482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 2

“سفیر یہ فائل چیک کرو،اتنی غلطیاں ؟؟؟؟

کل پرینٹیشن ہے اور یہ حال ہے اس کی تیاری کا؟؟؟

آپ ہمارے بہت پرانے امپلائے ہیں کم از کم آپ سے مجھے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔فلق گروپ آف انڈسٹریز کے ساتھ آپ ایسی نا انصافی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔کم از کم سفیر احمد آپ ۔۔۔۔”

سعید صاحب نے اپنے گھر کی ساری پریشانی سفیر کی زرا سی غلطی پر سفیر پر نکال دی تھی۔

سفیر حیران پریشان کھڑا اپنے باس کی اس بلاوجہ کی تلخی پر ان کو دیکھ رہا تھا جو بہت زیادہ پریشان لگ رہے تھے وہ بار بار اپنے بائیں بازو کو سہلاتے کبھی اپنا سینہ مسلنے لگتے۔کمرے میں اے سی کے باوجود ان کو پسینہ آ رہا تھا۔

“سر آپ ٹھیک ہیں؟؟؟”

سفیر نے ان کی ڈانٹ کو پشِ پشت ڈال کر ان سے طبیعت دریافت کی تھی۔

“ہاں ۔۔۔۔۔۔پانی ۔۔۔۔پانی دو مجھے”

وہ اب ٹشو سے اپنا پسینہ صاف کرتے بولے تھے۔سفیر نے ان کو پانی دیا۔اور خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔سفیر نے اپنی جاب کا آغاز ہی فلق گروپ آف انڈسٹریز کے ساتھ کام کرنے سے لیا تھا وہ جانتا تھا سعید صاحب بہت خوش گفتار اور رحم دل انسان ہیں آج سے پہلے انہوں نے ایسا برتاؤ کسی بھی امپلائے کے ساتھ نہیں برتا تھا مگر جب سے ان کی فیملی کینڈا سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی وہ پچھلے ایک ماہ سے کافی پریشان دکھائی دینے لگے تھے آفس بھی آنا کم کر دیا تھا مگر جب بھی آتے وہ دماغی لحاظ سے گھر پر ہی ہوتے۔

“سر میں یہ فائل ٹھیک کر کے لاتا ہوں،اور میری وجہ سے آپ پریشان مت ہو میں آئندہ ایسی کوئی غلطی نہیں کروں گا”

سفیر فائل اٹھا کر دروازے کی طرف چل پڑا تھا جب سعید صاحب کی آواز نے اس کے قدم روک لئے تھے۔وہ ان کی مڑا تھا۔

“وہ کہتی ہے وہ اپنی نبض کاٹ لے گی،ختم کر دے گی خود کو”

سعید صاحب اپنا سر ٹیبل پر رکھ کر اب رونے لگے تھے۔سفیر جلدی سے ان کے پاس واپس آیا تھا۔

“سر ۔۔۔۔۔کون کہہ رہا ہے یہ؟؟؟

وہ گھبرا کر بولا تھا۔

“میری بیٹی فلق”

وہ روتے روتے بولے تھے۔اب اپنے باس سے ان کی ذاتی زندگی کو لے کر سوال کرنا سفیر کو نا مناسب سا لگ رہا تھا وہ ششں و پنج میں خاموش کھڑا ہو گیا تھا۔

“سفیر کچھ بولو،مجھ سے بات کرو،مجھے اپنے جیسا ہی ایک معمولی انسان سمجھ کر،مجھے میری دولت نے اس بھری دنیا میں تنہا کر دیا ہے،میں تنگ آ گیا ہوں اکیلا گھٹ گھٹ کر،میرے اندر میری پریشانیاں لاوا بن چکی ہیں وہ اب پھٹنے کو ہیں”

وہ اٹھ کر اب سفیر کے پاس کھڑے ہوۓ تھے۔ان کی آنکھیں اب بھی آنسوؤں سے تر تھیں۔

“سر مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے ۔۔۔۔آپ سے ۔۔۔۔آپ کی فیملی کو لے کر کچھ بھی پوچھنا ۔۔۔۔آپ جو بھی شیر کرنا چاھتے ہیں آپ کریں ۔۔۔۔میں آپ کو پوری توجہ سے سن رہا ہوں”

سفیر نے بڑی مشکل ہمت جوڑ کر بولنا شروع کیا تھا۔

“میری پہلی بیوی خاندانی تھی،مگر تعلیم نہیں تھی اس کے پاس گھر والوں کی مرضی سے میں نے اسے اپنا تو لیا مگر مجھے وہ شروع سے ہی نا پسند تھی۔وہ سادہ رہتی مگر مجھے اپنے ترقی کرتے کاروبار کی شان کے مطابق کسی ایسی لڑکی کے ساتھ کی ضرورت تھی جو ہر طرح سے میرے لیول کی ہوتی،میرے ساتھ میرے بڑھتے ہوۓ کاروبار کی خوشی میں آئے روز ہونے والی پارٹیز میں جاتی،بس اسی سوچ کو لے کر میں نے اپنی بیوی کو جاہل گوار ٹھہراتے ہوۓ واپس حویلی اپنے والدین کے پاس بھیج دیا جو آج بھی میرے والدین کے بعد میری بیوی کے طور اسی حویلی میں رہتی ہے۔خود میں نے دوسری شادی کر لی جس سے میری بیٹی فلق پیدا ہوئی”

