Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 4
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 4
ابراھیم خالہ طلعت کے ساتھ رات ان کا شادی والا بیگ اور دیگر سامان بھی لے آیا تھا۔اب ان دونوں کو آج ادھر سے ہی احمد کے گھر جو اس گھر سے تیسرا گھر تھا ادھر جانا تھا۔
ماہین جانتی تھی سفیر صبح جلدی اٹھ کر آفس جاتا ہے اور آج اس کی بائیک بھی نہیں ہے۔ وہ کل آفس ہی چھوڑ کر آیا تھا سفیر ہسپتال سعید صاحب کی گاڑی میں ہی گیا تھا بائیک آفس میں ہی رہ گئی تھی لیکن سفیر نے گھر میں کسی کو بھی فلق کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا اس کے نزدیک یہ ایک معمولی بات تھی جس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔مگر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ وقت اپنی چال وقت پر چل کر اس کا برا وقت لانے والا تھا۔
“خالہ میں ناشتہ بنا دیتی ہوں سفیر کے لئے”
وہ منہ ہاتھ دھو کر بال کیچر میں قيد کیئے جلدی سے کچن میں آئی تھی جبکہ سفیر غسل خانے میں تھا اور ابراھیم ابھی تک سو رہا تھا۔
“میری جان تمہیں جب میں یہاں پکا پکا لے آؤں گی پھر بنانا تم ناشتہ سفیر کے لئے”
خالدہ محبت سے بولی تھی جس پر ماہین شرما گئی تھی۔
سفیر ماہین سے تین سال بڑا تھا جبکہ ابراھیم ماہین سے ایک سال چھوٹا تھا۔طلعت کو شروع سے ہی ابراھیم سفیر سے زیادہ پسند تھا کیوں کہ وہ اپنی شرارتی نیچر کی وجہ سے ان کے گھر جب بھی آتا خالہ کا دل جیت لیتا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ دونوں بہنیں یہ بھانپ گئی تھیں کہ سفیر اور ماہين ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور یہ پسند محبت سے کچھ آگے کا جذبہ ہے ۔۔۔
سفیر تولیے سے بال سکھاتا باہر آیا تھا۔ماہين کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئی تھی۔
جبکہ ماہین اپنے چہرے کے نیچے اپنی کہنی ٹکائے اس مسكراہٹ کا جواب اسی میں دے رہی تھی۔
“بیٹا ناشتہ تیار ہے،دونوں بیٹھ کر کرلو”
خالدہ نے چارپائی پر پراٹھا،آملیٹ اور چاۓ کے دو بڑے کپ رکھتے ہوۓ دونوں کو اس طرح مگن دیکھ کر کہا تھا۔سفیر نے اشارہ کر کے ماہین کو بیٹھنے کی دعوت دی تھی۔وہ مسکرا کر ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
“بیٹا ابراھیم کی بائیک لے جاؤ آج ایسے لیٹ ہوجاؤ گے آفس سے”
خالدہ بھی چاۓ کا مگ ہاتھ میں لے کر بولی تھی۔
“نہیں امی پھر ابراھیم کو بھی مسئلہ ہوگا اور میں اپنی بائیک کا واپسی پر کیا کروں گا،ابھی ایسے ہی جاؤں گا آج ویسے بھی ڈائریکٹ میٹنگ پر جانا ہے اس میں ابھی وقت ہے”
سفیر کو اپنی ہی بات سے کچھ یاد آیا تھا پھر وہ تیزی تیزی سے دو چار نوالے لے کر چاۓ آدھی کپ میں چھوڑ کر اٹھ گیا تھا۔
“ارے میری پریزنٹیشن والی فائل میں کل غلطیاں تھیں وہ تو میں نے ٹھیک ہی نہیں کی تھیں،مجھے جلدی پہنچنا ہوگا”
وہ جلدی سے اٹھا ،کمرے میں جا کر چینج کیا اور اپنا بلیک لیدر کا بیگ کندھے پہ لٹکا کر نکل گیا تھا۔
“امی میں بھی ناشتہ کروں گا ابھی”
ابراھیم آنکھیں ملتا ہوا ادھر پڑی دوسری چارپائی پر لیٹ کر بولا تھا۔
