482.7K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 5

سفیر سعید صاحب کے گھر کے گیٹ کے پاس کھڑا اب فلق کے سامان کا منتظر تھا۔وہ بہت بے چین تھا وہ بس جلد از جلد فلق تک یہ سامان پوھنچا کر ماہین کے پاس جانا چاہتا تھا جو آج اسے ناراض ناراض اور بہت اداس اداس لگ رہی تھی۔وہ بار بار موبائل دیکھتا اور اس کی طرف سے خاموشی دیکھ کر اس کی بے چینی میں اضافہ ہو جاتا۔

“یہ فلق کا سب ضروری سامان ہے”

سعید صاحب فلق کے سامان کے ساتھ جو دو بڑے بیگز میں تھا نوکر کے ہمراہ باہر آے تھے۔

“جی سر مجھے گھر جلدی پوھنچنا تھا میرےفسٹ کزن کی شادی کی خوشی چل رہی ہے پورا خاندان اكهٹا ہوا ہے”

سفیر نا چاھتے ہوۓ بھی اپنی بیزاری اور اکتاہٹ چھپا نہیں پا رہا تھا۔جسے سعید صاحب فورا بھانپ گئے تھے۔

“بیٹا ۔۔۔۔۔کل تم آفس جلدی آنا کچھ ضروری بات کرنی ہے،ابھی تم جاؤ اور فلق کو یہ سامان دے کر مجھے اطلاع کر دینا”

سعید صاحب نے سفیر کو نرمی سے کہا اور اندر چلے گئے ۔

“واہ ۔۔۔۔سفیر بیٹا ۔۔۔۔۔سفیر سے بیٹا ۔۔۔۔۔مگر میں ہرگز اس بے حیا لڑکی کی ذمہ داری مزيد نہیں اٹھاؤں گا”

سفیر دل ہی دل میں خود کو پکا کر رہا تھا۔

وہ گاڑی سٹارٹ کر کے اب فلق کی طرف جاتا ہوا انہی سوچوں میں مگن تھا جب ماہین کا نام موبائل سکرين پر روشن ہوا تھا۔اس کا نام دیکھتے ہی سفیر کا دل سکون سے بھر گیا تھا۔

“ہیلو سفیر کی جان”

وہ فورا فون اٹھا کر گرم جوشی سے گویا ہوا تھا۔

“سفیر ۔۔۔۔۔”

ماہین نے بھرائی آواز میں اس کا نام پکارہ تھا۔جس پر سفیر نے گھبرا کر گاڑی کو ایک طرف لگاکر اس کی طرف اپنی پوری توجہ کی تھی۔

“کیا ہوا ہے سفیر كی زندگی کو ایسے کیوں میرا نام لے رہی ہو جان ؟؟”

سفیر گاڑی سے اتر کر اپنی شرٹ کے کچھ بٹن کھول کر پھولی سانسوں سے بولا تھا۔

روڈ پر گاڑیوں کا شور ماہین نے آسانی سے سنا تھا۔

“تم کہاں ہو سفیر ؟؟”

وہ پھٹی آواز میں بولی تھی جس سے صاف لگ رہا تھا وہ روئی ہے۔

“بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے فلحال روڈ پر ہوں سر کی گاڑی میرے پاس ہے،تم بتاؤ شونا کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟”

سفیر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ماہین کے پاس اڑ کر پوھنچ جائے اور اس کے آنسو پونچھ لے۔

“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں،جب سے آنکھ کھولی بس ایک تمہارا ہی چہرہ دل کی دیواروں میں نقش ہے،اگر مجھ سے کوئی محبت کا مطلب پوچھے تو میں تمہارا نام لوں گی،بچپن سے لے کر آج تک آخر کب چونک ہوئی ہے مجھے سے تمہیں چاہنے میں جو تم نے مجھے اتنا سستا کر دیا اپنی ہی نظروں میں ؟؟؟؟”

