986.6K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Ishq (Last Episode)

Mera Ishq Novel By Irsa Rao


وہ سارا دن چپ رہتی گھر پر بیٹھی رہتی جسے ندا بیگم نے نوٹ کرلیا تھا
ندا بیگم کے کہنے پر وہ شہروز کے ساتھ مول آئی ہوئی تھی شہروز کی ضد پر اس نے تھوڑی بہت شاپنگ کی
اور گھر چلنے کا کہنے لگی تو وہ مول سے باہر آئے
وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے ہی والی تھی کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا اس نے پلٹ کر دیکھا
راہول کھڑااسے دیکھ رہا تھا
وہ خوفزدہ کھڑی تھی کہ شہروز کی نظر پڑی ان پر وہ گاڑی سے باہر نکلا
” راہول چھوڑو میرا ہاتھ ” پری اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی
” تو تم یہاں ہو کتنا ڈھونڈا ہم نے تمہیں تم فکر نہیں کرو شادی تو تم سے ہی کروں گا میں” راہول نے غصہ سے کہا
” چھوڑو مجھے” وہ چیخی
راہول اسے کھینچ کر لے جانے لگا کہ سامنے شہروز آگیا
“کہاں لے جارہے ہو اسے؟” شہروز سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا
“تم کون اور میرے راستے میں مت آؤ مشکل کھڑی ہوجائے گی تمہارے لیے” راہول نے دھمکی دی
” اچھا مشکل؟ ہممم کردو کھڑی Am ready”
شہروز نے اسی ٹون میں کہا
” اچھا تو تو مرنے کے لیے تیار ہے تو ٹھیک ہے” اتنا کہ کر اس نے گن نکال لی اور شہروز پر تان دی
” راہول یہ کیا کر رہے ہو تم” پری چلائی
“اس کو مرنے کا زیادہ شوق ہے نا تو۔۔۔” راہول کچھ کہ رہا تھا شہروز دو قدم پیچھے ہٹا اور مڑ گیا
“بس ڈر گئے اچھی بات ہے” راہول نے کہا
تبھی یک دم شہروز پلٹا اور لات گھما کر اس کے ہاتھ پر ماری گن نیچے جاگری اس سے پہلے کہ وہ اٹھاتا شہروز نے اس کی ناک پر مکہ رسید کیا اس کی ناک سے خون نکلنے لگا اس نے بھی بدلے میں مکہ رسید کیا جو اس کے چہرے پر زوردار لگا
” چھوڑو اسے راہول کیا چاہتت ہو تم دفا کیوں نہیں ہو جاتے” پری نے آگے کہا
“تیری وجہ سے ہوا ہے سب” اس نے پری کو بالوں سے پکڑا
اوردھکا دیا پری نیچے گرتی کہ شہروز نے اسے پکڑا
شہروز کی آنکھوں میں خون اتر آیا
اس آؤ دیکھا نا تاؤ راہول پر گھوسوں اور لاتوں کی برسات کردی تبھی وہاں پولیس آگئی اور پری کی گواہی پر راہول کو پکڑ کر لے گئی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦
آج گھر پر کوئی نہیں تھا وہ اکیلی بور ہو رہی تھی وہ اوپر چھت پر گئی
ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی موسم خوشگوار تھا
اسے وہاں آکر سکون ملا وہ وہی کھڑی سوچنے لگی
(مجھے آزادی چاہیے ہممم……. Freedom)
فضا کا وہ جملہ اسے یاد آیا
اس نے ہوا بازوں پھیلائے اور آنکھیں بند کی فضا کی یاد اس کی روح میں اتر گئی اس کی بند آنکھ سے آنسوں گرا
” Fiza please come back”
اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا
“پری” اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی اس مے جھٹ سے آنکھیں کھولی مگر کوئی نہیں تھا اس نے یہاں وہاں دیکھا جیسے ہی اس کی نظر نیچے پڑی وہ حیران رہ گئی
نیچے زمین پر شہروز گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا اس کے ہاتھ میں رنگ تھی وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی
” Will you Merry me?”