“تم آج بڑی جلدی اٹھ گئے ؟؟”
خالدہ بيگم اس کے پاس بیٹھ کر بولی تھیں۔
“بس امی بھوک لگ رہی تھی تو اور نیند نہیں آئی”
ابراھیم کی نظریں ماہین پر تھیں جو سفیر کی چھوڑی چاۓ محبت سے پی رہی تھی۔
“ابراھیم ناشتہ بہت ہے سفیر نے کیا ہی نہیں اور میں تو بس چاۓ پیتی ہوں ناشتہ بعد میں کرتی ہوں تم کھا لو،خالہ میں اب تھوڑا سا لیٹوں گی امی کے ساتھ پھر خالہ فرخندہ کی طرف چلے گے،بہت کام ہیں ادھر کرنے والے”
وہ ایک ہی جملے میں بات ختم کر کے خالی کپ کچن میں رکھ کر اندر چلی گئی تھی۔
ابراھیم آنکھیں موندے لیٹ گیا تھا۔
“میں تو رونق دیکھ کر اٹھا تھا امی مگر بھائی بھی چلے گئے اور ماہین بھی”
“امی بعد میں کرلوں گا میں بھی رہنے دیں فلحال سو جاتا ہوں میں بھی،احمد بھائی نے مجھے بھی بہت سے کام بتائے تھے دن اسی میں نکلے گا ابھی سو جاتا ہوں”
وہ آنکھیں مسلتا واپس چلا گیا تھا۔
دوسری طرف سفیر آفس پہنچا، جلدی سے فائل ٹھیک کی اور پھر وہ میٹنگ کرنے چلا گیا۔اب اس نے سعید صاحب کا نمبر ملا کر میٹنگ کی کامیابی کی خبر دینی تھی۔مسلسل رنگ جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہے تھے۔
چار بجنے والے تھے سفیر اب اپنا آفس سمیٹ کر پارکنگ میں کھڑی بائیک کی طرف آیا تھا ۔جب سعید صاحب کا نام روشن ہوا تھا۔
“جی سر السلام علیکم”
سفیر ایک ہاتھ سے بائیک میں چابی لگاتا ہوا موبائل کو لگا کر بولا تھا۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔بیٹا تم یہاں آ جاؤ ہسپتال ۔۔۔فلق کو ڈسجارج کر دیا ہے مگر وہ گھر نہیں جا رہی ہمارے ساتھ”
سعید صاحب کی کرب سے بھری ہوئی آواز آئی تھی۔
“اچھا ۔۔۔۔سر میں آتا ہوں”
وہ اب ماہین کا نمبر ملا رہا تھا۔
“کب آؤ گے سفیر رات کی ڈھولک لینے جا رہی ہوں ابراھیم کے ساتھ،بس نکلنے لگی ہوں”
وہ مصروف سی بولی تھی۔
“یار ابراھیم کو فون دو”
سفیر تنک کر بولا تھا۔
“یہ پکڑو فون”
وہ ابراھیم کو تهما کر بولی تھی۔
“جی بھائی اس سے پہلے کہ آپ کچھ کہیں میری سن لیں پہلے”
وہ بہت تنگ لگ رہا تھا۔سفیر نے ہوں کہا تھا
“آپ کی اس متوقع مسز نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے صبح کی یہ بائیک سے اتری ہی نہیں ہیں”
“دس چکر بازار کے لگاۓ ہیں اب کہہ رہی ہیں ڈھولکی لینے بھی خود ہی ساتھ چلوں گی ،تم ٹھیک نہیں لاؤ گے،صبح سے بھوکا پیاسہ بس اصل دیور بن کر گدھے کی طرح بائیک چلا رہا ہوں”
وہ ایک ہی سانس میں بولا تھا۔جس پر سفیر کو ماہین پر شدید غصہ آیا تھا۔
“تم اب اسے کہیں بھی مت لے کر جانا میں خود کرلوں گا گھر آ کر اس سے بات ابھی اسے اتنا بتا دو کہ میں جیسے ہی ادھر سے فارغ ہوا احمد کی طرف آ جاؤں گا مجھے بار بار پوچھنے کے لئے فون مت کرے۔”
وہ فون کاٹ چکا تھا۔ابراھیم سفیر سے یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔وہ بھی خاموش موبائل ہاتھ میں پكڑے ماہین کو دیکھ رہا تھا جو ہاتھ کے اشارے سے کیا کہہ کر رہا تھا پوچھ رہی تھی۔