وہ ایک ہی سانس میں روتی ہوئی بولی تھی۔

“مجھ کچھ سمجھ نہیں آ رہی ماہین تم یہ سب کیوں کہہ رہی ہو ؟؟؟بات کیا ہے ؟؟”

سفیر اب روڈ پر چلنے لگا تھا۔

“کیا لگتا ہے تمہیں میرے اور ابراھیم کو لے کر ؟؟؟میرا کوئی چکر چل رہا ہے اس کے ساتھ ؟؟؟”

وہ دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثرات لئے بولی تھی۔

“ارے پاگل لڑکی یہ کس نے کہہ دیا تم سے ؟؟؟”

وہ سر پکڑے روڈ پر بیٹھ گیا تھا۔

“پھر آج کیوں کہا ابراھیم کو وہ سب ؟؟آخر ان الفاظ کا مطلب کیا تھا؟؟”

وہ دبی دبی الفاظ میں چیخی تھی۔

“نہیں یار ۔،۔۔۔۔۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا”

موبائل میں مسلسل کسی کی کال آ رہی تھی۔سفیر نے موبائل کان سے ہٹا کر دیکھا تو وہ کوئی انجان نمبر تھا جو مسلسل فون کر رہا تھا۔

“ماہین میری جان تم رونا بند کرو میں بس تھوڑی ہی دیر میں گھر آ رہا ہوں”

وہ ماہین کی کال کاٹ کر اب اس انجان نمبر کو ملانے کو تھا مگر اس سے فون پھر سے فون آنے لگا تھا۔

“کب سے میں اپنے سامان کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہوں سفیر،اور تم ہو کہ نمبر مصروف کئے پتہ نہیں کہاں بیٹھ گئے ہو؟؟ ابھی ڈیڈ سے نمبر لیا ہے تمہارا”

فلق سفیر کے ہیلو بولنے سے پہلے ہی چبتی ہوۓ لہجے میں بولی تھی۔

“آپ ؟؟؟میں بس آرہا ہوں،ایک ضروری فون تھا”

وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ گاڑی سٹارٹ کر کے بولا تھا۔

“اوکے آئی ایم ویٹنگ”

وہ فون کاٹ چکی تھی۔سفیر کا دماغ ماہين کی آبدیدہ آواز سن کر سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔وہ کب فلق کے آپارٹمنٹ پوہنچا اسے سمجھ ہی نہیں آئی۔اب وہ اس کے دونوں بیگ لے کر دروازہ پر کھڑا تھا۔وہ ناک کر کے اب غائب دماغی سی کھڑا تھا۔

“اندر لے آؤ سامان”

وہ دروازہ کھول کر بولی تھی۔سفیر نے سامان اندر رکھا اب وہ باہر کی طرف مڑا تھا جب فلق نے اسے آواز دی تھی۔

“سفیر یہ سب تم میرے کمرے میں رکھ دو گے پلیز ؟؟؟”

وہ ادا سے بولی تھی۔سفیر نے ایک لمبی سانس لے کر منہ سے ہوا خارج کی اور اس کے بیگ لے کر کمرے میں آ گیا وہ پیچھے مڑا تو دروازے میں کھڑی اسے گھور رہی تھی۔سفیر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

“کچھ پیسے دو”

وہ عجیب سے لہجے میں بولی تھی۔

“مجھے اس کی اجازت نہیں ہے مس ۔۔۔۔۔فلق ۔۔۔۔آپ کو کچھ چاہیے تو بتا دیں لا دیتا ہوں”

وہ بیزار سا ہاتھ پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھ کر بولا تھا۔

“سگریٹ لا دو دو دن سے نہیں پیا،اس کی خوشبو کو ترس گئی ہوں”

اتنے وقت میں ہونے والی یہ پہلی بات تھی جس میں فلق کی آواز میں روعب نہیں تھا بلکہ ایک ڈھکی چھپی التجا تھی۔وہ اپنی گردن کھجاتی بہت مجبور لگ رہی تھی

“اوکے لا دیتا ہوں”

