Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar by Jameela Nawab Readelle 50370 Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 15
Rate this Novel
Muhabat Se Ghadari Tak Ka Safar Episode 15
آج فلق کے انتقال کو چار دن ہو گئے تھے۔سفیر کو کفن دفن میں بھی شامل نہیں کیا گیا تھا وہ تب سے واپس اس تہہ خانے میں بھیج دیا گیا تھا جو ایک پرآسائش قيد خانہ تھا۔
اس دوران بہت مختصر وقت کے لئے مريم خاتون اسے چھپتی چھپاتی کھانے دینے آئی تھیں۔وہ لمحات اتنے قليل ہوتے کہ کسی بھی قسم كی بات چیت ممکن نہیں ہوئی تھی۔سفیر کسی سے بات کرنے کے لئے ترس رہا تھا ۔اسے فلق کی موت کا دل سے افسوس ہوا تھا۔
“کاش ماہین میری زندگی میں نا ہوتی فلق ۔۔۔۔۔میں تمہارے ماضی کے ساتھ ہی تمہیں دل سے قبول کر کے سدھرنے کا موقع اور وجہ ضرور دے دیتا ۔۔۔۔۔میں کبھی بھی ایک انسان ہو کر تمہیں تمہاری نا دانیوں کے لئے قصور وار ہونے کا طعنہ نا دیتا ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔ میں انسان رہ کر تمہیں انسان ہی سمجھ کر معاف کر دیتا ۔۔۔۔نا خود کو خدا بناتا جو بیشک ہر گناہ ہر عیب سے بالاتر ہے نا ہی تمہیں فرشتہ سمجھ کر ان غلطیوں پر ٹھکراتا ۔۔۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔۔تم مجھ سے محبت نا کرتی فلق ۔۔۔۔۔”
وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگاۓ نیچے فرش پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتا خود كلامی میں بول رہا تھا۔
“چلو دل پر کسی کا زور نہیں میں یہ بھی مانتا ہوں ۔۔۔۔مگر تم مجھے حاصل کرنے کی ضد میں پڑ کر اس طرح خود کو منوں مٹی تلے نا سلاتی ۔۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔۔تم ایک بار اپنے باپ ۔ ۔۔اپنی ماں کا بھی سوچتی ۔۔۔۔کاش تم ایک بار فقط ایک بار میرا بھی سوچتی ۔۔۔۔اب تمہارا قاتل کہلوانے کا بوجھ میں ساری عمر اپنے ان ناتواں کندھوں پر کیسے اٹھاؤں گا؟؟؟؟؟”
وہ اب رو دیا تھا۔
“خدا جانتا ہے میں نے کبھی تم سے نفرت نہیں کی تھی اور محبت کرنا میرے بس میں نہیں تھی ۔۔۔۔۔میں کیسے بتاؤں تمہیں فلق ؟؟؟؟؟؟؟”
“وہ لڑکی جیسے میں نے خود کشی سے دور کر کے جینے کی امید دلائی تھی اس نے میری ہی وجہ سے خود کو ختم کر لیا ۔۔۔یا اللّه ۔۔۔۔۔۔میں کدھر جاؤں ؟؟؟؟؟میرے دل کو سکون کیسے آے گا ؟؟؟؟؟”
وہ چیخ چیخ کر یہ جملہ دوہراتا ہوا کمرے میں موجود ہر چیز یہاں وہاں پھینک رہا تھا۔
“میں۔۔۔۔اس قيد سے نکل میں جاؤں تو اپنی ضمیر کی قيد سے کبھی نہیں نکل سکوں گا”
“فلق ؟؟؟؟؟؟کاش تم مجھے جیتے جی نا مارتی ۔۔۔”
“تم میری قاتلہ ہو ۔۔۔۔میں اپنا قتل تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔
“محبت تو دینے کا نام ہے،عزت کا نام ہے،جس کے نام پر تم نے مجھ سے میرا گھر ۔۔۔میرا سب ۔۔۔میری اپنی ذات تک چھين لی ۔۔۔۔۔”
وہ اسی کیفیت میں اجڑی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔
سعید صاحب مريم خاتون کے ساتھ اندر داخل ہوۓ تھے۔
“کیسا لگ رہا ہے ایک باپ کی گود اجاڑ کر سفیر ؟؟؟؟؟؟”
وہ آہستہ سے کرب میں گویا ہوۓ تھے۔
سفیر نے نم آنکھوں سے سعید صاحب کو دیکھا تھا جو بربادی کی جيتی جاگتی تصویر بن چکے تھے۔
وہ جو ڈیلی شیو کر کے اپنا چہرہ چمکا کر رکھتے تھے۔اب تین دن کے نکلے بال ان کو میلا دیکھا رہے تھے۔وہ سادی شلوار قمیض میں بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔
“سر جو آپ کو لگا تھا ایک ماں سے اس کا واحد كفيل اپنی بیٹی کی تسكين کے لئے قيد کر کے،جو آپ کو لگا تھا ایک لڑکے سے اس کا باپ جیسا بھائی چھين کر اور جو آپ کو لگا تھا ایک يتيم لڑکی سے اس کا شوہر اس کا سہارا چھين کر،ہو بہو ویسا ہی لگ رہا ہے مجھے بھی”
وہ ترکی با تركی چلایا تھا ۔جس پر سعید صاحب نے مريم خاتون کو دیکھا تھا۔
“سفیر ؟؟؟”
“بس!!!!!!!”