“کچھ نہیں وہ کہہ رہے تھے وہ آج بھی لیٹ ہو جائے گے۔اور تم اب گھر سے باہر نا جاؤ میں تمہیں کہیں بھی نا لے کر جاؤں،اور ڈھولکی بھی میں اکیلا ہی لے آؤں”
ابراھیم اب بائیک سٹارٹ کر رہا تھا۔جبکہ ماہین بظاہر اثبات میں سر ہلا کر بیٹھ گئی تھی مگر اس کو سفیر کی بات پر حیرانگی ہوئی تھی۔
“کہیں ایسا تو نہیں سفیر کو میرے اور ابراھیم کو لے کر کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے ؟؟؟”
وہ ایک دم پریشان ہوئی تھی۔
“نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔وہ تو جانتا ہے میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں پھر وہ ایسے سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟؟؟میں اسے ڈبل کراس کیوں کروں گی میں ۔۔۔۔میں ایسی لڑکی تو نہیں ہوں جو ایک وقت میں دو دو لوگوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔میں اب ابراھیم سے دور رہوں گی ۔۔۔۔”
وہ بڑی چادر لٹکا کر ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالتی گہری سوچ میں لگ رہی تھی جبکہ ابراھیم جا چکا تھا۔
۔**********
سفیر ہسپتال پہنچا ،تو دونوں ماں اور باپ کو فلق کے کمرے کے باہر اپنا سر پکڑے دیکھا۔
“بیٹا اس کو سمجھاؤ”
سعید صاحب تکلیف میں گویا ہوۓ تھے۔سفیر سر ہلا کر اندر آیا تھا جہاں فلق کھڑکی میں کھڑی کسی گہری سوچ میں لگ رہی تھی۔
سفیر نے گلا کھنگار کر اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا تھا جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
“مس فلق؟”
سفیر کی پکار پر وہ اس پر ایک نظر ڈال کر دوبارہ سامنے کے منظر میں محو ہوگئی تھی۔
“آپ کے پاپا آپ کو بہت محبت کرتے ہیں آپ ان کے ساتھ ایسا مت کریں”
سفیر فاصلہ سے کھڑا نرمی سے بولا تھا۔
“وہ صرف اپنی دولت سے محبت کرتے ہیں ورنہ اتنے سال میں وہاں مام کے ساتھ اکیلی نہ گزارتی”
وہ زخمی شیرنی کی طرح بولی تھی۔سفیر جانتا تھا عورت سے کسی بحث میں جیت پانا ویسے بھی ایک مرد کے لئے نا ممکن سی بات ہے اور پھر وہ اوپر سے نفسياتی ہو پھر تو یہ سوچنا ہی بے کار ہے ۔۔۔
“چلیں آپ کے پاپا برے ہیں مگر آپ کی ماما تو اچھی ماما ہیں نہ آپ ان کے لئے ہی گھر چلی جایئں”
سفیر نے بات ختم کرنی چاہی تھی۔مگر اس بات سے وہ زیادہ جوش میں بولی تھی۔
“نہیں ہیں وہ اچھی ماما ۔۔۔۔۔۔شی از آ بچ”
وہ غرائی تھی۔
“وہ وہاں ہو کر بھی میرے ساتھ نہیں تھیں،ان کو ان کے بوئے فرینڈز سے کم ہی فرصت ملا کرتی تھی”
سفیر نے سر پکڑ لیا تھا۔
“فلق آخر آپ چاہتی کیا ہیں اب؟؟”
سفیر کی آواز سے بیزاری عیاں تھی۔
“ڈیڈ کو کہیں مجھے ایک اپارٹمنٹ لے دیں میں وہی رہوں گی بلکل اکیلی،وہ دونوں مجھ سے ملنے بھی نہیں آسکتے،ہاں جب میرا دماغ سیٹ ہوا تو میں خود ہی آ جایا کروں گی”
وہ دو ٹوک بولی تھی۔سفیر نے اب تک سعید صاحب کو کل ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والی کوئی بھی بات نہیں بتائی تھی۔وہ فلق کی اس ضد پر واقعی کافی پریشان ہوگیا تھا کیوں کہ وہ ایسی صورت میں نا صرف ڈرگز کا استعمال آسانی سے کر سکتی تھی بلکہ خود کو دوبارہ نقصان بھی پہنچا سکتی تھی۔مگر فلحال اس کی بات ماننا بھی ضروری تھا۔