سفیر اس پر ایک نظر ڈالتا ہوا اب پاس کی شاپ سے سگریٹ کا ایک پیکٹ لایا تھا۔

وہ دروازے میں ہی کھڑی تھی وہ کسی بلی کی طرح اس ڈبے پر جھپٹی تهی۔

“تم بہت اچھے ہو،تھینک یو،تھینک یو سفیر”

وہ کسی بچے کی طرح خوش ہوتی ہوئی ہاتھ سے بائے بائے کرتی دروازہ بند کرتی اندر جا چکی تھی۔سفیر کے لئے اس کا یہ روپ نیا تھا۔

وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور گھر کی طرف آگیا۔

جب تک وہ گھر پوھنچا گھڑی رات کے بارہ بجا رہی تھی۔ایک جاننے والے کے گھر گاڑی محفوظ جگہ پر کھڑی کر کے وہ گھر کی طرف آیا تھا۔احمد کا گھر بہت اچھے سے سجایا گیا تھا۔اور اب وہاں خاموشی تھی جس کا مطلب تھا وہ سب سو چکے ہیں وہ شکستہ قدم چلتا ہوا اپنے گھر کی طرف آیا تھا۔حسب معمول خالدہ بيگم اس کے انتظار میں برآمدے میں پڑی چارپائی پر بیٹھی دروازے کی طرف اس کی منتظر تھیں۔

“السلام علیکم امی آپ سو جاتیں”

وہ ماں کے پاس بیٹھ کر محبت سے بولا تھا اب وہ شوز اتار رہا تھا۔

“بیٹا جب گھر کا سربراہ جوان اولاد ہو پھر نیند کدھر آتی ہے،کھانا گرم کرتی ہوں تم ماں ہاتھ دھو لو”

وہ اٹھتے ہوۓ بولی تھیں۔

“نہیں امی میں کھا چکا تھا،آپ سو جایئں،میں بھی نہا کر بس سونے لگا ہوں”

وہ اپنے شوز ایک طرف رکھتا ہوا جھوٹ بول رہا تھا کیوں اس نے رات کا کھانا نہیں کھایا تھا مگر ماہین کی ناراضگی کی وجہ سے اس کی بھوک اڑ چکی تھی۔

“ابراھیم سو گیا؟؟”

اسے اچانک اس کا خیال آیا تھا۔

“ہاں وہ آج ادھر ہی سو گیا ہے،احمد اور سارے کزن ایک ساتھ بیٹھک میں سونے کا پروگرام بناے بیٹھے تھے،مجھے بھی سب روک رہے تھے میں تمہاری وجہ سے گھر آ گئی”

وہ اپر چھت پر جاتے ہوۓ جمائی روکتی بولی تھیں۔

وہ نہانے غسل خانے گھسا تھا۔نہا کر وہ اپر ہی آیا تھا جہاں دو چارپائیاں ڈال کر اسٹینڈ والا پهنكا لگا کر خالدہ بيگم سو چکی تھیں۔یہ جون جولائی کے دن تھے جب وقت بے وقت بارش آ جایا کرتی ہے اور گرمی اور حبس میں میں وقتی کمی آ جاتی تھی۔ابھی کچھ دنوں سے بہت گرمی تھی چھت پر آتے ہی سفیر کو پهنكے کے آگے لیٹ کر کافی سکون ہوا تھا۔

دن بھر کا تھکا ہوا وہ فورا سو گیا تھا۔

صبح وہ ناشتہ کر کے کچھ دیر کے لئے احمد کی طرف گیا تھا خاندان کے بڑے بوڑھے گرم گرم چاۓ کے کپ لئے خوش گپیوں میں مصروف تھے جب کہ نئی نسل اوندھے منہ سو رہی تھی۔ماہین رات بھر سو نہیں پائی تھی وہ بھی بظاہر چاۓ کا کپ لئے بیٹھی ہوئی تھی مگر نظر ہنوز دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں وہ جانتی تھی وہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی مگر ضرور آۓ گا۔

