Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 17
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 17
“بھائی ۔۔۔۔آپ ؟؟؟؟”
ابراھیم جلدی سے ماہین کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا بھاگ کر سفیر کے پاس آیا تھا۔وہ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے جگہ جگہ چھو کر اس کے ہونے کا احساس کرتا ہوا بری طرح رو رہا تھا۔
“کتنا تڑپا ہوں میں بھائی فقط آپ کو دوبارہ اپنے سامنے سہی سلامت دیکھنے کے لئے،میرا باپ واپس آ گیا ہے ۔۔۔۔۔میں یتيم نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔اللّه تیرا شکر”
وہ سفیر کو گلے میں دبوچ کر ،اس کا چہرہ چومتا رہا پھر سجدے میں گر کر رب کا شکر ادا کرنے لگا۔
ماہین بت بنی یہ سب دیکھ رہی تھی۔
سفیر کو دیکھ کر پہلے ٹھنڈی ہوا کےجھونکے نے دل کو سکون دیا تھا ۔۔۔۔۔پت جھڑ کے موسم کے خشک پتے اڑ کر یہاں وہاں بکھرے تھے ۔۔۔۔پھر جدائی کا وہ زخم جو ناسور بنا تھا اور ماہین کو اپنا دل کاٹ کر پھینکنا پڑا۔۔۔۔اس جگہ پر آج پھر سے درد کی ٹیس اٹھی تھی۔ماہین کی آنکھوں میں کرب نے سامنے کا منظر دھندلا دیا تھا۔
وہ بے آواز رو دی تھی۔
“بھائی امی کے پاس چلیں”
ابراھیم نے سفیر کا ہاتھ کھینچ کر لے جاتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوۓ کہا تھا۔
سفیر ماہین کے پاس سے اس کو دیکھتا ہوا گزرا تھا۔
“ٹوٹ کر چاہا ہے تمہیں ماہین ۔۔۔پل پل تمہیں دیکھنے کے لئے تڑپ کر رویا ہوں”
دل نے دوسرے دل سے سرگوشی میں آنکھوں کے رستے کہا تھا۔
ماہین اس اقرار پر نظريں جھکا گئی تھی۔
وہاں دل ہوتا تو کوئی جواب سفیر کو بھی سنائی دیتا .۔۔۔وہ مکان جو سفیر کی ملكيت تھا وہ تو کب سے ویرانیوں کو بیچ دیا گیا تھا۔
“ابراھیم بیٹا مجھے سفیر کی خوشبو آرہی ہے جا کر دیکھو ۔۔۔وہ ضرور آس پاس ہی ہے”
خالدہ بيگم دسترخوان پر بیٹھی تسبیح کے دانے گھوماتی ہوئی روتے ہوۓ بولی تھیں۔
“امی ۔۔۔۔”
سفیر نے ان کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوۓ کہا تھا ۔وہ اپنے ہاتھوں سے اس کا چہرہ دیکھنے کی سعی کر رہی تھیں۔وہ بیٹے کی آواز سن کر دیوانی سی ہو گئی تھیں۔
وہ اسے سینے سے لگا کر جی بھر کر روئی تھیں۔
“تیرا باپ چلا گیا تم میرے ساتھ تھے تو پرواہ ہی نہیں ہوئی مجھے مگر تمہاری جدائی پر مجھے صبر نہیں آیا تھا سفیر بیٹا ۔۔۔۔میری آنکھیں ۔۔۔۔۔میری آنکھیں تمہاری تلاش میں میرا ساتھ چھوڑ کر چلی گئی بیٹا ۔۔ میں ۔۔۔میں تمہیں دیکھ نہیں سکتی ۔۔۔”
وہ اس بات پر شدت سے دوبارہ رو دی تھیں۔
