Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 9
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 9
“میں ماہین سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں امی”
سفیر خالدہ بيگم کی طرف دیکھ کر بولا تھا۔جنہوں نے اثبات میں سر ہلا کر ابراھیم اور فلق کو اپنے ساتھ باہر جانے کا اشارہ کیا تھا۔
“ماہین فلق سر سعید کی سائیکو بیٹی ہے دو بار حال میں ہی خود کو ختم کرنے کی کوشش کر چکی ہے اپنے والدین سے کچھ وجوہات کی بناپر بہت متنفر اور باغی ہے میں نے دو دن ہمدردی سے بات كی تو میرے کہنے پر دوائی کھانے لگی ہے،جو ڈرگز لیتی تھی وہ بھی اب نہیں لے رہی۔میرے بارے میں پوچھا میں نے تمہارا بتایا تو ضد کرنے لگی کہ میری ہونے والی بیوی سے وہ ملنا چاہتی ہے،ادھر شادی کی گہماگہمی چل رہی تھی جو کہ اس کی ذہنی حالت پر اچھا اثر ڈالتی،میں محض انسانی ہمدردی کے تحت اسے یہاں لے آیا اگر میرے دل میں کچھ ایسا ویسا ہوتا تو میں پورے خاندان کے سامنے اسے نا لے کر آتا بلکہ باہر سارا معملہ رکھتا،اور میں نے تمہیں فون بھی کیا تھا پہلے سے سب بتانے کے لئے مگر تم اپنی ہواؤں میں تھی میری بات سنی ہی نہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ماہین ؟؟؟”
وہ ایک ہی ربط میں بولتا چلا گیا۔
“سوال یہ ہے کہ وہ پاگل محترمہ پلس امیر زادی تمھارے کہنے میں کیونکر دوائی کھا رہی ہیں؟؟؟اور اپر سے سونے پر سوہاگہ تمہیں بھی اس سے ہمدردی ہے واہ ۔۔۔۔ کیا لو سٹوری ہے۔ ۔۔۔۔”
وہ سفیر کا گريبان پکڑ کر لال آنکھوں سے بد تمیزی سے بولی تھی۔
“یار تم اب بات کو گھوما رہی ہو مگر بات اتنی ہی ہے جو میں بتا چکا ہوں”
سفیر اب چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔
“اس كی دولت کیا دیکھ لی میری محبت بھول گئے ہو تم ؟؟؟آخر کہاں کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ چیخی تھی۔سفیر نے تکلیف سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“تم ۔۔۔تم اسی لئے کبھی میرے پاس نہیں آۓ کیوں کہ وجہ اس کا ميسر ہونا تھا ہیں نا ؟؟؟؟؟ورنہ کون خوبصورت محبوبہ کا ساتھ جھٹلاتا ہے ؟؟؟؟کتنی بار لیٹی ہے وہ تمہارے ساتھ سفیر اب تو بتا ہی دو؟؟؟؟”
وہ ایک بار پھر زخمی شیرنی کی طرح اس کا گريبان پکڑ کر بولی تھی۔جس پر سفیر نے کھینچ کر اس کے منہ پر تهپڑ دھرا تھا اور ساتھ ہی اسے گلے سے لگالیا تھا۔
“سفیر میں تمہیں بانٹ نہیں سکتی میں کیا کروں میرا دل نہیں مان رہا تمہاری کسی بھی بات پر میں کیسے یقین دلاؤں خود کو ؟؟؟میں بہت تکلیف میں ہوں سفیر،میری درد کی دوا کروپلیز ورنہ میرا سانس بند ہو جائے گا”
اب اس کی سانس پھولنے لگی تھی۔وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔سفیر کا کندھا وہ اپنے آنسوؤں سے بگھو چکی تھی۔سفیر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اسے کیسے مطمین کرے۔
اتنے میں دروازے سے کسی کے اندر آنے کی آہٹ پر سفیر نے ماہین کو خود سے الگ کیا تھا اس کا سموکی میک اپ بہہ بہہ کر اس کا پورا منہ سیاہ کر چکا تھا۔
“ماہین میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں”
فلق ابراھیم کے ساتھ اندر آئی تھی۔جس کا ماہین نے کوئی بھی جواب نہیں دیا تھا۔