“اب مزيد سفیر کی جان چھوڑ دیں آپ سر ۔۔۔۔خدا کے لئے،یہ میرے جڑے ہوۓ ہاتھ دیکھ لیں،آپ کو بھی معذرت کے ساتھ،کسی اچھے ڈاکٹر کو دیکھانے کی ضرورت ہے،میں مزيد آپ کے اس ذہنی بیماری کو نہیں سنمبهال سکتا،مجھے بخش دیں آپ”
وہ سختی سے اپنے دماغ پر ہاتھ مارتا ہوا کہہ رہا تھا۔
“میری بیٹی،میری فلق چلی گئی مجھے چھوڑ کر،اپنے باپ کو چھوڑ کر،صرف و صرف تمہاری وجہ سے سفیر،میں تم پر اس کے قتل کا چارج لگا کر پھانسی چڑھاؤں گا۔تم کیا سمجھے میری بیٹی کو قبر میں اتار کر تم اس ماہین کے ساتھ رنگ رلياں مناؤ گے ؟؟؟؟ہرگز نہیں ۔۔۔۔میں ابھی پولیس کو بلوا کر تمہیں جيل میں ساری عمر سڑنے کے لئے ڈالوں گا،تم ۔۔۔تم چکی پیسوں گے اور مجھے سکون ملے گا”
وہ اپنا ہاتھ دل پر رکھ کر تکلیف سے کراہتے ہوۓ بمشکل یہ سب بول رہے تھے۔
“جی شوق سے کریں فون،میری فیملی نے بھی میری گمشدگی کی رپورٹ تو درج کروا ہی رکھی ہوگی”
وہ پرسکون سا مسکرایا تھا۔
“اور ہاں وہ ڈاکٹر جس سے آپ کی مرحومہ بیٹی کا علاج چل رہا تھا،میں اس کی گواہی سے یہ بہت آسانی سے ثابت کردوں گا کہ وہ تیسری بار خود کشی کی کوشش بہت جلد کرنے والی تھی بس وہ میں ہی تھا جس کی وجہ اس نے وقت لیا ورنہ ڈاکٹر کے مطابق وہ اسی ہفتے میں خود کو ضرور نقصان پوہنچاچکی ہوتی”
آج سفیر سے پہلی بار سعید صاحب کو خوف محسوس ہوا تھا
“سائی ۔۔۔اجازت ہو تو میں کچھ عرض کروں؟
مريم خاتون نے خالص پنجابی میں ڈر در کر کہا تھا۔جس پر سعید صاحب نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
“یہ لڑکا بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے آپ اگر پولیس کو اس مسلے میں ملوث کریں گے تو اپنا ہی پیٹ ننگا کرنے والی بات ہوگی”(پنجابی)
“گھر سے شروع ہوئی بات کو گھر میں ہی ختم کر دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا سائی مجھ ان پڑھ کے حساب سے “
وہ رک رک کر اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتی ہوئی بولی تھی۔
“کیا مطلب مريم کہنا کیا چاہتی ہو تم ؟؟؟”
سعید صاحب نے اس کو گھورتے ہوۓ پوچھا تھا ۔
“وہ ۔۔۔ہماری بیٹی،فلق بی بی تو اب رہی نہیں ہیں تو ان کو ان کے گھر جانے دیں تا کہ یہ قصہ ختم ہو،سزا اور جزا کا فیصلہ کرتا تو وہ رب سونڑہ جو بادشاہ ہے وہ ہی اچھا لگتا ہے سائی،ہم مٹی کے کھیڈونے ایڈی وڈی وڈی بات کرتے چنگے نہیں لگتے”
وہ ادب کی آخری حد تک عاجزی سے بولی تھی۔
“نہیں ۔۔۔۔ہرگز نہیں ۔۔۔جاہل عورت تم کیا جانو اولاد کا دکھ کیا ہوتا ہے تم نے کبھی اس نعمت کو پایا ہو تو تمہیں اس کے چھن جانے کا درد پتہ چلے،بنی ہو کبھی ماں تم ؟؟؟تم تو سڈ کے لمس کو ساری عمر ترستی رہی ہو ماں کیا بنتی تم ہنہہ”
لائبہ جو ان دونوں کو تہہ خانے کی طرف ایک ساتھ جاتا دیکھ کر پیچھے آئی تھی لحاظ کا ہر بند توڑ کر وہ اپنی تعليم کا روب ڈالتی ہوئی بولی تھی۔