“امی میں آپ کی آنکھیں واپس لے کر آؤں گا ۔۔۔۔مجھے اس قيد کے بدلے اتنی دولت ملی ہے کہ آپ کی سات نسليں بھی کھا سکتی ہیں،میں فلق انڈسٹریز کا مالک بن گیا ہوں”
“میں نے خود کو کھو کر یہ دولت پائی ہے امی،آپ کا سفیر مانو مر ہی گیا تھا”
وہ ماں کا ماتھا چوم کر بولا تھا۔
“اب میں اپنی ماں کی آنکھیں ضرور ٹھیک کروں گا چاہے مجھے کسی بھی ملک لے کر جانا پڑے”
وہ ان کی جھریاں زدہ آنکھیں چوم کر کہہ رہا تھا۔
“بیٹا ۔۔۔۔وقت بہت ظالم چیز ہے ۔۔۔۔ہمیں آنے والی خوشیوں کی قیمت پیشگی چکانی پڑتی ہے،یہی زندگی کی تلخ حقیقت ہے،انسان اپنی قسمت اور تقدیر سے نہیں لڑ سکتا،مگر اب تم اب آ گئے ہو نا شکر الحمدللّٰه۔۔۔۔”
اب کوئی نہیں روۓ گا بس بہت ہوگیا اب ہم سب خوشی خوشی رہیں گے”
وہ مسکراتی ہوئی اپنے دونوں بیٹوں کو سینے سے لگا کر کہہ رہی تھیں۔
“یہ منظر کتنا مکمل ہے ۔۔۔میرے بغیر بھی؟؟”
ماہین کھڑی ان تینوں کو اس طرح بغل گیر دیکھ کر سوچ رہی تھی۔
“ماہین تم جلدی سے کھانا لگاؤ،بھائی آپ جلدی سے نہا دھو لیں،پھر کھانا کھاتے ہیں”
ابراھیم چہک کر بولا تھا۔
ماہین کچن میں چلی آئی تھی جبکہ سفیر ابراھیم کی ضد پر اس کا استری شدہ جوڑا لے کر صحن میں آیا تھا۔
وہ غسل خانے جانے سے پہلے ماہین کے پاس کچن میں آیا تھا۔
“کیسی ہو ماہین؟؟؟؟؟”
اس کے الفاظ اضطراب لئے ہوۓ تھے۔
“ٹھیک ہوں”
وہ سالن گرم کرنے کے لئے چولہہ جلاتی ہوئی مصروف سی بولی تھی۔
“تم نظریں کیوں نہیں ملا رہی مجھ سے ؟؟؟؟اور جو میں نے دیکھا وہ سب کیا تھا؟؟؟”
وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر برہمی سے بولا تھا۔اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔وہ چپ چاپ اس کی آنکھوں میں اس کا سچ کھوج رہی تھی جس سے اسے ناامیدی ہوئی تھی کیوں وہاں اس گناہ کو کے لے کر کسی بھی قسم کی شرمندگی یا ڈر نہیں تھا۔الٹا اسے وہ بارش ۔۔۔وہ رات یاد آئی تھی جو اس نے صریحأ گناہ میں کاٹی تھی۔وہ اس احساس گناہ کے یاد آنے پر نظريں جھکا گئی تھی۔
“چھوڑو مجھے”
وہ اسے پیچھے کو کرتی ہوئی بولی تھی۔
“تم ۔۔۔تم ۔۔۔میری ماہین تو نہیں ہو؟؟؟؟؟کیا ہوا ہے ایسا یہاں میرے جانے کے بعد ؟؟؟؟؟”
وہ چلایا تھا جس پر ابراھیم بھی باہر آ گیا تھا۔
“بھائی ۔۔۔۔۔۔یہ واقعی آپ كی ماہین نہیں رہی اب ۔۔۔یہ میری بیوی ہے،کب کیا کیسے ساری باتیں ہوں گی آپ فریش ہو جایئں۔آرام سے کھانا کھاتے ہیں اس کے بعد”
وہ خوشگوار لہجے میں بولا تھا۔سفیر کے پیروں سے گویا زمین سرک گئی تھی۔وہ دونوں کو حیرانگی اور پریشانی سے دیکھتا ہوا بے جان قدموں غسل خانے
جا گھسا تھا۔