“سفیر ڈیڈ کے ورکر ہیں اور میرے محسن اس سے زیادہ ہمارے بیچ کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔تم بہت خوش نصیب ہو جو تمہیں سفیر جیسا پیار کرنے والا مخلص انسان ملا ہوا ہے ۔۔۔یہ بات کتنی اہم ہے یہ مجھ سے پوچھو جو اس بھری دنیا میں،ایسا کوئی نہیں جو مجھ سے اس طرح سے محبت کرے سچ پوچھو تو میں ارب پتی ہو کر بھی تمہارے سامنے خالی ہاتھ محسوس کر رہی ہوں خود کو،ہاں اتنا ضرور بتاتی چلوں اگر یہ تم سے محبت نہ کرتا تو میں ضرور اسے تم سے چھین لیتی”
فلق نے بے بسی سے کہا تھا اب اس کی باڈی لینگویج اس کی ذہنی خرابی کا پتہ دینے لگی تھی۔
“فلق تم نے دوائی کھائی ہے رات والی؟؟؟”
سفیر اس ڈر سے کہ یہ مزيد معملہ خراب نا کردے فورا اس کے پاس ہو کر پوچھ رہا تھا۔
“چلو ابراھیم ان کو پرائیوسی چاہیے ہوگی”
ماہین ابراھیم کو مخاطب کرتی ہوئی باہر نکل رہی تھی۔
“نہیں ماہین، بھائی ایسے نہیں ہیں تم اب غلط کر رہی ہو”
ابراھیم کی آواز نے ماہین کے جاتے ہوۓ قدم روک دیے تھے۔
“ماہین کیسے یقین کروگی یار ؟؟؟”
سفیر اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا۔
“قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہو یہ سب ؟؟؟”
ماہین اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی۔
“ہاں ۔۔۔مگر میں ایسا کروں گا نہیں،میں تمہارے ذہن کے شیطانی سوچ اور خناس کے لئے اس پاک کتاب کی بے حرمتی نہیں کروں گا،باقی تمہیں جو سوچنا ہے سوچو میں مزيد کوئی صفائی نہیں دوں گا،چلو فلق تمہیں گھر چھوڑ آؤں”
سفیر اتنا کہہ کر باہر آ گیا تھا۔وہ اپنے سے پنک دوپٹہ نکال کر ادھر ہی پھینک گیا تھا۔ماہین حیرانگی سے منہ کھولے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
“چلو منہ ہاتھ دھو کر پھر سے تیار ہو جاؤ ماہین غلطی تمہاری ہے اب بھائی جیسے ہی آتے ہیں ان کو نارمل ہو کر ملنا”
ابراھیم کہہ کر باہر آ گیا تھا جبکہ ماہین پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کو جاتا دیکھ کر اب ہیجانی کیفیت سے رونے لگی تھی۔اتنے میں خالدہ اور طلعت اندر آئی تھیں۔
انھیں ابراھیم نے اندر بھیجا تھا۔
“دیکھو بیٹا تم ہی میری بہو بنوگی میں اپنے سفیر کو جانتی ہوں وہ سب ہوسکتا ہے مگر غدار نہیں ہو سکتا وہ،بہت چھوٹا سا تھا وہ تب سے وہ گھر کی ذمہ داری اٹھاۓ ہوۓ ہے آج تک اس نے جب ایک روپے کی بھی کبھی ہیرا پھیری نہیں کی تو وہ تمہارے ساتھ اتنا غلط کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟خود پر سبق پڑھو شیطان کو مت خوش کرو”
خالدہ بيگم روتی ہوئی ماہین کو گلے لگا کر نرمی سے کہہ رہی تھیں۔
“اب اس كی ترقی بھی ہو گئی ہے میں جلد ہی اپر والا پورشن بنوانا شروع کرتی ہوں بس پھر تمہاری اور سفیر کی شادی کروا دوں گی تب تک میری بیٹی تم سفیر کے ساتھ ٹھیک ہی رہو ،ٹھیک ہے ؟؟؟
انداز سمجھانے والا تھا جس پر ماہین نے اپنے آنسو صاف کر لئے تھے۔وہ منہ ہاتھ دھو کر لائٹ سا میک اپ کر کے ان کے ساتھ ہی باہر آ چکی تھی جہاں احمد کی مہندی كی رسم شروع ہو چکی تھی۔
دوسری طرف سفیر فلق کو گاڑی میں لے کر نکل گیا تھا اسے فلق اور ماہین دونوں پر ہی شدید غصہ تھا۔
“سفیر تم مجھے رہنے دیتے وہاں میں دو دن بعد آ جاتی”
وہ منمنائی تھی۔
“تم نے کہا تھا ماہین سے مل لینے کے بعد تم اپنے موم ڈیڈ کے پاس ہی رہوگی یاد ہے اپنے الفاظ ؟؟؟”