سعید صاحب اب پھر سے بیٹھ گئے تھے۔

“میری دوسری بیوی روپے کے لالچ میں میری بیوی بنی،اسے پاکستان نہیں پسند تھا وہ بس مجھے لے کر کسی فارن سٹیٹ میں شفٹ ہونا چاہتی تھی۔ہم بہت کم ساتھ پاکستان میں رہے ہیں۔وہ مستقل ادھر ہی رہی اور میں جب بھی فری ہوتا ادھر جا کر بیٹی اور بیوی کے ساتھ چند دن کسی مہمان کی طرح گزارلیتا۔وقت گزرتا گیا میری بیٹی جوان اور ہم میاں بیوی بوڑھے ہوگئے۔اب میری بیوی لائبہ کہتی ہے میں مزيد فلق کو نہیں سنبهال سکتی تو اب وہ اسے لے کر پاکستان آ گئی ہے”

سعید صاحب اب پانی کا گلاس بھر رہے تھے۔

“یہ تو بہت اچھی بات ہے سر کہ اب آپ لائبہ میڈم اور فلق ميم کے ساتھ ہی رهتے ہیں،آپ کی تنہائی ختم ہو گئی”

سفیر نے بہت سوچ کر یہی جواب سوچا تھا۔

“میرا بھی یہی خیال تھا سفیر کہ ایسا ہی ہوگا مگر نہیں ہوا،فلق وہاں ڈرگز لیتی تھی،بوئے فرینڈز،گرل فرینڈز اوریئنٹڈ سوسائٹی یو نو ۔۔۔۔۔۔”

سعید صاحب پانی کا خالی گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوۓ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولے تھے۔اس سے پہلے کہ سفیر کوئی جواب دیتا سفیر صاحب کے موبائل پر کسی کا فون آیا تھا جیسے سنتے ہی وہ اپنا کورٹ اور موبائل اٹھا کر باہر کی طرف بھاگے تھے۔انہوں نے سفیر کو بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا۔وہ دونوں جلدی سے سعید صاحب کی پراڈو میں بیٹھے تھے۔

“قائد اعظم انٹرنیشنل ہاسپٹل لے چلو”

سعید صاحب اپنا بایاں بازو مسلسل سہلاتے ہوۓ ڈرائیور کو بتا رہے تھے۔

“سر کیا ہوا ہے کون ہے ادھر؟؟”

سفیر بھی اب ان کا ہاتھ دبانے لگا تھا کیوں کہ ان کے چہرے پر آتا کرب ان کی دلی کیفیت کا پتہ دے رہی تھی۔

“فلق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،فلق نے نبض کاٹ لی”

وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولے تھے۔

۔**************

“ماہین ؟؟؟؟نیچے آؤ ایک خوش خبری دینی ہے”

طلعت بيگم کی آواز سے خوشی واضح طور جھلک رہی تھی۔

ماہین جو برآمدے میں لیٹی،موبائل میں ہینڈ فری لگائے کوئی انڈین فلم دیکھ رہی تھی بیزار سی ہینڈ فری ایک کان سے نکال کر نیچے آئی تھی۔

“کیا ہوا امی؟؟

وہ آخری سیڑھی پر آکر بولی تھی۔دوپٹہ سرے سے تھا ہی نہیں وہ،وہ اوپر چارپائی میں ہی چھوڑ آئی تھی۔

“تیرے احمد بھائی ہیں نا ان کی تاریخ رکھ لی ہے تیری خالہ نے بس جلد بازی میں ہو رہا ہے سب لڑکی کے ابو كی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے بس وہ اپنی موجودگی میں فرض پورا کرنا چاھتے ہیں۔تیری خالہ نے تجھے شروع سے ہی احمد کی بہن مانا ہے ان کا فون آیا تھا بس ابھی ابھی بند ہوا ہے وہ کہہ رہی تھیں بس کل ہی ماہین کے ساتھ گھر کو تالا لگا کر ادھر آ جاؤ تم دونوں احمد کی بیوی کی ساری تیاری تم دونوں خاص کر ماہین نے ہی کرنی ہے آخر کو دولہے کی اکلوتی بہن جو ہوئی”

وہ ایک ہی سانس میں خوش ہوتی ہوئی بولی تھیں۔

“ارے واہ امی یہ تو خوب خبر سنائی آپ نے،میرا بھی بہت دل تھا کچھ ہلا گلہ کرنے کا،میرے تو دو جوڑے بھی تیار پڑے ہیں،مگر امی میں دو اور بھی بناؤں گی میں بتارہی ہوں،ہاے کتنا مزہ آۓگا،پورا ہفتہ خوب ڈھولکی پیٹں گے،ہر وقت ميک اپ ۔۔۔۔ہاۓ امی آپ کو تو پتہ ہی ہے مجھے بن سنور کر رہنے میں کتنا مزہ آتا ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں بنی ہی ہر وقت سج دھج کر رہنے کے لئے ہوں،دنیا کا سارا میک اپ میرے خوبصورت نقوش کو چار چاند لگانے کے لئے ہے”