شہروز نے مسکرا کر کہا
وہ بنا کوئی جواب دیے اسے دیکھ رہی تھی
وہ اس کی حیرانی کو جانچتے ہوئے کھڑا ہوگیا
” یہ آپ… کیا کہ….رہے…ہیں؟”
اس نے اٹکتے ہوئے کہا
“مجھے تم اچھی لگتی ہو میں نہیں جانتا مجھے کب کیسے تم سے محبت ہوگئی مجھے پتا ہے میں تھوڑا غصہ والا ہوں ضدی ہوں مگر یقین جانو میں…میں خود کو بدل لونگا”
وہ کہ رہا تھا پری حیران کھڑی اسے سن رہی تھی
” تمہارا غصہ بے رخی سب برداشت کرتا رہا پتا ہے کیوں؟ کیوں کہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا” شہروز نے کہا
” مگر آپ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتےاور….”
وہ آگے کہتی کہ شہروز نے اس کی بات کاٹی
“میں سب جانتا ہوں تم ایک ہندو لڑکی تھی Right؟ تھی اب تو نہیں ہو نا بس جب مجھے کوئی اعتراض نہیں تو تمہیں کیوں ہے”
شہروز نے بات پوری کردی
” میں….” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ملازمہ وہاں آئی
“پری بی بی حمزہ صاحب آئے ہیں نیچے آپ کو جلدی بلا رہے ہیں”
ملازمہ نے کہا
پری نے شہروز کو دیکھا
” جاؤ” شہروز نے مسکرا کر کہا
اور وہ وہاں سے چلی گئی اور شہروز وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھنے لگا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
” حمزہ ” پیچھے سے پری نے پکارا
” پری” وہ اس کی طرف آیا
” کیا ہوا حمزہ خیریت؟”
“پری زین نے اپنی نس کاٹ لی وہ ہسپتال میں ہے چلو وہ تم سے ملنا چاہتا ہے” حمزہ نے کہا
” کیا وہ ٹھیک تو ہے؟” پری نے پریشانی سے کہا
” یہ زین نے تیسری بار خود کشی کی کوشش کی ہے تم جلدی چلو پری” حمزہ نے کہا
” سوری میں نہیں جا سکتی میں اس سے ملنانہیں چاہتی”
پری نے تلخی سے کہا
” پری اتنی سنگ دل مت بنو اسے محبت کی ضرورت ہے اسےتمہارے سہارے کی ضرورت ہے”
” کیوں میں بنوں اس کا سہارا جب مجھے اس کے سہارے کی ضرورت تھی وہ بنا تھا میرا سہارا؟” پری کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
” پری پرانی باتیں بھول جاؤ”
” کیسے بھول جاؤں حمزہ میں کتنا روئی تھی منت کی تھی مجھے اس کی ضرورت تھی مگر اس نے میرے جذبات کے ساتھ کھیلا تھا میں اسے معاف نہیں کروں گی”
پری نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
” پری اگر تم بھی اس کے ساتھ ایسا کروگی تو تم میں اور اس میں فرق کیا ہوگا پری وہ پچھتا رہا ہے میں نے دیکھا ہے وہ کتنا تڑپ رہا ہے وہ مر جائے گا پری”
حمزہ نے التجا کی اور ایک بار پھر آنسوں اس کی آنکھوں سے بہنے لگے
” تم آج بھی اس سے محبت کرتی ہو پری اس سچائی کو تم بدل نہیں سکتی پری ایک بار اسے معاف کردو اسے بچالو پلیز”
حمزہ نے منت کی پری خاموش کھڑی رہی
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی آنسوں اس کی آنکھوں قطرہ با قطرہ بہ رہے تھے
(پری اگر تم بھی اس کے ساتھ ایسا کروگی تو تم میں اور اس میں فرق کیا ہوگا پری وہ پچھتا رہا ہے میں نے دیکھا ہے وہ کتنا تڑپ رہا ہے وہ مر جائے گا پری)
حمزی کی ساری باتیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی
“اسے کچھ نہیں ہوگا……. زین کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ اللہ اسے ٹھیک کردے میں…میں…..” اس نے خود کلامی کی
اس نے انکھیں بند کی شہروز کا چہرہ اس کی آنکھوں میں اگیا
(Will you Merry me?)