وہ اس کے بات بلکل نظر انداز کر کے گاڑی کو ریس دے کر بولا تھا۔
“ہاں ۔۔۔مگر سفیر”
“اگر مگر کچھ نہیں میں تمہیں ادھر ہی چھوڑنے جا رہا ہوں”
وہ دو ٹوک لہجے میں بولا تھا ۔وہ خاموش تھی جس کا مطلب ہاں تھا۔
سفیر نے سعید صاحب کو کال پر فلق کا بتا دیا تھا جسے سن کر وہ پھولے نہیں سماۓ تھے۔وہ دونوں میاں بیوی گیٹ پر ہی فلق کے استقبال کے لئے موجود تھے۔
“سر ابھی گھر جا رہا ہوں اس وقت مجھے کوئی سنواری ملنا مشکل ہوگی لہذا گاڑی لے کر جا رہا ہوں کل آفس لے کر آجاؤں گا تو چابی بھی دے دوں گا”
سفیر نے گاڑی کو سٹارٹ چھوڑ کر باہر نکل کر کہا تھا۔
“نہیں بیٹا یہ تو اب آپ كی ہوئی آفس کی طرف سے اسے اپنا گفٹ ہی سمجھو،آج آپ نے جو کیا ہے میرا بس چلے تو میں آپ کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنا دوں”
فلق ماں اور باپ دونوں سے بہت محبت سے ملی تھی۔جو سعید صاحب کو خوشی سے دیوانہ کر رہا تھا۔
“نہیں سر اس کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔میری بائیک مجھے میری اوقات بھولنے نہیں دیتی میں اسی میں بہت خوش ہوں الله حافظ”
سفیر کہہ کر رکا نہیں تھا۔وہ گھر نہیں گیا تھا ماہین کی باتوں نے اسے بہت ذہنی اذیت دی تھی وہ اس کی سوچ کی پستگی کی حد جان کر بہت دلبرداشتہ ہوا تھا اسے ماہین سے اتنی گھٹیا سوچ کی قطأ امید نہیں تھی۔وہ ساری رات سڑکوں کی خاک چھانتا رہا موبائل وہ گھر سے نکل کر آف کر چکا تھا لہذا اس طرف سے سکون تھا۔
بادل زور سے گرجے تھے اور ساتھ ہی بارش کی نهنی بوندیں ہر طرف گرنے لگی تھیں وہ گاڑی کے اندر آ کر بیٹھ گیا تھا بارش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی اس نے وقت دیکھا جو رات کے دو بتا رہا تھا۔اس نے ریڈیو آن کیا تو اس پر موسم کی مناسبت سے گانا چل رہا تھا۔
“بارش کی چند بوندیں میرے دل کو ڈوبوۓ جایئں ۔۔۔۔
کسی کی آنے کی خوشی میرے دل کو ڈوبوے جاۓ۔۔۔
۔۔۔۔”
وہ گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا وہ آہستہ رفتار کیے گھر کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔
گھرپوھنچا تو احمد کا گھر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا اور اپنے گھر پر تالا لگا تھا وہ جانتا تھا نیچے اس کے کمرے کی کھڑکی باہر سے بھی کھل جاتی ہے وہ اس کھڑکی سے اندر داخل ہوا کپڑے تبدیل کیے اور سو گیا بارش سے موسم ویسے بھی کافی خوشگوار ہو چکا تھا نیند اس پر بہت جلد ہی مہربان ہوئی تھی۔
صبح اس کی آنکھ باہر کا دروازہ کھلنے پر کھلی تھی جہاں سے ابراھیم اور خالدہ بيگم اندر داخل ہوۓ تھے۔
“امی بھائی نے کدھر رات گزاری ہوگی؟؟؟اپر سے ماہین الگ ساری رات جاگی ہے اب بخار میں تپ رہی ہے،ساری شادی کی ماں بہن ہو گئی ہے،آخر جب بھائی کو پتہ ہے ما ہین کی عادت کا تو کیوں لاۓ وہ اس امیر زادی کو،ہمارے پورے گھر کو الٹا کر گئی ہے وہ”
وہ برآمدے میں پڑی چارپائی پر بیٹھ کر پریشان سا گویا ہوا تھا۔
“انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے ابراھیم”
سفیر کمرے سے ہی بولا تھا ۔جس پر وہ دونوں اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے تھے۔
“آپ یہاں مست سوتے رہے ساری رات اور ہم سب الو کی ڈیوٹی دیتے رہے واہ بھائی کمال کر دیا آپ نے تو”
ابراھیم نے سفیر کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
