسین لگ رہا تھا۔کالے بادل رات کا منظر پیش کر رہے تھے۔وہ خوش ہوتی یہاں وہاں گھوم رہی تھی۔سفیر نے ماہین کو جگہ دیکھانے کے لئے موبائل نکالا تھا مگر نو سروس لکھا دیکھ وہ اب اپنی سیلفیاں بنانے لگا تھا۔
اب شام کے سات بج رہے تھے۔بارش ابھی تک ہو رہی تھی ان دونوں نے کھانا آرڈر کیا۔فلق بنا بات کہ بار بار مسکرا رہی تھی اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔سفیر کو ایک بیمار لڑکی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر بہت سکون ملا تھا ایسی لڑکی جو اپنی زندگی ختم کی کوشش کر چکی تھی اس کے چہرے پر زندگی دیکھ کر وہ مطمئن ہوا تھا۔
“فلق اب گھر چلیں ؟؟؟”
سفیر نے مس کاٹ کر اسے مزيد کمفرٹیبل کیا تھا۔
“میرا دل کرتا ہے میں یہاں سے کبھی واپس نا جاؤں”
وہ مسکرا کر اپنے ارد گرد خوبصورت ماحول دیکھ کر بولی تھی۔
“سفیر کیا ہم یہاں رات رک سکتے ہیں پلیز ؟؟؟”
“بس آج كی رات؟؟؟”
وہ ضدی بچے کی طرح بولی تھی۔
“آہممممم ۔۔۔آج نہیں ہم پھر ضرور آے گے سب کے ساتھ پھر رات بھی رکے گے ٹھیک ہے فلق ؟؟؟”
سفیر کی بات پر وہ منہ بنا کر اٹھ گئی تھی۔
اب وہ گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب بجلی زور سے گرجی تھی اور وہ سہم کر سفیر کا ہاتھ پکڑ کر اس کے بہت قریب آ گئی تھی۔
“مجھے بہت ڈر لگتا ہے بجلی سے سفیر ۔۔۔۔مجھے اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے میں پوری دنیا میں تنہا رہ گئی ہوں “
وہ آنکھیں زور سے بند کئے سفیر کے ساتھ ساتھ چل کر گاڑی تک آئی تھی۔سفیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر بیٹھایا تھا۔
گھر پوھنچنے تک وہ سفیر کے کندھےپر سر رکھ کر سو چکی تھی۔
اسے گھر چھوڑ کر سفیر نے وقت دیکھا جو رات کے دس بجا رہا تھا۔آج آخری فنکشن تھا کل رات کو احمد کی مهندی تھی۔وہ جب تک گھر پوھنچا بلند آواز سے موسیقی کی آواز یہ بتا رہی تھی کہ وہاں سب جاگ رہے ہیں۔
وہ گاڑی کھڑی کر کے احمد کے گھر کے ساتھ لگے ٹینٹ میں آیا تھا جہاں سب ہلا گلا کر رہے تھے۔ایک دم تیز لائٹنگ کی وجہ سے اس کی آنکھیں چندیائی تھیں۔
“گوری گوری گوری گوری ۔۔۔۔
کبھی کبھی چوری چوری ۔۔۔۔۔چوری چوری ۔۔۔۔
تم ہم سے ملا کرو باتیں واتیں کیا کرو ۔۔۔پر یو نا ملنا کسی بھی تم ہمارے سوا۔۔۔۔
سامنے ابراھیم گانے پر ڈانس کر رہا تھا ۔سب تالیاں پیٹ پیٹ کر اسے داد دے رہے تھے۔ماہین گرین فراک پہنے گولڈن نفاست سے کاٹے ہوۓ بال اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔وہ دلکش قہقہ لگاتی ابراھیم کو دیکھ رہی تھی۔
اب میوزک کے ساتھ بیٹ پر چلتا ہوا ابراھیم ماہین کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ ےگانے کے بول گانے لگا دیکھنے والوں کے لئے یہ محض مذاق اور شغل میلا تھا مگر سفیر کے تن بدن میں یہ آگ لگا رہا تھا وہ خود پر ضبط کرتا ہوا اندر اسٹیج کے پاس آیا تھا۔اب ابراھیم اپنی ایک اور کزن کا ہاتھ پکڑ کر ڈانس کرنے لگا تھا۔اس کا ہاتھ چھوڑ کر اب اس نے خالہ طلعت کو قابو کیا تھا جو قہقوں سے اپنا پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھیں۔
خالدہ اپنے بیٹے کی بلائیں لیتی نہیں تهک رہی تھی۔
ماہین کی نظر جیسے ہی سفیر پر پڑی وہ خوش ہوتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی۔سب اسٹیج پر ابراھیم کی مستياں دیکھنے میں مگن تھے وہ دونوں سائیڈ پر ہو گئے تھے کیوں کہ میوزک کے شور میں بات کرنا نا ممکن تھا۔
“کیسی لگ رہی ہوں؟؟”
وہ خوشی سے اپنے بال ٹھیک کرتی ہوئی پوچھ رہی تھی۔سفیر نے اپنا موڈ سمبهنلتے ہوۓ مسکرا کر اس کا جائزہ لیا تھا۔وہ بلا شبہ وہاں موجود ہر لڑکی سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔
“میری لگ رہی ہو”
وہ مسکرا کر بولا تھا۔
“سفیر میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں”
وہ پاس آ کر بولی تھی۔
“جانتا ہوں”
وہ ابراھیم کی طرف اسٹیج پر دیکھ کر بولا تھا
جو اب دوسرے گانے پر سب کو هنسا رہا تھا۔
“مجھے تو لگتا ہے میں پیاری لگ ہی نہیں رہی ورنہ تم تھوڑا تو پاس آنے کا کہتے”
وہ اپنے بال سمیٹ کر بولی تھی۔
“محبت جسم کی محتاج نہیں ہوا کرتی ماہین”
وہ ہنوز ابراھیم کو دیکھ رہا تھا۔
“مگر بندہ ہاتھ تو پکڑ ہی سکتا ہے نا اور جب محبوب خود یہ چاہتا ہو؟؟”
وہ جزباتی ہوتی ہوئی پاس ہوئی تھی۔وہ جیسے ہی قریب ہوئی اتنی ہی تیزی سے پیچھے ہٹ گئی۔
“یہ ۔۔۔۔یہ ۔۔۔لیڈیز پرفیوم کی خوشبو کیوں آ رہی ہے تم سے سفیر؟؟؟؟”
وہ ایک ہی لمحے میں غصے سے لال ہوئی تھی۔سفیر کا بھی فلق کا سوچ کر رنگ اڑ گیا تھا۔پھر اس نے کچھ سوچا اور بولنا شروع ہوا۔
“ہاں سعید صاحب کے ساتھ مال گیا تھا ان کو پرفيوم لینے تھے وہاں ایک عورت کی گود میں بچہ تھا اس نے میرے اپر سپرے کر دیا ماں بہت شرمندہ ہوئی کیوں کہ وہ نہیں جانتی تھی اس نے وہ کب اٹھا لیا تھا”
سفیر پھيكی مسکراہٹ لئے بولا تھا۔
ماہین کچھ دیر خاموش رہی پھر اسٹیج کی طرف دیکھنے لگی جہاں ابراھیم ان دونوں کو دیکھ کر اب بھاگتا ہوا ان کی طرف آرہا تھا۔
“بھائی چلیں اب آپ کی باری”
وہ سفیر کے لاکھ انکار کے باوجود بھی اسے کھینچ کر لے آیا تھا۔سب سفیر کو دیکھ کر بہت خوش ہوۓ تھے۔
“جینے کے ہیں چار دن ۔۔۔۔۔باقی ہیں بے کار دن ۔۔۔۔جائے ۔۔۔جائے ۔۔۔جائے ۔۔۔۔جائے ۔۔۔ایک بار جو جائے تو جوانی پھر نا آے ۔۔۔۔۔”
احمد کو ساتھ لگا کر خاندان کے اور لڑکوں سميت وہ اب سفیر کے ہمراہ اس گانے پر مستی کر رہے تھے سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔ماہین بھی نارمل ہو چکی تھی مگر دل میں عجیب سی بے چینی ہونے لگی تھی۔
فنکشن ختم ہوا تو سب گھر کی طرف جانے لگے۔
“سفیر بیٹا آج آپ بھی ادھر ہی سو جاؤ”
احمد کی امی محبت سے کہہ رہی تھیں۔
“ہاں یار پھر تیری بھابھی پتہ نہیں کسی کو گھر میں چھوڑے نا چھوڑے”
احمد کہہ کر ہنسی سے دوہرا ہوا تھا۔احمد کی ماں نے اس بات پر اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔
“خالہ میں آفس سے سیدھا ادھر آیا ہوں میں گھر سے کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں”
وہ کہہ کر اپنے گھر چلا آیا تھا نہا کر فریش ہوا وہ احمد کی طرف جانے کے لئے گھر کو تالا لگا رہا تھا جب فلق کی کال نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا جس کے اپر اس نے سر سعید 2 لکھ کر سیو کیا تھا۔
“ہیلو فلق”
وہ ایک ہاتھ سے موبائل کان کو لگا کر بولا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ تالا لگا رہا تھا۔
“سفیر ۔۔۔۔۔۔آج کافی عرصے بعد لگا مجھے ۔۔کہ میں زندہ ہوں ۔۔۔۔اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔۔صبح جلدی آنا”
وہ مد ہوش سی بول رہی تھی اور دوسری طرف سفیر کے ہاتھ سے تالا چھوٹ گیا تھا۔
اس نے احمد کے گھر کی طرف دیکھا جہاں ماہین کھڑی اس کو مسکرا کر دیکھ کر اشارے سے جلدی آنے کا کہہ رہی تھی۔وہ بنا کچھ کہے فون کاٹ چکا تھا۔
وہ جواب میں ماہین کو دیکھ کر مسکرایا تھا اتنے میں سر سعید کی کال آنا شروع ہوئی تھی
“سفیر کل تم مجھے گھر سے پک کرنا میں تمہیں ایک جگہ لے کر جانا چاہتا ہوں”
سلام دعا کے بعد وہ بولے تھے۔سفیر نے يس سر کہہ کر کال کاٹ دی تھی۔اب وہ ماہین کے پاس آیا تھا جو بے حد حسین لگ رہی تھی۔