(مجھے تم اچھی لگتی ہو میں نہیں جانتا مجھے کب کیسے تم سے محبت ہوگئی مجھے پتا ہے میں تھوڑا غصہ والا ہوں ضدی ہوں مگر یقین جانو میں…میں خود کو بدل لونگا)
شہروز کے کی محبت اسے یاد آئی
جس کے اتنے احسان تھے اس پر
ندا بیگم کے کتنے احسان تھے
” میں شہروز کو کیا جواب دوں؟ ” اس نے خود کلامی کی
تبھی دروازے پر دستک ہوئی دروازہ کھلا
اور شہروز داخل ہوا
” پری وہ مجھے تمہیں یہ رنگ….وہ ہماری بات ادھوری رہ گئی تھی نا اس لیے میں نے سوچا”
شہروز نے رنگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
پری کھڑی اسے دیکھ رہی تھی آنسوؤں سے چہرہ تر تھا
پری نے رنگ کو دیکھا پھر ہاتھ بڑھایا
شہروز نے رنگ یک دم پیچھے کرلی
پری نے حیرانی سے اسے دیکھا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میں حمزہ اور تمہاری باتیں سن چکا ہوں….. پری محبت کوئی احسان نہیں جو ایک کرے اور دوسرا اتار دے محبت تو جذبہ ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے تمہارے دل میں کوئی اور ہے ” شہروز نے سنجیدگی سے کہا
پری یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی
” اسے تمہاری ضرورت ہے جاؤ…….. اور ویسے بھی میں تو اتنا ہینڈسم ہوں کہ کوئی بھی مل جائے گی”
شہروز نے جبرن مسکرا کر کہا
اور پری روتی روتی بھی ہنس دی
“جاؤ پری کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے” شہروز نے کہا
اور پری کمرے سے باہر جانے لگی کہ مڑ کر شہروز کو دیکھا
” تھینک یو” پری نے کہا
اور شہروز مسکرا دیا اور پلٹ گیا
شاید اپنے انسوں چھپانے لگا
⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩
خون کی ڈرپ سے قطرہ قطرہ خون نکل کر اس کے جسم میں جا رہا تھا
وہ بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹا تھا کہ آہٹ محسوس ہوئی اس نے آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا
پری کھڑی تھی
وہ اٹھ بیٹھا اور نس میں جانے والی سوئی کو جھٹکے سے نکال پھینکا اور کھڑا ہونے لگا
” یہ کیا کر رہے ہو زین؟” پری چیخی
اس نے کھڑے ہوتے ہی ہاتھ سے اشارہ کیا
پری خاموش ہوگئ
” پری……. آج تم نہیں میں بولوں گا……..میں….میں خود غرض ہوگیا تھا فضا کی محبت میں اس محبت میں جو میری کبھی نہیں ہوئی میں تمہارے ساتھ جو کیا اس کی سزا مجھے…..مجھے مل گئی بلکہ مل رہی ہے میں….میں تمہارا گنہگار ہوں پری مجھے….مجھے معاف کردو”
اتنا کہ کر زین ہاتھ جوڑے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
پری زور زور سے رو رہی تھی اس چہرہ پورا بھیگ چکا تھا آنسؤں سے
” مجھے معاف کردو پری میں نے تمہیں جو انسوں دیے جو دکھ تکلیف دیے سب کے لیے معافی مانگ رہا ہوں پری ایک بار مجھے معاف کردو بس….پری”
وہ زمین پر بیٹھا آج پری سے گڑگڑاکر معافی مانگ رہا تھا
پری کے رونے میں اور بھی شدت آگئی تھی
وہ اس کے قریب آئی اور ہاتھ بڑھایا
زین نے اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اسے دیکھنے لگا
پری نے ہاتھ سے آنسوں صاف کیے
زین نے یک دم اس کے ہاتھ کو تھاما اور کھڑا ہوگیا
“میں نے تمہیں معاف کردیا ہے زین” اتنا کہ کر پری اس سے لپٹ گئی اور زاروقطار رونے لگی
زین کا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر تھا
زین کو جس سکون کی تلاش تھی وہ اسے مل گیا تھا
شاید پچھتاوا اور ملال ہی اسے پری کے پاس لے ایا تھا
پری نے بھی اسے دل سے معاف کردیا تھا شاید یہی عشق تھا
⁦❤️⁩