شاور کھول کر وہ پھوٹ پھوٹ کر کسی بچے کی طرح کافی دیر روتا رہا تھا۔
تھوڑا دل ہلکا ہوا تو وہ نہا کر باہر آیا تھا۔کھانے کے دوران ابراھیم مختلف ہنسی مذاق كی باتوں سے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرتا رہا تھا۔مگر سفیر کسی بھی بات پر زبردستی بھی مسکرا نہیں پایا تھا۔جبکہ ماہین کسی چور کی طرح بیٹھی اسے مسلسل نظر انداز کر رہی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد وہ سب کافی دیر خالدہ بيگم کے پاس ببیٹھے رہے۔سفیر الف سے ے تک ساری کہانی ان سب کے گوش گزار کردی تھی۔
اس نے بتایا کہ فلق کی موت کے بعد وہ مريم خاتون کے ساتھ سارا دن جانوروں كی دیکھ بھال کرتا اور رات کو تهكن سے چور سو جایا کرتا اس کی ضرورت کی ہر چیز بنا مانگے ہی مريم خاتون کسی ماں كی طرح منگوا کر اس کے کمرے میں رکھ دیا کرتی۔وہ اہم تہواروں میں گھر والوں کے ساتھ کے لئے اکثر بے بسی سے رویا کرتا وہ یہ بتاتے ہوۓ بھی ایک بار پھر شدت سے رو دیا تھا۔جس پر سب نے اسے چپ کروانے کی بجاۓ رو کر اپنا دل ہلکا کیا تھا۔
پھر خالدہ بيگم نے اپنی طرف کی کہانی شروع کی تھی۔
“بیٹا طلعت بیٹی کے لئے بہت پریشان تھی بس مجھے اس کا دکھ بانٹنا پڑا اور میں نے ماہين کو اپنی بہو بنا لیا،تمہاری ماں بہت مجبور تھی۔تم بس اپنے زندہ ہونےکا تھوڑا سا اشارہ بھی دے دیتے تو میں یہ نا کرتی کیوں کہ ماہین تو تمہارے نام پر پوری زندگی بیٹھنے کو تیار تھی”
خالدہ بيگم کی اس بات سے ماہین کا دل کیا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دھنس جائے۔
“ابراھیم مجھے نیند آ رہی ہے،میں سونے جا رہی ہوں”
وہ کہہ کر اٹھی تھی۔وہ جو روز اسے اپنی بانہوں میں ہزار محبت کی باتوں سے سلاتا تھا آج اسے جانے کی اجازت دیتا ہوا فقط سر ہلاگیا تھا۔
وہ ایک نظر ابراھیم پر ڈال کر جاتے ہوۓ سفیر کو دیکھتی اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔
خالدہ بيگم کے سونے کے بعد وہ دونوں بھائی چھت پرآۓ تھے۔
“بھائی آپ نے سب نیچے بتا دیا مگر کچھ باتیں شاید آپ چھپا گئے ہیں؟؟؟”
ابراھیم چھت کے پردے پر ہاتھ رکھ کر سفیر کو دیکھتا ہوا بولا تھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے ابراھیم ۔۔۔۔”
وہ لمبی سانس لیتا آہستے سے بولا تھا۔
ابراھیم اب اپنی جيب سے موبائل نکال کر وہ ویڈیو چلا رہا تھا جو فلق نے بنائی تھی۔
“بھائی یہ ماہین کو کیوں بھیجی آپ نے ؟؟؟”
وہ موبائل سفیر کے آگے کر کے حیران سا پوچھ رہا تھا۔
وہ ویڈیو دیکھ کر سفیر اپنا سر پکڑ کر رہ گیا تھا اسے وہ سب کسی فلم کی طرح یاد آیا تھا۔وہ نیچے بیٹھ گیا تھا موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔
“آپ ٹھیک ہیں بھائی ؟؟؟”
ابراھیم نے جلدی سے سفیر کو سہارہ دے کر اٹھایا تھا۔
“ابراھیم ۔۔۔۔یہ ۔۔۔سب ؟؟؟؟اسی وجہ سے ماہین نے تم سے شادی کرلی؟؟؟وہ کیسے ایسا کر سکتی تھی میرے ساتھ؟؟؟فلق نے مجھے نشہ آور دوائی دی تھی ۔۔۔مجھے اس میں ۔۔۔۔ما ۔۔۔۔۔۔ہ ۔۔۔۔ی ۔۔۔۔۔ن ۔۔۔۔۔نظر ۔۔۔۔”
وہ ابراھیم کی بیوی ہونے کی وجہ سے اب اپنے دل کا حال بتانے سے جھجھکا تھا۔وہ جملہ نامکمل چھوڑ گیا تھا۔
“بھائی ماہین نے جب تک یہ ویڈیو نہیں دیکھی تھی وہ آپ کی بیوہ بن کر رہتی رہی،مگر دیکھ لینے کے بعد ۔۔۔۔۔اسے سمنبهالنا بہت مشکل ہوگیا تھا”
وہ سچائی سے بولا تھا۔
“میں سونا چاہتا ہوں کل آفس ہے بہت کام ہے”
سفیر اتنا کہہ کر بوجھل قدموں نیچے آ گیا تھا۔
وہ اسی کمرے میں لیٹی ہوئی تھی جہاں وہ اس کی بیوی بن کر رہتی۔ابراھیم اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر چکا تھا۔سفیر کافی دیر تک اس بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔کرب سے اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔
“اللّه یہ کیسی آزمائش ہے؟؟؟؟؟”
وہ شکستہ قدم چلتا ہوا ماں کے ساتھ والی چارپائی پر لیٹ گیا تھا۔خلاف توقع نیند اس پر بہت جلد مہربان ہو گئی تھی۔
“ماہین ۔۔۔۔؟؟؟”
ابراھیم سونے کی ایکٹنگ کرتی ہوئی ماہین کے ساتھ لیٹ کر آہستہ سے بولا تھا۔مگر کوئی جواب نہیں آیا تھا۔
ابراھیم کافی دیر سفیر بھائی کی دلی کیفیت کو سوچ سوچ کر شرمندہ ہو رہا تھا۔اس کا دل کر رہا تھا وہ ابھی ابھی ماہین کو جگا کر وہ سچ بتا کر ان کو محبت میں غداری کے مقدمے میں باعزت بری قرار دے دے مگر وہ خاموش رہا۔۔۔
“اگر ماہین نے انھیں معاف کردیا اور مجھے چھوڑ کر واپس بھائی کے پاس جانا چاہا تو ؟؟؟؟؟میں کیا کروں گا ؟؟؟؟”
یہ وہ سوال تھا جس نے اس کی زبان روک دی تھی۔وہ ساری رات کروٹوں میں کاٹتا کب سویا پھر پتہ ہی نہیں چلا۔
صبح ابراھیم کا آفس تھا ماہین ناشتہ بنا کر اس کی منتظر بیٹھی تھی۔سفیر جو کہ مريم خاتون کے ساتھ جانوروں کو صبح صادق اٹھ کر دیکھتا تھا وہ بھی نماز پڑھ کر اندر ماں کے ساتھ ہی بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔
“بھائی آپ بھی آجائیں ناشتہ کرتے ہیں”
ابراھیم تیار ہو کر اب خالدہ بيگم کے کمرے میں ماں کے پير دباتے ہوۓ بیٹھے سفیر کو کہہ رہا تھا۔
“نہیں میں نے امی کو معدے والی دوائی دی ہے امی کہہ رہی ہیں اس کے آدھ گھنٹے بعد ناشتہ کرتی ہوں،میں ان کے ساتھ ہی کروں گا تم کرلو”
وہ محبت سے بولا تھا۔ابراھیم مسکرا کر ماہین کے ساتھ آ بیٹھا تھا۔