“میں سر سے بات کرتا ہوں”
وہ کہہ کر باہر آ گیا تھا اور اس نے دونوں میاں بیوی کو ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والی بات کے ساتھ ساتھ فلق کی ضد بھی سامنے رکھی۔وہ دونوں کافی پریشان لگ رہے تھے اور خاموش بھی۔
“میرے خیال میں ان کی بات مان لیں۔آپ ہر روز ان کو ان کی ضرورت کی چیزیں مہیا کر دیا کریں مگر ان کے ہاتھ میں فلحال بلکل کوئی رقم نا رکھیں تا کہ یہ اس کا استعمال اپنے نشہ کے لئے نا کر سکیں”
سفیر نے معاملہ ختم کرتے کرتے اپنے لئے کام بڑھا لیا تھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا اسے کہو مجھے یہ منظور ہے مگر فلحال تو ہمارے ساتھ گھر چلی جائے”
سعید صاحب بے بس سے بولے تھے۔اتنے میں فلق باہر آ گئی تھی۔
“No Dad ….absolutely not…..just give me money, I’ll handle it myself”
“آپ اپنی مسز کو لے کر گھر جایئں”
وہ بے باکی سے گویا ہوئی تھی۔
“تمہیں میرے ساتھ جانے پر اعتراض ہے چلو ٹھیک ہے،سفیر آپ فلق کو ساتھ لے جایئں،اور ان کو کسی فرنیشڈ اپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ ضرورت کی ہر چیز لے دیں”
سعید صاحب کے اس جملے میں کمزور سی التجا تھی۔وہ نظریں جھکا کر بولے تھے۔
سفیر نا چاھتے ہوۓ بھی ان کو انکار نہیں کر سکا تھا۔
“بیٹا یہ چابی ہے میری گاڑی کی اور یہ میرا ڈیبٹ کارڈ،جو کہتی ہے اس کو لے دو،بس یہ خوش ہو جائے”
سعید صاحب سفیر کو سائیڈ پر کر کے بهرائی آواز میں بولے تھے۔
“سر آپ گھر کیسے جائیں گے ؟؟؟”
سفیر نے دونوں چیزیں پکڑتے ہوۓ پوچھا تھا۔
“میں فلحال کیب منگوا کر چلا جاؤں گا،تم بائیک کی فکر مت کرنا میں آفس میں بھجوا دوں گا کل ادھر سے ہی لے لینا اور گاڑی گھر لے جانا کل آفس لے آنا پھر”
سفیر سر ہلاتا ہوا فلق کے پاس آیا تھا جو اسی کی منتظر تھی۔دونوں گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے۔
“کیا نام ہے تمہارا؟؟ڈیڈ کے بہت وفادار ملازم لگتے ہو”
وہ سفیر پر سر تا پیر نظر ڈال کر بولی تھی۔
“سفیر،جی وفاداری ہماری گھٹی میں سمائی ہے”
سفیر نے گاڑی کی ونڈ سیکرين پر نظر گاڑے جواب دیا تھا۔
“اپارٹمنٹ دیکھ رکھا ہے میں نے سفیر”
اب اسے اس کا ایڈریس بتانے لگی۔
سفیر اور وہ وہاں پہنچے کچھ فارمیلیٹیز پوری کی گئیں، اپارٹمنٹ رینٹ پر فلق کو باآسانی مل گیا۔اس سب میں رات کے نو بج چکے تھے۔
“میں کھانا اور ناشتے کا سامان لا دیتا ہوں باقی آپ لسٹ بنا دیں جو جو آپ کو چاہیے”
وہ جاتے ہوۓ بولا تھا جس پر فلق نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔وہ انہی لوازمات کے ساتھ واپس آیا تو دروازہ کھلا ہی تھا۔
دو کمروں کا یہ اپارٹمنٹ زیادہ چھوٹا بھی نہیں تھا وہ مس فلق مس فلق کرتا سامان ٹیبل پر رکھ کر اس کو ڈھونڈنے لگا تھا۔
وہ ایک دم نہایت معیوب حلیے میں نہا کر غسل خانے سے باہر آئی تھی۔سفیر شرم کے مارے اپنی نظريں جھکا گیا تھا۔
“میں چلتا ہوں دروازہ بند کر لیں”
وہ کہہ کر تیزی سے نکل گیا تھا۔
اسے اب فلق کے کپڑے اور ديگر ضروری سامان اس کے گھر سے لینے جانا تھا