وہ سادہ لان کا جوڑا پہنے میک اپ کے بغیر بوڑھی لگ رہی تھی۔مسلسل شب بيداری سے اس کی آنکھوں کے نیچے پڑے سیاہ ہلکے,پيلی زرد رنگت جو فٹنس کے نام پر کھانا چھوڑنے سے اس کے چہرے پر مستقل ڈھیرے جما چکی تھی،وہ جھریوں زدہ وجود لئے صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔مريم خاتون اس کے آگے خود کو کیڑا مکوڑہ سمجھنے لگی تھی۔ جس کی وجہ ان کا ان پڑھ ہونا نہیں تھا بلکہ جس کی وجہ سعید صاحب کا اس پر سے لائبہ کو ترجیع دینا تھا۔بیشک مرد دو عورتوں میں فرق پیدا کر کے ان میں سے کم تر سے اس کا اعتماد اس کا حسن ۔۔۔اس کا وہ مان چھين لیتا ہے جو ہر عورت کی فطرت میں ڈالا گیا ہے اس کا تعلق خوبصورتی،تعلیم یا امیری سے نہیں ۔۔۔۔یہ تو ماده ہونے پر رب نے عورت کو نواز رکھا ہے ۔
“زبان سمنبهال کر بات کرو لائبہ،یہی تو غلطی ہوئی ہے مجھ سے میں نے تمہیں ماں بننے کا حق دیا،یہی حق میں نے مريم کو دیا ہوتا تو میری بیٹی میرا فخر بن کر میرے سامنے زندہ کھڑی ہوتی،یوں اس کی موت پر میں دنیا نے نظریں نا چراتا پھرتا”
سعید صاحب کے لہجے میں نيم کی کڑواہٹ اتر آئی تھی۔
“تم پر میں اپنی بیٹی کے قتل کا پرچہ کٹواؤں گی سڈ،تمہاری نالائقی سے میری فلق مری ہے”
وہ سعید صاحب پر جھپٹ کر گردن دباتی ہوئی چیخی تھی۔مريم خاتون نے اسے کھینچ کر سعید صاحب سے دور کیا تھا جو گردن دب جانے کی وجہ سے بری طرح کھانس رہے تھے۔
“ایک بات کہوں شہری بی بی،تم تو علم والی ہو،شوہر کو عزت،مان مریاده کیا ہوتی ہے مجھ گوار سے بہتر جانتی ہو پھر یہ سب ؟؟؟؟”
“میں سمجھتی تھی آپ پڑھی لکھی ہیں بہت عزت دیتی ہوں گی سائی جی کو، تبھی میرے پاس نہیں آتے،سچ پوچھوں تو بڑا ای افسوس ہوا ہے آج مجھے”
مريم خاتون کے الفاظ میں دکھ واضح تھا۔
“میں بس فلق کی وجہ سے تمہاری یہ بد تمیزیاں برداشت کرتا تھا لائبہ،اب تم اس طرح میرے ساتھ یہ سب نہیں کر سکتی”
سعید صاحب دل پکڑ کر کھڑے تکلیف میں بہت آہستہ آہستہ بول رہے تھے۔
“واہ ۔۔۔اب اس جاہل گوار بھینسوں والی کے لئے بوڑھے ارمان تو نہیں جاگ گئے سڈ ؟؟؟؟”
وہ زہرآلود لہجے میں بولی تھی۔
“افسوس لائبہ تمہاری خود سری تمہاری بیٹی وراثت میں ساتھ ہی لے گئی,نا تو تم میرا گھر بسا پائی اور نا ہی میرا دل،اباں جی ٹھیک کہا کرتے تھے عورت کی زبان کی نوک پر اس کا گھر ٹھہرا ہوتا ہے اگر وہ زیادہ زبان کو حرکت دیتی ہے تو اس کی نوک سے گھر گر کر چکنا چور ہو جاتا ہے ۔۔۔۔گھر بناۓ رکھنے کے لئے زبان کو قابو میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔بس بہت ہوگیا میں تمہیں فارغ کررہا ہوں بہت جلد میرا وکیل تمہیں کاغذ دے دے گا”
وہ کہہ کر بیٹھ گئے تھے۔
“مجھے بھی نہیں رہنا تمہارے ساتھ فلق ہوتی بھی تو میں بہت جلد تم سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی تھی”