ابراھیم آج روز کی طرح ماہین پر فدا نہیں ہو رہا تھا وہ خاموشی سے ناشتہ کررہا تھا۔ماہین بھی چپ کا روزہ رکھے بس چاۓ پی رہی تھی۔
وہ اسے دروازے تک چھوڑ کر اب اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی تھی۔
آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد سفیر بنا اس سے کہے خود ہی کچن سے ناشتہ لینے آیا تھا وہ اسے دیکھ کر فورا کمرے سے باہر آئی تھی۔
“میں بس اٹھنے ہی والی تھی۔آپ دونوں کو ناشتہ دینے کے لئے”
وہ اس کے ہاتھ سے کپ لے کر شرمندہ سی بولی تھی۔
وہ چپ چاپ بس اسے دیکھ رہا تھا۔وہ اس کی آنکھوں کی تپش خود پر محسوس کرتی پزل سی ہوئی تھی۔چاۓ کا کپ بھرتے ہوۓ گرم چاۓ اس کے ہاتھ پر گر کر اس کا ہاتھ جلا گئی تھی۔وہ درد سے سی کرتی تڑپی تھی۔
سفیر جلدی سے آگے بڑھا تھا وہ اس کا ہاتھ تھام کر ٹھنڈے پانی سے دھونا چاہتا تھا مگر وہ اپنے ہاتھ اس کے پاس ہو کر بھی خلا میں چھوڑ کر اپنا سر نفی میں ہلا کر اسے بے بس سا دیکھ رہا تھا۔وہ دو قدم آگے آیا تھا مگر اب وہ پانچ قدم پیچھے کھڑا ہوا تھا۔
“سفیر بے وفا نہیں ہو سکتا ماہین”
ماہین کے دل نے آج ایک عرصے بعد اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا۔
“میں نے اپنی محبت کھو دی،میں نے تمہیں کھو دیا سفیر”
وہ بری طرح رو دی تھی۔
“لگتا ہے ہاتھ زیادہ جل گیا ہے تمہارا ماہین ,میں ٹھنڈا پانی لاتا ہوں”
وہ اسے تکلیف میں روتا دیکھ کر فریج سے ٹھنڈی بوتل نکال لایا تھا۔جس سے اب وہ اس کے ہاتھ پر پانی گرا رہا تھا۔وہ سفیر کی اس مہربانی پر اور شدت سے رونے لگی تھی۔
اسے اس روتی ماہین میں اپنی بچپن والی ماہین نظر آئی تھی۔وہ بے اختیار مسکرا دیا تھا۔
“زیادہ مسلہ ہے تو میں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں تمہیں یار پلیز رونا بند کرو،چلو اپنی چادر اڑھ کر آؤ،اپنی گاڑی ہے میرے پاس”
وہ بوتل اس کے ہاتھ پر خالی کرکے اب پریشانی سے بولا تھا۔
“سفیر بہت درد ہو رہا ہے مجھے،مگر یہاں”
وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتی ہچکیوں سے روتے ہوۓ بولی تھی۔
سفیر نے لمبی سانس کھینچ کر آہ بھری تھی۔
“اب وقت گزر گیا ماہین ۔۔۔تم میری فطرت سے اچھی طرح واقف تھی پھر بھی تم نے میرا انتظار نہیں کیا؟؟؟؟فلق نے مجھے ۔۔۔”
اس سے پہلے کہ سفیر اپنی صفائی میں کچھ کہتا ابراھیم جو اپنی فائل گھر بھول گیا تھا وہ دروازے سے اندر آیا تھا۔ماہین کو یوں تڑپ کر بھیگے چہرے کے ساتھ کھڑا حسرت سے سفیر کو دیکھتے دیکھ کر اس کا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔ماہین کو کھونے کا ڈر شدت سے اسے گھیرے ہوۓ تھا۔
