Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 1
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 1
وہ سٹریٹنر سے اپنے کندهوں تک آتے ہوۓ سلكی گولڈن بال سٹریٹ کرتی ہنوز بائیک کے ہارن کی طرف متوجہ تھی اس کا پورا دھیان فلحال دروازے کی طرف تھا۔
اپنی لمبی لمبی پلکوں سے مُزیّن ہیزل آنکھوں پر وہ مسكارے کی ڈبل کوٹینگ کرکے اب اپنے خوبصورت ہونٹوں پر ہلکا سا گلوس لگا کر آپس میں جوڑ کر خود پر آخری تنقیدی نظر ڈال کر دوپٹہ دائیں کندھے پر لٹکا کر بال دونوں طرف سے پھیلا کر، ماتھے پر بھنووں کو چھوتے بال ٹھیک کر کے نیچے آئی تھی۔اب ٹہل رہی تھی۔
اب اس نے بے چینی سے ٹیبل پر رکھا موبائل اٹھایا اور میسج ٹائپ کرنے لگی۔
“کب آؤ گے یار صبح سے سوکھ کر کانٹا ہو گئی ہوں تمہارے انتظار میں؟؟؟؟؟”
وہ میسج لکھ کر سینڈ کا بٹن دبانے والی تھی جب دروازے پر بائیک کھڑی ہونے کی آواز سے وہ خوشی سے موبائل ٹیبل پر رکھ کر بھاگ کر دروازہ کھولنے آئی تھی۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی ساری خوشی پر پانی پھر گیا تھا۔
“ابراھیم ؟؟؟تم ؟؟؟”
وہ خود کو بیزاری سے بولنے سے روک نہیں پائی تھی۔جبکہ ابراھیم ماہین کو اتنا سجا سنورا دیکھ کر اس میں کھو سا گیا تھا۔
“کیا مطلب ؟؟؟اندر تو آنے دو یار ۔۔۔پیچھے ہٹو خالہ کدھر ہیں؟؟”
وہ آگے سے پیچھے ہٹی تھی،ابراھیم بائیک لے کر اندر آیا تھا۔اب وہ بائیک کے ساتھ لٹکا سامان اتار کر کچن میں آیا تھا۔
“امی ۔۔۔امی تو نہیں ہیں گھر پر ۔۔۔تم ادھر کیسے آ گئے ؟؟میرا مطلب ہے ۔۔۔۔تم نے بتایا نہیں تھا ۔۔۔ورنہ میں امی کو گھر پر روک لیتی”
وہ اب اپنے کھلے بال کیچر میں قيد کرتی ہوئی بے زار سی بولی تھی۔
“یار بس ایز سَچ کوئی پروگرام نہیں تھا بس تِکے کھانے اور بنانے کا موڈ بنا تو سوچا ابھی میرینیٹ کرلیتا ہوں شام میں جب سب ہونگے تب بنا لیں گے”
“تم زرا یہ گوشت تو دھو دو پلیز اور ادرک لہسن کا پیسٹ بھی بنا دو”
وہ مصروف سا گوشت شاپر سے پرات میں ڈالتا ہوا بولا تھا۔ماہین کا غصہ آسمان کو پہنچا تھا۔
رہ رہ کر اسے اپنی تیاری پر افسوس اور سفیر پر غصہ آیا تھا۔اس نے بے دلی سے گوشت دھویا اور اب وہ ادرک لہسن کا پیسٹ بنانے لگی۔
ابراھیم اس دوران دھلے ہوۓ گوشت میں کانٹے سے پنچنگ کر رہا تھا جب دروازہ پر دوبارہ بائیک کھڑی ہونے کی آواز آئی تھی۔دروازہ چونکہ کھلا تھا سفیر فوراً سے اندر آیا تھا۔
وہ کچن میں ماہین کے ساتھ ابراھیم کو کھڑا دیکھ کر تھوڑا حیران ضرور ہوا تھا۔
“ارے واہ ۔۔۔بھائی آپ بھی ادھر ؟؟؟اب سمجھ آئی مجھے ان محترمہ کی اتنی تیاری کی وجہ ۔۔۔ همممم ۔۔۔۔امی اور خالہ جان سے بات کرنے ہی پڑے گی”
وہ شرارت سے بولا تھا جس سے سفیر کا رنگ اڑا تھا جبکہ ماہین شرماکر اوپر گئی تھی۔