“رات تین بجے آیا ہوں گھر یار کدھر سویا رہا ہوں ساری رات”
وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھ گیا تھا۔
“کم از کم مجھ سے تو کر لیتے آپ بھائی بات میں نے لاسٹ کال ابھی دس منٹ پہلے کی ہے آپ کو ساری رات موبائل ہاتھ میں اور آپ کا نمبر ڈائل میں”
ابراھیم نے ناراضگی سے کہا تھا۔
“میں جانتا تھا فون آن رکھوں گا تو آنے والی ہر کال اس شکی مزاج لڑکی کی ہوگی نمبر چاہے گھر میں سے کسی کا بھی ہو”
سفیر نے برہمی سے کہا تھا۔
“تو ایسا بھی کیا ہوگیا بھائی محبت میں شراکت کون برداشت کرتا ہے ؟؟؟”
ابراھیم نے صاف ماہین کی سائیڈ لی تھی۔
“اگر میرا کردار اس كی نظر میں اتنا ہی ہلکا ہے کہ محض میرے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھتے ہی اسے وہ اپنی رقیب لگنے لگتی ہے تو پھر ساری عمر ہمارا گزارا کیسے ہوگا امی ؟؟؟”
“شک تو رشتہ دیمک کی طرح چاٹ لیا کرتا ہے”
وہ مزيد بولا تھا۔
“ہاں بیٹا مگر میں نے اس کا بھی حل سوچ لیا ہے آج احمد کی بیوی کو لے آنے کے بعد تمہارا اور ماہین کا نکاح کرنے کا ارادہ ہے میرا تا کہ کم از کم اس کے ذہن سے یہ وہم نکل جائے کہ تم فلق کی دولت دیکھ کر اسے ٹھکرا دوگے”
خالدہ بيگم دوٹوک لہجے میں بولی تھیں۔
“امی یہ مسلے کا حل نہیں ہے میں نہیں کروں گا نکاح،زندگی شرائط پر نہیں گزرا کرتی،زندگی محبت کے بغیر تو گزر سکتی ہے مگر جہاں میاں بیوی میں اعتبار نا ہو وہ رشتے اکثر حتمی اور انتہائی قدم پر آ کر ختم ہو جاتے ہیں اور میں ہر گز بھی اس طرح نکاح نہیں کرنے والا”
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیاتھا۔
“مگر بیٹا وہ بخار میں تپ رہی ہے اگر نکاح نہیں کروگے تو وہ ٹھیک کیسے ہوگی؟؟؟محبت نہیں کرتے کیا تم اس سے ؟؟؟”
خالدہ بيگم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بیٹھا دیا تھا۔
“امی محبت کرتا ہوں تبھی اس طرح بلیک میل ہو کر نکاح نہیں کر رہا،جب میرے نیت اور محبت آج بھی شفاف ہے پھر یہ مجبوری کا نکاح کیوں کروں ؟؟؟؟”
“میں اسے دل کی خوشی کے ساتھ مان کے ساتھ اپنانا چاہتا ہوں پھر آپ لوگ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی کو اس طرح مجبوری کا نام کیوں دینا چاھتے ہیں؟؟؟اور پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نکاح کے بعد اس کو مجھ پرکبھی شک نہیں ہوگا ؟؟؟”
سفیر کے لہجے میں دکھ اور تکلیف واضح تھی۔
“بیٹا نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے شیطان بیچ میں سے نکل جاتا ہے،میرے دل کہہ رہا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا اس کے بعد تم بس نکاح کے لئے آج تیار رہو”
خالدہ بيگم اپنا فیصلہ سنا کر اٹھ چکی تھیں۔
“ٹھیک ہے امی مگر میں بتا رہا ہوں اگر نکاح کے بعد بھی وہ ہی سب ہوا جو کل ہوا تھا تو میں چپ چاپ سب چھوڑ چھاڑ کر غائب ہو جاؤں گا کوئی صفائی نہیں دوں گا آپ کی بہو کو،میرے غیرت اور ضمیر یہ گوارہ نہیں کرتا کہ میں اس کے گندے الزامات کا جواب دیتا پھیروں”
“الزام تراشی پر جس طرح عورت خود کو مظلوم کہلوانے لگتی ہیں اسی طرح مرد کو بھی یہ ہلا کر رکھ دیتی ہے،کل باتیں سنی تھیں آپ نے محترمہ كی؟؟؟”
سفیر پھٹ پڑا تھا۔
“مجھے معاف کردو سفیر ۔۔۔۔۔”