“ماہین؟؟؟”
وہ جلدی سے اندر آکر اس کی طرف بڑھا تھا۔
“ابراھیم ۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ ہاتھ ۔۔۔۔۔”
وہ اپنا ہاتھ آگے کرکے دیکھانے لگی تھی جو ایک طرف سے سارا سرخ ہوگیا تھا۔
“کتنی بار کہا ہے خیال رکھا کرو اپنا میرے لئے جان”
وہ اس کو اپنے حصار میں لے کر اندر لے گیا تھا۔اب وہ بيڈ پر بیٹھی تھی اور ابراھیم اس کے قدموں میں بیٹھا اس کے ہاتھ پر برنول لگا رہاتھا۔
ابراھیم کو اس طرح ماہین پر حق جتاتا ہوا دیکھ کر سفیر کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔
“یا اللّه تیری قدرت ۔۔۔۔۔۔میں بہت مشکل میں ہوں ۔۔۔میں نے زندگی میں اگر کسی کو خونی رشتوں کے علاوہ جی جان سے چاہا تھا تو وہ ماہین تھی ۔۔۔۔اب وہ میرے ہی گھر میں میرے بھائی کی بیوی بن کر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہے ۔۔۔کہاں سے اتنی برداشت لے کر آؤں؟؟؟؟؟یا اللّه میری مدد کر ۔۔۔”
“میں تو حق سے اپنی تکلیف پر رو بھی نہیں سکتا ۔۔۔اپنے دل کا حال نہ اپنی ماں کو بتا سکتا ہوں نا ہی اپنے دوست جیسے بھائی کو ۔۔۔”
وہ بے بسی کی انتہاہ لئے ہوۓ تھا۔
“سفیر بیٹا کہاں رہ گئے ہو ناشتہ لے آؤ نا”
ماں کی آواز اس تکلیف کے لمحات میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر سنائی دی تھی۔وہ آنسو صاف کرکے اب ناشتے کی ٹرے بنا رہا تھا۔
“ابراھیم کی جان آج گھر کا کوئی بھی غیر ضروری کام نہیں کرے گی ہاتھ کو آج ریسٹ دے گی اوکے ؟؟؟”
وہ ماہین کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں محبت سے تھامے محبت کے سمندر میں غوطہ ظن تھا۔
“کھانا تو بنانا ہے ابراھیم سفیر کیا کہے گا،اسے تو یہی لگے گا میں جان بوج کر کام چھوڑ کر بیٹھ گئی ہوں”
محبت کے ان لمحات میں سفیر کے ذکر پر ابراھیم کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
“تم بس میرا سوچا کرو ماہین ۔۔۔۔۔کھانا میں ان کو کہہ دوں گا آج کا باہر سے لے آئے گے وہ،باقی وہ ایسا نہیں سوچے گے یہ تم بھی جانتی ہو”
ابراھیم ماہین کو پرسکون کر کے اب اپنی فائل لے کر آفس چلا گیا تھا۔
سفیر نے خالدہ بيگم کے ساتھ ناشتہ کیا۔اور برتن کچن میں رکھ کر وہ اندر لیٹی ماہین کے پاس دروازہ میں آیا تھا۔
“ٹھیک ہو اب ؟؟”
وہ نارمل انداز میں پوچھ رہا تھا۔
“ٹھیک نہیں ہوں میں سفیر،میں نے بہت غلط کیا ہے ہم سب کے ساتھ،اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا”
وہ بهرائی آواز میں بولی تھی۔