“میں آتا ہوں یار ناراض ہو گئی ہے شاید،خالہ آئے تو ہینڈل کرلینا پلیز”
سفیر کہہ کر رکا نہیں تھا۔
“بس دس منٹ تک ہوں میں ادھر سفیر بھائی مجھے کام ہے”
ابراھیم گوشت میں ادرک لہسن کا پیسٹ ہاتھ سے مكس کرتا ہوا بلند آواز سے بولا تھا۔
“اب کیوں آئے ہو جاؤ میں نہیں بولتی تم سے،اور اس کو کیوں بھیجا ہے جب پتہ بھی تھا آج میں تمہارے لئے خاص طور تیار ہوئی ہوں اور گھر پر اکیلی ہوں؟؟؟”
ماہین چھت پر بنے برآمدے میں بیٹھی سفیر سے ناراض ہو کر بولی تھی ۔
“یار میں نے نہیں بھیجا ابراھیم کو،یہ تو گھر سے کام پر گیا تھا اب ادھر ہے میں ادھر آتا نا تو مجھے تو یہ معلوم ہی نہیں پڑتا،اور میں آفس میں تھا بڑی مشکل سے تھوڑی دیر کی چھٹی لے کر آیا ہوں،تم اب اس طرح تو مت منہ موڑو نا”
سفیر خلوص سے ماہین کا ہاتھ پکڑ کر بولا تھا
“اچھا ۔۔۔۔اچھا ۔۔۔بتاؤ کیسی لگ رہی ہوں ؟؟؟”
وہ بال کیچر سے آزاد کرتی آگے دونوں طرف پھیلا کر بولی تھی۔
سفیر مدہوش سا چہرے پر مسکراہٹ لئے ، بنا کوئی جواب دیئے فقط اسے دیکھ رہا تھا جس پر وہ جی جان سے خوش ہوئی تھی ۔وہ کسی کلی کی طرح کھل اٹھی تھی۔وہ سفیر کی نظروں میں جھلکتی ستائش بھانپ چکی تھی مگر پھر بھی وہ اس کے الفاظ کی منتظر تھی۔
“کچھ کہو بھی سفیر۔۔۔۔۔جلدی کرو امی بس آتی ہی ہونگی”
وہ ادا سے دوپٹہ ٹھیک کرتی بولی تھی۔
“جان لو گی کیا میری ؟؟؟”
وہ ایک دم سنجیده سا اس کے قریب ہوا تھا۔
“یہ طوطا مینا کا کھیل اپنی ذمہ داری پر کھیلو تم دونوں میں جا رہا ہوں”
نیچے سے آتی ابراھیم کی آواز نے سفیر کا خمار توڑا تھا۔
اچھا چلتا ہوں میں ماہین بس باس میری پروموشن کر دے چار پیسے آتے ہیں تو کرتا ہوں بات امی سے بس اب اور تم سے دور نہیں رہا جاتا”
سفیر نے ماہین کو محبت سے لبریز آواز میں کہا تھا ۔
“میں سچ میں جا رہا ہوں،کوئی مذاق نا سمجھے،اور یہ میں نے بائیک سٹارٹ کردی”
ابراھیم دروازہ میں کھڑا ایک بار پھر چلا کر بولا تھا۔
“بس میں آ رہا ہوں یار”
سفیر ماہین کو نظر بھر کر دیکھ کر نیچے چلا گیا تھا۔ماہین بھی اس کے پیچھے پیچھے دروازہ تک آئی تھی۔جہاں جانے کی دھمکی دیتا ابراھیم اب بھی کھڑا تھا۔
“تم ابھی تک ادھر ہی ہو ابراھیم ؟؟
ماہین دروازے میں کھڑی ہو کر بولی تھی۔
“مجھے بھیجنے کی بڑی جلدی تهی جناب کو ہاااااااااااااں ؟؟
اور بھائی کو تو چھٹی ہی نہیں دے رہی تھی تم ۔۔۔”
ابراھیم نے نظریں چرا کر مذاق مذاق میں شکایت کی تھی۔
“ہاں نا ۔۔۔۔تم سفیر تو نہیں ہو سکتے نا ۔۔۔۔۔سفیر تو ۔۔۔۔۔”
وہ سفیر کو دیکھ کر شرما کر بولی تھی۔
“کرتا ہوں میں بندوبست تم دونوں کا بس گھر چلا جاؤں آج”
ابراھیم نے قہقہ لگا کر دونوں کو دیکھ کر کہا تھا۔
“میں تو یہی چاہتی ہوں کہ میرا بندوبست بس جلدی سے ہو جائے ۔۔۔۔کیوں سفیر ؟”
ماہین نے مسلسل اپنے چھوٹے بھائی ابراھیم کی باتوں سے محظوظ ہوتے سفیر کو مخاطب کیا تھا۔