وہ دوسری ہینڈ فری بھی نکالتی ہوئی ادا سے آخری سیڑھی اتر کر بولی تھی۔

“کل پینشن مل جائے گی مجھے ماہين بیٹا بس پھر لے لینا بھابھی کی خریداری میں اپنے لئے بھی ایک جوڑا،ایک تو تیری خالہ فرخندہ بھی لے کر دے گی وہ ابھی کہہ رہی تھی۔”

طلعت بيگم بیٹی کو خوش دیکھ کر محبت سے بولی تھیں۔

“اچھا امی تھوڑی سی مووی رہ گئی ہے میں دیکھ لوں پھر کوئی اچھا سا ہیئر کٹ دیکھتی ہوں مجھے پالر لے چلیں پھر میں زرا وہاں کے کام ختم کر آؤں آج اور پھر کپڑے بھی تو بیگ میں رکھنے ہیں”

وہ خوشی سے جھومتی، دونوں ہینڈ فری لگاتی ہوئی اوپر گئی تھی۔اس کی خوشی کی ایک دوسری وجہ بھی تھی اور وہ وجہ احمد کے گھر کی گلی میں ہی تیسرا گھر سفیر کا تھا۔خاندان ایک ہونے کی وجہ سے وہ بھی ہر فنكشن میں ضرور آتا آخر اس کی بھی خالہ کا گھر تھا۔

“سفیر میں ایسی تیاری رکھوں گی اپنی کہ تم مجھے دیکھ کر پاگل ہو جاؤ گے تمارا دل کرے گا تم بھی احمد کے ساتھ ہی اپنا نکاح مجھ سے پڑھوا لو”

وہ خیالوں ہی خیالوں میں سفیر کو خود میں مگن دیکھ کر خوشی سے لال ہوئی تھی۔

سچی خوشی سے اس کے خوبصورت نقوش اور بھی کھل اٹھے تھے۔

اب اس کا دھیان فلم میں کم اور سفیر کے خیالوں میں زیادہ تھا۔

۔**********

عصر کا وقت تھا ماہین بیگ تیار کر کے اب طلعت بيگم کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی جو عصر کے لئے وضو کررہی تھیں۔

“پتہ نہیں آج سارا دن کہاں مصروف ہے صبح کی سو کالیں کر چکی ہوں مگر مجال ہے جو کسی ایک کال کا بھی جواب دیا ہو”

ماہین سفیر کا نمبر ملا کر خود کلامی میں بولی تھی۔

“ایسا کرتی ہوں ابراھیم سے پوچھتی ہوں کہ گھر آگیا ہے کہ نہیں چار بجے تک تو آ جاتا ہے سفیر آفس سے”

ماہین اب ابراھیم کو ہاۓ کا میسج کر کے اس کے جواب کی منتظر تھی۔اب سکرين پر ابراھیم کے نام کی کال روشن ہوئی تھی۔جیسے ماہین نے فورا اٹھایا تھا۔

“آج سورج مشرق سے تو نہیں نکلا؟؟”

ابراھیم نے گویا اپنی طرف سے طنز میں جلد بازی کردی تھی۔

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔ارے پاگل تو روز کہاں سے نكلتا ہے سورج ؟؟؟”

وہ کھنک دار قہقہ لگا کر ہنستے ہوۓ بولی تھی جس پر ابراھیم کو اپنے غلط ڈائیلاگ بولنے پر شرمندگی ہوئی تھی۔وہ ایک دم سنجیده ہوا تھا۔

“تم نے بھائی کا ہی پوچھنا ہوگا تو سن لو آج لیٹ ہیں وہ ابھی تین بجے امی کو فون پر بتا دیا تھا رات تک آئیں گے کوئی ضروری کام آن پڑا ہے آفس میں،بس یا اور بھی کوئی وجہ تھی میسج کرنے کی ؟؟؟”

وہ ایک ہی سانس میں بولا تھا۔

“نہیں ۔۔۔اب ایسی بھی بات نہیں ۔۔۔۔”

وہ ابھی بات بنانے ہی والی تھی کہ طلعت بيگم نے ماہین کو چادر لے کر تیار ہونے کا کہا تھا وہ نماز پڑھ چکی تھیں۔

“اچھا امی آئی،ابراھیم وہ میں پالر جا رہی ہوں،پھر بات ہوتی ہے اللّه حااا۔۔۔۔۔”

ابراھیم اس کی بات کاٹ کر بولا تھا۔

“میں لینے آ رہا ہوں میں لے جاتا ہوں خالہ کو کہو وہ ریسٹ کریں”

وہ کہہ کر فون کاٹ چکا تھا اور ماہین کو اسے یہ بات بتانے پر افسوس ۔۔۔۔