“مجھے لگا تھا جب تم سامنے آؤ گے میں ۔۔۔۔میں تمہیں معاف نہیں کروں گی ۔۔ مگر جب سے تم واپس آۓ ہو میرا دل تو تمہاری سچ کی گواہی دیتا نہیں تهک رہا،میں آج بھی تم سے بے پناہ محبت کرتی ہوں سفیر،وہ محبت تمہیں دیکھ کر ایک لمحے میں میرے دل پر پھر سے پورے حق سےقابض ہو گئی ہے،دل کی ہر دھڑکن تمہارا نام لے رہی ہے،تمہارا ساتھ چاہتی ہے ۔۔۔۔۔تمہاری محرم بن کر،میں بہت مجبور ہوں”
وہ روتے ہوۓ بولی تھی۔
“ابراھیم بہت محبت کرتا ہے تم سے ماہین میں نے دیکھا ہے ابھی”
وہ بھاری ہوتی آواز میں بولا تھا۔
“ہاں مگر میں تمھارے بعد محبت کا مطلب بھی بھول چکی۔۔۔
ماہین کی باتیں سن کر سفیر بہت زیادہ پریشان ہوا تھا۔
وہ اپنی محبت چھن جانے پر دلبرداشتہ ضرور تھا مگر وہ اب اسے نہیں پانا چاہتا تھا اور ابراھیم کی محبت ماہین کے لئے دیکھ لینے کے بعد تو کسی صورت بھی نہیں ۔۔۔
“میں امی کو کسی اچھے ہسپتال لے کر جانا چاہتا ہوں،ان کو گھر چھوڑ کر پھر آفس جاؤں گا تم پلیز ان کو تیار کردوگی ؟؟؟”
وہ بات بدل کر بولا تھا۔
“ہاں ۔۔۔میں ۔۔۔کر ۔۔دیتی ۔۔ہوں “
وہ خلاف توقع جواب سن کر رک رک کر بولی تھی۔
۔***********
“بیٹا چونکہ سفیر اپنا سارا بزنس خود ہی دیکھتا تھا لہذا اس کے جانے کے بعد اس فیکٹری کے ساتھ کام کرنے والے وہ لوگ جو اسے آرڈر دیتے تھے اس سے الگ ہو گئے۔مال تو آ چکا ہے گودام بھرا پڑا ہے۔مگر آرڈر دینے کے لئے ابھی تک کوئی بھی نہیں آیا۔سب جانتے ہیں سفیر کا کوئی بیٹا نہیں تھا جو اس کا وارث بن کر اس کے کام کو اچھے سے دیکھ کر آگے بڑھاۓ”
اشفاق صاحب سفیر کے بہت قريبی دوست پریشانی سے گویا ہوۓ تھے۔
“بیٹی بھی تو وارث ہوا کرتی ہے انکل،لوگ میرے وجود کو نظر انداز کیسے کر سکتے ہیں؟؟؟”
“اگر نسل بیٹے سی ہی آگے بڑھتی تو ہمارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا تو کوئی بیٹا حیات نہیں۔۔۔ پھر آج تک ان کا نام کیوں لیا جاتا ہے ؟؟؟ان کی بیٹی کی وجہ سے ہی نا ؟؟؟؟”
“میں یہ ثابت کردوں گی کہ میں ہی ان کا وارث بننے کے قابل ہوں”
دعا جوش میں بھی اپنی آواز مدھم رکھ کر بولی تھی۔
“ٹھیک ہے بیٹا،ہمت مرداں،مدد خدا،یہ ان تمام کمپنیز کی فائل ہے جن سے بات کر کے ان کے مطمئین ہونے کے بعد ان سے آرڈر مل سکتا ہے،آپ یہ دیکھ لیں”
اشفاق صاحب فائل دعا کو تهما کر بولے تھے۔
“میں آج ہی اس پر کام شروع کرتی ہوں”
“ذمان انڈسٹریز”
وہ لسٹ میں موجود پہلا نام ٹک کرتی كيب منگوا کر اس میں بیٹھ گئی تھی۔لوکیشن بتا کر اب وہ ایک ڈائیری پر اپنے الفاظ کو ترتیب دینے لگی تھی جن پوانٹس پر اسے بات کر کے ان کو قائل کرنا تھا۔
لگ بھگ ایک گھنٹے بعد وہ ایک آفس کے باہر کھڑی تھی۔