“یار قسم سے تم بڑی ہی بے شرم ہو”
ابراھیم نے قہقہ لگا کر بائیک چلا دی۔
“رات کو آؤں گا امی اور ابراھیم کے ساتھ،تكا پارٹی کرنے،تم ایسے ہی تیار ملنا مجھے”
سفیر نے ایک نظر ماہین پر ڈالی اور پھر بائیک سٹارٹ کردی۔
ماہین نے دروازہ بند کیا اور جلدی سے کپڑے بدل کر اب وہ کچن سمیٹ رہی تھی جو ابراھیم اچھا خاصا پھیلا گیا تھا۔
۔******”**”***
“ماہین بیٹا ابراھیم آتا ہے تو دو بوتلیں بھی منگوا لو تکوں کے ساتھ اچھی لگے گی،ہاضمہ بھی ہو جائے گا”
ماہین کی ماں طلعت بيگم چھت پر کوئلے سلگاتی ہوئی ماہین سے بولی تھیں جو کب سے موبائل سے چپکی بیٹھی تھی۔
“سن بھی رہی ہو کہ نہیں؟؟؟”
“ہاں اماں سفیر بھی آرہا ہے ساتھ اس کو کہہ دیتی ہوں،وہ لے آئے گا”
وہ مصروف سی بولی تھی۔اتنے میں دروازہ پر دستک ہوئی تھی وہ جلدی سے نیچے آئی تھی۔سفیر اور اس کی امی خالدہ خالہ اندر آئے تھے۔
“السلام علیکم خالہ”
ماہین نے خالدہ کو جهپی ڈال کر خوب محبت جتائی تھی۔ وہ تینوں اوپر آگئے تھے۔اب سفیر کوئلے سلگانے میں طلعت خالہ کی مدد کر رہا تھا۔
“میرا ابراھیم کیوں نہیں آیا اتنے دن ہو گئے اسے دیکھے ہوۓ ۔۔۔۔”
طلعت نے خالدہ سے پوچھا تھا۔
وہ بس آتا ہی ہوگا۔موبائل میں کسی سے بات کے رہا تھا کہہ رہا تھا آپ لوگ چلو میں آتا ہوں۔
“ماہین اس سے بوتلیں بھی منگوالو اب باہر ہے تو آتے ہوۓ لے آئے گا”
طلعت نے ہنوز موبائل میں مصروف ماہین سے کہا تھا جو میسج پر سفیر سے اپنی تعریف نا کرنے پر شکایتی میسج لکھ رہی تھی ۔
“بندہ بول نہیں سکتا تو نظروں سے بھی تو کر سکتا ہے نا تعریف،اتنی محنت سے تیار ہوئی تھی میں”
ماہین نے لکھ کر سینڈ کا بٹن دبایا ہی تھا کہ دروازے پر بائیک کا ہارن سنائی دیا تھا۔وہ سفیر جو اب اس کے میسج کا جواب لکھ رہا تھا اس پر نظر ڈال کر نیچے آئی تھی۔اس نے لا پروائی سے دروازہ کھولا تھا۔وہ اب بھی موبائل کو ہی دیکھ رہی تھی۔جہاں سفیر اب سوری بول کر اسے منا رہا تھا۔جس سے ماہین کے چہرے پر ایک دم سے مسکراہٹ آئی تھی پھر اس نے سامنے بائیک پر بیٹھے ابراھیم کی طرف نظر اٹھائی تھی جو دروازے میں کھڑا دنیا جہان سے بے خبر اسے دیکھ رہا تھا۔اس کے ہونٹ خاموش تھے مگر اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر اس کے حسن کی گواہی دے رہی تھیں۔وہ بنا پلک جهپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔ماہین نے گھبرا کر اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور اسے اندر آنے کا کہہ کر وہ خود جلدی سے اوپر چلی آئی۔
“میں ایسی ہی تعریف تو چاہتی تھی ۔۔۔۔۔”
وہ مسکرائی تھی۔
پھر اس نے معصومیت سے گتے سے کوئلوں کو ہوا دیتے سفیر کو دیکھا تھا۔وہ ایک دم سنجیده ہوئی تھی۔
“مگر سفیر سے ۔۔۔ابراھیم سے نہیں ۔۔۔”
اس نے اپنی ادھوری سوچ کو مکمل کیا تھا۔