وہ پھوں پھاں کرتی وہاں سے چلی گئی تھی۔سفیر بیٹھا ان ارب پتی لوگوں کی سستی اور دو کوڑی کی گفتگو تب سے خاموشی سے سن رہا تھا جہاں کسی بھی شے كی کمی نہیں تھی بلکہ افسوس یہاں تو زیادتی ہی زیادتی تھی اگر کمی تھی تو وہ احساس اور لحاظ کی تھی جو کسی گھر اور رشتے کی نیو(بنیاد) ہوا کرتا ہے۔
“میں مريم تمہیں یہ وصیت کرتا ہوں جب تک میں تمہیں اجازت نہیں دیتا یہ یہی قيد رہے گا،اگر تم نے اسے یہاں سے بھیجا تو میں تمہیں اسی وقت طلاق دے دوں گا”
یہ جملہ قیامت کی طرح مريم خاتون پر ٹوٹا تھا وہ تھر تھر کانپتی ہوئی بیٹھ گئی تھیں۔
سفیر ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
“کتنا فرق تھا ان دونوں عورتوں میں،ایک وہ جو طلاق کے نام پر مسکرا کر پير پٹخ کر چلی گئی تھی جبکہ ایک یہ تھی جس پر گویا
صور پھونکا جا چکا تھا۔
سعید صاحب اٹھ کر باہر جا چکے تھے۔
مريم خاتون پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔سفیر ان کے قدموں میں بیٹھا ان کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
“بیٹا مجھے معاف کر دینا،میں تمہاری آزادی کے لئے کچھ نہیں کر پائی”
وہ نظریں نہیں ملا رہی تھیں۔
“ماسی ۔۔۔۔ماسی بلا سکتا ہوں میں آپ کو؟؟؟”
وہ بنا اس کی طرف دیکھے روتی ہوئی سر کو جنبش دے کر ہاں بولی تھیں۔
“میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ آپ کی ساری عمر کی ریاضت میری وجہ سے رائیگاں چلی جائے،مجھے یہ قيد ہنس کر قبول ہے،میں آپ کو آپ کو اپنی ماں کا درجہ دوں گا،مجھے اپنا بیٹا بناے گی آپ ؟؟؟”
وہ بهرائی آواز میں مريم خاتون کی آنکھوں میں سکون کھوجتا ہوا پوچھ رہا تھا۔
“همممم۔ ۔۔۔۔۔۔”
وہ کہتی ہوئی سفیر کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر رو دی تھیں۔
“ویسے بھی ہم ایک جیسے ہی تو ہیں ماسی ۔۔۔۔مکمل سے ۔۔۔۔مگر ادھورے ادھورے سے ۔۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں ؟؟؟خوب گرزرے گی جب مل بیٹھے گے دیوانے دو”
سفیر کی بات سن کر مريم خاتون نے اس کے چہرے پر پیار کرتے ہوۓ اپنے دوپٹے سے اس کے آنسو صاف کیے تھے۔
“اوں ہوں ۔۔۔۔۔خوب گزرے گی جب مل بیٹھے گے ادھورے دو”
سفیر مريم خاتون کی گود میں سر رکھ کر ہچکیوں سے رو دیا تھا۔مريم خاتون سفیر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی خود بھی بری طرح رو رہی تھیں۔
دو ادھوری زندگیاں،دو ادھورے دل،دو ادھورے لوگ ۔۔۔۔رو دیے تھے۔۔۔۔
محبت کا زخم کبھی نہیں بھرا کرتا،گرزتا ہر لمحہ اسے گہرا کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔اور آخر وہ ناسور بن کر لا علاج بن جایا کرتا ہے ۔۔۔۔