وہ اپنا تعارف دے کر اور آنے کا مقصد بتا کر ویٹنگ ایریا میں بیٹھا دی گئی تھی۔
وہ صبح کے دس بجے یہاں آئی تھی اور اب شام کے چار بجنے کو تھے ابھی تک اسے اندر نہیں بلایا گیا تھا۔
آخر تنگ آ کر وہ ریسپشن پر موجود لڑکی کے پاس آئی تھی جو خود بھی بس جانے کی تیاری میں تھی۔
“میں دس بجے کی سر سے بات کرنے کی منتظر ہوں،مگر چھٹی کا وقت آ گیا ہے،اندر کوئی ہے بھی ؟؟؟”
وہ پریشانی اور ذلت کے ملے جلے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
“جی سر بھی موجود ہیں اور ان کے صاحبزادے بھی وہ جو آپ کے اوپر کیمرہ لگا ہے نا وہ وہاں سے آپ کو دیکھ بھی رہے ہیں تب سے،کیوں نہیں بلايا اس بات کا جواب تو وہ ہی دے سکتے ہیں،اچھا میں چلتی ہوں”
وہ لڑکی بس پرس اٹھا کر جانے کو تھی کہ کاؤنٹر پر پڑے فون کی رنگ ہوئی تھی۔
“آپ کو اندر بلايا ہے”
وہ فون کان سے لگا کر بولی تھی۔
دعا خوشی سے خود کو کمپوز کرتی ہوئی اندر گئی تھی۔
“کیا میں اندر آجاؤں؟؟”
وہ دروازے میں کھڑی معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔
“جی بلکل”
اندر دو لوگ تھے ایک جوان اور دوسرا سفیر صاحب کی عمر کا مطلب دعا کے مرحوم والد کی عمر کا۔جوان نے دعا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔
“میں دعا سفیر انڈسٹری سے آئی ہوں یہ آپ دیکھ لیں اس میں ہماری فیکٹری میں بننے والی تمام چیزوں کی وضاحت موجود ہے”
وہ پر اعتماد انداز سے فائل پکڑاتی ہوئی بولی تھی۔
فائل پکڑتے ہوۓ اس جوان لڑکے نے جان بوج کر دعا کا ہاتھ ہلکا سا پکڑ کر چھوڑا تھا۔وہ فائل رکھ کر شیطانی مسکراہٹ لئے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ہمیں آپ کے ساتھ کام کرنے میں بہت دلچسپی ہو رہی ہے مس دعا”
اس لڑکے کا باپ بیٹے کو دیکھ کر قہقہ لگا کر بولا تھا۔
اس بات سے دعا کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے۔
“میں چلتی ہوں”
وہ فائل ٹیبل پر ہی چھوڑ کر جانے کے لئے تیزی سے باہر کو بھاگی تھی۔
ان دونوں کا بھیانک قہقہ باہر تک اس کا تعاقب کررہا تھا۔
وہ تب تک بھاگتی رہی جب تک وہ روڈ پر نہیں پوھنچی تھی۔
وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
“سفیر کا کوئی بیٹا،کوئی وارث نہیں ہے”
اشفاق صاحب کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
“دعا تم میرا بیٹا ہو”
سفیر صاحب کی آواز اس کا حوصلہ بنی تھی۔
وہ روتے روتے مسکرا دی تھی۔
“میں ۔۔۔۔میں ہمت نہیں ہاروں گی ابو،میں آپ کا یہ کاروبار چلا کر دیکھاؤں گی،میں آپ کا بیٹا بن کر دیکھاؤں گی”
وہ آنسو صاف کرتی ہوئی اب كيب منگوا رہی تھی۔