وہ سب کو سلام دعا کرتا کچھ منٹ بیٹھا پھر ماہین کو جاتے ہوۓ اشارہ کر کے دروازے پر بلا لیا۔وہ جلدی سے اٹھ کر آئی تھی۔

آنکھوں کی سرخی رات کا حال واضح طور سنا رہی تھی۔سفیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولنا شروع ہوا۔وہ جانتا تھا وہ آج بس سننا چاہتی ہے بولے گی کچھ نہیں۔

“میں تم پر شک نہیں کر رہا تھا بس یہ چاہتا ہوں تمہیں میرے علاوہ کوئی بھی نا دیکھے،تم لسٹ بنا لو تسلی سے پھر ایک ہی بار میں ابراھیم کے ساتھ جا کر ہر چیز لے آؤ،مجھے تمہارا بار بار بازار جانا نہیں اچھا لگا تھا چاہے تم خالہ کے ساتھ ہی کیوں نا گئی ہوتیں ۔۔۔ابراھیم نا تو کبھی ہمارے بیچ تھا نا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔میں بہت جلد تمہیں اپنا نام دینے والا ہوں ۔۔۔۔۔جان ۔۔۔”

وہ اس کے چہرے کو نرمی سے چھو کر بولا تھا۔اب جاؤ اور جا کے سو جاؤ ۔۔۔شام کو آج وقت پر آنے کی پوری کوشش کروں گا ۔۔۔۔آج خاص تیار ہونا ۔۔۔۔اپنے سفیر کے لئے۔۔۔”

سفیر کی باتیں سن کر ماہین کی آنکھیں ڈب ڈبائی تھیں وہ بس “ہوں” بول کر مسکرائی تھی۔سفیر اسے آنکھوں میں قيد کرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔

وہ آفس آیا تو سعید صاحب کو اپنا منتظر پایا۔اسے آفس آتے ہی انہوں نے اپنے کمرے میں بلايا تھا۔وہ گرم جوشی سے اس کے سلام کا جواب دے کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔

“سفیر میں تمہاری آفس ٹائمنگ تین سے کم کر کے بارہ کر رہا ہوں باقی کے تین گھنٹے تمہیں روز میری بیٹی فلق کے پاس جا کر اس کے کاموں میں گزارنے ہونگے”

وہ ٹیبل پر رکھے ایک لفافے کو ہاتھ میں پکڑ کر بولے تھے۔

“مطلب آپ مجھے مس فلق کا ڈرائیور رکھنا چاہ رہے ہیں؟؟”

وہ فورا ناگواری سے بولا تھا۔

“یہ رہا آپ کا پروموشن لیٹر،اور یہ رہی آپ كی پرسنل یوز کے لئے گاڑی کی کیز”

وہ سفیر کی بات کاٹ کر بولے تھے۔اور بات کو جاری رکھا۔

“دیکھو سفیر مجھے اپنی بیٹی کے ڈرائیور کے طور رکھنے کے لئے لوگوں کی کمی نہیں ہے میں اس سے بہت کم پیسوں میں چوبیس گھنٹے کے لئے ڈرائیور رکھ سکتا ہوں مگر آپ کو یہ کام سونپنے کی وجہ بس اتنی سی ہے کہ آپ اس کا سچ جاننے کے ساتھ ساتھ بہت سمجھ دار اور معملہ فهم ہیں۔آپ میرے سے بات کئے بغیر بھی صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لے کر اس سے جڑے مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔”

وہ اب اٹھ کر اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئے تھے اور ان کا انداز مکمل پیشہ وارانہ تھا اب۔

“موقع اچھا ہے ماہین کو پورے شان سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا،پہلے اپنے اور ماہین کے لئے اپر خوبصورت پورشن بنواؤں گا پھر شادی۔۔۔گاڑی دیکھ کر تو وہ بہت خوش ہو جائے گی ۔۔۔اسکو خوب گھوماؤں گا”

وہ سعید صاحب کو دیکھتا ہوا کہیں اور ہی پوھنچا ہوا تھا۔