جو لوگ ہماری نظر میں زندگی کے آخری حصے میں ہوتے ہیں کبھی ان سے ان کی محبت کے بارے میں پوچھ کر دیکھیں آپ کو ان کے دم توڑتی آنکھوں میں زندگی کی رمق نظر آنے لگے گی ۔۔۔۔۔ایک خوبصورت احساس ان کو سرشار کر دے گا ۔۔ ملنا نا ملنا تو نصیبوں کی بات ہے زندگی میں محبت کے لئے تو فقط ایک ایسے نام کا ہونا بھی نعمت ہے جیسے سوچ کر ۔۔۔جس کے ذکر پر ایک دم سے دھڑکن بے ترتیب ہو جایئں ۔۔۔۔لبوں پر مسكان آجائے ۔۔۔۔آنکھوں میں نمی ۔۔۔۔۔۔اسے کھونے کا زخم رسنا بھی تو نعمت ہے ۔۔۔اسے نا پانے کا حادثہ ۔۔۔۔ اسے پالیا ہوتا یہ سوال اکثر برستی بارش سے پوچھنا ۔۔۔۔رات کی تاریکی میں۔۔۔۔۔رات کی خاموشی میں ۔۔۔۔ خالی کمرے میں پهنكے کو دیکھ کر اس سوال کا جواب سوچنا بھی تو سکون ہے۔۔۔ ۔۔،محبت ۔۔۔ محبت ۔۔۔۔۔محبت ۔۔۔۔بس محبت۔۔۔۔۔
لفظ محبت کا مطلب پالینا ہی محبت ہے ۔۔۔۔
سنو ہمسفر
تمہارے معاملے میں
اناؤوں کا کوئی عمل دخل نہیں
تم،بس تم ہو
تمہیں سوچ کر دل میں
دور دور تک فقط محبت جنم لیتی ہے
شکایات مرنے لگتی ہیں
ضد ہجرت کر جاتی ہے
اور سکون کسی تناور درخت کی طرح
روح کے صحن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے
۔*************
“ماہین تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی اس ویڈیو کے بارے میں،میں یہ تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں”
ابراھیم لاش کی طرح لیٹی چھت کو دو دن سے تاکتی ہوئی ماہین کو نرمی سے کہہ رہا تھا۔
آنسو مسلسل بہنے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد نشان چھوڑ چکے تھے۔
“تم بولتی کیوں نہیں ہو ؟؟؟؟وعدہ کرو؟؟”
وہ اس پر جھک کر اس کا چہرہ اپنی طرف موڑ کر پوچھ رہا تھا۔
“یہ فلق ہی ہے نا ابراھیم ؟”
شکستہ لہجے میں سوال ہوا تھا اس کا گلا مسلسل چیخنے اور رونے کی وجہ سے بری طرح سے بیٹھا ہوا تھا۔
“نہیں اگر یہ فلق ہوتی تو وہ خود کشی نا کرتی”
ابراھیم اس کے پاس سے اٹھ کر سامنے کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا تھا۔وہ اس بات سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔اس نے حیرانگی سے ابراھیم کی طرف دیکھا تھا۔
“میں کل گیا تھا فلق انڈسٹریز سب بند تھا پتہ چلا سعید صاحب کی بیٹی نے خود کشی کر لی ہے”
وہ چہرے پر ہاتھ لے جا کر بالوں میں پھیرتا ہوا پریشانی سے بولا تھا۔
“پھر کون ہے یہ (گالی) جس پر سفیر اس طرح ٹوٹ رہا تھا؟؟؟؟؟؟!؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ بیٹھی آواز میں چیخی تھی۔
ابراھیم نے جلدی سے اٹھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“وہ جو بھی تھی کوئی وجہ ہوگی اس سب کی ورنہ تم تو جانتی ہو بھائی کو یار،اور اس طرح شور نا کرو امی کو ڈاکٹر نے بڑی مشکل سے دوائیوں کے زور پر ٹھیک کر کے گھر بھیجا ہے وہ بیٹے کے جانے کا صدمہ تو برداشت کر گئی ہیں یہ جھٹکا ان کی جان لے سکتا ہے”
وہ اسے سینے سے لگا کر نارمل لگا رہا تھا۔