ماہین جو دروازے میں کھڑی سب سن چکی تھی وہ بهرائی آواز میں بولی تھی۔اس کی رنگت ایک ہی رات میں ڈل ہو چکی تھی۔وہ صدیوں کی بیمار لگنے لگی تھی۔
“کیا کہا تھا کل تم نے میں فلق کے ساتھ کتنی بار لیٹا ہوں؟؟؟بتاؤں ابھی ؟؟؟؟”
سفیر کا رنگ غصے سے لال ہو گیا تھا۔
“امی کھڑی ہیں بھائی ان کا ہی لحاظ کر لیں یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں”
ابراھیم نے سفیر کو ٹھنڈہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
“تم خود بتاؤ اب جو بات کسی بڑے کے سامنے منہ سے نکالنے والی نہیں ہے یہ کل محض فلق کو میرے ساتھ کھڑا دیکھ کر منہ پھاڑ کر فرما رہی تھیں مجھے تب کیسا لگا ہوگا؟؟؟؟ساری رات مجھے اپنی کم مائینگی پر رونا آیا ہے ساری رات اس تکلیف نے مجھے سونے نہیں دیا کہ میں جو اس کے لئے اتنا کچھ سوچتا ہوں بدلے میں یہ اتنی سی بات پر مجھ سے اتنی بدظن کیسے ہو سکتی ہے ؟؟؟”
سفیر گرتے ہوۓ بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔
“اب تم پر کبھی شک نہیں کروں گی سفیر تم بس نکاح کرلو مجھ سے میں تسلی میں ہو جاؤں گی”
ماہین نے روتے ہوۓ کہا تھا۔
“امی اگر ایسا ہی ہے تو مجھے نکاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے،میں سر سعید کی گاڑی آفس میں کھڑی کرنے اور وہاں سے اپنی بائیک لینے جاؤں گا ابھی ناشتہ کرنے کے بعد،باقی میں آیندہ ایسی باتیں برداشت نہیں کروں گا چور بن کر زندگی نہیں گزار سکتا میں”
وہ ایک نظر ماہین پر ڈال کر غسل خانے چلا گیا تھا۔
“چلو چپ کرو ماہین اب رونا بند کرو،ابراھیم تم ایسا کرو بائیک باہر نکالو اور ماہین کو لے جاؤ اسے اس کی پسند کا نکاح کا جوڑا دلوادو،میں سفیر کے لئے ناشتہ بناتی ہوں،اور ہاں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لیتے جانا”
خالدہ بيگم کہہ کر کچن میں جانے کو تھیں جب سفیر باہر نکلا تھا۔
“امی آپ اس کو اس کے گھر چھوڑ آئیں،ناشتہ رہنے دیں میں باہر سے کرلوں گا آپ ابراھیم کے ساتھ خود جا کر پسند کر لا ۓ جوڑا اس کو پيناڈول دے کر سونے کا کہیں،تا کہ اس کی طبیعت بحال ہو سکے”
وہ تولیے سے بال خشک کرتا مصروف سا بولا تھا۔
“جب تک تم مجھ سے پہلے کی طرح نارمل ہو کر بات نہیں کرتے میں سو نہیں سکتی سفیر”
وہ التجائی لہجے میں نظریں جھکا کر بولی تھی۔
سفیر بنا کچھ کہے اندر چلا گیا تھا جب تک وہ چینج کر کے باہر آیا ابراھیم نہانے گھس گیا تھا جبکہ خالدہ بيگم کچن میں مصروف ہو گئی تھیں۔اور ماہین ابھی تک اسی طرح بے بس سی اداس اسی جگہ پر ساکن کھڑی تھی۔
“سفیر کی جان دوائی کھا کر سو جاؤ،مجھے اپنی دلہن بیمار نہیں چاہیے”
وہ اس کے بہت پاس ہو کر اس کے کان میں سرگوشی سے بولا تھا۔
“میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں سفیر،میرا بس چلے تو میں ہوا کو بھی تمہارے پاس بھٹکنے نا دوں”
وہ ایک بار پھر سفیر کا ہاتھ پکڑ کر رو دی تھی۔
“ماہین اگر کبھی دنیا کا ہر الزام مجھ پر ثابت ہو جائے یقین کر لینا مگر غداری کا الزام ان میں سے نکال دینا اس کا یقین کبھی مت کرنا”
“یہ تو ریاضی کے اصول کو بھی بدل دیتی ہے جس میں دو میں سے ایک نکال دیا جائے تو ایک بچتا ہے مگر محبت میں دو میں سے ایک نکل جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا”
(خلیل الرحمان)
وہ دھیمے سے ماہین کا ہاتھ دبا کر باہر چلا گیا تھا اور وہ آنسو پونچھتی مسکرا دی تھی۔