“ابراھیم تم بھول رہے ہو تمہارا بھائی مرد ہے عورت نہیں ہے جو مجبوری میں وہ یہ سب کر گیا،میں اس کا خون چوس لوں گی تم اس کو واپس آنے دو”
وہ ابراھیم کا ہاتھ پیچھے کرتی بولی تھی۔
“کچھ بھی کر لینا مگر فلحال یہ اطمینان تو ہوا کہ بھائی زندہ ہیں”
وہ اسے نارمل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
“میرا خون جل رہا ہے اور تم کہہ رہے ہو یہ خوشی كی بات ہے کہ وہ زندہ ہے ؟؟؟؟؟کاش اس کی ڈیڈ باڈی کی تصویريں کوئی مجھے بھیج دیتا مجھے اتنا دکھ نا ہوتا ابراھیم ۔۔۔۔۔۔میں اس کے نکاح میں ہو کر بھی اس کی قربت کو ترستی رہی اور اس کے ساتھ وہ ۔۔۔۔”
اس حد تک چلا گیا ۔۔۔میں اب اسے اس کی اس مجبوری کے ڈھونگ کے ساتھ ہرگز قبول نہیں کروں گی۔۔۔”
وہ روتی رہی اور جو جو گالی اسے آتی تھی وہ سفیر اور اس انجان لڑکی کو بکتی رہی۔پھر کچھ سوچ کر وہ اٹھی اور دروازہ بند کر دیا۔ابراھیم اسے حیران پریشان دیکھ رہا تھا۔
“اگر تو تم چاھتے ہو کہ میں کسی کو یہ بات نا بتاؤں تو ابھی میرے ساتھ وہ ہی سب کرو جو سفیر نے کیا ہے میں جب تک اس کے ساتھ وہ ہی کر کے بدلہ نہیں لے لیتی مجھے سکون نہیں آۓ گا چلو اٹھو”
وہ دوپٹہ ایک طرف پھینک کر دونوں ہاتھوں سے آنسو صاف کرتی بولی تھی۔
“ہیں ؟؟؟بکواس مت کرو ماہین کیا سمجھ رکھا ہے مجھے تم نے ؟؟؟”
وہ دروازہے کی کنڈی کھولتا ہوا بولا تھا۔پھر اس نے دوپٹہ اٹھا کر اس کو اڑا دیا۔
“دیکھو میری بات سنو اگر بھائی نے یہ سب مرضی سے بھی کیا ہے تو اس کا مطلب یہ کہیں بھی نہیں نكلتا کہ تم بھی اپنی قبر بھاری کرو اور ساتھ ساتھ میری بھی،بھائی کو آلینے دو پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے،تب بھی تمہارا دل نہیں مانا تو تم بھائی سے الگ ہو جانا سمپل۔۔۔”
وہ اسے بیٹھا کر سمجھاتا ہوا بولا تھا۔
“نہیں ۔۔۔۔۔کہاں کمی تھی میری محبت میں ؟؟؟؟؟؟بتاؤ کہاں کمی تھی میں نکاح کے بعد کیا پہلے بھی اس پر کٹ مرنے کو تیار تھی پھر اسے یہ بھوک کیوں لگی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
“غدار ۔۔۔۔غدار ہے تمہارا بھائی ۔۔۔۔۔خلاء ۔۔۔اسے وہ درد ۔۔۔وہ اذیت کبھی نہیں دے سکتی جس سے میں گزر رہی ہوں ۔۔۔۔اب میرا مقصد فقط اسے یہ ۔۔ یہ والی اذیت دینا ہے جو میں ہر صورت دوں گی ۔۔۔چاہے اس کے لئے اللّه مجھے جہنم میں ڈالے ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔اسے سیخوں پر چڑھا کر کوئلوں پر بھی سيک دے دوں تو میرا دل ٹھنڈا نہیں ہوگا ابراھیم ۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔اذیت دینے کا بس یہی ایک واحد طریقہ ہے ۔۔۔”
اس سے پہلے کے ابراھیم کوئی جواب دیتا طلعت بيگم جو اپنے گھر جانے کی تیاری کر چکی تھیں ماہین کو بلانے کمرے میں آئی تھیں۔
ابراھیم نے ماہین کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔وہ خاموشی سے ماں کے ساتھ گھر چلی آئی تھی۔
